|
کتاب طہارت
س٧٤۔ بغير کسي زور کے بلندي سے بہنے والے قليل پاني کا نچلا حصہ اگر
نجات سے مل جائے تو اس سے اوپر والا پاني پاک رہے گا يا نہيں؟
ج۔ ايسے پاني کا اوپري حصہ پاک ہے بشرطيکہ اس پر اوپر سے نيچے کي جانب
بہنا صادق آئے۔
س٧٥۔ کيا نجس کپڑے کو جاري يا کر بھر پاني سے دھونے کے بعد پاک ہونے کے
لئے اسے پاني سے باہر نکال کر نچوڑنا واجب ہے يا وہ پاني ہي ميں نچوڑنے
سے پاک ہوجائے گا؟
ج۔ کپڑے وغيرہ کو جاري يا کر بھر پاني سے پاک کرنے کے لئے ان کا نچوڑنا
شرط نہيں ہے بلکہ کسي بھي صورت سے مثلاً جھٹک دينے سے اگر اس کے اندر
کا پاني نکل جائے تو کافي ہے اور وہ پاک ہوجائے گا۔
س٧٦۔ جو پاني بذات خود غليظ اور گاڑھا ہو اس سے وضو اور غسل کرنے کا
کيا حکم ہے؟ جيسے سمندر کا پاني جو نمک کي زيادتي کي وجہ سے گاڑھا ہوتا
ہے يا جيسے اروميہ کي جھيل کا پاني يا ہر وہ پاني جو اس سے بھي زيادہ
گاڑھا رہتا ہے؟
ج۔ پاني کا صرف نمکيات کي وجہ سے گاڑھا ہونا ، اسے خالص پاني کے دائرے
سے خارج نہيں کرتا ، خالص پاني پر شرعي احکام کے مرتب ہونے کا معيار يہ
ہے کہ اسے عام بول چال ميں خالص پاني کہا جائے۔
س٧٧۔ کيا (پاني پر)کر کا حکم اس وقت لگے گا جب اس کے کر بھر ہونے کا
علم ہو يا صرف اسے کر بھر سمجھ لينا ہي کافي ہے (جيسے ٹرين کے ڈبوں ميں
لگي ٹنکيوں وغيرہ کا پاني)
ج۔ اگر يہ ثابت ہوجائے کہ پہلے وہ کر بھر تھا ، تو اسي پر بنا رکھنا
جائز ہے۔
س٧٨۔ امام خميني
۲
کي توضيح المسائل (کے مسئلہ نمبر ١٤٧)ميں آيا ہے کہ ’’ نجاست و طہارت
کے بارے ميں مميز بچے کي بات کا اعتبار اس کے بالغ ہونے سے پہلے ضروري
نہيں ہے‘‘ اور اس فتويٰ کي پابندي بڑي مشقت کا باعث ہے۔ مثلاً جب تک
بچہ ١٥ سال کا نہيں ہوتا والدين پر واجب ہے کہ اس کے رفع حاجت کے بعد
خود اس کي طہارت کريں ۔ ايسے ميں شرعي ذمہ داري کيا ہے؟
ج۔ ايسا بچہ جو سن بلوغ کے قريب ہو اس کي بات معتبر ہے۔
س٧٩۔ بعض اوقات پاني ميں ايسي دوائيں ملاتے ہيں جن سے پاني کا رنگ دودھ
جيسا ہوجاتا ہے تو کيا يہ پاني مضاف ہوجائے گا ؟ اور اس سے وضو اور
طہارت کرنے کا کيا حکم ہے؟
ج۔ اس پر مضاف پاني کا حکم جاري نہيں ہوگا۔
س٨٠۔ طہارت کے لئے کر اور جاري پاني ميں کيا فرق ہے؟
ج۔ دونوں ميں کوئي فرق نہيں ہے۔
س٨١۔ اگر نمکين پاني کو کھالا جائے تو کيا اس کي بھاپ سے بننے والے
پاني سے وضو کرنا صحيح ہے؟
ج۔ اگر نمکين پاني کي بھاپ سے بننے والے پاني کو خالص پاني کہنا صحيح
ہو تو اس پر آب مطلق کے احکام جاري ہوں گے۔
س٨٢۔ اگر نجس کپڑے کو کثير پاني سے دھويا جائے تو کيا اس کا نچوڑنا
واجب ہے يا نجاست دور کرنے کے بعد اسے نجس جگہ تک پاني ميں ڈبو دينا ہي
کافي ہے؟
ج۔ کپڑے کو پاني ميں ڈبو کر اس سے پاني نکال دينا ہي کافي ہے۔ چاہے
کثير پاني کے اندر حرکت دے کر ہي نکال ليں۔ نچوڑنا شرط نہيں ہے۔
س٨٣۔ اگر ہم نجس فرش يا جانماز کو ( آب کثير والي ) ٹنکي سے متصل نل کے
پاني سے دھونا چاہيں تو کيا پائپ کا پاني نجس جگہ تک پہونچتے ہي يہ
چيزيں پاک ہوجائيں گي يا آب غسالہ ( دھوو ن) کو ان سے نکالنا ضروري ہے؟
ج۔ آب کثير سے متصل پائپ سے پاک کرنے ميں غسالہ ( دھوون ) کا نکالنا
شرط نہيں ہے بلکہ عين نجاست کے دور ہونے کے بعد نجس جگہ تک صرف پاني کے
پہونچنے اور دھوون کے اپني جگہ سے منتقل ہونے کے ساتھ ہي يہ چيزيں پاک
ہوجائيں گي۔
س٨٤۔ پاو ں کے تلوے پاک کرنے کے لئے ١٥ قدم چلنا شرط ہے ، پس کيا عين
نجاست کے زائل ہونے کے بعد اتنا چلنا ضروري ہے يا عين نجاست کے ہوتے
ہوئے بھي پندرہ قدم چلنا کافي ہے؟ اور اگر ١٥ قدم چلنے سے عين نجاست
زائل ہوجائے تو کيا پاو ں کا تلوا پاک ہوجائے گا؟
ج۔ پندرہ قدم چلنا معيار نہيں ہے بلکہ اتنا چلنا کافي ہے جس سے عين
نجاست زائل ہوجائے اور بالفرض اگر نجاست چلنے سے پہلے ہي دور ہوجائے تو
بھي اتنا چلے جس سے چلنا صادق آئے۔
س٨٥۔ تارکول سے بني ہوئي سڑکيں اور زمين سے تعلق رکھنے والي دوسري
چيزيں بھي مطہرات ميں شامل ہيں کہ اس پر چلنا پاو ں کے تلوو ں کو پاک
کردے گا؟
ج۔ وہ زمين جس پر تارکول وغيرہ بچھايا گيا ہو نہ تو پاو ں کے تلوو ں کو
پاک کرتي ہے اور نہ پاو ں ميں پہني ہوئي چيز مثلاً جوتے کے تلے کو پاک
کرتي ہے۔
س٨٦۔ کيا سورج پاک کرنے والي چيزوں ميں سے ہے؟ اور اگر يہ پاک کرنے
والي چيزيں ميں سے ہے تو اس کے شرائط کيا ہيں؟
ج۔ سورج زمين کو اور ہر اس چيز کو پاک کرتا ہے جو غير منقول ہو جيسے
مکان اور اس سے متصل چيزيں اور جو چيز اس مکان ميں لگائي گئي ہوں جيسے
لکڑياں اور دروازے وغيرہ ، عين نجاست کے دور ہونے کے بعد سورج کي
شعاعيں ان پر پڑيں تو پاک ہوجائيں گي بشرطيکہ جب ان پر شعاعيں پڑيں تو
وہ گيلي ہوں۔
س٨٧۔ ان نجس کپڑوں کو کس طرح پاک کيا جائے گا جن کا رنگ پاک کرنے کے
دوران پاني کو رنگين کردے ؟
ج۔ اگر کپڑوں کے رنگ سے پاني مضاف نہ ہوجائے تو ان پر پاني ڈالنے سے ہي
وہ پاک ہوجائيں گے۔
س٨٨۔ ايک شخص غسل جنابت کرنے کے لئے ايک برتن ميں پاني رکھتاہے اور غسل
کے دوران اس کے بدن کا پاني اس برتن ميں گرجاتا ہے ، تو کيا اس صورت
ميں وہ پاني پاک رہے گا ؟ اور کيا اس پاني سے غسل مکمل نہيں کيا
جاسکتا؟
ج۔ اگر پاني بدن کے پاک حصے سے برتن ميں گرے تو پاک ہے اور اس سے غسل
کرنے ميں کوئي حرج نہيں ہے۔
س٨٩۔ کيا نجس پاني کے ذريعہ گندھي ہوئي مٹي سے بنے تنور کا پاک کرنا
ممکن ہے؟
ج۔ تنور کا ظاہري حصہ دھلنے سے پاک ہوجاتا ہے اور اس کے اسي ظاہري حصے
کو پاک کرنا کافي ہے جس پر روٹياں لگائي جاتي ہيں۔
س٩٠۔ کيا حيوان سے حاصل شدہ نجس تيل ايسے کيميائي عمل کے بعد بھي نجس
رہے گا جس کي وجہ سے اس ميں نئي خاصيت پيد اہوجائے ! يا اس پر استحالہ
کا حکم جاري ہوگا؟
ج۔ نجس چيزوں يا حرام جانوروں سے حاصل شدہ حرام چيزوں کي طہارت اور
حليت کے لئے ان پر صرف ايساکیمیائي عمل ہي کافي نہيں ہے، جو اس ميں نئي
خاصيت پيدا کردے۔
س٩١۔ ہمارے ديہات ميں حمام کي چھت مسطح ہے جس سے نہانے والوں پر پاني
کے قطرے گرتے ہيں يہ قطرے حمام کے پاني کي بھاپ سے بنتے ہيں ، کيا يہ
قطرے پاک ہيں؟ اور کيا ان قطروں کے گرنے کے بعد غسل صحيح ہے؟
ج۔ حمام کے پاني سے بننے والي بھاپ پاک ہے، اسي طرح اس سے بننے والے
قطرے بھي پاک ہيں اور بدن پر ان قطروں کے گرنے سے نہ غسل کي صحت پر اثر
پڑتا ہے اور نہ غسل کرنے والے کا بدن نجس ہوتا ہے۔
س٩٢۔ علمي تحقيقات کے نتائج بتاتے ہيں کہ پينے والے پاني ميں جراثيم
اور آلودہ معدني مواد کا اختلاط اس کے وزن کو 1/10 فيصد بڑھا ديتا ہے۔
پاني صاف کرنے والي مشين اس استعمال شدہ پاني سے ان مواد و جراثيم کو
فزيکي ، کيمياوي اور بيالوجيکي عمل کے ذريعہ اس طرح جدا کرديتي ہے کہ
تفصيہ کے بعد وہ فزيکي اعتبار سے ( رنگ و بو اور مزہ ) کيمياوي اعتبار
سے مخلوط معدنيات اور طبي اعتبار سے ( مضر جراثيم اور گندے پاني ميں
موجود جراثيم کے انڈوں سے) صاف و شفاف اور بہت سي نہروں اور جھيلوں کے
پاني سے بہتر ہوجاتا ہے ۔ خاص طور پر اس پاني سے جو پينے کے لئے
استعمال ہوتا ہے۔ اگر يہ استعمال شدہ پاني نجس ہے تو کيا وہ مذکورہ
بالاعمل کے ذريعہ پاک ہوجائے گا اور اس پر استحالہ کا حکم لاگو ہوگا يا
تصفيہ سے حاصل ہونے والا پاني نجس ہي رہے گا؟
ج۔ استعمال شدہ پاني سے آلودہ معدنيات اور جراثيم وغيرہ کو جدا کردينے
سے استحالہ نہيں ہوجاتا ، مگر يہ کہ تصفيہ بھاپ بننے سے ہوا اور وہ
بھاپ دوبارہ پاني ميں تبديل ہوجائے، اور يہ بات پوشيدہ نہ رہے کہ يہ
حکم اسي وقت جاري ہوگا جب استعمال شدہ پاني نجس ہو، جبکہ يہ معلوم نہيں
کہ مستعمل پاني ہميشہ نجس ہي ہوتا ہے۔
س٩٣۔ ہمارے علاقے ميں ميت کو تختہ پر غسل ديتے ہيں ، بالفرض اگر ميت کے
بدن پر کوئي ظاہري نجاست بھي لگي ہوئي ہو تو کيا ميت کے پاک ہونے کے
ساتھ تختہ بھي پاک ہوجائے گا،جبکہ يہ معلوم ہے کہ لکڑي پہلي مرتبہ گرنے
والے پاني کو جذب کرليتي ہے؟
ج۔ ميت کے پاک ہونے سے تختہ بھي پاک ہوجائے گا اور اس کو الگ سے پاک
کرنے کي ضرورت نہيں ہے۔
بيت الخلا ئ کے احکام
س٩٤۔ خانہ بدوشوں کے پاس، خاص طور سے جب وہ ايک جگہ سے دوسري جگہ جاتے
ہيں تو اتنا پاني نہيں ہوتا کہ وہ پيشاب کے مقام کو پاک کرسکيں۔ اس
صورت ميں کيا لکڑي اور کنکريوں سے طہارت کرنا کافي ہے؟
ج۔ پيشاب کا مقام پاني کے بغير پاک نہيں ہوتا، ليکن اگر اس کا پاني سے
پاک کرنا ممکن نہ ہو تو نماز صحيح ہے۔
س٩٥۔ آب قليل سے پيشاب اور پاخانہ کے مقام کو پاک کرنے کا کيا حکم ہے؟
ج۔ پيشاب کے مقام کو پاک کرنے کے لئے پاني سے ايک مرتبہ دھونا کافي ہے
اور پاخانہ کے مقام کو اتنا دھوئے کہ عين نجاست اور اس کے آثار زائل
ہوجائيں۔
س ٩٦۔ پيشاب کرنے کے بعد حسب عادت نمازي پر استبرائ کرنا واجب ہے جبکہ
ميرا عضو تناسل زخمي ہے اور استبرائ کرتے وقت فشار دينے سے اس سے خون
نکل آتا ہے اور طہارت کے لئے استعمال کئے جانے والے پاني ميں مل کر
ميرے بدن اور لباس کو نجس کرديتا ہے اور اگر ميں استبرائ نہ کروں تو
ممکن ہے کہ وہ زخم ٹھيک ہوجائے اور استبرائ کرنے اور دبانے سے يقين ہے
کہ وہ زخم باقي رہے گا۔ اور اگر ميں اسي طرح استبرائ کرتا ہوں تو يہ
زخم تين ماہ کے بعد ٹھيک ہوگا۔ لہذا آپ بتائيں کہ ميں استبرائ کروں يا
نہيں؟
ج۔ استبرائ واجب نہيں ہے بلکہ اگر وہ ضرر کا موجب ہو تو ناجائز ہے ۔
ہاں اگر پيشاب کے بعد استبرائ نہ کرے اور مشتبہ رطوبت نکلے تو وہ پيشاب
کے حکم ميں ہے۔
س٩٧۔ ميں يونيورسٹي کا ايک طالب عالم ہوں، مجھے کئي سال سے ايک بيماري
ہوگئي ہے جو سخت پريشاني کا سبب بن گئي ہے اور وہ يہ کہ پيشاب اور
استبرائ کے بعد پيشاب کے مقام سے کبھي کبھي ايسي رطوبت نکلتي ہے جس کا
حجم قطرے کا 1/4 ہوتا ہے اور کبھي يہ رطوبت ٥ منٹ بعد يا اس سے بھي کچھ
دير ميں نکلتي ہے، ہاں جب ميں پہلے استبرائ نہيں کرتا تھا تو اس وقت
پيشاب کے بعد کئي قطرے نکلتے تھے اور جب سے استبرائ کرنا شروع کيا ہے
تب سے قطرے کا 1/4 حصہ يا اس سے بھي کم نکلتا ہے اور ميں نہيں جانتا کہ
نکلنے والي رطوبت پاک ہے اور اس ميں نماز صحيح ہے يا نہيں؟
ج۔ استبرائ کے بعد نکلنے والي مشتبہ رطوبت پاک ہے مگر يہ کہ آپ کو يقين
ہوجائے کہ وہ پيشاب ہے۔
س٩٨۔ پيشاب اور استبرائ کے بعد کبھي پيشاب کے مقام سے بلا اختيار ايسي
رطوبت نکلتي ہے جو پيشاب سے مشابہ ہوتي ہے، آيا يہ رطوبت نجس ہے يا پاک
؟ اگر انسان اس کے نکلنے کے تھوڑي دير کے بعد اچانک متوجہ ہو تو اس کے
پہلے کي پڑھي ہوئي نماز کا کيا حکم ہے؟
ج۔ استبرائ کے بعد نکلنے والي رطوبت کے بارے ميں اگر شک ہو کہ وہ پيشاب
ہے يا نہيں تو وہ پيشاب کے حکم ميں نہيں ہے اور پاک ہے اوراس سلسلے ميں
تحقيق و تجسس واجب نہيں ہے۔
س٩٩۔ اگر ہوسکے تو برائے مہرباني انسان سے نکلنے والي رطوبتوں کي وضاحت
فرماديجئے؟
ج۔ جو رطوبت اکثر مني کے بعد نکلتي ہے اس کا نام ’’ وذي ‘‘ ہے ، پيشاب
کے بعد نکلنے والي رطوبت’’ ودي ‘‘ کہلاتي ہے ، زن و شوہر کي باہم خوش
فعلي کے وقت نکلنے والي رطوبت ’’ مذي ‘‘ ہے اور يہ سب کي سب پاک ہيں۔
ان سے طہارت زائل نہيں ہوتي۔
س ١٠٠۔ پائخانہ کے قدمچے يا کموڈ جس سمت کو ہم قبلہ سمجھتے تھے ،اس سے
بالکل مخالف سمت ميں نصب کئے گئے اور کچھ عرصہ بعد معلوم ہوا کہ قدمچے
کا انحراف قبلہ سے صرف ٢٠ سے ٢٢ ڈگري تک ہي فرق رکھتا ہے ۔ اب برائے
ميرباني يہ فرمائيں کہ قدمچہ کي سمت کا بدلنا واجب ہے يا نہيں؟
ج۔ اگر انحراف اس حد تک ہو کہ عرفاً قبلہ سے انحراف صادق آجائے تو کوئي
مضائقہ نہيں ہے۔
س١٠١۔ ميرے پيشاب کي نلي ميں ايک مرض ہے جس کي وجہ سے پيشاب اور
استبرائ کے بعد بھي پيشاب نہيں رکتا اور ميں رطوبت ديکھتا ہوں ، اس
سلسلے ميں ، ميں نے ڈاکٹر کي طرف بھي رجوع کيا اور جو اس نے کہا اس پر
عمل بھي کيا ليکن کوئي فائدہ نہيں ہوا، اب ميرا فرض کيا ہے؟
ج۔ استبرائ کے بعد پيشاب کے نکلنے کے بارے ميں شک کا اعتبار نہيں کيا
جائے گا اور اگر آپ کو قطرات کي شکل ميں پيشاب کے ٹپکنے کا تعينن ہو تو
امام خميني
۲
کے رسالہ عملہ ميں مذکور مسلوس ( جسے برابر پيشاب ٹپکتا ہے) کے فريضہ
پر عمل کريں، اس کے علاوہ آپ پر کوئي اور چيز واجب نہيں ہے۔
س١٠٢۔ استنجا سے پہلے استبرائ کا کيا طريقہ ہے؟
ج۔ استنجا سے پہلے اور استنجائ و پاخانہ کے مقام کو پاک کرنے کے بعد
والے استبرائ کے طريقے ميں کوئي فرق نہيں ہے۔
س١٠٣۔ بعض کارخانوں اور اداروں ميں کام کرنے کے لئے طبي معائنہ ضروري
ہوتا ہے اور اس سلسلہ ميں کبھي شرم گاہ کو بھي کھولنا پڑتا ہے تو کيا
وہاں کام کرنے کي ضرورت کے پيش نظر ايسا کرنا جائز ہے؟
ج۔ مکلف کے لئے ناظر محترم يعني باشعور اور مميز شخص کے سامنے شرمگاہ
کا کھولنا جائز نہيں ہے۔ چاہے کام کے لئے وہاں پر تقرري اسي پر موقوف
ہو ۔ مگر يہ کہ اس کام کا ترک کرنا حرج کا باعث ہو اور وہ کام کرنے پر
مجبور ہو۔
وضو کے احکام
س١٠٤۔ ميںنے نماز مغرب ادا کرنے کي نيت سے وضو کيا تو کيا ميں اسي وضو
سے قرآن کريم ( کے حروف ) کو چھو سکتا ہوں اور نماز عشائ پڑھ سکتا ہوں؟
ج۔ صحيح وضو متحقق ہونے کے بعد جب تک وہ باطل نہيں ہوتا اس سے ہر وہ
عمل انجام ديا جاسکتا ہے جس ميں طہارت شرط ہے۔
س ١٠٥۔ ايک شخص اپنے سر پر مصنوعي بال لگاتا ہے اور اگر اسے ہٹالے تو
مشکل ميں پڑ جائے گا تو کيا اس کے لئے مصنوعي بال پر مسح کرنا جائز ہے؟
ج۔ مصنوعي بالوں پر مسح کرنا جائز نہيں ہے بلکہ مسح کرتے وقت ( سر کي)
کھال سے ان کا ہٹانا واجب ہے مگر يہ کہ ان کے ہٹانے ميں اتني مشقت پيش
آئے جو عادتاً ناقبل برداشت ہو۔
س١٠٦۔ زيد ( نام کے ايک شخص ) کا کہنا ہے کہ : چہرے پر صرف دو چلو پاني
ڈالنا چاہئيے اور تيسرا چلو پاني ڈالنے سے وضو باطل ہوجاتا ہے ، آيا يہ
صحيح ہے؟
ج۔ چہرے پر دو چلو يا اس سے بھي زيادہ پاني ڈالنے ميں کوئي حرج نہيں
ہے، ليکن چہرے اور ہاتھوں کو دو مرتبہ سے زيادہ دھونا ( يعني ان پر
ہاتھ پھيرنا ) جائز نہيں ہے۔
س١٠٧۔ جو چکنائي طبيعي طور سے جسم کے بالوں يا کھال سے نکلتي ہے، کيا
اسے وضو کے لئے حاجب اور مانع شمار کيا جائے گا؟
ج۔ حاجب شمار نہيں ہوگي مگر يہ کہ وہ اتني مقدار ميں ہو کہ مکلف خود
اسے بال يا کھال تک پاني کے پہونچنے ميں حائل سمجھے۔
س ١٠٨۔ ايک مدت تک ميں نے پاو ں کا مسح ، انگليوں کے سرے سے نہيں کيا
بلکہ انگليوں کے پچھلے حصے سے پاو ں کي ابھري ہوئي جگہ تک مسح کيا ہے،
آيا ايسا مسح صحيح ہے؟ اور اگر اس ميں اشکال ہے تو کيا ميں جن نمازوں
کو پڑھ چکا ہوں ان کي قضا واجب ہے؟
ج۔ اگر مسح پاو ں کي انگليوں کے سرے سے نہ ہوا ہو تو وضو باطل ہے اور
نماز کي قضا واجب ہے اور اگر شک ہو کہ پاو ں کا مسح انگليوں کے سرے سے
ہوا ہے يا نہيں، تو وضو اور نماز صحيح ہيں۔
س١٠٩۔ کعب کيا ہے، جہاں تک پاو ں کا مسح ختم کيا جاتا ہے؟
ج۔ مشہور يہي ہے کہ پاو ں کي ابھري ہوئي جگہ سے پنڈلي کے جوڑ يعني ٹخنے
تک ہے، جسے پاو ں کے قبہ يا ابھار سے تعبير کيا گيا ہے۔ ليکن اس احتياط
کو ترک نہيں کرنا چاہئيے کہ مسح ٹخنے تک ہے۔
س١١٠۔ اسلامي ممالک ميں حکومت کي طرف سے بنائي گئي مسجدوں ، عدالتي
مراکز اور سرکاري دفاتر ميں وضو کرنے کا کيا حکم ہے؟
ج۔ کوئي حرج نہيں ہے اور نہ ہي اس ميں کوئي شرعي ممانعت ہے۔
س١١١۔ ( اعضائے وضو ميں سے کسي حصہ کو ) ايک مرتبہ دھونے کے لئے کيا
چند چلو پاني ڈالنا ممنوع ہے؟ اور اگر چند چلو پاني کے ذريعہ ايک مرتبہ
دھونے کي نيت ہو ليکن ايک سے زيادہ مرتبہ دھل جائے تو اس کا کيا حکم
ہے؟
ج۔ اس کا دار ومدار قصد اور ايک مرتبہ دھونے پر ہے اور کئي مرتبہ يا
کئي چلو پاني ڈالنے سے کوئي فرق نہيں پڑتا۔
س١١٢۔ اگر ايک شخص کي زمين ميں چشمہ پھوٹے اور ہم پائپ کے ذريعہ پاني
کئي کلوميٹر دور لے جانا چاہيں تو اس کا لازمي نتيجہ ہے کہ پائپ کو اس
شخص کي زمين اور دوسرے اشخاص کي زمينوں سے گزاريں ، پس اگر وہ افراد نہ
ہوں تو کيا اس چشمے کے پاني کو وضو ، غسل اور دوسري چيزوں کي طہارت کے
لئے استعمال کرنا جائز ہے؟
ج۔ اگر چشمہ خود سے پھوٹے اور قبل اس سے کے کہ زمين پر جاري ہو، اس کا
پاني پائپ ميں ڈال ديا جائے اور اس زمين ، نيز دوسري زمينوں کو اس پائپ
لائن کے گزرنے کے لئے استعمال کيا جائے، تو اس پاني سے استفادہ کرنے
ميں کوئي حرج نہيں ہے، بشرطيکہ عرف عام ميں پاني کے استفادہ کو اس زمين
اور دوسري زمينوں ميں تصرف نہ سمجھا جائے۔
س١١٣۔ ہمارے محلہ ميں پاني کا دباو بہت کم ہے جس کي وجہ سے مکانوں کے
اوپر کي منزلوں ميں پاني يا تو بہت ہي کم پہنچتا ہے يا پہنچ ہي نہيں
پاتا اور نيچے کي منزلوں ميں بھي پاني کي رفتار بہت کم رہتي ہے ۔ بعض
پڑوسيوں نے واٹر پمپ لگا رکھے ہيں جن کے چلنے سے اوپر کي منزلوں ميں
پاني نہيں پہنچتا اور نيچے کي منزلوں ميں اگرچہ پاني منقطع نہيں ہوتا
ليکن اس کي رفتار اتني کم ہوجاتي ہے جس سے استفادہ ممکن نہيں ہوتا اور
اکثر وضو و غسل کے وقت مشکل اتني بڑھ جاتي ہے کہ نل کے پاني سے استفادہ
ہي ممکن نہيں ہوپاتا۔ اور جب وہ واٹر پمپ کام نہيں کرتے تو سب لوگ نماز
اور دوسرے امور کے لئے وضو ، غسل کے سکتے ہيں ۔ دوسري طرف محکمہ آب ،
لوگوں کو واٹر پمپ لگانے سے روکتا ہے اور اگر اسے کسي گھر ميں اس کي
موجودگي کا علم ہوجائے تو اس کے مالک کو وارننگ ديتا ہے۔ پھر اگر گھر
کا مالک واٹر پمپ خود سے نہ ہٹائے تو محکمہ آب والے اسے اٹھالے جاتے
ہيں اور جرمانہ بھي کرتے ہيں۔ مذکورہ توضيح کي روشني ميں دو سوال
دريافت طلب ہيں:
١۔ کيا ايسے واٹر پمپ لگانا شرعا ً جائز ہے؟ اور کيا ہمارے لئے بھي اس
کا لگانا جائز ہے؟
٢۔ جائز نہ ہونے کي صورت ميں واٹر پمپ چلتے وقت وضو ، اور غسل کا کيا
حکم ہے؟
ج۔ مذکورہ سوال کي روشني ميں واٹر پمپ کا نصب کرنا اور اس استفادہ کرنا
جائز نہيں ہے اور اس صورت ميں وضوئ اور غسل ميں بھي اشکال ہے۔
س١١٤۔ نماز کا وقت داخل ہونے سے پہلے وضو کرنے کے بارے ميں آپ کي کيا
رائے ہے؟اور آپ نے کسي کے استفتائ ( کے جواب) ميں فرمايا ہے کہ اگر
نماز کے اول وقت سے کچھ دير پہلے وضو کيا جائے تو اس وضو سے نماز صحيح
ہے پس نماز کے اول وقت سے قريبي وقت کي مقدار آپ کے نزديک کيا ہے ؟
ج۔ وقت نماز داخل ہونے کے قريبي وقت کي تشخيص معيار عرف ہے، پس اگر اس
وقت نماز کے لئے وضو کيا جائے تو کوئي حرج نہيں ہے۔
س١١٥۔ کيا وضو کرنے والے کے لئے يہ مستحب ہے کہ وہ پير کا مسح انگليوں
کے بالکل نچلے حصے يعني اس جگہ سے کرے جو چلتے وقت زمين سے مس ہوتي ہے؟
ج۔ مسح کي جگہ پير کے اوپري حصہ يعني انگليوں کے سرے سے ٹخنوں تک ہے
اور انگليوں کے نچلے حصے کے مسح کا مستحب ہونا ثابت نہيں ہے۔
س١١٦۔ وضو کرنے والا اگر وضو کرنے کے قصد سے ہاتھوں اور چہرے کو دھوتے
وقت نل کو کھولے اور بند کرے تو نل کے اس چھونے کا کيا حکم ہے؟
ج۔ کوئي حرج نہيں ہے اور اس سے وضو کي صحت پر کوئي اثر نہيں پڑتا، ليکن
باياں ہاتھ دھونے کے بعد اور مسح کرنے سے پہلے اگر پاني کے گيلے نل پر
ہاتھ رکھے اور بالفرض اگر اس کي ہتھيلي کا وضوئ والا پاني دوسرے پاني
سے مخلوط ہوجائے تو وضو کے صحيح ہونے ميں اشکال ہے۔
س١١٧۔ بعض عورتيں يہ دعويٰ کرتي ہيں کہ ناخن پر پالش کا ہونا وضوئ ميں
رکاوٹ نہيں بنتا ، اور يہ کہ باريک موزے پر مسح کرنا جائز ہے، آپ کيا
فرماتے ہيں؟
ج۔ اگروہ پالش ، ناخن تک پاني کے پہونچنے ميں رکاوٹ بنتي ہو تو وضو
باطل ہے اور موزے پر مسح کرنا، خواہ وہ کتنا ہي باريک ہو ، صحيح نہيں
ہے۔
س١١٨۔ جن جنگي زخميوں کو قطع نخاع ( يعني ريڑھ کي ہڈي ميں حرام مغز کٹ
جانے) کي وجہ سے پيشاب ٹپکنے کي شکايت پيدا ہوگئي ہے ، کيا يہ جائز ہے
کہ وہ جمعہ کا خطبہ اور نماز جمعہ و عصر ميں وضو مسلوس کريں؟
ج۔ ان پر وضوئ کے بعد بلا تاخير نماز کا شروع کردينا اور نماز عصر کے
لئے نيا وضو کرنا واجب ہے ۔ ليکن اگر پہلے وضوئ کے بعد حدث صادر نہ ہوا
ہو تو اس صورت ميں دونوں نمازوں کے لئے ايک ہي وضو کافي ہوگا، اسي طرح
خطبہ جمعہ سے پہلے کا وضو نماز جمعہ کے لئے کافي ہوگا اگر وضو کے بعد
ان سے کوئي حدث صادر نہ ہوا ہو۔
س١١٩۔ کيا ايسے جنگي زخميوں کے لئے ، جسے ريڑھ کي ہڈي بيکار ہوجانے کي
وجہ سے پيشاب ٹپکنے کي شکايت ہوگئي ہو، جائز ہے کہ وہ وضوئ کے بعد نماز
جماعت ميں شرکت کے لئے تاخير کرے؟
ج۔ اگر وضو کے بعد اس کا پيشاب قطرہ قطرہ ٹپکتا ہو تو اس پر واجب ہے کہ
وضو اور نماز کے درميان فاصلہ نہ کرے۔
س١٢٠۔ جو شخص وضو پر قادر نہ ہو وہ کسي دوسرے کو وضو کے لئے نائب بنائے
اور خود وضو کي نيت کرے اور اپنے ہاتھ سے مسح کرے اور اگر مسح کرنے پر
قادر نہ ہو تو نائب اس کے ہاتھ سے اسے مسح کرائے اور اگر اس سے بھي
عاجز ہوتونائب اس کے ہاتھ کي تري لے کر اسے مسح کرائے گا ليکن اگر نائب
بنانے والے کے ہاتھ بھي نہ ہوں تو اس کا کيا حکم ہے؟
ج۔ اگر اس کي ہتھيلياں نہ ہوں تو بقيہ ہاتھ سے تري لے کر مسح کرايا
جائے گا اور اگر بقيہ ہاتھ بھي نہ ہو تو چہرے سے تري لے کر اس کے سر
اور پير کا مسح کرايا جائے گا۔
س١٢١۔ ہم جب وضو کرنا چاہيں تو کيا يہ ضروري ہے کہ برتن ٹونٹي والا ہو
جيسے کيتلي وغيرہ ؟ اور اگر اس ظرف ميں ٹونٹي نہ ہو تو کيا اس سے وضو
باطل ہے؟
ج۔ جس ظرف ميں وضو کا پاني ہو اس ميں ٹونٹي ہونا ضروري نہيں ہے اور
برتن سے پاني لے کر وضو کرنے ميں کوئي حرج نہيں ہے ، خواہ اس سے ہاتھ
پر پاني انڈيلا جائے يا اس ميں ہاتھ ڈال کر چلو ميں پاني ليا جائے۔
س١٢٢۔ جس جگہ نما زجمعہ ہوتي ہے اس کے قريب وضو کرنے کي جگہ ہے جو جامع
مسجد سے متعلق ہے اوراس کے پاني کي جو قيمت دي جاتي ہے مسجد کے بجٹ سے
نہيں دي جاتي ہے تو کيا نماز جمعہ پڑھنے والوں کے لئے اس سے استفادہ
کرنا جائز ہے؟
ج۔ جب نمازيوں کے وضو کے لئے پاني کا انتظام بغير کسي قيد کے کيا گيا
ہو تو اس کو استعمال کرنے ميں کوئي حرج نہيں ہے۔
س١٢٣۔ ظہرين کي نماز سے پہلے کيا جانے والا وضو کيا مغرب و عشا کے لئے
بھي کافي ہے يا ہر نماز کے لئے الگ الگ وضو کرنا واجب ہے؟ جبکہ ہم
جانتے ہيں کہ اس دوران وضو باطل کرنے والا کوئي فعل صادر نہيں ہوا ہے؟
ج۔ ہر نما زکے لئے ( جدا) وضو کرنا واجب نہيں ہے بلکہ ايک وضو سے جب تک
وہ باطل نہيں ہوتا جتني نمازيں چاہے پڑھ سکتا ہے۔
س١٢٤۔ وقت نماز سے پہلے کيا واجبي نماز کے لئے وضو کرنا جائز ہے؟
ج۔ جب وقت داخل ہونے والا ہو تو نما زکے لئے وضو کرنے ميں کوئي حرج
نہيں ہے۔
س١٢٥۔ ميرے دونوں پير مفلوج ہوگئے ہيں اور ميں طبي جوتے اور بے ساکھي
کے سہارے چلتا ہوں اور وضو کرتے وقت ان جوتوں کا اتارنا ميرے لئے ممکن
نہيں ہے ، لہذا آپ بتائيں کہ پيروں کا مسح کرنے کے سلسلے ميں ميري شرعي
ذمہ داري کيا ہے؟
ج۔ اگر پيروں کے مسح کے لئے جوتے اتارنا آپ کے لئے مشقت کا سبب ہو تو
ان ہي پر مسح کرنا کافي اور صحيح ہوگا۔
س١٢٦۔ ہم ايک جگہ پہونچے وہاں ہم نے چند فرسخ تک پاني تلاش کيا تو ہميں
گندہ اور خراب پاني ملا، اس صورت ميں کيا تيمم واجب ہے ؟ يا اسي پاني
سے وضو کرنا چاہئيے ؟
ج۔ اگر پاني پاک ہو اور اس کے استعمال کرنے ميں کوئي ضرر نہ ہو تو اسي
سے وضو کرنا واجب ہے اس کے ہوتے ہوئے تيمم کي نوبت نہيں آئے گي۔
س١٢٧۔ وضو کيا بذات خود مستحب ہے اور کيا نما زکا وقت داخل ہونے سے
پہلے قربت کي نيت سے وضو کرنا اور پھر اسي وضو سے نماز پڑھنا صحيح ہے؟
ج۔ شرعي نقطہ نظر سے طہارت کے لئے وضو کرنا مستحب ہے اور مستحبي وضوئ
سے نماز پڑھنا جائز ہے۔
س١٢٨۔ جو شخص اپنے وضو کے بارے ميں ہميشہ شک کا شکار ہو وہ کيسے مسجد
ميں داخل ہوسکتا ہے ، نماز پڑھ سکتا ہے، قرآن مجيد کي تلاوت کرسکتا ہے
اور آئمہ معصومين ٴ کے مراقد کي زيارت کرسکتا ہے؟
ج۔ وضو کے بعد طہارت ميں شک کا کوئي اعتبار نہيں ہے چنانچہ جب تک اسے
وضو کے ٹوٹنے کا يقين نہ ہو اس کے لئے نماز پڑھنا اور قرآن کي تلاوت
کرنا جائز ہے۔
س١٢٩۔ کيا وضو کے صحيح ہونے ميں ہاتھ کے ہر حصے پر پاني کا جاري ہونا
شرط ہے يا صرف تر ہاتھ اس پر پھير لينا کافي ہے؟
ج۔ دھونے کا معيار يہ ہے کہ پورے عضو تک پاني پہنچايا جائے ، چاہے پاني
ہاتھ کے پھيرنے ہي سے پورے عضو تک پہنچے۔ ليکن صرف گيلے ہاتھ کا پھيرنا
کافي نہيں ہے۔
س١٣٠۔ کيا وضو ميں بائيں ہاتھ کي تري سے سر کا مسح کرنا اسي طرح جائز
ہے جيسا کہ دائيں ہاتھ سے جائز ہے؟ اور کيا سر کا مسح نيچے سے اوپر کي
طرف کيا جاسکتا ہے؟
ج۔ بائيں ہاتھ سے سر کا مسح کرنے ميں کوئي حرج نہيں ہے اگرچہ احتياط يہ
ہے کہ دائيں ہاتھ سے مسح کيا جائے، اسي طرح احتياط يہ ہے کہ سر کا مسح
اوپر سے نيچے کي طرف يعني مانگ سے پيشاني کي طرف کرے اگرچہ اس کے برعکس
بھي کرسکتا ہے۔
س١٣١۔ کيا سر کے مسح ميں ہاتھوں کي تري کا بالوں تک پہونچنا کافي ہے يا
اس تري کا سر کي کھال تک پہونچنا واجب ہے؟ اور اگر کوئي شخص مصنوعي بال
لگاتا ہے تو وہ اپنے سر پر کيسے مسح کرے گا؟
ج۔ کھال کا مسح واجب نہيں ہے اور اگر مصنوعي بالوں کا جدا کرنا ممکن نہ
ہو تو ان ہي پر مسح کرنا کافي ہوگا۔
س١٣٢۔ اعضائ وضو يا غسل کو وقفہ وقفہ کے ساتھ دھونے کا کيا حکم ہے؟
ج۔ غسل ميں موالات کي پرواہ نہ کرنے اور فاصلہ پيدا کردينے ميں کوئي
حرج نہيں ہے۔ ليکن اگر وضو ميں تاخير کي وجہ سے پہلے دھوئے ہوئے اعضائ
خشک ہوجائيں تو وضو باطل ہے۔
س١٣٣۔ وضو اور نماز ميں اس شخص کا کيا فرض ہے جس کي رياح کم مقدار ميں
سہي ليکن دائمي طور پر خارج ہوتي رہتي ہے؟
ج۔ اگر اتنا بھي موقع نہ ملتا ہو کہ وہ نما زتمام ہونے تک وضو برقرار
رکھ سکے اور درميان نماز تجديد وضوئ کرنے ميں اسے دشواري ہو تو ايک
وضوئ سے ايک نماز اد اکرنے ميں کوئي حرج نہيں ہے، يعني ہر نماز کے لئے
ايک ہي وضوئ کافي ہے خواہ نماز کے دوران اس کا وضوئ باطل ہوجائے۔
س١٣٤۔ کچھ لوگ ايک بلڈنگ ميں رہتے ہيں اور اپنے فليٹوں کے مصارف نيز
دوسري سہولتوں جيسے ٹھنڈے اور گرم پاني ، نگہباني اور اے سي (کولر)
وغيرہ کا معاوضہ ادا نہيں کرتے اور اسے اپنے پڑوسيوں کي گردن پر ڈال
ديتے ہيں جبکہ پڑوسي اس پر راضي نہيں ہيں تو کيا ان لوگوں کي نماز و
روزے اور دوسرے عبادي اعمال باطل ہيں؟
ج۔ ان ميں سے ہر ايک شخص ان پيسوں کا شرعاً مديون ہے، جنہيں ان مشترکہ
امکانات و وسائل سے استفادہ کے عوض ادا کرنا واجب ہے اور اگر پاني کا
معاوضہ نہ دينے کے ارادے سے اسے وضوئ اور غسل کے لئے استعمال کيا جائے
تو ان دونوں کي صحت ميں اشکال ہے بلکہ وضو اور غسل دونوں باطل ہيں۔
س١٣٥۔ ايک شخص نے غسل جنابت کيا اور تين چار گھنٹے کے بعد نماز کا قصد
کيا وہ نہيں جانتا کہ اس کا غسل باطل ہوگيا يا نہيں، پس اگر وہ
احتياطاً وضو کرے تو اس ميں کوئي اشکال ہے يا نہيں؟
ج۔ مذکورہ فرض ميں وضو واجب نہيں ہے ليکن احتياط ميں کوئي حرج نہيں ہے۔
س١٣٦۔ کيا نابالغ بچہ حدث اصغر صادر ہونے سے محدث ہوتا ہے اور کيا وہ
قرآن کے حروف کو چھو سکتا ہے؟
ج۔ جي ہاں نابالغ بچہ وضو کو توڑ دينے والي چيزوں کے عارض ہونے سے محدث
ہوتا ہے ليکن مکلف پر واجب نہيں ہے کہ وہ بچہ کو قرآن کے حروف کو مس
کرنے سے روکے۔
س١٣٧۔ اگر اعضائ وضو ميں سے کوئي عضو دھوئے جانے کے بعد اور وضو مکمل
ہونے سے پہلے نجس ہوجائے تو اس کا کيا حکم ہے؟
ج۔ اس سے وضو کي صحت پر اثر نہيں پڑے گا، ہاں نماز کے لئے خبث ( نجاست)
سے اس عضو کا پاک کرنا واجب ہے۔
س١٣٨۔ اگر مسح کے وقت پاو ں پر پاني کے چند قطرے موجود ہوں تو کيا اس
ميں کوئي حرج ہے؟
ج۔ مسح کرنے کي جگہ سے قطرات کو خشک کرنا واجب ہے تاکہ مسح کرنے والي
چيز يعني ہاتھ، مسح کي جانے والي چيز يعني پاو ں پر اثر ڈال سکے،ا س کے
برعکس نہ ہو۔
س١٣٩۔ اگر داياں ہاتھ شانے سے کٹ گيا ہو تو کيا دائيں پير کا مسح ساقط
ہوجائے گا؟
ج۔ مسح ساقط نہيں ہوگا بلکہ اس پر بائيں ہاتھ سے مسح کرنا واجب ہوگا۔
س١٤٠۔ جو شخص اپنے وضو کے باطل ہونے سے لاعلم تھا اور وضو سے فارغ ہونے
کے بعد اسے اس کا علم ہوا تو اس کا کيا حکم ہے؟
ج۔ جو شخص اپنے وضو کے باطل ہونے سے لاعلم تھا اور وضو سے فارغ ہونے کے
بعد اسے اس کا علم ہوا تو اس کا کيا حکم ہے؟
ج۔ اس پر دوبارہ وضو کرنا واجب ہے اسي طرح ان اعمال کا اعادہ بھي واجب
ہے جن ميں طہارت شرط ہے جيسے نماز۔
س١٤١۔ اگر انسان کے اعضائ وضو ميں سے کسي عضو ميں ايسا زخم ہو جس سے
جبيرہ يعني پٹي باندھے جانے کے باوجود ہميشہ خون بہتا رہتا ہو تو وہ کس
طرح وضو کرے گا؟
ج۔ اس پر واجب ہے کہ زخم پر جبيرہ کے طور پر ايسي چيز باندھے جس سے خون
باہر نہ نکلنے پائے جيسے نائيلون۔
س١٤٢۔ ارتماسي وضو ميں ہاتھ اور چہرہ کا کئي بار پاني ڈبونا جائز ہے يا
صرف دو مرتبہ جائزہے؟
ج۔ چہرہ اور ہاتھ کو صرف دو مرتبہ پاني ميں ڈبونا جائز ہے۔ پہلي مرتبہ
واجب کي نيت سے اور دوسري مرتبہ مستحب کي نيت سے ، ہاں ہاتھوں کے دھونے
ميں واجب ہے کہ انہيں پاني سے باہر نکالتے وقت دھونے کا قصد کرے تاکہ
مسح وضو کے پاني سے کرسکے۔
س١٤٣۔ کيا وضو کے بعد اس کي تري کا خشک کرنا مکروہ ہے اور اس کے برخلاف
کيا خشک نہ کرتا مستحب ہے؟
ج۔ اگر اس کام کے لئے مخصوص توليہ يا کپڑا رکھے تو کوئي حرج نہيں ہے۔
س١٤٤۔ جس مصنوعي رنگ سے عورتيں اپنے سر اور بھوو ں کے بالوں کو رنگتي
ہيں، وہ وضو اور غسل ميں مانع ہے يا نہيں؟
ج۔ اگر اس ميں کوئي ايسي چيز نہ ہو جو بالوں تک پاني کے پہونچنے ميں
رکاوٹ بنے بلکہ صرف رنگ ہو تو وضو اور غسل صحيح ہيں۔
س١٤٥۔ کيا روشنائي ان موانع ميں سے ہے جو اگر ہاتھ پر لگي ہو تو وضو
باطل ہے؟
ج۔ اگر اس کي وجہ سے کھال تک پاني نہ پہونچ سکے تو وضو باطل ہے اور
موضوع کي تشخيص خود مکلف کے ذمہ ہے۔
س١٤٦۔ اگر سر کا مسح کرتے وقت ہاتھ اور چہرہ کي رطوبت مل جائے تو کيا
وضو باطل ہے؟
ج۔ اس ميں کوئي حرج نہيں ہے ليکن چونکہ احتياط يہ ہے کہ دونوں پيروں کے
مسح کے لئے آب وضو کي وہي تري رہني چاہئيے جو ہتھيليوں ميں باقي رہ گئي
ہو لہذا اس احتياط کي رعايت کے لئے ضروري ہے کہ سر کا مسح کرتے وقت
ہاتھ کو پيشاني کے اوپري حصہ سے متصل نہ کرے تاکہ ہاتھ کي وہ تري جس سے
پير کا مسح کرنا ہے، چہرے کي تري سے نہ مل جائے۔
س١٤٧۔ جو شخص وضو ميں عام لوگوں سے زيادہ وقت صرف کرتا ہو اسے کيا کرنا
چاہئيے جس سے اسے اعضائ کے دھوئے جانے کا يقين ہوجائے؟
ج۔ وسوسہ سے اجتناب واجب ہے اور شيطان کو مايوس کرنے کے لئے وسواس کي
پرواہ نہيں کرنا چاہئيے اور تمام لوگوں کي طرح صرف اسي قدر بجالانے کي
کوشش کرنا چاہئيے جتنا وضو شرعاً واجب ہے۔
س١٤٨۔ ميرے بدن کے بعض اجزائ پر نقش ( وشم ) ہيں کہتے ہيں کہ ميرا غسل
، وضو اور نماز باطل ہيں۔ اميد ہے اس سلسلے ميں ميري راہنمائي فرمائيں
گے؟
ج۔ اگر يہ نقش صرف رنگ کي حد تک ہے اور کھال کے اوپر کوئي ايسي چيز
نہيں ہے جو کھال تک پاني کو پہونچنے نہ دے تو وضو اور غسل صحيح ہيں اور
نماز ميں کوئي اشکال نہيں ہے۔
س١٤٩۔ اگر پيشاب کرنے نيز استبرائ اور وضوئ سے فارغ ہونے کے بعد ايسي
رطوبت خارج ہو جس کے مني يا پيشاب ہونے کا شبہ ہو تو اس کا کيا حکم ہے؟
ج۔ مفروضہ سوال کي روشني ميں اس پر وضو اور غسل دونوں واجب ہيں تاکہ
طہارت کا يقين حاصل ہوجائے۔
س١٥٠۔ برائے مہرباني مردوں اور عورتوں کے وضو کا فرق بيان فرمائيے؟
ج۔ افعال و کيفيت کے اعتبار سے مرد و عورت کے وضو ميں کوئي فرق نہيں ہے
ليکن مستحب ہے کہ مرد ہاتھوں کو ان کے ظاہر يعني پشت کي طرف سے دھونے
کي ابتدا کرے اور عورت باطن يا اندروني طرف سے دھوئے۔
اسمائے خدا اور آيات الہي کو مس کرنا
س١٥١۔ ان ضميروں کے مس کرنے کا کيا حکم ہے جو ذات باري تعاليٰ کے نام
کي جگہ استعمال ہوتي ہيں جيسے بسمہ سبحانہ يا بسم تعاليٰ کي ضمير ؟
ج۔ ضمير کا وہ حکم نہيں ہے جو کلمہ اللہ کا ہے۔
س١٥٢۔ اسم جلالہ ’’ اللہ ‘‘ کے بجائے ’’ ا۔۔۔‘‘ کي اصطلاح رائج کي گئي
ہے کہ تحرير ميں ’’ آيۃ ا۔۔۔‘‘ يا ’’ الہ ‘‘ لکھتے ہيں۔ ان دونوں کلموں
( الف يا الہ ) کو بغير وضو کے مس کرنے کا کيا حکم ہے؟
ج۔ ’’ الف ‘‘ اور نقطوں کا وہ حکم نہيں ہے جو لفظ جلالہ کا ہے ، برخلاف
کلمہ ’’ الہ ‘‘ کے ۔
س١٥٣۔ ميں ايک جگہ ملازمت کرتا ہوںجہاں خط و کتابت ميں لفظ ’’ اللہ ‘‘
کو ’’ ا۔۔۔‘‘ کي صورت ميں لکھتے ہيں۔ پس اسم جلالہ کے بجائے الف اور
تين نقطے لکھنا شرعي لحاظ سے صحيح ہے يا نہيں؟
ج۔ شرعي اعتبار سے کوئي حرج نہيں ہے۔
س١٥٤۔ کيا صرف اس خيال سے کہ کوئي اسے بے وضو مس کرے لفظ جلالہ ’’ اللہ
‘‘ کو لکھنے سے پرہيز کرنا اس صورت ’’ ا۔۔۔‘‘ ميں لکھنا جائز ہے؟
ج۔ اس ميں کوئي حرج نہيں ہے۔
س١٥٥۔ نابينا اشخاص پڑھنے اور لکھنے ميں ’’ بريل ‘‘ نامي رسم الخط کي
ابھري ہوئي تحرير کو انگليوں سے مس کرتے ہيں ۔ اس بات کو ملحوظ رکھتے
ہوئے کہ يہ رسم الخط چھ نقطوں سے بنايا گيا ہے ، اس سوال کا جواب ديجئے
کہ کيا نابينا افراد کے لئے ’’ بريل ‘‘ رسم الخط ميں قرآن پڑھنے ،
سيکھنے يا اسمائے طاہرہ کو چھونے کے لئے باوضو ہونا شرط ہے يا نہيں؟
ج۔ وہ ابھرے ہوئے نقطے جو اصلي حروف کي علامات ہيں اصلي حروف کے حکم
ميں نہيں ہيں اور جہاں انہيں قرآن مجيد اور اسمائ طاہرہ کے حروف کي
علامات کے عنوان سے استعمال کيا جاتا ہے، وہاں ان کے چھونے کے لئے
طہارت شرط نہيں ہے۔
س١٥٦۔ بے وضو شخص کے لئے عبداللہ وجيب اللہ جيسے ناموں کو چھونے کا کيا
حکم ہے؟
ج۔ غير طاہر شخص کے لئے لفظ جلالہ کو چھونا جائز نہيں ہے۔
خواہ وہ اسم مرکب کا جز ہي کيوں نہ ہو۔
س١٥٧۔ کيا حائض ايسا گلوبند پہن سکتي ہے جس پر نبي
۰
کا اسم مبارک نقش ہو؟
ج۔ گردن ميں پہننے ميں کوئي حرج نہيں ہے ليکن واجب ہے کہ اس اسم مبارک
کو بدن سے مس نہ ہونے دے۔
س١٥٨۔ کيا بغير طہارت کے قرآن کي صر اسي تحرير کو چھونا حرام ہے جو
مصحف شريف ميں ہيں يا کسي کتاب ، لوح يا تختي اور ديوار وغيرہ پر مرقوم
قرآني تحرير بھي اس حکم ميں شامل ہے؟
ج۔ يہ حرمت صرف مصحف شريف سے مخصوص نہيں ہے بلکہ قرآن کے تمام کلمات
اور آيات کو شامل ہے چاہے وہ کسي کتاب ميں ہوں يا کسي رسالہ ميں، لوح
يا تختي پر ہوں يا ديوار وغيرہ پر نقش کئے گئے ہوں۔
س١٥٩۔ ايک گھرانہ چاول کھانے کے لئے ايسا برتن استعمال کرتا ہے جس پر
آيات قرآني جيسے آيۃ الکرسي وغيرہ مرقوم ہيں، اور اس سے ان کا مقصد خير
و برکت کا حصول ہے کيا اس ميں کوئي حرج ہے؟
ج۔ اس ميں کوئي حرج نہيں ہے ليکن واجب ہے کہ بے وضو شخص کا ہاتھ قرآني
آيات کونہ چھوئے۔
س١٦٠۔ کيا آلہ کتابت يعني قلم وغيرہ کے ذريعہ اسمائ جلالہ يا قرآني
آيات اور اسمائ معصومين ٴ لکھنے والوں کے لئے کتابت کے وقت باوضو رہنا
واجب ہے؟
ج۔ طہارت شرط نہيں ہے ليکن طہارت کے بغير ان کے لئے تحرير کا مس کرنا
جائز نہيں ہے۔
س١٦١۔ کيا اسلامي جمہوريہ ايران کے مونوگرام کو مس کرنا ، جو خطوط اور
بس کے ٹکٹوں وغيرہ پر نقش ہوتا ہے ، حرام ہے؟
ج۔ اگر عرف عام ميں اسے اسم جلالہ سمجھا اور پڑھا جاتا ہے تو طہارت کے
بغير چھونا حرام ہے ورنہ نہيں۔
س١٦٢۔ کيا اسلامي جمہوريہ ايران کے مونوگرام کو اسم جلالہ سمجھا جاتا
ہے؟ نيز اے اداري کاغذات اور ليٹر پيڈ پر چھپوا کر خط و کتابت ميں
استعمال کرنے کا کيا حکم ہے؟
ج۔ ليٹر پيڈ پر نام اللہ يا اسلامي جمہوريہ ايران کا مونوگرام چھپوانے
ميں کوئي حرج نہيں ہے۔ اور احتياط واجب يہ ہے کہ اسلامي جمہوريہ ايران
کے مونوگرام ميں بھي اسم جلالہ کے احکام کي رعايت کي جائے۔
س١٦٣۔ دفتروں ميں بعض سرکاري کاغذوں کے اوپر اسلامي جمہوريہ ايران کا
مونوگرام چھپا ہوتا ہے۔ اسي طرح ہسپتال کے کاغذات پر ’’ ھو الشافي ‘‘
لکھا ہوتا ہے، استعمال کے بعد انہيں پھينک دينے يا انہيں خون آلود کرنے
کا کيا حکم ہے؟
ج۔ اسم جلالہ يا جو الفاظ اس کے حکم ميں ہوں ان کے ذريعہ خط و کتابت کے
اوراق کي تزئين کي جاسکتي ہے ليکن ان کي بے حرمتي اور انہيں نجس کرنے
سے پرہيز واجب ہے۔
س١٦٤۔ ڈاک ٹکٹوں ، اداروں کے مونوگرام يا اخبار و جرائد اور روزناموں
پر آيات قرآني يا اللہ تعاليٰ کا نام لکھا ہوتا ہے، ان سے استفادہ کا
کيا حکم ہے؟
ج۔ نشريات پر آيات قرآن يا نام خدا وغيرہ چھاپنے اور انہيں شائع کرنے
ميں کوئي حرج نہيں ہے ليکن مس کرنے والے پر واجب ہے کہ ان کے شرعي
احکام کي رعايت کرے۔ ان کي بے حرمتي اور انہيں نجس نہ کرے اور طہارت کے
بغير مس نہ کرے۔
س١٦٥۔ بعض اخباروں پر نام خدا يا آٰات قرآن مرقوم ہوتي ہے۔ کيا ان ميں
کھانے کي چيزيں لپيٹنا ، ان پر بيٹھنا يا ان پر کھانا رکھ کر کھانا
جائز ہے؟ يا انہيں کوڑے کے ساتھ کوڑے دان ميں ڈالنا صحيح ہے جبکہ اس کے
بغير گلو خلاصي مشکل ہے؟
ج۔ ايسے اخبارات سے استفادہ کرنے ميں کوئي حرج نہيں ہے ليکن ايسا
استعمال نہ ہو جو عرف عام ميں اسم جلالہ اور آيات قرآني ( جن کي بے
حرمتي کرنا حرام ہے) کي بے حرمتي شمار ہو اور نہ انہيں نجس مقام پر
پھينکا جائے۔
س١٦٦۔ ان ڈاک ٹکٹوں کو کوڑے دان ميں ڈالنے کا کيا حکم ہے جن پر اللہ کا
نام لکھا ہوتا ہے؟ اور کيا انہيں بغير وضو کے چھونا صحيح ہے؟
ج۔ اللہ کا نام طہارت کے بغير چھونا اور اسے نجس کرنا يا ايسي جگہوں پر
ڈالنا جو بے حرمتي کا سبب ہو جائز نہيں ہے۔
س١٦٧۔ کيا انگوٹھيوں پر کندہ کلمات کو چھونا جائز ہے؟
ج۔ اگر وہ ايسے کلمات ہوں جن کے چھونے ميں طہارت شرط ہے تو انہيں بغير
طہارت چھونا جائز نہيں ہے۔
س١٦٨۔ کيا دوکانداروں کے لئے جائز ہے کہ وہ بيچي جانے والي چيزوں کو
اخبار يا رسالوں کے کاغذ ميں لپيٹ کرديں ، جبکہ ہميں يقين ہے کہ ان ميں
اللہ کا نام چھپا ہے؟ اور کيا انہيں وضو کے بغير چھونا جائز ہے؟
ج۔ بيچي جانے والي چيزوں کو لپيٹنے کے لئے اخبارات سے استفادہ کرنے ميں
کوئي حرج نہيں ہے جبکہ اسے ان اخبارات ميں لکھے ہوئے اللہ کے نام ،
قرآني آيات اور اسمائ معصومين ٴ کي بے حرمتي شمار نہ کيا جاتا ہو، ليکن
جان بوجھ کر انہيں بغير وضو کے چھونا جائز نہيں ہے۔
س١٦٩۔ ان اخبارات پر اسمائ انبيائ اور آيات قرآن کے لکھنے کا کيا حکم
ہے جن کے جلانے يا پاو ں کے نيچے آنے کا احتمال ہو؟
ج۔ اخبار و مجلات کے اندر آيات قرآن اور اسمائ معصومين ٴ وغيرہ لکھنے
ميں شرعاً کوئي مانع نہيں ہے ليکن ان کي بے حرمتي کرنے، نجس کرنے اور
بغير طہارت کے انہيں چھونے سے اجتناب واجب ہے۔
س١٧٠۔ ان چيزوں کے نديوں اور نالوں ميں ڈالنے کا کيا حکم ہے جن پر اللہ
کے نام تحرير ہوتے ہيں ؟کيا اسے بے حرمتي کہا جاسکتا ہے؟
ج۔ اگر عرف عام ميں اسے بے حرمتي نہ کہا جاتا ہو تو نديوں اور نالوں
ميں اسے ڈالنے ميں کوئي حرج نہيں ہے۔
س١٧١۔ امتحانات کے ان تصحيح شدہ اوراق کو کوڑے دان ميں ڈالنے يا ان کے
جلانے کے لئے کيا يہ يقين حاصل کرنا شرط ہے کہ ان پر اسمائ خدا اور
اسمائ معصومين ٴ نہ ہوں؟ اور جن اوراق پر کچھ لکھا نہيں گيا ہے انہيں
پھينکنا ، جلانا اسراف ہے يا نہيں؟
ج۔ جستجو کرنا واجب نہيں ہے اور اگر کسي ورق پر اللہ کا نام لکھے ہونے
کا يقين نہ ہو تو اسے کوڑے دان ميں ڈالنے ميں کوئي حرج نہيں ہے ليکن جن
اوراق کے بعض حصہ پر کچھ لکھا گيا ہے اور ان کو لکھنے کے کام ميں لايا
جاسکتا ہے يا انہيں ڈبے بنانے کے کام ميں لايا جاسکتا ہے تو انہيں
جلانا يا پھينکنا اسراف سے مشابہ ہے اور اشکال سے خالي نہيں ہے۔
س١٧٢۔ وہ اسمائ مبارکہ کون کون سے ہيں جن کا احترام واجب اور جنہيں وضو
کے بغير چھونا حرام ہے؟
ج۔ خداوند عالم کے اسمائے ذات اور ان اسمائ و صفات کو چھونا، جو اس سے
مخصوص ہوں جائز نہيں ہے اور احتياط واجب ہے کہ مذکورہ حکم ميں انبيائے
عظام اور آئمہ معصومين ٴ کے اسمائ کو بھي اللہ کے اسمائ ذات ميں شامل
کيا جائے۔
س١٧٣۔ آئمہ معصومين ٴ اور انبيائ ٴ کے اسمائ و القاب کا کيا حکم ہے؟
ج۔ احتياط ( واجب ) يہ ہے کہ انہيں بغير وضو کے مس نہ کيا جائے۔
س١٧٤۔ ہمارے پاس قسم قسم کے بہت سے جرائد اور رسالے جمع ہوگئے ہيں ،
خاص طور سے جب سے سفارت خانہ قائم ہوا ہے۔ ہمارے نام داخلي اداروں کي
طرف سے ارسال کردہ بہت سے رسالے جمع ہوگئے ہيں، ان ميں زيادہ تر صفحات
پر اسمائے خدا يا اسمائے انبيائ و آئمہ اور قرآني آيات لکھي ہوئي ہيں۔
برائے کرم بتائيں کہ انہيں محفوظ رکھنے کي شکل کو کيسے حل جاسکتا ہے؟
ج۔ انہيں زمين ميں دفن کرنے ميں کوئي حرج نہيں ہے يا اگر بے حرمتي نہ
ہوتي ہو تو انہيں صحرا ميں بھي ڈالا جاسکتا ہے۔
س١٧٥۔ ضرورت کے وقت اسمائے مبارکہ اور آيات قرآن کو محو کرنے کے شرعي
طريقے کيا ہيں؟ اور جن اوراق پر آيات قرآن اور اسمائے جلالہ تحرير ہيں،
اسرار کو محفوظ رکھنے کے لئے اگر انہيں جلانا پڑے تو اس کا کيا حکم ہے؟
ج۔ انہيں مٹي ميں دفن کرنے يا پاني ميں گلا دينے ميں کوئي حرج نہيں ہے
۔ ليکن جلانے ميں اشکال ہے اور اگر جلانا بے حرمتي شمار ہو تو جائز
نہيں ہے مگر يہ کہ جلانا ضروري ہوجائے اور قرآني آيات نيز اسمائے
مبارکہ کا ان سے جدا کرنا ممکن نہ ہو۔
س١٧٦۔ اسمائے مبارکہ اور قرآن کي آيتوں کو اس طرح سے کاٹ کر الگ کرنے
کا کيا حکم ہے کہ ان کے دو حروف متصل نہ رہيں اور پڑھے نہ جاسکيں اور
کيا ان کے مٹانے اور ان سے احکام کو ساقط کرنے کے لئے اتنا ہي کافي ہے
کہ ان کي تحريري صورت کو کچھ حروف کے اضافہ يا حذف کرنے سے بدل ديا
جائے؟
ج۔ اگر اسم جلالہ اور قرآني آيات کو محو کرنے کا سبب نہ بنے تو ان کا
ٹکڑے ٹکڑے کرنا کافي نہيں ہے۔ اسي طرح جو حروف اسم جلالہ لکھنے کے قصد
سے تحرير کئے گئے ہيں، احکام کو زائل کرنے کے لئے ان کي تحريري صورت کو
متغير کرنا کافي نہيں ہے۔ ہاں حردف کي صورت کے بدل جانے اور محو ہوجانے
سے احکام کا زا ئل ہوجانا بعيد نہيں ہے اگرچہ احتياط يہ ہے کہ پرہيز
کيا جائے۔
غسل جنابت کے احکام
س١٧٧۔ کيا وقت تنگ ہونے کي صورت ميں مجنب کا اپنے بدن و لباس پر نجاست
کے باوجود تيمم کرکے نماز پڑھ لينا جائز ہے يا لباس پاک کرے ، غسل کرے
اور قضا نماز پڑھے؟
ج۔ اگر بدن و لباس کي طہارت يا لباس بدلنے کے لئے وقت کافي نہ ہو اور
سردي وغيرہ کي وجہ سے برہنہ بھي نماز پڑھنے پر قادر نہ ہو تو غسل جنابت
کے بدلے تیمم کافي ہے اور اس پر قضا بھي واجب نہيں ہے۔
س١٧٨۔ اگر دخول کے بغير ( کسي اور صورت سے) رحم ميں مني پہونچ جائے تو
کيا غسل جنابت واجب ہوجاتا ہے؟
ج۔ اس سے جنابت صادق نہيں آتي۔
س١٧٩۔ کيا عورتوں پر طبي آلات کے ذريعہ داخلي معائنہ کے بعد غسل جنابت
واجب ہے؟
ج۔ جب تک مني خارج نہ ہو غسل واجب نہيں ہوگا۔
س١٨٠۔ اگر حشفہ کي مقدار تک دخول ہو ليکن مني خارج نہ ہو اور عورت کو
بھي پوري لذت محسوس نہ ہو تو کيا صرف عورت پر غسل واجب ہے؟ يا صرف مرد
پر واجب ہے يا دونوں پر واجب ہے؟
ج۔ مذکورہ فرض ميں دونوں پر غسل واجب ہے۔
س١٨١۔ عورتوں کے احتلام کے پيش نظر ان پر کسي صورت ميں غسل واجب ہوتا
ہے؟ اور جو رطوبت مردوں کے ساتھ خوش فعلي کے وقت خارج ہوتي ہے کيا وہ
مني کے حکم ميں ہے اور کيا اس صورت ميں ان پر غسل واجب ہے خواہ انہيں
لذت نہ محسوس ہوتي ہو اور نہ ان کے بدن ميں سستي پيدا ہوتي ہو؟ نيز عام
طور پر مجامعت کے بغير عورتوں ميں جنابت کيسے محقق ہوتي ہے؟
ج۔ اگر بيدار ہونے کے بعد عورت اپنے لباس پر مني کے آثار ديکھے تو اس
پر غسل واجب ہے ليکن خوش فعلي وغيرہ سے جو رطوبت خارج ہوتي ہے وہ مني
کے حکم ميں نہيں ہے مگر يہ کہ عورت لذت کي پوري حد تک پہونچ جائے اور
اس کا بدن سست پڑجائے۔
س١٨٢۔ کيا جوان لڑکيوں پر اس وقت بھي غسل جنابت واجب ہوتا ہے جب بغير
ارادے کے ان سے کوئي رطوبت خارج ہو؟ اور کيا وہ مني ہے جس کے لئے غسل
واجب ہے يا ان پر اس وقت غسل واجب ہوتا ہے جب وہ شہوت کے ساتھ نکلے ؟
ج۔ اگر رطوبت کا نکلنا شہوت کي وجہ سے اور شہوت کے ساتھ ہو تو وہ مني
کے حکم ميں ہے اور غسل جنابت کا موجب ہے خواہ شہوت ميں اس کا ارادہ و
اختيار شامل نہ بھي ہو۔
س١٨٣۔ جذبات انگيز ناول وغيرہ پڑھنے يا کسي اور وجہ سے اگر لڑکيوں پر
شہوت طاري ہوجائے تو کيا اس سے ان پر غسل واجب ہوجاتا ہے اور اگر غسل
واجب ہوجاتا ہے تو کون سا غسل واجب ہوتا ہے؟
ج۔ جذبات بھڑکانے والي کتابوں (ناول وغيرہ)کا پڑھنا جائز نہيں ہے اور
مني کے خارج ہونے کي صورت ميں اس پر بہر حال غسل جنابت واجب ہے۔
س١٨٤۔ خوش فعلي کے وقت عورت اگر شہوت کے ساتھ رطوبت نکلنے کا احساس کرے
تو کيا اس پر غسل جنابت واجب ہے؟
ج۔ اگر عورت کو مني کے خارج ہونے کا علم ہوجائے تو اس پر غسل واجب ہے
اسي طرح اگر يہ شک کرے کہ جو چيز خارج ہوئي ہے وہ مني ہے يا نہيں اور
وہ خاص شہوت کے ساتھ خارج ہوئي ہو تو اس کا بھي يہي حکم ہے۔
س١٨٥۔ اگر عورت اپنے شوہر سے ہمبستري کو فوراً بعد غسل کرلے اور مرد کي
مني اس کے رحم ميں رہ جائے اور غسل کے بعد خارج ہو تو کيا اس کا غسل
صحيح ہے؟ اور غسل کے بعد خارج ہونے والي يہ مني پاک يا نہيں ؟
ج۔ خارج ہونے والي مني بہرحال نجس ہے ليکن غسل کے بعد خارج ہونے والي
مني اگر مرد کي ہے تو دوبارہ غسل جنابت کي موجب نہيں ہوگي۔
س١٨٦۔ ميں ايک زمانے سے غسل جنابت کے سلسلہ ميں شک ميں مبتلا ہوں اس
طرح سے کہ اپني زوجہ سے مقاربت نہيں کرتا ہوں ليکن غير ارادي طور پر
ايسي حالت طاري ہوتي ہے کہ يہ گمان ہوتا ہے کہ مجھ پر غسل جنابت واجب
ہوگيا بلکہ ميں دن بھر ميں دو تين مرتبہ غسل کرتا ہوں۔ اس شک نے مجھے
پريشان کرديا ہے ، اب ميرا فريضہ کيا ہے؟
ج۔ محض شک کي صورت ميں جنابت کا حکم مرتب نہيں ہوتا مگر يہ کہ رطوبت اس
طرح خارج ہوئي ہو جس ميں مني کے خارج ہونے کي شرعي علامتيں پائي جاتي
ہوں يا آپ کو مني خارج ہونے کا يقين ہوجائے۔
س١٨٧۔ کيا حالت حيض ميں غسل جنابت کرنا صحيح ہے اور کيا اس طرح سے مجنب
عورت کي شرعي ذمہ داري پوري ہوجائے گي؟
ج۔ مذکورہ فرض ميں غسل کے صحيح ہونے ميں اشکال ہے۔
س١٨٨۔ کيا حيض کي حالت ميں مجنب ہونے والي عورت پر طہارت کے بعد غسل
جنابت واجب ہے يا نہيں ہے اس لئے کہ وہ پہلے سے طاہر نہيں تھي؟
ج۔ غسل حيض کے علاوہ غسل جنابت بھي واجب ہے اور يہ بھي جائز ہے کہ وہ
غسل جنابت پر اکتفا کرے ليکن احتياط مستحب يہ ہے کہ دونوں غسلوں کي نيت
کرے۔
س١٨٩۔ انسان سے خارج ہونے والي رطوبت پر کس صورت ميں يہ حکم لگايا
جاسکتا ہے کہ وہ مني ہے؟
ج۔ جب شہوت کے ساتھ نکلے، بدن ميں سستي آجائے اور اچھل کر نکلے تو اس
پر مني کا حکم لگے گا۔
س١٩٠۔ بعض موقعوں پر غسل کے بعد ہاتھ يا پير کے ناخن کے اطراف ميں صابن
لگا ہوا دکھائي ديتا ہے جو غسل کے دوران حمام ميں نظر نہيں آتا ليکن
حمام سے نکلنے کے بعد صابن کي سفيدي نظر آتي ہے، اس کا حکم کيا ہے؟
جبکہ بعض افراد بے خبري ميں يا اس کي پرواہ کئے بغير وضو کرليتے ہيں
جبکہ يہ معلوم ہے کہ صابن کي اس سفيدي کے نيچے پاني پہنچنا يقيني نہيں
ہے؟
ج۔ صرف چونے يا صابن کي سفيدي سے جو اعضائ کے خشک ہونے کے بعد دکھائي
دے، وضو يا غسل باطل نہيں ہوتا مگر يہ کہ کھال تک پاني پہنچنے ميں
رکاوٹ بنے۔
س١٩١۔ اپني زوجہ کا بوسہ ليتے وقت يا اس سے خوش فعلي کے دوران جو رطوبت
خارج ہوتي ہے ، اس کا کيا حکم ہے؟
ج۔ اگر اچھل کر نہ نکلے اور اس سے بدن ميں سستي نہ آئے تو وہ مني کے
حکم ميں نہيں ہے۔
س١٩٢۔ ايک صاحب کا کہنا ہے کہ غسل سے پہلے بدن سے نجاست کا پاک کرنا
واجب ہے اور غسل کے درميان تطہير يعني مني سے بدن کا پاک کرنا غسل کے
باطل ہونے کا موجب ہے ۔ پس اگر ان کي بات صحيح ہے تو کيا گزشتہ نمازيں
باطل ہيں اور ان کي قضا واجب ہے ؟ واضح رہے کہ ميں اس مسئلہ سے بے خبر
تھا؟
ج۔ بدن کا پاک کرنے کے لئے دھونا غسل جنابت سے پہلے واجب ہے ليکن غسل
شروع کرنے سے پہلے پورے بدن کو دھونا واجب نہيں ہے بلکہ ہر عضو کے
دھونے کے لئے اتنا ہي کافي ہے کہ غسل کے وقت پاک ہو۔ اس بنائ پر اگر
غسل سے پہلے عضو بدن پاک ہو تو غسل اور اس سے پڑھي گئي نماز دونوں صحيح
ہيں اور اگر عضو غسل سے پہلے پاک نہيں ہے تو نماز اور غسل دونوں باطل
ہيں اور نماز کي قضا واجب ہے۔
س١٩٣۔ نيند کي حالت ميں انسان سے جو رطوبت خارج ہوتي ہے کيا وہ مني کے
حکم ميں ہے؟ جبکہ اس ميں تينوں علامتيں ( اچھل کر نکلنا ، شہوت کے ساتھ
نکلنا اور بدن کا سست ہونا ) موجود نہ ہوں اور بيدار ہونے کے بعد متوجہ
ہو کہ اس کے لباس پر رطوبت ہے؟
ج۔ جب احتلام کے نتيجہ ميں رطوبت خارج ہو يا اسے يقين ہو کہ يہ مني ہے
تو وہ مني کے حکم ميں ہے اور غسل جنابت کي موجب ہے۔
س١٩٤۔ ميں ايک جوان ہوں، ايک مفلس گھرانہ ميں زندگي بسر کرتا ہوں، مجھے
کثرت سے مني خارج ہوتي ہے اور حمام جانے کے لئے والدين سے پيسہ مانگتے
ہوئے شرم محسوس ہوتي ہے گھر ميں بھي حمام نہيں ہے۔ اس سلسلہ ميں ميري
رہنمائي فرمائيں؟
ج۔ شرعي امور کي نجام دہي ميں شرم نہيں کرنا چاہئيے اور واجب کو ترک
کرنے کے لئے شرم و حيائ شرعي عذر نہيں بن سکتي۔ بہر حال اگر تمہارے پاس
غسل جنابت کے لئے امکاني ذرائع نہيں ہيں تو تمہارا فريضہ ہے کہ نماز و
روزہ کے لئے غسل کے بدلے تيمم کرو۔
س١٩٥۔ ايک پسماندہ ديہات ميں ، جس کا حمام ايک زمانہ سے خراب ہونے کي
وجہ سے ايک زمانہ سے بند پڑا ہوا تھا اور اہل قريہ صفائي و طہارت کے
سلسلے ميں پريشاني ميں مبتلا تھے۔ لہذا جب گاو ں والوں نے ہم پر اس
سلسلہ ميں بہت زور ديا تو ہم نے ڈسٹرکٹ کمشنر کے دفتر کو ايک خط لکھا
جس کا مضمون يہ تھا ۔’’ ہمارے گاو ں کا حمام برف باري اور بارش کي وجہ
سے منہدم ہوچکا ہے اور مرمت کے قابل نہيں رہ گيا ہے لہذا ہمارے لئے ايک
نيا حمام تعمير کرايا جائے۔‘‘ ادارہ نے اس مطالبہ کے جواب ميں حمام
بنانے کے لئے ايک معين رقم ، ناگہاني حوادث کے بجٹ سے منظور کي، رقم
ادارہ جہاد سازندگي کے حوالے کي گئي اور حمام بن گيا۔
اب يہاں سوال يہ ہے کہ مذکورہ بالا باتوں کے پيش نظر ( کہ درخواست کا
مضمون خلافت واقع تھا) اور رقم ناگہاني حوادث کے بجٹ سے دي گئي تھي۔
کيا اس حمام سے غسل و طہارت ميں اشکال ہے؟
ج۔ حقيقت اور واقع کے خلاف يہ اعلان اور اطلاع اگرچہ ناجائز ہے ليکن
مذکورہ فرض کي روشني ميں گاو ں والوں کا اس حمام سے استفادہ کرنا بلا
اشکال ہے۔
س١٩٦۔ ميرے سامنے ايک شکل ہے اور وہ يہ ہے کہ اگر ميرے بدن پر ايک قطرہ
بھي پاني پڑجائے تو ضرر کا باعث ہے بلکہ مسح بھي نقصان دہ ہے۔ بدن کے
کسي حصہ کے دھونے سے ہي ميرے دل کي دھڑکن بڑھ جاتي ہے ، اس کے علاوہ
دوسري تکليفيں بھي پيدا ہوجاتي ہيںکيا اس صورت ميں ميرے لئے اپني بيوي
سے مقاربت جائز ہے؟ اور کيا ممکن ہے کہ چند ماہ تک غسل کے عوض تيمم
کرکے نماز ادا کروں اور مسجد ميں داخل ہوسکوں؟
ج۔ آپ پر بيوي سے مقاربت ترک کرنا واجب نہيں ہے بلکہ مجنب ہونے کي صورت
ميں اگر غسل سے معذور ہوں تو ان اعمال کے لئے ، جن ميں طہارت شرط ہے
غسل کے بدلے تيمم کريں۔ يہي آپ کا شرعي فريضہ ہے اور تيمم کے بعد مسجد
ميں جانے ، نماز پڑھنے ، قرآن کے حروف چھونے اور ان اعمال کے بجالانے
ميں کوئي حرج نہيں ہے ، جن ميں طہارت شرط ہے۔
س١٩٧۔ واجب يا مستحب غسل کے وقت قبلہ رو ہونا واجب ہے يا نہيں؟
ج۔ غسل کے وقت قبلہ رو ہونا واجب نہيں ہے۔
س١٩٨۔ کيا حدث اکبر کے غسالہ ( دھوون) سے غسل صحيح ہے جبکہ يہ معلوم ہو
کہ غسل قليل پاني سے کيا گيا ہے اور بدن اس سے پہلے پاک تھا ؟ اور کيا
مياں بيوي ايک دوسرے کے حدث اکبر کے غسل کے غسالہ سے استفادہ کرسکتے
ہيں؟
ج۔ اگر حدث اکبر کے غسل کا غسالہ پاک ہے تو اس سے استفادہ ميں کوئي حرج
نہيں ہے اور مياں بيوي دونوں ايک دوسرے کے غسالہ کا استعمال کرسکتے ہيں
اس ميں بھي کوئي حرج نہيں ہے۔
س١٩٩۔ اگر غسل جنابت کے درميان حدث اصغر صادر ہوجائے تو کيا از سر نو
غسل کرنا ہوگا يا غسل مکمل کرنے کے بعد وہ وضو کرے گا؟
ج۔ از سر نو غسل کرنا واجب نہيں ہے اور نہ حدث اصغر کا کوئي اثر ہے
بلکہ غسل تمام کرے گا ليکن يہ غسل نماز اور ان تمام اعمال کے لئے وضو
سے بے نياز نہيں کرے گا جس ميں حدث اصغر کے بعد طہارت (وضوئ)شرط ہے۔
س٢٠٠۔ وہ رطوبت جو مني سے مشابہ ہوتي ہے اور پيشاب کے بعد شہوت و ارادہ
کے بغير خارج ہوتي ہے کيا وہ مني کے حکم ميں ہے؟
ج۔ مني کے حکم ميں نہيں ہے مگر يہ يقين ہوجائے کہ يہ مني ہے يا ان شرعي
علامات کے ساتھ خارج ہو جو خروج مني کے لئے بيان کي گئي ہيں۔
س٢٠١۔ جب متعدد مستحب يا واجب يا دونوں غسل جمع ہوجائيں تو کيا ايک ہي
غسل بقيہ کے لئے کافي ہوگا؟
ج۔ اگر ان ميں غسل جنابت بھي ہو اور اسي کا قصد کيا جائے تو وہ بقيہ
غسلوں کے لئے کافي ہوگا۔
س٢٠٢۔ کيا غسل جنابت کے علاوہ کوئي اور غسل بھي ہے جس کے بعد وضو کي
ضرورت نہيں ہوتي؟
ج۔ احتياط واجب يہ ہے کہ کوئي اور غسل کافي نہيں ہے۔
س٢٠٣۔ کيا آپ کي نظر ميں غسل جنابت ميں پاني کا بدن پر جاري ہونا شرط
ہے؟
ج۔ معيار يہ ہے کہ غسل کے قصد سے بدن کا دھلنا صادق آجائے پاني کا جاري
ہونا شرط نہيں ہے۔
س٢٠٤۔ اگر انسان يہ جانتا ہے کہ اگر وہ اپني زوجہ سے مقاربت کرکے مجنب
ہوجائے گا تو اسے غسل کے لئے پاني نہيں ملے گا يا غسل اور نماز کے لئے
وقت نہيں رہے گا تو کيا اس کے لئے جائز ہے کہ وہ اپني زوجہ سے مقاربت
کرے؟
ج۔ اگر غسل سے عاجز ہونے کي صورت ميں تيمم پر قادر ہے تو ايسا کرنے ميں
کوئي حرج نہيں ہے۔
س٢٠٥۔ ميں ايک بائيس سالہ جوان ہوں ، کچھ عرصہ سے ميرے سر کے بال جھڑ
رہے ہيں يہ چيز ميرے لئے رنج و غم کا باعث ہے اور ميں نے سر پر بال
اگانے والے ادارے ميں اپنے سر پر بال کشت کرانے کا ارادہ کرليا ہے۔
دريافت يہ کرنا ہے کہ اگر ان بالوں کي وجہ سے سر کي کھال کے کسي حصہ تک
پاني نہ پہونچ سکے تو غسل کا کيا حکم ہے؟
ج۔ اگر ان مصنوعي بالوں کو جدا نہ کيا جاسکے يا ان کو جدا کرنے ميں ضرر
يا حرج ہو اور ان کے ہوتے ہوئے کھال تک پاني پہونچانا بھي ممکن نہ ہو
تو اسي طرح غسل صحيح مانا جائے گا۔
س٢٠٦۔ کيا غسل جنابت ميں اتني ہي ترتيب کافي ہے کہ پہلے سر دھوئيں اس
کے بعد تمام اعضائ کو يا جسم کے دونوں اطراف کے درميان بھي ترتيب ضروري
ہے؟
ج۔ دونوں اطراف کے درميان بھي ترتيب ضروري ہے اور جسم کا داياں حصہ
بائيں پر مقدم ہوگا۔
س٢٠٧۔ غسل ترتيبي کرتے وقت اگر ميں پہلے پيٹھ دھوو ں اور اس کے بعد غسل
ترتيبي کي نيت کرکے غسل بجالاوں تو کيا اس ميں کوئي حرج ہے؟
ج۔ پيٹھ يا اعضائ بدن ميں سے کسي عضو کے غسل کي نيت اور غسل سے پہلے
دھونے ميں کوئي حرج نہيں ہے اور غسل ترتيبي کي کيفيت يہ ہے کہ تمام بدن
کو پاک کرنے کے بعد نيت کرے پھر پہلے سر و گردن کو دھوئے اس کے بعد
کندھے سے پير کے تلوے تک بدن کا داہنا نصف حصہ دھوئے پھر اسي طرح باياں
حصہ دھوئے۔ اس طرح غسل صحيح ہے۔
س٢٠٨۔ کيا عورت پر غسل ميں تمام بالوں کا دھونا واجب ہے ؟ اور اگر غسل
ميں تمام بالوں تک پاني نہ پہونچے تو کيا غسل باطل ہے ؟ جبکہ يہ معلوم
ہو کہ سر کي تمام کھال تک پاني پہونچ گيا ہے؟
ج۔ احتياط واجب يہ ہے کہ تمام بالوں کو دھوئے۔
غسل باطل پر مرتب ہونے والے امور
س٢٠٩۔ اس شخص کا کيا حکم ہے جو بالغ ہو کر بھي غسل کے واجب ہونے اور اس
کے طريقے سے بے خبر رہا اور اسي طرح دس سال گزر گئے۔ تب کہيں اسے تقليد
کي معرفت اور غسل کے واجب ہونے کا علم ہوا۔ اب نماز اور روزہ کي قضا کي
صورت ميں اس پر کيا حکم لاگو ہوگا؟
ج۔ اس شخص پر ان نمازوں کي قضا واجب ہے جو جنابت کي حالت ميں ادا کي
ہيں۔ اسي طرح روزوں کي قضا بھي ہے اگر يہ جانتا ہو کہ وہ احتلام يا
خروج مني يا اسباب جنابت ميں سے کسي ذريعہ سے مجنب ہوا ہے۔ بلکہ اگر وہ
تقصير کي وجہ سے اس سے لاعلم تھا تو اقويٰ يہ ہے کہ اس پر کفارہ بھي
واجب ہوگا ليکن اگر وہ سرے سے جنابت ہي کو نہيں جانتا تھا اور جس دن اس
نے روزہ رکھا تھا وہ طلوع فجر تک يہ نہ سمجھ سکا تھا کہ مجنب بھي ہے تو
اس پر روزہ کي قضا ہي واجب نہيں ہے چہ جائيکہ کفارہ۔
س٢١٠۔ ايک جوان ۔ کم عقلي کي وجہ سے ۔ چودہ سال کي عمر سے پہلے اور اس
کے بعد استمنائ کرتا تھا اور اس سے مني نکلتي تھي ليکن وہ غسل نہيں
کرتا تھا تو اس کا کيا فريضہ ہے ؟ کيا جس زمانے ميں وہ استمنائ کرتا
تھا اوراس سے مني خارج ہوتي تھي ۔ اس زمانے کا اس پر غسل واجب ہے؟ اور
اس وقت سے اب تک اس نے جو نمازيں پڑھيں اور روزے رکھے، کيا وہ باطل ہيں
اور ان کي قضا واجب ہے؟ يہ مدنظر رکھتے ہوئے کہ وہ محتلم ہوتا تھا مگر
غسل جنابت کي فکر نہيں کرتا تھا نہ ہي وہ يہ جانتا تھا کہ مني نکلنے سے
غسل واجب ہوجاتا ہے؟
ج۔ جتني مرتبہ وہ مجنب ہوا ہے ان سب کے لئے ايک غسل کافي ہے اور ان
نمازوں کي قضا واجب ہے جن کے بارے ميں يہ يقين ہے کہ وہ حالت جنابت ميں
ادا کي گئي ہيں، ہاں گزشتہ روزوں کي قضا واجب نہيں ہے اور انہيں صحيح
قرار ديا جائے گا، بشرطيکہ روزہ کي شبوں ميں اسے يہ علم نہ رہا ہو کہ
مجنب ہے ليکن اگر وہ يہ جانتا تھا کہ مني خارج ہوئي ہے اور وہ مجنب
ہوگيا ہے ليکن اگر وہي يہ جانتا تھا کہ مني خارج ہوئي ہے اور وہ مجنب
ہوگيا ہے ليکن يہ نہيں جانتا تھا کہ روزہ کے صحيح ہونے کے لئے اس پر
غسل واجب ہے تو ا س صورت ميں اس پر ان تمام روزوں کي قضا واجب ہے جو اس
نے حالت جنابت ميں رکھے تھے اور اگر اس جہالت و لاعلمي ميں اس کي کوتا
ہي کا بھي قصور تھا تو احتياطاً ہر دن کے روزہ کا کفارہ بھي دے گا۔
س٢١١۔ افسوس ہے کہ مجھے بہت عرصہ تک مسئلہ جنابت اور غسل جنابت کے
احکام کے بارے ميں کوئي اطلاع ہي نہ تھي جبکہ مجھے علم ہے کہ ميں اس
زمانہ ميں نمازيں پڑھتا اور روزے رکھتا تھا اس سلسلہ ميں حکم شرعي کيا
ہے؟
ج۔ اگر تم اس زمانہ ميں روزوں کے ايام کے دوران اس بات سے بالکل بے خبر
تھے کہ جنابت تم پر طاري ہوتي ہے تو تمہارے روزے صحيح ہيں اب رہيں
نمازيں تو يہ يقين ہوجانے کے بعد کہ تم نے انہيں جنابت کي حالت ميں ادا
کيا ہے، ان کي قضا واجب ہے۔
س٢١٢۔ ايک شخص مجنب ہوتا تھا اور غسل کرتا تھا ليکن اس کا غسل غلط اور
باطل ہوتا تھا اس کي ان نمازوں کا کيا حکم ہے جو اس نے اس غسل کے بعد
پڑھي ہيں، يہ جانتے ہوئے کہ وہ لاعلمي کي وجہ سے ايسا کرتاتھا۔
ج۔ غسل باطل کے ساتھ اور حالت جنابت ميں پڑھي گئي نماز باطل ہے اور اس
کا اعادہ يا قضا واجب ہے۔
س٢١٣۔ ميں نے ايک واجب غسل کي بجا آوري کے ارادے سے غسل کيا ، حمام سے
نکلنے کے بعد مجھے ياد آيا کہ ميںنے ترتيب کي رعايت نہيں کي۔ ميں سوچتا
تھا کہ صرف ترتيب کي نيت کافي ہے لہذا غسل کا اعادہ نہيں کيا۔ اب ميں
اپنے امر ميں پريشان ہوں پس کيا مجھ پر تمام نمازوں کي قضا واجب ہے؟
ج۔ آپ جو غسل بجالائے ہيں اگر اس کے صحيح ہونے کا آپ کو احتمال ہے اور
غسل کرتے وقت ان باتوں کي طرف متوجہ تھے جو اس کي صحت کے لئے ضروري ہيں
تو آپ پر کوئي قضا واجب نہيں ہے ، ہاں اگر آپ کو غسل کے باطل ہونے کا
يقين ہوجائے تو آپ پر تمام نمازوں کي قضا واجب ہے۔
س٢١٤۔ ميں غسل جنابت اس طريقے سے کيا کرتا تھا کہ پہلے جسم کا داہنا
پھر سر اور اس کے بعد باياں حصہ دھويا کرتا تھا اور ميں نے صحيح طريقہ
دريافت کرنے ميں کوتاہي کي ۔ پس ميري نمازوں اور روزوں کا کيا حکم ہے؟
ج۔ مذکورہ طريقے سے کيا گيا غسل باطل ہے اور رفع حدث کا موجب نہيں ہے
اس بنا پر ايسے باطل غسل کے ساتھ پڑھي گئي نمازيں باطل ہيں اور ان کي
قضا کرنا واجب ہے ياں اگر آپ مذکورہ طريقہ کو صحيح غسل سمجھتے تھے اور
آپ جان بوجھ کر جنابت پر باقي نہيں رہے تو آپ کے روزے صحيح ہيں۔
تيمم کے احکام
س٢١٥۔ وہ تمام چيزيں جن پر تيمم صحيح ہوتا ہے، جيسے مٹي ، چونا اور سنگ
مرمر وغيرہ يہ سب ديوار ميں لگے ہوں تو کيا ان پر تيمم صحيح ہے؟ يا ان
کا سطح زمين پر ہونا ضروري ہے؟
ج۔ تيمم کے صحيح ہونے ميں ان کا سطح زمين پر ہونا شرط نہيں ہے۔
س٢١٦۔ اگر ميں مجنب ہوجاو ں اور ميرے لئے حمام جانا ممکن نہ ہو اور
جنابت کي يہ حالت چند روز تک باقي رہے تو کيا ميں غسل کے عوض تيمم کے
ذريعہ پڑھي ہوئي نماز کے بعد ہر نما زکے لئے ہميشہ کي طرح وضو کروں گا
يا تيمم کروں گا يا وہي پہلا تيمم کافي ہوگا ؟ اور اس فرض کي بنا پر ہر
نماز کے لئے وضو واجب ہے يا تيمم ؟
ج۔ جب مجنب غسل جنابت کے بدلے صحيح تيمم کرے اور اس تيمم کے بعد اگر اس
سے حدث اصغر صادر ہوجائے تو ان اعمال کے لئے جن ميں طہارت شرط ہے اس پر
صرف وضو کرنا واجب ہے۔ يہ سلسلہ اس وقت تک جاري رکھے گا جب تک وہ عذر
شرعي برطرف نہ ہوجائے جس سے تيمم کا جواز پيدا ہوا ہے۔
س٢١٧۔ غسل کے بدلے کئے جانے والے تيمم کے بعد کيا وہ سب امور انجام
پاسکتے ہيں جو غسل کے بعد انجام دئيے جاسکتے ہيں۔ يعني کيا تيمم کرکے
مسجد ميں داخل ہونا جائز ہے؟
ج۔ غسل کے بعد جتنے شرعي امور انجام دئيے جاسکتے ہيں وہ اس کے عوض کئے
جانے والے تيمم کے بعد بھي جائز ہيں ليکن تنگي وقت کي وجہ سے جو تيمم
غسل کے بدلے کيا جاتا ہے۔ اس پر يہ آثار مرتب نہيں ہوتے۔
س٢١٨۔ وہ جنگي مجروح جس کا کمر سے نيچے تک کا حصہ گزشتہ جنگ ميں مفلوج
ہوچکا ہے اور جس کي بنا پر وہ سلسل البول کا مريض ہے، کيا مستحب اعمال
بجالانے کے لئے مثلاً غسل جمعہ و غسل زيارت وغيرہ کے عوض تيمم کرسکتا
ہے، کيونکہ اسے حمام جانے ميں کچھ مشقت اٹھانا پڑے گي؟
ج۔ جن موارد ميں طہارت شرط نہيں ہے ان ميں غسل کے بدلے تيمم کرنا محل
اشکال ہے۔ ليکن عسر و حرج کے موقع پر مستحب غسلوں کے بدلے رجائ مظلوميت
کي نيت سے تيمم کرنے ميں کوئي حرج نہيں ہے۔
س٢١٩۔ جس شخص کے پاس پاني نہ ہو يا اس کے لئے پاني کا استعمال مضر ہو
تو جب اس نے غسل۔ غسل جنابت کے بدلے تيمم کرليا ، کيا وہ اس کے بعد
مسجد ميں داخل اور نماز جماعت ميں شريک ہوسکتا ہے؟ اور اس کے قرآن
پڑھنے کا کيا حکم ہے؟
ج۔ جب تک تيمم کو جائز کرنے والا عذر برطرف نہ ہوگا اور اس کا تيمم
باطل نہ ہوگا اس وقت تک وہ ان تمام اعمال کو انجام دے سکتا ہے جن ميں
طہارت شرط ہے۔
س٢٢٠۔ نيند کي حالت ميں انسان سے رطوبت خارج ہوتي ہے اور بيدار ہونے کے
بعد کچھ ياد نہيں آتا، بس وہ اپنے لباس پر رطوبت ديکھتا ہے اور سوچنے
کا وقت بھي اس کے پاس نہيں ہے کيونکہ اس کي صبح کي نماز قضا ہورہي ہے
،ا س حالت ميں وہ کيا کرے گا؟ اور وضو يا غسل کے بدلے تيمم کي کيا نيت
کرے گا؟ اور اصل حکم کيا ہے؟
ج۔ اگر وہ جان گيا کہ محتلم ہو گيا ہے تو وہ مجنب ہے اور اس پر غسل
واجب ہے اور وقت تنگ ہونے کي صورت ميں اپنے بدن کو پاک کرنے کے بعد
تيمم کرے پھر نماز کے بعد غسل کرے ليکن اگر احتلام اور جنابت ميں شک ہے
تواس پر جنابت کا حکم جاري نہيں ہوگا۔
س٢٢١۔ ايک شخص جو پے در پے کئي شبوں تک مجنب ہوتا رہا ، اس کا کيا
فريضہ ہے؟ جبکہ حديث ميں آيا ہے کہ ہر روز پے در پے حمام جانے سے،
انسان ضعيف و کمزور ہوجاتا ہے؟
ج۔ اس پر غسل واجب ہے اور پاني کا استعمال مضر ہونے کي صورت ميں اس کا
فريضہ تيمم ہے۔
س٢٢٢۔ ايک شخص نماز پڑھنا چاہتا ہے اور ماہ رمضان کا روزہ رکھنا چاہتا
ہے ليکن غير اختياري طور سے مني خارج ہونے کي بنا پر وہ مجنب ہوجاتا ہے
اور بعض اسباب کي بنا پر وہ ہر گھنٹہ اور روز غسل نہيں کرسکتا ۔ پس وہ
اپنے روزے نماز بجالانے کے لئے کيا کرے؟
ج۔ اگر غسل جنابت ترک کرنے کے لئے اس کے پاس کوئي قابل قبول شرعي عذر
ہے تو غسل کے بدلے اس پر تيمم واجب ہے اور اس تيمم کے ساتھ اس کي نما
زو روزے صحيح ہيں۔
س٢٢٣۔ ميں ايسا مريض ہوں کہ بلا ارادہ کئي کئي مرتبہ مجھ سے مني خارج
ہوجاتي ہے اور اس کے نکلنے سے کوئي لذت بھي محسوس نہيں ہوتي، پس نماز
کے سلسلہ ميں ميرا کيا فريضہ ہے؟
ج۔ اگر ہر نماز کے لئے غسل کرنے ميں ضرر يا حرج ہے تو اپنا بدن نجاست
سے پاک کرنے کے بعد تيمم سے نماز پڑھيں۔
س٢٢٤۔ اس شخص کا کيا حکم ہے جو نماز صبح کے لئے يہ سوچ کر غسل جنابت
ترک کرکے تيمم کرتا ہے کہ اگر غسل کرے تو بيمار ہوجائے گا؟
ج۔ اگر وہ سمجھتا ہے کہ اس کے لئے غسل مضر ہے توتيمم ميں کوئي حرج نہيں
ہے اور اس تيمم کے ساتھ نماز صحيح ہے۔
س٢٢٥۔ ميں ايسے جلدي مرض ميں مبتلا ہوں کہ جب بھي ميں نہاتا ہوں تو
ميري کھال خشک ہونے لگتي ہے بلکہ اگر صرف چہرہ اور ہاتھوں کو دھوتا ہوں
جب بھي ايسا ہوتا ہے، اسي لئے اپني جلد پر زيتون کا تيل ملنے پر مجبور
ہوں، اس سے مجھے وضو کرنے ميں بہت زحمت ہوتي ہے خصوصاً صبح کي نماز کے
لئے وضو کرنا ميرے لئے بہت دشوار ہے تو کيا ميں صبح کي نما زکے لئے
تيمم کرسکتا ہوں؟
ج۔ اگر آپ کے لئے پاني کا استعمال مضر ہے تو وضو سے اجتناب کريں اور اس
کے بدلے تيمم کريں۔
س٢٢٦۔ ايک شخص وقت کم ہونے کي بنا پر تيمم سے نماز پڑھ ليتا ہے اور
فارغ ہونے کے بعد اس پر يہ بات آشکار ہوتي ہے کہ وضو کرنے کا وقت تھا،
اس کي نماز کا کيا حکم ہے؟
ج۔ اس پر اس نماز کا اعادہ واجب ہے۔
س٢٢٧۔ ہم ايسے برفيلے علاقہ ميں زندگي بسر کرتے ہيں جہاں حمام نہيں ہے
اور نہ کوئي ايسي جگہ ہے جہاں غسل کرسکيں اور رمضان کے مہينے ميں اذان
سے پہلے حالت جنابت ميں بيدار ہوئے واضح رہے کہ جوان لڑکے کا نصف شب
لوگوں کي آنکھوں کے سامنے مشک يا ٹنکي کے پاني سے غسل کرنا معيوب ہے،
اس کے علاوہ اس وقت پاني بھي ٹھنڈا ہوتا ہے،ا س حالت ميں اگلے دن کے
روزہ کا کيا حکم ہے؟ کيا تيمم جائز ہے اور غسل نہ کرنے کي صورت ميں
روزہ توڑنے کا کيا حکم ہے؟
ج۔ صرف مشقت يا لوگوں کي نظروں ميں کسي کام کا معيوب ہونا عذر شرعي
نہيں بن سکتا بلکہ جب تک مکلف کے لئے ضرر يا حرج نہ ہو اس وقت تک جس
طرح بھي ممکن ہو غسل کرنا واجب ہے اور اگر ان دونوں ( يعني حرج يا ضرر
) کي صورت ميں فجر سے پہلے تيمم کرليتا ہے تو اس کا روزہ صحيح ہے اور
اگر تيمم ترک کردے تو اس کا روزہ باطل ہے ليکن واجب ہے کہ تمام دن کچھ
نہ کھائے پئيے۔
عورتوں کے احکام
س٢٢٨۔ اگر ميري والدہ خاندان نبوت سے تھي تو کيا ميں بھي سيداني ہوں؟
پس کيا ميں اپني ماہانہ عادت کو ساٹھ سال تک حيض قرار دوں اور ان ايام
کے دوران روزہ نماز سے پرہيز کروں؟
ج۔ جس عورت کا باپ ہاشمي نہيں ہے۔ اگرچہ اس کي ماں سيداني ہے۔ اگر وہ
پچاس سال کے بعد خون ديکھتي ہے تو وہ استحاضہ کے حکم ميں ہے۔
س٢٢٩۔ جس عورت کے معين نذر کے روزہ کي حالت ميں حيض آجائے اس کا کيا
فريضہ ہے؟
ج۔ حيض آنے سے اس کا روزہ باطل ہوجائے گا چاہے دن کے آخري حصہ ميں آئے
اور طہارتکے بعد اس پر روزہ کي قضا واجب ہے۔
س٢٣٠۔ اس رنگ يا دھبہ کا کيا حکم ہے جس کو عورت اپني طہارت کے اطمينان
کے بعد ديکھتي ہے جبکہ يہ معلوم ہے کہ نہ اس ميں خون کي صفت ہے اور نہ
ہي وہ پاني ملا ہوا خون ہے؟
ج۔ اگر وہ خون نہيں ہے تو اس پر حيض کا حکم نہيں لگے گا ، اور موضوع کو
تشخيص دينا عورت کا کام ہے۔
س٢٣١۔ روزے رکھنے کے لئے دوا کے ذريعہ ماہانہ عادت کو بند کرنے کا کيا
حکم ہے؟
ج۔ کوئي حرج نہيں ہے۔
س٢٣٢۔ اگر حمل کے دوران عورت کو تھوڑا سا خون آجائے ليکن اس کا حمل
ساقط نہ ہو تو اس پر غسل واجب ہے يا نہيں ؟ اور اس پر کون سا عمل واجب
ہے؟
ج۔ اثنائ حمل ميں عورت جو خون ديکھتي ہے اگر اس ميں حيض کے صفات يا
شرائط ہيں تو وہ حيض ہے ورنہ استحاضہ ہے۔
پس اگر اس کا استحاضہ کثيرہ يا متوسطہ ہے تو اس پر غسل
واجب ہے۔
س٢٣٣۔ ايک عورت کي ماہانہ عادت معين ہے جيسے ايک ہفتہ ۔ اگر اسے مانع
حمل چھلہ ( لوپ) رکھوانے کے سبب ١٢ روز خون آتا ہے تو يہ سات روزسے
زيادہ زيادہ آنے والا خون حيض ہوگا يا استحاضہ؟
ج۔ اگر دس دن تک خون بند نہ ہو تو اس کي عادت کے ايام حيض شمار ہوں گے
اور باقي استحاضہ ۔
س٢٣٤۔ کيا حائض يا نفسا عورت آئمہ کي اولاد کے مقبروں ميں داخل ہوسکتي
ہے؟
ج۔ اگر اس سے بے حرمتي صادق نہ آئے تو جائز ہے۔
س٢٣٥۔ جو عورت مجبوراً حمل ضائع کراتي ہے وہ نفسائ ہے يا نہيں؟
ج۔ بچہ ساقط ہونے کے بعد ، خواہ وہ لوتھڑا ہي ہو، اگر عورت خون ديکھتي
ہے تو اس پر نفاس کا حکم ثابت ہے۔
س٢٣٦۔ اس خون کا کيا حکم ہے جسے عورت يائسہ ہونے کے بعد ديکھتي ہے؟ اور
اس کا شرعي فريضہ کيا ہے؟
ج۔ بعيد نہيں ہے کہ وہ استحاضہ کے حکم ميں ہو۔
س٢٣٧۔ بچوں کي ولادت سے اجتناب کے لئے مانع حمل طريقوں ميں سے ايک
طريقہ مانع حمل دواو ں کا استعمال بھي ہے، اور جو عورتيں ان دواوں کو
استعمال کرتي ہيں وہ ماہانہ عادت کے ايام اور اس کے علاوہ دوسرے دنوں
ميں بھي خون کے دھبے ديکھتي ہيں تو ان دھبوں کا کيا حکم ہے؟
ج۔ اگر ان دھبوں ميں شريعت کي بيان کردہ شرطيں نہيں پائي جاتيں تو وہ
حيض نہيں ہے بلکہ اس پر استحاضہ کا حکم لگايا جائے گا۔
ميت کے احکام
س٢٣٨۔ آج کل ( قبرستان کے امور کے ذمہ دار يا اجرت پر کام کرنے والے)
افراد نے ميت کے ، خواہ مرد کي ہو يا عورت کي ، کفن و دفن کي ذمہ داري
لے رکھي ہے ، پس يہ جانتے ہوئے کہ کفن و دفن کے امور انجام دينے والے
ميت کے محرم نہيںہيں دفن کے مسئلہ ميں کوئي اشکال ہے۔؟
ج۔ ميت کے غسل دينے ميں مماثلت شرط ہے اور اگر ميت کو اسي کا مثل (
يعني عورت کو عورت اور مرد کو مرد ) غسل دے سکتا ہے غير مماثل کا غسل
دينا صحيح نہيں ہے بلکہ اس کا غسل دينا باطل ہے ۔ ليکن تکفين و تدفين
ميں مماثلت شرط نہيں ہے۔
س٢٣٩۔ ادھر ديہاتوں ميں عام رواج ہوگيا ہے کہ ميت کو رہائشي مکانوں ميں
غسل ديا جاتا ہے اور بعض موقعوں پرميت کا کوئي وصي نہيں ہوتا اور اس کے
بچے چھوٹے ہوتے ہيں ايسي صورت ميں آپ کي کيا رائے ہے؟
ج۔ ميت کي تجہيز يعني غسل ، کفن اور دفن کے سلسلے ميں جن تصرفات کي
ضرورت ہے وہ کمسن ولي کي اجازت پر موقوف نہيں ہيں اور اس سلسلے ميں
ورثا کے درميان چھوٹے بچوں کي موجودگي سے کوئي فرق نہيں پڑتا۔
س٢٤٠۔ ايک شخص ايکسيڈنٹ ميں يا کسي بلندي سے گر کر مرگيا ، مرنے والے
کے بدن سے اگر خون بہہ رہا ہو تو اس کا کيا حکم ہے؟ کيا خون کا اپنے آپ
يا طبي وسائل کے ذريعہ بند ہونے تک انتظار کرنا واجب ہے يا لوگ خون
بہنے کے باوجود اسے اسي حالت ميں دفن کرديں؟
ج۔ امکان کي صورت ميں غسل سے پہلے ميت کے بدن کو پاک کرنا واجب ہے اور
اگر خون بند ہونے کے لئے انتظار کرنا يا اسے بند کرنا ممکن ہو تو ايسا
کرنا واجب ہے۔
س٢٤١۔ ايک ميت جو ٤٠ يا ٥٠ سال قبل دفن کي گئي تھي اوراس وقت اس کي قبر
کا نشان مٹ گيا ہے اور وہ مسطح زمين بن گئي ہے اب لوگوں نے اس جگہ پاني
کے لئے نالي کھودي تو اس ميں سے مردے کي ہڈياں نکل آئيں، کيا انہيں
ديکھنے کے لئے ان کو چھونے ميں کوئي اشکال ہے؟ اور وہ ہڈياں نجس ہيں يا
نہيں؟
ج۔ مسلمان ميت کي وہ ہڈي جس کو غسل ديا جا چکا ہو نجس نہيں ہے ليکن اسے
مٹي ميںدفن کردينا واجب ہے۔
س٢٤٢۔ کيا انسان اپنے والد ، والدہ يا اپنے کسي عزيز کو وہ کفن سے سکتا
ہے جو اس نے اپنے لئے خريدا تھا؟
ج۔ اس ميں کوئي حرج نہيں ہے۔
س٢٤٣۔ ڈاکٹروں کي ايک جماعت طبي معاينہ کے لئے ميت کے دل اور اس کي بعض
رگوں کو اس کے جسم سے نکال ليتے ہيں اور تجربہ کرنے کے ايک دن بعد
انہيں دفن کرديتے ہيں ۔ اس سلسلے ميں درج ذيل سوالات کے جواب مرحمت
فرمائيں:
١۔ کيا ہمارے لئے ايسا کام انجام دينا جائز ہے جبکہ ہم جانتے ہيں کہ وہ
لاشيں ، جن کا پوسٹ مارٹم کيا جارہا ہے مسلمانوں کي ہيں۔
٢۔ کيا قلب اور بعض رگوں کو ميت کے بدن سے جدا دفن کرنا جائز ہے؟
٣۔ کيا ان اعضائ کو دوسري ميت کے ساتھ دفن کرنا جائز ہے ؟ جبکہ ہميں يہ
معلوم ہے کہ قلب اور شريانوں کو عليحدہ دفن کرنے ميں ہمارے لئے کئي
مشکليں ہيں؟
ج۔ ميت کے بدن کا پوسٹ مارٹم کرنا مطلقاً جائز ہے جبکہ کسي کي جان
بچانا اسي پر موقوف ہو يا پھر ان طبي علوم کا انکشاف کرنا جن کي معاشرہ
کو احتياج ہو يا اس مرض کا سراغ لگانا جس سے لوگوں کي زندگي کو خطرہ
لاحق ہو ، اگرچہ احتياط ( مستحب) يہ ہے کہ اس کام کے لئے مسلمان ميت کے
بدن سے استفادہ نہ کيا جائے اور جو اعضائ مسلمان کے بدن سے جدا ہوگئے
ہيں انہيں بدن کے ساتھ دفن کرنا چاہئيے اور اگر بدن کے ساتھ دفن کرنا
ممکن نہ ہو تو عليحدہ دفن کرنے ميں کوئي حرج نہيں ہے۔
س٢٤٤۔ اگر انسان اپنے لئے کفن خريدے اور واجب يا مستحب نمازوں يا تلاوت
قرآن مجيد کے وقت ہميشہ اس سے فرش و مصلي کا کام لے اور موت کے بعد اسي
کو اپنا کفن قرار دے تو کيا يہ جائز ہے؟ اور اسلامي نقطہ نظر سے کيا يہ
جائز ہے کہ انسان اپنے لئے کفن خريد کر اس پر قرآن کي آيتيں لکھے اور
اسے صرف کفن کے کام ميں لائے؟
ج۔ مذکورہ باتوں ميں کوئي حرج نہيں ہے۔
س٢٤٥۔ ماضي قريب ميں ايک پراني قبر سے ايک عورت کا جنازہ ملا ہے۔ اس کي
تاريخ تقريباً سات سو سال پراني ہے۔ يہ ايک عظيم البحثہ پيکر ہے جو
صحيح و سالم ہے۔ اس کے سر پر کچھ بال بھي ہيں ، آثار قديمہ کے ماہرين
۔جنہوںنے اس کا انکشاف کيا ہے ۔ کہتے ہيں کہ يہ ايک مسلمان عورت کا جسد
ہے، پس کيا جائز ہے کہ علوم طبيعيہ کے ماہرين کي طرف سے اس مميزد مشخص
عظيم البحثہ پيکر کو ( قبر کي شکل بدل کر پھر اسي ميں رکھ کر ) آثار
قديمہ کا مشاہدہ کرنے والوں کي عبرت کے لئے رکھ ديا جائے يا ديکھنے
والوں کي عبرت و آگاہي کے لئے اسي مناسبت سے آيات و احاديث لکھ کر وہاں
لگاد ي جائيں۔
ج۔ اگر اس عظيم البحثہ پيکر کے بارے ميں ثابت ہوجائے کہ يہ مسلمان کي
ميت ہے تو اس کا فوراً دوبارہ دفن کردينا واجب ہے۔
س٢٤٦۔ ايک ديہات ميں ايک قبرستان ہے جو نہ کسي کي خاص ملکيت ہے، نہ وقف
ہے، کيا اس گاو ں کے رہنے والوں کے لئے يہ جائز ہے کہ وہ دوسرے شہر يا
دوسرے گاو ں کي ميتوں کو يااس شخص کي ميت کو جس نے اس قبرستان ميں دفن
کرنے کي وصيت کي ہے، دفن نہ ہونے ديں؟
ج۔ اگر ديہات کا عمومي قبرستان کسي کي خاص ملکيت نہيں ہے اور نہ خاص
طور پر اہل قريہ کے لئے وقف ہے تو اہل قريہ دوسروں کي ميتوں کو اس ميں
دفن ہونے سے منع نہيں کرسکتے اور اگر کوئي شخص خود کو اس ميں دفن کرنے
کي وصيت کرے تو اس کي وصيت پر عمل کرنا واجب ہے۔
س٢٤٧۔ کچھ روايات اس بات پر دلالت کرتي ہيں کہ قبروں پر پاني چھڑکنا
مستحب ہے جيسا کہ کتاب لئالي الاخبار ميں ہے۔ کيا دفن کے دن پاني
چھڑکنا مستحب ہے يا کبھي بھي چھڑک سکتے ہيں، جيسا کہ صاحب لئالي کا
نظريہ ہے؟ آپ کا کيا نظريہ ہے؟
ج۔ دفن کے دن اور اس کے بعد رجائ مطلوبيت کي نيت سے قبر پر پاني چھڑکنے
ميں کوئي حرج نہيں ہے ليکن اس کا اثبات کہ يہ عمل مستحب ہے مشکل ہے۔
س٢٤٨۔ ميت کو رات ميں کيوں دفن نہيں کرتے ؟ کيا شب ميں دفن کرنا حرام
ہے؟
ج۔ ميت کو رات ميں دفن کرنے ميں کوئي اشکال نہيں ہے۔
س٢٤٩۔ ايک شخص موٹر کار کے حادثے ميں مرگيا، لوگوں نے اسے غسل ديا۔ کفن
پہنايا اور قبرستان ميں لائے۔ جب اسے دفن کرنے لگے تو ديکھا کے تابوت
اور کفن دونوں اس خون ميں آلودہ ہيں جو سر سے بہہ رہا ہے، تو کيا ايسي
حالت ميں کفن بدلنا واجب ہے؟
ج۔ اگر کفن کے اس حصے کو، جس پر خون لگا ہوا ہے، دھونا يا کاٹنا يا کفن
کو تبديل کرنا ممکن ہو تو ايسا کرنا واجب ہے ورنہ اسي حالت ميں دفن
کردينا جائز ہے۔
س٢٥٠۔ اگر وہ شخص خون آلود کفن ميں دفن کرديا گيا تو اس کا کيا حکم ہے؟
ج۔اس ميں کوئي حرج نہيں ہے اور قبر کھود کر اسے کفن دھونے يا کفن تبديل
کرنے کے لئے نکالنا واجب نہيں بلکہ جائز ہي نہيں ہے۔
س٢٥١۔اگر اس ميت کے دفن کو۔ جسے خون آلود کفن ميں دفن کرديا گيا ہے۔تين
ماہ گزر چکے ہوں تو کيا اس قبر کو کھودا جا سکتا ہے؟
ج۔ مفروضہ سوال کي روشني ميں قبر کھودنا جائز نہيں ہے۔
س٢٥٢۔ برائے کرم درج ذيل تين سوالات کے جواب مرحمت فرمائيں:
١۔اگر حاملہ عورت وضع حمل کے دوران ( بچہ کي پيدائش سے پہلے) مر جائے
تو اس کے شکم ميں موجود بچہ کا کيا حکم ہے؟
الف۔ اگر اس ميں روح تقريباً پڑ گئي ہو يعني (تين ماہ يا اس سے زيادہ
کا ہو)اور احتمال بھي قوي ہو کہ اگر ماں کے پيٹ سے نکالا جائے تو
مرجائے گا۔
ب۔ جب بچہ سات ماہ يا اس سے زيادہ کا ہو۔
ج۔ بچہ ماں کے پيٹ ميں مرگيا ہو۔
٢۔ اگر وضع حمل کے درميان حاملہ کا انتقال ہوجائے تو کيا دوسروں پر بچہ
کي موت يا اس کي حيات کا مکمل يقين حاصل کرنا واجب ہے؟
٣۔ اگر ولادت کے وقت ماں کا انتقال ہوجائے اور شکم ميں بچہ زندہ ہو اور
ايک شخص لوگوں کو عام طريقے اور رواج کے خلاف ماں کو زندہ بچہ ے ساتھ
دفن کرنے کا حکم دے تو اس سلسلہ ميں آپ کا کيا نظريہ ہے؟
ج۔ اگر حاملہ کے مرنے سے بچہ بھي مرجائے تو اس کا نکالنا واجب نہيں ہے،
بلکہ جائز نہيں ہے ۔ ليکن اگر مردہ ماں کے شکم ميں بچہ زندہ ہو، اس ميں
روح پڑ چکي ہو اور اسے نکالنے سے بچہ کے زندہ رہنے کا احتمال ہو تو اس
کے نکالنے ميں جلدي کرنا واجب ہے، اور جب تک مردہ ماں کے شکم ميں موجود
بچہ کي موت ثابت نہ ہوجائے ماں کے ساتھ بچہ کو دفن کے بعد بھي زندہ ہو،
اور خواہ اس کا احتمال ہي ہو ، تب بھي قبر کھودنے اور ماں کے شکم سے
بچہ کو نکالنے ميں جلدي کرنا واجب ہے، اسي طرح اگرمردہ ماں کے پيٹ ميں
بچہ کي زندگي کي حفاظت اس کے دفن ميں جلدي نہ کرنے پر منحصر ہو تو
بظاہر کي زندگي کي حفاظت کے لئے ماں کے دفن ميں تاخير واجب ہے۔ اور اگر
کوئي شخص يہ کہے کہ حاملہ عورت کو اس کے زندہ بچہ کے ساتھ دفن کرنا
جائز ہے اور دوسرے لوگ يہ گمان کرتے ہوئے کہ کہنے والے کي بات صحيح ہے
، دفن کرديں جس سے قبر ميں بچہ کي موت واقع ہوجائے، تو بچہ کي ديت دفن
کرنے والے شخص پر واجب ہے ، مگر يہ کہ موت کا باعث اس قائل کے قول کو
قرار ديا جائے، اس صورت ميں اس قائل پر ديت واجب ہوگي۔
س٢٥٣۔ بلديہ نے زمين سے بھرپور فائدہ اٹھانے کي غرض سے قبروں کي دو
منزلہ بنانا مقرر کيا ہے۔ برائے مہرباني آپ اس سلسلے ميں شرعي حکم بيان
فرمائيں؟
ج۔ مسلمانوں کي کئي منزلوں والي قبريں بنانا جائز ہے، اگر يہ عمل قبر
کھودنے اور مسلمان ميت کي بے حرمتي کا باعث نہ ہو۔
س٢٥٤۔ ايک بچہ کنويں ميں گر کر مرگيا، اور کنويں ميں اتنا پاني ہے کہ
اس ميں سے ميت کو نکالا نہيں جاسکتا۔ اس کا کيا حکم ہے؟
ج۔ ميت کو اسي ميں چھوڑ ديں گے اور وہ کنواں ہي اس کي قبر ہوگا۔ اگر
کنواں غير کي ملکيت نہ ہو يا اس کا مالک بند کرنے پر راضي ہوجائے تو
کنويں کو بند کردينا واجب ہے۔
س٢٥٥۔ ہمارے علاقوں ميں رواج يہ ہے کہ آئمہ اطہار ٴ اور شہيدوں اور اہم
ديني شخصيتوں کي عزاداري ميں روايتي انداز ميں سينہ زني اور زنجير زني
ہوتي ہے۔ کيا کسي مجاہد فوجي يا نامور اشخاص يا ان لوگوں کي وفات پر
بھي سينہ زني وغيرہ کرنا جائز ہے جنہوں نے اسلامي حکومت اور اسلامي
معاشرہ کي کسي نہ کسي طريقہ سے خدمت کي ہے؟
ج۔ مذکورہ فرض ميں بذات خود کوئي حرج نہيں ہے، ليکن اس عمل سے اس ميت
کو کوئي فائدہ نہيں پہنچتا۔ بہتر يہ ہے کہ مرنے والے کے لئے فاتحہ
خواني اور قرآن خواني کي مجلسيں منعقد کي جائيں۔
س٢٥٦۔ اس شخص کا کيا حکم ہے جو شب ميں قبرستانوں ميں جانے کو اپني
اسلامي تربيت کے لئے موثر عامل سمجھے جبکہ يہ معلوم ہے کہ رات ميں
قبرستانوں ميں جانا مکروہ ہے؟
ج۔ اس ميں کوئي حرج نہيں ہے۔
س٢٥٧۔ کيا جنازہ کي تشييع اور اسے اٹھانے ميں عورتوں کا شريک ہونا جائز
ہے؟
ج۔ کوئي حرج نہيں ہے۔
س٢٥٨۔ بعض قبائليوں ميں عام طور پر رسم ہے کہ جب ان ميں سے کوئي مرجاتا
ہے تو مرنے والے کے مراسم ميں شرکت کرنے والوں کو کھانا کھلانے کے لئے
حتيٰ قرض لے کر بہت سي بھيڑ بکرياں خريدتے ہيں جو بڑے نقصان کا باعث
ہوتا ہے کيا اس قسم کي رسم کو باقي رکھنے کے لئے اتنے بڑے خسارے اور
نقصان کا برداشت کرنا جائز ہے؟ اور مرنے والے کے غم ميں مبتلا خاندانوں
اور مراسم عزا ميں شرکت کرنے والوں کے لئے شرعي حکم کيا ہے؟
ج۔ اگر بزرگ (بالغ)وارثوں کے اموال سے اور ان کي مرضي سے کھانا کھلايا
جائے تو ہر صورت اور ہر مقدار ميں جائز ہے ليکن اگر ميت کے اموال سے
خرچ کرنا چاہتے ہيں تو اس کا تعلق مرنے والے کي وصيت سے ہے کہ اس نے
کيا وصيت کي ہے۔
س٢٥٩۔ دو حاضر (يعني جنگ کے زمانہ)ميں اگر ايک شخص بارودي سرنگ کے
پھٹنے سے مرجائے تو کيا اس پر شہيد کے احکام مترتب ہوں گے؟
ج۔ غسل و کفن نہ دينے کا حکم صرف اس شہيد سے مخصوص ہے جو معرکہ جنگ ميں
قتل ہوا ہو۔
س٢٦٠۔ مہاباد۔ اروميہ اسي طرح دوسرے علاقوں ميں سپاہ پاسداران انقلاب
اسلامي گشت کرتے ہيں اور دشمنان انقلاب کبھي ان پر کمين گاہوں سے حملہ
کرتے ہيں جس کے نتيجے ميں کبھي کبھي يہ شہيد ہوجاتے ہيں ، کيا ايسے
شہيدوں کو غسل دينا يا تيمم کرنا واجب ہے يا پھر اس علاقہ کو ميدان جنگ
سمجھا جائے گا؟
ج۔ اگر اس علاقہ ميں فرقہ حقہ اور باطل پرست باغي گروہ کے درميان جنگ
ہو تو فرقہ و حقہ ميں سے قتل ہونے والا شہيد کے حکم ميں ہے۔
س٢٦١۔ کيا ايسا داڑھي منڈا شخص جس کي اولاد بھي يا فراري منافقوں ميں
سے ہے يا ان ميں سے ہے جنہوں نے اپني توبہ کا اعلان کيا ہے ، مومنين
ميں سے کسي کي نماز جنازہ پڑھا سکتا ہے؟
ج۔ بعيد نہيں کہ جو شرائط بقيہ نمازوں ميں نماز جماعت اور امام جماعت
ميں ضروري ہيں وہ نماز ميت اور اس کے امام ميں معتبر نہ ہوں اگرچہ
احتياط (مستحب)يہ ہے کہ اس ميں بھي ان کي رعايت کي جائے۔
س٢٦٢۔ اگر کوئي مومن احکام اسلام کے نفاذ کي راہ ميں (دنيا کے کسي گوشہ
ميں)قتل کرديا جائے يا مظاہروں ميں قتل کرديا جائے يا فقہ جعفري کے
نفاذ پر قتل کرديا جائے تو کيا وہ شہيد سمجھا جائے گا؟
ج۔ اسے شہيد کا اجر و ثواب ملے گا ليکن شہيد کي ميت کے احکام اس شخص سے
مخصوص ہيں جو ميدان جنگ ميں جنگ کرتے ہوئے شہادت پائے۔
س٢٦٣۔ اگر قانون اور عدليہ کي تائيد کے مطابق کسي مسلمان شخص کے خلاف
منشيات کا کاروبار کرنے کے الزام ميں سزائے موت کا حکم صادر ہو اور اسے
موت کي سزا دي جائے تو :
١۔ کيا اس کي نماز جنازہ پڑھي جائے گي؟
٢۔ اس کے مراسم عزائ قرآن خواني اور اس کے لئے منعقد ہونے والي مجالس
اہل بيت ٴ ميں شرکت کا کيا حکم ہے؟
ج۔ جس مسلمان کو سزائے موت دے دي گئي ہو ، ا س کا حکم وہي ہے جو سارے
مسلمانوں کا ہے اور اس کے لئے وہ تمام اسلامي احکام و آداب بجالائے
جائيں گے جو عام مرنے والوں کے لئے بجالائے جاتے ہيں۔
س٢٦٤۔ کيا اس گوشت دار ہڈي کو چھونے سے غسل مس ميت واجب ہوجائے گا جو
زندہ کے بدن سے جدا ہوئي ہو؟
ج۔ مذکورہ فرض کي روشني ميں غسل ميت واجب ہے۔
س٢٦٥۔ دانت نکلواتے وقت اس کے ساتھ مسوڑھے کے کچھ ريشے نکل آتے ہيں کيا
مسوڑھے کے جزو کو مس کرنے سے غسل مس ميت واجب ہوجاتا ہے؟
ج۔ اس سے غسل واجب نہيں ہوتا ليکن اگر دانت کے ساتھ مسوڑھے کا کچھ گوشت
بھي نکل آئے تو اس کا حکم وہي ہے جو مردار کا ہے۔
س٢٦٦۔ جس مسلمان شہيد کو اس کے کپڑوں ہي ميں دفن کيا گيا ہو کيا اس پر
مس ميت کے احکام جاري ہوں گے؟
ج۔ مذکورہ شہيد کو چھونے سے غسل مس ميت واجب نہيں ہوتا۔
س٢٦٧۔ ميں ميڈيکل کالج کا طالب علم ہوں ۔ بعض اوقات آپريشن کے دوران
مجبوراً مردوں کو چھونا پڑتا ہے اور ہم نہيں جانتے کہ يہ لاشيں
مسلمانوں کي ہيں يا نہيں۔ ليکن ذمہ داران کہتے ہيں کہ ان لاشوں کو قطعي
طور پر غسل ديا چکا ہے ۔ اميد ہے مذکورہ مسئلہ کو ملحوظ رکھتے ہوئے
برائے مہرباني ان مردہ جسموں کے مس کرنے کے بعد ہماري نماز وغيرہ کا
حکم بيان فرمائيے ؟ اور کيا مذکورہ صورت ميں ہم پر غسل واجب ہے؟
ج۔ اگر ميت کو غسل ديا جانا ثابت نہ ہو اور آپ کو اس سلسلہ ميں شک ہو
تو جس يا اس کے اجزائ کو چھونے سے غسل مس ميت واجب ہوجائے گا۔ اور اس
غسل کے بغير نماز صحيح نہ ہوگي، ليکن اگر اس کا غسل ثابت ہوجائے تو اس
کے بدن یا بعض اعضائ کو چھونے سے غسل مس ميت واجب نہيں ہوگا چاہے اس کے
غسل کے صحيح ہونے ميں شک ہي ہو۔
س٢٦٨۔ ايک گمنام شہيد چند افراد کے ساتھ ايک ہي قبر ميں دفن کرديا گيا
اور ايک ماہ کے بعد قرائن سے يہ بات ثابت ہوئي کہ وہ شہيد اس شہر کا
نہيں تھا (جس ميں دفن کيا گيا ہے)کيا (اس صورت ميں)قبر کھودنا جائز ہے؟
ج۔ اگر اسے شرعي احکام اور قوانين کے مطابق دفن کيا گيا ہے تو قبر
کھولنے کا حق نہيں ہے۔
س٢٦٩۔ اگر قبر کھودے اور مٹي ہٹائے بغير قبر کے اندر کے حالات معلوم
کرنا يا فلم برداري کے ذريعہ اس کے اندر کي تصوير لينا ممکن ہو تو اس
عمل پر قبر کھودنے کا اطلاق ہوگا يا نہيں؟
ج۔ قبر کھودے يا کھولے بغير مدفون ميت کے بدن کي تصوير لينے اور جنازہ
دکھانے پر قبر کھودنے کا عنوان صادق نہيں آتا۔
س٢٧٠۔ ميونسپلٹي سڑکوں کي توسيع کے لئے قبرستان کے چاروں طرف بنے ہوئے
کمروں کو منہدم کرنا چاہتي ہے۔ گذارش ہے کہ درج ذيل مسائل کے جواب
مرحمت فرمائيں:
١۔ قبرستان کے امور کي نگران کميٹي کي ذمہ داري مومنين کي ان قبروں کے
سلسلے ميں کيا ہوگي جو ان کمروں ميں موجود ہيں؟
٢۔ کيا ان مردوں کي ہڈيوں کو نکال کر دوسري جگہ دفن کرنا جائز ہے؟
ج۔ مومنين کي قبروں کو کھولنا اور انہيں منہدم کرنا جائز نہيں ہے۔ اب
اگر نبش واقع ہوجائے تو مسلمان ميت کا بدن ظاہر ہوجانے يا مسلمان ميت
کي غير بوسيدہ ہڈياں مل جانے کے بعد انہيں نئے سرے سے دفن کرنا واجب
ہے۔ ليکن قبرستانوں کي نگراں کميٹي کي اس سلسلہ ميں کوئي خاص ذمہ داري
نہيں ہے۔
س٢٧١۔ اگر ايک شخص شرعي قوانين کي رعايت کئے بغير مسلمانوں کے
قبرستانوں کو منہدم کرتا ہے تو اس شخص کے مقابلہ ميں باقي مسلمانوں کا
کيا فريضہ ہے؟
ج۔ باقي مسلمانوں پر شرائط و مراتب کي رعايت کے ساتھ اسے نہي عن المنکر
کرنا واجب ہے۔
س٢٧٢۔ ميرے والد ٣٦ سال قبل ايک قبرستانوں ميں دفن کئے گئے ہيں اور اب
ميں سوچتا ہوں کہ وقف بورڈ اسے اجازت لے کر اس قبر سے اپنے لئے استفادہ
کروں ، اس بنا پر کيا مجھے اپنے دوسرے بھائيوں سے بھي اجازت لينا ضروري
ہے جبکہ يہ قبرستان وقف شمار کيا جاتا ہے۔
ج۔ اس قبر کے بارے ميں ميت کے تمام وارثوں سے اجازت لينا شرط نہيں ہے
جو اس زمين ميں واقع ہے جس کو مردوں کے تدفين کے لئے وقف عام شمار کيا
جاتا ہے ليکن جب تک ميت کي ہڈياں مٹي نہ بن جائيں اس قبر کو دوسري ميت
کے دفن کرنے کے لئے کھودنا جائز نہيں ہے۔
س٢٧٣۔ ميں ميڈيکل کالج کا طالب علم ہوں۔ يونيورسٹي ميں تحقيق کے لئے
طبيعي ہڈياں کم ہونے کي صورت ميں کيا متروکہ اور فرسودہ قبرستانوں کي
ہڈيوں سے استفادہ کياجاسکتا ہے ؟
اور کيا مردوں کي ان ہڈيوں کے مس کرنے سے غسل واجب ہوجاتا ہے جو کہ
عجائب گھروں ميں موجود ہيں يا قبرستانوں ميں پائي جاتي ہيں۔
ج۔ مسلمانوں کے مقبروں سے ہڈياں نکالنا اگر يہ کام قبر کھودنے پر موقوف
ہو جائز نہيں ہے اور اگر ہڈياں اس ميت کي ہوں جس کے بارے ميں معلوم نہ
ہو کہ اسے غسل ديا گيا تھا تو ا ن کے چھونے سے غسل واجب ہوجائے گا۔
س٢٧٤۔ کن حالات ميں قبروں کا کھولنا جائز ہے؟ اس زمانہ ميں ايک جماعت
ان شہيدوں کي لاشوں کي شناخت کے لئے جو جنگ کے دوران شہيد ہوئے تھے ،
تحقيق ميں مشغول ہے اس سلسلہ ميں کيا حکم ہے؟
ج۔ اگر شہيد عزيز کا جنازہ تمام شرعي آداب کے ساتھ دفن کيا گيا ہے اور
کسي قسم کا اثبات حق ، قبر کے کھودنے پر موقوف نہ ہو تو قبر کھولنا
جائز نہيں ہے يہاں تک کہ جسد کو پہچاننے کے لئے بھي۔
س٢٧٥۔ برائے کرم ايسے شرائط سے، جن ميں قبر کھودنا جائز ہے، مطلع
فرمائيں اور اگر مسلمانوں کي قبروں کو منہدم کرنے يا اسے کسي اور مرکز
ميں تبديل کرنے کي کوئي راہ ہے تو اس کي وضاحت بھي فرمائيں؟
ج۔ قبر کھودنے کے استثنائي حالات و شرائط توضيح المسائل ميں مذکورہ ہيں
اور مسلمانوں کے ان قبرستانوں ميں تغير و تبدل جائز نہيں ہے جو
مسلمانوں کي ميت دفن کرنے کے لئے وقف ہيں۔
س٢٧٦۔ کيا ديني مرجع سے اجازت لينے کے بعد قبروں کا کھولنا جائز ہے اور
کيا اس قبرستان کو جو اموات کے دفن کے لئے وقف ہے، تبديل کرکے کسي
دوسرے کام ميں لانا جائز ہے؟
ج۔ جن حالات ميں قبر کھولنا جائز نہيں ہے اور جن ميں ميتوں کے دفن کے
لئے وقف شدہ قبرستان کو خراب کرنا جائز ہے ان ميں اجازت کا کوئي فائدہ
ہي نہيں ہے۔
س٢٧٧۔ تقريباً بيس سال قبل ايک شخص کا انتقال ہوا تھا اور ابھي چند روز
پہلے اسي گاوں ميں ايک عورت کا انتقال ہوا، لوگوں نے غلطي سے اس شخص کي
قبر کھود کر قبر کو بھي اسي ميں دفن کرديا، اس کا کيا حکم ہے جبکہ يہ
معلوم ہے کہ قبر ميں اس شخص کي کوئي علامت نہيں ملي ہے؟
ج۔ مفروضہ سوال کے لحاظ سے اب دوسروں پر کوئي ذمہ داري عائد نہيں ہوتي
اور صرف ميت کا دوسري ميت کي قبر ميں دفن کرنا اس کا جواز پيدا نہيں
کرتا کہ قبر کھول کر جسد کو دوسري قبر ميں منتقل کيا جائے۔
س٢٧٨۔ ايک سڑک کے درميان چار قبريں بني ہوئي ہيں جو راستہ بنانے کي راہ
ميں رکاوٹ بني ہوئي ہيں اور دوسري طرف قبروں کو کھودنے ميں بھي شرعي
اشکال ہے، گذارش ہے کہ اس سلسلہ ميں ہماري راہنمائي فرمائيں کہ ہميں
کيا کرنا ہے تاکہ ميونسپلٹي عملاً شرع کي مخالفت نہ کرے؟
ج۔ اگر سڑک بنانا قبر کے کھودنے پر موقوف نہ ہو، اور قبروں کے اوپر سے
سڑک بنانا ممکن ہو يا سڑک اسي سمت ميں بنانا ضروري ہو، جدھر قبريں ہيں
تو کوئي اشکال نہيں ہے ورنہ قبروں کے اوپر سڑک بنانا جائز نہيں ہے۔
|