ديني رسومات کا احيائ


عزاداري کي رسومات


س٣٥٨:ملک کے مختلف علاقوں کي مساجد اور امام بارگاہوں خصوصاً ديہاتوں ميں شبيہہ
١۔ خواني کي رسومات انجام دي جاتي ہيں اس لئے کہ مذکورہ عمل قديم رسومات ميں سے ہے اور کبھي کبھي اس عمل کا لوگوں کے دل پر مثبت اثر بھي ہوتا ہے مذکورہ رسومات کا کيا حکم ہے؟
ج:اگر شبيہہ خواني، جھوٹ ، اباطيل اور مفسدہ پر مشتمل نہ ہو اور عصري تقاضوں کے لحاظ سے مذہب حق کے لئے بدنامي کا سبب نہ بنے تو جائز ہے اس کے باوجود بہتر يہ ہے کہ وعظ و نصيحت، مرثيہ خواني اور ماتم حسيني کي مجالس برپا کي جائيں۔
س٣٥٩: مجالس اور جلوس کے دوران ڈھول ، دف اور باجا بجانے کا کيا حکم ہے؟ اور ايسي زنجير مارنے کا کيا حکم ہے جس ميں چھرياں لگي ہوئي ہوں؟
ج:اگر مذکورہ زنجيريں مارنا لوگوں کي نظر ميں مذہب کي بدنامي کا سبب بنے يا قابل توجہ بدني ضرر کا باعث ہو تو جائز نہيں ہے۔ ہاں ڈھول ، دف او رباجا اگر متعارف طريقے سے بجايا جائے تو کوئي حرج نہيں ہے۔
س٣٦٠: ايام عزائ ميں بعض مساجد ميں متعدد علم نکالے جاتے ہيں جو گراں بہا چيزوں سے بہت زيادہ مزين ہوتے ہيں
١۔ جسے ديکھ کر دين دار لوگ کبھي کبھي سوال کرتے ہيں کہ اس کا فلسفہ کيا ہے بعض اوقات مسجد کے تبليغي پروگراموں ميں خلل بلکہ مسجد کے مقاصد سے تضاد کا سبب بنتي ہے مذکورہ علم کے بارے ميں حکم شرعي کيا ہے؟
ج:اگر امام حسين عليہ السلام کي مجالس عزا کے شعائر سے ٹکرائے، يا مذہب کي بدنامي کا باعث ہو يا اس کا مسجد ميں رکھنا عرفاً مسجد کي شان کے خلاف ہو يا نمازيوں کے لئے باعث مزاحمت ہو تو اس ميں اشکال ہے بلکہ بعض حالات ميں جائز نہيں ہے۔
س٣٦١:اگر کوئي شخص سيد الشہدائ کے لئے علم کي نذر کرے تو آيا امام بارگاہ کي انتظاميہ اس کے قبول کرنے سے انکار کرسکتي ہے؟
ج:ناذر کا نذر کرنا امام بارگاہ کي انتظاميہ پر لازم نہيں کرتا وہ علم کو قبول کريں۔ لہٰذہ اگر ان کے پاس علم رکھنے کي جگہ نہ ہو، تاکہ محفوظ رہے تو وہ اسے قبول کرنے سے انکار کرسکتے ہيں۔
س٣٦٢:سيد الشہدائ کي مجالس عزائ کي رسومات ميں علم رکھنے يا جلوس ميں لے کر چلنے کا کيا حکم ہے؟
ج:بذاتِ خود جائز ہے ليکن مذکورہ امور کو جزئ دين شمار نہ کيا جائے۔
س٣٦٣:اگر مجالس عزائ ميں شرکت کرنے سے بعض واجبات کو ترک ہوجاتے ہوں مثلاً صبح کي نماز قضاہوجاتي ہو تو آيا دوبارہ ايسي مجالس ميں شرکت نہيں کرنا چاہئيے يا يہ کہ ان مجالس ميں شرکت نہ کرنا اہل بيت عليہم السلام سے دوري کا سبب ہے؟
ج:واضح ہے کہ واجب نماز مجالس عزائ اہل بيت عليہم السلام اسلام ميں شرکت کي فضيلت پر مقدم ہے اور ماتم حسيني ميں شرکت کے بہانے نماز کا ترک کرنا جائز نہيں ہے ليکن اس طرح سے شرکت کي جاسکتي ہے کہ نماز سے مزاحمت پيدا نہ ہو۔
س٣٦٤: بعض ديني انجمنوں ميںايسے مصائب پڑھے جاتے ہيں جو کسي معتبر ’’ مقتل‘‘ ميں نہيں پائے جاتے اور نہ ہي کسي عالم اور مرجع سے سنے گئے ہيں اور جب ان مصائب کے پڑھنے والوں سے ان کے ماخذ کے بارے ميں سوال کيا جائے تو جواب ديتے ہيں کہ ’’ اہل بيت نے اس طرح ہميں سمجھايا ہے يا اس طرح ہماري ہدايت کي ہے‘‘ اور يہ کہ کربلا کا واقعہ فقط کتب مقاتل اور قول علمائ ميں نہيں پايا جاتا بلکہ ذاکر اور خطيب کے لئے بعض اوقات الہام اور مکاشفہ کے ذريعے امر واضح ہوجاتا ہے۔ سوال يہ ہے کہ آيا اس طرح مذکورہ واقعات کا نقل کرنا صحيح ہے؟ اور صحيح نہيں ہے تو سننے والوں کي کيا ذمہ داري ہے؟
ج:مذکورہ طور پر بغير کسي روايت يا ثابت شدہ تاريخ کے ماخذ کے واقعات نقل کرنے ميں کوئي شرعي حيثيت نہيں ہے ہاں اگر بيان حال کے عنوان سے نقل کيا جائے اور اس کا جھوٹا ہونا معلوم نہ ہو تو نقل کرنے ميں کوئي حرج نہيں ہے اور سامعين کي ذمہ داري نہي از منکر کرنا ہے اگر نہي ازمنکر کا موضوع اور شرائط موجود ہوں۔
س٣٦٥:امام بارگاہ کي عمارت سے کئي لاوڈ اسپيکروں کے ذريعے قرآت، قرآن ، مجالس عزائ کي اتني اونچي آواز آتي ہے کہ شہر کے باہر تک سني جاسکتي ہے اور ہمسائيوں کا سکون ختم ہوجاتا ہے جبکہ امام بارگاہوں کي انتظاميہ اور ذاکرين اس عمل پر اصرار کرتے ہيں ، مذکورہ عمل کا کيا حکم ہے؟
ج:اگرچہ مجالس عزا و مذہبي پروگراموں کا انعقاد مستحبات موکد اور بہترين کاموں ميں سے ہے ليکن مجالس عزائ برپا کرنے والوں پر واجب ہے کہ ہمسائيوں کي مزاحمت اور اذيت سے حتيٰ المقدور اجتناب کريں چاہے وہ لاوڈ اسپيکر کي آواز کم کرنے يا اس کا رخ امام بارگاہ کے اندر کي طرف تبديل کرنے کے ذريعے ہو۔
س٣٦٦:جلوس عزائ کا محرم کي راتوں ميں آدھي رات تک مستمر رہنے کا کيا حکم ہے؟ جبکہ ڈھول اور بانسري کا استعمال بھي کيا جاتا ہے؟
ج:سيد الشہدائ عليہم السلام اور آپ کے اصحاب عليہم السلام کے جلوس نکالنا اور اس جيسے ديني مراسم ميں شرکت کرنا مطلوب اور اچھا کام ہے بلکہ اللہ کي قربت حاصل کرنے کا عظيم ترين ذريعہ ہے ليکن ہر ايسے عمل سے پرہيز کرنا چاہئيے جو کہ دوسروں کے لئے موجب اذيت ہو يا بذات خود حرام ہو۔
س٣٦٧:عزاداري ميں آلات موسيقي کا کيا حکم ہے؟ مثلاً آرگن ( موسيقي کا آلہ ہے جو کہ پيانو سے شباہت رکھتا ہے ) اور دف وغيرہ؟
ج:آلات موسيقي کا استعمال عزاداري سيد الشہدائ ميں مناسب نہيں ليکن اس کے باوجود عزاداري کو اسي طرح انجام دينا چاہئيے جيسے کہ قديم زمانہ سے رائج ہے۔
س٣٦٨:کچھ عرصے سے ايک چيز معروف ہوئي ہے کہ بدن کے گوشت ميں سوراخ کرکے تالا لگاتے ہيں يا وزن کے باٹ معلق کرتے ہيں اور مذکورہ عمل کو عزاداري سيد الشہدائ سمجھ کر انجام ديتے ہيں؟ کيا حکم ہے؟
ج:ايسے اعمال کي شرعاً کوئي حيثيت نہيں ہے جو کہ لوگوں کي نظر ميں مذہب کي توہين کا باعث ہوں۔
س٣٦٩ :آئمہ عليہم السلام کے مقدس روضوں پر بعض لوگ چہرے کے بل گرتے ہيں اور اپنا سينہ اور چہرہ رگڑتے ہيں اور پھر اس حالت ميں آئمہ عليہم السلام کے حرم ميں داخل ہوتے ہيں، مذکورہ عمل کا کيا حکم ہے؟
ج:مذکورہ اعمال کي کوئي شرعي حيثيت نہيں ہے جو کہ آئمہ عليہم السلام کے لئے اظہار غم ، عزاداري اور اظہار ولايت کا غير متعارف طريقہ ہے، بلکہ اگر قابل توجہ بدني ضرر يا لوگوں کي نظر ميں مذہب کي توہين کا سبب ہو تو جائز نہيں ہے۔
س٣٧٠: بعض علاقوں ميں خواتين دستر خوان ابوالفضل عليہ السلام کے نام سے رسومات انجام ديتي ہيں تاکہ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ عليہا کي شادي کا پروگرام انجام ديا جائے اور اس پروگرام ميں شادي کے گانے گاتي ہيں اور تالي بجاتي ہيں اور پھر ناچنے لگ جاتي ہيں مذکورہ امور انجام دينے کا کيا حکم ہے؟
ج:مذکورہ محافل او ررسومات اگر جھوٹ او رباطل مفاہيم پر مبني نہ ہوں اور مذہب کي توہين کا سبب بھي نہ ہوں تو جائز ہيں ليکن رقص اگر ايسي کيفيت کا ہو جو جنسي شہوت کو ابھارے يا فعل حرام کا سبب ہو تو جائز نہيں ہے۔
س٣٧١:مجالس امام حسين عليہ السلام کے عنوان سے جمع شدہ مال ميں سے باقي ماندہ مال کہاں سے خرچ کرنا واجب ہے؟
ج:باقي ماندہ مال دينے والوں کي اجازت سے نيک اعمال ميں خرچ کيا جاسکتا ہے يا آئندہ سال کي مجالس عزائ ميں خرچ کرنے کے لئے محفوظ کيا جاسکتا ہے۔
س٣٧٢:ايام محرم ميں عطيات جمع کرنا اور اس کي کچھ مقدار قاري کو کچھ مقدار مرثيہ خوان اور کچھ مقدار خطيب کو دينا اور باقي ماندہ مال کو مجالس عزائ پر خرچ کرنا جائز ہے يا نہيں؟
ج:اگر عطيات دينے والوں کي اجازت سے ہو تو جائز ہے۔
س٣٧٣ :آيا خواتين کے لئے پردے اور ايسے لباس کے ساتھ جو ان کے بدن کو مستور رکھے ماتمي جلوسوں ميںشرکت کرنا جائز ہے؟
ج:عورتوں کے لئے دستوں ميں شرکت کرنا مناسب نہيں ہے۔
س٣٧٤: اگر ماتم آئمہ عليہم السلام ميں قمہ زني سے کوئي شخص مرجائے تو آيا مذکورہ عمل خود کشي کہلائے گا؟
ج:اگر عام طور پر اس سے موت واقع نہ ہوتي ہو تو خود کشي نہيں ہے۔ ليکن اگر ابتدائے عمل سے جان کا خوف ہو اور قمہ زني سے موت واقع ہوجائے تو خود کشي کا حکم رکھتي ہے۔
س٣٧٥:آيا خود کشي سے مرنے والے شخص کي مجلس فاتحہ ميں شرکت کرنا جائز ہے؟ اور ان کي قبروں پر فاتحہ قرآت کرنے کا کيا حکم ہے؟
ج:مذکورہ عمل بذات خود جائز ہے۔
س٣٧٦ :آئمہ عليہم السلام کي ولادت اور عيد بعثت پر ايسے مرثيے اور قصيدے پڑھنے کا کيا حکم ہے جو سامعين کے لئے گريہ کا سبب ہوں؟ اور حاضرين پر پيسے نچھاور کرنے کا کيا حکم ہے؟
ج:ديني عيدوں کي محافل ميں مراثي اور قصيدے پڑھنا جائز ہے اور اسي طرح مال نچھاور کرنا جائز ہے بلکہ اگر مومنين کے دلوں ميں خوشحالي اور فرح و سرور کے اظہار کي خاطر ہو تو ثواب کا باعث ہے۔
س٣٧٧ :آيا خاتون کا مجالس عزائ سے خطاب کرنا جائز ہے جبکہ اسے علم ہو کہ نامحرم اس کي آواز سنيں گے؟
ج:اگر لہوي کيفيت سے نہ ہو اور نہ ہي مردوں کے لئے اس کي آواز سے حرام ميں مبتلائ ہونے کا خوف نہ ہو تو مذکورہ عمل بذات خود جائز ہے۔
س٣٧٨ :عاشورا کے دن بعض رسومات انجام دي جاتي ہيں ، مثلاً سر پرتلوار مارنا آگ پر چلنا جو کہ جاني اور بدني ضرر کا سبب بنتي ہيں اور اس کے علاوہ ديگر مذاہب کے علمائ اور پيروکاروں يا باقي دنيا کے عام افراد کے سامنے مذاہب اثنا عشري کو بدنما کرتي ہيں اور کبھي کبھي مذہب کي توہين کا باعث بھي ہوتي ہيں۔ آپ کي نظر مبارک کيا ہے؟
ج:مذکورہ امور ميں جو چيز انسان کے لئے موجب ضرر ہو يا دين اور مذہب کي توہين کا سبب بنے وہ حرام ہے اور مومنين کا اس سے اجتناب کرنا واجب ہے اور مذکورہ امور ميں سے اکثر چيزيں مذہب اہل بيت کے لئے بدگوئي اور توہين کا باعث ہيں اور يہ ضرر عظيم اور بڑا خسارہ ہے اور يہ ايک واضح امر ہے۔
س٣٧٩: کيا چھپ کر شمشير زني کرنا جائز ہے يا آپ کا فتويٰ عموميت کا حامل ہے؟
ج:شمشير زني عرف عام ميں اظہار غم اور حزن کا مظہر شمار نہيں کي جاتي ، آئمہ اور ان کے بعد والے دور ميں اس کا کوئي وجود نہيں تھا اور نہ ہي امام عليہ السلام کي طرف سے مذکورہ عمل کي خاص يا عام طور پر تائيد ملتي ہے۔ اس کے باوجود آج کل مذکورہ عمل مذہب کے لئے توہين اور بدنامي کا سبب بھي ہے لہٰذہ کسي بھي حال ميں جائز نہيں ہے۔
س٣٨٠:جاني اور بدني ضرر کے لئے شرعي طور پر کيا ضابطہ ہے؟
ج:ضابطہ وہ قابل توجہ ضرر رہے جو عقلائ کے نزديک بحيثيت عقلائ معتبر ہے۔
س٣٨١:جسم پر زنجير ( بغير چھريوں کے) مارنے کا کيا حکم ہے جيسا کہ بعض مسلمان انجام ديتے ہيں؟
ج:اگر متعارف طريقے سے اور اس طرح ہو کہ عرفي طور پر حزن و غم کے مظاہر ميں سے شمار کيا جائے او رمذہب حق کي توہين کا سبب بھي نہ ہو تو جائز ہے وگرنہ جائز نہيں ہے۔
ايام عيد اور ولادت
س٣٨٢:آيا يوم غدير خم کے علاوہ صيغہ اخوت پڑھنا جائز ہے؟
ج:عقد اخوت کا غدير خم کے مبارک دن کے ساتھ مختص ہونا معلوم نہيں ہے اگرچہ اسي دن پر اکتفائ کرنا بہتر اور احوط ہے۔
س٣٨٣ :آيا عقد اخوت کا مشہور صيغے کے مطابق جاري کرنا ضروري ہے؟ يا کسي زبان ميں بھي ہو صحيح ہے؟
ج:روايات ميں نقل شدہ صيغے کي رعايت کرنا اگرچہ بہتر ہے ليکن اس کا متعين ہونا يقيني نہيں ہے۔
س٣٨٤:عيد نوروز کے بارے ميں آپ کي رائے کيا ہے؟ آيا عيد نوروز کا دوسري عيدوں جيسے عيد الفطر اور عيد الاضحيٰ کي طرح ہونا شرعاً ثابت ہے جن عيدوں ميں لوگ جشن مناتے ہيں ؟ يا يہ کہ نوروز جمعہ اور دوسرے مبارک ايام وغيرہ کي طرح ايک مبارک دن ہے؟
ج:نوروز کے ديني عيد ہونے کے بارے ميں معتبر روايات وارد نہيں ہوئي ہيں اور نہ ہي بالخصوص شرعاً مبارک ايام ميں سے قرار دئيے جانے پر کوئي معتبر نص ہے ہاں مذکورہ روز جشن اور ملنے ملانے اور صلہ رحمي وغيرہ دينے ميں کوئي حرج نہيں ہے۔
س٣٨٥ :نوروز کي فضيلت اور اعمال کے بارے ميں جو نقل ہوا ہے آيا وہ صحيح ہے؟ اور کيا ان اعمال کو بقصد استحباب دينا صحيح ہے؟ مثلاً (نماز ، دعا وغيرہ۔۔)
ج:استحباب کا قصد کرنا مورد تامل اور اشکال ہے ہاں قصد رجائ مطلوبيت سے انجام دينے ميں کوئي حرج نہيں ہے۔

 

استفتاآت (٢)
حرام معاملات
طبّي مسائل
تعلیم و تعلم اور فن کاري کے حقوق
میڈ یکل
طبا عت ،تالیف اور فن کاري کے حقوق
غیر مسلمین کے سا تھ تعلقات
ظالم حکومت ميں کام کرنا
لباس کے احکام
مغربي ثقا فت کي پیروي
ہجرت کرنا اور سیا سي پناہ لینا
جاسوسي،چلغوري اور اسرارکا فاش
سگریٹ نوشي اور نشہ آور اشیائ
داڑھي اور مونچھ
محفل گناہ ميں حاضر ہونا
تعویذ اور استخارہ
دیني رسومات کا احیائ
ذخیرہ اندوزي اور اسراف
تجارت کے احکام
احکام خیارات
تجارت کے مختلف مسائل
سود کے احکام
حق شفاعت