|
ہجرت کرنا
اور سياسي پناہ لينا
س٣٠٢:دوسرے ملکوں ميں سياسي پناہ لينے کا کيا حکم ہے؟ آياسياسي پناہ کے
لئے جھوٹا قصہ گھڑنا جائز ہے؟
ج:غير اسلامي حکومت ميںسياسي پناہ لينے ميں بذات خود کوئي حرج نہيں مگر
يہ کہ مفسدہ کا باعث ہو۔ ليکن جھوٹ اور جعلي قصوں سے کام لے کر سياسي
پناہ حاصل کرنا جائز نہيں ہے۔
س٣٠٣:آيا مسلمان کے لئے غير اسلامي ملک کي طرف ہجرت کرنا جائز ہے؟
ج:اگر اس کے بے دين ہونے کا خوف نہ ہو تو کوئي حرج نہيں ہے اور ہاں
اپنے دين و مذہب کي حفاظت کے ساتھ اس پر اسلام اور مسلمين کا دفاع کرنا
واجب ہے اور بقدر امکان دين اور دين کے احکام کي ترويج کرنا واجب ہے۔
س٣٠٤:وآيا ايسي خواتين کا جو دار الکفر ميںايمان لائي ہوں او رمعاشرتي
اور خانداني وجوہات کي بنا پر اسلام کے اظہار سے قاصر ہوں ان پر
دارالاسلام کي طرف ہجرت کرنا ضروري ہے؟
ج:اگر اسلامي ممالک کي جانب ہجرت کرنے ميں ان کے لئے کوئي حرج ہو تو
واجب نہيں ہے ليکن حتيٰ المقدر نماز ، روزہ اور ديگر واجبات کي پابندي
کي جائے۔
س٣٠٥:ايسے ملک ميں رہنے کا کيا حکم ہے جہاں گناہ کے اسباب کثرت سے پائے
جاتے ہوں مثلاً بے پردگي ، فحش موسيقي کے کيسٹ کا سننا وغيرہ ؟ اور
ايسے شخص کے لئے کيا حکم ہے جو ابھي شرعاً بالغ ہوا ہو؟
ج:ايسے ممالک ميں جہاں گناہ کے اسباب مہيا ہيں وہاں رہنا بذات خود جائز
ہے خصوصاً اگر وہاں رہنے کے لئے مجبور ہو ليکن اس پر شرعاً حرام امور
سے اجتناب کرنا واجب ہے اور اسي طرح واجبات شرعيہ کو انجام دينے اور
محرمات شرعيہ کو ترک کرنے ميں بالغ اور دوسرے مکلفين ميں کوئي فرق نہيں
ہے۔
|