|
محفل گناہ
ميں حاضر ہونا
س٣٤٣: بعض اوقات اساتذہ يا غير ملکي يونيورسٹي کي طرف سے اجتماعي دعوت
کا اہتمام کيا جاتا ہے اور يہ بات پہلے سے معلوم ہے کہ ايسي محافل ميں
شراب ہوئي ہے۔ مذکورہ جشن ميں شرکت کا ارادہ رکھنے والے يونيورسٹي کے
طلبائ کي شرعي ذمہ داري کيا ہے؟
ج:شراب نوشي کي محفل ميں جانا جائز نہيں ہے۔ ان کي دعوت ميں نہيں جانا
چاہئيے تاکہ انہيں معلوم ہوجائے کہ آپ لوگ مسلمان ہيں اور شراب نہيں
پيتے اور نہ ہي شراب نوشي کي محفل ميں شريک ہوتے ہيں۔
س٣٤٤: شادي کے جشن کا کيا حکم ہے؟ جبکہ آج کل جشن شادي ميں رقص کرنا
معمول ہے آيا اس طرح کي شرکت پر اسي قوم کے فعل ميں داخل ہونے کا عنوان
(الداخل في عمل فھو منھم) صادق آتا ہے ايسي صورت ميں محفل کو ترک کرنا
واجب ہے؟ يا رقص اور دوسري رسومات ميں اگر شريک نہ ہو تو شادي ميں جانا
صحيح ہے؟
ج:اگر مذکورہ محفل ، لہو ولعب اور گناہ کي محفل نہ کہلائے اور نہ ہي
وہاں جانے ميں کوئي مفسدہ ہو تو کوئي حرج نہيں ہے۔ اگر وہاں جانا اور
بيٹھنا عرفاً ناجائز کاموں کي تائيد کرنا شمار کيا جائے تو جائز نہيں
ہے۔
س٣٤٥: ايسي محافل ميں شرکت کرنے کا کيا حکم ہے جہاں مرد اور خواتين
جداگانہ طور پر رقص اور موسيقي بجالائيں؟
٢۔ آيا ايسے جشن شادي ميں شرکت کرنا جہاں رقص و موسيقي انجام ديا جائے
جائز ہے؟
٣۔ آيا اسي محافل ميں امر بالمعروف اور نہي عن المنکر کرنا واجب ہے
جہاں پر رقص ہو رہا ہو اور شرکائ ميں امربالمعروف و نہي عن المنکر کي
کوئي تاثير بھي نہ ہو؟
٤۔ مرد اور خواتين کے ايک ساتھ مل کر رقص کرنے کا کيا حکم ہے؟
ج:کلي طور پر رقص اگر جنسي شہوت کو ابھارنے کا سبب ہو يا حرام عمل کے
ہمراہ انجام پائے يا موجب عمل حرام ہو يا نامحرم مرد اور خواتين کے
ساتھ مل کر انجام ديا جائے تو حرام ہے اور مذکورہ عمل کا انجام پانا
شادي اور غير شادي کي کسي محفل کے اعتبار سے فرق نہيں کرتا اور اگر
گناہ کي محفل ميں شرکت کرنا عمل حرام کے ارتکاب کا سبب ہو جيسے مطرب
موسيقي کا سننا جو کہ محفل فسق و فجور و عصيان سے مناسبت رکھتي ہو يا
مذکورہ شرکت سے گناہ کي تائيد ہوتي ہو توجائز نہيں ہے اور اگر
امربالمعروف اور نہي عن المنکر کرنے ميں احتمال تاثير نہ ہو تو وجوب
امر بالمعروف و نہي عن المنکر ساقط ہے۔
س٣٤٦:اگر کوئي مرد شادي کي محفل ميں داخل ہو اور اسي محفل ميں ايسي
عورت ہو جو پردہ نہيں کرتي اور مذکورہ شخص اس بات کا علم رکھتا ہے کہ
مذکورہ خاتون پر نہي از منکر فائدہ مند نہيں تو کيا اس مرد پر محفل کو
ترک کرنا واجب ہے؟
ج:محفل گناہ کو ترک کرنا اگر ان کے عمل پر اعتراض کے طور پر ہو اور نہي
عن المنکر کا مصداق ہو تو واجب ہے۔
س٣٤٧: آيا ايسي محافل ميں شرکت کرنا جائز ہے جہاں فحش گانے کے کيسٹ
سننا پڑيں؟ اور ايسي صورت ميں کيا حکم ہے جس ميں شک ہو کہ مذکورہ آواز
غنائ ہے يا نہيں جبکہ يہ معلوم ہے کہ ہم انہيں مذکورہ کيسٹ بجانے سے
نہيں روک سکتے؟
ج:غنائ اور موسيقي کي محفل ميں جانا جائز نہيں ہے ايسي موسيقي جو کہ
مطرب لہوي اور محفل فسق و فجور سے مناسبت رکھتي ہو جبکہ اس کا وہاں
جانا استماع اور تائيد کا موجب بھي ہو اگر موسيقي کي حرمت کے بارے ميں
شک ہو تو اس صورت ميں سننے اور شرکت کرنے ميں بذات خود کوئي حرج نہيں
ہے۔
س٣٤٨:ايسي محفل ميں شرکت کرنے کا کيا حکم ہے جہاں انسان بعض اوقات غير
مناسب کلام سنتا ہے؟ مثلاً علمائ دين پر تہمت يا اسلامي جمہوريہ کے
عہدے داروں يا مومنين پر بہتان وغيرہ؟
ج:صرف جانا اگر فعل حرام ميں مبتلائ ہونے مثلاً استماع غيبت اور برے
کام کي ترويج و تائيد کا سبب نے بنے تو بذات خود جائز ہے۔ ہاں نہي عن
المنکر ہر حال ميں واجب ہے۔
س٣٤٩:بعض غير اسلامي ممالک ميں علمي نشستوں اور کانفرنسوں ميں معمولاً
مہمانوں کي ضيافت کے لئے شراب استعمال کي جاتي ہے۔ آيا ايسي کانفرنس
اور نشست ميں شرکت کرنا جائز ہے؟
ج:شراب نوشي کي محفل ميں شرکت کرنا جائز نہيں ہے مگر يہ کہ شرکت کے لئے
مجبور ہو اور اس صورت ميں قدر ضرورت پر اکتفائ کرنا واجب ہے۔
|