لباس کے احکام


س٢٧٩:لباس شہرت کا معيار کيا ہے؟
ج:لباس شہرت ايسے لباس کو کہا جاتا ہے جو رنگت، سلائي ، بوسيدگي يا اس جيسے يگر اسباب کي وجہ سے پہنے والے کے لئے مناسب نہ ہو يعني لوگوں کے سامنے پہننے سے لوگوں کي توجہ کا سبب بنے اورانگشت کا باعث ہو۔
س٢٨٠:اس آواز کا کيا حکم ہے جو چلنے کے دوران خاتون کے جوتے کے زمين سے ٹکرانے سے آتي ہے؟
ج:بذات خود جائز ہے ہاں اگر لوگوں کے لئے جالب نظر ہو اور موجب مفسدہ ہو تو جائز نہيں ہے۔
س٢٨١:آيا لڑکي کے لئے گہرے نيلے رنگ کے کپڑے پہننا جائز ہے؟
ج:بذات خود جائز ہے ہاں اگر لوگوں کے لئے جالب نظر ہو اور موجب مفسدہ ہو تو جائز نہيں ہے۔
س٢٨٢:کيا خواتين کے لئے ايسا لباس پہننا جائز ہے جس سے بدن کا نشيب و فراز نماياں ہو يا شاديوں ميں ايسا باريک لباس پہننا جس سے بدن نماياں ہو؟
ج:اگر نامحرم کي نظر سے محفوظ ہو اور کوئي مفسدہ کا باعث نہ ہو تو کوئي حرج نہيں ہے وگرنہ جائز نہيں ہے۔
س٢٨٣:آيا مومنہ خاتون کے لئے چمکدار کالے جوتے پہننا جائز ہے؟
ج:جوتوں کا کوئي بھي رنگ ہو يا کيسي بھي شکل ہو پہننے ميں کوئي حرج نہيں ہے۔ ہاں اگر رنگ يا شکل نامحرم کي توجہ اور انگشت نمائي کا سبب بنے توجائز نہيں ہے۔
س٢٨٤:آيا خاتون کے لئے اسکارف يا دوپٹہ، شلوار او رقميص کے لئے فقط سياہ رنگ اختيار کرنا واجب ہے؟
ج:شکل او رطرز سلائي کے اعتبار سے کپڑوں کا وہي حکم ہے جو گزشتہ جواب ميں جوتوں کے بارے ميں گزر چکا ہے۔
س٢٨٥:آيا خاتون کے لئے جائز ہے کہ لباس او رپردے کے لئے ايسا کپڑا استعمال کرے جو لوگوں کي نظروں کو متوجہ کرنے کا سبب بنے يا جنسي خواہشات کو ابھارے مثلاً اس طرح چادر يا برقعہ پہنے جو لوگوں کو اپني طرف مبذول کرے يا کپڑے اور جوراب کا ايسا رنگ انتخاب کرے جو جنسي خواہشات کو ابھارنے کا سبب ہو؟
ج:جو چيز بھي رنگ، ڈيزائن يا پہننے کے انداز سے نامحرم کي توجہ جذب کرنے اور فساد و حرام ميں مبتلائ ہونے کا سبب بنے حرام ہے۔
س٢٨٦:آيا عورت اور مرد کے جنس مخالف سے مشابہت کي نيت کے بغير گھر کے اندر ايک دوسرے کي مخصوص اشيائ پہننا جائز ہے؟
ج:اگر اپنے لئے انہيں لباس قرار نہ ديں تو کوئي حرج نہيں ہے۔
س٢٨٧:آيا مردوں کا خواتين کے مخصوص پوشيدہ لباس کا فروخت کرنا جائز ہے؟
ج:بذات خود اس کام ميں کوئي حرج نہيں جب تک کہ نظر حرام او رمعاشرتي اور اخلاقي برائیوں کا موجب نہ بنے۔
س٢٨٨:آيا باريک جورابيں بنانا، خريدنا اور فروخت کرنا شرعاً جائز ہے؟
ج:اگر فروخت کرنا اس قصد سے نہ ہو کہ خواتين انہيں نامحرم کے سامنے پہنيں تو ان کے خريدنے اور فروخت کرنے ميں کوئي حرج نہيں ہے۔
س٢٨٩:ايسے غير شادي شدہ افراد جو شرعي قوانين اور اخلاقي آداب کا خيال رکھتے ہو کيا ان کے لئے تجارتي مراکز ميں خواتين کا لباس اور آرائش کا سامان فروخت کرنا جائز ہے؟ بعض سرکاري حکام غير شادي شدہ ہونے کو بعض جگہوں پر ملازمت کے لئے مانع کيوں قرار ديتے ہيں؟
ج:کام کرنے کا جائز ہونا اور کسب حلال شرعاً کسي خاص صنف سے مخصوص نہيں ہے بلکہ ہر ايک انسان کے لئے جائز ہے جو شرعي قوانين اور اسلامي آداب کي رعايت کرتا ہو ليکن اگر تجارتي لائسنس دينے يا بعض اداروں ميں بعض کاموں کے لئے خاص شرائط ہوں جو کہ مصلحت کو مدنظر رکھ کر بنائي گئي ہوں تو ان کي رعايت کرنا واجب ہے۔
س٢٩٠:مردوں کے لئے ہار يا لاکٹ پہننے کا کيا حکم ہے؟
ج:ہار اگر سونے کا ہو يا خواتين کے لئے مخصوص ہو تو مردوں کے لئے اسے پہننا جائز نہيں ہے۔

 

استفتاآت (٢)
حرام معاملات
طبّي مسائل
تعلیم و تعلم اور فن کاري کے حقوق
میڈ یکل
طبا عت ،تالیف اور فن کاري کے حقوق
غیر مسلمین کے سا تھ تعلقات
ظالم حکومت ميں کام کرنا
لباس کے احکام
مغربي ثقا فت کي پیروي
ہجرت کرنا اور سیا سي پناہ لینا
جاسوسي،چلغوري اور اسرارکا فاش
سگریٹ نوشي اور نشہ آور اشیائ
داڑھي اور مونچھ
محفل گناہ ميں حاضر ہونا
تعویذ اور استخارہ
دیني رسومات کا احیائ
ذخیرہ اندوزي اور اسراف
تجارت کے احکام
احکام خیارات
تجارت کے مختلف مسائل
سود کے احکام
حق شفاعت