|
حرام معاملات
نجس اشيائ کا کاروبار
س١۔ کيا جنگلي سوروں کي خريد و فروخت جائز ہے جنہيں شکار کا محکمہ يا
علاقے کے کسان اپنے کھيتوں کو محفوظ رکھنے کے لئے شکار کرتے ہيں تاکہ
ان کا گوشت پيک کرکے غير اسلامي ممالک ميں برآمد کرديا جائے؟
ج۔ انساني خوراک کي غرض سے سور کي خريد و فروخت جائز نہيں ہے اگرچہ غير
مسلم کے لئے ہي کيوں نہ ہو۔ البتہ اگر جانوروں کي خوراک يا اس کي چربي
سے صابن بنانے جيسے عقلائي اور قابل اعتنائي حلال فوائد حاصل کئے جائيں
تو اسکي خريد و فروخت بلا مانع ہے۔
س٢۔ کيا سور کے گوشت کو پيک کرنے والے کارخانے ، نائٹ کلب اور بدکاري
کے مراکز ميں کام کرنا جائز ہے؟ اور اس کام سے حاصل آمدني کا کيا حکم
ہے؟
ج۔ حرام امور ميں نوکري کرنا شرعاً جائز نہيں۔ جيسے سور کا گوشت بيچنا
، شراب بيچنا يا نائٹ کلب ، فساد و بدکاري کے اڈے ، جواخانے اور شراب
خانے جيسے مراکز بنانا اور چلانا حرام ہے ايسے مراکز سے حاصلہ درآمد
حرام ہے ان کاموں کے بدلے ملنے والي اجرت کا انسان مالک نہيں ہوتا۔
س٣۔ کيا سور کا گوشت، شراب ، يا کھانے کي کوئي بھي حرام چيز کا ايسے
افراد کو فروخت کرنا يا تحفہ دينا جائز ہے جو ا س چيز کو حلال سمجھتے
ہوں؟
ج۔ اشيائ خوردونوش جو حلال نہيں ہيں کھانے پينے کي غرض سے ان کي خريدو
فروخت اور انہيں تحفے ميں دينا جائز نہيں ہے۔ يا انسان کو علم ہو کہ
خريدار ان اشيائ کو کھانے پينے کے لئے لينا چاہتا ہے تب بھي ان کي
خريدو فروخت جائز نہيں اگرچہ وہ انہيں حلال ہي کيوں نہ سمجھتا ہو۔
س٤۔ ہمارا ايک يوٹيليٹي اسٹور ہے جس ميں کھانے پينے اور استعمال کي
ديگر اشيائ فروخت ہوتي ہيں ان اشيائ ميں سے بعض چيزيں مردار يا حرام
اشيائ سے بني ہوتي ہيں اس اسٹور سے حاصل شدہ آمدني کا کيا حکم ہے۔ جسے
سال کے اختتام پر شراکت داروں ميں تقسيم کيا جاتا ہے؟
ج۔ ايسي اشيائ جن کا کھانا پينا حرام ہے ان کي خريدو فروخت حرام اور
باطل ہے اسي طرح اس سے حاصلہ درآمد بھي حرام ہے اس رقم کو شراکت داروں
پر تقسيم کرنا جائز نہيں ہے اگر اسٹور کي رقم مذکورہ رقم سے مخلوط تو
اسکا حکم ايسے مال جيسا ہے جو حرام ميں مخلوط ہوگيا ہو جوس کي مختلف
اقسام ہيں جو رسالہ توضيح المسائل ميں درج ہيں۔
س٥۔ اگر کوئي مسلمان ايک غير اسلامي ملک ميں ہوٹل کھولے جس ميں بعض
حرام کھانے اور شراب کو فروخت کرنے پر مجبور ہو کيوں کہ اگر وہ ان
اشيائ کو فروخت نہيں کرے تو کوئي خريدار اس کے پاس نہيں آئے گا کيونکہ
وہاں کے اکثر لوگ عيسائي ہيں جو شراب کے بغير کھانا نہيں کھاتے اور
ايسے ہوٹل ميں نہيں جاتے جہاں ان کو شراب پيش نہ کي جائے تو اب اس بات
کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ مذکورہ تاجر ان حرام اشيائ سے حاصلہ آمدني کو
شرعي حاکم تک پہنچانے کا ارادہ رکھتا ہے تو کيا ايسا کرنا جائز ہے؟
ج۔ غير اسلامي ممالک ميں ہوٹل اور ريسٹورينٹ کھالنا جائز ہے ليکن حرام
غذا اور شراب اور حرام غذا کي قيمت لينا جائز نہيں ہے اگرچہ حاکم شرع
کو دينے کي نيت رکھتا ہو۔
س٦۔ وہ سمندري حيوانات جن کا کھانا حرام ہے اگر پاني سے زندہ نکالے
جائيں تو کيا وہ مردار کا حکم رکھتے ہيں ؟ اور ان کا خريدنا اور بيچنا
حرام ہے ؟ کيا ان کا انسان کي غذا کے مقصد کے علاوہ فروخت کرنا جائز
ہے؟ (مثلاً صنعت، پرندوں اور حيوانات کي غذا کے طور پر استعمال کيا
جائے)؟
ج۔ اگر وہ مچھلي کي اقسام ميں سے ہو اور پاني سے زندہ نکالنے کے بعد
پاني کے باہر مرجائے تو مردار کے حکم ميں نہيں ہے بہرحال وہ چيزيں جن
کا کھانا حرام ہے انہيں کھانے کے لئے فروخت کرنا جائز نہيں ہے۔ اگرچہ
خريدار اسے حلال سمجھتا ہو۔ ہاں اگر کھانے کے علاوہ عقلائ کے نزديک اس
کے ديگر حلال فوائد ہوں جيسے طبي اور صنعتي فوائد يا حيوانات اور
پرندوں کي غذا فراہم کرنا وغيرہ ہوں تو ان کا بيچنا اور خريدنا جائز
ہے۔
س٧۔ کيا ايسي غذاوں کي نقل و حمل جائز ہے جس ميں غير شرعي طور پر ذبح
کيا گيا ہو گوشت بھي شامل ہو؟ اور کيا مذکورہ غذائيں پہنچانے کے حکم
ميں اسے حلال سمجھنے والوں اور دوسروں ميں فرق ہے يا نہيں؟
ج۔ غير شرعي طو رپر ذبح شدہ گوشت کو نقل و حمل کرنا اگر کھانے کے لئے
ہو تو جائز نہيں، اور ايسے گوشت کے کھانے کو جائز سمجھنے اور نہ سمجھنے
والے ميں کوئي فرق نہيں ہے۔
س٨۔ کيا ايسے شخص کو خون فروخت کرنا جائز ہے جو اس سے فائدہ اٹھانے؟
ج۔ اگر جائز و عقلائي غرض کے لئے ہو تو صحيح ہے۔
س٩۔ کيا مسلمان کے لئے جائز ہے کہ حرام اشيائ کو يعني ايسي غذا جو سور
کے گوشت يا مردار پر مشتمل ہو يا کافر ملکوں ميں الکحولک مشروبات کو
غير مسلمين کو فروخت کرے؟ اور مندرجہ ذيل صورتوں ميں اس کا کيا حکم ہے؟
الف: اگر مسلمان ان غذاوں اور الکحل مشروبات کا نہ تو مالک ہو اور نہ
ہي کوئي اجرت اس فروخت کے عوض اسے حاصل ہو بلکہ اس کا کام مذکورہ اشيائ
کو حلال چيزوں کے ساتھ کاہک کے سامنے پيش کرنا ہے؟
ب: اگر غير مسلم کے ساتھ شريک ہو اور مسلمان حلال کا مالک اور غير مسلم
حرام غذاوں اور لکحلک مشروبات کا مالک ہو اور دونوں ميں سے ہر ايک اپنے
مال سے منافع حاصل کريں؟
ج۔ اگر ايسي جگہ کام کرتا ہے جہاں حرام غذا اور الکحلک مشروبات فروخت
کئے جاتے ہيں اور وہ مقرر اجرت ليتا ہو، اب چاہے وہ دوکان مسلمان کي ہو
يا غير مسلمان کي؟
د: اگر ايک مسلمان حرام غذائيں يا الکحلي مشروبات بيچنے کي جگہ پر
ملازم شريک کے طو رپر کام کرتا ہو ليکن بلا واسطہ طور پر ان اشيائ کي
خريدو فروخت سے اسکا کوئي تعلق نہ و اور نہ ہي يہ اشيائ اس کي ملکيت
ہوں بلکہ اس کا کام غذاوں کا فراہم کرنا اور اسے فروخت کرنا ہے۔ اس
صورت ميں اس کے کام کا کيا حکم ہے؟ جبکہ وہ جانتا ہے کہ مشروبات کے
خريدار اسي مقام پر مشروبات نوش نہيں کرتے؟
ج۔ نشہ آور الکحلي مشروبات اور حرام غذاوں کا پيش کرنا اور بيچنا ، اس
دوکان ميں کام کرنا، ان کے بنانے ، خريدنے اور بيچنے ميں شريک ہونا اور
مذکورہ امور انجام دينے ميں دوسروں کي اطاعت کرنا شرعاً حرام ہے۔ ايسا
شخص چاہے روزانہ کے ملازم کے طور پر ہو يا سرمائے ميں شريک ہو۔ اور
خواہ فقط الکحلي نشہ آور مشروبات اور حرام غذائيں پيش کي جاتي اور
بيچتي جاتي ہوں يا انہيں حلال غذاوں کے ساتھ بيچا جاتا ہو اور چاہے
انسان اجرت اور منفعت کے لئے يا مفت و بلا معاوضہ کام کرتا ہو اور اس
لحاظ سے بھي کوئي فرق نہيں کہ اس کام کا مالک يا شريک مسلمان ہو يا غير
مسلمان نيز يہ چيزيں مسلمان تک پہنچائي جائيں يا غير مسلمان تک، ہر
مسلمان پر واجب ہے کہ وہ حرام غذاوں کو کھانے کي غرض سے بنانے، خريدنے
اور بيچنے سے مکمل طور پر اجتناب کرے ايسے ہي نشہ آور الکحل مشروبات کے
بنانے، خريدنے اور بيچنے سے اجتناب واجب ہے نيز مذکورہ طريقوں سے مال
کمانے سے پرہيز کرنا واجب ہے۔
س١٠۔ کيا شراب کو لانے ، لے جانے والي گاڑيوں کي مرمت سے کسب معاش کرنا
جائز ہے؟
ج۔ اگر گاڑياں شراب کي حمل و نقل ( لانے ، لے جانے) کے لئے مخصوص ہوں
تو ان کي مرمت کرنا صحيح نہيں ہے۔
س١١۔ ايک ايسي تجارتي کمپني جس کي غذائي اشيائ فروخت کرنے کي متعدد
برانچيں ہيں ليکن ان اشيائ خودونوش ميں سے بعض اشيائ شرعاً حرام ہيں (
مثلاً غير شرعي طريقہ سے ذبح شدہ گوشت جو کہ بيرون ملک سے آيا ہو) اس
کے معني يہ ہيں کہ اس کمپني کے مال ميں مال حرام بھي شام ہے کيا اس
کمپني کي دونوں اشيائ بکتي ہيں اور اگر جائز فرض کرليں تو کيا ادا شدہ
رقم سے باقي پيسے لينا جائز ہيں؟ اور کيا اس باقي واپس کي گئي رقم کے
لئے حاکم شرعي سے اجازت کي ضرورت ہے؟ اس لئے کہ يہ مال اب نامعلوم مالک
کي ملکيت کا حکم رکھتا ہے اور اگر اجازت لينا ضروري ہو تو کيا آپ ايسے
شخص کو اس کي اجازت ديتے ہيں جو اپني ضرورت کي اشيائ مذکورہ مقامات سے
خريدتا ہو؟
ج۔ کمپني کے مال ميں اجمالي طور پر مال حرام کا علم ہونا اس بات کا سبب
نہيں بنتا کہ وہاں سے ضرورت کي اشيائ نہ خريدي جائيں جب تک کہ کمپني کے
تمام اموال خريدار کے لئے مورد ابتلائ نہ ہوں (١) لہذا ہر انسان کے لئے
ايسي کمپني سے ضرورت کي اشيائ خريدنے اور اسي طرح باقي ماندہ پيسے لينے
ميں کوئي حرج نہيں ہے جب تک کہ کمپني کے تمام اموال خريدار کے لئے محل
ابتلائ نہ ہوں اور جب تک اسے اس بات کا علم نہ ہو کہ بعينہ کمپني سے
خريدي گئي غذائ و سامان ميں حرام مال موجود ہے۔ اور ايسي صورت ميں باقي
ملنے والي رقم اور خريدے گئے سامان ميں تصرف کے لئے حاکم شرع کي اجازت
کي ضرورت نہيں۔
کسب معاش کے متفرق مسائل
س١٣۔ وہ شخص جو کام کرنے پر قادر ہو کيا اس کے لئے دوسروں سے بھيک مانگ
کر زندگي گزارنا صحيح ہے؟
ج۔ صحيح نہيں ہے۔
س١٤۔ آيا خواتين کے لئے سونے کي مارکيٹ ميں جواہر بيچ کر کسب معاش کرنا
جائز ہے؟
ج۔ حدود شرعيہ کي مراعات کرتے ہو بلا مانع ہے۔
س١٥۔ کيا گھروں کي آرائش کرنے ( ڈيکوريشن) کا کام اگر اسے حرام کاموں
کے لئے استعمال کيا جائے صحيح ہے۔ خاص طور پر اگر بعض کمروں کو بت
پرستي کے لئے استعمال کيا جائے ؟ اور کيا ايسے بڑے ہال تعمير کرنا صحيح
ہے جنہيں احتمالاً رقص وغيرہ جيسے ناجائز کاموں ميں استعمال کيا جائے
گا؟
ج۔ اگر حرام کاموں ميں استعمال کے لئے نہ ہو تو گھروں کي آرائش کرنے کے
کام ميں کوئي حرج نہيں ہے۔ ليکن بت پرستي والے کمرے کو سجانا، اسے مرتب
کرنا اور بت کے رکھنے کي جگہ معين کرنا شرعاً صحيح نہيں ہے اور محض
حرام کاموں ميں استعمال کے احتمال کے بنائ پر ۔ بڑے ہال کي تعمير ميں
کوئي حرج نہيں ہاں اگر ہال کي تعمير کا مقصد ہي حرام کاموں کے لئے ہو
تو جائز نہيں ہے۔
س١٦۔ کيا ايسي عمارت تعمير کرنا جائز ہے جہاں قيد خانہ اور پوليس
اسٹيشن بھي تعمير ميں شامل ہو اور اس عمارت کو ظالم حکومت کو دے ديا
جائے؟ کيا ايسي عمارت کے تعميراتي کاموں ميں شموليت جائز ہے؟
ج۔ مذکورہ خصوصيات کے ساتھ عمارت تعمير کرنے ميں کوئي حرج نہيں اگر اسے
ظالم عدالتوں کے لئے نہ بنايا گيا ہو اور نہ ہي اسے لوگوں کو قيد کرنے
کے لئے تعمير کيا گيا ہو اور بنانے والے کي نظر ميں بھي عام طور پر اسے
ان کاموں ميں استعمال نہ کيا جاتا ہو ، اس صورت ميں اس کي تعمير کرنے
پر اجرت لينا جائز ہے۔
س١٧۔ ميرا روزگار تماشا بين لوگوں کے سامنے(Bull
fighting)
بيل کے ساتھ لڑنا ہے۔ لوگ مجھے تماشا دکھانے کے بدلے ہديہ کے عنوان سے
کچھ پيسے ديتے ہيں کيا يہ کام بذات خود جائز ہے يا نہيں؟ اور کيا حاصل
شدہ رقم حلال ہے يا نہيں؟
ج۔ مذکورہ عمل شرعاً مذموم ہے ليکن اگر تماشا ديکھنے والے اپني مرضي
اور اختيار سے بطور ہديہ پيسہ ديں اور ان پر اس کي شرط نہ رکھي گئي ہو
تو اس صورت ميں پيسہ لينا جائز ہے البتہ شرط رکھ کر پيسہ لينا جائز
نہيں ہے۔
س١٨۔ بعض لوگ فوج کا مخصوص ( لباس فوجي وردياں) فروخت کرتے ہيں کيا
مذکورہ لباس ان سے خريدنا اور پہننا جائز ہے؟
ج۔ اگر ا س بات کا احتمال ہو کہ انہوں نے يہ وردياں جائز طريقہ سے حاصل
کي ہيں يا ان کے فروخت کرنے کي اجازت رکھتے ہوں تو اس صورت ميں لباس
خريدنے اور غير قانوني مواقع کے علاوہ پہننے ميں کوئي حرج نہيں۔
س١٩۔ پٹاخے وغيرہ کے بنانے، خريدنے، فروخت کرنے اور استعمال کرنے کا
کيا حکم ہے؟ چاہے وہ باعث تکليف ہوں يا نہ ہوں۔
ج۔ اگر دوسروں کے لئے باعث اذيت ہو ں يا مال ضياع شمار ہوتا ہو يا
مملکت کے قوانين کي خلاف ورزي ہوتي ہو تو جائز نہيں ہے۔
س٢٠۔ حکومت اسلامي ميں پوليس، ٹريفک پوليس، کسٹمز اور ٹيکس لگانے والے
اداروں ميں کام کرنے کا حکم کيا ہے؟ کيا وہ چيز جو روايات ميں آئي ہے
کہ مخبر اور مامور ماليات کي دعا قبول نہيں ہوتي ان لوگوں پر بھي صادق
آتي ہے؟
ج۔ ان کا کام ذاتي طور پر صحيح ہے اگر قانون کے مطابق ہو اور روايات
ميں جو (غريف و عشار) کا ذکر آيا ہے تو اس سے مراد بظاہر ظالم حکومتوں
کي مخبري اور مالي ماموريت انجام دينے والے لوگ ہيں۔
س٢١۔ بعض خواتين بيوٹي پارلر ميں کام کرکے کسب معاش کرتي ہيں کيا يہ
کام اسلامي معاشرہ ميں بے حيائي کي ترويج نہيں ہے اور کيا اسلامي
معاشرے کي عفت و حيائ کو اس سے خطرہ نہيں ہے؟
ج۔ بيوٹي پارلر کا کام بذات خود صحيح ہے۔ اور اجرت لينے ميں بھي کوئي
حرج نہيں ہے اگر يہ بناو سنگھار نامحرم کو دکھانے کے لئے نہ ہو۔
س٢٢۔ کيا کسي کمپني يا شخص کے لئے مالک اور مزدور کے مابين واسطہ بننا
اور ان کے مابين معاملہ طے کروانے کے بدلے دونوں سے يا ايک سے اجرت
لينا صحيح ہے؟
ج۔ مباح اعمال ، کے عوض، اجرت لينے ميں کوئي حرج نہيں ہے۔
س٢٣۔ کيا دلالي کے عوض، اجرت لينا صحيح ہے؟
ج۔ ايسے مباح عمل کے بدلے اجرت لينے ميں کوئي حرج نہيں جسے کسي کے کہنے
پر انجام ديا جائے۔
واجب اعمال پر اجرت لينا
س٢٤۔ وہ اساتذہ جو کہ ( کالج و يونيورسٹي کے) شعبہ اسلاميات ميں اصول و
فقہ پڑھاتے ہيں ان کي تنخواہ کا کيا حکم ہے؟
ج۔ جن امور کي تعليم واجبات کفائيہ ميںسے ہے ا ن کي تعليم و تدريس کا
وجوب (کالج اور يونيورسٹي ميں فقہ اور اصول کي تدريس کے بدلے) تنخواہ
لينے ميں مانع نہيں ہے خاص کر جب تنخواہ کالج اور يونيورسٹي ميں حاضر
اور کلاس سنبھالنے پر لي جائے۔
س٢٥۔ مسائل شرعيہ کي تعليم دينے کا کيا حکم ہے؟ کيا علمائ دين کا مسائل
شرعيہ کي تعليم کے عوض اجرت لينا صحيح ہے؟
ج۔ مسائل حرام و حلال کا تعليم دينا اگرچہ بذات خود في الجملہ واجب ہے
اور اس کے عوض اجرت لينا جائز نہيں ہے ليکن اس کے باوجود ايسے مقدمات
کے عوض جن پر تعليم دينا متوقف نہيں ہے اور انسان پر شرعاً مقدمات واجب
نہيں ہيں مثلاً مخصوص مقام پر حاضر ہونا وغيرہ کے عوض اجرت لينے ميں
کوئي حرج نہيں ہے۔
س٣٦۔ کيا حکومت کے مراکز اور اداروں ميں نماز پڑھانے اور مسائل ديني
بيان کرنے کے عوض ، تنخواہ لينا جائز ہے؟
ج۔ آنے جانے کي زحمت اور غير واجب اعمال کے عوض، اجرت لينے ميں کوئي
مانع نہيں ہے۔
س٢٧۔ کيا ميت کو غسل دينے کي اجرت لينا صحيح ہے؟
ج۔ مسلمان کي ميت کو غسل دينا عبارت اور واجب کفائي ہے (٢) اور خود عمل
کے بدلے اجرت لينا جائز نہيں ہے۔
س٢٨۔ کيا عقد نکاح جاري کرنے پر اجرت لينا جائز ہے؟
ج۔ اجرت لينے ميں کوئي حرج نہيں ہے۔
شطرنج اور آلات قمار
س٢٩۔ اکثر اسکولوں ميں شطرنج کھيلنے کا رواج پيدا ہوگيا ہے کيا آپ کي
نظر ميں شطرنج کھيلنا جائز ہے ؟ اور کيا شطرنج کي تعليم دينا صحيح ہے؟
ج۔ اگر آج کل شطرنج مکلف کي نظر ميں آلات قمار ( جوئے ) ميں سے شمار
نہيں کيا جاتا تو شرط باندھے بغير کسي عقلائي غرض سے کھيلنے ميں کوئي
حرج نہيں ہے۔
س٣٠۔ تاش وغيرہ جيسے سرگرمي کے اسباب سے کھيلنے کا کيا حکم ہے؟ کيا ان
آلات کے ساتھ محض سرگرمي کي خاطر کسي قسم کي شرط باندھے بغير کھيلنا
جائز ہے؟
ج۔ ان آلات سے جو عرف عام ميں جوا کھيلنا ميں استعمال کئے جاتے ہيں شرط
باندھے بغير محض سرگرمي کے لئے کھيلنا بھي ہر صورت ميں حرام ہے۔
س ٣١۔ مندرجہ ذيل مقامات پر شطرنج کا کيا حکم ہے؟
١۔ شطرنج کے آلات بنانا، فروخت کرنا اور خريدنا ۔
٢۔ شرط کے ساتھ اور بغير شرط کے شطرنج کھيلنا۔
٣۔ شطرنج کي تعليم کے مراکز کھولنا اور خاص و عام محافل ميں کھيلنا اور
لوگوں کو اس کھيل پر ابھارنا۔
ج۔ اگر مکلف (٣) کي نظر ميں شطرنج کے اسباب کو آج کل آلات قمار (جوا)
ميں سے شمار نہيں کيا جاتا تو اس کے بنانے، فروخت کرنے اور خريدنے ميں
کوئي حرج نہيں ہے اسي طرح بغير شرط کے کھيلنے اور مذکورہ فرض کے ساتھ
تعليم دينے ميں بھي کوئي حرج نہيں ہے۔
س٣٢ ۔ آيا کھيلوں کے محکمے کي جانب سے شطرنج کے مقابلوں کي تاييد و
حمايت سے يہ ثابت نہيں ہوجاتا کہ شطرنج جوئے اور قمار کے آلات مٰں سے
نہيں ہے؟
اور کيا مکلف اس پر اعتماد کرسکتا ہے؟
ج۔ احکام کے لئے موضوعات کے تعين کا معيار مکلف کي اپني تشخيص يا کسي
شرعي دليل کا ہونا ہے۔
س٣٣۔ کفار کے ساتھ غير اسلامي ممالک ميں شطرنج اور بلئيرڈ جيسے آلات سے
کھيلنے کا کيا حکم ہے؟ اور بغير شرط کے ان آلات کو استعمال کرنے کے لئے
پيسے دينے کا کيا حکم ہے؟
ج۔ جوئے کے آلات اور شطرنج کھيلنے کا حکم گزشتہ مسائل ميں بيان ہوچکا
ہے اس کھيل کے اسلامي اور غير اسلامي ملک ميں کھيلنے ميں کوئي فرق نہيں
ہے نہ ہي مسلمان اور غير مسلمان کے ساتھ کھيلنے ميں کوئي فرق ہے۔ جوئے
کے آلات کي خريدو فروخت اور آلات کے لئے مال خرچ کرنا بھي جائز نہيں
ہے۔
آلاتِ قمار
س٣٤۔ اگر لوگ فارغ اوقات ميں شرط بادھے بغير تاش کھيليں ان کے ذہن ميں
جوئے ، بالواسطہ يا بلا واسطہ درآمد کے حصول کا تصور بھي نہ ہو بلکہ
محض سرگرمي اور مصروفيت کے لئے کھيلتے ہوں تو کيا ان کا يہ عمل حرام ہے
اور يہ افراد فعل محرم کے مرتکب ہوئے ہيں؟ نيز محض تفريح کي غرض سے
ايسي محفلوں ميں جانے کا کيا حکم ہے جہاں تاش کھيلا جارہا ہو؟
ج۔ تاش سے جو کہ عرف عام ميں جوئے کے آلات ميں سے شمار کيا جاتا ہے
جہاں کھيلنا مطلقاً حرام ہے اور ايسي محفل ميں اختياراً شرکت کرنا جائز
نہيں ہے کہ جہاں جوا کھيلا جائے يا اس کے آلات سے کھيلا جائے۔
س٣٥۔ کيا شرط لگائے بغير ايسے تاش استعمال کرنا جائز ہے جو محض فکري
نعويت کے ہوں اور علمي و ديني معلومات کے حامل ہوں ؟ ايسے کاغذي پتوں
سے کھيلنے کا کيا حکم ہے جنہيں ايک خاص ترتيب سے ملايا جائے تو بعض
شکليں وجود ميں آتي ہيں جيسے موٹر سائيکل يا کار وغيرہ جبکہ ممکن ہے
انہيں رقم لگا کر بھي استعمال کيا جائے؟
ج۔ ايسے پتوں کا استعمال جائز نہيں ہے جنہيں عام طور پر جوئے ميں
استعمال کيا جاتا ہے۔ وہاں وہ پتے جو عام طور پر جوئے ميں استعمال نہيں
ہوتے بغير شرط باندھے ان کے ساتھ کھيلنے ميں کوئي حرج نہيں ہے۔ تاش ہو
يا غير تاش ہر وہ چيز جو مکلف کي نظر ميں قمار کے آلات ميں سے شمار ہو
يا اسے جوئے کے اندر استعمال کيا جاتا ہو اس کے ساتھ کھيلنا کسي صورت
ميں بھي شمار نہ کيا جائے اور جوا کھيلنے والا اس سے قمار کا ارادہ نہ
کرے تو ايسے صورت ميں اس سے کھيلنے ميں کوئي حرج نہيں۔
س٣٦۔ اخروٹ اور انڈوں وغيرہ سے کھيلنے کا کيا حکم ہے جو کہ شرعاً ماليت
کے حامل ہيں ؟ کيا بچوں کے لئے ايسے کھيل کھيلنا جائز ہيں؟
ج۔ اگر کھيل جوئے کے عنوان سے ہو يا شرط باندھ کر کھيلا جائے تو يہ
شرعاً حرام ہے اور جيتنے والا جيتي ہوئي چيز کا مالک نہيں بنے گا ليکن
اگر کھيلنے والے غير بالغ ہوں تو وہ شرعي طور پر مکلف نہيں ہيں اور ان
پر کوئي حکم نہيں ہے اور وہ بھي جيتي ہوئي چيز نہيں لے سکتے۔
س٣٧۔ کيا آلات قمار کے بغير کسي کھيل پر پيسوں وغيرہ کي شرط باندھنا
جائز ہے؟
ج۔
کھيلوں پر
شرط اگرچہ بغير آلاتِ قمار کے ہو جائز نہيں ہے۔
س٣٨۔ کمپيوٹر پر تاش وغيرہ جيسے آلات قمار کے ساتھ کھيلنے کا کيا حکم
ہے؟
ج۔ اس کا حکم بھي ويسا ہي ہے جو خود آلات قمار کے ساتھ کھيلنے کا ہے۔
س٣٩۔ (UNO)
اونو اور کيرم کا کيا حکم ہے؟
ج۔ اگر مذکورہ دونوں چيزيں عام طور پر آلات قمار ميں سے شمار کي جائيں
تو ان سے کھيلنا بالکل جائز نہيں ہے اگرچہ کھيل بغير رقم لگائے کھيلا
جائے۔
س٤٠۔ اگر بعض آلات ايک ملک ميں آلات قمار ميں شمار کئے جائيں ليکن
دوسرے ملک ميں قمار ميں سے شمار نہ کئے جائيں تو ان سے کھيلنا جایز ہے؟
ج۔ دونوں ممالک کے اہل عرف کي رعايت کرنا ضروري ہے اس طرح سے کہ اگر
ايک چيز ايک ملک ميں آلات قمار ميں سے شمار کي جاتي ہے تو يہ اس وقت اس
کے حرام ہونے کے لئے کافي ہے کہ جب يہ چيز گزشتہ دور ميں دونوں ملکوں
ميں آلات قمار ميں سے شمار کي جاتي تھي۔
موسيقي اور غنائ
س٤١۔ حلال اور حرام موسيقي ميں فرق کرنے کا معيار کيا ہے ؟ آيا کلاسيکي
موسيقي حلال ہے؟ اگر ضابطہ بيان فرماديں تو بہت اچھا ہوگا۔
ج۔ وہ موسيقي جو عرف عام ميں طرب آور اور لہو(٥) کہلائے اور محافل رقص
و سرور سے مناسبت رکھتي ہو وہ حرام ہے اور حرام ہونے کے لحاظ سے
کلاسيکي اور غير کلاسيکي ميں کوئي فرق نہيں ہے اب يہ تشخيص دينا کہ
کونسي موسيقي طرب آور يا لہوي ہے خود مکلف کا کام ہے مذکورہ صفات کے
بغير بذات خود موسيقي ميں کوئي حرج نہيں ہے۔
س ٤٢۔ ايسي کيسٹوں کے سننے کا حکم کيا ہے جنہيں سازمان تبليغات اسلامي
يا کسي دوسرے اسلامي ادارے نے مجاز قرار ديا ہو ؟ اور موسيقي کے آلات
کے استعمال کا کيا حکم ہے جيسے سارنگي، گيتار، ستار، بانسري وغيرہ؟
ج۔ کيسٹ کے سننے کا جواز از خود مکلف کي تشخيص پر ہے لہذا اگر مکلف کے
نزديک متعلقہ کيسٹ کے اندر نہ تو غنا ہو اور نہ ہي لہو و لعب کي محافل
سے شباہت رکھنے والي لہوي موسيقي ہو اور نہ ہي اس کے اندر باطل مطالب
پائے جاتے ہوں تو اس کے سننے ميں کوئي حرج نہيں ہے سازمان تبليغات
اسلامي يا کسي اور اسلامي ادارے کي جانب سے مجاز قرار دينا شرعي دليل
نہيں ہے لہو اور گناہ کي محافل سے شباہت رکھنے والي طرب آور لہوي
موسيقي کے لئے موسيقي کے آلات کا استعمال جائز نہيں ہے البتہ معقول
مقاصد کے لئے مذکورہ آلات کا جائز استعمال بلا مانع ہے مصاديق کا تعيين
خود مکلف کي ذمہ داري ہے۔
س٤٣۔ لہوي ، طرب آور موسيقي سے کيا مراد ہے ؟ اور طرب آور لہوي موسيقي
کو غير لہوي ، غير مطرب (٦) موسيقي سے کيسے جدا کيا جاسکتاہے؟
ج۔ مطرب و لہوي موسيقي وہ ہے جو انسان کو اس کي طبيعي حالت سے خارج
کرديتي ہے کيونکہ اس ميں ايسي خصوصيات ہوتي ہيں جو کہ لہو اور گناہ کي
محفل سے مناسبت رکھتي ہيں ۔ اور مصداق کے تعين کا معيار عرف عام ہے۔
گلوکار
س٤٤۔ کيا آلات موسيقي بجانے والے کي شخصيت ، بجانے کي جگہ يا اس کے ہدف
و مقصد موسيقي کے حکم ميں دخالت رکھتا ہے؟
ج۔ فقط وہ موسيقي حرام ہ جو کہ مطرب، لہوي و گناہ کي محافل سے متناسب
ہو البتہ بعض اوقات آلاتِ قمار بجانے والے کي شخصيت ، اس کے ساتھ ترنم
سے پيش کيا جانے والا کلام ، محل يا اس کے قسم کے ديگر امور ايک موسيقي
کو طرب آور ، حرام اور لہوي موسيقي يا کسي اور حرام عنوان کے تحت داخل
کرنے کا باعث بن سکتے ہيں مثال کے طور پر مذکورہ فرض کي بنائ پر کوئي
فساد پيدا ہوجائے۔
س٤٥۔ کيا موسيقي کے حرام ہونے کا معيار فقط لہو و مطرب ہونا ہے۔ يا يہ
کہ ہيجان ميں لانا بھي اس ميں شامل ہے ؟ اور اگر کوئي ساز، موسيقي سننے
والے کو حزن اور گريہ کي طرف لے جائے تو اس کا کيا حکم ہے؟ اور ان
غزليات کے پڑھنے کا کيا حکم ہے جو کہ راگوں سے پڑھي جاتي ہے اور اس کے
ساتھ موسيقي بھي بجائي جاتي ہے۔
ج۔ معيار يہ ہے کہ موسيقي اور آلات موسيقي بجانے کي کيفيت اس کي تمام
طبيعي خصوصيات اور خواص کے ساتھ ملاحظہ کي جائے اور يہ ديکھا جائے کہ
کيا يہ مطرب اور لہوي موسيقي ہے جو فسق و فجور اور لہو و لعب کي محافل
کے مشابہ ہے يا نہيں؟ چنانچہ جو موسيقي بھي طبيعي طور پر لہوي ہو وہ
حرام ہے چاہے جوش و ہيجان کا باعث بنے يا نہ بنے سامعين کے لئے موجب
حزن و بکائ ہو يا نہ ہو۔ مجالس لہو و لعب کے ساتھ سازگار موسيقي اور
غنائ کي طرز پر موسيقي کے ساتھ گائے جانے والي غزلوں کا گانا اور سننا
حرام ہے۔
س٤٦۔ غنائ کسے کہتے ہيں اور کيا فقط انسان کي آواز غنائ ہے يا آلات
موسيقي کے ذريعے حاصل ہونے والي آواز بھي غنائ ميں شامل ہے؟
ج۔ غنائ انسان کي اس آواز کو کہتے ہيں جس ميں اتار چڑھاو اور طرب ہو
نيز لہو و لعب اور مجالس گناہ کے متناسب ہو مذکورہ صفات کے ساتھ گانا
اور سننا حرام ہے ۔ فقط آلات سے پيدا ہوني والي آوازوں کو غنائ نہيں
کہتے البتہ اگر لہو و لعب طرب آور لہوي موسيقي شمار ہو تو وہ بھي حرام
ہے۔
س ٤٧۔ کيا عورتوں کے لئے شادي بياہ کے دوران برتن اور آلات موسيقي کے
علاوہ ديگر وسائل بجانا جائز ہے؟ اگر اس کي آواز محفل سے باہر پہنچ کر
مردوں کو سنائي دي جارہي ہو تو اس کا کيا حکم ہے
ج۔ جواز کا دار و مدار کيفيت عمل پر ہے کہ اگر وہ طرز شاديوں ميں رائج
عام روايتي طريقے کے مطابق ہو ، لہو و لعب ميں شمار نہ ہو اور کسي فساد
کا بھي خدشہ نہ ہو تو اس ميں کوئي حرج نہيں ہے۔
س٤٨۔ شادي بياہ کے اندر عورتوں کے ڈفلي بجانے کا کيا حکم ہے؟
ج۔ آلات موسيقي کا لہوي اور مطرب موسيقي بجانے کے لئے استعمال کرنا
جائز نہيں ہے۔
س٤٩۔ کيا گھر ميں گانے سننا جائز ہے؟ اور اگر گانا متاثر نہ کرے تو اس
کا کيا حکم ہے؟
ج۔ گانا سننا مطلقاً حرام ہے چاہے گھر ميں تنہا سنے يا لوگوں کے سامنے
متاثر ہو يا نہ ہو۔
س٥٠۔ بعض نوجوان جو حال ہي ميں بالغ ہوئے ہيں انہوں نے ايسے مجتہد کي
تقليد کي ہے جو مقلقاً موسيقي کو حرام سمجھتا ہے چاہے يہ موسيقي اسلامي
جمہوري کے ريڈيو اور ٹيليويژن سے نشر ہوتي ہو۔ مذکورہ مسئلہ کا حکم کيا
ہے؟ کيا ولي فقيہہ کا بعض موارد ميں موسيقي کو جائز قرار دينا حکومتي
احکام کے حوالے سے مذکورہ موسيقي کا جائز ہونے کے لئے کافي نہيں ہے ؟
کيا ان پر اپنے مجتہد کے فتويٰ کے مطابق ہي عمل کرنا ضروري ہے؟
ج۔ موسيقي سننے کے بارے ميں جواز اور عدم جواز کا فتويٰ حکومتي احکام
ميں سے نہيں ہے بلکہ يہ فقہي اور شرعي حکم ہے۔ اور ہر مکلف کو مذکورہ
مسئلہ ميں اپنے مرجع کي نظر کے مطابق عمل کرنا چاہئيے ہاں اگر موسيقي
ايسي ہو جو کہ لہو و لعب اور گناہ کي محافل سے مناسبت نہيں رکھتي اور
نہ ہي اس پر کسي فساد کا خدشہ ہو تو ايسي موسيقي کے حرام ہونے کي کوئي
وجہ نہيںہے۔
س٥١۔ موسيقي اور غنائ سے کيا مراد ہے؟
ج۔ آواز کو اس طرح گلے ميں گھمانا کہ محافل لہو و لعب کے عين مطابق ہوا
سے غنائ کہتے ہيں اس کا شمار گناہوں ميں ہوتا ہے يہ سننے اور گانے والے
پر حرام ہے۔ ليکن موسيقي اسے کہتے ہيں جو آلات کو ضرب لگانے سے حاصل
ہوا اگر وہ آواز محافل لہو و لعب کے مطابق ہے تو بجانے اور سنے والے پر
حرام ہے ورنہ بذات خود موسيقي جائز ہے اگر مذکورہ صفات کے ساتھ نہ ہو
تو اس ميں کوئي حرج نہيں ہے۔
س٥٢۔ ميں ايسي جگہ کام کرتا ہوں جس کا مالک ہميشہ گانے کے کيسٹ سنتا ہے
اور مجھے بھي مجبوراً سننا پڑتا ہے کيا يہ ميرے لئے جائز ہے يا نہيں؟
ج۔ اگر کيسٹوں ميں موجود موسيقي لہو و لعب باطل اور گناہ کي محافل سے
مناسبت رکھتي ہے اس کا سننا اور کان لگانا صحيح نہيں ہے ہاں اگر آپ
مذکورہ جگہ جانے اور کام پر مجبور ہيں تو آپ کے وہاں جانے اور کام کرنے
ميں کوئي حرج نہيں ہے۔ ليکن آپ پر واجب ہے کہ گانے کان لگا کر نہ سنيں
اگرچہ آواز کے کانوں ميں پڑے اور سنائي دے۔
س٥٣۔ وہ موسيقي جو اسلامي جمہوريہ کے ريڈيو اور ٹيليويژن سے نشر ہوتي
ہے کيا حکم رکھتي ہے اور يہ جو کہا جاتا ہے کہ حضرت امام خميني قدس سرہ
نے موسيقي کو مطلقاً حلال قرار ديا ہے کيا يہ صحيح ہے؟
ج۔ رحيل عظيم الشان حضرت امام خميني قدس سرہ کي طرف موسيقي کو مطلقاً
حلال کرنے کي نسبت دينا جھوٹ اور افترا ہے وہ ايسي موسيقي کو حرام
سجھتے تھے جو مطرب، لہوي ، لہو و لعب کي محافل اور گناہ سے مطابقت
رکھتي ہو جيسا کہ ہماري رائے بھي يہي ہے ليکن موضوع کي تشخيص نقطہ نظر
ميں اختلاف کا سبب ہے۔ کيونکہ موضوع کو تشخيص دينا خود مکلف کے اوپر
چھوڑ ديا گيا ہے بعض اوقات بجانے والے کي رائے سننے والے سے مختلف ہوتي
ہے لہذا جسے خود مکلف لہوي اور لہو و لعب کي محافل کے مشابہ موسيقي
سمجھتا ہو اس کا سننا اس پر حرام ہے البتہ جن آوازوں کے بادے ميں مکلف
کو شک ہو وہ حلال ہيں محض ريڈيو اور ٹيلي ويژن سے نشر ہوجانا حلال اور
مباح ہونے پر شرعي دليل شمار نہيں ہوتا۔
س٥٤۔ ريڈيو اور ٹيليويژن سے کبھي کبھي ايسي موسيقي نشر ہوتي ہے جو ميري
نظر ميں لہو لعب اور فسق و فجور کي محافل سے مطابقت رکھتي ہے کيا ميرے
لئے ايسي موسيقي سے اجتناب واجب ہے؟ اور دوسروں کو روکنا بھي صحيح ہے؟
ج۔ اگر آپ يہ سمجھتے ہيں کہ يہ موسيقي مطرب و لہوي محافل سے مناسبت
رکھتي ہے تو آپ کے لئے سننا جائز نہيں ہے ليکن دوسروں کو نہي از منکر
کے عنوان سے روکنا اس بات پر موقوف ہے کہ وہ بھي مذکورہ موسيقي کو آپ
کي مانند حرام موسيقي ميں سے قرار ديں۔
س٥٥۔ وہ لہوي موسيقي جو مغربي ممالک ميں بنائي جاتي ہے اس کے سننے اور
نشر کرنے کا کيا حکم ہے؟
ج۔ وہ موسيقي جس کا سننا جائز نہيں جو کہ لہوي طرب آور، باطل اور محافل
لہو و لعب سے متعلق ہو اس ميں زبان اور ملک کوئي فرق نہيں ہے ۔ لہذا
ايسي کيسٹوں کي خريد و فروخت ، ان کا سننا اور نشر کو جائز نہيں ہے جو
غنائ اور حرام لہوي موسيقي پر مشتمل ہوں۔
س٥٦۔ مرد اور عورت ميں سے ہر ايک کے گانے کا کيا حکم ہے؟ کيسٹ کے ذريعہ
ہو يا ريڈيو کے ذريعہ ؟ چاہے موسيقي کے ساتھ ہو يا نہيں؟
ج۔ غنائ موسيقي حرام ہے اس کا گانا اور سننا جائز نہيں ہے چاہے مرد
گائے يا عورت براہ راست ہو يا کيسٹ پر چاہے گانے کے، ہمراہ آلات لہو
استعمال کئے جائيں يا نہ کيے جائيں۔
س٥٧۔ جائز معقول مقاصد کے لئے مسجد جسے کسي مقدس پر موسيقي بجانے کا
کيا حکم ہے؟
ج۔ لہوي اور مطرب موسيقي جو کہ مجالس لہو و لعب سے مطابقت رکھتي ہو وہ
مسجد سے باہر بھي ، مطلقاً جائز نہيں ہے اگرچہ وہ حلال اور معقول مقاصد
کے لئے ہي کيوں نہ ہو۔ البتہ ان مواقع کي مناسبت سے جن ميں انقلابي
ترانے پڑھنا مناسب ہے، مقدس مکانات ميں موسيقي کے ساتھ ترانے پڑھنے ميں
کوئي حرج نہيں ہے ليکن اس کي شرط يہ ہے کہ يہ امر مذکورہ مکان کے تقدس
و احترام کے خلاف نہ ہو اور نہ ہي مسجد ميں نمازيوں کے لئے باعث زحمت
ہو۔
س٥٨۔ آيا موسيقي سيکھنا جائز ہے ؟ خصوصاً ستار؟ اور اگر موسيقي سيکھنے
سے دوسروں کو ترغيب ہو اور شہ ملے تو اس کا کيا حکم ہے؟
ج۔ غير لہوي موسيقي بجانے کے لئے آلات موسيقي کا استعمال جائز ہے اگر
ديني اور انقلابي نغموں کے لئے ہو يا کسي مفيد ثقافتي پروگرام کے لئے
ہو اور اسي طرح جہاں بھي مباح عقلائي غرض موجود ہو مذکورہ موسيقي جائز
ہے ليکن اس شرط کے ساتھ کہ کوئي اور فساد لازم نہ آئے اور اس طرح کي
موسيقي کو سيکھنا اور تعليم دينا بذات خود جائز ہے۔
س٥٩۔ ترنم کے ساتھ شعر وغيرہ پڑھنے کے دوران عورت کي آواز سننے کا کيا
حکم ہے چاہے سننے والا جوان ہو يا نہيں؟ مرد ہو يا عورت؟ اور اگر عورت
محارم ميں سے ہو تو کيا حکم ہے؟
ج۔ اگر خاتون کي آواز غنائ کي کيفيت نہ رکھتي ہو، اس کا سننا لذت اور
برے خيال سے بھي نہ ہو ، اس پر کوئي اور فساد بھي مترتب نہ ہوتا ہو تو
اس ميں کوئي حرج نہيں ہے۔ مذکورہ صورتوں کے لحاظ سے بھي کوئي فرق نہيں
ہے۔
س٦٠۔ آيا قومي اور سنتي ايراني موسيقي حرام ہے يا نہيں؟
ج۔ وہ موسيقي جو عرف عام ميں لہوي موسيقي کہلائے اور محافل لہو و لعب و
گناہ سے مناسبت رکھتي ہو وہ مطلقاً حرام ہے چاہے وہ ايراني ہو يا غير
ايراني چاہے سنتي ہو يا غير سنتي۔
س٦١۔ عربي ريڈيو سے بعض خاص لحن کے ساتھ موسيقي نشر ہوتي ہے، آيا عربي
زبان کے شوق کي خاطر اسے سنا جاسکتا ہے؟
ج۔ لہوي موسيقي جو کہ محافل لہو و لعب اور گناہ سے مناسبت رکھتي ہو
مطلقاً حرام ہے اور عربي زبان کے سننے کا شوق جواز نہيں ہے۔
س٦٢۔ کيا بغير موسيقي کے گانے کي طرز پر گانے جانے والے اشعار کا
دہرانا جائز ہے؟
ج۔ غنائ اور گانا حرام ہے چاہے موسيقي کے آلات کے بغير ہو اور غنائ سے
مراد يہ ہے کہ اس طرح آواز کو گلے ميں گھمايا جائے جس طرح محافل فسق و
فجور ميں رائج ہے ، البتہ فقط اشعار کے دہرانے ميں کوئي حرج نہيں۔
س٦٣۔ موسيقي کے آلات کي خريد و فروخت کا کيا حکم ہے اور ان کے استعمال
کي حدود کيا ہيں؟
ج۔ لہوي اور غير لہوي موسيقي کے مشترک آلات کي خريد و فروخت حلال مقاصد
کے لئے ( غير لہوي موسيقي کي خاطر) جائز ہے نيز ايسي موسيقي کے سننے
ميں بھي کوئي حرج نہيں ہے۔
س٦٤۔ کيا دعا ئ ، قرآن اور آذان ميں غنائ جائز ہے؟
ج۔ غنائ سے مراد ايسي آواز ہے جو ترجيع اور طرب پر مشتمل ہو اور لہو و
لعب اور فسق و فجور کي محافل سے مناسبت رکھتي ہو اور وہ مطلقاً حرام ہے
حتيٰ، دعائ، قرآن ، آذان اور مرثيہ ميں ہي کيوں نہ ہو۔
س٦٥۔ آج کل موسيقي بعض نفسياتي بيماريوں کے علاج کے لئے استعمال کي
جاتي ہے جيسے غمگين رہنا، اضطراب م جنسي مشکلات اور خواتين ميں سرد
مزاج ہونا وغيرہ ، مذکورہ صورت ميں موسيقي کيا حکم رکھتي ہے؟
ج۔ اگر امين اور ماہر طبيب کي رائے ہو کہ مرض کا علاج موسيقي پر متوقف
ہے تو مرض کي علاج کي حد تک موسيقي کا استعمال جائز ہے۔
س٦٦۔ اگر موسيقي سننے کي وجہ سے زوجہ کي طرف رغبت زيادہ ہوجاتي ہو تو ا
سکا کيا حکم ہے؟
ج۔ زوجہ کي جانب رغبت کا زيادہ ہونا ، گانے سننے کا شرعي جواز نہيں ہے۔
س٦٧۔ عورتوں کے مجمع ميں خاتون کا گانا کيا حکم رکھتا ہے جبکہ موسيقي
بجانے والي بھي خواتين ہوں؟
ج۔ نغمہ اگر ترجيع و طرب اور لہوي حرام و موسيقي کے بغير ہو تو بذات
خود يہ امر جائز ہے۔
س٦٨۔ اگر موسيقي کے حرام ہونے کا معيار يہ ہے کہ وہ لہوي ہو اور لہو و
لعب اور گناہ کي محافل سے مناسبت رکھتي ہو تو ايسي آواز اور ترانوں کا
کيا حکم ہے جو بعض لوگوں حتي کہ خوب و بد کو نہ سمجھنے والے بچوں ميں
بھي طرب ايجاد کرے ؟ اور آيا ايسے فحش کيسٹ سننا حرام ہے جو عورتوں کے
گانوں پر مشتمل ہوں ليکن طرب کا سبب بھي نہ ہوں؟ اور ان لوگوں کے بارے
ميں کيا حکم ہے جو ايسي عوامي بسوں ميں سفر کرتے ہيں جن کے ڈرائيور
مذکورہ کيسٹ استعمال کرتے ہيں؟
ج۔ موسيقي کي ہر وہ صورت حرام ہے جس ميں آواز کے اندر ترجيع و طرب ہو ،
کيفيت و مضمون کے لحاظ سے ، اور گانے بجانے کے دوران گانے يا بجانے
والے کي حالت کي وجہ سے لہو و لعب اور گناہ کي محافل کے مشابہ غنا اور
موسيقي شمار ہوتي ہو۔ مذکورہ موسيقي کا سننا حرام ہے حتي ايسے افراد کے
لئے جنہيں يہ موسيقي طرب ميں نہ لائے اور تحريک نہ کرے اور عوامي بسوں
ميں سفر کرنے والوں کو لہوي گانے اور موسيقي نشر ہوتے وقت کان لگا کر
او رجان بوجھ کر نہيں سننا چاہئيے اور نہي عن المنکر کرنا چاہئيے۔
س٦٩۔ آيا شادي شدہ مرد کے لئے نا محرم عورت کا گانا سننا جائز ہے تاکہ
وہ اپني زوجہ سے لذت حاصل کرسکے؟ آيا زوجہ کا اپنے شوہر يا شوہر کا
اپني زوجہ کے سامنے گانا صحيح ہے ؟ اور آيا يہ کہنا صحيح ہے کہ شارع
مقدس نے غنائ کو اس لئے حرام کيا ہے کہ غنائ کے ہمراہ محافل لہو و لعب
ہوتي ہيں اور موسيقي لہو و لعب کے بغير نہيں ہوتي لہذا غنائ کي حرمت ان
مجالس کي حرمت کا نتيجہ ہے اور مذکورہ مجالس کے ضمن ميں غنائ بھي حرام
ہے۔ جيسے مجسموں کے بنانے اور فروخت کرنے کا پيشہ اس وجہ سے حرام ہے کہ
عبادت کے علاوہ اس کا کوئي اور فائدہ نہيں ہے۔ تو کيا اس زمانے ميں
حرمت کا معيار اور سبب ختم ہوجانے سے حرمت بھي ختم ہوجائے گي؟
ج۔ ايسي غنائ کا سننا مطلقاً حرام ہے جو ترجيع صوت پر مشتمل ہو اور
مطرب ہو اور لہو و لعب کي محافل سے مناسبت رکھتي ہو حتي زوج و زوجہ کي
غنائ کي ايک دوسرے کے لئے اور بيوي سے لذت کا قصد غنائ کو مباح نہيں
کرتا اور غنائ کي حرمت مجسمہ سازي اور وہ امور جن کي حرمت شرعيت مقدسہ
ميں تعبداً چابت ہے شيعہ فقہ کے مسلمات ميں ہے يعني ان کي حرمت کا دارو
مدار فرضي معيارات اور نفسياتي و اجتماعي اثرات کے اوپر نہيں ہے بلکہ
يہ مطلقاً حرام ہے اور اس سے مطلقاً اجتناب واجب ہے جب تک اس پر عنوان
حرام صادق ہے۔
س٧٠۔ ٹريننگ کالج کے طلبائ کے لئے اسپيشل دروس کے دوران انقلابي ترانوں
کي کلاس ميں شرکت لازمي ہے۔ جہاں وہ موسيقي کے آلات کي تعليم ليتے ہيں
اور مختصر طور پر موسيقي سے آشنا ہوتے ہيں البتہ مذکورہ درس ميں اصلي
آلہ آرگن ہے۔ اس مضمون کي تعليم کا کيا حکم ہے جبکہ اس کي تعليم لازمي
ہے؟ مذکورہ آلہ کي خريد و فروخت اور اس کا استعمال ہمارے لئے کيا حکم
رکھتا ہے؟ ان لڑکيوں کا کيا حکم ہے جو مردوں کے سامنے پريکٹس کرتي ہيں؟
ج۔ انقلابي ترانوں، ديني پروگراموں ، ثقافتي اور تربيتي سرگرميوں ميں
موسيقي کے آلات سے استفادہ کرنے ميں بذات خود کوئي حرج نہيں ہے۔ مذکورہ
اغراض کے لئے موسيقي کے آلات کي خريد و فروخت نيز ان کا سيکھنا اور
سکھانا جائز ہے اسي طرح خواتين حجاب اور اسلامي آداب و رسوم کي مراعات
کرتے ہوئے معلم کے سامنے کلاس ميں شرکت کرسکتي ہيں۔
س٧١۔ بعض نغمے ظاہري طور پر انقلابي ہيں اور عرف عام ميں بھي اسے
انقلابي سمجھا جاتا ہے ليکن يہ معلوم نہيں ہے کہ گانے والے نے انقلابي
قصد سے نغمہ گايا ہے يا طرب اور لہو کے ارادے سے ، ايسے نغموں کے سننے
کا کيا حکم ہے؟ جبکہ اس بات کا علم بھي ہے کہ گانے والا مسلمان نہيں
ہے، ليکن اس کے نغمے ملي اور انقلابي ہوتے ہيں اور ان کے بول جبري تسلط
کے خلاف ہوتے ہيں اور استقامت پر ابھارتے ہيں۔
ج۔ اگر سامع کي نظر ميں گانے کي کيفيت مطربانہ اور لہوي گانے جيسي نہ
ہو تو اس کے سننے ميں کوئي حرج نہيں ہے اور گانے والے کا قصد ، ارادہ
اور مضمون کو اس ميں کوئي دخل نہيں ہے۔
س٧٢۔ ايک جوان بعض کھيلوں کے اندر کوچ اور بين الاقوامي ريفري کے طور
پر مشغول ہے اس کام کا تقاضا يہ ہے کہ وہ بعض اسے کلبوں ميں بھي جائے
جہاں حرام موسيقي اور غنائ بجائي جاتي ہے اس بات کو نظر ميں رکھتے ہوئے
کہ اس کام سے اس کي معيشت کا ايک حصہ حاصل ہوتا ہے اوراس کے رہائشي
علاقے ميں کام کے مواقع بہت کم ہيں کيا اس کے لئے يہ کام جائز ہے؟
ج۔ اس کے کام ميں کوئي حرج نہيں اگرچہ حرام موسيقي اور غنائ کا سننا اس
کے لئے حرام ہے اضطرار کي کيفيت ميں غنائ اور حرام موسيقي کي محفل ميں
جانا اس کے لئے جائز ہے البتہ اسے موسيقي توجہ سے نہيں سننا چاہئيے بلا
اختيار جو چيز کان ميں پڑے اس ميں کوئي حرج نہيں ہے۔
س٧٣۔ آيا توجہ کے ساتھ موسيقي کا سننا حرام ہے؟ يا کان ميں آواز کا
پڑنا بھي حرام ہے ؟
ج۔ مطرب اور لہوي موسيقي کے کان ميں پڑنے کا حکم اسے کان لگا کر سننے
کي طرح نہيں ہے سوائے ان مواقع کے جن ميں عرف کے نزديک کان ميں پڑنا
بھي کان لگا کر سننا شمار ہوتا ہے۔
س٧٤۔ کيا قرآت قرآن کے ہمراہ ايسے آلات کے ذريعے موسيقي بجانا جو عام
طور پر لہو و لعب کي محافل ميں نہيں بجائے جاتے جائز ہے؟
ج۔ اچھي آواز اور قرآن کريم کے شايان شان صدا کے ساتھ قران مجيد کي
تلاوت ميں کوئي حرج نہيں ہے بلکہ يہ ايک بہتر امر ہے بشرطيکہ حرام غنائ
کي حد تک نہ پہنچے البتہ تلاوت قرآن کے ساتھ موسيقي بجانے کا کوئي شرعي
جواز اور دليل موجود نہيں ہے۔
س٧٥۔ محفل ميلاد وغيرہ ميں طبلہ بجانے کا کيا حکم ہے؟
ج۔ مطربانہ اور لہو و لعب کي محافل کے مناسب لہوي اور طرب آور کيفيت سے
غنائ اور آلات موسيقي بجانا مطلقاً حرام ہے۔
س٧٦۔ موسيقي کے ان آلات کا کيا حکم ہے جو اسکولوں کے طلاب تعليمي و
تربيتي ادارے تعليم و تربيت کے تابع ترانہ پڑھنے والے گروہوں ميں
استعمال کرتے ہيں؟
ج۔ موسيقي کے ايسے آلات جو عرف عام کي نگاہ ميں مشترک اور حلال کاموں
ميں استعمال کے قابل ہوں انہيں غير لہوي طريقے سے حلال مقاصد کے لئے
استعمال کرنا جائز ہے ليکن ايسے آلات جو عرف کي نگاہوں ميں لہو کے
مخصوص آلات سمجھے جاتے ہوں ان کا استعمال جائز نہيں ہے۔
س٧٧۔ کيا موسيقي کا وہ آلہ جسے ستار کہتے ہيں بنانا جائز ہے اور کيا
کسب معاش کے لئے اسے پيشہ بنايا جاسکتا ہے ، اس کي صنعت کو ترقي دينے
اور اسے بجانے والوں کي حوصلہ افزائي کے لئے سرمايہ کاري و مالي امداد
کي جاسکتي ہے ؟ اور اصل موسيقي پھيلانے اور زندہ رکھنے کے لئے ايراني
سنتي موسيقي کي تعليم دينا جائز ہے يا نہيں؟
ج۔ قومي اور انقلابي ترانوں ميں موسيقي کے آلات کا استعمال جب تک بحد
طرب اور لہو نہ ہو اور محافل لہو و لعب سے مناسبت نہ رکھتا ہو تو بذات
خود جائز ہے۔ اسي طرح اس کے لئے آلات کا بنانا اور مذکورہ ہدف کے لئے
تعليم و تعلم بھي بذات خود جائز ہے۔
س٧٨۔ کون سے ايسے آلات لہو ہيں جن کا استعمال کسي بھي حال ميں جائز
نہيں ہے؟
ج۔ وہ آلات جو عام طور پر لہو و لعب ميں استعمال ہوتے ہيں اور جن کي
کوئي حلال منفعت نہيں ہے اور آلات لہو ميں سے شمار کئے جاتے ہيں۔
س٧٩۔ وہ کيسٹ جو حرام آوازوں پر مشتمل ہے کيا اس کي کاپي کرنا اور اس
پر اجرت لينا جائز ہے؟
ج۔ جن کيسٹوں کا سننا حرام ہے ان کي کاپي کرنا اور اس پر اجرت لينا
جائز نہيں ہے۔
رقص
س٨٠۔ آيا شاديوں ميں علاقائي رقص جائز ہے ؟ اور ايسي محافل ميں شرکت
کرنے کا کيا حکم ہے؟
ج۔ اگر رقص ميں ايسي کيفيت پائي جاتي ہو جو کہ شہوت کو ابھارے يا کسي
حرام فعل کا سبب بنے يا اس کي وجہ سے کسي فساد کا خدشہ ہو تو جائز نہيں
ہے۔ رقص کي محافل ميں شرکت کرنا اگر دوسروں کے فعل حرام کي تائيد شمار
ہو يا فعل حرام کا سبب بنے تو وہ بھي جائز نہيں ہے وگرنہ کوئي حرج نہيں
ہے۔
س٨١۔ کيا خواتين کي محفل ميں بغير موسيقي کي دہن کے رقص کرنا حرام ہے
يا حلال ؟
اور اگر حرام ہے تو کيا شرکت کرنے والوں پر محفل کو ترک کرنا واجب ہے؟
ج۔ رقص بطور کلي اگر شہوت کو ابھارے يا فعل حرام کا سبب بنے يا اس کي
وجہ سے کسي فساد کا خدشہ ہو تو حرام ہے۔ فعل حرام پر اعتراض کے طور پر
محفل کو ترک کرنا نہي عن المنکر کا مصداق ہو تو واجب ہے۔
س٨٢۔ مرد کا مرد کے ہمراہ اور عورت کا عورت کے ہمراہ يا مرد کا خواتين
کے درميان يا عورت کا مردوں کے درميان علاقائي رقص کرنے کا کيا حکم ہے؟
ج۔ اگر رقص شہوت کو ابھارے يا فعل حرام کا سبب بنے يا فساد کا باعث بنے
يا عورت نامحرموں کے درميان رقص کرے تو مطلقاً حرام ہے۔
س٨٣۔ مردوں کے ساتھ مل کر رقص کرنے کا حکم کيا ہے؟ ٹيليويژن وغيرہ پر
چھوٹي بچيوں کے رقص ديکھنے کا کيا حکم ہے؟
ج ۔ اگر رقص شہوت کو ابھارے يا فعل حرام کا سبب بنے تو وہ حرام ہے۔
ليکن اگر ديکھنے سے گناہ کار انسان کي تائيد نہ ہوتي ہو ، اس کے لئے
مزيد جرآت کا باعث نہ ہو اور کسي فساد کا بھي خدشہ نہ ہو تو کوئي حرج
نہيں ہے۔
س٨٤۔ عورت کا عورت کے سامنے اور مرد کا مرد کے سامنے رقص کرنے کا حکم
کيا ہے؟
اگر شادي ميں شرکت کرنا معاشرتي آداب کے احترام کي وجہ سے ضروري ہو اور
احتمال ہو کہ وہاں رقص ہوگا تو ايسي شادي ميں شرکت کا کيا حکم ہے؟
ج۔ بطور کلي اگر رقص شہوت کو ابھارے يا فعل حرام کا سبب بنے يا فساد کا
باعث ہو تو وہ حرام ہے۔ ہاں ايسي شادي ميں جہاں رقص کا احتمال ہو شرکت
کرنے ميں کوئي حرج نہيں ہے۔ جب تک کہ فعل حرام کو انجام دينے والے کي
تائيد يا حرام ميں مبتلا ئ ہونے کا سبب نہ بنے۔
س٨٥۔ آيا بيوي کا شوہر کے لئے شوہر کا بيوي کے لئے رقص کرنا حرام ہے؟
ج۔ بيوي کا شوہر کے لئے اور شوہر کا بيوي کے لئے رقص کرنا اگر حرام کا
باعث نہ بنے تو کوئي حرج نہيں۔
س٨٦۔ آيا بيٹوں کي شادي ميں رقص کرنا جائز ہے؟
ج۔ اگر رقص حرام کا مصداق ہو تو جائز نہيں ہے۔ اگرچہ ماں باپ کي طرف سے
اپني اولاد کي شادي ہي ميں کيوں نہ ہو۔
س٨٧۔ ايک شادي شدہ عورت شادي ميں نامحرمردوںکے سامنے شوہر کي اجازت کے
بغير ناچتي ہے اور يہ عمل چند بار انجام دے اور شوہر کا امر بالمعروف و
نہي عن المنکر اس پر اثر نہيں کرتا تواس صورت ميں کيا حکم ہے
ج۔ عورت کا نا محرم کے سامنے رقص کرنا مطلقاً حرام ہے اور عورت کا شوہر
کي اجازت کے بغير گھر سے باہر جانا بھي بذات خود حرام ہے اور نشوز(٨)
(نافرماني) کا سبب ہے جس کے نتيجے ميں عورت نان نفقہ کے حق سے محروم
ہوجاتي ہے۔
س٨٨۔ ديہاتوں کے اندر ہونے والي شاديوں ميں عورتوں کا مردوں کے سامنے
رقص کرنے کا کيا حکم ہے؟ جبکہ اس ميں آلات موسيقي بھي استعمال ہوں ؟
مذکورہ عمل کے مقابلہ ميں ہماري ذمہ داري کيا ہے؟
ج۔ نامحرم کے سامنے رقص کرنا اور ہر وہ رقص جو شہوت کو ابھارے اور فساد
کا سبب بنے حرام ہے اور موسيقي کے آلات کا استعمال اور موسيقي کا سننا
اگر لہوي اور طرب آور ہو تو وہ حرام ہے، ان حالات ميں مکلفين کي ذمہ
داري کہ نہي از منکر کريں۔
س٧٩۔ اچھے برے کي تميز رکھنے والے بچے يا بچي کا زنانہ يا مردانہ محفل
ميں رقص کرنے کا کيا حکم ہے؟
ج۔ غير بالغ بچہ چاہے لڑکي ہو يا لڑکا مکلف نہيں ہے ليکن بالغ افراد کو
انہيں رقص پر نہيں اکسانا چاہئيے۔
س٩٠۔ رقص کي تربيت کے مراکز قائم کرنے کا کيا حکم ہے؟
ج۔ رقص کي تعليم و ترويج کے مراکز قائم کرنا حکومت اسلامي کے اہداف کے
منافي ہے۔
س٩١۔ محرم مردوں کا خواتين کے سامنے اور محرم خواتين کا مردوں کے سامنے
رقص کرنے کا کيا حکم ہے ؟ چاہے محرميت سببي ہو يا نسبي؟
ج۔ وہ رقص جو حرام ہے اس کا مرد اور عورت يا محرم اور نامحرم کے سامنے
انجام دينے ميں کوئي فرق نہيں ہے۔
س٩٢۔ آيا شاديوں ميں ڈنڈے سے فرضي لڑائي دکھانا جائز ہے اور اگر اس کے
ساتھ آلات موسيقي استعمال کئے جائيں تواس کا کيا حکم ہے؟
ج۔ اگر تفريح کھيل کي صورت ميں ہو اور جان کا خطرہ بھي نہ ہو تو کوئي
حرج نہيں ہے۔ ليکن لہوي اور طرب آور طريقے سے آلات موسيقي کا استعمال
بالکل جائز نہيں ہے۔
س٩٣۔ دبکہ کا کيا حکم ہے؟ (دبکہ ايک طرح کا علاقائي رقص ہے جس ميں
افراد ہاتھ ڈال کر اچھل کر جسماني حرکات کے ساتھ مل کر زمين پر پاوں
مارتے ہيں تاکہ ايک منظم آواز پيدا ہو)
ج۔ مذکورہ عمل کا حکم وہي ہے جو رقص کا حکم ہے۔ لہذا اگر شہوت کو
ابھارے اور لہوي طور پر آلات لہو کے استعمال کے ساتھ ہو يا اس سے کوئي
فساد برپا ہو تو وہ حرام ہے وگرنہ کوئي حرج نہيں۔
تالي بجانا
س٩٤۔ ميلاد اور شادي وغيرہ جيسے زنانہ جشن ميں خواتين کے تالياں بجانے
کا کيا حکم ہے ؟ برفرض اگرجائز ہو تو محفل سے باہر نامحرم مردوں کو اگر
تاليوں کي آواز پہنچنے تو اس کا کيا حکم ہے؟
ج۔ مروجہ انداز سے تالي بجانے ميں کوئي حرج نہيں اگرچہ نامحرم تک اواز
پہنچ جائے البتہ کوئي اور مفسدہ اس پر مترتب نہيں ہونا چاہئيے۔
س٩٥۔ معصومين عليہم السلام کے ميلاد يا يوم وحدت و يوم بعثت کے جشنوں
ميں خوشحالي کے طور پر قصيدہ يا رسول اکرم
۰
اور آپ کي آل ٴ پر درود پڑھتے ہوئے تالي بجانے کا کيا حکم ہے؟ اس قسم
کے جشن کا مساجد۔ حکومتي اداروں اور اداروں ميں قائم نماز خانوں اور
امام بارگاہ جيسي عبادت گاہوں ميں برپا کرنے کا کيا حکم ہے۔
ج۔ عام طور پر عيد وغيرہ جيسے جشنوں ميں دادو تحسين کے لئے تالي بجانے
ميں کوئي حرج نہيں ليکن بہتر يہ ہے کہ ديني مجلس کي فضائ درود و تکبير
سے معطر ہو بالخصوص ان محافل ميں جو مسجد ، امام بارگاہوں ، نماز خانوں
وغيرہ ميں انجام پائيں تاکہ تکبير اور درود کا ثواب بھي حاصل کيا
جاسکے۔
فلم اور تصوير
س٩٦۔ بے پردہ نا محرم عورت کي تصوير ديکھنے کا کيا حکم ہے؟ ٹيلي ويژن
ميں عورت کي تصوير ديکھنے کا کيا حکم ہے؟ کيا مسلمان اور غير مسلمان
عورت کي تصوير ميں فرق ہے؟ کيا براہ راست نشر ہونے والي تصوير اور
ريکارڈ شدہ تصوير ديکھنے ميں فرق ہے؟
ج۔ نامحرم کي تصوير کا حکم خود اسے ديکھنے کے حکم جيسا نہيں ہے لہذا
مذکورہ تصوير ديکھنے ميں کوئي حرج نہيں ہے ۔ اگر حصول لذت کے لئے نہ
ہو، گناہ ميں پڑنے کا خوف نہ ہو اور تصوير بھي اس عورت کي نہ ہو جسے
ديکھنے ولاجانتا ہو احتياط واجب يہ ہے کہ نامحرم عورت کي وہ تصوير جو
براہ راست نشر کي جارہي ہو نہ ديکھي جائے ليکن ٹيلي ويژن کے وہ پروگرام
جو ريکارڈ شدہ ہوتے ہيں ان ميں خاتون کي تصوير لذت اور حرام ميں مبتلا
ہوئے بغير ديکھنے ميں کوئي حرج نہيں ہے۔
س٩٧۔ ٹيليويژن کے ايسے پروگرام ديکھنے کا کيا حکم ہے جو سيٹيلائٹ کے
ذريعہ حاصل کئے جاتے ہيں ؟ خليج فارس کے گرد و نواح ميں رہنے والوں کا
خليجي ممالک کے ٹيليويژن ديکھنے کا کيا حکم ہے؟
ج۔ وہ پروگرام جو مغربي ممالک سے سيٹلائٹ کے ذريعہ نشر ہوتے ہيں اور
اسي طرح اکثر ہمسايہ ممالک کے پروگرام گمراہ کن، مسخ شدہ حقائق اور لہو
و فساد پر مشتمل ہوتے ہيں جس کا ديکھنا غالباً، گمراہي ، مفاسد اور
حرام ميں مبتلا ئ ہونے کا سبب ہے لہذا ان کا دريافت کرنا اور مشاہدہ
کرنا جائز نہيں ہے ليکن يہ نشريات قرآني پروگرام پر مشتمل ہو تو اسے
ديکھنے ميں شرعاً کوئي حرج نہيں ہے۔
س٩٨۔ کيا ريڈيو اور ٹيليويژن کے ذريعہ طنز و مزاح کے پروگرام سننے اور
ديکھنے ميں کوئي حرج نہيں ہے؟
ج۔ طنزئيہ اور مزاحيہ پروگرام سننے اور ديکھنے ميں کوئي حرج نہيں ہے
ليکن اسکي شرط يہ ہے کہ اس ميں کسي مومن کي توہين نہ ہو۔ جہاں تک
موسيقي کا تعلق ہے تو وہ اگر لہوي و طرب اور مجالس لہو و لعب و گناہ کے
مشابہ نہ ہو تو اس کا سننا جائز ہے۔
س٩٩۔ شادي کے جشن ميں ميري کچھ تصويريں اتاري گئيں جبکہ ميں پورے پردے
ميں نہيں تھي وہ تصويريں حال حاضر ميں دوستوں اور رشتہ داروں کے پاس
موجود ہيں کيا تمام تصويريں کا واپس لينا ميرے لئے واجب ہے؟
ج۔ اگر دوسروں کے پاس تصاوير موجود ہونے ميں کسي فساد کا خدشہ نہ ہو
اور اگر ہو ليکن آپ کي کوئي مداخلت اور رضايت انہيں تصويريں دينے ميں
نہيں تھي يا تصاوير حاصل کرنے ميں زحمت و مشقت پيش آنے کا خدشہ ہو تو
ان تمام صورتوں ميں آپ پر تصاوير کو حاصل کرنا واجب نہيں ہے۔
س١٠٠۔ حضرت امام خميني (قدس سرہ) اور شہدائ کي تصويروں کو چومنے کا کيا
حکم ہے اس لحاظ سے کہ وہ ہمارے نامحرم ہيں؟
ج۔ بطور کلي نامحرم کي تصوير خود نامحرم کي طرح نہيں ہے۔ لہذا احترام ،
تبرک اور اظہار محبت کے لئے نا محرم کي تصوير کو بوسہ دينا جائز ہے،
ہاں قصد لذت اور حرام ميں مبتلائ ہونے کا خطرہ نہيں ہونا چاہئيے۔
س١٠١۔ کيا سينما کي فلموں وغيرہ ميں برہنہ يا نيم برہنہ عورتوں کي
تصاوير جنہيں ہم نہيں پہچانتے ديکھنا جائز ہے؟
ج۔ تصوير اور فلم ديکھنے کا حکم نامحرم کو ديکھنے کي طرح نہيں ہے لہذا
لذت، شہوت اور خوف فساد کے بغير ہو تو شرعاً اسے ديکھنے ميں کوئي مانع
نہيں ہے ليکن چونکہ شہوت برانگيز برہنہ تصاوير کو ديکھنا عام طور پر
شہوت کے بغير نہيں ہوتا لہذا ارتکاب گناہ کا مقدمہ ہے پس حرام ہے۔
س١٠٢۔ کيا شادي کي تقريبات ميں شوہر کي اجازت کے بغير عورت کے لئے
تصوير اتروانا جائز ہے؟ جواز کي صورت ميں آيا مکمل حجاب کي مراعات کرنا
اس پر واجب ہے؟
ج۔ بذات خود تصوير کھنچوانے کے لئے شوہر کي اجازت ضروري نہيں ہے البتہ
اگر يہ احتمال پايا جاتا ہو کہ عورت کي تصوير کو کوئي نامحرم ديکھنے گا
اور عورت کي طرف سے مکمل حجاب کا خيا ل نہ رکھنا مفسدہ کا باعث بنے گ
اتو اس صورت حجاب کا خيال رکھنا واجب ہے۔
س١٠٣۔ آيا عورت کے لئے مردوں کے کشتي کے مقابلے ديکھنا جائز ہے؟
ج۔ ان مقابلوں کو اگر کشتي کے ميدان ميں حاضر ہو کر ديکھا جائے يا ٹي
وي سے براہ راست نشر ہوتے ہوتے مشاہدہ کيا جائے يا پھر لذت و فساد کي
نگاہ سے ديکھا جائے اور فساد ميں پڑنے کا خطرہ ہو تو جائز نہيں ہے اس
کے علاوہ دوسري صورتوں ميں کوئي حرج نہيں ہے۔
س١٠٤۔ اگر دلہن شادي کي محفل ميں اپنے سر پر شفاف و باريک کپڑا اوڑھے
تو کيا نامحرم مرد اس کي تصوير کھينچ سکتا ہے يا نہيں؟
ج۔ اگر نامحرم عورت کي نظر حرام کا سبب نہ بنے تو جائز ہے وگرنہ جائز
نہيں ہے۔
س١٠٥۔ بے پردہ عورت کا مردوں کے درميان تصوير کھينچنے کا کيا حکم ہے؟
اور اگر احتمال ہو کہ نا محرم انہيں دھونے اور پرنٹ کرتے وقت ديکھے تو
اس کا کيا حکم ہے ؟
ج۔ اگر تصوير کھينچنے والا مصور جو اسے ديکھ رہا ہے اس کے محارم ميں سے
ہو تو جائز ہے اور اگر تصوير دھونے اور پرنٹ کرنے والا مصور اسے نہيں
پہچانتا تو کوئي حرج نہيں ہے۔
س١٠٦۔ بعض جوان فحش تصاوير ديکھتے ہيں اور مذکورہ عمل انجام دينے کے
لئے خود ساختہ توجيہات پيش کرتے ہيں اس کا کيا حکم ہے؟ اور اگر اس طرح
کي تصاوير کا ديکھنا انسان کي شہوت ايک حد تک کو کم کرتا ہو اور جس کي
وجہ سے وہ حرام سے محفوظ رہتا ہو تو اس کا کيا حکم ہے؟
ج۔ اگر تصاوير کا ديکھنا لذت کے لئے ہو يا يہ جانتا ہو کہ تصاوير کا
ديکھنا شہوت کو بھڑکانے کا سبب بنے گا تو حرام ہے اور ايک حرام عمل سے
بچنا دوسرے حرام کے انجام دينے کا جواز مہيا نہيں کرتا۔
س١٠٧۔ ايسے جشن ميں مووي فلم بنانے کے لئے جانے کا کيا حکم ہے جہاں
موسيقي بج رہي ہو اور رقص کيا جارہا ہو؟ مرد کا مردوں کي تصوير اور
عورت کا خواتين کي تصوير کھينچنے کا کيا حکم ہے ؟ مرد کے ذريعے شادي کي
فلم دھونے کا کيا حکم چاہے اس خاندان کا جانتا ہو يا نہ جانتاہو ؟ اور
اگر عورت کے ذريعے فلم دھوئي جائے تو کيا حکم ہے ؟ کيا مذکورہ فلم ميں
موسيقي کا استعمال جائز ہے؟
ج۔ خوشي کے جشن ميں جانے ميں کوئي حرج نہيں ہے اور مرد کا مردوں اور
عورت کا خواتين کي تصوير بنانے ميں بھي کوئي حرج نہيں ہے۔ جب تک غنائ
اور حرام موسيقي سننے کا سبب نہ بنے اور نہ ہي کسي اور حرام فعل کے
ارتکاب کا باعث بنے مردوں کا عورتوں کا مردوں کي تصوير بنانا اگر لذت
آميز نگاہ يا کسي دوسرے مفسدہ کا باعث بنے تو جائز نہيں ہے۔ اور ايسي
موسيقي کا جو لہو و لعب کي محافل جيسي ہوں شادي کي فلموں ميں استعمال
حرام ہے۔
س١٠٨۔ اسلامي جمہوريہ کے ٹيلي ويژن سے نشر ہونے والي ملکي اور غير ملکي
فلموں اور موسيقي کي کيفيت کو ديکھتے ہوئے انہيں ديکھنے اور سننے کا
کيا حکم ہے؟
ج۔ اگر سامعين اور ناظرين کي تشخيص يہ ہے کہ وہ موسيقي جو ريڈيو يا
ٹيليويژن سے نشر ہوتي ہے طرب آور لہوي ہے اور محافل لہو و لعب اور گناہ
سے مناسبت رکھتي ہے اور اس کا سننا حرام ہے اور وہ فلم جو ٹيليويژن سے
دکھائي جارہي ہے اس کے ديکھنے ميں مفسدہ ہے تو ان کے لئے ديکھنا شرعاً
جائز نہيں ہے۔ محض ريڈيو اور ٹيلي ويژن سے نشر ہونا جواز پر شرعي دليل
نہيں ہے۔
س١٠٩۔ حکومتي مراکز ميں آويزاں کرنے کي غرض سے رسول اکرم
۰،
امير المومنين اور امام حسين ٴ سے منسوب تصاوير چھاپنے اور فروخت کرنے
کا کيا حکم ہے؟
ج۔ مذکورہ تصاوير کے چھاپنے ميں بذات خود کوئي مانع نہيں ہے ، ليکن
ايسي کسي چيز پر مشتمل نہيں ہونا چاہئيے جو عرف عام کي نگاہ ميں موجب
ہتک اور اہانت ہو اور ان عظيم ہستيوں کي شان سے منافات رکھتي ہو۔
س١١٠۔ ايسي کتابيں اور اشعار پڑھنے کا کيا حکم ہے جو شہوت کو بھڑکانے
کا سبب بنيں؟
ج۔ ان سے اجتناب کرنا واجب ہے۔
س١١١۔ بعض ٹي وي اسٹيشنز چينلز کے ذريعے براہ راست سلسلہ وار ڈرامے نشر
کئے جاتے ہيں جو مغرب کے معاشرتي مسائل پيش کرتے ہيں ليکن ان ڈراموں
ميں مرد و عورت کا اختلاط پر ابھارنا اور زنا کي ترويج جيسے فاسد بھي
پائے جاتے ہيں يہاں تک کہ يہ ڈرامے بعض مومنين پر بھي اثر انداز ہونے
لگے ہيں ايسے شخص کا کيا حکم ہے جو ان کو ديکھنے کے بعد متاثر ہوئے
بغير نہ رہ سکے اور اگر کوئي اس غرض سے ديکھے کہ دوسروںکے سامنے اس کے
نقصان کو بيان کرے يا اس پر تنقيد کرے اور لوگوں کے نہ ديکھنے کي نصيحت
کرے؟
ج۔ لذت اور شہوت کي نگاہ سے ديکھنا جائز نہيں ہے اور اگر ديکھنے سے
متاثر ہونے اور فاسد ہونے کا خطرہ ہو تو بھي جائز نہيں ہے ہاں تنقيد کي
غرض سے اور لوگون کو اس کے خطرات سے آگاہ کرنے اور نقصانات بتانے کے
لئے ايسے شخص کے لئے ديکھنا جائز ہے جو تنقيد کا اہل ہو اور اپنے بارے
ميں مطمئن ہو کہ ان سے متاثر ہو کر کسي فساد ميں نہيں پڑے گا اور اس کے
لئے کچھ قوانين مقرر ہوں تو ان کي ضرور رعايت کي جائے۔ ليکن خود اس شخص
کو تنقيد کا ماہر اور خود اپنے بارے ميں متاثر ہونے اور فساد ميں مبتلا
ہونے کا خطرہ نہ ہو۔
س١١٢۔ ٹيلي ويژن پراناوسر خاتون جو بے پردہ ہوتي ہے اور اس کا سر و
سينہ بھي عريان ہوتا ہے کي طرف نگاہ کرنا جائز ہے؟
ج۔ اگر حرام ميں پڑنے اور فساد کا خوف نہ ہو اور نشريات براہ راست
Liveنہ
ہوں تو فقط ديکھنے ميں کوئي حرج نہيں ۔
س١١٣۔ شادي شدہ فرد کے لئے شہوت انگيز (سکسي) فلميں ديکھنا جائز ہے يا
نہيں؟
ج۔ اگر ديکھنے کا مقصد شہوت کا ابھارنا ہو يا ان کا ديکھنا شہوت کے
بھڑکانے کا سبب بنے تو جائز نہيں ہے۔
س١١٤۔ شادي شدہ مردوں کا ايسي فلميں ديکھنے کا کيا حکم ہے جن ميں حاملہ
عورت سے مباشرت کرنے کا صحيح طريقہ سکھايا گيا ہے جبکہ اس بات کا علم
بھي ہے کہ مذکورہ عمل اسے حرام ميں مبتلا نہيں کرے گا؟
ج۔ ايسي فلميں چونکہ ہميشہ شہوت انگيز نگاہ سے ديکھي جاتي ہيں لہذا
انکا مشاہدہ جائز نہيں ہے۔
س١١٥۔ مذہبي امور کي وزارت ميں کام کرنے والے فلموں، مجلات اور کيسٹوں
کي نظارت کرتے ہيں تاکہ جائز مواد کو ناجائز مواد سے جدا کريں نظارت کے
لئے انہيں غور سے سننا اور ديکھنا ہوتا ہے اس نظارت کے لئے کيا حکم ہے؟
ج ۔
کنٹرول
کرنے والے افراد کے لئے قانوني فريضہ انجام ديتے ہوئے بقدر ضرورت
ديکھنے اور سننے ميں کوئي حرج نہيں ہے ليکن ان پر لازم ہے کہ لذت و
فساد کي نسبت سے پرہيز کريں نيز جن افراد کو مذکورہ مواد کے کنٹرول پر
تعينات کيا جاتا ہے فکري اور روحاني سے اعليٰ حکام کے زير نظر اور زير
رہنمائي ہونا واجب ہے۔
س١١٦۔ کنٹرول کرنے کے عنوان سے ايسي ويڈيو فلميں ديکھنے کا کيا حکم ہے
جو کبھي کبھي قابل اعتراض مناظر پر مشتمل ہوتي ہيں تاکہ ان مناظر کا
ازالہ کرکے دوسرے افراد کے ديکھنے کے لئے پيش کيا جائے۔
ج۔ فلم کي اصلاح اور اسے فاسد و گمراہ کن مناظر کے حذف کرنے کے لئے
مشاہدہ کرنے ميں کوئي حرج نہيں ہے ليکن اصلاح کرنے والا شخص ايسا ہونا
چاہئيے کہ جو خود حرام ميں مبتلا ہونے سے محفوظ ہو۔
س١١٧۔ آيا شوہر اور بيوي کے لئے گھر ميں جنسي فلميں ديکھنا جائز ہے؟آيا
وہ شخص جس کے حرام مغز کي رگ کٹ گئي ہو وہ مذکورہ فلميں ديکھ سکتا ہے
تاکہ اپني شہوت کو ابھارے اور اس طرح اپني زوجہ کے ساتھ مباشرت کے قابل
ہوسکے؟
ج۔ جنسي ويڈيو کے ذريعہ شہوت ابھارنا جائز نہيں ہے۔
س١١٨۔ حکومت اسلامي کي طرف سے قانوني طور پر ممنوع فلميں ديکھنے کا کيا
حکم ہے اگر ان ميں کسي قسم کا فساد نہ ہو؟ اور جوان مياں بيوي کے لئے
مذکورہ فلميں ديکھنے کا کيا حکم ہے؟
ج۔ ممنوع ہونے کي صورت ميں انہيں ديکھنے کا اشکال ہے۔
س١١٩۔ ايسي فلميں ديکھنے کا کيا حکم ہے جن ميں کبھي کبھي اسلامي
جمہوريہ کے مقدسات يا رہبر محترم کي توہين کي گئي ہو؟
ج۔ ايسي فلموں سے اجتناب واجب ہے۔
س١٢٠۔ ايسي ايراني فلميں ديکھنے کا کيا حکم ہے جو اسلامي انقلاب کے بعد
بنائي گئي ہيں اور ان ميں خواتين کامل حجاب کے ساتھ نہيں ہوتيں اور
کبھي کبھي قابل اعتراض تعليمات پر مبني ہوتي ہيں؟
ج۔ اگر قصد لذت اور حرام ميں مبتلائ ہونے کا خوف نہ ہو تو بذات خود
ايسي فلميں ديکھنے ميں کوئي حرج نہيں ہے، اور دلميں بنانے والوں پر
واجب ہے کہ ايسي فلميں نہ بنائيں جو اسلام کي گرانقدر تعليمات کے منافي
ہيں۔
س١٢١۔ ايسي فلموں کے نشر و اشاعت کا کيا حکم ہے جن کي تائيد مذہبي اور
ثقافتي امور کي وزارت نے کي ہو؟ اور يونيورسٹي ميں ايسي کيسٹوں کے نشر
کرنے کا کيا حکم ہے جن کي تائيد مذکورہ وزارت خانے نے کي ہو؟
ج۔ اگر مذکورہ فلميں اور کيسٹس مکلف کي نظر ميں غنائ لہوي اور طرب آور
موسيقي پر مشتمل ہوں ، جو کہ محافل لہو و لعب اور گناہ سے مطابقت رکھتي
ہے تو ان کا نشر کرنا پيش کرنا، سننا اور مشاہدہ کرنا جائز نہيں ہے،
اور بعض متعلقہ اداروں کا تائيد کرنا مکلف کے لئے شرعي دليل نہيں ہے جب
تک کہ خود اس کي رائے تائيد کرنے والوں کي نظر کے خلاف ہے۔
س١٢٢۔ ايسے مجلات کي خريد و فروخت اور محفوظ رکھنے کا کيا حکم ہے جن
ميں خواتين کے لباس اور نا محرم خواتين کي تصاوير ہوتي ہيں اور جن سے
کپڑوں کے نمونہ يا ڈيزائن کے طور پر استفادہ کيا جاتا ہے؟
ج۔ نا محرم کي تصاوير ہونا خريد و فروخت کو ناجائز قرار نہيں ديتا اور
نہ ہي نمونے اور ڈيزائن کے عنوان سے استفادہ کرنے سے روکتا ہے مگر يہ
کہ مذکورہ تصاوير پر کوئي مفسدہ مترتب ہو۔
س١٢٣۔ کيا ٹيليويژن فلم بنانے والے آلہ ويڈيو کيمرہ کي خريد و فروخت
جائز ہے؟
ج۔ اگر حرام امور ميں استعمال کي غرض سے نہ ہو تو ويڈيو کيميرہ کي خريد
و فروخت بذات خود جائز ہے۔
س١٢٤۔ فحش ويڈيو فلم اور ويڈيو کي فروخت اور کرائے پر دينے کا کيا حکم
ہے؟
ج۔ اگر مذکورہ فلميں برہنہ ، شہوت کو ابھارنے اور گمراہ کن فساد پر
مشتمل ہوں يا غنائ اور طرب آور موسيقي جو کہ محافل لہو و لعب اور گناہ
سے مطابقت رکھتي ہو تو جائز نہيں ہے۔ لہذا ايسي فلموں کا بنانا، خريد و
فروخت ، کرايہ پر دينا اور اسي طرح ويڈيو کا مذکورہ مقصد کے لئے کرائے
پر دينا جائز نہيں ہے۔
س١٢٥۔ غير ملکي ريڈيو سے خبريں اور ثقافتي اور علمي پروگرام سننے کا
کيا حکم ہے؟
ج۔ اگر فساد اور انحراف کا سبب نہ ہو تو کوئي حرج نہيں ہے۔
ڈش (سٹیلائٹ)انٹینا
س١٢٦۔ کيا ڈش کے ذريعے ٹي وي پروگرام ديکھنا ، ڈش خريدنا اور رکھنا
جائز ہے ؟ اور اگر ڈش مفت ميں حاصل ہو تو اس کا کيا حکم ہے؟
ج۔ ڈش، ٹي وي پروگرام ديکھنے کے لئے محض ايک آلہ ہے ٹي وي پروگرام حلال
بھي ہوتے ہيں اور حرام بھي اس کا حکم بھي ديگر مشترک آلات جيسا ہے کہ
جنہيں حرام مقاصد کے لئے بيچنا خريدنا اور اپنے پاس رکھنا حرام ہے جبکہ
حلال مقاصد کے لئے جائز ہے ليکن يہ آلہ جس کے پاس ہو، اس کے لئے حرام
پروگراموں ميں پڑنے کے لئے ميدان فراہم کرديتا ہے اور بعض اوقات اسے
گھر ميں رکھنے پر دوسرے مفاسد بھي مترتب ہوتے ہيں لہذا اس کي خريد و
فروخت اور رکھنا جائز نہيں ہے البتہ اس شخص کے لئے جائز ہے جسے آيتے
اوپر اطمينان ہو کہ اس سے حرام استفادہ نہيں کرے گا اور نہ ہي اسے گھر
ميں رکھنے پر کوئي مفسدہ مترتب ہوگا ۔ اس سلسلہ ميں اگر کوئي قانوني ہو
تو اس کي مراعات کرنا چاہئيے۔
س١٢٧۔ آيا جو شخص اسلامي جمہوريہ سے باہر رہتا ہے اس کے لئے اسلامي
جمہوريہ کے ٹيلي ويژن پروگرام ديکھنے کے لئے سيٹلائيٹ چينلز دريافت
کرنے والا ڈش انٹينا خريدنا جائز ہے؟
ج۔ مذکورہ آلہ اگرچہ مشترک آلات ميں سے ہے اور اس بات کي قابليت رکھتا
ہے کہ اس سے حلال استفادہ کيا جائے ليکن کيونکہ غالباً اس سے حرام
استفادہ کيا جاتا ہے اور اس کے علاوہ اسے گھر ميں رکھنے سے دوسرے مفاسد
بھي پيدا ہوتے ہيں لہذا اس کا خريدنا اور گھر ميں رکھنا جائز نہيں ہاں
اگر کسي کو سو فيصد يقين ہو کہ حرام ميں استعمال نہيں کرے گا اور اس کے
نصب کرنے سے کوئي خرابي حاصل نہيں ہوگي تو اسک ے لئے جائز ہے۔
س١٢٨۔ ايسے ڈش انٹينا کا کيا حکم ہے جو اسلامي جمہوريہ کے چينلز کے
علاوہ بعض خليجي اور عربي ممالک کے مفيد پروگراموں کے ساتھ تمام مغربي
اور فاسدچينلز بھي دريافت کرتا ہے؟
ج۔ مذکورہ آلہ کے ذريعے ٹيليويژن پروگرام کا حصول اور استعمال کا معيار
وہي ہے جو گذشتہ مسئلہ ميں بيان کيا گيا ہے مغربي اور غير مغربي چينل
ميں کوئي فرق نہيں ہے۔
س١٢٩۔ علمي اور قرآني پروگرام وغيرہ سے مطلع ہونے کے لئے جو کہ مغربي
ممالک اور خليج فارس کے نواحي ممالک نشر کرتے ہيں ڈش کے استعمال کا حکم
کيا ہے؟
ج۔ مذکورہ آلے کو علمي ، قرآني وغيرہ پروگراموں کے مشاہدے کے لئے
استعمال کرنا بذات خود صحيح ہے۔ ليکن وہ پروگرام جو سيٹلائٹ کے ذريعہ
مغربي يا اکثر ہمسايہ ممالک نشر کرتے ہيں غالباً گمراہ کن افکار، مسخ
شدہ حقائق اور لہو و فساد پر مبني ہوتے ہيں اور ہوسکتا ہے قرآني ، علمي
پروگرام ديکھنا فساد اور حرام اور مبتلائ ہونے کا سبب بن جائے لہذا ڈش
کے ذريعے ايسے پروگرام ديکھنا شرعاً حرام ہے۔ ہاں اگر پروگرام فقط علمي
اور قرآني ہوں اور ان کے ديکھنے سے کوئي فساد اور حرام عمل لازم نہ آتا
ہو تو جائز ہے البتہ اس سلسلے ميں اگر کوئي قانون ہو تو ا سکي پابندي
ضروري ہے۔
س١٣٠۔ ميرا کام ڈش کي مرمت کرنا ہے اور گذشتہ چند ايام سے ڈش لگانے اور
مرمت کروانے والے لوگوں کا تانتا بندھا ہوا ہے مذکورہ مسئلہ ميں ہماري
ذمہ داري کيا ہے؟ اور ڈش کے خريد و فروخت اور اسپيئر بيچنے کا کيا حکم
ہے؟
ج۔ اگر مذکورہ آلہ سے حرام امور ميں استفادہ کيا جائے جيسا کہ غالباً
ايسا ہي ہے يا آپ جانتے ہيں جو شخص اسے حاصل کرنا چاہتا ہے وہ اسے حرام
ميں استعمال کرے گا تو ايسي صورت ميں اس کا فروخت کرنا، خريدنا ،
باندھنا، چالو کرنا، مرمت کرنا اور اس کے اسپئير پارٹس فروخت کرنا جائز
نہيں ہے۔
تھیٹر اور سنیما
س١٣١۔ کيا فلموں ميں ضرورت کے تحت علمائ دين اور قاضي کے لباس سے
استفادہ کرنا جائز ہے؟ کيا ماضي اور حال کے علمائ پر ديني اور عرفاني
پيرائے ميں فلم بنانا جائز ہے؟ اس شرط کے ساتھ کہ ان کا احترام اور
اسلام کي حرمت بھي محفوظ رہے؟ اور ان کي شان ميں کسي قسم کے بے ادبي
اور بے احترامي بھي نہ ہو ايسي فلميں بنانے کا مقصد يہ ہو کہ ايسي
اعليٰ اقدار کو پيش کيا جائے جو کہ دين حنيف کي علامت ہيں اور عرفان
اور ثقافت کے اس مفہوم کو بيان کيا جائے جو ہماري اسلامي امت کا طرہ
امتياز ہے اور اس طرح سے دشمن کي فحش ثقافت سے مقابلہ کيا جائے اور يہ
تصوير کشي، جاذب اور پر اثر سينما کي زبان ميں ہو جو خصوصاً جوانوں کے
لئے پرکشش ہو؟
ج۔ اس مطلب کو مد نظر رکھتے ہوئے کہ سينما بيداري اور شعور پيدا کرنے
اور تبليغ کا ذريعہ ہے پس ہر اس چيز کي تصوير کشي کرنا يا پيش کرنا جو
نوجوانوں کے فہم و شعور کو بڑھائے اور ثقافت اسلامي کي ترويج کرے ،
جائز ہے۔ انہيں چيزوں ميں سے ايک علمائ دين کي شخصيت ، ان کي وضع ديگر
صاحبان علم و منصب کي شخصيت اور ان کي وضع قطع کا تعارف کرانا ہے۔ ليکن
ان کے کردار کا خيال کرتے ہوئے ان کے احترام کو ملحوظ رکھنا اور لباس
کي حرمت کا پاس رکھنا واجب ہے اور يہ کہ ايسي فلموں سے اسلام کے منافي
مفاہيم کا بيان کرنے کے لئے استفادہ نہ کيا جائے۔
س١٣٢۔ ہم نے ايک ايسي فلم بنانے کا ارادہ ہے جس کي داستان غم انگيز اور
حماسي ہو جو کربلا کے ہميشہ زندہ رہنے والے واقعہ کي تصوير پيش کرتي
ہو، جو اسلام کي ان اعليٰ اقدار و مقاصد کو پيش کرتي ہو جن کي خاطر
امام حسين ٴ شہيد ہوئے ہيں البتہ مذکورہ فلم ميں امام حسين عليہ السلام
کو ايک معمولي اور قابل روئيت کے فرد کے طور پر نہيں دکھايا جائے گا
بلکہ فلم بندي، ترتيب اور نور پردازي کے تمام مراحل ميں ايک نوراني
شخصيت کا منظرہ پيش کيا جائے گا اسي فلم بنانا اور امام حسين عليہ
السلام کو مذکورہ طريقے سے پيش کرنا جائز ہے؟
ج۔ اگر فلم قابل اعتماد تاريخي شواہد کي روشني ميں بنائي جائے اور
موضوع کا تقدس محفوظ رہے۔ اور امام حسين ٴ اور ان کے اصحاب اور اہل بيت
سلام اللہ عليہم اجمعين کا مقام و مرتبہ ملحوظ رہے تو کوئي حرج نہيں
ہے۔ ليکن موضوع کے تقدس کو محفوظ رکھنا جيسا محفوظ رکھنے کا حق ہے اور
اسي طرح امام ٴ اور ان کے اصحاب کي حرمت کو باقي رکھنا بہت مشکل ہے
لہذا اس ميدان ميں بہت زيادہ احتياط کي ضرورت ہے۔
س١٣٣۔ اسٹيج يا فلمي اداکاري کے دوران مردوں کے لئے عورتوں کا لباس اور
عورتوں کے لئے مردوں کے لباس پہننے کا کيا حکم ہے؟ اور عورتوں کا مردوں
کي آواز کي نقل کرنا اور مردوں کا عورتوں کي آواز کي نقل کرنے کا کيا
حکم ہے؟
ج۔ اداکاري کے دوران کسي حقيقي شخص کي خصوصيات بيان کرنے کي غرض سے جنس
مخالف کے لئے ايک دوسرے کا لباس پہننا يا آواز کي تقليد کرنا اگر کسي
فساد کا سبب نہ بنے تو اس کا جائز ہونا بعيد نہيں ہے۔
س١٣٤۔ اسٹيج شو يا ڈراموں ميں خواتين کے لئے ميک اپ کے سامان استعمال
کرنے کا کيا حکم ہے؟ جبکہ انہيں مرد مشاہدہ کرتے ہوں؟
ج۔ اگر ميک اپ کا عمل خود انجام دے يا خواتين کے ذريعے انجام پائے يا
کوئي محرم انجام دے اور اس ميں کوئي فساد نہ ہو تو جائز ہے وگرنہ جائز
نہيں ہے البتہ ميک اپ شدہ چہرہ نا محرم سے چھپانا ضروري ہے۔
مصوري اور مجسمہ سازي
س١٣٥۔ کھلونے ، مجمسے ، تصاوير اور ذي روح موجودات جيسے بناتات،
حيوانات اور انسان کي تصويريں بنانے کا کيا حکم ہے؟ ان کي خريد و فروش
گھر ميں رکھنے يا نمايش کے طور پر رکھنے کا حکم کيا ہے؟
ج۔ بے روح اجسام کي مجسمہ سازي، تصوير ، اور خاکے کے بنانے ميں مطلقاً
کوئي حرج نہيں ہے، اسي طرح ذي روح اجسام کي تصوير اور خاکے بنانے ميں
کوئي حرج نہيں ہے اگر جسم کي صورت ميں نہ ہو يا يہ کہ اگر مجسمہ کي
صورت ميں ہو تو کامل نہ ہو۔ ليکن انسان اور دوسرے حيوانات کا کامل جسم
بنانے ميں اشکال ہے ليکن مذکورہ اشيائ کي خريد و فروخت يا گھر ميں
رکھنے ميں مطلقاً کوئي حرج نہيں ہے نمائش کے طور پر پيش کرنے ميں بھي
کوئي حرج نہيں ہے۔
س١٣٦۔ جديد طريقہ تعليم ميں خود اعتمادي کے عنوان سے ايک درس شامل ہے
جس کا ايک حصہ مجسمہ سازي پر مشتمل ہے بعض اساتيد طالب علموں کو کھلونے
بنانے يا کپڑے يا کسي اورچيز کے ذريعے کتے، خرگوش وغيرہ کا مجسمہ بنانے
حکم ديتے ہيں اور اس کا عنوان دستي مصنوعات رکھا جاتا ہے۔ مذکورہ اشيائ
کے بنانے کا کيا حکم ہے؟ استاد کا حکم صحيح ہے؟ کيا مذکورہ اشيائ کے
مکمل اجزائ اور نامکمل اجزائ ہونے ميں کوئي فرق ہے؟
ج۔ اگر عرف عام کي نظر ميں حيوان کا مجسمہ مکمل اجزائ کا نہ ہو يا طالب
علم بالغ نہ ہو اور شرعي طور پر مکلف ہونے کي عمر ميں نہ ہو تو کوئي
حرج نہيں ہے۔
س١٣٧۔ بچوں اور نوجوانوں کا قرآني قصوں کے خاکے بنانے کا کيا حکم ہے؟
مثلاً بچوں سے يہ کہا جائے کہ مثال کے طور پر اصحاب فيل يا حضرت موسيٰ
کے لئے دريا کے پھٹنے کے واقعہ کي تصوير بنائيں؟
ج۔ بذات خود اس کام ميں کوئي حرج نہيں ہے ليکن حقيقت اور واقعيت پر
مبني ہونا چاہے، غير واقعي اور ہتک آميز نہيں ہونا چاہئيے۔
س١٣٨۔ کيا مخصوص مشين کے ذريعے کھلونا يا انسان وغيرہ جسے ذي روح
موجودات کا مجسمہ بنانا جائز ہے يا نہيں؟
ج۔ اگر بنانے کے عمل کو خود انسان کي طرف نسبت نہ دي جائے تو مشين سے
بنانے ميں کوئي حرج نہيں ہے ورنہ اس ميں اشکال ہے۔
س١٣٩۔ مجسمے کي طرز کازيور بنانے کا کيا حکم ہے؟ کيا مجسمہ سازي کے لئے
استعمال شدہ مواد بھي حرام ہونے ميں موثر ہے۔
ج۔ ذي روح موجودات کا مجسمہ اگر کامل بنايا جائے اور وہ بھي ايک فرد
بنائے تو اس ميں اشکال ہے اس لحاظ سے اس مواد ميں کوئي فرق نہيں ہے جس
سے مجسمہ بنايا جاتا ہے نيز زينت کے طور پر يا کسي اور مقصد کے لئے
استعمال ہونے ميں بھي فرق نہيں ہے۔
س١٤٠۔ آيا کھلونوں کے اعضائ مثلاً ہاتھ پاوں يا سر دوبارہ جوڑنا مجسمہ
سازي کے زمرے ميں آتا ہے ؟ کيا اس پر بھي مجسمہ سازي کا عنوان صدق کرتا
ہے؟
ج۔ مذکورہ اعضائ بنانا يا انہيں دوبارہ جوڑنا، مجسمہ سازي نہيں کہلاتا
لہذا جائز ہے۔ ہاں مذکورہ اعضائ کو ترکيب کرنے سے ذي روح حيوان مثلاً
انسان کي تکميل ہوجائے تو اسے مجسمہ سازي کا شرعاً حرام عمل قرار ديا
جاتا ہے۔
س١٤١۔ جلد کے نيچے خال (Tatoo)جو
کہ بعض لوگوں کے ہاں رائج ہے يعني انساني جسم کے بعض اعضائ پر اس طرح
مختلف تصاوير بنائي جاتي ہيں کہ وہ محو نہيں ہوتيں، مذکورہ کا کيا حکم
ہے؟ اور کيا يہ ايسي رکاوٹ ہے کہ جس کي وجہ سے وضو يا غسل نہيں ہوسکتا۔
ج۔ جلد کے نيچے خال بنانا حرام نہيں ہے اور وہ اثر جو جلد کے نيچے باقي
ہے وہ پاني کے پہنچنے سے مانع نہيں ہے لہذا غسل اور وضو صحيح ہے۔
س١٤٢۔ ايک شوہر اور بيوي معروف تصوير بنانے والوں ميں سے ہيں ۔ ان کا
کام تصاوير کي مرمت کرنا ہے۔ ان ميں سے بہت سي تصاوير عيسائي معاشرے کي
نشاندہي کرتے ہيں۔ بعض پر صليب منقوش ہے يا حضرت مريم ٴ يا حضرت عيسيٰ
ٴ کي تصوير ہے مذکورہ اشيائ کو اجاگر والے يا مختلف کمپنياں ان کے پاس
لے کر آتي ہيں تاکہ ان کي مرمت کي جائے جبکہ ان ميںسے بعض اجزائ پرانے
ہونے يا کسي اور وجہ سے ضايع ہوگئے ہوتے ہيں۔ آيا ان کے لئے مذکورہ
تصاوير کي مرمت کرنا اور اس عمل کے عوض اجرت لينا صحيح ہے؟ اکثر تصاوير
اسي طرح کي ہوتي ہيں اور ان کا يہي واحد پيشہ ہے جس سے وہ اپني زندگي
گزارتے ہيں جبکہ وہ دونوں اسلامي تعليمات کے پابند ہيں آيا مذکورہ
تصاوير کي مرمت اور اس کام کے بدلے اجرت لينا ان کے لئے جائز ہے؟
ج۔ محض کسي فن پارے کي تعمير اور مرمت کرنا اگرچہ عيسائي معاشرے کي
نشاندہي کرتے ہوں يا حضرت عيسيٰ عليہ السلام و حضر ت مريم عليہا السلام
کي تصاوير پر مشتمل ہوں جائز ہے اور مذکورہ عمل کے عوض اجرت لينا بھي
صحيح ہے اور اس قسم کے عمل کو پيشہ بنانے ميں بھي کوئي حرج نہيں ہے مگر
يہ کہ باطل کي ترويج يا کسي اور برائي کا سبب بنے تو جائز نہيں ہے۔
جادو ، شعبدہ بازي ، روح اور جن کا حاضر کرنا
س١٤٣۔ شعبدہ بازي سيکھنا اور مشاہدہ کرنے کا کيا حکم ہے اور ايسے کھيل
سيکھنا جو کہ ہاتھ کي صفائي سے تعلق رکھتے ہيں ان کا کيا حکم ہے؟
ج۔ شعبدہ کي تعليم و تعلم حرام ہے ليکن وہ کرتب جو کہ ہاتھ کي تيزي اور
چال بازي پر مبني ہيں اور شعبدہ کي اقسام ميں سے نہيں ہيں جائز ہے۔
س١٤٤۔ آيا علم جفر، رمل ، اور ازياج وغيرہ جيسے علوم جو کہ غيب کي خبر
ديتے ہيں کا سيکھنا جائز ہے؟
ج۔ مذکورہ علوم جو کہ آج کل لوگوں کے پاس ہيں اس حد تک کہ امور غيبي کے
کشف اور خبر دينے کے بارے ميں غالب اوقات اطمينان کا موجب ہوں قابل
اعتماد نہيں ہيں ہاں صحيح طريقے سے علم جعفر، و رمل سيکھنے ميں کوئي
حرج نہيں ہے اگر اس کے سيکھنے ميں کوئي مفسدہ نہ ہو۔
س١٤٥۔ کيا جادو کا سيکھنا اور جادو کرنا جائز ہے ؟ اسي طرح روح، ملائکہ
اور جن کو حاضر کرنا جائز ہے؟
ج۔ جادو کا علم شرعاً حرام ہے اور اسي طرح اس کا سيکھنا بھي مگر يہ کہ
کسي شرعي عقلائي غرض کے لئے ہو تو جائز ہے۔ ليکن روح، ملائکہ ، جن کا
احضار کرنا اگر صحيح او رممکن مان بھي ليا جائے تواس کے مواقع، وسائل
اور مقاصد کے اعتبار سے حکم مختلف ہوگا۔
س١٤٦۔ مومنين کا بعض ايسے لوگوں کي طرف علاج کي غرض سے رجوع کرنا جو
تسخير ارواح اور جن کے ذريعہ علاج کرتے ہيں کيا حکم رکھتا ہے جبکہ
انہيں يقين ہے کہ وہ فقط عمل خير انجام ديتے ہيں؟
ج۔ مذکورہ کام ميں بذات خود کوئي حرج نہيں ہے البتہ اس کي شرط يہ ہے کہ
يہ کام جائز اور شرعي طريقوں سے انجام دياجائے۔
س١٤٧۔ آيا کنکريوں کے ذريعے فال نکالنا جائز ہے اور آيا شرعاً اس کے
ذريعے کسب معاش جائز ہے؟
ج۔ جھوٹي خبر دينا جائز نہيں ہے۔
ہيپناٹزم کے ذريعے سلانا
س ١٤٨۔ آيا ہيپناٹزم (Hypnotism)کے
ذريعے سلانا جائز ہے؟
ج۔ اگر عقلائي غرض کے لئے اور سونے والے کي رضايت سے ہو اور اس کے
ہمراہ کوئي حرام کام انجام نہ پائے تو جائز ہے۔
س١٤٩۔ بعض لوگ ہيپناٹزم کے ذريعے دوسروں کو سلاتے ہيں اور اس عمل کو
علاج نہيں بلکہ انسان کي روحاني طاقت کے اظہار کے لئے انجام ديتے ہيں ،
کيا مذکورہ عمل جائز ہے؟ کيا مذکورہ عمل کو ماہرين کے علاوہ دوسرے لوگ
بھي انجام دے سکتے ہيں؟
ج۔ بطور کلي مذکورہ ہيپناٹزم کے ذريعہ سلانے کي تعليم حاصل کرنا جائز
ہے اور حلال ، بامقصد ، قبل اعتنائ غرض کے لئے ہو تو کوئي حرج نہيں ہے
ليکن اس شرط کے ساتھ کہ جسے سلانا چاہتا ہے وہ راضي ہو اور اسے کوئي
نقصان بھي نہ ہورہا ہو۔
لاٹري
س١٥٠۔لاٹري کے ٹکٹ خريدنے اور فروخت کرنے کا کيا حکم ہے اور مکلف کے
لئے اس سے حاصل شدہ انعام کا کيا حکم ہے؟
ج۔ لاٹري کے ٹکٹ خريدنا اور فروخت کرنا جائز نہيں ہے جيتنے والا شخص
انعام کا مالک نہيں بنتا اور اسے مذکورہ مال کے لينے کا کوئي حق نہيں
ہے۔
س١٥١۔ بعض اوقات مومن کو لاٹري کے ٹکٹ بغير مال دئيے مل جاتے ہيں مثلاً
روڈ سے پڑا ملا ہو، کسي شخص نے مفت ديا ہو ، يا کسي گھر بنانے والي
کمپني نے ارسال کيا ہو اور مذکورہ کمپني کا ہدف يہ ہو کہ اس طرح ٹکٹ
ارسال کرکے زيادہ سے زيادہ کرايہ داروں کي توجہ کو جذب کرے۔ کيا ممالک
کفر ميں بعض اداروں، اشخاص اور لاٹري والے سے يا روڈ پر پڑے ہوئے
مذکورہ ٹکٹ کا لينا جائز ہے ؟ اور اگر مذکورہ گھر بنانے والي کمپني کا
لاٹري کے ٹکٹ فروخت کرنے کے علاوہ کوئي اور ذريعہ آمدني نہ ہو تو کيا
حکم ہے؟ اور اگر مذکورہ کمپني کے ذرائع آمدني کے بارے ميں شک ہو تو کيا
انعام لينا صحيح ہے ؟ اور برفرض حرمت، اگر مومن نے اس گمان سے انعام لے
ليا ہو کہ يہ جائز ہے اور اس نے ٹکٹ خريدا بھي نہ ہو تو مذکورہ مال کو
کس طرح پاک کيا جاسکتا ہے؟
ج۔ لاٹري کے ٹکٹ کو فقط لے لينے ميں کوئي حرج نہيں ہے ليکن وہ مال جو
انعام کے عنوان سے ديا جاتا ہے لينا صحيح نہيں ہے۔ اب چاہے وہ ٹکٹ روڈ
سے پڑا ملا ہو ، يا کسي سے مفت ملا ہو يا خود خريداہو۔ ہاں اگر اس بات
کا يقين ہوجائے کہ ٹکٹ تقسيم کرنے والا انہيں اپنے حلال مال سے مفت
تقسيم کررہا ہے اور اس کي غرض يہ ہے کہ جس شخص کا نام قرعہ ميں نکل آئے
گا تو اسے تحفہ ديا جائے گا توجائز ہے۔
س١٥٢۔ ايک شخص کے پاس گاڑي ہے جسے وہ لاٹري کي نمايش ميں رکھتا ہے،
مقابلے ميں شرکت کرنے والے افراد ايک خاص ٹکٹ خريدتے ہيں اور ايک مقررہ
تاريخ ميں ايک معين قيمت کے تحت ان کي قرعہ اندازي ہوگي معينہ مدت کے
بعد جب مطلوبہ تعداد لوگوں کي فراہم ہوجائے تو قرعہ اندازي کي جاتي ہے
جس شخص کے نام قرعہ نکلتا ہے وہ اس قيمتي گاڑي کا مالک بن جاتا ہے تو
کيا قرعہ اندازي کے ذريعے مذکورہ طريقے سے گاڑي بيچنا شرعاً جائز ہے؟
ج۔ قرعہ اندازي کے ذريعہ کار فروخت کرنا اس صورت ميں جائز ہے کہ جب
خريد و فروخت قرعہ اندازي کے بعد انجام پائے ليکن فروخت کرنے والے کا
دوسروں کے مال کو لے لينا جنہوں نے قرعہ اندازي ميں شرکت کي خاطر مال
ديا تھا باطل ہے اور اس پر واجب ہے کہ ان کے مال کو واپس کرے۔
س١٥٣۔ کيا عام لوگوں سے فلاحي امور کے لئے ٹکٹ فروخت کرکے چندہ جمع
کرنا اور بعد ميں حاصل شدہ مال ميں سے ايک مقدار کو قرعہ اندازي کے
ذريعے جيتنے والوں کو تحفہ کے طور پر پيش کرنا جائز ہے؟ جبکہ مال کو
فلاحي امور کے اوپر خرچ کيا جاتاہے؟
ج۔ مذکورہ عمل کو بيع کہنا صحيح نہيں ہے ہاں مقاومت اسلاميہ اور امور
خيريہ کي مدد کے چندے کے لئے ٹکٹ جاري کرنا صحيح ہے۔ اور قرعہ اندازي
کے ذريعے لوگوں کو انعام دينے کے وعدے کے ذريعہ چندہ دينے پر ابھارنا
بھي جائز ہے۔
س١٥٤۔ کيا لاٹري کے ٹکٹ خريدنا جائز ہے؟ جبکہ مذکورہ ٹکٹ ايک خاص کمپني
کي ملکيت ہيں اور ان ٹکٹوں کا 20%فائدہ عورتوں کے فلاحي ادارہ کو ديا
جاتا ہے؟
ج۔ لاٹري کے ٹکٹوں کي کوئي قيمت نہيں ہے بلکہ بيچنے والوں کے پاس
خريداروں سے مال ہتھيانے کا ايک ذريعہ ہے جيسا کہ خريدار کے نزديک بھي
انعام حاصل کرنے کا ذريعہ ہے لہذا يہ ٹکٹ آلہ قمار ہيں بلکہ حقيقتاً
جوا ہے ان کي خريد و فروخت اوران کے ذريعے سے انعام لينا جائز نہيں ہے۔
س١٥٥۔ وہ ٹکٹ جو ( ارمغان ، بہزيستي) ويلفير پيکج کے نام سے نشر کئے
جاتے ہيں ان کي بابت پيسے دينا اور ان کي قرعہ اندازي ميں شرکت کا کيا
حکم ہے؟
ج۔ لوگوں سے امور خيريہ کے لئے ہدايا جمع کرنے اور اہل خير حضرات کي
ترغيب کي خاطر ٹکٹ چھاپنے ميں کوئي شرعي ممانعت نہيں ہے اسي طرح مذکورہ
ٹکٹ امور خيريہ ميں شرکت کي نيت سے خريدنے ميں بھي کوئي مانع نہيں ہے۔
رشوت
س١٥٦۔ بينک سے سروکار رکھنے والے بعض لوگ بينک کے عملہ کو مال کي کچھ
مقدار پيش کرتے ہيں تاکہ بنک کا عملہ ان کا کام جلدي اور اچھي طرح
انجام دے اور يہ بات بھي معلوم ہے کہ اگر عملہ مذکورہ عمل انجام نہ دے
تو اسے کچھ بھي نہيں ديا جائے گا مذکورہ صورت ميں عملے کے مال لينے کا
کيا حکم ہے؟
ج۔ بينک کے عملے کو اس کام کے بدلے ميں کچھ نہيں لينا چاہئيے جس کے لئے
اسے ملازم رکھا گيا ہے اور اس کے عوض وہ تنخواہ ليتا ہے۔ اسي طرح بينک
معاملات انجام دينے والے شخص کا عملہ کو لالچ دينا اور مال وغيرہ دينا
تاکہ ان کا کام انجام پاسکے صحيح نہيں ہے کيونکہ يہ عمل فساد کا سبب
ہے۔
س١٥٧۔ اگر کوئي شخص قدر داري اور شکريہ کے طور پر کسي حکومتي کارندے کو
کوئي چيز ہديہ دے تو اس کا حکم کيا ہے؟ اگرچہ متعلقہ کارندہ کسي توقع
کے بغير کام انجام ديتا ہو؟
ج۔ دفتري ماحول ميں کام نکلوانے کے لئے آنے والوں کسي قسم کا ہديہ لينا
نہايت خطرناک کام ہے جتنا ہوسکے اس سے اجتناب کريں يہ آپ کي دنيا اور
آخرت کے لئے بہتر ہے۔ ہديہ لينا فقط ايک صورت ميں جائز ہے کہ جب دينے
والا اصرار کرے اور لينے والا انکار کررہا ہو ليکن دينے والا آخر کار
کسي طرح سے اسے ہديہ عطا کردے البتہ وہ بھي کام نبٹنا دينے کے بعد کسي
سابقہ مذاکرات اور توقع کے بغير۔
س١٥٨۔ بينک سے سروکار رکھنے والے لوگ بينک کے عملے کو رواج کے مطابق
عيد کے تحفہ کے عنوان سے مال ديتے ہيں۔ اور انہيں يہ بھي معلوم ہے کہ
اگر مذکورہ تحفہ نہ ديا جائے تو عملہ اس کے کام کو مطلوبہ طريقے سے
انجام نہيں دے گا، ايسي صورت ميں کيا حکم ہے؟
ج۔ اگر مذکورہ تحفہ بينک کي خدمات حاصل کرنے والے افراد کے درميان عملے
کي جانب سے تفريق کا سبب بنتا ہے اور اس کا نتيجہ فساد اور دوسروں کے
حقوق کے ضايع ہونے کا سبب ہے تو عملہ کو ہديہ دينا جائز نہيں ہے اور
عملہ کے لئے بھي ہديہ لينا جائز نہيں ہے۔
س١٥٩۔ ان تحائف ، پيسوں اور کھانے پينے کي چيزوں کا کيا حکم ہے جنہيں
دفاتر سے رجوع کرنے والے افراد حکومت کے کارندوں کو اپني رضا اور خوشي
سے ديتے ہيں ؟ اور اس مال کا کيا حکم ہے جو عملہ کو رشوت کے طور پر ديا
جاتا ہے چاہے دينے والے کو کسي عمل کي توقع ہو يا نہ ہو؟ اور اگر افسر
نے رشوت کے لالچ ميں کوئي عمل انجام ديا تو اس کا کيا حکم ہے؟
ج۔ محترم عملے کے لئے واجب ہے کہ ان کا رابطہ تمام افراد کے ساتھ قانون
اور دفاتر کے مقرر شدہ ضوابط کے مطابق ہونا چاہئيے اور انہيں کام کے
لئے رجوع کرنے والے افراد سے کسي قسم کا کوئي تحفہ قبول نہيں کرنا
چاہيے ۔ چاہے اس کا کوئي بھي عنوان ہو اس لئے کہ مذکورہ عمل ان کے بارے
ميں سوئ ظن فساد اور لالچي افراد کے لئے دوسروں کے حقوق کو پامال کرنے
اور قانون شکني کا سبب بنتا ہے، اور جہاں تک رشوت کا تعلق ہے تو يقيناً
لينے والے اور دينے والے دونوں پر حرام ہے، رشوت لينے والے پر واجب ہے
کہ اسے واپس کرے اور اس کا استعمال کرنا جائز نہيں ہے۔
س١٦٠۔ کبھي کبھار ديکھا جاتا ہے کہ بعض افراد دفتروں ميں آنے والوں سے
رشوت کا تقاضا کرتے ہيں تاکہ ان کا کام انجام ديں آيا مذکورہ افراد کے
لئے رشوت دينا جائز ہے؟
ج۔ دفاتر ميں آنے والے افراد کے لئے عملے کے کسي فرد کو غير قانوني طور
پر مال يا کوئي اور خدمات وغيرہ پيش کرنا جائز نہيں ہے۔ جس طرح عملہ کے
افراد پر واجب ہے کہ وہ لوگوں کے کام کو طلب مال کے بغير اور قانوني
طريقے سے مال لئے بغير انجام ديں، عملے کے لئے مذکورہ مال کو استعمال
کرنا جائز نہيں ہے بلکہ اس کا واپس کرنا واجب ہے۔
س١٦١۔ حصول حق کے لئے رشوت دينے کا کيا حکم ہے؟ اور يہ بھي معلوم ہے کہ
مذکورہ عمل کبھي کبھي دوسروں کے لئے رکاوٹ کا سبب بن جاتا ہے جيسے
مذکورہ صاحب حق کو دوسرے پر مقدم کرنا؟
ج۔اگر حق ثابت کرنا رشوت پر موقوف نہيں ہے تو رشوت دينا جائز نہيں ہے،
اگرچہ دوسروں کے امور ميں رکاوٹ کا سبب نہ بنے اور اگر دوسروں کے امور
ميں بغير استحقاق کے رکاوٹ ہو تو بدرجہ اوليٰ جائز نہيں ہے۔
س١٦٢۔ اگر کوئي شخص اپنے جائز کام کو انجام دلوانے کے لئے مال دينے پر
مجبور ہو تاکہ متعلقہ دفتر کے افراد اس کا شرعي اور قانوني کام آساني
سے انجام ديں اور وہ يہ بھي جانتا ہے کہ اگر ا سنے رقم ادا نہ کي تو اس
کا کام انجام نہيں پائے گا تو کيا مذکورہ عمل رشوت کا مصداق ہے؟ کيا يہ
عمل حرام ہے؟ کيا مجبوري عنوان کو بدل ديتي ہے؟ يہاں تک مذکورہ عمل
حرام نہيں رہتا۔
ج۔ دفتر کے عملے کو کہ جس کا کام دفتري خدمات انجام دينا ہے کام کے لئے
دفاتر ميں آنے والے شخص کي طرف سے کسي بھي قسم کا مال يا کوئي اور چيز
دينا شرعي اعتبار سے حرام ہے کيونکہ اس کا لازمي نتيجہ دفتري نظام کا
فاسد ہوجانا ہے۔ مجبوري کا گمان اسے جائز قرار نہيں ديتا۔
س ١٦٣۔ کسي حکومتي يا نجي ادارے کا ملازم جس کا کام متعلقہ ادارے کے
لئے سامان خريدنا ہے مختلف خريداري کے مقامات ہونے کے باوجود وہ اپنے
کسي جاننے والے شخص سے اس شرط پر مال خريدتا ہے کہ حاصلہ منافع کے کچھ
فيصد ميں وہ بھي شريک ہوگا تو اس صورت ميں:
١۔ مذکورہ مسئلہ کا شرعي حکم کيا ہے؟
٢۔ متعلقہ ادارے کے مافوق سرپرست يا انچارج کي طرف سے مذکورہ کام کي
اجازت ہونے کي صورت ميں اس کا شرعي حکم کيا ہے؟
٣۔ بازار کي معينہ اور رائج قيمت سے زيادہ قيمت طے کرکے معاملہ انجام
دينے کا کيا حکم ہے؟
٤۔ بعض دوکاندار مختلف اداروں کے نمايندوں کو اصل قيمت ميں درج کئے
بغير کچھ مال ديتے ہيں بيچنے والے اور خريدنے والے نمايندے کے لئے اس
کا شرعي حکم کيا ہے؟
٥۔ اگر مذکورہ فرد متعلقہ ادارے کي ذمہ داري کے ساتھ ساتھ کسي کمپني کے
لئے مارکٹنگ کا نمايندہ بھي ہو اپنے ادارے ميں مذکورہ کمپني کے لئے
مارکيٹنگ کرے تو آيا اس صورت ميں حاصلہ منافع کا کچھ فيصد مذکورہ کمپني
سے اپنے لئے حاصل کرسکتا ہے؟
٦۔ اگر کوئي شخص مذکورہ طريقوں سے کچھ مال حاصل کرلے تو اس مال کے
متعلق اس کا شرعي وظيفہ کيا بنتا ہے؟
ج۔ ١۔ اس کي کوئي شرعي حيثيت نہيں ہے اور باطل ہے۔
٢۔ ادارے کے مافوق سر پرست يا افسر بالا کي اجازت کي چونکہ کوئي شرعي
اور قانوني حيثيت نہيں ہے اس وجہ اس کا کوئي اعتبار نہيں ہے۔
٣۔ اگر بازار کي عادلانہ قيمت سے زيادہ ہو يا اس سے کم قيمت پر بھي
متعلق شئے خريدي جاسکتي ہے تو اس صورت ميں مذکورہ معاملہ درست نہيں
ہوگا۔
٤۔ جائز نہيں ہے اور جو کچھ بھي اس بارے ميں نمايندہ نے دريافت يا وصول
کيا ہے اسے متعلقہ ادارے کو لوٹا دے جس کي طرف سے خريداري کا نمايندہ
تھا۔
٥۔ کچھ فيصد لينے کا سرے سے اسے کوئي حق نہيں ہے جو بھي وصول کرے اسے
متعلق ادارے تو لوٹا دے اور جو معاملہ کيا ہے وہ مذکورہ ادارے کي مصلحت
کے مطابق نہ ہو تو بنياد سے ہي باطل ہے۔
٦۔ غير شرعي اور غير قانوني طور پر وصول شدہ مال اس ادارے کو لوٹا دے
جس کي طرف سے خريداري کے لئے نمايندہ مقرر ہوا تھا۔
س١٦٤۔ سمگلر لوگ عملے کے افراد کو مال کي پيش کش کرتے ہيں تاکہ قانون
کي خلاف ورزي سے چشم پوشي کي جائے اور اگر عملے کا فرد ان کي پيش کش کو
قبول نہ کرے تو اسے قتل کي دھمکي دي جاتي ہے ايسي صورت حال ميں عملے کے
افراد کا فريضہ کيا بنتا ہے؟
ج۔ سمگلر لوگوں سے چشم پوشي کے عوض کسي قسم کا مال لينا جائز نہيں ہے۔
س١٦٥۔ ٹيکس کے انچارج نے حساب کرنے والے کو حکم ديا کہ ايک کمپني کي
ٹيکس ميں کچھ تخفيف کرے اس صورت حال ميں اس شخص کو اپنے انچارج کي
اطاعت کرنا چاہئيے ؟ اور يہ بھي معلوم ہے کہ اگر اس نے ايسا نہ کيا تو
اسے مشکلات اٹھانا پڑيں گي۔ کيا اس کے لئے حکم کي تعميل کے عوض، کچھ
مال لينے کا حق ہے؟
ج۔ اس قسم کے موقعوں پر قوانين اور ضوابط کے مطابق عمل ہونا چاہئيے
قانون کي مخالفت کسي صورت ميں جائز نہيں ہے خواہ مفت ميں ہو يا کسي مال
کے بدلے ميں ۔
خريد و فروخت کا نمائندہ
س١٦٦۔ بعض دکان دار اپني چيزيں فروخت کرنے کے لئے خريدنے والي کمپني يا
اداروں کے نمائندوں کو اشيائ کي اصل قيمت پر اضافہ کئے بغير فقط روابط
بڑھانے کے لئے کچھ مال ديتے ہيں دکان دار اور خريدنے والے نمائندہ کے
لئے مذکورہ مال کے بارے ميں کيا حکم ہے؟ کيا اس فروخت کرنے والے کے لئے
يہ مال دينا جائز ہے؟ اور خريداري کے وکيل کے لئے اس مال کا لينا کيا
حکم ہے؟
ج۔ فروخت کرنے والے کے لئے جائز نہيں ہے کہ وہ مال دے اور وکيل کے لئے
مال لينا جائز نہيں ہے۔ وہ تمام مال جو وکيل ليتا ہے اسے دفتر يا کمپني
کو جس کي طرف سے خريداري کے لئے وکيل تھا۔ دينا واجب ہے۔
س١٦٧۔ حکومتي يا پرائيويٹ کمپني کي طرف سے معين شدہ نمائندہ جو کمپني
کي طرف سے ضروري اشيائ کي خريداري کے لئے نمائندہ ہے آيا اس کے لئے
جائز ہے کہ وہ بيچنے والے سے خريدي ہوئي اشيائ کے منافع پر کچھ في صد
لينے کي شرط کرے ؟ اور کيا مذکورہ منافع لينا جائز ہے؟ اور اگر اس کے
انچارج سے مذکورہ عمل انجام دينے کي اجازت ہو تو کيا حکم ہے؟
ج۔ مذکورہ شرط کا اسے حق نہيں ہے اور ايسي شرط رکھنا صحيح بھي نہيں ہے۔
لہذا اس کے لئے اپنے لئے مقررہ في صد لينا جائز نہيں ہے ما فوق انچارج
بھي اجازت دينے کا مجاز نہيں ہے اور اس کے اذن اور اجازت کي کوئي حيثيت
نہيں ہے۔
س١٦٨۔ کمپني يا دفتر کي طرف سے مقرر شدہ خريداري کا نمائندہ اگر کسي
شئے کو بازار کي معين قيمت سے زيادہ قيمت پر خريدے تاکہ فروخت کرنے
والا اس کي مالي معاونت کرے تو کيا مذکورہ عمل صحيح ہے؟ اور اس کا
بيچنے والے سے رقم لينا صحيح ہے؟
ج۔ اگر اشيائ کو بازار کي عادلانہ قيمت سے زيادہ قيمت پر خريدلے جبکہ
وہ مذکورہ اشيائ کو کم قيمت پر خريد سکتا تھا تو مذکورہ معاملہ جو کہ
زيادہ قيمت پر کيا گيا ہے اضافي قيمت کي نسبت سے فضولي(مالک کي اجازت
کے بغير معاملہ کرنا) معاملہ ہے اور قانون کے مطابق موکل کي قانوني
اجازت پر موقوف ہے بہرحال اس کے لئے فروخت کرنے والے سے کوئي چيز لينا
اپنے لئے جائز نہيں ہے۔
س١٦٩۔ اگر کوئي شخص کسي ادارے يا کمپني کي طرف سے ضروري اشيائ کي
خريداري کا نمائندہ ہو اور وہ مختلف اداروں سے رفت وآمد اور آشنائي کي
وجہ سے شرط رکھے کہ اگر ميں تم سے اشيائ خريدتا ہوں تو منافع ميں سے
کچھ فيصد کا شريک قرار پاوں گا۔
١۔ اس شرط کا شرعي حکم کيا ہے؟
٢۔ اس بارے ميں ادارے کے رئيس يا مسؤل کي جانب سے اجازت نامہ ہونے کي
صورت ميں اس کا شرعي حکم کيا ہے؟
٣۔ اگر مذکورہ شئے کي قيمت جو نمائندے کي جانب سے ادارے يا کمپني کو
بتائي گئي ہے بازار کي نسبت زيادہ ہو ليکن اسي کو طے کرليا جائے تو کيا
حکم ہے؟
٤۔ بعض فروخت کرنے والے ، اداروں کي جانب سے خريداري کے نمائندے کو
رسيد ميں درج رقم سے ہٹ کر کچھ حصہ رقم ديتے ہيں ايسے ميں فروخت کرنے
والے اور نمائندے کا کيا حکم ہے؟
٥۔ اگر مذکورہ شخص کمپني کي نمائندگي کے علاوہ ايک دوسري کمپني کي طرف
سے فروخت کرنے کا نمائندہ ہو اگر وہ اپني کمپني کے لئے مذکورہ کمپني کي
مصنوعات خريدے تو اس صورت ميں کيا وہ منافع ميں سے کچھ في صد لے سکتا
ہے؟
٦۔ اگر کوئي شخص مذکورہ طريقوں سے نفع حاصل کرتا ہے تو اس نفع کي نسبت
اس فرد کي شرعي ذمہ داري کيا ہے؟
ج۔ ١۔ شرعي کوئي صورت نہيں اور باطل ہے۔
٢۔ ادارے کے مسؤل يا افسر بالا کي جانب سے اجازت، شرعي و قانوني کوئي
وجہ نہ رکھنے کي وجہ سے معتبر نہيں ہے۔
٣۔ اگر بازار کي مناسب قيمت سے زيادہ ہو، اور اس سے کم قيمت ميں اس شئے
کا حاصل کرنا ممکن ہو تو اس صورت ميں طے شدہ قرار داد نافذ نہيں۔
٤۔ جائز نہيں ہے اور خريداري کا نمائندہ جو کچھ وصول کرے اس مربوط
ادارے کي جس کي جانب سے يہ خريداري ميں نمائندہ ہے تک پہنچانا ضروري
ہے۔
٥۔ فيصد کا کوئي حصہ دريافت کرنے کا حق نہيں رکھتا، اور جو کچھ دريافت
کرے اسے مربوط ادارے کے حوالے کرنا ہوگا اور اگر کوئي قرارداد باندھے
جو ادارے کے نفع و نقصان کے خلاف ہو وہ ابتدائ سے باطل ہے۔
٦۔ غير شرعي درآمد مربوط ادارے کي جس کي جانب سے يہ خريداري کا نمائندہ
ہے کو دنيا ضروري ہے۔
|