ميڈيکل کي تعليم


س٢٤٣:ميڈيکل کالج کے طالب علم کو چاہے لڑکا ہو يا لڑکي تعليم کے لئے نامحرم کو لمس اور نگاہ کے ذريعے معائنہ کرنا ہوتا ہے اور مذکورہ عمل تعليمي پروگرام کا حصہ ہے اور مستقبل ميں مريضوں کے علاج کي صلاحيت پيدا کرنے کے لئے اس کے علاوہ کوئي چارہ نہيں ہے اور اگر مذکورہ معائنہ کو ترک کردے تو وہ مستقبل ميں بيماروں کے مرض کي تشخيص سے عاجز رہے گا۔ لہٰذا مريض کے صحت ياب ہونے کے دورانيہ ميں اضافہ ہوجائے گا يا ہوسکتا ہے بيمارمرجائے۔ مذکورہ معائنوں کي پريکٹس کرنا جائز ہے يا نہيں؟
ج:اگر معالجہ کے لئے مہارت حاصل کرنے اور شناخت پيدا کرنے کے لئے ضروري ہو تو کوئي حرج نہيں ہے۔
س٢٤٤:ميڈيکل کالج کے طالب علموں کے لئے نامحرم بيماروں کا بحسب ضرورت معائنہ کرنا جائز ہے تو اس صورت ميں اس ضرورت تشخيص کس کا کام ہے؟
ج:ضرورت کي تعيين حالات کو مد نظر رکھ کر خود طالب علم کا کام ہے۔
س٢٤٥:بعض مواقع پر ہميں نامحرم کا معائنہ کرنا پڑتا ہے اور يہ معلوم نہيں کہ آيا مستقبل ميں ہميں اس کي ضرورت پڑے گي يا نہيں؟ ليکن مذکورہ مورد ميں معائنہ کرنا بھي عام تعليمي کورس کا حصہ ہے اور طالب علم کي ذمہ داري يا استاد کي طرف سے اسے انجام دينا لازمي ہے اور ہماري نگاہ ميں اگر مذکورہ معائنہ انجام نہ دے تو آئندہ اس کي طبابت کا پہلو ضعيف رہے گا آيا ہمارے لئے مذکورہ معائنہ انجام دينا جائز ہے؟
ج:طبي معائنہ کا کورس ميں شامل ہونا يا استاد کا طالب علم کے لئے مذکورہ معائنہ کا معين کرنا اس بات کا جواز فراہم نہيں کرتا کہ شريعت کي مخالفت کي جائے بلکہ معيار يہ ہے کہ انساني زندگي کو نجات دينا تعليم پر موقوف ہو يا يہ کام ضرورت کا تقاضا ہو۔
س٢٤٦:آيا تعليم طب کے لئے ضرورت کے تحت نامحرم کے معائنہ کرنے ميں اعضائ تناسل اور دوسرے اعضائ بدن ميں فرق ہے؟ اور اگر طلبائ يہ جانتے ہوں کہ تعليم کے اختتام پر بيماروں کے معالجہ کے لئے دور دراز علاقوں اور ديہاتوں ميں جائيں گے اور وہاں بعض اوقات بچے کي پيدائش کے لئے مجبور ہوں گے يا ولادت کے بعد کثرت سے خون خارج ہونے کا معالجہ کرنا پڑے گا اور يہ بھي معلوم ہے کہ اگر مذکورہ خون کا علاج تيزي سے نہ کيا جائے تو زچہ کے لئے جان کا خطرہ ہے اور ايسي صورت ميں علاج کي شناخت تعليم کے دوران پريکٹس اور مشق کے بغير ممکن نہيں ہے؟
ج:ضرورت کے وقت معائنہ ميں اعضائ اور غير اعضائ تناسليہ ميں فرق نہيں ہے۔ کلي طور پر معيار يہ ہے کہ انساني زندگي بچانے کے لئے تعليم اور پريکٹس کي ضرورت ہے ۔ لہٰذا قدر ضرورت پر اکتفا کرنا واجب ہے۔
س٢٤٧:محرم يا نامحرم کے اعضائ تناسليہ کے معائنے ميں معمولاً احکام شرعيہ کا خيال نہيں رکھا جاتا جيسے ڈاکٹر يا اسٹوڈنٹ کا آئينہ کے ذريعے نظر کرنا وغيرہ اور کيونکہ ان کي پيروي کرنا ہمارے لئے ضروري ہے تاکہ تشخيص کي کيفيت سے آگاہ ہوسکيں تو ايسي صورت ميں ہماري ذمہ داري کيا ہے؟
ج:علم طب سيکھنے کے لئے بذات خود حرام کے طريقوں کي معرفت ان پر متوقف ہو اور طالب علم کو اس بات کا اطمينان ہو کہ مستقبل ميں انساني زندگي بچانے کي قدرت مذکورہ طريقے سے حاصل شدہ معلومات پر متوقف ہے اور اسے اس بات کا بھي اطمينان ہو کہ مستقبل ميں بيمار اس کي طرف رجوع کريں گے اور ان کي زندگي بچانے کي ذمہ داري اس کے کاندھوں پر آئے گي۔
س٢٤٨:آيا ہمارے کورس ميں موجود غير مسلم مردوں اور عورتوں کي نيم عرياں تصاوير ديکھنا جائز ہے؟
ج:بري نگاہ ، لذت اور مفسدے کا خوف نہ ہو تو جائز ہے۔
س٢٤٩:ميڈيکل کالج کے طالب علم تعليم کے دوران انساني بدن کے اعضائ تناسلي کے مختلف حصوں کي تصاوير اور فلميں ديکھتے ہيں آيا يہ جائز ہے ؟ اور مخالف جنس کي شرمگاہ ديکھنے کا کيا حکم ہے؟
ج:تصور اور فلميں ديکھنا بذات خود جائز ہے۔ اگر قصد لذت اور حرام ميں مبتلائ ہونے کا خوف نہ ہو اور جو چيز حرام ہے وہ خود جنس مخالف کے بدن کو ديکھنا ہے اور لمس کرنا ہے اور غير کي شرمگاہ کي تصوير اور فلم کو ديکھنا مورد اشکال ہے۔
س٢٥٠:وضع حمل کے وقت خاتون کي کيا ذمہ داري ہے؟ اور شرمگاہ پر نظر ڈالنے کے حوالے سے نرسوں يا ديگر مدد کرنے والي عورتوں کي کيا ذمہ داري ہے؟
ج:نرسوں کے لئے وضع حمل کے وقت بلا ضرورت عمداً شرمگاہ پر نگاہ ڈالنا جائز نہيں ہے اور اسي طرح ڈاکٹر کے لئے بلا ضرورت مريضہ کے بدن پر نگاہ کرنے اور لمس کرنے سے اجتناب کرنا واجب ہے اور وضع حمل کے وقت خاتون پر لازم ہے کہ وہ اپنے بدن کو اگر قدرت رکھتي ہو اور ہوش ميں ہو تو مستور رکھے يا کسي دوسرے سے بدن چھپانے کي درخواست کرے۔
س٢٥١:تعليم کے دوران پلاسٹک کے بنے ہوئے مجسم اعضائ تناسليہ سے استفادہ کيا جاتا ہے اسے ديکھنے اورلمس کرنے کا کيا حکم ہے؟
ج:مصنوعي آلہ تناسل کا حکم اصل تناسل کے حکم جيسا نہيں ہے لہٰذہ اسے ديکھنے اور لمس کرنے ميں کوئي حرج نہيں ہے۔ ہاں اگر لذت کي نيت سے ہو يا جنسي قوت کو ابھارنے کا سبب بنے توجائز نہيں ہے۔
س٢٥٢:ميري تحقيق ان طريقوں کے متعلق ہے جو مغرب کي علمي محافل ميں درد کي تسکين کے لئے انجام دئيے جاتے ہيں جيسے موسيقي کے ذريعے علاج کرنا، لمس کے ذريعے معالجہ ، رقص کے ذريعے علاج ، دوائ کے ذريعے اور بجلي کے ذريعے علاج کرنا ہے او رمذکورہ تحقيقات نتيجہ خيز ثابت ہوئي ہيں۔ آيا شرعي طور پر ايسي تحقيقات کرنا جائز ہے؟
ج:مذکورہ امور ميں تحقيقات کرنا جائز ہے اور بيماريوں کے علاج ميں مذکورہ امور کي تاثير کا تجربہ کرنا جائز ہے ، ہاں مذکورہ امور شرعي طور پر حرام اعمال ميں پڑنے کا باعث نہيں ہونے چاہئيں۔
س٢٥٣:آيا نرسوں کے لئے دوران تعليم تجربہ کي خاطر خاتون کي شرمگاہ پر نظر ڈالنا جائز ہے؟
ج:فقط تعليم کے لئے نظر کرنا جائز نہيں ہے ہاں اگر خطرناک بيماريوں کا علاج اور انساني زندگي کا بچانا ايسے تجربے پر متوقف ہو جس ميں شرمگاہ پر نظر کي جائے توجائز ہے۔
 

 

 

استفتاآت (٢)
حرام معاملات
طبّي مسائل
تعلیم و تعلم اور فن کاري کے حقوق
میڈ یکل
طبا عت ،تالیف اور فن کاري کے حقوق
غیر مسلمین کے سا تھ تعلقات
ظالم حکومت ميں کام کرنا
لباس کے احکام
مغربي ثقا فت کي پیروي
ہجرت کرنا اور سیا سي پناہ لینا
جاسوسي،چلغوري اور اسرارکا فاش
سگریٹ نوشي اور نشہ آور اشیائ
داڑھي اور مونچھ
محفل گناہ ميں حاضر ہونا
تعویذ اور استخارہ
دیني رسومات کا احیائ
ذخیرہ اندوزي اور اسراف
تجارت کے احکام
احکام خیارات
تجارت کے مختلف مسائل
سود کے احکام
حق شفاعت