جاسوسي ، چغلخوري اور اسرار کا فاش کرنا


س٣٠٦: ہميں مکتوب طور پر ايک شخص کي طرف سے حکومت کا مال غبن کرنے کي اطلاعات موصول ہوئي ہيں تحقيقات کے بعد بعض جرائم کا صحيح ہونا ثابت ہوگيا ليکن جب اس شخص سے تحقيقات کي گئيں تو اس نے جرائم سے انکار کرديا آيا ہمارے لئے ان معلومات کو کورٹ ميں پيش کرنا جائز ہے؟ کيونکہ مذکورہ عمل اس کي عزت کو ختم کردے گا؟ اور برفرض کہ مذکورہ معلومات کو کورٹ ميں پيش کرنا صحيح نہ ہو تو ايسے افراد کي کيا ذمہ داري ہے جو اس مسئلے سے مطلع ہيں؟
ج:بيت المال اور حکومت کے اموال کي حفاظت کرنے والے افسر کو جب اطلاع ہوجائے کہ کسي نے حکومتي مال و دولت کا غبن کيا ہے تو اس شخص کي شرعي اور قانوني طور پر ذمہ داري ہے کہ اس کيس کو متعلقہ ادارے کے سامنے پيش کرے تاکہ حق ثابت ہوسکے اور مجرم کي آبرو کا خوف شرعي طور پر بيت المال کي حفاظت اور اثبات حق سے باز رکھنے کا جواز نہيں ہے مطلع افراد کو چاہئيے کہ اپني معلومات متعلقہ حکام تک پہنچائيں تاکہ وہ تحقيق جرم ثابت ہونے پر مناسب اقدام کريں۔
س٣٠٧: اخباروں اور ديگر مطبوعات ميں آئے دن چوروں، دھوکا بازوں ، اداروں کے اندر رشوت خور گروہوں، بے حيائي کا مظاہرہ کرنے والوں کي گرفتاري نيز فساد کے مراکز اور نائٹ کلبوں کي خبريں چھپتي رہتي ہيں کيا اس قسم کي خبريں چھاپنا اور منتشر کرنا ترويج فحشائ کے زمرے ميں شمار ہوتا ہے؟
ج:صرف واقعات اور حوادث اخبار ميں نشر کرنا اشاعت فحشا نہيں ہے۔
س٣٠٨:کسي تعليمي ادارہ کے طالب علموں کو آيا اس بات کي اجازت ہے کہ جن منکرات اور برائيوں کا مشاہدہ وہ تعليمي ادارے ميں کرتے ہيں انہيں تربيتي امور کے ذمہ دار افراد تک پہنچائيں تاکہ ان کي روک تھام کي جاسکے؟
ج:اگر جاسوسي اور غيبت نہ کہلائے اور مذکورہ مفاسد مشاہدہ پر مبني ہوں تو اطلاع دينے ميں کوئي حرج نہيں ہے بلکہ بعض اوقات واجب ہے جبکہ نہي از منکر کے مقدمات ميں سے قرار پائے۔
س٣٠٩:آيا بعض دفاتر کے افسروں کي خيانت اور ظلم کو لوگوں کے سامنے بيان کرنا جائز ہے؟
ج:مذکورہ مطلب کي صحت پر يقين کرنے کے بعد متعلقہ ادارے کے سامنے اظہار کرنے ميں کوئي حرج نہيں تاکہ اس کے بارے ميں تحقيق کے بعد اقدام کيا جائے بلکہ بعض اوقات واجب ہے اگر نہي از منکر کے مقدمات ميں سے شمار کيا جائے۔ ہاں لوگوں کے سامنے اظہار کرنے کي کوئي وجہ نہيں ہے بلکہ اگر حکومت اسلامي کو ضعيف کرنے کا سبب بنے اور فتنہ کا باعث ہو تو حرام ہے۔
س٣١٠:آيا مومنين کي جاسوسي اور ان کے بارے ميں ظالم حکومت کو اطلاعات فراہم کرنا جائز ہے؟ بالخصوص اگر ان کے لئے ضرر اور تکليف کا پيش خيمہ ثابت ہو؟
ج:مذکورہ عمل شرعاً حرام ہے اور ظالم کے سامنے مومنين کي چغلخوري اگر نقصان کا سبب بنے تو خبر دينے والا اس نقصان کا ضامن ہوگا۔
س٣١١:کيا مومنين کے ذاتي و غير ذاتي امور ميں بالمعروف اور نہي از منکر کے بہانے سے جاسوسي کرنا جائز ہے؟ جبکہ ان سے منکر کا انجام دينا اور معروف کا ترک کرنا مشہور ہو؟ اور ايسے لوگوں کا کيا حکم ہے جو لوگوں کے برے اعمال کي جاسوسي ميں لگے رہتے ہيں جبکہ يہ کام ان کي ذمہ داري نہيں ہے؟
ج:اداروں ميں مشغول ملازمين سے متعلق امور کي قانوني تحقيق و تفتيش سرکاري مامورين کے لئے قوانين اور ضوابط کي حدود ميں رہتے ہوئے جائز ہے ليکن حدود و ضوابط کے علاوہ ان کے ذاتي اسرار کا پتا لگانا ، تفتيش پر مقرر افراد کے لئے بھي جائز نہيں چہ جائيکہ دوسروں کے لئے جائز ہو۔
س٣١٢:کيا لوگوں کے سامنے اپنے ذاتي اسرار اور ذاتي پوشيدہ امور کو بيان کرنا جائز ہے؟
ج:دوسروں کے سامنے اپنے ان ذاتي اور خصوصي امور کو بيان کرنا جائز نہيں ہے جو دوسروں سے بھي مربوط ہوں يا ان کے بيان کرنے سے کسي فساد کا خطرہ ہو۔
س٣١٣:نفسياتي ماہرين علاج عام طور پر مريض کے ذاتي اور خانداني امور کے بارے ميں سوال کرتے ہيں تاکہ اس کے مرض کا سبب تلاش کريں اور اس کا علاج کيا جاسکے ، آيا بيمار کے لئے جواب دينا جائز ہے؟
ج:اگر کسي تيسرے شخص کي غيبت يا اہانت نہ ہو اور کوئي مفسدہ بھي مترتب نہ ہوتا ہو تو جائز ہے۔
س٣١٤:سيکيورٹي کے بعض افراد کا خيال ہے کہ بعض مراکز اور پارٹيوں ميں داخل ہونا چاہئيے تاکہ فحشائ اور دہشت گردي کے مقامات کي نشاندہي ہوسکے۔ جيسا کہ تحقيق اور تجسس کا طريقہ ہے۔ مذکورہ عمل کا شرعاً کيا حکم ہے؟
ج:متعلقہ افسر کي اجازت سے قانوني ضوابط کو مدنظر رکھتے ہوئے۔ معصيت اور فعل حرام سے محفوظ رہ کر مذکورہ عمل انجام دينا بلا مانع ہے اور افسروں پر بھي لازم ہے کہ ايسے افراد پر کڑي نگاہ رکھيں جنہيں مذکورہ مراکز اور پارٹيوں ميں داخل ہونے کے لئے انتخاب کيا جاتا ہے اور اچھي طرح ان کے کام کي نظارت کريں۔
س٣١٥:بعض لوگ اسلامي جمہوريہ ميں ہونے والے بعض منفي ظواہر کے بارے ميں گفتگو کرتے ہيں ، خداوند عالم اسلامي جمہوريہ کو دشمنوں سے محفوظ رکھے ۔ مذکورہ حکايت اور گفتگو کے سننے کا کيا حکم ہے؟
ج:کسي بھي ايسے کام کو انجام دينا جو کہ اسلامي جمہوريہ کے چہرے کو جو کہ کفر اور عالمي استکبار سے برسرپيکار ہے مسخ کرے اسلام اور مسلمين کے سود ميں نہيں ہے بلکہ اعدائ اسلام ( خدا ان کو رسوا کرے) کے حق ميں ہے لہٰذہ بلاشک اب ايسا عمل حرام ہے۔ لہٰذہ ايسے شخص کي مذکورہ امر ميں مدد کرنا اور اس کي بات سننا جائز نہيں ہے۔
 

استفتاآت (٢)
حرام معاملات
طبّي مسائل
تعلیم و تعلم اور فن کاري کے حقوق
میڈ یکل
طبا عت ،تالیف اور فن کاري کے حقوق
غیر مسلمین کے سا تھ تعلقات
ظالم حکومت ميں کام کرنا
لباس کے احکام
مغربي ثقا فت کي پیروي
ہجرت کرنا اور سیا سي پناہ لینا
جاسوسي،چلغوري اور اسرارکا فاش
سگریٹ نوشي اور نشہ آور اشیائ
داڑھي اور مونچھ
محفل گناہ ميں حاضر ہونا
تعویذ اور استخارہ
دیني رسومات کا احیائ
ذخیرہ اندوزي اور اسراف
تجارت کے احکام
احکام خیارات
تجارت کے مختلف مسائل
سود کے احکام
حق شفاعت