|
غير
مسلمين کے ساتھ تجارت
س٢٦٥:آيا اسرائيل سے مال درآمد کرنا اور اس کي ترويج کرنا جائز ہے؟ اور
اگر اضطراري طو رپر اس کے واقع ہونے کو فرض کرليں تو آيا مذکورہ مال کا
خريدنا جائز ہے؟
ج:غاصب، اسلام اور مسلمين کي دشمن اسرائيلي حکومت سے ايسا کاروبار کرنا
جو اس کے نفع ميں ہو جائز نہيں ہے او رکسي کے لئے بھي ان کے مال کو
درآمد کرنا او رترويج کرنا جائز نہيں ہے جس کے بنانے اور فروخت کرنے سے
اسے فائدہ پہنچے، اور مسلمانوں کے لئے ان اشيائ کا خريدنا جائز نہيں ہے
کيونکہ اس ميں اسلام اور مسلمانوں کے لئے ضرر ہے۔
س٢٦٦:اس ملک کے تاجروں کے لئے جس نے اسرائيل سے بائيکاٹ کو ختم کرديا
ہے اسرائيل سے مال درآمد اور اس کي ترويج کرنا جائز ہے؟
ج:ايسي اشيائ جن کے بنانے اور فروخت کرنے سے اسرائيلي ذليل حکومت کو
فائدہ ہو ان کا درآمد کرنا اور ترويج کرنا ممنوع ہے۔
س ٢٦٧:آيا مسلمانوں کے لئے ايسے ملک سے جہاں اسرائيلي مصنوعات فروخت
ہوتي ہيں اسرائيلي مصنوعات خريدنا جائز ہيں؟
ج:تمام مسلمانوں پر واجب ہے کہ ايسي مصنوعات کي خريداري سے پرہيز کريں
جن کے بنانے اور خريدنے کا فائدہ اسلام اور مسلمين کے ساتھ برسر پيکار
دشمن صہيونيوں کو پہنچے۔
س٢٦٨:آيا اسلامي ممالک ميں اسرائيل جانے کے دفاتر کھولنا جائز ہے؟ اور
آيا مسلمانوں کے لئے ان دفاتر سے ٹکٹ خريدنا جائز ہے؟
ج:کيونکہ مذکورہ عمل ميں اسلام اور مسلمانوں کا نقصان ہے لہٰذہ جائز
نہيں ہے اور کسي شخص کیلئے بھي جائز نہيں ہے کہ وہ ايسا کام کرے جو پست
اسلام دشمن ، محارب، حکومت اسرائيل سے بائيکاٹ کے خلاف ہو۔
س٢٦٩:آيا ايسي يہودي ، امريکي يا کينيڈين کمپنيوں سے ان کي مصنوعات
خريدنا جائز ہے جن کے بارے ميں يہ احتمال ہو کہ وہ اسرائيل کي مدد کرتي
ہيں؟
ج:اگر ان کمپنيوں کي مصنوعات اور ان کي خريد و رفروخت اسرائيل کي
گھٹيا، غاصب اور اسلام و مسلمين مخالف حکومت کي مدد کے لئے استعمال
ہوتيں ہيں تو کسي فرد کے لئے ان کا خريدنا اور استفادہ کرنا جائز نہيں
ہے اور اگر ايسا نہيں تو جائز ہے۔
س٢٧٠:اگر مسلمان ممالک کے تاجر اسرائيل سے مال درآمد کريں تو آيا خردہ
فروش کے لئے مذکورہ مال خريدنا اور فروخت کرنا اور ترويج کرنا جائز ہے؟
ج:کيونکہ اس ميں بہت نقصانات ہيں لہٰذہ جائز نہيں ہے۔
س٢٧١:اگر کسي ملک ميں اسرائيلي مصنوعات عام مارکيٹ ميں ترويج پاچکي ہوں
تو آيا مسلمان جبکہ ضرورت کي اشيائ کسي او رملک کي بني ہوئي اشيائ سے
خريد سکتا ہے پھر بھي اس کے لئے اسرائيل کي بني ہوئي مصنوعات خريدنا
جائز ہے؟
ج:تمام مسلمانوں پر واجب ہے کہ وہ ايسي اشيائ خريدنے اور استعمال سے
اجتناب کريں کہ جس کے بنانے اور بيچنے کا فائدہ اسلام و مسلمين سے برسر
پيکار صہيونيت کو ہوتا ہو۔
س٢٧٢:اگر اس بات کا علم ہوجائے کہ اسرائيلي مصنوعات کو ترکي يا قبرص کے
ذريعے اصلي محل ساخت کو تبديل کرنے کے بعد دوبارہ برآمد کيا جاتا ہے
تاکہ مسلمان خريدار کو دھوکا ديا جاسکے کہ مذکورہ مصنوعات اسرائيلي
نہيں ہيں اس لئے کہ اگر مسلمان اس امر کو جان لے کہ يہ مصنوعات
اسرائيلي ہيں تو انہيں نہيں خريدے گا ايسي صورت حال ميں مسلمان کي کيا
ذمہ داري ہے؟
ج:مسلمان کے لئے ايسي مصنوعات کا خريدنا ترويج کرنا اور استعمال کرنا
جائز نہيں ہے۔
س ٢٧٣:امريکي مصنوعات کي خريد و فروخت کا کيا حکم ہے؟ آيا مغربي ممالک
جيسے فرانس، برطانيہ سب کا حکم يہي ہے؟ آيا يہ حکم ايران کے لئے ہے يا
تمام ممالک کے لئے ؟
ج:اگر غير اسلامي ممالک سے درآمد شدہ مصنوعات کي خريداري اور استفادہ
سے کافر، استعمار گر، اسلام و مسلمين کي دشمن حکومت کو تقويت ہوتي ہے
يا اس کي مالي امداد ہوئي ہے جس کے ذريعے وہ اسلامي ممالک پر حملہ کرتے
ہوں تو مسلمانوں پر واجب ہے کہ ان کي مصنوعات کي خريداري اور استعمال
سے اجتناب کريں۔ اور مذکورہ حکم تمام مصنوعات اور تمام کافر اور اسلام
و مسلمين کي دشمن حکومتوں کے ليے ہے اور مذکورہ حکم ايران کے مسلمانوں
سے مخصوص نہيں ہے۔
س٢٧٤:ان لوگوں کي ذمہ داري کيا ہے جو ايسے کارخانوں اور دفاتر ميں ہيں
جن کا فائدہ کافر حکومتوں کو پہنچتا ہے اور يہ امر ان کے استحکام کا
سبب بنتا ہے؟
ج:جائز امور کے ذريعے کسب معاش کرنا بذات خود صحيح ہے اگرچہ اس کا
فائدہ غير اسلامي حکومت کو پہنچے۔ ہاں اگر وہ حکومت مسلمانوں کے ساتھ
حالت جنگ ميں ہو اور مسلمانوں سے جنگ ميں کام ليا جائے تو جائز نہيں
ہے۔
|