سگريٹ نوشي اور نشہ آور اشيائ


س٣١٦: عمومي مقامات ، حکومتي دفاتر ميں سگريٹ نوشي کا کيا حکم ہے؟
ج:اگر عمومي مقامات اور دفاتر کے داخلي قوانين کے خلاف ہو يا دوسروں کے لئے اذيت و آزار يا ضرر کا باعث ہو تو جائز نہيں ہے۔
س٣١٧:ميرا بھائي نشہ آور اشيائ کے استعمال کا عادي ہے اور منشيات کا سمگلر بھي ہے آيا مجھ پر واجب ہے يا جائز ہے کہ اس کي اطلاع متعلقہ ادارے کو دے دوں تاکہ اسے اس عمل سے روکا جاسکے؟
س:آپ پر نہي از منکر کے عنوان سے واجب ہے کہ اس کے نشہ کے ترک کرنے، اور نشہ آور اشيائ کے فروخت کرنے سے رک جانے ميں اس کي مدد کريں اور اگر متعلقہ ادارے کو اطلاع دينا مذکورہ امر ميں معاون ہو تو کوئي حرج نہيں ہے۔
س٣١٨:آيا انفيد(نسوار) کا نام سے کھينچنا جائز ہے؟ اس کے عادي بننے کا کيا حکم ہے ؟
ج:اگر ا س کے استعمال ميں قابل اعتنا ضرر يا نقصان زيادہ ہو تو اس کا استعمال کرنا جائز نہيں ہے چہ جائيکہ اس کا عادي بن جائے۔
س٣١٩:آيا تنباکو کي خريدو فروخت اور استعمال جائز ہے؟
ج:تنباکو کي خريدو فروخت بذات خود جائز ہے۔ ہاں اگر اس کے استعمال ميں قابل اعتنائ ضرر ہو تو اس کا خريدنا اور استعمال کرنا جائز نہيں ہے۔
س٣٢٠:آيا حشيش پاک ہے؟ آيا اس کا استعمال جائز ہے يا نہيں؟
ج:حشيش پاک ہے ۔ ليکن اس کا استعمال شرعاً حرام ہے۔
س٣٢١:نشہ آور اشيائ جيسے حشيش، چرس ، ہيروئن ، مارفين ميري جوانا۔۔ کا کھانا، پينا ، کھينچنا ، انجيکشن لگانا ، حقنہ کے ذريعے استعمال کرنے کا کيا حکم ہے؟ اور ان کي خريد و فروخت اور دوسرے امور مثلاً منتقل کرنا، محفوظ کرنا اور اسمگلنگ کا کيا حکم ہے۔
ج:نشہ آور اشيائ کا کسي بھي شکل ميں استعمال قابل توجہ معاشرتي اور فردي مضرات کا حامل ہے لہٰذہ اس کا استعمال حرام ہے اور اسي طرح اس کے ذريعے کسب معاش کرنا چاہے نقل و انتقال محفوظ کرنا وخريد و فروخت وغيرہ سے ہو حرام ہے۔
س٣٢٢:آيا نشہ آور اشيائ کے استعمال سے مرض کا علاج کرنا جائز ہے؟ اور برفرض جواز آيا مطلقاً جائز ہے يا علاج کے اس پر متوقف ہونے کي صورت ميں جائز ہے؟
ج:اگر قابل اعتماد ڈاکٹر نے تجويز کيا ہو اور مرض کا علاج کسي طرح بھي اس کے استعمال پر متوقف ہو تو جائز ہے۔
س٣٢٣:خشخاش، بھنگ اور کويي وغيرہ جن سے چرس، ہيروئن ، مارفين ، حشيش اور کوکائن وغيرہ حاصل کي جاتي ہيں کي زراعت کرنے اور ديکھ بھال کرنے کا کيا حکم ہے؟
ج:اس قسم کي فصلوں کي کاشت اور نگہداري جو اسلامي جمہوريہ کے قانون کے خلاف ہو جائز نہيں ہے۔
س٣٢٤:نشہ آور اشيائ کے تيار کرنے کا کيا حکم ہے چاہے طبيعي خام مواد سے ہو مثلاً مارفين ، ہيروئن ، حشيش، ميري جوانا وغيرہ يا مصنوعي مواد سے مثلاً
I.S.D وغيرہ سے؟
ج:جائز نہيں ہے۔
س٣٢٥:آيا ايسا تنباکوپينا جائز ہے جس پر ايک قسم کي شراب چھڑکي گئي ہو؟ آيا اس کے دھوئيں کو سونگھنا جائز ہے؟
ج:اگر عرف عام کي نگاہ ميں مذکورہ تنباکو پينا شراب پينا نہ کہلائے يا نشہ آور نہ ہو اور قابل توجہ ضرر کا سبب نہ ہو تو جائز ہے۔ اگرچہ احوط ترک کرنا ہے۔
س٣٢٦ آيا سگريٹ نوشي کا آغاز کرنا حرام ہے؟ آيا ايک ہفتہ يا اکثر مدت تک ترک کرنے کے بعد دوبارہ سگريٹ پينا حرام ہے؟
ج:سگريٹ نوشي پر پڑنے والے ضرر اور نقصان کے لحاظ سے حکم بھي مختلف ہوگا بطور عام اگر تنباکو نوشي سے بدن کو قابل توجہ نقصان پہنچتا ہے توجائز نہيں ہے اور اگر انسان کو معلوم ہو کہ تنباکو نوشي شروع کرنے سے مذکورہ مرحلہ تک پہنچ جائے گا تو بھي جائز نہيں ہے ۔
س٣٢٧:ايسے مال کا کيا حکم ہے جس کا بعينہ حرام ہو نا معلوم ہو مثلاً نشہ آور اشيائ کي تجارت سے حاصل شدہ مال؟ اور اگر اس کے مالک کو علم نہ ہو تو آيا يہ مال مجہول المالک کے حکم ميں ہے؟ اور اگرمجہول المالک کے حکم ميں ہو تو کيا حاکم شرعي يا اس کے وکيل عام کي اجازت سے اس ميں تصرف کرنا جائز ہے؟
ج:عين مال کي حرمت کے علم کي صورت ميں اگر مال کے مالک کو جانتے ہوں تو مال کو اس کے مالک شرعي تک پہنچانا واجب ہے اگرچہ مالک کے کچھ لوگوں ميں محدود ہو اور اگر مالک کا علم نہ ہو تو مالک شرعي کي طرف سے فقرائ کو بعنوان صدقہ دينا واجب ہے اور اگر حرام مال حلال مال سے مل گيا ہو اور اس کي مقدار معلوم نہ ہو اور اس کا شرعي مالک معلوم ہو تو اس صورت ميں اس مال مخلوط کا خمس نکالنا واجب ہے اور خمس کو ولي امر خمس کو دينا واجب ہے۔

 

استفتاآت (٢)
حرام معاملات
طبّي مسائل
تعلیم و تعلم اور فن کاري کے حقوق
میڈ یکل
طبا عت ،تالیف اور فن کاري کے حقوق
غیر مسلمین کے سا تھ تعلقات
ظالم حکومت ميں کام کرنا
لباس کے احکام
مغربي ثقا فت کي پیروي
ہجرت کرنا اور سیا سي پناہ لینا
جاسوسي،چلغوري اور اسرارکا فاش
سگریٹ نوشي اور نشہ آور اشیائ
داڑھي اور مونچھ
محفل گناہ ميں حاضر ہونا
تعویذ اور استخارہ
دیني رسومات کا احیائ
ذخیرہ اندوزي اور اسراف
تجارت کے احکام
احکام خیارات
تجارت کے مختلف مسائل
سود کے احکام
حق شفاعت