طبابت ، تاليف اور فن کاري کے حقوق


س٢٥٤:کتب اور مقالات جو باہر سے آتے ہيں اور اسلامي جمہوريہ ميں چھپتے ہيں ان کے ناشروں کي اجازت کے بغير اشاعت مکرر کا کيا حکم ہے؟ اور اگر صحيح ہونا مشکل ہو تو ان کتابوں کي خريد و فروخت کا کيا حکم ہے جن کي طبابت ہوچکي ہے جبکہ انہيں اس موضوع کا علم نہيں تھا؟
ج:اسلامي جمہوريہ سے باہر چھپنے والي کتب کي اشاعت مکرر يا افسيٹ اس معاہدہ کے تابع ہے جو مذکورہ کتب کے بارے ميں اسلامي جمہوريہ اور متعلق ممالک ميں منعقد ہوا ہے ليکن ملک کے اندر چھپنے والي کتب ميں احوط يہ ہے کہ ناشر سے ان کي تجديد طبابت کے لئے اجازت لے کر اس کے حقوق کا خيال رکھا جائے البتہ جو کتب بغير اجازت کے چھپ چکي ہيں يا ان کي اشاعت مکرر ہوچکي ہے ان کے خريد و فروخت ميں کوئي حرج نہيں ہے۔
س٢٥٥:بعض لوگوں کا خيال ہے کہ فکري اور فني امور جب صاحبان فکر سے صادر ہوجائيں تو چھپنے کے بعد ان کي ملکيت نہيں رہتے۔ يہ رائے کس حد تک صحيح ہے؟ آيا مولفين ، مترجمين اور فني امور کے ماہرين کے لئے جائز ہے کہ وہ اپنے مذکورہ اعمال کے عوض خاص مقدار ميں مال کا تقاضا کريں۔ جيسے حق تاليف وغيرہ ، اس لئے کہ انہوں نے جدوجہد ، وقت اور مال صرف کرنے کے بعد مذکورہ اشيائ تک رسائي حاصل کي ہے؟
ج:اپنے علمي اور معنوي کام کے پہلے يا اصلي نسخہ کے بدلے ميں ناشرين سے نشر و طباعت کے لئے جتنا مال چاہيں مطالبہ يا دريافت کرسکتے ہيں
س٢٥٦:اگر مولف ، مترجم يا فنکار پہلي اشاعت کے عوض مال کي کچھ مقدار وصول کرے اور يہ شرط کرے کہ بعد کي اشاعت ميں بھي ميرا حق محفوظ رہے گا۔ تو آيا دوسري اشاعت ميں اسے مال کے مطالبے کا حق ہے؟ اور اس مال کے وصول کرنے کا کيا حکم ہے؟
ج:پہلا نسخہ ديتے وقت ناشر سے شرط کرنے کي صورت ميں کوئي اشکال نہيں ہے اور ناشر پر شرط کي پابندي کرنا واجب ہے۔
س٢٥٧:اگر مصنف يا مولف نے پہلي اشاعت کي اجازت کے وقت اشاعت مکرر کے بارے ميں کچھ نہيں کہا تو آيا ناشر کے لئے اشاعت مکرر ميں بغير اشاعت اور بغير اور مال کے کتاب چھاپنا صحيح ہے؟
ج:اگر گزشتہ معاہدہ فقط پہلي اشاعت کیلئے تھا تو دوسري اشاعت کے لئے بھي احوط يہ ہے کہ اجازت لي جائے۔
س٢٥٨:مصنف کے سفر يا موت کي وجہ سے موجود نہ ہونے کي صورت ميں اشاعت مکرر کے لئے کس سے اجازت لي جائے ار کسے رقم دي جائے؟
ج:مصنف کے نمائندے يا شرعي سرپرست يا فوت ہونے کي صورت ميں وارث کي طرف رجوع کيا جائے گا۔
س٢٥٩:آيا اس عبارت کے باوجود کہ ( تمام حقوق مولف کے لئے محفوظ ہيں) بغير اجازت کے کتاب چھاپنا صحيح ہے؟
ج:احوط يہ ہے کہ مولف او رناشر کے حقوق کي رعايت کي جائے اور طبع جديد ميں ان سے اجازت لي جائے۔
س٢٦٠:تواشيح اور قرآن کريم کي بعض کيسٹوں پر يہ عبارت لکھي ہوتي ہے ( کاپي کرنے کے حقوق محفوظ ہيں) آيا ايسي صورت ميں ٹيپ کرکے دوسرے لوگوں کو دينا جائز ہے؟
ج:احوط يہ ہے کہ اصلي ناشر سے کاپي کرنے کي اجازت لي جائے۔
س٢٦١:آيا کمپيوٹر کي ڈسک کاپي کرنا جائز ہے؟ برفرض حرمت آيا يہ حکم ايران ميں پروگرام کي جانے والي ڈسک تک محدود ہے يا عموميت رکھتا ہے؟ اس لئے کہ کمپيوٹر ڈسکوں کي قيمت مواد کي اہميت کي وجہ سے بہت زيادہ ہوتي ہے؟
ج:ملک کے اندر بننے والي ڈسکوں کے مالکين سے بنائ بر احوط اجازت لي جائے اور ان کے حقوق کي رعايت کي جائے بيرون ملک سے آنے والي ڈسکيں معاہدہ کے تحت ہيں۔
س٢٦٢:آيا دوکانوں، کمپني کے نام اور تجارتي مارک ان کے مالکين سے مختص ہيں؟ اس طرح سے کہ دوسروں کے لئے ان ناموں يا مارک کا استعمال کرنا ممنوع ہے؟ مثلاً ايک شخص ايک دکان کا مالک ہے اور اس دکان کا نام اس نے اپنے خاندان کے نام پر رکھا ہوا ہے آيا اسي خاندان کے کسي دوسرے فرد کو مذکورہ نام سے دکان کھولنے کي اجازت ہے؟ يا کسي اور خاندان کے شخص کو مذکورہ نام استعمال کرنے کي اجازت ہے؟
ج:حکومت کي طرف سے تجارتي مراکز اور کمپنيوں کے نام ملکي قوانين کے مطابق ايسے افراد کو عطا کئے جاتے ہيں جو دوسروں سے پہلے مذکورہ عنوان کو اپنے نام کروانے کي سرکاري درخواست دے کر اسے اپنے نام کرواليتے ہے اور سرکاري ريکارڈ ميں ان کے نام رجسٹرڈ ہوجاتے ہيں تو ايسي صورت ميں دکان يا کمپني کا مذکورہ عنوان سے اقتباس يا استفادہ بغير اجازت کے جائز نہيں ہے اس ميں بھي کوئي فرق نہيں ہے کہ استعمال کرنے والا شخص اسي خاندان سے تعلق رکھتا ہو يا نہيں اور اگر نام رجسٹرڈ نہ کيا ہو تو دوسروں کے لئے اسي نام سے استفادہ کرنے ميں کوئي حرج نہيں ہے۔
س٢٦٣:کوئي شخص اپنے کاغذات او رکتابيں فوٹو کاپي کرنے کے لئے دکان پر آتا ہے دکاندار جو کہ مومن ہے اس خيال سے کہ يہ کتاب يا مجلہ مومنين کے لئے مفيد ہے آيا اس کے لئے کتاب کے مالک سے اجازت لئے بغير اپنے لئے کتاب يا مجلہ کي فوٹو کاپي کرنا جائز ہے ؟ اور اگر دوکاندار کو علم ہو کہ صاحب کتاب فوٹو کاپي کرنے سے راضي نہيں ہے تو آيا مسئلہ ميں فرق پڑے گا۔
ج:احوط يہ ہے کہ بغير اجازت فوٹو کاپي نہ کرے اور اگر اس کي عدم رضائ کا علم ہو تو احتياط ترک نہيں ہوني چاہئيے۔
س٢٦٤:بعض مومنين ويڈيو کيسٹ کرائے پر لاتے ہيں اور جب ويڈيو کيسٹ کو اچھا پاتے ہيں تو دوکاندار کي اجازت کے بغير اس کي نقل کرليتے ہيں اس بات کو نظر ميں رکھتے ہوئے کہ اکثر علمائ کے نزديک حقوق طبع کي کوئي حيثيت نہيں ہے کيا ان کا يہ عمل جائز ہے؟ اور برفرض جواز، اگر کوئي ٹيپ کرلے تو اس پر لازم ہے کہ وہ دوکاندار کو اطلاع دے يا يا ٹيپ شدہ مواد کا صاف کردينا کافي ہے؟
ج:احوط يہ ہے کہ بغير اجازت نہ کيا جائے ليکن اگر بغير اذن کے ٹيپ کرلے تو محو کرنا کافي ہے اور دوکاندار کو اطلاع دينا ضروري نہيں ہے۔

 

 

استفتاآت (٢)
حرام معاملات
طبّي مسائل
تعلیم و تعلم اور فن کاري کے حقوق
میڈ یکل
طبا عت ،تالیف اور فن کاري کے حقوق
غیر مسلمین کے سا تھ تعلقات
ظالم حکومت ميں کام کرنا
لباس کے احکام
مغربي ثقا فت کي پیروي
ہجرت کرنا اور سیا سي پناہ لینا
جاسوسي،چلغوري اور اسرارکا فاش
سگریٹ نوشي اور نشہ آور اشیائ
داڑھي اور مونچھ
محفل گناہ ميں حاضر ہونا
تعویذ اور استخارہ
دیني رسومات کا احیائ
ذخیرہ اندوزي اور اسراف
تجارت کے احکام
احکام خیارات
تجارت کے مختلف مسائل
سود کے احکام
حق شفاعت