حق شفعہ


س٥٥١:کيا دو اشخاص پر وقف شدہ چيز پر حق شفعہ ثابت ہوتا ہے جب دونوں ميں سے ايک شخص ايسے مقام پر اپنا حصہ تيسرے شخص کو فروخت کردے جہاں اسے وقف فروخت کرنے کا حق ہے؟ اسي طرح حق شفعہ اجار ہ کي متعلقہ شئے پر ثابت ہوجائے گا دو اشخاص نے مشترکہ طور پر ايک زمين يا جائيداد يا وقف کو اجارہ کيا ہو اور پھر ان ميں سے ايک اپنا حق تيسرے شخص کو منتقل کردے اور ي عمل کرايہ يا صلح کسي بھي طرح انجام پايا ہو؟
ج:حق شفعہ کسي شئے کي اشتراکي ملکيت ميں ہوتا ہے جہاں ايک شريک اپنا حصہ ايک تيسرے شخص کو فروخت کردے۔ لہٰذہ اگر وقف دو اشخاص پر ہو اور ايک شخص اپنا حصے تيسرے شخص کو فروخت کردے جبکہ فروخت جائز ہو تو اس صورت ميں حق شفعہ نہيں ہے اور اسي طرح پر لي ہوئي جگہ ميں ايک شخص اپنا حق کسي تيسرے شخص کو منتقل کردے تو بھي شفعہ کا حق نہيں ہے۔
س٥٥٢:حق شفعہ کے باب ميں موجود فقہي تحريروں کے الفاظ و معاني اور مدني قوانين سے يہ نتيجہ حاصل ہوتا ہے کہ دو شريک ميں سے ايک اگر شخص ثالث کو اپنا حصہ فروخت کردے تو دوسرے کو شفعہ کا حق ہے بنابرايں آيا کسي ايک شريک کا کسي خريدار کو اس بات پر ابھارنا کہ وہ دوسرے شريک کا حصہ خريدلے اور کہ وہ اپنا حق شفعہ استعمال نہيں کرے گا حق شفعہ کو ساقط کرديتا ہے۔
ج:شريک کا کسي تيسرے شخص کو حصہ کي خريداري پر ابھارنا حق شفعہ کے ثابت رہنے سے منافات نہيں رکھتا۔ بلکہ اگر وہ حق شفعہ کے استعمال نہ کرنے کا وعدہ بھي کرے جبکہ معاملہ انجام پارہا ہو تب بھي معاملے کے انجام پانے سے پہلے کسي عقدلازم کے دوران پابند ہوجائے کہ وہ حق شفعہ استعمال نہيں کرے گا تو حق شفعہ ساقط ہوجائے گا۔
س٥٥٣ :کيا صحيح ہے کہ شريک اپنا حصہ فروخت کرنے سے پہلے دوسرے شريک کے حق شفعہ کو ساقط کردے؟ جبکہ اسقاط حق شفعہ ان امور ميں سے ہے جو ابھي ثابت ہي نہيں ہوئے جسے اسقاط مالم يجب کہتے ہيں۔
ج:شريک کا تيسرے شخص کو اپنا حصہ فروخت کرنے سے پہلے حق شفعہ کو اسقاط کرنا صحيح نہيں ہے۔ ہاں اگر شريک عقد لازم کے دوران حق ًًًًًًًًًًًًًًًًًًًًًًًًًًًًًًًًًًًًًً شفعہ اسقاط کرنے پر پابند ہوجائے تو شريک کے اپنا حصہ کسي تيسرے شخص کو فروخت کرنے کي صورت ميں حق شفعہ ساقط ہوجاتا ہے۔
س٥٥٤ :ايک شخص نے دو منزلہ گھر کا ايک طبقہ کرايہ پر ليا جس کے مالک دو بھائي تھے جو کہ کرايہ دار کے مقروض تھے اور دو سال سے مسلسل اصرار کرنے کے باوجود اس کا قرض ادا نہيں کررہے تھے اور مذکورہ عمل کرايہ کے لئے حق تقاص کا شرعي جواز پيدا کرتا ہے۔ گھر کي قيمت قرض کي رقم سے زيادہ ہے۔ اب اگر وہ قيمت ميں اپنے قرض کي مقدار تقاص کرے تو ان دونوں کا شريک ہوجائے گا۔ آيا ايسي صورت ميں باقي رقم کي نسبت سے اسے حق شفعہ حاصل ہے يا نہيں؟
ج:مذکورہ سوال ميں حق شفعہ کا جواز نہيں ہے۔ اس لئے کہ حق شفعہ اس جگہ ہے جہاں کسي شريک نے اپنا حصہ ايک تيسرے شخص کو فروخت کيا ہو اور يہ شخص قبل از فروخت مذکورہ شئے ميں اس کا شريک بن چکا ہو ، نہ يہ کہ دو ميں سے ايک شريک کا حصہ خريدنے يا تقاص کي صورت ميں حصہ کا مالک اور شريک بننے کي صورت ميں بھي حق شفعہ کا حامل ہو۔ اس کے علاوہ حق شفعہ وہاں ثابت ہوتا ہے جہاں ايک شريک اپنا حصہ فروخت کرے اور وہ شئے ان دو کي ملکيت ہو نہ دو سے زيادہ افراد کي۔
س٥٥٥:ايک جائيداد آدھي آدھي دو اشخاص کي ملکيت تھي اور ملکيت کي سند دونوں کے نام تھي۔ دونوں نے ايک سادہ کاغذ کے ذريعے اسے تقسيم کرليا اور دونوں حصوں کي حدود معين ہوگئيں۔ آيا ايسي صورت ميں اگر ايک شريک اپنا حصہ تيسرے شخص کو فروخت کردے تو دوسرے شريک کو شفعہ کا حق حاصل ہے؟ جبکہ تقسيم عمل ميں آچکي تھي۔ ہاں جائيداد کي فقط سند مشترک ہے۔
ج:ہمسائيگي ، سابقہ اشتراک اورسند ميں شريک ہونے کي بنا پر حق شفعہ ثابت نہيں ہوتا ايسي صورت ميں جبکہ فروختہ شدہ حصہ فروخت کے وقت دوسرے شريک کے حصہ سے واضح طور پر جدا ہو گيا ہو۔

 

استفتاآت (٢)
حرام معاملات
طبّي مسائل
تعلیم و تعلم اور فن کاري کے حقوق
میڈ یکل
طبا عت ،تالیف اور فن کاري کے حقوق
غیر مسلمین کے سا تھ تعلقات
ظالم حکومت ميں کام کرنا
لباس کے احکام
مغربي ثقا فت کي پیروي
ہجرت کرنا اور سیا سي پناہ لینا
جاسوسي،چلغوري اور اسرارکا فاش
سگریٹ نوشي اور نشہ آور اشیائ
داڑھي اور مونچھ
محفل گناہ ميں حاضر ہونا
تعویذ اور استخارہ
دیني رسومات کا احیائ
ذخیرہ اندوزي اور اسراف
تجارت کے احکام
احکام خیارات
تجارت کے مختلف مسائل
سود کے احکام
حق شفاعت