کتاب اجتہاد اور تقليد
 


س١۔ تقليد کا واجب ہونا خود تقليدي مسئلہ ہے يا اجتہادي ؟
ج۔ اجتہادي اور عقلي مسئلہ ہے۔
س٢۔ آپ کے نزديک احتياط پر عمل کرنا بہتر ہے يا تقليد پر؟
ج۔ چونکہ احتياط پر اس وقت عمل ہوسکتا ہے جب اس کے موارد و مواقع کو جانتا ہو اور احتياط کے طريقوں سے واقف ہو اور ان دونوں کو بہت ہي کم لوگ جانتے ہيں اسکے علاوہ احتياط پر عمل کرنے ميں عام طور پر بہت زيادہ وقت صرف ہوتا ہے، اس بنا پر جامع الشرائد مجتہد کي تقليد بہتر ہے۔
س٣۔ احکام ميں احتياط کا دائرہ اور اس کے حدود فقہا کے فتوو ں ميں کيا ہيں ؟ اور کيا سابق علمائ کے فتوو ں کو بھي اس ميں شامل کرنا واجب ہے؟
ج۔ وجود موارد ميں احتياط سے مراد ان تمام فقہي احتمالات کي رعايت کرنا ہے جن کے واجب ہونے کا احتمال پايا جاتا ہو۔
س٤۔ چند ہفتوں کے بعد ميري بيٹي بالغ ہونے والي ہے اور اس وقت اس پر اپنے لئے مرجع تقليد کا انتخاب واجب ہوجائے گا اور چونکہ يہ امر اس کے لئے مشکل ہے لہذا اس سلسلہ ميں ہماري ذمہ داري کيا ہے؟
ج ۔ اگر وہ اس سلسلے ميں اپنے شرعي وظیفہ کي جانب متوجہ نہ ہو تو اس سلسلے ميں اس کي ہدايت و رہنمائي آپ کي ذمہ داري ہے۔
س٥۔ مشہور ہے کہ موضوع کي تشخيص مکلف کا کام ہے اور حکم کي تشخيص مجتہد کے ذمہ ہے۔ پس جن موضوعات کي تشخيص مرجع خود کرتا ہے۔ ان کے بارے ميں آپ کا کيا نظريہ ہے؟
کيا ا س تشخيص کے مطابق عمل کرنا واجب ہے کيونکہ ہم مرجع تقليد کو ايسے بہت سے موارد وہيں بھي دخيل پاتے ہيں؟
ج۔ جي ہاں ! موضوع کو مشخص کرنا مکلف کا کام ہے لہذا اپنے مجتہد کي تشخيص کا اتباع مکلف پر واجب نہيں ہے، مگر يہ کہ وہ اس تشخيص سے مطمئن ہو يا موضوع کا تعلق استنباطي موضوعات سے ہو۔
س٦۔ روزمرہ کے شرعي مسائل ، جن سے مکلف کا سابقہ پڑتا رہتا ہے ، کيا ان کا علم حاصل نہ کرنے والا گناہگار ہے؟
اگر شرعي مسائل کا علم حاصل نہ کرنا کسي واجب کے چھوٹ جانے يا فعل حرام کے ارتکاب کا سبب بنے تو گناہگار ہے۔
س٧۔ جب ہم بعض کم علم لوگوں سے پوچھتے ہيں کہ تمہارا مرجع تقليد کون ہے؟ تو وہ کہتے ہيں ہم نہيں جانتے يا کہتے ہيں کہ فلاں مرجع کي تقليد کرتے ہيں جبکہ وہ خود کو اس بات کا پابند نہيں سمجھتے کہ اس کي توضيح المسائل کو ديکھيں اور اس کے مطابق عمل کريں۔ ايسے لوگوں کو اعمال کا کيا حکم ہے؟
ج۔ اگر ان کے اعمال احتياط يا واقع يا اس مجتہد کے فتوے کے مطابق ہيں جس کي تقليد ان پر واجب تھي تو ان کو صحيح مانا جائے گا۔
س٨۔ جن مسائل ميں مجتہد اعلم احتياط واجب کا قائل ہے، کيا ہم ان ميں اس کے بعد کے اعلم کي طرف رجوع کرسکتے ہيں ؟ اور دوسر سوال يہ ہے کہ اگر اس کے بعد والا اعلم بھي اس مسئلہ ميں احتياط واجب کا قائل ہو تو کيا ہم اس مسئلے ميں ان دونوں کے بعد والے اعلم کي طرف رجوع کرسکتے ہيں؟ اور اگر تيسرا بھي اسي بات کا قائل ہو تو کيا ہم ان کے بعد والے اعلم کي طرف رجوع کريں گے ؟ ۔۔ الخ ۔ اس مسئلہ کي وضاحت فرما ديجئے ۔
ج۔ اس مجتہد کي طرف رجوع کرنے ميں جو اس مسئلہ ميں احتياط کا قائل نہيں بلکہ اس ميں ا سکا صريح فتويٰ موجود ہے، کوئي حرج نہيں ہے۔ ہاں اعلم فالاعلم کي رعايت کرنا ہوگي۔
 

 

تقليد کے شرائط
 


س٩ ۔ کيا ايسے مجتہد کي تقليد جائز ہے جس نے اپني مرجعيت کے منصب کو نہ سنبھالا ہو اور نہ اس کا رسالہ عمليہ موجود ہو ؟
ج۔ جو مکلف تقليد کرنا چاہتا ہے، اگر اس پر يہ ثابت ہوجائے کہ وہ جامع الشرائط مجتہد ہے تو اس ميں کوئي حرج نہيں ہے۔
س١٠۔ کيا مکلف اس مجتہد کي تقليد کرسکتا ہے جس نے فقہ کے کسي ايک باب مثلاً نماز و روزہ ميں اجتہاد کيا ہے، پس کيا وہ اس باب ميں اس مجتہد کي تقليد کرسکتا ہے جس ميں اس نے اجتہاد کيا ہے؟
ج۔ مجتہد متجزي کا فتويٰ خود اس کے لئے حجت ہے ليکن دوسروں کا اس کي تقليد کرنا محل اشکال ہے اگرچہ اس کا جائز ہونا بعيد نہيں ہے۔
س١١۔ کيا دوسرے ملکوں کے علمائ کي تقليد جائز ہے ، خواہ ان تک رسائي بھي ممکن نہ ہو؟
ج۔ شرعي مسائل ميں جامع الشرائط مجتہد کي تقليد ميں يہ شرط نہيں ہے کہ مجتہد مکلف کا ہم وطن ہويا اس کے شہر کا رہنے والا ہو۔
س١٢۔ مجتہد اور مرجع تقليد ميں جو عدالت معتبر ہے کيا وہ کمي يا زيادتي کے اعتبار سے اس عدالت سے مختلف ہے جو امام جماعت کے لئے ضروري ہے؟
ج۔ منصب مرجعيت کي اہميت اور حساسيت کے پيش نظر مرجع تقليد ميں احتياط واجب کي بنا پر عدالت کے علاوہ يہ بھي شرط ہے کہ وہ اپنے سرکش نفس پر مسلط ہو اور دنيا کا حريص نہ ہو۔
س١٣۔ کيا زمان و مکان کے حالات سے واقف ہونا اجتہاد کي شرطوں ميں سے ايک شرط ہے؟
ج۔ ممکن ہے بعض مسائل ميں اسکا دخل ہو۔
س١٤۔ امام خميني
۲ کے نزديک مرجع تقليد کے لئے واجب ہے کہ وہ عبادات و معاملات کے علم پر مسلط ہونے کے علاوہ سياسي ، اقتصادي ، فوجي ، سماجي اور قيادت و رہبري کے امور کا بھي عالم ہو۔ پہلے ہم امام خميني ۲ کے مقلد تھے اور اب بعض افاضل علمائ کي رہنمائي اور خود اپني رائے کي بنائ پر آپ کي تقليد کو واجب سمجھتے ہيں۔ اس طرح ہم نے قيادت و مرجعيت کو ايک جگہ پايا ہے۔ اس سلسلہ ميں آپ کا کيا نظريہ ہے؟
ج۔ مرجع تقليد کي صلاحيت کي شرطيں ( ان امور ميں جن ميں ايک غير مجتہد و محتاط پر اس کي تقليد ضروري ہے جس ميں مقررہ شرطيں پائي جاتي ہوں) ، تحرير الوسيلہ اور دوسري کتابوں ميں تفصيل کے ساتھ مرقوم ہيں۔
ليکن شرائط کے اثبات کا مسئلہ اور فقہا ميں سے تقليد کے لئے صالح شخص کي تشخيص خود مکلف کے نظريہ پر منحصر ہے۔
س١٥۔ تقليد ميں مرجع کا اعلم ہونا شرط ہے يا نہيں ؟ اور اعلميت کے معيار اور اس کے اسباب کيا ہيں؟
ج۔ جن مسائل ميں اعلم کے فتوے دوسروں سے مختلف ہيں ان ميں اعلم کي تقليد احتياطاً واجب ہے۔ اعلميت کا معيار يہ ہے کہ وہ دوسرے مجتہدين سے احکام خدا کے سمجھنے اور الہي فرائض کا ان کي دليلوں سے استنباط کرنے ميں زيادہ مہارت رکھتا ہو۔ نيز اپنے زمانے کے حالات کو اس حد تک جانتا ہو جتنا احکام شرعي کے موضوعات کي تشخيص اور شرعي فرائض بيان کرنے کے لئے فقہي رائے کا اظہار کرنے ميں ضروري ہے۔ کيونکہ زمانے کے حالات سے آگاہي کو اجتہاد ميں بھي دخل ہے۔
س١٦۔ اگر اعلم ميں تقليد کے لئے معتبر شرائط موجود نہ ہونے کا احتمال ہو ، ايسے ميں اگر کوئي شخص غير اعلم کي تقليد کرلے تو کيا اس کي تقليد کو باطل قرار ديا جاسکتا ہے؟
ج۔ صرف اس احتمال کي وجہ سے کہ اعلم ميں ضروري شرائط موجود نہيں ہيں، اختلافي مسئلہ ميں بنا بر احتياط واجب غير اعلم کي تقليد جائز نہيںہے۔
س١٧۔ اگر چند مسائل ميں چند علمائ کا اعلم ہونا ثابت ہوجائے ( اس حيثيت سے کہ ان ميں سے ہر ايک کسي خاص مسئلہ ميں اعلم ہے) تو ان کي طرف رجوع کرنا جائز ہے يا نہيں؟
ج۔ تبعيض يعني متعدد مراجع کي تقليد کرنے ميں کوئي حرج نہيں ہے۔بلکہ اگر ہر مجتہد اس مسئلے ميں اعلم ہو جس ميں مکلف اس کي تقليد کررہا ہے تو بنا بر احتياط جس مسئلہ ميں ان کے فتوے مختلف ہوں۔ ان ميں بھي تبعيض واجب ہے۔
س١٨۔ کيا اعلم کي موجودگي ميں غير اعلم کي تقليد کي جاسکتي ہے؟
ج۔ ان مسائل ميں غير اعلم کي طرف رجوع کرنے ميں کوئي حرج نہيں ہے جن ميں اس کا فتويٰ اعلم کے فتوے کے خلاف نہ ہو۔
س١٩۔ مرجع تقليد کي اعلميت کے سلسلہ ميں آپ کا کيا نظريہ ہے ؟ اور اس پر آپ کي کيا دليل ہے؟
ج۔ جب متعدد جامع الشرائط فقہا موجود ہوں اور اپنے اپنے فتووں ميں اختلاف رکھتے ہوں تو احتياط واجب يہ ہے کہ غير مجتہد مکلف، مجتہد اعلم کي تقليد کرے، مگر يہ کہ اس کا فتويٰ احتياط کے خلاف ہو، اور غير اعلم کا فتويٰ احتياط کے موافق ہو۔ اس کي دليل سيرت عقلائ ہے، بلکہ اگر امر تعيين و تخيير ميں دائر ہوجائے تو عقل بھي تعيين کا حکم ديتي ہے۔
س٢٠۔ ہمارے لئے کس کي تقليد کرنا واجب ہے؟
ج۔ جامع الشرائط مجتہد اور مرجع کي تقليد واجب ہے بلکہ احوط يہ ہے کہ وہ مجتہد اعلم ہو۔
س٢١۔ کيا ابتدائ سے ميت کي تقليد کي جاسکتي ہے؟
ج۔ احتياط واجب يہ ہے کہ ابتدائ ميں زندہ اور اعلم مجتہد کي ہي تقليد کي جائے۔
س٢٢۔ ابتدائ ميں ميت کي تقليد زندہ مجتہد کي تقليد پر موقوف ہوتي ہے يا نہيں؟
ج۔ ابتدائ ميں ميت کي تقليد کرنے يا ميت کي تقليد پر باقي رہنے کا جواز زندہ مجتہد اعلم کي اجازت پر موقوف ہوتا ہے۔
 

 

اجتہاد اور اعلميت کے اثبات
نيز فتوے حاصل کرنے کے طريقے
 


س٢٣۔ دو عادل گواہوں کو گواہي سے ايک مجتہد کي صلاحيت ثابت ہوجانے کے بعد کيا اب ميرے اوپر اس سلسلہ ميں کسي اور سے بھي سوال کرنا واجب ہے ؟
ج۔ کسي معين جامع الشرائط مجتہد کي صلاحيت کے اثبات کے لئے اہل خبرہ (اہل علم)حضرات ميں سے دو عادل گواہوں کي گواہي پر اعتماد کافي ہے اور اس سلسلہ ميں مزيد افراد سے سوال کرنا ضروري نہيں ہے۔
س٢٤۔ مرجع تقليد کے انتخاب اور اس کا فتويٰ حاصلذ کرنے کے کيا طريقے ہيں؟
ج۔ مرجع تقليد کے اجتہاد اور اس کي اعلميت کے اثبات کے لئے ضروري ہے کہ يا انسان خود عالم ہو اور تحقيق کرے يا اسے علم حاصل ہوجائے چاہے ايسي شہرت کے ذريعہ ہي ، جس سے يقين ہوجائے يا اطمينان حاصل ہوجائے يا اہل خبرہ ميں سے دو عادل گواہي ديں۔
مرجع تقليد سے فتويٰ حاصل کرنے کا طريقہ يہ ہے کہ خود اس سے سنے يا دو عادل نقل کريں بلکہ ايک ہي عادل کا نقل کرنا کافي ہے يا پھر ايسے معتبر انسان کا نقل کرنا بھي کافي ہے جس کي بات پر اطمينان ہو يا اس کي توضيح المسائل ميں ديکھے جو غلطيوں سے محفوظ ہو۔
س٢٥۔ کيا مرجع کے انتخاب کے لئے وکيل بنانا صحيح ہے؟ جيسے بيٹا اپنے باپ کو اور شاگرد اپنے استاد کو اپنا وکيل بنائے؟
ج۔ اگر وکالت سے مراد جامع الشرائط مجتہد کي تحقيق کو باپ، استاد يا مربي وغيرہ کے سپرد کرنا ہے تواس ميں کوئي حرج نہيں ہے، ہاں اگر اس سلسلہ ميں ان کا قول يقين اور اطمينان کے قابل ہو يا اس ميں دليل وشہادت کے شرائط موجود ہوں تو ان کا قول شرعاً معتبر اور حجت ہے۔
س٢٦۔ ميں نے چند مجتہدين سے پوچھا کہ اعلم کون ہے۔ انہوں نے جواب ديا فلاں شخص کي طرف رجوع کرنے سے انسان بري الذمہ ہے تو کيا ميں ان کي بات ہر اعتماد کرسکتا ہوں جبکہ مجھے معلوم نہيں کہ موصوف اعلم ہيں يا نہيں يا مجھے ان کے اعلم ہونے کے بارے ميں احتمال ہے يا اطمينان ہے کہ وہ شخص اعلم نہيں ہے اس لئے کہ دوسرے فقہا کے بارے ميں بھي مثلاً ايسي ہي شہادت اور گواہي موجود ہے؟
ج۔ جب کسي جامع الشرائط مجتہد کے اعلم ہونے پر شرعي دليل قائم ہوجائے تو جب تک اس دليل کے خلاف کسي اور دليل کا علم نہ ہو وہ حجت ہے اور اس پر اعتماد کيا جاسکتا ہے ، يقين يا اطمينان حاصل کرنا اس کے لئے شرط نہيں ہے اور نہ اس کے خلاف گواہيوں کے بارے ميں تحقيق کي ضرورت ہے۔
س٢٧۔ کيا وہ شخص شرعي احکام کے جوابات دے سکتا ہے جس کے پاس اجازہ نہيں ہے اور وہ بعض مقامات پر اشتباہ سے بھي دوچار ہوتا اور احکام کو غلط بيان کرديتا ہے اور اس حالت ميں کيا کيا جائے جبکہ اس نے توضيح المسائل سے پڑھ کر مسئلہ بيان کيا ہو؟
ج۔ مجتہد کا فتويٰ نقل کرنے اور شرعي احکام بيان کرنے کے لئے اجازہ شرط نہيں ہے ليکن اگر اس سے غلطي يا اشتباہ ہوتا ہے تو اس کے لئے بيان اور نقل کرنا جائز نہيں ہے۔ اور اگر کسي ايک مسئلہ بيان کرنے ميں اس سے غلطي ہوجائے اور بعد ميں اس کي طرف متوجہ ہو تو اس پر واجب ہے کہ سننے والے کو اس غلطي سے آگاہ کردے۔ بہر حال سننے والے کو بيان کرنے والے کي بات پر اس وقت تک عمل کرنا جائز نہيں ہے جب تک اس کے قول اور اس کي بيان کردہ بات کے صحيح ہونے پر اسے اطمينان نہ ہوجائے۔
 

 

تقليد بدلنا
 


س٢٨۔ ہم نے مجتہد ميت کي تقليد پر باقي رہنے کے لئے غير اعلم سے اجازت لي تھي، پس اگر اس سلسلہ ميں اعلم کي اجازت شرط ہے تو کيا اس صورت ميں اعلم کي طرف رجوع کرنا اور مجتہد ميت کي تقليد پر باقي رہنے کے لئے اس سے اجازت لينا واجب ہے؟
ج۔ اگر اس مسئلہ ميں غير اعلم کا فتويٰ اعلم کے فتوے کے موافق ہو تو اس کے قول کے مطابق عمل کرنے ميں کوئي حرج نہيں ہے اور اس صورت ميں اعلم کي طرف رجوع کرنے کي بھي ضرورت نہيں ہے۔
س٢٩۔ کيا ان جديد مسائل ميں مجتہد اعلم سے عدول جائز ہے جن ميں اس کے لئے يہ ممکن نہيں کہ تفصيلي دليلوں کے ذريعہ صحيح احکام کا استنباط کرسکے؟
ج۔ اگر مکلف اس مسئلہ ميں احتياط نہيں کرنا چاہتا يا نہيں کرسکتا ہے اور اسے کوئي ايسا مجتہد مل جائے جو اعلم ہے اور مذکورہ مسئلہ ميں فتويٰ رکھتا ہو تو اس کي طرف رجوع کرنا اور اس مسئلہ ميں اس کي تقليد کرنا واجب ہے۔
س٣٠۔ کيا امام خميني
۲ کے کسي فتوے سے عدول کرکے اس مجتہد کے فتوے کي طرف رجوع کرنا واجب ہے جس سے ميں نے ميت کي تقليد پر باقي رہنے کي اجازت لي تھي يا دوسرے مجتہدين کي طرف بھي رجوع کيا جاسکتا ہے؟
ج۔ عدول کے لئے اجازت لينے کي ضرورت نہيں ہے ۔ پس ہر اس جامع الشرائط مجتہد کي طرف عدول کيا جاسکتا ہے جس کي تقليد صحيح ہو۔
س٣١۔ کيا اعلم کي تقليد چھوڑ کر غير اعلم کي طرف رجوع کرنا جائز ہے؟
ج۔ اس صورت ميں عدول احتياط کے خلاف ہے بلکہ احتياط واجب کي بنائ پر اس مسئلہ ميں عدول جائز نہيں جس ميں اعلم کا فتويٰ غير اعلم کے فتوے کے خلاف ہو۔
س٣٢۔ ميں ايک مجتہد کے فتوے کے مطابق امام خميني
۲ کي تقليد پر باقي تھا ليکن جب استفتا آت ميں آپ کے جوابات اور امام خميني ۲ کي تقليد پر باقي رہنے کے سلسلے ميں آپ کا نظريہ معلوم ہوا تو ميں نے پہلے مجتہد سے عدول کرليا اور امام خميني ۲ کے فتوو ں نيز آپ کے فتاوي کے مطابق عمل شروع کرديا کيا ميرے اس عدول ميں کوئي اشکال ہے؟
ج۔ ايک زندہ مجتہد کي تقليد سے عدول کرکے دوسرے زندہ مجتہد کي تقليد کي جاسکتي ہے اور اگر دوسرا مجتہد مکلف کي نظر ميں پہلے مجتہد کي بہ نسبت اعلم ہو تو بنا بر احتياط اس مسئلہ ميں عدول واجب ہے جس ميں دوسرے مجتہدين کا فتويٰ پہلے مجتہد کے فتوے کے خلاف ہو۔
س٣٣۔ جو شخص امام خميني
۲ کا مقلد تھا اور ان ہي کي تقليد پر باقي رہا وہ کسي خاص مسئلہ مثلاً تہران کو بلاد کبيرہ شمار نہ کرنے کے سلسلے ميں مراجع تقليد ميں سے کسي ايک کي طرف رجوع کرسکتا ہے يا نہيں؟
ج۔ اس کے لئے رجوع کرنا جائز ہے اگرچہ ان مسائل ميں امام خميني
۲ کي تقليد پر باقي رہنا ہي احتياط کے مطابق ہے ، جن ميں انہيں زندہ مجتہد سے اعلم سمجھتا ہے۔
س٣٤۔ ميں شرعي اعمال کا پابند ايک جوان ہوں ، بالغ ہونے سے پہلے ہي ميں امام خميني
۲ کا مقلد تھا ليکن کسي شرعي دليل کے بغير ، بس اس بنياد پر تقليد کرتا تھا کہ امام کي تقليد مجھے بري الذمہ کرنے کے لئے کافي ہے۔ کچھ مدت کے بعد ميں نے دوسرے مجتہد کي تقليد اختيار کرلي ، ليکن ميرا عدول صحيح نہيں تھا جب اس مرجع کا انتقال ہوا تو ميں نے آپ کي طرف رجوع کيا ، پس ميں نے جو اس مجتہد کي تقليد کي تھي اس کا کيا حکم ہے ؟ اس زمانہ کے ميرے اعمال کا کيا حکم ہے؟ اور اس وقت ميرا کيا فريضہ ہے؟
ج۔ تمہارے گزشتہ وہ اعمال جو امام خميني
۲ کي زندگي ميں يا ان کي وفات کے بعد ان کي تقليد پر باقي رہتے ہوئے انجام پائے ہيں صحيح ہيں۔ ليکن وہ اعمال جو دوسرے مجتہد کي تقليد ميں انجام دئيے ہيں اگر وہ اس مجتہد کے فتوو ں کے مطابق ہيں جس کي تقليد تمہارے اوپر واجب تھي يا اس مجتہد کے فتوو ں کے مطابق ہيں جس کي تقليد اس وقت تم پر واجب ہے تو وہ صحيح ہيں ورنہ ان کا تدارک واجب ہے اور اس وقت تمہيں اختيار ہے چاہے متوفي مرجع کي تقليد پر باقي ہو يا اس کي طرف رجوع کرو جسے قوانين شرع کے مطابق تقليد کا اہل پاتے ہو۔
 

 

ميت کي تقليد پر باقي رہنا
 


س٣٥ ۔ ايک شخص نے امام خميني
۲ کي وفات کے بعد ايک معين مجتہد کي تقليد کي اور اب وہ دوبارہ امام خميني ۲ کي تقليد کرنا چاہتا ہے، کيا يہ اس کے لئے جائز ہے؟
ج۔ زندہ جامع الشرائط مجتہد کي تقليد سے مجتہد ميت کي تقليد کي طرف رجوع کرنا بنابر احتياط واجب جائز نہيں ہے۔ ہاں اگر زندہ مجتہد جامع الشرائط نہيں تھا تو اس کي طرف عدول کرنا ہي باطل تھا اور وہ مجتہد ميت کي تقليد پر باقي رہا ہے اب اسے اختيار ہے کہ مردہ مجتہد کي تقليد پر باقي رہے يا ايسے زندہ مجتہد کي طرف عدول کرے جس کي تقليد جائز ہے۔
س٣٦۔ ميں امام خميني
۲ کي حيات ہي ميں بالغ ہوگيا تھا اور بعض احکام ميں ان کي تقليد بھي کرتا تھا ليکن مسئلہ تقليد ميرے لئے واضح نہيں تھا، اب ميرا کيا فريضہ ہے؟
ج۔ اگر آپ امام خميني
۲ کي زندگي ميں اپنے عبادي و غير عبادي اعمال ان کے فتوو ں کے مطابق بجالاتے رہے چاہے بعض احکام ميں ہي ان کے مقلد رہے ہوں تو آپ کے لئے تمام مسائل ميں ان کي تقليد پر باقي رہنا جائز ہے۔
س٣٧۔ اگر ميت اعلم ہو تو اس کي تقليد پر باقي رہنے کا کيا حکم ہے ؟
ج۔ ميت کي تقليد پر باقي رہنا ہر حال ميں جائز ہے ، واجب نہيں ہے ليکن ميت کے اعلم ہونے کي صورت ميں احتياط يہي ہے کہ اس کي تقليد پر باقي رہا جائے۔
س٣٨۔ کيا ميت کي تقليد پر باقي رہنے کے لئے اعلم سے اجازت لينا ضروري ہے يا کسي بھي مجتہد سے اجازت لي جاسکتي ہے؟
ج۔ ميت کي تقليد پر باقي رہنے کے جواز کے مسئلہ ميں اعلم سے اجازت لینا واجب نہيں ہے اور يہ اس صورت ميں ہے جبکہ بقا بر تقليد ميت کے جواز پر فقہا کا اتفاق ہو۔
س٣٩۔ ايک شخص نے امام خميني
۲ کي تقليد کي اور ان کے انتقال کے بعد اس نے بعض مسائل ميں دوسرے مجتہد کي تقليد کي اب اس مجتہد کے انتقال کے بعد اس کا کيا فريضہ ہے؟
ج۔ وہ پہلے کي طرح مرجع اول کي تقليد پر باقي رہ سکتا ہے۔ اسي طرح اسے اختيار بھي ہے کہ جن مسائل ميں اس نے دوسرے مجتہد کي طرف عدول کيا تھا، ان ميں اسي کي تقليد پر باقي رہے يا زندہ مجتہد کي طرف رجوع کرے۔
س٤٠۔ امام خميني
۲ کے انتقال کے بعد ميں نے يہ گمان کيا کہ مرحوم کے فتوے کے مطابق ميت کي تقليد پر باقي رہنا جائز نہيں ہے لہذا زندہ مجتہد کي تقليد کرلي، کيا اب ميں دوبارہ امام خميني ۲ کي تقليد کرسکتا ہوں؟
ج۔ زندہ مجتہد کي طرف تمام فقہي مسائل ميں عدول کرنے کے بعد امام خميني
۲ کي طرف رجوع کرنا جائز نہيں ہے مگر يہ کہ زندہ مجتہد کا فتويٰ يہ ہو کہ متوفيٰ اعلم کي تقليد پر باقي رہنا واجب ہے اور آپ کو يقين ہو کہ امام خميني ۲ زندہ مجتہد کي نسبت اعلم ہيں تو ايسي صورت ميں ان کي تقليد پر باقي رہنا واجب ہے۔
س٤١۔ کيا ميں کسي ايک مسئلہ ميں کبھي مجتہد ميت کي اور کبھي زندہ اعلم کي طرف رجوع کرسکتا ہوں باوجوديکہ اس ميں دونوں کا فتويٰ مختلف ہو؟
ج۔ ميت کي تقليد پر باقي رہنا جائز ہے ليکن زندہ مجتہد کي طرف عدول کرنے کے بعد دوبارہ ميت کي طرف رجوع کرنا جائز نہيں ہے۔
س٤٢۔ کيا امام خميني
۲ کے مقلدين اور ان لوگوں کے لئے جو ان کي تقليد پر باقي رہنا چاہتے ہيں زندہ مراجع ميں سے کسي ايک سے اجازت لينا ضروري ہے يا اس مسئلے ميں اکثر مراجع عظام و علمائے اسلام کے تقليد ميت پر باقي رہنے کے جواز پر اتفاق کافي ہے؟
ج۔ ميت کي تقليد پر باقي رہنے کے جواز پر جو اتفاق ہے اس کي بنا پر امام خميني
۲ کي تقليد پر باقي رہنا جائز ہے۔ اس سلسلہ ميں کسي معين مجتہد کي طرف رجوع کرنے کي ضرورت نہيں ہے۔
س٤٣۔ جس مسئلہ پر مکلف نے مجتہد ميت کي حيات ميں عمل کيا تھا يا نہيں کيا تھا اس ميں ميت کي تقليد پر باقي رہنے کے بارے ميں آپ کيا فرماتے ہيں؟
ج۔ تمام مسائل ميں ميت کي تقليد پر باقي رہنا جائز اور کافي ہے خواہ ان پر عمل کيا ہو يا نہ کيا ہو۔
س٤٤۔ ميت کي تقليد پر باقي رہنے کے جواز کي صورت ميں کيا اس حکم ميں وہ لوگ بھي شامل ہيں جو اس مجتہد کي حيات ميں مکلف نہيں ہوئے تھے، مگر اس کے فتوو ں پر عمل کرتے تھے؟
ج۔ اگر وہ لوگ مجتہد کي حيات ميں اس کي تقليد کرچکے ہوں چاہے تقليد بالغ ہونے سے پہلے ہي کي تھي تو اس کي موت کے بعد بھي اس کي تقليد پر باقي رہنے ميں کوئي حرج نہيں ہے۔
س٤٥۔ ہم امام خميني
۲ کے مقلد تھے اور ان کي وفات کے بعد بھي ان کي تقليد پر باقي ہيں ليکن بعض اوقات ہميں بعض نئے مسائل پيش آتے ہيں خصوصاً جبکہ ہم عالمي استکبار و طاغوت سے مقابلہ کے زمانہ ميں زندگي بسر کررہے ہيں ، ايسے ميں ہم تمام شرعي مسائل ميں آپ کي طرف رجوع کرنے کي ضرورت محسوس کرتے ہيں لہذا ہم آپ کي طرف رجوع کا ارادہ رکھتے ہيں اور آپ کي تقليد کرنا چاہتے ہيں ، کيا ہم ايسا کرسکتے ہيں؟
ج۔ آپ کے لئے امام خميني
۲ طاب ثراہ کي تقليد پر باقي رہنا جائز ہے في الحال ان کي تقليد سے عدول کرنے کا کوئي سبب نہيں ہے اگر رونما ہونے والے حوادث ميں کسي حکم شرعي کے معلوم کرنے کي ضرورت پيش آئے تو اس سلسلہ ميں ہمارے دفتر سے خط و کتابت کرسکتے ہيں وفقکم اللہ تعاليٰ لمراضيہ ۔
س٤٦۔ اس مقلد کا کيا فريضہ ہے جو ايک مجتہد کي تقليد ميں ہو جبکہ اس کے لئے دوسرے مرجع کي اعلميت ثابت ہوجائے؟
ج۔ احتياط واجب يہ ہے کہ ان مسائل ميں اپنے مرجع تقليد سے اس مرجع کي طرف جس کي اعلميت ثابت ہوچکي ہے، رجوع کرلے جن ميں موجودہ مجتہد کا فتويٰ اعلم کے فتويٰ سے مختلف ہو۔
س٤٧۔ کس صورت ميں مقلد کے لئے اپنے مجتہد سے عدول کرنا جائز ہے ؟
ج۔ اس صورت ميں جبکہ دوسرا مجتہد موجودہ مجتہد سے اعلم ہو يا اس کے مساوي ہو۔
س٤٨۔ اگر اعلم کے فتوے زمانہ کے مطابق نہ ہوں يا ان پر عمل دشوار ہو تو کيا غير اعلم کي طرف رجوع کيا جاسکتا ہے؟
ج۔ صرف اس گمان پر کہ اعلم کا فتويٰ ماحول اور حالات کے مطابق نہيں يا اس کے فتاويٰ پر عمل کرنا دشوار ہے، اعلم سے دوسرے مجتہد کي طرف عدول کرنا جائز نہيں ہے۔
 

 

متفرقات
 


س٤٩۔ جاہل مقصر کسے کہتے ہيں؟
ج۔ جاہل مقصر وہ ہے جو اپني جہالت سے بھي واقف ہو اور اس کو دور کرنے کے ممکنہ طريقے بھي جانتا ہو ليکن ان پر عمل نہ کرتا ہو۔
س٥٠۔ جاہل قاصر کون ہے؟
ج۔ جاہل قاصر وہ ہے جو اپني جہالت سے بالکل آگاہ نہ ہو يا اپنے جہل کو دور کرنے کے طريقے نہ جانتا ہو۔
س٥١۔ احتياط واجب کے کيا معني ہيں؟
ج۔ يعني کسي عمل کو انجام دينا يا ترک کرنا احتياط کي بنا پر واجب ہے۔
س٥٢۔ کيا فتوو ں ميں مذکورہ عبارت ’’ فيہ اشکال ‘‘ (اس ميں حرج ہے)حرمت پر دلالت کرتي ہے؟
ج۔ موقع و محل کے اختلاف سے اس کے معني بھي مختلف ہوتے ہيں اگر جواز ميں اشکال ہو تو مقام عمل ميں اس کا نتيجہ حرمت پر مبني ہوگا۔
س٥٣۔ ان عبارتوں ’’ فيہ اشکال ‘‘ (اس ميں حرج ہے)، ’’مشکل‘‘ (مشکل ہے)’’ لا يخلو من اشکال ‘‘ (حرج سے خالي نہيں)’’ لا اشکال فيہ ‘‘ ( اس ميں کوئي حرج نہيں ) سے فتويٰ مراد ہے يا احتياط ؟
ج۔ ’’لا اشکال فيہ ‘‘ کے علاوہ کہ وہ فتويٰ ہے ، باقي سب احتياط ہيں۔
س٥٤۔ عدم جواز اور حرام ميں کيا فرق ہے؟
ج۔ مقام عمل ميں دونوں ميں کوئي فرق نہيں ہے۔
 

 

قيادت و مرجعيت
 


س٥٥۔ اگر اجتماعي ، سياسي اور ثقافتي مسائل ميں ولي امر مسلمين اور دوسرے مرجع تقليد کے فتوے ميں تعارض و اختلاف ہو تو ايسے ميں مسلمانوں کا شرعي فريضہ کيا ہے ، کيا کوئي ايسي حد فاصل ہے جو ولي امر مسلمين اور مرجع کے صادر کردہ احکام ميں امتياز پيد اکرسکے ؟ مثلاً اگر موسيقي کے سلسلہ ميں مرجع تقليد اور ولي امر مسلمين کي آرائ ميں اختلاف ہو تو يہاں کس کا اتباع واجب اور کافي ہے اور عام طور پر وہ کون سے حکومتي احکام ہيں جن ميں ولي امر مسلمين کا حکم مرجع تقليد کے فتوے پر ترجيح رکھتا ہے؟
ج۔ اسلامي ملک کے نظم و نسق اور مسلمانوں کے عمومي مسائل ميں ولي امر مسلمين کے حکم کا اتباع کيا جائے گا اور نفرادي مسائل ميں مکلف اپنے مرجع تقليد کا اتباع کرسکتا ہے۔
س٥٦۔ جيسا کہ آپ کو معلوم ہے کہ اصول فقہ ميں ’’ اجتہاد متجزي ‘‘ کے عنوان سے بحث کي جاتي ہے کيا امام خميني
۲ کا مرجعيت کو قيادت سے جدا کرنا تجزي کے تحقق کي جانب ايک قدم نہيں ہے؟
ج۔ ولي فقيہہ کي قيادت اور مرجعيت تقليد سے الگ الگ ہوجانے کا اجتہاد ميں تجزي والے مسئلہ سے کوئي ربط نہيں ہے۔
س٥٧۔ اگر ميں کسي مرجع کا مقلد ہوں اور ولي امر مسلمين ظالم کافروں سے جنگ يا جہاد کا اعلان کرے اور ميرا مرجع تقليد مجھے جنگ ميں شريک ہونے کي اجازت نہ دے تو ميں اس کي رائے پر عمل کروں يا نہ کروں؟
ج۔ امور عامہ ميں ولي امر مسلمين کے حکم کي اطاعت واجب ہے، ان ہي امور ميں اسلام اور مسلمانوں کا دفاع اور حملہ آور کافروں اور طاغوتوں سے جنگ بھي شامل ہے۔
س٥٨۔ ولي فقيہہ کا حکم يا اس کا فتويٰ کس حد تک قابل عمل ہے اور اگر ولي فقيہہ کا حکم يا فتويٰ مرجع اعلم کي رائے کے خلاف ہو تو ان دونوں ميں سے کس پر عمل کيا جائے گا اورکیسے ترجيح دي جائے گي؟
ج۔ ولي امر مسلمين کے حکم کا اتباع تمام لوگوں پر واجب ہے اور يہ ممکن ہي نہيں ہے کہ اختلاف کي صورت ميں مرجع تقليد کے فتوے کو ولي فقيہہ کے حکم کے مقابلے ميں لايا جائے۔
 

 

ولايت فقيہ اور حکم حاکم
 


س٥٩۔ مفہوم و مصداق کے اعتبار سے ’’ اصل ‘‘ ولايت فقيہہ کا اعتقاد عقلي ہے يا شرعي ؟
ج۔ بے شک ولايت فقيہہ ۔ جو کے معنيٰ دين سے آگاہ عادل فقيہہ کي حکومت ہے۔ شريعت کا تعبدي حکم ہے جس کي تائيد عقل بھي کرتي ہے اور اس کے مصداق کي تعيين کے لئے عقلي طريقہ بھي ہے جس کو اسلامي جمہوريہ کے دستور ميں بيان کيا گيا ہے۔
س٦٠۔ کيا ولي فقيہہ اسلام اور مسلمانوں کي مصلحت عامہ کے پيش نظر شريعت کے حکم کو بدل سکتا ہے يا اس پر عمل کرنے سے روک سکتا ہے؟
ج۔ مختلف حالات ميں اس کا حکم مختلف ہے۔
س٦١۔ کيا ذرائع ابلاغ کو اسلامي حکومت کے سايہ ميں ولي فقيہہ کے زير نظر ہونا واجب ہے يا انہيں مراکز علوم دينيہ کي نگراني ميں ہونا چاہئيے يا کسي اور ادارہ کے زير نظر ؟
ج۔ واجب ہے کہ ذرائع ابلاغ ولي امر مسلمين کے زير فرمان اور ان کے زير نظر ہوں اور انہيںاسلام و مسلمانوں کي خدمت ، الہي معارف کي نشر و اشاعت ، اسلامي معاشرہ کي عام مشکلوں کے حل اور فکري اعتبار سے اس سے مسلمانوں کي ترقي اور ان کي صفوں ميں اتحاد پيدا کرنے اوران کے درميان اخوت و برادري کي روح کو فروغ دينے اور اسي طرح کے دوسرے امور انجام دينے کے لئے استعمال کيا جائے۔
س٦٢۔ کيا اس شخص کو حقيقي مسلمان سمجھا جائے گا جو فقيہہ کي ولايت مطلقہ کا معتقد نہ ہو؟
ج۔ غيبت امام زمانہ عج کے عہد ميں اجتہاد يا تقليد کي بنائ پر فقيہہ کي ولايت مطلقہ پر اعتقاد نہ رکھنا ارتداد اور دائرہ اسلام سے خارج ہونے کا باعث نہيں ہے۔
س٦٣۔ کيا ولي فقيہہ کو ولايت تکويني حاصل ہے جس کي بنياد پر اس کے لئے کسي وجہ سے جيسے مصلحت عامہ کي بنا پر ديني احکام کا منسوخ کرنا ممکن ہے؟
ج۔ رسول اعظم صلوات اللہ عليہ و آلہ کي وفات کے بعد شريعت اسلاميہ کے احکام منسوخ نہيں کئے جاسکتے البتہ موضوع کا بدلنا ، کسي ضرورت يا مجبوري کا پيش آنا ، يا حکم کے نفاذ ميں کسي وقتي رکاوٹ کا وجود نسخ نہيں ہے اور ولايت تکويني اس کے نظر ميں جو اس کا قائل ہے معصومين ٴ سے مخصوص ہے۔
س٦٤۔ ان لوگوں سے متعلق ہمارا کيا فريضہ ہے جو فقيہہ عادل کي ولايت کو صرف امور حبيبہ ميں محدود سمجھتے ہيں، جانتے ہوئے کہ ان کے بعض نمائندے اس نظريہ کي اشاعت بھي کرتے ہيں؟
ج۔ ہر زمانہ ميں معاشرہ کي قيادت اور اجتماعي امور کي ہدايت کے لئے ولايت فقيہہ مذہب حقہ اثنا عشري کا ايک رکن رہي ہے اور اس کا تعلق اصل امامت سے ہے اور اگر کوئي شخص دليل کے ذريعہ ولايت کے ذريعہ ولايت فقيہہ مذہب حقہ اثنا عشري کا ايک رکن رہي ہے اور اس کا تعلق اصل امامت سے ہے اور اگر کوئي شخص دليل کے ذريعہ ولايت فقيہہ کا قائل نہ ہو تو وہ معذور ہے ليکن اس کے لئے يہ جائز نہيں ہے کہ تفرقہ اور اختلاف پھيلائے۔
س٦٥۔ کيا ولي فقيہہ کے اوامر پر عمل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے يا صرف اس کے مقلدين کا فريضہ ہے؟
نيز جو مرجع تقليد ولايت مطلقہ کا معتقد نہ ہو اس کے مقلد پر ولي فقيہہ کي اطاعت واجب ہے يا نہيں؟
ج۔ شيعہ فقہ کے اعتبار سے ولي امر مسلمين کے صادر کردہ ولائي شرعي او امر کي اطاعت کرنا اور اس کے امر و نہي کے سامنے سر تسليم خم کرنا تمام مسلمانوں ، يہاں تک کہ تمام فقہائے عظام پر بھي واجب ہے چہ جائيکہ ان کے مقلدين پر ۔ اور ہم ولايت فقيہہ کي پابندي کو اسلام کي پابندي اور آئمہ کي ولايت سے جدا نہيں سمجھتے۔
س٦٦۔ لفظ ’’ ولايت مطلقہ ‘‘ رسول
۰ کے زمانہ ميں اس معني ميں استعمال ہوتا تھا کہ اگر رسول ۰ کسي شخص کو کسي چيز کا حکم ديں کہ تم خود کو قتل کر ڈالو ! تو اس پر خود کو قتل کردينا واجب تھا۔ اب سوال يہ ہے کہ کيا آج بھي ولايت مطلقہ کے وہي معني ہيں؟ اس بات کو مد نظر رکھتے ہوئے کہ نبي ۰
معصوم تھے اور اس زمانہ ميں کوئي ولي معصوم نہيں ہے؟
ج۔ جامع الشرائط فقيہہ کي ولايت مطلقہ سے مراد يہ ہے کہ دين اسلام تمام آسماني اديان کے آخر ميں آنے والا اور قيامت تک باقي رہنے والا دين ہے۔ يہ دين حکومت ہے اور معاشرہ کے امور کي ديکھ بھال کرنے والا دين ہے، پس اسلامي معاشرہ کے تمام طبقات کے لئے ايک ولي امر، حاکم شرع اور قائد کا ہونا ضروري ہے جو امت کو اسلام و مسلمانوں کے دشمنوں سے بچائے، ان کے نظام کا محافظ ہو، ان کے درميان عدل قائم کرے، طاقتور کو کمزور پر ظلم کرنے سے باز رکھے، معاشرہ کي ثقافتي ، سياسي اور اجتماعي امور کي ترقي کے وسائل فراہم کرے۔
اس امر کا عملي ميدان ميں نفاذ بعض اشخاص کي خواہشات ، منافع اور آزادي سے ٹکراو رکھتا ہے۔ لہذا حاکم مسلمين پر واجب ہے کہ وہ اس کے نفاذ کے وقت فقہ اسلامي کي روشني ميں ضرورت کے تحت لازمي اقدامات کرے۔
اس بنا پر ضروري ہے کہ اسلام اور مسلمانوں کے مصالح عامہ کے پيش نظر ولي امر کا ارادہ اور اس کے اختيارات تعارض اور ٹکراو کي صورت ميں عوام کے ارادہ اوران کے اختيارات پر حاکم ہوں اور يہ ولايت مطلقہ کا ايک معمولي سا پہلو ہے۔
س٦٧۔ جس طرح مجتہد ميت کي تقليد پر باقي رہنے کے سلسلہ ميں فقہا کا فتويٰ ہے کہ اس کے لئے زندہ مجتہد کي اجازت کي ضرورت ہے ، کيا اسي طرح مرحوم قائد کي طرف سے صادر ہونے والے حکومتي احکام و اوامر پر عمل کے سلسلے ميں بھي زندہ قائد کي اجازت درکار ہے يا وہ اپني جگہ ويسے ہي باقي ہيں۔
ج۔ ولي امر مسلمين کي طرف سے صادر ہونے والے حکومتي احکام اور اشخاص کي تقررياں اگر وقتي نہ ہوں تو اپني جگہ پر باقي رہيں گے ورنہ اگر موجودہ ولي امر مسلمين انہيں منسوخ کردينے ميں مصلحت سمجھتا ہوگا تو منسوخ کردے گا۔
س٦٨۔ کيا اسلامي جمہوريہ ايران ميں زندگي گزارنے والے اس فقيہہ پر، جو لي فقيہہ کي ولايت مطلقہ کا قائل نہيں ہے، ولي فقيہہ کے احکام کي اطاعت کرنا واجب ہے؟ اگر وہ ولي فقيہہ کے حکم کي مخالفت کرے تو کيا اسے فاسق سمجھا جائے گا؟ اور اگر کوئي فقيہہ ولايت مطلقہ کا تو اعتقاد رکھتا ہے ليکن اس منصب کے لئے اپني ذات کو زيادہ سزاوار سمجھتا ہے، اس صورت ميں اگر وہ ولايت کے منصب پر فائز فقيہہ کے احکام کي خلاف ورزي کرتا ہے تو کيا اسے فاسق سمجھا جائے گا؟
ج۔ ہر مکلف پر واجب ہے کہ وہ ولي امر مسلمين کے حکومتي اوامر کي اطاعت کرے چاہے وہ فقيہہ ہي کيوں نہ ہو اور کسي کے لئے جائز نہيں ہے کہ وہ خود کو اس منصب کا زيادہ حقدار سمجھ کر ولي امر مسلمين کے احکام کي خلاف ورزي کرے۔ يہ حکم اس صورت ميں ہے جب کہ موجودہ ولي فقيہہ نے ولايت کے منصب کو اس کے مروجہ قانوني طريقہ کے مطابق حاصل کيا ہو ورنہ دوسري صورت ميں مسئلہ کلي طور سے مختلف ہے۔
س٦٩۔ کيا جامع الشرائط مجتہد کو زمانہ غيبت ميں حدود جاري کرنے کا اختيار حاصل ہے؟
ج۔ زمانہ غيبت ميں بھي حدود کا جاري کرنا واجب ہے اور اس کي ولايت اور اختيار صرف ولي امر مسلمين سے مخصوص ہے۔
س٧٠۔ ولايت فقيہہ کا مسئلہ تقليدي ہے يا اعتقادي؟ اور اس شخص کا کيا حکم ہے جو اسے تسليم نہيں کرتا ؟
ج۔ ولايت فقيہہ اس امامت و ولايت کے سلسلہ کي کڑي ہے جو اصول مذہب ميں سے ہے ليکن اس کے احکام کا استنباط بھي فقہي احکام کي طرح شرعي دليلوں سے کيا جاتا ہے اور جو شخص استدلال کے ذريعہ ولايت فقيہہ کو قبول نہ کرے وہ معذور ہے۔
س٧١۔ بعض اوقات ہم بعض عہدہ داروں سے ’’ ولايت اداري ، کے نام کا عنوان سنتے ہيں يعني اعليٰ عہدہ داروں کي بے چون و چرا اطاعت کرنا۔ اس سلسلہ ميں آپ کا کيا نظريہ ہے ؟ اور ہماري شرعي ذمہ داري کيا ہے؟
ج۔ وہ اداري و انتظامي احکام جو اداري قوانين و ضوابط کي بنياد پر صادر ہوتے ہيں ان کي مخالفت اور خلاف ورزي جائز نہيں ہے۔ ليکن اسلامي مفاہيم ميں ’’ ولايت اداري ‘‘ نام کي کوئي چيز نہيں پائي جاتي۔
س٧٢۔ کيا فوجي عہدہ داروں اور افسروں کے لئے جائز ہے کہ وہ سپاہيوں کو اپنے ذاتي کاموں کي انجام دہي کا اس دليل کے ساتھ حکم ديں کہ اگر وہ ان امور کو خود انجام ديں تو ان کا وقت ضائع ہوگا؟
ج۔ افسروں يا کسي دوسرے شخص کے لئے جائز نہيں ہے کہ وہ سپاہيوں سے اپنے ذاتي کام ليں اور اگر وہ ايسا کريں گے تو ان کو اس کام کي اجرت دينا پڑے گي۔
س٧٣۔ نمائندہ ولي فقيہہ جو احکام اپنے اختيارات کي حدود ميں صادر کرتا ہے کيا ان کي اطاعت واجب ہے؟
ج۔ اگر اس کے احکام ان اختيارات کي حدود ميں ہيں جو اس کو ولي فقيہہ کي طرف سے تفويض کئے گئے ہيں تو ان کي مخالفت جائز نہيں ہے۔

 

استفتا آت (١)
کتاب اجتہاد اور تقليد
کتاب طہارت
کتاب نجاسات اور ان کے احکام
کتاب نماز
کتاب صوم(روزہ)
کتاب خمس
کتاب جہاد
کتاب امر بالمعروف و نہي عن المنکر
متفرقات