سود کے احکام


س٥٣٧:ايک ڈرائيور نے ٹرک خريدنے کا ارادہ کيا اور ايک شخص کي طرف رجوع کيا اس شخص نے مذکورہ قيمت اسے دے دي اور ڈرائيور نے وکيل کي حيثيت سے اس کے لئے ٹرک خريدليا۔ اس کے بعد اس شخص نے اسي ڈرائيور کو وہ ٹرک قسطوں پر فروخت کرديا۔ مذکورہ مسئلہ کا کيا حکم ہے؟
ج:اگر خريد و فروخت صاحب مال کے وکيل سے حيثيت سے انجام پائي ہو تو اگر فرار کے لئے نہ ہوتو صاحب مال کا قسطوں پر اسي وکيل کو ٹرک فروخت کرنا صحيح ہے۔
س٥٣٨ :قرضي سود ہوگيا ہے اور آيا وہ فيصد مقدار جو کہ بينک سے منافع کے عنوان سے لي جاتي ہے سود شمار کي جائے گي؟
ج:قرضي سود يہ ہے کہ قرض لينے والا قرض کي مقدار سے بڑھ کر ايک خاص اور زيادہ مقدار قرض لينے والے کو ديتا ہے ہاں اگر بينک کے پاس مال بطور امانت رکھے اور صاحب مال کي طرف سے بينک صحيح شرعي عقد کے ذريعہ کام کرنے سے حاصل شدہ منافع عطا کرے تو وہ سود نہيں ہے اور مورد اشکال نہيں ہے۔
س٥٣٩ :سودي کاروبار کا معيار کيا ہے اور آيا صحيح ہے کہ سود فقط قرض ميں صادق آتا ہے نہ کسي اور جگہ؟
ج:سود کبھي مکيل( پيمانہ دار) اور موزون (وزن دار) خريد و فروخت ميں ہوتا ہے اور کبھي قرض ميں اور جو سود قرض ميں ہوتا ہے وہ يہ ہے کہ قرض دينے والے کے لئے عرفاً عيني يا حکمي طور پر زيادہ مال واپس دينے کي شرط کي جائے جو کہ اس کے لئے منافع شمار کيا جائے اور وہ سود جو کہ خريد و فروخت ميں ہوتا ہے وہ يہ ہے کہ کسي ايک جنس کو ويسي ہي جنس کے عوض کمي يا زيادتي کے ساتھ فروخت کيا جائے۔
س٥٤٠:جس طرح بھوکے انسان کے جان بچانے کے لئے اتني مقدار ميں مردار کھانا، جائز ہے کہ جس سے وہ بھوک مٹا کر جان بچا سکتا ہے اگر مردار کے علاوہ کوئي اور شئے نہ ہو اس طرح اگر کوئي شخص کسي بھي کام کي قدرت نہ نہ رکھتا ہو اس کے لئے اضطراري کيفيت ميں سود کھانا جائز ہے؟ اور يہ کہ اس کے پاس قليل مال ہے جسے وہ سودي معاملے ميں استعمال کرتا ہے اس سے حاصل شدہ منافع سے زندگي گذار سکے؟
ج:سود حرام ہے اور اضطرار کي حالت ميں مردار کھانے کو سود کھانے سے قياس کرنا جائز نہيں ہے۔ اس لئے کہ وہ شخص ابھي ايسي حالت ميں ہے کہ مردار کھانے کے علاوہ کسي اور شئے سے جان نہيں بچاسکتا ليکن ايسا شخص جو کام نہيں کرسکتا وہ اپنے سرمائے کو عقود اسلامي ميں سے کسي ايک عنوان مثلاً مضاربہ کے تحت رکھ سکتا ہے۔
س٥٤١:خريد و فروخت کے بعض معاملات ميں ڈاک معين شدہ قيمت سے زيادہ قيمت ميں فروخت کئے جاتے ہيں۔ مثلاً ايک ٹکٹ جس کي قيمت 2روپے ہے اس 3روپے ميں فروخت کيا جاتا ہے آيا مذکورہ خريد و فروخت صحيح ہے؟
ج:مذکورہ معاملے ميں کوئي حرج نہيں ہے اور اس جيسے اضافے کو سود شمار نہيں کيا جاتا۔ جيسا کہ خريد و فروخت ميں وہ زيادتي جو کہ سود کہلاتي ہے اور معاملے کو باطل کرديتي ہے وہ دو ايسي چيزيں ہيں جو ہم جنس ہوں اور مقدار کے اعتبار نے حقيقي معني ميں خريد و فروخت کا قصد نہ کيا ہو بلکہ ظاہري طور پر معاملہ فروخت کرنے والے کے حصول قرض اور خريدار کے حصول فائدہ کے لئے انجام ديا گيا ہو تو ايسا معاملہ جو کہ قرضي سود سے فرار کے لئے انجام ديا گيا ہو حرام ہے اور شرعاً باطل ہے اور اس صورت ميں خريدار کو فقط اپنا اصلي مال واپس لينے کا حق ہے جو کہ اس نے فروخت کرنے والے کو قيمت کے عنوان سے ادا کياتھا۔
س٥٤٦ :سود سے فرار کے لئے کسي شئے کا مال کے ساتھ ضم کرنے کا کيا حکم ہے؟
ج:سودي قرض کے جائز ہونے کا باعث نہيں ہے اور کسي شئے کے ضم کرنے سے حلال نہيں ہوتا۔
٥٤٧:آيا ايسي پنشن لينے ميں کوئي حرج ہے جسے ملازم نوکري کے طويل دورانيہ ميں اپني تنخواہ کے ايک مقدار حصہ کو پنشن اکاونٹ ميں ڈالتا رہا ہے تاکہ بڑھاپے ميں اس کے کام آئے ليکن حکومت مذکورہ تنخواہ کے ساتھ کچھ اضافي رقم بھي ريٹائرڈ ہونے والے کو ديتي ہے؟
ج:پنشن لينے ميں کوئي حرج نہيں ہے اور وہ اضافي رقم جو کہ حکومت ادا کرتي ہے اس رقم کا منافع نہيں ہے جسے اس کي تنخواہ سے کاٹا گيا تھا اور اسے سود نہيں کہا جاتا۔
س٥٤٨ :بعض بينک اس گھر کي مرمت کے لئے جس گھر کے قانوني کا غذات ہوں بعنوان جعالہ قرض ديتے ہيں ليکن شرط يہ ہوتي ہے کہ قرض دار جب معين مدت ميں قسطوں ميں رقم اد اکرے گا تو ايک خاص مقدار رقم اضافي طور پر بھي ادا کرے گا۔ آيا مذکورہ صورت ميں قرض لينا صحيح ہے؟ اور جعالہ کي کيفيت کيا ہوگي؟
ج:اگر گھر کے مالک کو مرمت کے لئے دي گئي رقم قرض کے عنوان سے دي گئي ہے تو جعالہ کا عنوان بے معني ہے اور قرض ميں زائد رقم کا مطالبہ کرنا جائز نہيں ہے۔ اگرچہ مذکورہ قرض بہرحال صحيح ہے اور اگر گھر کا مالک جعالہ قرار دے تو کوئي حرج نہيں ہے۔ مثلاً اگر بينک کے عوض قسطوں کي ادائيگي پر کرے نہ فقط وہ رقم جسے بينک نے مرمت کے لئے خرچ کيا ہو۔
س٥٤٩:آيا کوئي شئے بطور ادھار نقد قيمت سے زيادہ قيمت پر خريدنا جائز ہے؟ اور آيا يہ سود کہلائے گا يا نہيں؟
ج:کسي شئے کا بطور ادھار نقد قيمت سے زيادہ قيمت پر خريد و فروخت کرناجائز ہے اور نقد و ادھار قيمت کے مابين فرق سود نہيں کہلاتا۔
س٥٥٠:ايک شخص نے اپنا گھر خياري معاملے کے تحت فروخت کيا ليکن وہ خريدار کو حاصل شدہ قيمت ادا نہ کرسکا۔ تاکہ معاملہ فسخ کيا جائے يہاں تک کہ معينہ مدت آگئي۔ ايسي صورت ميں ايک شخص ثالث نے بعنوان جعالہ خريدار کو قيمت ادا کردي تاکہ فروخت کرنے والا معاملہ فسخ کرسکے اور مذکورہ شخص قيمت کے علاوہ فروخت کرنے والے سے بعنوان جعالہ کچھ حاصل کرلے۔ مذکورہ مسئلہ کا شرعاً کيا حکم ہے
ج:اگر ايک تيسرا شخص بيچنے والے کي طرف سے قيمت ادا کرنے اور فسخ کرنے کے کئے وکيل ہو اس طرح سے کہ اس نے پہلے فروخت کرنے والے کو قرض ديا اور پھر مذکورہ رقم خريدار کو فروخت کرنے والے کي طرف سے ادا کردي اور اس کے بعد اس نے معاملہ فسخ کرديا تو اس کا کوئي حرج نہيں ہے۔ ہاں اگر اس نے خريدار کو جو قيمت ادا کي ہے وہ فروخت کرنے والے کو بعنوان قرض دي ہے تو اس صوررت ميں اسے فروخت کرنے والے سے فقط ادا کردہ قيمت کے مطالبے کا حق ہے۔


 

 

استفتاآت (٢)
حرام معاملات
طبّي مسائل
تعلیم و تعلم اور فن کاري کے حقوق
میڈ یکل
طبا عت ،تالیف اور فن کاري کے حقوق
غیر مسلمین کے سا تھ تعلقات
ظالم حکومت ميں کام کرنا
لباس کے احکام
مغربي ثقا فت کي پیروي
ہجرت کرنا اور سیا سي پناہ لینا
جاسوسي،چلغوري اور اسرارکا فاش
سگریٹ نوشي اور نشہ آور اشیائ
داڑھي اور مونچھ
محفل گناہ ميں حاضر ہونا
تعویذ اور استخارہ
دیني رسومات کا احیائ
ذخیرہ اندوزي اور اسراف
تجارت کے احکام
احکام خیارات
تجارت کے مختلف مسائل
سود کے احکام
حق شفاعت