احکام خيارات


١۔ خيار مجلس


س٤٨٠:ايک شخص نے کسي سے کچھ جائيداد خريدي اور بيچنے والے کو بيعانہ بھي دے ديا۔ تين گھنٹے بعد فروخت کرنے والے نے معاملہ کو فسخ کرديا اور مذکورہ جائيداد خريدار کے حوالہ نہيں کي ، حکم کيا ہے؟
ج:اگر فسخ دونوں کي جدائي کے بعد انجام پايا ہو يا کسي خيار فسخ کے شرعي اسباب کے بغير انجام ديا گيا ہو تو مذکورہ فسخ باطل ہے اور اس کا کوئي اثر نہيں ہے اور اگر دونوں کے خريد و فروخت کي جگہ چھوڑنے سے قبل يا کسي اور سبب خيار کے تحت فسخ انجام پايا ہو تو فسخ صحيح ہے اور نافذ ہے۔


٢۔ خيار عيب


س٤٨١:اگر سرکاري دفاتر جائيداد کو خريدار کے نام کرنے سے انکار کرديں تو آيا مذکورہ انکار فسخ کا جواز فراہم کرتا ہے؟
ج:اگر معاملے کے بعد واضح ہوجائے کہ مذکورہ شئے سرکاري طور پر دوسرے کے نام قابل نقل نہيں تھي اور يہ ممنوعيت عرفاً عيب شمار کي جائے تو خريدار کو حق خيا رہے۔
س٤٨٢:اگر معاملہ انجام پانے کے دوران معلوم ہو کہ مذکورہ شئے سرکاري طور پر خريدار کے نام نہيں ہوسکتي تو آيا معاملہ باطل ہوجائے گا؟
ج:مذکورہ علم معاملے کے باطل ہونے کا سبب نہيں بنتا اور خريدار کے علم کے سبب اسے حق فسخ بھي نہيں ہے۔


٣ ۔ خيار تاخير


س٤٨٣:ايک شخص نے کسي سے اپنے ذمہ معينہ قيمت پر ايک گھر خريدا ليکن تاخير قيمت کي شرط کے بغير دو سال تک اس نے قيمت ادا نہيں کي اور فروخت کرنے والے نے بھي گھر خريدار کے حوالے نہيں کيا۔ کيا مذکورہ معاملہ باطل ہے؟
ج:خريدار کي طرف سے قيمت ادا کرنے ميں اور گھر تحويل لينے ميں تاخير سے معاملہ باطل نہيں ہوتا اگرچہ اس نے فروخت کرنے والے کے ساتھ اسے شرط نہ بھي قرار ديا ہو ليکن فروخت کرنے والے کو ايسے معاملے ميں تين دن گذر جانے کے بعد خيار فسخ ہے۔


٤۔ خيار شرط


س٤٨٤:ميں نے ايک رہائشي گھر ايک شخص کو غير قابل فسخ(عقد لازم) کے تحت فروخت کيا اور يہ طے پايا کہ اگر خريدار وعدہ کے مطابق سرکاري دفتر ميں گھر رجسٹري کرنے کے لئے حاضر نہيں ہوا اور باقي قيمت ادا نہيں کي تو فروخت کرنے والے کو يہ حق حاصل ہوگا کہ وہ معاملے کو فسخ کردے اور مذکورہ گھر کو اس دن کي قيمت پر کسي دوسرے شخص کو فروخت کردے گا اب کيونکہ خريدار وعدے کے مطابق سرکاري دفتر ميں حاضر نہيں ہوا تو ميں نے معاملہ فسخ کرديا اور گھر ايک دوسرے شخص:معاملہ کا فسخ کرنا اور فسخ کے بعد دوسرے شخص کو فروخت کرنا جائز ہے جيسا کہ دونوں نے عقدلازم کے دوران مذکورہ شرط پر اتفاق کيا تھا۔


٥۔ خيار رويت


س٤٨٥:اگر زمين فروخت کرنے والا خردار کو يہ بتائے کہ زمين کا رقبہ اتنے مربع ميٹر ہے اور اس کے مطابق کاغذات تحرير کرلئے گئے ليکن اس کے بعد خريدار نے مشاہد ہ کيا کہ زمين فروخت کرنے والے کے بتائے ہوئے رقبہ سے بہت کم ہے کيا يہ معاملہ شرعاً صحيح ہے؟ اور آيا خريدار کو معاملہ فسخ کرنے کا حق ہے يا نہيں؟
ج:اگر خريدار نے فروخت کرنے والے کے کہنے پر اعتماد کرکے زمين خريدي تو معاملہ صحيح ہے۔ ليکن خريدار کو وصف کے تبديل ہونے کي وجہ سے معاملہ کو فسخ کرنے کا حق ہے اور اگر ہر ميٹر زمين معين شدہ قيمت ميں خريدي اس گمان کے ساتھ کہ زمين کا رقبہ اتني ہي مقدار کا ہے اور وہ کم نکلا تو موجودہ مقدار کي زمين پر معاملہ صحيح ہے اور خريدار کو زمين کي مساحت کے کم ہونے کي نسبت سے قيمت واپس لينے کا حق ہے يا اگر چاہے تو معاملہ فسخ کردے اور تمام قيمت واپس لے سکتا ہے۔


٦۔ خيار غبن


س٤٨٦:اگر خريدار مقررہ وقت پر قيمت ادا نہ کرے يہاں تک کہ اس شئے کي قيمت معاملہ کے دن سے بڑھ جائے تو اس صورت ميں کيا فروخت کرنے والے کے لئے خيار غبن ثابت ہوجائے گا؟ آيا قيمت کے ادا کرنے کا وقت گذر جانے سے خيار تاخير ثابت ہوگا؟
ج:خيار غبن کا معيار يہ ہے کہ معاملے کے دن عادلانہ قيمت کے لحاظ سے غبن حاصل ہو مثلاً اگر فروخت کے دن متاع کو اس کي اصلي قيمت سے اس قدر کم قيمت پر فروخت کرے جو کہ قابل درگزر نہ ہو، ليکن معاملے کے ہوجانے کے بعد قيمت کا بڑھ جانا غبن کا معيار نہيں ہے جو کہ سبب خيا رہے اور اسي طرح سے فقط موجل قيمت کے وقت کا گزر جانا فروخت کرنے والے کے لئے باعث خيار نہيں ہے۔
س٤٨٧ ميں نے ايک زمين کسي قيمت پر فروخت کي۔ اس کے بعد ايک شخص نے آکر کہا کہ تم مغبون ہوئے ہو۔ آيا اس کے کہنے سے ميرے لئے خيار غبن ثابت ہوجائے گا؟
ج:جب تک يہ ثابت نہ ہوجائے کہ آپ نے مذکورہ زمين علم نہ ہونے کي وجہ سے اس دن کے مارکيٹ ريٹ سے اتني قيمت پر فروخت کي ہے جو درگزر کے قابل نہيں ہے تو خيار غبن کا حق اس کے لئے ثابت نہيں ہے۔
س٤٨٨ ايک شخص نے معين مساحت کي زمين فروخت کي بعد ميں معلوم ہوا کہ زمين کا رقبہ زيادہ ہے۔ آيا فروخت کرنے والے کو زمين کي زيادہ مقدار کے مطالبے کا حق ہے؟
ج:اگر معين قيمت پر تمام زمين اس خيال سے فروخت کرے کہ اس کا اتنا رقبہ ہے اور بعد ميں معلوم ہو کہ زمين کا رقبہ زيادہ تھا۔ بنابرايں زمين کي واقعي اتني قيمت اس کي ادا شدہ قيمت سے زيادہ ہے تو اس صورت ميں بيچنے والے کو خيار غبن کا حق حاصل ہے اور معاملہ فسخ کرسکتا ہے ليکن اگر اس نے ہرميٹر زمين خاص قيمت پر فروخت کي ہو تو اسے مقدا رکے مطالبے کا حق ہے۔
س٤٨٩:اگر فروخت کرنے والے اور خريدار کے درميان اس بنياد پر معاملہ انجام پائے کہ خريدار چند ايام تک قيمت ادا نہيں کرے گا تاکہ يہ معلوم ہوجائے کہ وہ مغبون ہے يا نہيں ہے؟ آيا مذکورہ معاملہ شرعاً صحيح ہے؟ اور برفرض صحت آيا اسے فسخ کرنے کا حق ہے؟
ج:ايک خاص مدت تک قيمت کي تاخير کے ساتھ معاملہ کرنا صحيح ہے تامغبون ہونے يا نہ ہونے کا انکشاف ہوسکے۔ ليکن جب تک غبن ثابت نہ ہو اسے فسخ کرنے کا حق نہيں ہے۔
س٤٩٠:ايسے معاملے کا کيا حکم ہے جس ميں مغبون ہونے والا شخص مسلمان نہ ہو؟
ج:مغبون کے لئے خيار غبن ثابت ہو اور مسلمان وغير مسلمان ميں کوئي فرق نہيں ہے۔
س٤٩١:ميں نے ايک گھر کسي کو فروخت کيا خريدار نے قيمت ادا کرنے اور گھر قبضے ميں لينے کے بعد اعلان کيا کہ مغبون ہے اور معاملہ فسخ کرديا ليکن خريدار نے اس وقت سے اب تک مختلف بہانوں سے گھر خالي نہيں کيا اور مجھ سے قيمت واپس نہيں لي۔ يہاں تک کہ دو سال بعد اس نے دعويٰ کيا ہے کہ آدھے گھر ميں اس نے معاملہ فسخ کرديا تھا اور اب آدھے گھر کي قيمت واپس مانگ رہا ہے ۔ آيا شرعي اس کے آدھے گھر خريدنے کا دعويٰ کرنا صحيح ہے اور يہ بات بھي معلوم ہے کہ وہي مغبون ہونے کا دعويٰ دار ہے اور اسي نے معا ملہ کو فسخ کيا ہے؟
ج:جہاں غبن ثابت ہوجائے وہاں مغبون کو تمام معاملے ميں فسخ کا حق حاصل ہے اور ديا ہوا مال واپس لے سکتا ہے البتہ اسے آدھے گھر ميں معاملہ فسخ کرنے کا حق نہيں ہے اور نہ ہي ادا کردہ قيمت سے زيادہ مطالبہ کرنے کا حق ہے۔
س٤٩٢: دو افراد کے مابين معاملہ انجام پايا اور ايک سادہ وثيقہ تحرير ہوگيا دونوں نے دوران عقد شرط کي کہ جس نے بھي معاملے سے روگرداني کہ وہ دوسرے شخص کو ايک مقررہ رقم ادا کرے گا اب ايک شخص غبن کي وجہ سے معاملے سے روگرداني کررہا ہے۔ کيا اسے معاملہ فسخ کرنے کا حق ہے؟ اور اگر غبن کي وجہ سے معاملہ فسخ کردے تو آيا اس پر شرط کے مطابق عمل کرنا واجب ہے؟
ج:دونوں طرف سے روگرداني کي صورت ميں مقررہ رقم جدا ادا کرنے کي شرط اگرچہ بذات خود صحيح ہے اور اس شرط کا پورا کرنا بھي واجب ہے نيز اگر شرط عقد کے ضامن ميں کي جائے يا معاملہ مذکورہ اسي شرط کي بنائ پر واقع ہو تو شرط پر عمل کرنا ايسي صورت ميں واجب ہے۔ ليکن مذکورہ شرط پر عمل کرنا اس صورت کو شامل نہيں ہے جہاں خيار غبن کي وجہ سے معاملہ فسخ کرديا جائے البتہ اگرشرط فسخ کي صورت ميں بھي جاري ہوتو شرط پر عمل کرنا لازم ہے۔
س٤٩٣: مجھے گھر خريدنے کے ايک ہفتے بعد معلوم ہوا کہ ميں مذکورہ معاملے ميں مغبون ہوگيا ہوں۔ ميں نے فروخت کرنے والے کي طرف رجوع کيا ليکن اس نے معاملہ فسخ کرنے او رقيمت واپس دينے سے انکار کرديا اور گھر ميرے قبضے اور استعمال ميںرہا۔ اس کے بعد گھر کي قيمت ميں اضافہ ہوگيا تو مالک نے مجھ سے مطالبہ کيا کہ معاملہ فسخ کردے اور گھر خالي کرديا جائے۔ ميں نے اس کے مطالبہ کيا کہ معاملہ فسخ کردے اور گھر خالي کرديا جائے۔ ميں نے اس کے مطالبے کا مثبت جواب دينے سے اس وقت مجھے واپس نہ کرے ليکن اس نے زيادہ قيمت واپس کرنے سے انکار کرديا۔ اب سوال يہ ہے کہ آيا غبن کے انکشاف کے بعد ميرا مالک کي طرف رجوع کرنا معاملے کے فسخ ہونے کا سبب ہے ؟ اور زيادہ کے قيمت کي زيادتي کے مقابلے ميںميرا قبول فسخ کرنا معاملہ فسخ ہونے کے لئے کافي ہے؟
ج:صاحب خيار کا دوسرے شخص کي طرف فسخ کے بارے ميں صر ف گفتگو کے لئے رجوع کرنا يا اضافي قيمت پر گھر واپس کرنے پر اظہار رضايت کرنا معاملے کو فسخ نہيں کرتا۔ ليکن کيونکہ صاحب خيار کا فسخ کرنا دوسرے شخص کي موافقت کرنے پر موقوف نہيں ہے اور نہ ہي اس کے گھر واپس کرنے پر موقوف ہے لہٰذہ اگر غبن کي اطلاع پانے کے بعد آپ نے واقعاً معاملہ فسخ کرديا تھا تو وہ فسخ صحيح ہے اور آپ فسخ کے بعد گھر کے مالک نہيں ہيں بلکہ گھر فروخت کرنے والے کے حوالے کرنا واجب ہے۔


٧۔ خياري معاملہ


س٤٩٤:اگر ايک شخص نے کوئي شئے خياري معاملے کے ساتھ فروخت کي ۔ آيا فروخت کرنے والے يا خريدار کے لئے مذکورہ شئے کو پہلے خريدار کي تحويل ميں دينے سے پہلے کسي اور شخص کو فروخت کرنا جائز ہے؟
ج:جب تک کہ فروخت کرنے والا معاملہ فسخ نہ کرے مذکورہ شئے خياري معاملہ کے بعد خريدار کي ملکيت ہے۔ لہٰذہ فروخت کرنے والے کے لئے سابقہ معاملے کو فسخ کرنے سے پہلے دوسرے شخص کو فروخت کرنا جائز نہيں ہے ليکن اگر فروخت کرنے والا فسخ نہ کرے تو خيار کي مدت گزرنے کے بعد خريدار کے لئے کسي دوسرے شخص کو مذکورہ شئے فروخت کرنا جائز ہے۔ اگرچہ خريدار اس شئے کو دوسرے شخص کے قبضہ اور اختيار ميں نہ بھي دے۔


٨۔ شرط کي مخالفت کرنے کا خيار


س٤٩٥:ايک شخص نے دوسرے شخص سے کچھ سامان اس شرط پر خريدا کہ دو ماہ کے دوران اس کي قيمت ادا کردي جائے گي اور يہ کہ مذکورہ مدت ميں خريدار کو معاملہ فسخ کرنے کا خيار ہوگا۔ ليکن خريدار نے سات ماہ بعد مال و اسباب کو واپس کيا اور فروخت کرنے والے نے اس شرط پر قبول کرليا کہ مقررہ وقت سے فسخ ميں تاخير کرنے کي وجہ سے جو خسارہ ہوا ہے اسے قيمت ميں کچھ في صد کمي کرکے خسارے کي مقدار کے مطابق لے لے گا کيونکہ اگر فسخ مقررہ وقت پر انجام پاتا تو فروخت کرنے والا اسے کسي اور کو فروخت کرديتا اور اس کي قيمت سے کسي اور تجارت ميں استفادہ کرتا۔ اب سوال يہ ہے کہ آيا خيار کي مدت گذرنے کے بعد خريدار کو معاملہ فسخ کرنے کا حق ہے؟ اور فروخت کرنے والے پر قبول کرنا واجب ہے؟ اور آيا فروخت کرنے والے کو يہ حق ہے کہ فسخ کو مذکورہ شرط يعني قيمت ميں ايک خاص في صد کمي کے ساتھ قبول کرے؟
ج:خيار کي مدت گزرنے کے بعد صاحب خيار کو فسخ کرنے کا حق نہيں ہے اور نہ ہي سامان کے واپس کرنے کا حق ہے اسي طرح فروخت کرنے والے کو قبول کرنے پر مجبور نہيں کرسکتا۔ ہاں دونوں اقالہ کرنے پر توافق کرنے پر توافق کرسکتے ہيں ليکن فروخت کرنے والے کو قيمت کي خاص في صد کمي پر اقالہ کرنے کا حق نہيں ہے اور اگر قيمت کي خاص فيصد کمي پر اقالہ کيا تو اقالہ باطل ہے۔
س٤٩٦:آيا فروخت کرنے والے يا خريدار کي طرف سے معاملے کي غرض يا مقصد پورا نہ ہونے کے بہانے معاملہ فسخ کرنا جائز ہے؟
ج:اغراض و مقاصد کا پورا نہ ہونا جب تک عقد کے دوران بصورت شرط ذکر نہ کيا جائے يا معاملہ کا انجام پانا اس پر موقوف نہ ہو اس وقت تک شرعاً فسخ کا حق نہيں ہے۔
س٤٩٧ ميں نے اپني دکان عام وثيقہ کي تحرير کے ذريعے چند شرائط کے ساتھ فروخت کي ان شرائط ميں سے ايک شرط يہ تھي کہ خريدار تمام ٹيکس ادا کرے ليکن اب وہ انکار کررہا ہے ، آيا مجھے معاملہ فسخ کرنے کا حق ہے؟
ج:خريدار کا ٹيکس کے محکمہ کو رقم ادا نہ کرنا اور ٹيکس کے محکمہ کا فروخت کرنے والے کو ٹيکس ادا کرنے کا ذمہ دار ٹھہرانا فروخت کرنے والے کے لئے خيار فسخ کا باعث نہيں بنتا ہاں اگر عقد کے دوران صريح طور پر شرط کي ہو کہ اگر خريدار نے ٹيکس نہ کيا تو فروخت کرنے والے کو حق فسخ ہوگا تو اس صورت ميں فروخت کرنے والے کو فسخ کرنے کا حق ہے۔
س٤٩٨ :ايک شخص نے پلاٹ اس شرط پر خريدا کہ اگر سرکاري طور پر زمين اس کے نام نہ ہوسکے يا اس بات کا انکشاف ہوجائے کہ مذکورہ پلاٹ بلديہ کے پروجيکٹ ميں شامل ہے تو وہ فسخ کرنے کا حقدار ہوگا اور کيونکہ خريدار بلديہ سے تعمير کي اجازت نہيں لے سکا ہے لہٰذہ فروخت کرنے والے سے فسخ اور قيمت کي واپسي کا مطالبہ کررہا ہے اور اس بات کا مطالبہ بھي کررہا ہے کہ اگر آج سے دو سال تک بلديہ اسے تعميرات کي اجازت دے دے تو فروخت کرنے والا سابقہ قيمت پر اسے دوبارہ مذکورہ زمين کو فروخت کردے۔ آيااس کي جانب سے مذکورہ شرط کرنا صحيح ہے؟
ج:اگرچہ خريدار کو متفق عليہ شرائط کے مطابق جس پر دونوں نے اتفاق کيا ہے فسخ کرنے کا حق ہے لہٰذہ وہ معاملہ فسخ کرسکتا ہے اور فروخت کرنے والے سے قيمت کا مطالبہ بھي کرسکتا ہے ليکن فسخ کے دوران کسي قسم کي شرط کرنے کا اسے کوئي حق نہيں ہے۔
س٤٩٩؛بيچنے والے اور خريدار کے درميان خريدار کي طرف سے فروخت کرنے والے کے حق ميں معينہ شرائط پر معاملہ انجام پاگيا اور خريدار نے بيچنے والے کو بيعانہ کے طور پر کچھ قيمت بھي ادا کردي ليکن بعد ميں خريدار نے باقي شرائط پر عمل کرنے سے انکار کرديا۔ کيا خريدار کو يہ حق ہے کہ وہ فروخت کرنے والے کو معاملہ اتمام کرنے پر مجبور کرے؟
ج:فروخت کرنے والے نے جب تک شرط پر عمل نہ ہونے کي وجہ سے معاملہ فسخ نہيں کيا ہے اس وقت خريدار کے حق کا خيال رکھنا ضروري ہے اور خريدار بھي اسے مجبور کرسکتا ہے البتہ اگر وہ خريدار کي جانب سے بعض شرائط پر عمل نہ کرنے کہ وجہ سے فسخ کرنا چاہے تو معاملہ فسخ کرسکتا ہے اور اس صورت ميں خريدار فروخت کرنے والے کو مجبور نہيں کرسکتا ليکن ادا شدہ قيمت واپس لے سکتا ہے۔
 

 

خيارات کے متفرق احکام


س٥٠٠:آيا کسي حق کا مطالبہ نہ کرنا يا مطالبہ کرنے ميں دو سال تک تاخير کرنا شرعي طور پر حق کو ساقط کرديتا ہے؟
ج:حق کا مطالبہ نہ کرنا يا مطالبہ کرنے ميں تاخير کرنا حق کو ساقط نہيں کرتا۔ ہاں اگر حق ايک معين مدت تک ہو تو اس مدت کے گزرنے کے بعد حق ساقط ہوجاتا ہے۔
س٥٠١:ايک شخص نے زمين فروخت کي جس کي کچھ قيمت ادھار تھي۔ فروخت کرنے والے نے نقد حصے کي رقم لے لي اور زمين خريدار کے حوالے کردي بعد ميں ايک اور شخص اسي زمين کو مذکورہ قيمت سے زيادہ پر خريدنے کے لئے تيار ہوگيا آيا فروخت کرنے والے کے لئے جائز ہے کہ سابقہ معاملے کو فسخ کردے اور زمين کو زيادہ قيمت پر ايک دوسرے خريدار کو فروخت کردے؟
ج:صحيح طور پر معاملہ انجام پانے کے بعد فروخت کرنے والے پر معاملے کے مطابق عمل کرنا واجب ہے اور معاملے کو فسخ کرنا اور دوسرے شخص کو فروخت کرنا صحيح نہيں ہے۔ البتہ اگر وہ حق فسخ کا حامل ہو تو فسخ کرسکتا ہے۔
س٥٠٢:ميں نے ايک شخص کو اس شرط پر زمين فروخت کي کہ وہ چار سال کے دوران اس کي قيمت ادا کردے گا ليکن ميں معاملے کے دوران ہي معاملے سے ناراضي ہوگيا تھا۔ ايک سال گزرنے کے بعد ميں نے خريدار سے زمين واپس کرنے کا مطالبہ کيا ليکن اس نے زمين واپس دينے سے انکار کرديا۔ آيا مذکورہ معاملے سے روگرداني کا کوئي طريقہ ہے؟
ج:معاملہ سے فقط ناراضي ہونے پر شرعي لحاظ سے کوئي اثر نہيں پڑتا۔ لہٰذہ صحيح طور پر معاملہ انجام پانے کے بعد معاملہ شرعي طور پر نافذ ہے اور خريدار مذکورہ شئے کا مالک ہے اور فروخت کرنے والے کو زمين واپس لينے کا حق نہيں ہے ہاں اگر اسے اسباب خيار ميں سے کوئي بھي خيار حاصل ہے تو معاملہ کو فسخ کرنے کے بعد زمين واپس لے سکتا ہے۔
س٥٠٣:ايک شخص نے اپني جداشدہ زمين جس کي سرکاري سند بھي موجود تھي سادہ وثيقہ کے ذريعے تمام خيارات کو ساقط کرکے فروخت کي ليکن سرکاري سند کو استعمال کرتے ہوئے اس نے زمين کو دوبارہ کسي اور شخص کو فروخت کرديا آيا مذکورہ زمين کا دوبارہ معاملہ کرنا صحيح ہے؟
ج:معاملے کے صحيح طور پر انجام پانے کے بعد جبکہ تمام خيارات بھي ساقط کئے جاچکے ہيں فروخت کرنے والے کا دوبارہ کسي دوسرے شخص کو زمين فروخت کرنا صحيح نہيں ہے۔ بلکہ مذکورہ معاملہ فضولي ہے اور سابقہ خريدار کي اجازت پر موقوف ہے۔
س٥٠٤:ايک شخص نے کارخانے سے کچھ مقدار سيمنٹ خريدا اور ا سکي شرط يہ تھي کہ تدريجاً سيمنٹ اس کے حوالے کرديا جائے گا جبکہ اس نے سيمنٹ کي تمام قيمت کارخانے کو ادا کردي ۔ خريدار کے کچھ مقدار ميں سيمنٹ لينے کے بعد بازار ميں سيمنٹ کي قيمت ميں بہت اضافہ ہوگيا۔ آيا کارخانے کو يہ حق ہے کہ معاملہ فسخ کردے اور سيمنٹ کي باقي مقدار ادا کرنے سے انکار کردے؟
ج:معاملہ کے صحيح طو رپر انجام پانے کے بعد، چاہے معاملہ نقد ہو يا ادھار يا سلف فروخت کرنے والے کے لئے يک طرفہ طور پر معاملہ فسخ کرنا جائز نہيں ہے۔ ہاں اگر فروخت کرنے والا خيارات شرعيہ ميں سے کسي خيار کا حامل ہے تو معاملہ فسخ کرسکتا ہے۔
س٥٠٥:ميں نے ايک گھر سادہ وثيقہ تحرير کے ذريعے اس شرط پر خريدا کہ قيمت کا کچھ حصہ نقد اور کچھ مقدار تين ماہ کے دوران ادا کرکے گھر سرکاري طو رپر ميرے نام کرديا جائے گا۔ ليکن ميں مذکورہ مدت ميں باقي قيمت ادا نہ کرسکا اور فروخت کرنے والے نے بھي کوئي اعتراض نہيں کيا۔ يہاں تک کہ چار ماہ بعد ميں نے اس کي طرف رجوع کيا تاکہ بقيہ قيمت ادا کرکے گھر قبضہ ميں لے لوں ليکن فروخت کرنے والے نے گھر کا قبضہ دينے سے انکار کرديا اور اس بات کا دعويٰ کيا کہ تعين شدہ مدت ختم ہونے کے بعد اس نے معاملہ فسخ کرديا تھا۔ آيا باقي قيمت مقررہ مدت ميں ادا نہ کرنے کي وجہ سے اسے فسخ کرنے کا حق ہے؟ جبکہ يہ بات بھي معلوم ہے کہ اس نے وصول شدہ رقم بھي واپس نہيں کي اور مذکورہ مدت ميں گھر کرايہ پر دے ديا اور اس کا کرايہ بھي وصول کرليا۔
ج:فقط باقيماندہ قيمت کا وقت مقررہ پر ادا نہ کرنا فروخت کرنے والے کے لئے حق فسخ کا سبب نہيں بنتا۔ لہذا اگر معاملہ صحيح شرعي طو رپر انجام پاگيا تھا ليکن گھر مالک کے قبضے ميں رہا اور اس نے گھر کرايہ پر دے ديا درحاليکہ اسے فسخ کا حق بھي حاصل نہيں تھا تو اس کا کرايہ پر دينا فضولي ہے اور خريدار کي اجازت پر موقوف ہے اور اس پر واجب ہے کہ گھر خريدار کے حوالے کرنے کے ساتھ کرايہ کي رقم بھي خريدار کو ادا کرے اگر خريدار کے عقد پرراضي ہوجائے اور اگر کرائے کے عقدپر راضي نہ ہو تو اسے مدت تصرف کے عوض اجرت مثل کے مطالبے کا حق ہے۔
س٥٠٦:آيا فروخت کرنے والا حق خيار ثابت نہ ہونے کے باوجود معاملے کو فسخ کرسکتا ہے؟ اور کيا معاملہ انجام پانے کے بعد قيمت ميں اضافہ کرسکتا ہے؟
ج:مذکورہ امور ميں سے کسي چيز کا حق نہيں ہے۔
س٥٠٧ :ايک شخص نے ايک گھر کسي سے خريدا جو کہ اس نے گھر بنانے والي کمپني (ادارہ مسکن) سے خريدا تھا۔ جب معاملہ انجام پاگيا اور فروخت کرنے والے نے قيمت وصول کرلي تو مذکورہ ادا رہ نے اعلان کيا کہ پہلے سے ادا شدہ قيمت کے علاوہ مزيد رقم بھي ادا کي جائے لہذا خريدار نے فروخت کرنے والے کو اطلاع دي کہ وہ اضافہ شدہ مبلغ ادا کرے ورنہ وہ معاملہ فسخ کردے گا اور اپني رقم واپس لے لے گا۔ ليکن فروخت کرنے والے نے اضافي مبلغ ادا نہيں کيا جس کي وجہ سے کمپني نے يہ فيصلہ کيا کہ مذکورہ گھر ايک اور شخص کو دے ديا جائے۔ اب سوال يہ ہے کہ خريدار ادا شدہ رقم کس سے لے؟ کمپني سے؟ فروخت کرنے والے سے؟ آيا اس شخص سے جسے کمپني نے گھر دينے کا فيصلہ کيا ہے؟
ج:اگر شرط يا ديگر کسي سبب کي وجہ سے معاملہ فسخ ہوجائے تو خريدار کا فروخت کرنے والے سے پيسوں کا مطالبہ کرنا ضروري ہے۔
س٥٠٨:ايک شخص نے حيوان خريدا اور اسے اس نيت سے بازار لے گيا کہ اگر کوئي خريدار مل گيا تو اسے فروخت کردے گا ورنہ معاملہ فسخ کردے گا۔ آيا اس طرح اس کے لئے حق فسخ ثابت ہوجائے گا؟
ج:خريدار نہ ہونے کي وجہ سے فسخ کي نيت کرنا خيار کے ثابت ہونے کے لئے کافي نہيں ہے اور اسي طرح خريدار کے نہ ہونے پر خيار کو معلق کرنا صحيح نہيں ہے۔ ہاں فروخت شدہ شئے کيونکہ حيوان ہے لہٰذہ خريدار کو تين دن تک حق خيار ہے۔
س٥٠٩:چند افراد نے مل کر کچھ زمين ايک شخص سے خريدي اور چند قسطوں ميںاس کي قيمت کا ايک حصہ ادا کرديا باقي قيمت کي ادائيگي مذکورہ زمين کے قانوني طور پر ان کے نام کرنے سے مشروط تھي۔ ليکن فروخت کرنے والا ٹال مٹول سے کام لينے لگا۔ يہاں تک کہ مذکورہ زمين کو ان کے نام کرنے سے انکار کرديا اور معاملہ کو فسخ کرنے کا دعويٰ کرنے لگا۔ آيا مذکورہ معاملہ صحيح ہے يا اس کي طرف سے معاملہ فسخ کرنا جائز ہے؟
ج:اگر خيار کے اسباب ميں سے کوئي سبب موجود نہ ہوا ہو جيسے خيار شرط خيار غبن وغيرہ تو اس صورت ميں فسخ صحيح نہيں ہے بلکہ انجام شدہ معاملہ ہي صحيح شمار کيا جائے گا او راس پر واجب ہے کہ وہ قانوني طو رپرمذکورہ زمين کو خريداروں کے نام کرے۔
س٥١٠:ايک شخص نے کچھ ساز و سامان کسي سے خريدا اور قيمت کا ايک حصہ ادا کرنے کے بعد اسي ساز و سامان کو کچھ منافع کے ساتھ کسي کو فروخت کر ديا۔ ليکن دوسرے خريدار کو جب معلوم ہوا کہ پہلے خريدار نے منافع حاصل کيا ہے تو اس نے معاملہ سے اظہار ندامت کيا ۔ کيااس کے لئے معاملہ کو فسخ کرنا جائز ہے؟
ج:معاملے سے نادم ہونا يا خريدار کو اس بات کا علم ہوجاتا کہ سابقہ خريدار نے مذکورہ ساز و سامان کو کم قيمت پر خريدا تھا خيار کا باعث نہيں ہوتا اور نہ ہي فسخ کے حق کے سبب بنتا ہے۔ لہٰذہ اگر دوسرے خريدار کو کسي ايسي چيز کا حق ہو جو خيار کا باعث ہو تو وہ فسخ کرسکتا ہے اور اگر نہيں تو حق فسخ نہيں رکھتا۔



اشيائے فروخت کے ملحقات
(وہ اشيائ جو کہ بيع ميں شامل ہيں)


س٥١١:ايک شخص نے اپنا گھر فروخت کرديا اور گھر فروخت کرنے کے بعد گيزر اور فانوس وغيرہ گھر سے اتارليا۔ حکم بيان فرمائيں۔
ج:اگر مذکورہ اشيائ وغيرہ عرف عام ميں گھر فروخت کرنے کے تابع شمار نہيں کي جاتيں تو ان کا اتارلينا جائز ہے۔ ہاں اگر فروخت کرنے والے سے شرط کي ہو کہ مذکورہ اشيائ گھر ميں باقي رہيں گي تولينا جائز نہيں ہے۔
س٥١٢:ميں نے ايک شخص سے اس کا گھر گيراج اور تمام ساز و سامان کے ساتھ خريدا ليکن اس نے فقط گھر ميرے حوالے کيا اور وثيقہ سے وہ عبارت حذف کردي جس سے يہ ثابت ہونا تھا کہ گيراج بھي معاملہ ميں شامل ہے۔ جبکہ اس نے وثيقہ ميں مذکورہ امور اور گيراج کے عوض وصول کي تھي۔ مذکورہ مسئلہ کا حکم کيا ہے؟
ج:بيچنے والے پر واجب ہے کہ فروختہ شدہ شئے کو تمام لواحق کے ساتھ تحويل دے اور اس ميں فرق نہيں ہے کہ مذکورہ ملحقات کے عوض قيمت دي جائے يا ان لواحق کو فروختہ شدہ اشيائ ميں ضم کئے جانے کي شرط کي گئي ہو اور خريدار فروخت کرنے والے کو مذکورہ عمل پر مجبور کرسکتا ہے۔
س٥١٣:ميں نے ايک عمارت کي پہلي منزل خريدي جس ميں کولر لگا ہوا تھا جس کا پاني سطح زمين (
Ground Flour ) کي ٹونٹي سے پائپ کے ذريعے سے اوپر آتا تھا اور مذکورہ پائپ ديوار کي جانب سے کولر تک پہنچتا تھا ليکن اب سطح زمين پر رہنے والے مالک نے پاني کاٹ ديا ہے کيونکہ زميني طبقے سے استفادہ کرنا اس کے لئے مخصوص ہے۔ حکم کيا ہے؟
ج:اگر معاملہ کے دوران پاني کے پائپ سے استفادہ کرنا ذکر نہ کيا گيا جو کہ زميني طبقہ ميں موجود ہے تو آپ مالک کو مجبور کرنے کا حق نہيں رکھتے۔
 

متاع ، تحويل دينا اور قيمت قبضہ ميں لينا


س٥١٤: ميرے ايک عزيز کا ايک گردہ فيل ہوگيا ہے۔ ايک شخص نے معينہ مبلغ کے عوض گردہ اھدائ کرنے کا اعلان کيا ليکن طبي معائنہ کے بعد يہ بات ظاہر ہوئي کہ اس کا گردہ مريض کے پيوند کاري کے لئے مناسب نہيں ہے۔ آيا مذکورہ شخص مريض سے طے شدہ رقم کا مطالبہ کرسکتا ہے؟ چاہے يہ رقم چند دن تک طبي معائنہ کروانے کے عوض ہو؟
ج:اگر مذکورہ مبلغ گردے کے عوض ہو اور گردے کا غير مناسب ثابت ہونا گردے کے کاٹنے اورمريض کے تحويل ميں لينے کے بعد ہو اسے مذکورہ تمام قيمت کے مطالبے کا حق ہے۔ چاہے بيمار اس گردے سے استفادہ نہ کرسکے اور اگر گردہ کاٹنے سے پہلے يہ معلوم ہوجائے کہ گردہ غير مناسب ہے اور مريض اسے اطلاع بھي دے دے تو اسے مريض سے کسي رقم کے مطالبے کا حق نہيں ہے۔
س٥١٥:ميں نے اپنا رہائشي گھر ايک ساد سند کے ساتھ فروخت کرديا اور قيمت کا کچھ حصہ خريدار سے لے ليا باقي رقم سرکاري سند تحرير کرتے وقت ادا ہونے ہے ليکن ميں اب اپنا گھر فروخت کرنے پر نادم ہوں جبکہ خريدار گھر خالي کرنے کے لئے اصرار کررہا ہے۔ حکم بيان فرمائيں؟
ج:اگر شرعاً صحيح طور پر معاملہ انجام پاگيا تھا اور فروخت کرنے والا حق فسخ کا حامل نہيں تھا تو اس کے فقط نادم ہونے يا گھر کے نياز مند ہونے کي وجہ سے گھر تحويل دينے سے انکار کرنا جائز نہيں ہے۔
س٥١٦:ميں نے محکمہ معدنيات سے پتھر خريدنے کي اجازت حاصل کي ليکن پتھر تحويل ميں لينے کے بعد اس بات کا انکشاف ہوا کہ محکمہ معدنيات نے پتھروں کي قيمت معين نہيں کي۔ ميں نے محکمہ سے رابطہ کيا تو جواب ديا گيا۔ ہم قطعي قيمت کا بعد ميں اعلان کرديں گے جو کہ گذشتہ قيمت سے بہت زيادہ نہيں ہوگي۔ ليکن جب انہوں نے اصلي قيمت کا اعلان کيا تو اعلان شدہ قيمت گذشتہ قيمت سے بہت زيادہ تھي اور ميرے لئے وہ قيمت قابل قبول نہيں تھي۔ ايسي صورت ميں صورت حال ميں حکم کيا ہے؟ جبکہ ميں پتھر کاٹ کر فروخت کرچکا ہوں۔
ج:معاملہ کي صحت کے لئے اس طرح معين ہونا جس سے ضرر اور جہالت رفع ہوجائے ضروري ہے اور فروختہ شدہ شئے کا معين ہونا بھي لازم ہے۔ لہٰذہ اگر پتھر خريدنے کے دن صحيح شرعي طو رپر انجام نہ پايا ہو تو خريدار مذکورہ پتھروں کے کاٹنے اور فروخت کرنے کي اس قيمت کا ضامن ہے جس دن اس نے انہيں فروخت کيا ہے۔
س٥١٧:ايک شخص نے اپني بيٹي سے ايک مکان خريدا جو اس کے شوہر کے اختيار ميں تھا۔ باپ نے بيٹي کو قيمت ادا کردي ليکن بيٹي کے شوہر نے اپني بيوي کو معاملہ ختم نہ کرنے کي صورت ميں طلاق کي دھمکي دي اور اذيت کرنا شروع کردي۔ جس کي وجہ سے بيٹي فروختہ شدہ جائيداد کو باپ کي تحويل ميں نہ دے سکي۔ آيا فروخت شدہ شئے کا تحويل ميں دينا يا قيمت کا خريدار کو واپس کرنا فروخت کرنے والي کي ذمہ داري ہے يا اس کے شوہر کي ذمہ داري ہے؟
ج:فروخت کرنے والي پر واجب ہے کہ جائيداد کو تحويل ميں دے يا ادا شدہ قيمت واپس کرے۔
س٥١٨: ميں نے ايک سادہ تحرير کے ساتھ ايک گھر اس شرط پر خريدا کہ فروخت کرنے والا سرکاري دفتر ميں آکر گھر کو قانوني طور پر ميرے نام کردے گا۔ ليکن فروخت کرنے والے نے اس شرط پر عمل نہيں کيا اور گھر ميري تحويل ميں دينے اور ميرے نام کرنے سے انکار کرديا۔ آيا مجھے گھر کا مطالبہ کرنے کا حق ہے؟
ج:آپ حضرات کے مابين جو چيز انجام پائي ہے وہ اگر فقط خريد و فروخت کا وعدہ اور گفتگو تھي تو اس صورت ميں مالک پر وعدہ کا وفائ کرنا اور گھر فروخت کرنا اور آپ کے نام کرانا لازم نہيں ہے اور اگر جو چيز آپ کے مابين انجام پائي ہے اور جسے آپ نے تحرير کيا ہے وہ معاملے کا سادہ وثيقہ ہو اور شرعاً صحيح طريقے سے خريد و فروخت انجام پاگئي ہو تو فروخت کرنے والے کو معاملے سے انکار کرنے اور وفائ نہ کرنے کا حق نہيں ہے بلکہ مالک پر شرعي طور پر واجب ہے کہ گھر آپ کے قبضہ ميں دے دے اور اس پر لازم ہے ۔ گھر آپ کے نام منتقل
Transfer
کرنے کے تمام امور کوانجام دے اور خريدار کو بھي مطالبہ کا حق ہے۔
س٥١٩:بيچنے والے اور خريدار کے مابين تجارتي معاملے کے مطابق ، خريدار بيچنے والے کو ہر ہفتے حاصل شدہ مال کي کچھ قيمت ادا کرتا رہا اور ادا شدہ مبلغ کو تحرير کرتا رہا او راسي طرح بيچنے والا خريدار کي تحرير پر دستخط کے علاوہ اپنے پاس بھي حاصل شدہ رقم کو تحرير کرتا رہا۔ چار مہينے بعد دونوں نے خريدار کي ادا شدہ قيمت کا حساب کيا جو کہ متعدد بار ادا کي گئي تھي ۔ مذکورہ ادا شدہ رقم کي مقدار ميں اختلاف ہوگيا۔ خريدار دعويٰ کررہا ہے کہ اس نے مذکورہ مقدار کو ادا کردي ہے ليکن مالک انکار کررہا ہے اور يہ بات قابل ذکر ہے کہ مورد اختلاف رقم کي مقدار دونوں کي تحرير ميں موجود نہيں ہے ، حکم کيا ہے؟
ج:اگر يہ ثابت ہوجائے کہ خريدار نے مال کي قيمت ادا کردي ہے تو اس پر کوئي شئے واجب نہيں ہے اور اگر ثابت نہ ہوسکے تو فروخت کرنے والے کا قول قبول کيا جائے گا جو کہ رقم وصول کرنے کا منکر ہے۔
 

نقد اور ادھار کا معاملہ


س٥٢٠:ايک سال تک ادھار اجناس اصلي قيمت سے زيادہ قيمت پرلينے کا کيا حکم ہے؟اور چيک کو معينہ مدت کے لئے کم يا زيادہ قيمت پر فروخت کرنے کا کيا حکم ہے؟
ج:نقد اجناس ايک خاص قيمت اور وہي اجناس بطور ادھار زيادہ قيمت پر خريدنا اور فروخت کرنا جائز ہے ليکن چيک کا کم يا زيادہ قيمت کے عوض فروخت کرنا جائز نہيں ہے البتہ وہ شخص جس نے چک ديا ہے اور چک ميں مندرج مبلغ اس کے ذمہ ہے اسے فروخت کرنا جائز ہے۔
س٥٢١:اگر کار فروخت کرنے والا يہ کہے کہ اس کار کي نقد قيمت اتني ہے اور دس مہينے ميں بطور قسط اسي کار کي قيمت اتني ہے خريدار نے جب اس ادھار اضافي قيمت کو ملاحظہ کيا تو وہ ايک چوتھائي زيادہ نکلي اور اس طرح قسطي قيمت پر معاملہ انجام پاگيا۔ اب اس بات کو سامنے رکھتے ہوئے کہ خريدار کے ذہن ميں يہ چيز آئي ہے کہ وہ نقد قيمت سے زائد قيمت ادا کرے گااور يہ اضافي قيمت فروخت کرنے والے کے لئے منافع ہے اور يہ کہ مذکورہ معاملہ سودي ہے۔ کيا مذکورہ معاملہ سودي ہے؟ اور باطل ہے؟ يا باطل نہيں ہے؟
ج:ادھار کي صورت ميں مذکرہ معاملہ صحيح ہے قيمت کا قسطوں ميں ادا کرنا بھي صحيح ہے اور مذکورہ معاملہ سودي بھي نہيں ہے۔
س٥٢٢:خريد و فروخت کے عقد ميں متاع اور قيمت کو مندرجہ ذيل طرز پر موجل بيان کيا گيا۔ مال کي قيمت ايک سال کے دوران اقساط کي صورت ميں ادا کي جائے گي اور سال پر ختم ہونے پر خريدار کي طر سے قيمت کي پہلي قسط ادا کرنے پر مال اس کے قبضہ ميں دے ديا جائے گا ۔ ليکن صورت حال اب يہ ہے کہ قيمت کي پہلي قسط کي ادائيگي ميں مذکورہ وقت سے بہت تاخير ہوگئي ہے آيا بيچنے والا خيار تاخير کا حق رکھتا ہے۔
ج:ادھار مال کي قيمت کي ادائيگي ميں تاخير فروخت کرنے والے کے لئے خيا رکا باعث نہيں بنتي ليکن اگر مال کلي اور موجل ہو اور معاملہ بعنوان بيع مسلم انجام پايا ہو تو ايسي صورت ميں قيمت کي ادائيگي نقد ہوني چاہئيے وگرنہ معاملہ بنيادي طور پر ہي باطل قرار پائے گا۔
س٥٢٣:اگر متعارف وقت سے قيمت کي پہلي قسط ادا کرنے ميں تاخير ہوجائے جيسا کہ فروخت کرنے والا دعويدار ہے اور قيمت کي ادائيگي کا کوئي وقت بھي معين نہيں تھا اور قيمت کي ادائيگي ميں تاخير پر فروخت کرنے والے کے لئے خيار کي شرط بھي نہيں کي گئي تھي۔ آيا مذکورہ تاخير کي وجہ سے بيچنے والے کو خيار حاصل ہے؟
ج:ادھار معاملے ميں قيمت کي ادائيگي کا وقت مقرر کرنا ضروري ہے۔ لہٰذہ اگر ادھار معا ملہ قسطوں کي ادائيگي کا وقت مقرر کئے بغير انجام پائے تو وہ معاملہ ابتدائ سے ہي باطل ہے۔ ہاں اگر وقت مقرر ہو اور خريدار ادائيگي ميں تاخير کردے تو مذکورہ تاخير کي وجہ سے فروخت کرنے والے کو خيار حاصل نہيں ہوگا۔
س٥٢٤:ٹيکنيکل کالج ايک زمين پر اس شرط پر تعمير کيا گيا کہ اس زمين کي قيمت تعليم و تربيت کي وزارت ادا کرے گي ليکن عمارت کے تعمير ہونے کے بعد مذکورہ وزارت نے زمين کي قيمت ادا کرنے سے انکار کرديا اور اسي وجہ سے زمين کے مالکوں نے اعلان کيا کہ وہ اس عمل سے راضي نہيں ہيں اور مذکورہ عمارت غصبي ہے اور اس ميں نما زپڑھنا باطل ہے۔ مذکورہ مسئلہ کا حکم کيا ہے؟
ج:زمين کے مالکوں کا کالج تعمير کرنے کے لئے اپني رضايت سے زمين دينے کے فيصلے کے بعد زمين وزارت تعليم و تربيت کو دينا تاکہ مذکورہ وزارت سے زمين کي قيمت وصو ل کريں تو اس صورت ميں زمين پر انہيں کوئي حق نہيں ہے اور زمين غصبي نہيں کہلائے گي۔ ہاں انہيں وزارت تعليم و تربيت سے زمين کي قيمت کا مطالبہ کرنے کا حق ہے۔ بنابرايں مذکورہ عمارت ميں نماز پڑھنا اور ليکچر دينا صحيح ہے اور مذکورہ اعمال گذشتہ مالکوں کي رضا پر موقوف نہيں ہيں۔
 

بيع سلف


س٥٢٥:ميں نے ہاوسنگ سوسائٹي سے ايک رہائشي فليٹ بعنوان سلف خريدا اور کچھ رقم قسطوں پر ادا کرکے رسيد لے لي اور ابھي بھي کچھ رقم قرض ہے ليکن اس کے بعد ہاوسنگ سوسائٹي نے ميرا رہائشي گھر بينک کو فروخت کرديا اور يہ قرار پايا کہ ميں ان سے ايک اور گھر آج کي قيمت کے مطابق خريدوں جو کہ گذشتہ قيمت سے چار گنا زيادہ ہے۔ مذکورہ مسئلہ کا کيا حکم ہے؟
ج:سلف خريد وفروخت کے ذريعے قسطوں پر گھر خريدنا بنيادي طور پر باطل ہے۔ اس لئے کہ سلف معاملے ميں معاملہ کے وقت ہي نقداً قيمت ادا کرنا معاملہ کي صحت کے شرائط ميں شامل ہے۔ ہاں اگر بعنوان سلف معاملہ کے وقت نقداً تمام قيمت ادا کردي گئي ہو تو بيچنے والے پر واجب ہے کہ مذکورہ گھر کو خريدار کے حوالے کرے اور فروخت کرنے والا مذکورہ شئے کے علاوہ کسي اور شئے يا مال کے خريدار سے لے لينے کا مطالبہ نہيں کرسکتا او رنہ ہي اسے حق ہے کہ وہ فروخت شدہ شئے کے علاوہ کوئي اور چيز اسے دے اور نہ ہي خريدار کو متبادل شئے کو قبول کرنا چاہئيے اگرچہ وہ مذکورہ قيمت کے برابر ہو اور اگر زيادہ ہو تو بطريق اوليٰ قبول کرنے کا حقدار نہيں ہے۔
س٥٢٦:ميں نے ايک زير تعمير رہائشي گھر قسطوں پر خريدا اور اس کے مکمل ہونے اور اپنے قبضے ميں لينے سے پہلے سے اسے ايک اور شخص کو فروخت کرديا۔ آيا مذکورہ خريد و فروخت صحيح ہے؟
ج:اگر خريدار شدہ گھر ايک جزئي اور معين شدہ گھر تھا اور آپ نے اسے قسطوں پر ادھار خريدا تھا اور فروخت کرنے والے نے مذکورہ گھر کو تکميل کرنا تھا۔ تو اس صورت ميں تکميل سے پہلے اس کا فروخت کرنا اور خريدار کا مذکورہ گھر تکميل کرنے والے سے لے لينے ميں کوئي حرج نہيں ہے۔ ليکن اگر خريداري شدہ گھر کلي (غير معين) تھا اور آپ نے اس گھر کو سلف معاملہ کے ذريعے قسطوں پر خريدا تھا اور فروخت کرنے والے کو مذکورہ گھر تکميل کرکے مقررہ وقت پر آپ کي تحويل ميں دينا تھا تو مذکورہ معاملہ ابتدائ ہي سے باطل ہے۔ لہٰذہ مذکورہ گھر کو کسي دوسرے شخص کو فروخت کرنا بھي باطل ہے۔
س٥٢٧:ميں نے تہران کي بين الاقوامي کتابوں کي نمايش سے بعض کتابيں بعنوان سلف خريديں اور انہوں نے مجھ سے آدھي قيمت وصول کرلي ہے اور آدھي قيمت کتابيں وصول کرتے وقت ادا کي جائے گي اور کتابيں دينے کي مدت بھي معين نہيں ہے آيا مذکورہ معاملہ صحيح ہے۔
ج:اگر ادا شدہ قيمت بيعانہ کے عنوان سے دي گئي اور معاملہ کتابوں کے تحويل ديتے وقت اور باقيماندہ قيمت ادا کرتے وقت انجام ديا جائے تو صحيح ہے۔ ليکن اگر خريدو فروخت ابتدائ ميں کچھ مقدار قيمت ادا کرتے وقت انجام دي جائے اور ادھار قيمت ادا کرنے کے لئے بھي مقرر کيا گيا ، يا معاملہ بعنوان سلف انجام پايا اور قيمت بھي معاملے کے وقت نقد ادا نہ کي گئي ہو تو معاملہ باطل ہے۔
س٥٢٨: ايک شخص نے کچھ ساز و سامان اس شرط پر خريدا کہ مذکورہ ساز و سامان کچھ مدت کے بعد اس کي تحويل ميں دے ديا جائے گا اور اسي معينہ مدت کے بعد مذکورہ سامان کي قيمت کم ہوگئي آيا خريدار مذکورہ سامان کا ہي مستحق ہے۔ يا مذکورہ شئے کي قيمت لينا واجب ہے؟
ج:اگر معاملہ صحيح شرعي طور پر انجام ديا گيا ہو تو خريدار عين سامان کا مستحق ہے ہاں اگر اس کي ماليت بالکل ختم ہوجائے يہاں تک کہ سامان کا ضياع کہلائے تو معاملہ فسخ ہوجائے گا اور فروخت کرنے والے پر واجب ہے کہ خريدار کو ادا شدہ قيمت واپس کرے۔
 

سونے اور کرنسي کي خريدو فروخت


س٥٢٩:اگر سونے کي آج کے ريٹ کے مطابق بطور نقد ايک معين قيمت پر فروخت ہوتي ہے تو آيا اس کا آج کي قيمت سے زيادہ قيمت پر ادھار فروخت کرنا جبکہ دونوں خريدار و فروخت کرنے والا راضي ہوں جائز ہے؟ اور آيا اس معاملے سے حاصل شدہ منافع حلال ہے يا نہيں؟
ج:خريدو فروخت کے معاملے ميں قيمت کا تعين نقد ہو يا ادھار۔ دونوں خريدار اور فروخت کرنے والے کي صوابديد پر منحصر ہے۔ بنابرايں مذکورہ معاملہ اور اس معاملے ميں منافع لينا صحيح ہے۔ ہاں سونے کو سونے کے عوض فروخت کرنے ميں زيادہ لينا يا ادھار فروخت کرنا جائز نہيں ہے۔
س٥٣٠:سونے کا ڈھالنے کا عمل کا کيا حکم ہے؟ اور اگر اس کي خريد و فروخت کي جائے تو اس کي کيا شرط ہے؟
ج:سونا ڈھالنے کا عمل اور سونا فروخت کرنا صحيح ہے۔ ہاں اگر سونے کو سونے کے مقابلے ميں خريدو فروخت کيا جائے تو شرط يہ ہے کہ نقد ہو اور عوض اور معوض کي مقدار مساوي ہونا چاہئيے اور معاملے کے وقت ہي قبض اور اقباص کا انجام پانا ضروري ہے۔
س٥٣١:آيا کاغذي نوٹوں کو بطور ادھار زيادہ قيمت کے بدلے فروخت کيا جاسکتاہے؟
ج:اگر مذکورہ معاملہ سنجيدگي اور عقلائي غرض کے ساتھ انجام پائے مثلاً نوٹ نئے اور پرانے ہونے کے لحاظ سے مختلف ہوں يا مخصوص علامتوں کے حامل ہوں يا ان کي قيمت ايک دوسرے سے مختلف ہو تو صحيح ہے ليکن اگر معاملہ بناوٹي اور رہا سے فرار کے لئے ہو اور حقيقت ميں فائدے تک رسائي چاہتا ہو تو شرعاً حرام اور باطل ہے۔
س٥٣٢:بعض افراد ٹيليفون کے لئے استعمال ہونے والے سکے زيادہ قيمت پر فروخت کرتے ہيں، مثلاً پچاس روپے کا نوٹ لے کر 35روپے کے سکے ديتے ہيں۔ مذکورہ طريقے سے پيسہ خريد و فروخت کرنے کا کيا حکم ہے؟
ج:دھات کے بنے ہوئے نقدي کے سکے زيادہ قيمت پر فروخت کرنا تاکہ ان سے ٹيلي فون وغيرہ کے استعمال ميں استفادہ کيا جاسکے جائز ہے۔
س٥٣٣ :اگر کوئي شخص قديم کرنسي کو مروجہ کرنسي کي قيمت کے عوض خريد يا فروخت کرے اور اس بات سے غافل ہو کہ قديم کرنسي کي قيمت جديد کرنسي کي نصف قيمت ہے اور پھر اس کے خريدار نے مذکورہ قديم کرنسي کو جديد کرنسي کي قيمت پر کسي اور شخص کو فروخت کرديا تو اس صورت ميں آيا غبن کرنے والے کا مغبون ہونے والے کو غبن کے بارے ميں اطلاع دينا جائز ضروري ہے اور کيا مذکورہ غبني خريد و فروخت جائز ہے اور کيا مذکورہ معاملے سے حاصل شدہ مال ميں تصرف کرنا جائز ہے؟ يا مذکورہ مال مجہول المالک کے حکم ميں ہے يا حلال مال کے حرام مال سے مخلوط ہوجانے کا حکم کا حامل ہے؟
ج:خريدار اور فروخت کرنے والے کے اتفاق کرنے پر قديم کرنسي کو جديد کرنسي کے عوض اگرچہ بہت کم قيمت پر خريداجائے جائز ہے اور خريد و فروخت صحيح ہے اور اگر فروخت شدہ شئے کي بازار ميں قيمت ہو اگرچہ وہ جديد کرنسي سے بہت کم ہو اور معاملہ غبني ہو تب بي معاملہ صحيح ہے اور غبن کرنے والے کا مغبون کو غبن کي اطلاع دينا بھي ضروري نہيں ہے اور مذکورہ غبني معاملے سے حاصل شدہ مال بھي غبن کرنے والے کي دوسرے اموال کي طرح ملکيت ہے اور جب تک مغبون معاملے کو فسخ نہيں کرتا اس کا مذکورہ مال ميں تصرف کرنا جائز ہے۔
س٥٣٤:بعض کاغذي نوٹوں کو اس عنوان سے خريد و فروخت نہيں کيا جاتا کہ وہ ماليت کے حامل ہيں يا ماليت کا نشان ہيں بلکہ اس لئے خريدو فروخت کيا جاتا ہے کہ وہ خاص قسم کے کاغذي نوٹ ہيں۔ مثلاً سبز رنگ کے ايک ہزار تومان کے نوٹ کو جس پر امام خميني قدس سرہ کي تصوير بني ہوئي ہے زيادہ قيمت پر فروخت کرنے کا کيا حکم ہے؟
ج:اگر مذکورہ نوٹوں کو حقيقي اور عقلائي غرض کے مطابق خريد و فروخت کيا جائے تو کوئي حرج نہيں ہے اور اگر ظاہري طور پر معاملہ ادھار ہوتا کہ قرضي سود سے فرار کيا جائے تو يہ معاملہ باطل اور حرام ہے۔
س٥٣٥ :کرنسي تبديل کرنے کے کام کا کيا حکم ہے؟ اور نادر کرنسي کي خريد و فروخت کا کيا حکم ہے؟
ج:مذکورہ عمل انجام دينا بذات خود جائز ہے۔
س٥٣٦ :حکومت کي طرف سے جاري شدہ قرضي ٹکٹ خريدنے کا کيا حکم ہے؟ اور آيا مذکورہ ٹکٹ شرعاً خريدنا اور فروخت کرنا جائز ہے يا نہيں؟
ج:اگر مذکورہ عوامي ٹکٹ چھاپنے اور فروخت کرنے سے حکومت کا عوام سے قرض لينا مقصود ہو تو عوام کا ٹکٹ خريد کر حکومت کو قرض دينا صحيح ہے اور اگر خريدا ر ٹکٹ فروخت کرکے اپنا مال واپس لينا چاہئيے تو کسي دوسرے شخص يا حکومت کو اسي قيمت پر يا حکومت کو کم قيمت پر بھي فروخت کرے تو اپني ادا کردہ قيمت واپس لينے ميں کوئي حرج نہيں ہے۔

 

استفتاآت (٢)
حرام معاملات
طبّي مسائل
تعلیم و تعلم اور فن کاري کے حقوق
میڈ یکل
طبا عت ،تالیف اور فن کاري کے حقوق
غیر مسلمین کے سا تھ تعلقات
ظالم حکومت ميں کام کرنا
لباس کے احکام
مغربي ثقا فت کي پیروي
ہجرت کرنا اور سیا سي پناہ لینا
جاسوسي،چلغوري اور اسرارکا فاش
سگریٹ نوشي اور نشہ آور اشیائ
داڑھي اور مونچھ
محفل گناہ ميں حاضر ہونا
تعویذ اور استخارہ
دیني رسومات کا احیائ
ذخیرہ اندوزي اور اسراف
تجارت کے احکام
احکام خیارات
تجارت کے مختلف مسائل
سود کے احکام
حق شفاعت