کتاب صوم


روزہ کے وجوب اور صحت کے شرائط



س٧٤٧۔ اگر کوئي لڑکي سن بلوغ تک پہنچنے کے بعد جسماني اعتبار سے کمزور ہونے کي وجہ سے ماہ رمضان کے روزے نہ رکھ سکتي ہو اور نہ آنے والے رمضان تک ان کي قضا کي طاقت رکھتي ہو تو اس کے روزوں کا کيا حکم ہے؟
ج۔ صرف کمزوري و ناتواني کے سبب روزہ اور اس کي قضا سے معذوري قضا کو ساقط نہيں کرتي بلکہ اس پر ماہ رمضان کے روزوں کي قضا واجب ہے۔
س٧٤٨۔ اگر نوبالغ لڑکيوں پر روزہ حد سے زيادہ شاق ہو تو ان کے روزوں کا کيا حکم ہے؟ اور کيا لڑکيوں کے لئے سب بلوغ نو سال ہے؟
ج۔ مشہور يہ ہے کہ قمري نو سال پورے ہونے کے بعد لڑکياں بالغ ہوجاتي ہيں، اس وقت ان پر روزہ رکھنا واجب ہے اور کسي عذر کي وجہ سے ان کے لئے روزہ ترک کرنا جائز نہيں ہے ليکن اگر روزہ دن کے دوران انہيں ضرر پہنچائے يا عسرو حرج کا سبب ہو تو اس وقت ان کے لئے افطار کرنا جائز ہے۔
س٧٤٩۔ ميں قطعي طور سے نہيں جانتا کہ کب بالغ ہوا ہوں لہذا يہ بتائيے کہ مجھ پر کب سے نماز و روزوں کي قضا واجب ہے اور کيا مجھ پر روزوں کي قضا کے ساتھ کفارہ بھي واجب ہے جبکہ ميں مسئلہ سے واقف نہيں تھا؟
ج۔ جب سے آپ کو بلوغ کا يقين ہوا ہے اسي وقت سے آپ پر نما زاور روزوں کي قضا واجب ہوگي ليکن ان روزوں کي قضا کے ساتھ کفارہ بھي واجب ہے جن کے بارے ميں آپ کو يقين ہے کہ يہ روزے آپ نے جان بوجھ کر اس وقت چھوڑے جب بالغ ہوچکے تھے۔
س٧٥٠۔ اگر نو سالہ لڑکي روزہ شاق ہونے کي وجہ سے توڑ دے تو کيا اس کي قضا واجب ہے؟
ج۔ ماہ رمضان کے جو روزے اس نے توڑے ہيں ان کي قضا واجب ہے۔
س٧٥١۔ اگر کوئي شخص پچاس فيصد سے زيادہ احتمال اور معقول عذر کي بنا پر يہ خيال کرے کہ اس پر روزہ واجب نہيں ہے اور روزہ نہ رکھے کہ اس پر روزے واجب نہيں ہيں تو مذکورہ سوال کي روشني ميں اس پر قضا و کفارہ دونوں واجب ہيں۔ ليکن اگر اس نے نقصان کے خوف سے روزے نہ رکھے ہوں اور اس خوف کي کوئي عقلائي وجہ بھي ہو تو اس صورت ميں قضا واجب ہے کفارہ واجب نہيں ہے۔
س٧٥٢۔ ايک شخص فوج ميں ملاز م ہے اور سفر اور ڈيوٹي پر رہنے کي وجہ سے پچھلے سال روزے نہيں رکھ سکا۔ دوسرا رمضان بھي شروع ہوچکا ہے اور وہ ابھي تک اسي علاقہ ہي ميں ہے اور احتمال ہے کہ اس سال بھي روزے نہيں رکھ سکے گا تو جب اس نے فوجي خدمت سے فارغ ہونے کے بعد ان دو ماہ کے روزے رکھنے کا ارادہ کرليا ہے، کيا اس پر روزوں کے ساتھ کفارہ بھي واجب ہے؟
ج۔ اگر سفر کي وجہ سے روزے ترک ہوئے ہوں اور يہ عذر دوسرے رمضان تک باقي ہو تو ( اس صورت ميں ) صرف قضا واجب ہے۔ اس کے ساتھ فديہ دينا واجب نہيں ہے۔
س٧٥٣۔ اگر روزہ دار اذان ظہر سے قبل تک متوجہ نہ ہو کہ مجنب ہوا ہے پھر اس کے بعد جب متوجہ ہو تو غسل ارتماسي کر ڈالے تو کيا اس سے اس کا روزہ باطل ہوجائے گا؟ اور اگر غسل ارتماسي کے بعد متوجہ ہو کہ وہ روزے سے تھا تو کيا اس پر روزے کي قضا واجب ہے؟
ج۔ اگر روزے سے غفلت و فراموشي کي بنا پر غسل ارتماسي کرلياہو تو اس کا روزہ اور غسل صحيح ہے اور اس پر روزہ کي قضا واجب نہيں ہے۔
س٧٥٤۔ اگر روزہ دار کا يہ ارادہ ہو کہ زوال سے قبل محل اقامت تک پہنچ جائے گا ليکن کسي عذر کي وجہ سے نہ پہنچ سکا تو کيا اس کے روزے ميں اشکال ہے؟ اور کيا اس پر کفارہ بھي واجب ہے يا صرف اس دن کے روزہ کي قضا کرے گا؟
ج۔ سفر ميں اس کا روزہ صحيح نہيںہے اور جس دن وہ زوال سے پہلے قيام گاہ تک نہيں پہنچ سکا تھا صرف اس دن کے روزہ کي قضا کرے گا، کفارہ واجب نہيں ہے۔
س٧٥٥۔ سطح زمين سے کافي بلندي پر ڈھائي تين گھنٹے کي پرواز کرنے والے پائيلٹ اور جہاز کے ميزبانوں کو جسمي توانائي برقرار رکھنے کے لئے ہر بيس منٹ پر پاني پينے کي ضرورت ہے تو کيا ايسي صورت ميں قضا و کفارہ دونوں لازم ہيں۔
ج۔ اگر روزہ مضر ہو تو پاني پي کر افطار کرسکتا ہے ليکن بعد ميں صرف قضا کرے گا ايسي حالت ميں کفارہ واجب نہيں ہے۔
س٧٥٦۔ اگر غروب آفتاب سے گھنٹہ ڈيڑھ گھنٹہ قبل روزہ دار عورت حائضہ ہوجائے تو کيا اس کا روزہ باطل ہوگا؟
ج۔ باطل ہوجائے گا۔
س٧٥٧۔ اگر غوطہ خوري کے مخصوص لباس کو پہن کر کوئي شخص پاني ميںجائے جس سے اس کا جسم تر نہ ہو تو اس کے روزے کا کيا حکم ہے؟
ج۔ اگر لباس سر سے چسپيدہ ہو تو اس کے روزہ کا صحيح ہونا مشکل ہے اور احتياط واجب يہ ہے کہ قضا کرے۔
س٧٥٨۔ کيا روزہ کي زحمت سے فرار کي خاطر عمداً سفر کرنا جائز ہے؟
ج۔ کوئي مضائقہ نہيں ہے ۔ چاہے اگر روزہ سے بچنے کے لئے ہي سفر پر نکلے اس پر افطار کرنا واجب ہے۔
س٧٥٩۔ اگر کسي شخص کے ذمہ روزہ واجب ہو اور اس نے روزہ رکھنے کا ارادہ کيا ہو ليکن کوئي ايسا عذر پيش آجائے جو روزہ رکھنے ميں مانع ہو مثلاً طلوع آفتاب کے بعد درپيش سفر کي وجہ سے روزہ نہ رکھ سکا اور ظہر کے بعد گھر واپس ہوا اور راستہ ميں کسي روزہ شکن چيز کا استعمال نہيں کيا تھا مگر واجب روزہ کي نيت کا وقت گذر چکا تھا اور يہ دن ايام ميں سے تھا جس ميں روزہ رکھنا مستحب ہے توکيا يہ شخص مستحب روزہ کي نيت کرسکتا ہے؟
ج۔ جب تک ماہ رمضان کے روزوں کي قضا اس پر واجب ہو سنتي روزہ کي نيت صحيح نہيں ہوگي خواہ واجب روزہ کي نيت کا وقت گذر ہي کيوں نہ چکا ہو۔
س٧٦٠۔ ميں سگريٹ نوشي کا بہت عادي ہوں اور رمضان مبارک ميں ہر چند کوشش کرتا ہوں کہ مزاج ميں تندي نہ آجائے مگر پيدا ہوجاتي ہے جس کے سبب بيوي بچوں کے لئے باعث اذيت ہوجاتا ہوں اور ميں خود بھي اپني اس تند مزاجي سے رنجيدہ ہوں ۔ ايسي صورت ميں ميري شرعي تکليف کيا ہے؟
ج۔ آپ پر ماہ رمضان کے روزے واجب ہيں اور روزہ کي حالت ميں سگريٹ نوشي جائز نہيں ہے۔ بلا عذر دوسروں سے تند خوي بھي جائز نہيں ہے اور سگريٹ ترک کرنے کا غصہ سے کوئي ربط نہيں ہے۔
 

 

حاملہ اور دودھ پلانے کے احکام
 


س٧٦١۔ کيا حمل کے ابتدائي مہينوں ميں عورت پر روزے واجب ہيں؟
ج۔ صرف حمل روزہ کے واجب ہونے ميں مانع نہيں ہوتا ليکن اگر روزہ رکھنے ميں ماں يا باپ کے لئے ضرر کا خوف ہو اور اس خوف کي وجہ عقلائي ہو تو پھر روزہ واجب نہيں ہے۔
س٧٦٢۔ اگر حاملہ يہ نہ جانتي ہو کہ اس کا روزہ بچہ کے لئے نقصان دہ نہيں تو کيا اس پر روزہ واجب ہے؟
ج۔ اگر اس کے روزہ سے بچے کو نقصان پہنچنے کا ڈر ہو اور اس ڈر کي معقول وجہ ہو تو روزہ ترک کرنا واجب ہے ورنہ اس پر روزہ رکھنا واجب ہے۔
س٧٦٣۔ اگر کسي عورت نے زمانہ حمل ميں بچوں کو دودھ بھي پلايا اور روزے بھي رکھے ليکن جو بچہ پيدا ہوا وہ مردہ تھا اب اگر ضرر کا احتمال پہلے سے تھا اس کے باوجود اس نے روزے رکھے تو ايسي صورت ميں:
الف۔ ماں کے روزے صحيح ہوں گے يا نہيں؟
ب۔ ماں پر بچہ کي ديت واجب ہے يا نہيں؟
ج۔ اور اگر پہلے ضرر کا احتمال نہيں تھا ليکن بعد ميں ثابت ہوا کہ نقصان روزوں ہي سے پہنچا ہے تو اس صورت ميں کيا حکم ہے؟
ج۔ اگر ضرر کا خوف رہا ہو اور خوف کا سبب بھي عقلائي ہو اس کے باوجود روزے رکھے يا بعد ميں ثابت ہو کہ روزے بچہ يا حاملہ کے لئے نقصان دہ تھے توروزے باطل ہيں اور ان کي قضا واجب ہے۔ ليکن ديت اس وقت عائد ہوگي جب يہ ثابت ہوجائے کہ بچہ کي موت روزے ہي سے ہوئي ہو۔
س٧٦٤۔ خالق نے مجھے بچہ عطا فرمايا ہے جسے ميں دودھ پلا رہي ہوں اور ماہ رمضان انشائ اللہ آنے والا ہے۔ رمضان ميں روزہ بھي رکھ سکتي ہوں ليکن روزوں کي وجہ سے دودھ خشک ہوجائے گا۔ يہ واضح رہے کہ ميں جسماني اعتبار سے کمزور ہوں اور ہر دس منٹ کے وقفہ سے بچہ کو دودھ پلانے کي ضرورت ہے ايسے ميں ميرا شرعي فريضہ کيا ہے؟
ج۔ اگر روزوں کي وجہ سے دودھ خشک ہوجائے يا کم ہوجائے اور اس سے بچہ کو خطرہ درپيش ہو تو ايسي صورت ميں روزہ ترک کرنا جائز ہے ليکن ہر روزے کے عوض تين پاو ( ٧٥٠ گرام) فديہ فقير کو دينا ہوگا اور عذر برطرف ہوجانے پر روزوں کي قضا کرنا پڑے گي۔
 

 

بيماري اور ڈاکٹر کي طر ف سے ممانعت
 


س٧٦٥۔ بعض غير متدين ڈاکٹر خوف ضرر کي دليل سے مريض کو روزہ سے روکتے ہيں ايسے ڈاکٹروں کا قول حجت ہے يا نہيں؟
ج۔ اگر ڈاکٹر ديانت دار نہيں ہے اور مريض کو اس کے قول پر اطمينان بھي نہيں ہے اور نہ ہي روزوں سے ضرر کا خوف ہے تو ايسي صورت ميں اس کے قول کا کوئي اعتبار نہيں ہوگا۔
س٧٦٦۔ ميري والدہ تقريباً ١٣ سال بيمار رہيں لہذا روزے رکھنے سے محروم رہيں اور مجھے اچھي طرح معلوم ہے کہ اس فريضہ سے ان کي محروميت کي وجہ يہ تھي کہ دن ميں ان کے لئے دوا کا استعمال ضروري تھا ، اب برائے مہرباني يہ فرمائيں کہ کيا ان پر روزوں کي قضا واجب ہے؟
ج۔ اگر وہ مرض کي وجہ سے روزے رکھنے پر قادر نہيں تھيں تو پھر قضا نہيں ہے۔
س٧٦٧۔ ميں نے آغاز بلوغ سے بارہ سال کي مدت تک اپني جسماني کمزوريوں کي وجہ سے روزے نہيں رکھے ، اس وقت ميرا فريضہ کيا ہے؟
ج۔ بلوغ کے بعد جتنے روزے ترک ہوئے ہيں ان کي قضا واجب ہے اور اگر عمداً و اختياراً اور کسي شرعي عذر کے بغير ترک کئے ہيں تو قضا کے ساتھ کفارہ بھي واجب ہے۔
س٧٦٨۔ آنکھوں کے ڈاکٹر نے مجھے روزے رکھنے سے منع کيا اور کہا کہ تمہاري آنکھ ميں جو مرض ہے ، اس کي وجہ سے تمہارے لئے روزہ رکھنا کسي صورت ميں بھي جائز نہيں ہے ليکن ميرا دل نہيں مانا اور ميں نے روزے شروع کردئيے جس کي وجہ سے مجھے مشکليں پيش آئيں۔ کسي دن تو افطار تک مجھے کسي تکليف کا احساس نہيں ہوتا تھا۔ اور کسي دن عصر کے وقت تکليف شروع ہوجاتي تھي اور ميں اس شک و ترديد کي حالت ميں کہ روزہ توڑ دوں يا رکھوں ، روزہ پورا کرتاتھا۔ اب سوال يہ ہے کہ کيا مجھ پر روزہ رکھنا واجب ہے؟ اور جن ايام ميں روزہ رکھتا تھا ليکن نہيں جانتا تھا کہ مغرب تک روزہ رکھ پاوں گا کيا ان ميں مجھے روزے کي حالت ميں باقي رہنا چاہئيے ؟ اور يہ کہ ميري نيت کيا ہوني چاہئيے؟
ج۔ اگر متدين اور امين ڈاکٹر کے کہنے پر آپ کو اطمينان حاصل ہوگيا کہ روزہ آپ کے لئے باعث ضرر ہے يا روزے سے آپ کي آنکھوں کو خطرہ ہے تو ايسي صورت ميں روزہ واجب نہيں ہے۔ بلکہ روزہ رکھنا جائز ہي نہيں ہے اور ضرر کے خوف کے ساتھ روزہ کي نيت کرنا بھي صحيح نہيں ہے۔ اور اگر خوف ضرر نہ ہو تو کوئي مضائقہ نہيں ہے ليکن آپ کا روزہ اسي وقت صحيح ہوگا جب واقعي ضرر نہ پايا جاتا ہو۔
س٧٦٩۔ ميري آنکھوں کي بينائي بہت کمزور ہے۔ اور ميں بڑے نمبر والي عينک استعمال کرتا ہوں ميرے ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ اگر آنکھوں کي تقويت کا خيال نہ کيا تو بينائي مزيد کم ہوجائے گي۔ ايسي صورت ميں اگر ماہ رمضان کے روزے نہ رکھ سکوں تو ميرا فريضہ کيا ہوگا؟
ج۔ اگر روزہ آنکھوں کے لئے مضر ہے تو واجب نہيں ہے بلکہ روزہ نہ رکھنا آپ پر واجب ہے اور اگر يہ عذر اگلے رمضان المبارک تک باقي رہے تو ہر روزے کے بدلے ايک مد طعام فقير کو ديا جائے گا۔
س٧٧٠۔ ميري والدہ ايک شديد مرض ميں مبتلا ہيں اور والد صاحب بھي بہت کمزور ہيں ليکن اس کے باوجود روزے رکھتے ہيں ۔ اکثر اوقات معلوم ہوتاہے کہ روزہ ان کے مرض ميں اضافہ کا باعث ہورہا ہے ۔ ميں بار بار سمجھتا رہا ہوں کہ بيماري ميں روزہ ساقط ہے ليکن والدين مطمئن نہيں ہوتے۔ ايسي صورت ميں آپ ميري راہنمائي فرمائيں؟
ج۔اگر يہ علم ہو کہ روزہ نقصان دہ ہے اس کے باوجود روزہ رکھا جائے تو حرام ہے ليکن روزہ کس وقت باعث مرض ہوگا، کب مرض ميں اضافہ کا سبب بنے گا اور کب رکھنے کي طاقت و قوت نہيں ہے۔ ان سارے امور کي تعيين و تشخيص خود روزہ دار پر منحصر ہے۔
س٧٧١۔ گزشتہ سال ميں نے اپنے گردوں کا آپريشن اس کے ماہر ڈاکٹر سے کرايا اس کي تجويز يہ تھي کہ ميں کبھي بھي روزے نہ رکھوں في الحال ميں معمول کے مطابق کھاتا پيتا ہوں اور کسي قسم کا احساس مرض اپنے ميں نہيں پاتا اس وقت ميرا شرعي فريضہ کيا ہے؟
ج۔ اگر آپ اپنے تئيں روزہ رکھنے ميں خوف ضرر نہيں محسوس کرتے اور ترک صوم کے لئے کوئي عذر شرعي بھي نہيں پاتے تو آپ پر رمضان کا روزہ واجب ہے۔
س٧٧٢۔ اگرمسائل شرعيہ سے ناواقف ڈاکٹر روزہ نہ رکھنے کا حکم ديتے ہيں تو کيا ان کي تجويز پر عمل کيا جاسکتا ہے؟
ج۔ اگرمريض کو ڈاکٹر کے قول و تجويز کي بنائ پر يا اس کے خبر دينے يا کسي اور معقول ذريعہ سے اطمينان پيدا ہوجائے کہ روزہ اس کے لئے مضر ہے تو اس پر روزہ واجب نہيں ہے۔
س٧٧٣۔ ميرے گردوں ميں پتھري ہے۔ اس سے چھٹکارے کا واحد راستہ يہ ہے کہ ميں مسلسل رقيق چيزيں استعمال کرتا رہوں ڈاکٹروں کا عقيدہ ہے کہ روزہ رکھنا ميرے لئے جائز نہيں ہے۔ پس ماہ رمضان کے روزوں کے سلسلہ ميں ميرا کيا فريضہ ہے؟
ج۔ اگر دن ميں پاني يا اس جيسي چيز کے استعمال سے ہي پتھري سے چھٹکارا مل سکتا ہے تو ايسي صورت ميں آپ پر روزہ واجب نہيں ہے۔
س٧٧٤۔ چونکہ شکر کے مريض مجبور ہوتے ہيں کہ روزانہ دو ايک مرتبہ انسولين کا انجيکشن کريں۔ ( اس حالت ميں) دير سے کھانا کھانے يا کھانے ميں زيادہ فاصلہ خون ميں شکر کي مقدار کم ہونے کي باعث ہوتي ہے اور اس طرح بے ہوشي اور تشنج کي کيفيت پيدا ہوتي ہے۔ اس لئے بسا اوقات ڈاکٹر ايسے مريض کو دن ميں چار بار کھانا کھانے کي تاکيد کرتے ہيں ۔ ايسے افراد کے روزے کے سلسلے ميں آپ کي کيا رائے ہے؟
ج۔ اگر صبح صادق سے غروب آفتاب تک کھانے پينے سے پرہيز ان کے لئے ضرر کا باعث ہو تو ان پر روزہ واجب نہيں بلکہ جائز نہيں ہے۔
 

 

وہ امور جن سے امساک واجب ہے
 


س٧٧٥۔ اگر روزہ دار کے منھ سے خون خارج ہو تو کيا اس سے روزہ باطل ہو جاتا ہے؟
ج۔ روزہ باطل تو نہيں ہوتا ليکن خون کو گلے تک نہيں پہنچنا چاہئيے۔
س٧٧٦۔ کيا حالت روزہ ميں نسوار لي جاسکتي ہے؟
ج۔ اگر ناک کے راستے حلق تک جانے کا انديشہ ہو تو روزہ دار کے لئے اس کا لينا جائز نہيں ہے۔
س٧٧٧۔ نسوار جو تمباکو سے بنائي جاتي ہے اور جس کو کچھ دير زبان کے نيچے رکھنے کے بعد تھوک ديا جاتا ہے۔ کيا اس کا استعمال روزہ کو باطل کرديتا ہے؟
ج۔ اگر لعاب دہن سے مخلوط ہر کو حلق سے نيچے اتر جائے تو روزہ باطل ہے۔
س٧٧٨۔ جو افراد تنفس کے شديد مريض ہيں ان کے لئے ايک طبي اسپرے ہے۔ جسے دہن ميں چھڑکاجاتا ہے ، حلق کے ذريعہ دوا مريض کے پھيپھڑوں تک منتقل ہوتي ہے جس سے سانس لينے ميں آساني ہوجاتي ہے۔ بسا اوقات تو مريض کو دن ميں کئي کئي بار اس کي ضرورت محسوس ہوتي ہے بغير اس کے يا تو وہ روزہ رکھ نہيں سکتا يا اس کے لئے بہت سخت ہوگا۔ کيا مريض کے لئے ان اسپرے کے ساتھ روزہ جائز ہے؟
ج۔ اگر اسپرے کے ذريعہ جس مادہ کو پھيپھڑوں تک پہنچايا ہے ، صرف ہوا ہے تو اس سے روزے پر کوئي اثر نہيں پڑتا ليکن اگر اس ميں دوا ملي ہوئي ہے خواہ غبار و سفوف ہي کي شکل ميں کيوں نہ ہو اور اگر وہ حلق ميں داخل ہوجائے تو ايسي صورت ميں روزہ کا صحيح ہونا مشکل ہے۔ اس سے اجتناب واجب ہے۔ ليکن اگر اس کے بغير روزہ رکھنا مشقت و زحمت کا باعث ہو تو پھر استعمال کيا جاسکتا ہے۔
س٧٧٩۔ بسا اوقات ميرے لعاب دہن ميں مسوڑھوں کا خون مل جاتا ہے لہذا جو لعاب ميرے پيٹ ميں جاتاہے اس کے بارے ميں مجھے نہيں معلوم کہ اس ميں خون بھي ملا ہے يا نہيں۔ اس حالت ميں ميرے روزوں کا کيا حکم ہے۔ اور يہ مشکل کيسے حل ہوسکتي ہے؟
ج۔ مسوڑھوں کا خون اگر لعاب دہن سے مل کر مستہلک و نابود ہوجائے توپاک ہے اس کے نگلنے ميں کوئي مضائقہ نہيں ہے۔ اور اگر شک ہو کہ لعاب خون آلود ہوا ہے يا نہيں تو اسے نگلا جاسکتا ہے اور اس سے روزہ پر کوئي اثر نہيں پڑتا۔
س٧٨٠۔ ميں نے رمضان کے ايام ميں ايک دن اپنے دانتوں کو برش نہيں کي۔ دانتوں ميں پھنسي ہوئي غذا ميں نے جان بوجھ کر نہيں نگلي وہ خود بخود اندر چلي گئي کيا مجھے اس روزہ کي قضا کرني پڑے گي؟
ج۔ اگر آپ کو يہ علم نہيں تھا کہ غذا دانتوں ميں پھنسي رہ گئي ہے يا يہ يقين نہيں تھا کہ غذا اندر چلي جائے گي۔ اگر توجہ و اختيار کے بغير وہ اندر چلي جائے تو آپ کا روزہ صحيح ہے۔
س٧٨١۔ اگر روزہ دار کے مسوڑھے سے کافي مقدار ميں خون خارج ہو تو کيا اس کا روزہ باطل ہوجائے گا اور کيا وہ کسي برتن سے اپنے سر پر پاني ڈال سکتاہے؟
ج۔ جب تک خون نگلا نہ جائے روزہ باطل نہيں ہوتا، اسي طرح برتن وغيرہ سے سر پر پاني ڈالنے سے بھي اس کے روزہ پر کوئي اثر نہيں پڑتا۔
س٧٨٢۔ بعض نسواني امراض کے علاج کے لئے کچھ اينما جيسي خاص دوائيں ہيں جن کو شرم گاہ سے داخل کرتے ہيں ، کيا اس سے روزہ باطل ہوجاتا ہے؟
ج۔ ان دواوں کے استعمال سے روزہ باطل نہيں ہوتا۔
س٧٨٣۔ روزے کي حالت ميں درد کو روکنے کے لئے دانتوں کے ڈاکٹر جو انجکشن لگاتے ہيں اور اسي طرح دوسرے انجيکشن جو مريض روزہ داروں کو لگائے جاتے ہيں ، ان کا کيا حکم ہے؟
ج۔ اگر انجيکشن قوت کے لئے نہيں ہے تو کوئي مضائقہ نہيں ہے اور اگر قوت کا ہے تو احتياط واجب يہ ہے کہ روزہ کي حالت ميں اس سے پرہيز کيا جائے۔
س٧٨٤۔ آج کل رگوں کے ذريعہ طاقت کي دوائيں جسم ميں منتقل کي جاتي ہيں، کيا يہ روزہ کو باطل کرديتي ہيں؟
ج۔ روز کي حالت ميں رگوں کے ذريعہ دواوں کا اندر تک منتقل کيا جانا محل اشکال ہے۔ لہذا اس سے اجتناب کي احتياط کو ترک نہ کيا جائے۔
س٧٨٥۔ کيا بلڈ پريشر کے مريض روزہ کي حالت ميں ٹيبليٹ کا استعمال کرسکتے ہيں؟
ج۔ اگر ٹيبليٹ کا استعمال ضروري ہے تو کھائي جاسکتي ہے ليکن روزہ باطل ہوجائے گا۔
س٧٨٦۔ عرف عام ميں علاج کے لئے ٹيبليٹ کے استعمال پر کھانا پينا نہيں کہا جاتا ، کيا اس بنياد پر حالت صوم ميں ٹيبليٹ کا استعمال کيا جاسکتا ہے؟
ج۔ اگر شياف يعني شرمگاہ کے ذريعہ ٹيبليٹ چڑھائي جائے تو روزہ صحيح رہے گا ليکن نگلنے کي صورت ميں روزہ باطل ہوجائے گا۔
س٧٨٧۔ ماہ رمضان ميں ميري زوجہ نے مجھے جماع پر مجبور کيا ، اب ہمارے لئے شرعي حکم کيا ہے؟
ج۔ آپ دونوں پر عمداً روزہ توڑنے کا حکم عائد ہوتا ہے لہذا آپ پر قضا کے ساتھ کفارہ بھي واجب ہے۔
س٧٨٨۔ کيا روزہ کي حالت ميں اپني زوجہ سے خوش جعلي کي جاسکتي ہے؟
ج۔ اگر مني خارج ہونے کا سبب نہ ہو تو کوئي مضائقہ نہيں ہے ورنہ جائز نہيں ہے۔
 

 

حالت جنابت پر باقي رہنا
 


س٧٨٩۔ اگر کوئي شخص بعض زحمتوں کي وجہ سے صبح کي اذان تک غسل جنابت نہ کرسکے تو کيا اس کا روزہ صحيح رہے گا؟
ج۔ رمضان کے علاوہ کسي اور روزے يا اس کي قضا ميں کوئي مضائقہ نہيں ہے ليکن رمضان کے روزے يا اس کي قضا کے لئے اگر صبح کي اذان تک کسي عذر کي وجہ سے غسل جنابت نہ کرسکے تو اذان سے قبل تيمم واجب ہے، اور اگر تيمم بھي نہيں کيا تو روزہ صحيح نہيں ہے۔
س٧٩٠۔ اگو کوئي شخص نہ جانتا ہو کہ جنابت سے پاک ہونا روزے کے صحيح ہونے کے لئے شرط ہے اور اسي حالت ميں چند روزے بھي رکھ ڈالے تو کيا صرف ان کي قضا واجب ہے يا کفارہ بھي ؟
ج۔ اگر جنابت کي طرف متوجہ تھا ليکن خود پر غسل يا تيمم کے واجب ہونے کو نہيں جانتا تھا تو بنابر احتياط قضا کے ساتھ کفارہ بھي واجب ہے۔ مگر يہ کہ اس کي جہالت کا سبب اس کي اپني کوتاہي ہي رہي ہو تو اس صورت ميں ظاہراً کفارہ واجب نہيں ہے اگرچہ احتياط مستحب يہ ہے کہ کفارہ بھي ادا کرے۔
س٧٩١۔ اگر مجنب قضا يا مستحبي روزہ رکھنا چاہتا ہو تو کيا اس کے لئے طلوع آفتاب کے بعد غسل جنابت جائز ہے؟
ج۔ اگر عمداً غسل جنابت نہيں کيا اور صبح ہوگئي تو رمضان کا روزہ اور اس کي قضا صحيح نہيں ہے۔ ليکن ان دونوں کے علاوہ اگر کوئي روزہ نہ ، خاص کر مستحبي روزہ تو اقويٰ يہ ہے کہ وہ صحيح ہے۔
س٧٩٢۔ ايک مرد مومن نے مجھ سے بتايا کہ، اس نے رمضان سے دس روز پہلے شادي کي تھي اوراس نے يہ سنا تھا کہ ماہ رمضان ميں اذان صبح کے بعد مجنب ہونے والا اگر قبل از اذان ظہر غسل کرلے تو اس کا روزہ صحيح رہے گا۔ اس کا خيال تھا کہ يقيني طور پر حکم يہي ہے۔ لہذا اس خيال کے تحت وہ بعد از اذان صبح اپني زوجہ سے جماع کرتا تھا بعد ميں اس پر واضح ہوا کہ وہ مسئلہ غلط تھا ۔ اب اس کي ذمہ داري کيا ہے؟
ج۔ اذان صبح کے بعد عمداً مجنب ہونے والے کا حکم وہي ہے جو عمداً افطار کرنے والے کا ہے۔ اس پر قضا و کفارہ دونوں واجب ہيں۔
س٧٩٣۔ ايک مرد مومن ماہ رمضان ميں ايک صاحب کے يہاں مہمان ہوئے آدھي رات کو محتلم ہوگئے ۔ ان کے پاس مہمان ہونے کي وجہ سے زائد لباس نہيں تھا لہذا روزے سے بچنے کے لئے سفر کا ارادہ کرليا اور اذان صبح کے بعد کچھ کھائے پئيے بغير سفر پر نکل پڑے اب سوال يہ ہے کہ قصد سفر اس شخص کو کفارہ سے بچاسکتا ہے يا نہيں؟
ج۔ جب اس کو معلوم تھا کہ مجنب ہے اور اذان صبح سے قبل غسل يا تيمم نہيں کيا تو پھر نہ رات ميں قصد سفر کفارہ سے بچاسکتا ہے اور نہ ہي دن ميں سفر کرنے سے کفارہ ساقط ہوسکتا ہے۔
س٧٩٤۔ جس شخص کے پاس پاني نہ ہو يا تنگي وقت کے علاوہ کوئي اور عذر ہو جس کي وجہ سے غسل جنابت نہ کرسکتا ہو تو کيا ماہ مبارک کي راتوں ميں عمداً اپنے کو مجنب کرسکتا ہے؟
اگر فريضہ تيمم ہو اور تيمم کے لئے وقت بھي کافي ہو تو اپنے کو مجنب کرنا جائز ہے۔
س٧٩٥۔ ايک شخص رمضان کي راتوں ميں اذان صبح سے پہلے بيدار ہوا مگر وہ متوجہ نہيں ہوا کہ محتلم ہے لہذا پھر سوگيا۔ اذان کے درميان آنکھ کھلي تو اپنے آپ کو محتلم پايا اور يہ بھي يقين ہے کہ اذان سے قبل محتلم ہوا ہے تو ايسي صورت ميں روزہ کا کيا حکم ہے؟
ج۔ اگر اذان سے قبل اپنے احتلام کي طرف متوجہ نہيں تھا تو اس کا روزہ صحيح ہے۔
س٧٩٦۔ اذان صبح کے بعد بيدار ہونے والا اگر اپنے کو محتلم پائے اور دوبارہ طلوع آفتاب تک نماز صبح پڑھے بغير سوجائے اور اذان ظہر کے بعد غسل کرکے ظہرين بجالائے تو اس کے روزے کا کيا حکم ہے؟
ج۔ اس کا روزہ صحيح ہے اور ظہر تک غسل جنابت کي تاخير اس کے لئے مضر نہيں ہے۔
س٧٩٧۔ اگر مکلف ماہ مبارک رمضان ميں اذان صبح سے پہلے بيدار ہو اور شک کرے کہ کہيں محتلم تو نہيں ہے ليکن اپنے شک کو اہميت نہ ديتے ہوئے دوبارہ سوجائے اذان صبح کے بعد جب اٹھے تو اپنے کو محتلم پائے اور اس کو يقين بھي ہو کہ اذان سے پہلے محتلم ہوا ہے تو اس کے روزہ کا کيا حکم ہے؟
ج۔ اگر پہلي مرتبہ اٹھنے کے بعد احتلام کي کوئي علامت نہ ديکھے صرف احتلام کا شک ہي ہو اور اپني حالت کي تفتيش کے بغير سوجائے اور اذان کے بعد اٹھے تو ايسي صورت ميں روزہ صحيح ہے خواہ بعد ميں يہ ثابت کيوں نہ ہوجائے کہ اذان سے قبل محتلم ہوا تھا۔
س٧٩٨۔ اگر ماہ مبارک ميں کسي نے نجس پاني سے غسل کيا اور ايک ہفتہ بعد اس کو پاني کي نجاست کا علم ہوا تو اس مدت ميں اس کي نما زو روزوں کا کيا حکم ہے۔
ج۔ نما زتو باطل ہے اس کي قضا کرے گا ليکن روزہ صحيح ہے۔
س٧٩٩۔ ايک شخص جب پيشاب کرتا ہے تو گھنٹہ بھر يا اس سے زيادہ دير تک پيشاب کے قطرے ٹپکتے رہتے ہيں۔ اسي طرح جب رمضان کي بعض راتوں ميں ايک گھنٹہ اذان سے قبل مجنب ہوتا ہے تو احتمال يہ رہتا ہے کہ پيشاب کے ساتھ مني بھي خارج ہورہي ہے ۔ ايسے ميں طہارت کے ساتھ روزہ شروع کرنے کے لئے اس کي کيا ذمہ داري ہے؟
ج۔ اگر اذان صبح سے قبل تيمم کرلے تو روزہ صحيح ہے چاہے غسل کے بعد بلا اختيار مني خارج کيوں نہ ہو۔
س٨٠٠۔ اگر کوئي شخص اذان صبح سے قبل يا اس کے بعد سوجائے اور جب بعد اذان بيدار ہو تو اپنے کو محتلم پائے، يہ شخص کب تک غسل ميں تاخير کرسکتا ہے ؟
ج۔ مفروضہ سوال کي روشني ميں جنابت اس دن کے روزہ کے لئے مضر نہيں ہے ليکن نماز کے لئے غسل واجب ہے لہذا وقت نماز ميں تاخير کرسکتا ہے۔
س٨٠١۔ اگر رمضان يا کسي اور روزے کے لئے غسل جنابت بھول جائے اور دن ميں کسي وقت ياد آئے تو اس کے روزے کا کيا حکم ہے
ج۔ اگر ماہ مبارک کے روزوں کے لئے اذان صبح سے پہلے غسل جنابت بھول جائے اور جنابت کي حالت ميں صبح کردے تو اس کا روزہ باطل ہے ۔ اور احتياط واجب يہ ہے کہ رمضان کے قضا روزے کے لئے بھي يہي حکم ہے۔ ليکن دوسرے روزے غسل جنابت کي فراموشي سے باطل نہيں ہوتے۔

 


استمنائ کے احکام
 


س٨٠٢۔ تقريبا سات سال قبل ميں نے اپنے رمضان مبارک کے کچھ روزوں کو استمنائ سے باطل کيا مجھے ان دنوں کي تعداد ياد نہيں ہے کہ ميں نے ماہ مبارک کے تين مہينوں ميں کتنے روزے توڑے ہيں ليکن ميرا خيال ہے کہ ٢٥، ٣٠ دن سے کم بہرحال نہيں ہے، اب ميرا شرعي فريضہ کيا ہے براہ کرم کفارہ کي قيمت بھي معين فرمائيں؟
ج۔ استمنائ ايک فعل حرام ہے۔ اس عمل سے روزہ باطل کرنے پر دو کفارے واجب ہيں ۔ يعني ساٹھ روزے رکھنا اور ساٹھ مسکينوں کو کھانا کھلانا۔ کھانا کھلانے کے بجائے يہ ممکن ہے کہ آپ ساٹھ آدميوں کو عليحدہ عليحدہ ايک مد طعام دے ديں۔ ليکن نقد رقم کو کفارہ ميں شمار نہيں کيا جائے گا البتہ نقد پيسہ اگر فقير کو ديا جائے کہ وہ آپ کا نائب بن کر طعام خريدے اور بعد ميں اس کو کفارہ ميں قبول کرے تو اس ميں کوئي حرج نہيں ہے۔ چونکہ طعام کفارہ کي قيمت کي تعيين چاول ، گيہوں يا دوسرے کھانوں کي جنس کے تابع ہے جسے آپ کفارہ کے طور پر دينا چاہتے ہيں۔ لہذا قيمت بھي اسي اعتبار سے کم و زيادہ ہوگي۔
رہ گيا باطل روزوں کي تعداد کا تعين، جن کو آپ نے استمنائ کے ذريعہ باطل کيا ہے تو ان کي قضا اور کفارہ دينے ميں آپ کے لئے ان کي يقيني مقدار پر اکتفائ کرنا جائز ہے۔
س٨٠٣۔ اگر مکلف جانتا ہو کہ استمنائ سے روزہ باطل ہوجاتا ہے اس کے باوجود وہ جان بوجھ کر اس کا مرتکب ہوجائے تو کيا اس پر دوہرا کفارہ واجب ہے؟ اور اگر اسے علم نہ ہو کہ استمنائ سے روزہ باطل ہوتا ہے تو اس وقت اس کا حکم کيا ہے؟
ج۔ دونوں صورتوں ميں اگر استمنائ عمداً کيا ہے تو ا س پر دوہرے کفارے واجب ہيں۔
س٨٠٤۔ ميں رمضان المبارک ميں ايک نامحرم عورت سے فون پر بات کررہا تھا گفتگو کے دوران جو تصورات پيدا ہوئے اس سے بے اختيار مني خارج ہوگئي جبکہ خروج مني کا کوئي سبب نہيں تھا اور نہ ہي گفتگو لذت و شہوت کي نيت سے کي گئي تھي۔ برائے مہرباني يہ فرمائيے کہ ميرا روزہ باطل ہے يا نہيں؟ اور اگر باطل ہے تو مجھ پر کفارہ بھي واجب ہے يا نہيں؟
ج۔ اگر اس سے قبل عورتوں سے بات کرتے وقت مني خارج نہيں ہوتي تھي اور جس گفتگو ميں مني خارج ہوئي وہ بھي لذت و شہوت کي نيت سے نہ رہي ہو اس کے باوجود غير اختياري طور پر مني نکل جائے تو اس سے روزہ باطل نہيں ہوتا اور آپ پر قضا و کفارہ بھي واجب نہيں ہے۔
س٨٠٥۔ ايک شخص برسوں سے ماہ مبارک رمضان او ر اس کے علاوہ استمنائ کا مرتکب ہوتا رہا اس کے نماز روزہ کا کيا حکم ہے؟
ج۔ استمنائ مطلقاً حرام ہے اور اگر مني خارج ہوجائے تو غسل جنابت واجب ہے اور اگر روزہ کي حالت ميں استمنائ کيا جائے تو وہ حرام چيز سے روزہ توڑنے کے حکم ميں ہے۔ اب اگر غسل جنابت يا تيمم کے بغير نمازيں پڑھيں يا روزے رکھے ہوں تو دونوں باطل ہيں اور دونوں کي قضا واجب ہے۔
س٨٠٦۔ کيا شوہر کے لئے بيوي کے ہاتھوں استمنائ کرانا جائز ہے اور کيا اس سلسلہ ميں جماع اور غير جماع کے احکام ميں کوئي فرق ہے؟
ج۔ شوہر کا زوجہ سے خوش فعلي کرنا اور اپنے بدن کو اس کے بدن سے مس کرنا يہاں تک کہ مني نکل آئے اور يوں ہي زوجہ کا شوہر کے آلہ تناسل سے کھيلنا يہان تک کہ مني خارج ہوجائے ، اس ميں کوئي حرج نہيں ہے اور اس کو حرام استمنائ نہيں کہتے۔
س٨٠٧۔ اگر کسي غير شادي شدہ کو اپني مني کي جانچ کرانا ہو اور مني کا اخراج بغير استمنائ کے ممکن نہ ہو تو کيا استمنائ کرسکتا ہے؟
ج۔ اگر علاج اسي پر موقوف ہے تو کوئي مضائقہ نہيں ہے۔
س٨٠٨۔ بعض طبي مراکز استمنائ کے ذريعہ مرد سے مني لينا چاہتے ہيں تاکہ جانچ کرسکيں کہ يہ شخص جماع پر قادر ہے يا نہيں۔ کيا يہ استمنائ جائز ہے؟
ج۔ اس کے لئے استمنائ شرعاً جائز نہيں ہے خواہ قوت توليد کي تحقيق کي خاطر ہي کيوں نہ ہو ليکن اگر شادي کے بعد اولاد نہ ہورہي ہو اور اس کي تحقيق استمنائ پر منحصر ہو تو کوئي مضائقہ نہيں ہے۔
س٨٠٩۔ کيا پاخانے کے مقام ميں انگلي سے شہواني غدود کو حرکت ميں لا کر مني خارج کرنا جائز ہے جبکہ ايسي حرکت ميں نہ بدن ميں سستي پيدا ہوتي ہے اور نہ مني اچھل کر نکلتي ہے؟
ج۔ يہ فعل بذاتہ جائز نہيں ہے کيونکہ يہ حرام استمنائ کے زمرے ميں آتا ہے۔
س٨١٠۔ جس شخص کي زوجہ دور ہو ، کيا وہ اپني شہوت کو بھڑکانے کے لئے اس کا تصور کرسکتا ہے؟
ج۔ اگر شہواني تصورات اخراج مني کي خاطر ہوں يا تصور کرنے والا جانتا ہو کہ ان شہواني تصورات سے مني خارج ہوجائے گي تو حرام ہے۔
س٨١١۔ ايک شخص نے ابتدائ بلوغ سے روزے رکھے ليکن روزوں کے درميان استمنائ کے ذريعہ اپنے کو مجنب کرتا رہا چونکہ وہ نہيں جانتا تھا کہ روزہ کے لئے غسل جنابت ضروري ہے ۔ لہذا حالت جنابت کرتا رہا چونکہ وہ نہيں جانتا تھا کہ روزہ کے لئے غسل جنابت ضروري ہے۔ لہذا حالت جنابت ميں روزے بھي رکھے آيا اس شخص پر صرف قضا ہے يا کفارہ بھي ؟
ج۔ سوال کي روشني ميں قضا و کفارہ دونوں واجب ہوں گے۔
س٨١٢۔ ايک روزہ دار نے شہوت ابھارنے والے منظر کو ديکھا جس کے بعد مجنب ہوگيا ۔ کيا اس کا روزہ باطل ہے ؟
ج۔ اگر اس ارادہ سے ديکھے کہ مني خارج ہوجائے يا وہ اپنے بارے ميں جانتا ہو کہ ديکھنے سے مجنب ہوجائے گا يا اس کي عادت يہ ہو کہ ايسا منظر ديکھنے سے مجنب ہوجاتا ہو اورعمداً ديکھے اور مجنب ہوجائے تو وہ عمداً مجنب ہونے والے کے حکم ميں ہے۔
 

 

احکام افطار
 


س٨١٣۔ آيا سرکاري اور عوامي اجتماعات وغيرہ ميں روزہ افطار کے لئے اہل سنت کي پيروي جائز ہے اور اگر مکلف يہ ديکھے کہ ان کي پيروي نہ تقيہ کے مصاديق ميں سے ہے اور نہ کسي اور وجہ سے ضروري ہے تو اس کي ذمہ داري کيا ہے؟
ج۔ افطار ميں غيروں کے وقت کا اتباع جائز نہيں ہے ۔ جب تک شرعي طور پر دليل سے يا ذاتي وجدان سے رات کے داخل ہونے اور دن کے خاتمہ کا يقين نہ ہوجائے اختياري طور سے افطار کرنا جائز نہيں ہے۔
س٨١٤۔ ميں روزے سے تھا ميري والدہ نے مجھے کھانے يا پينے پر مجبور کرديا تو کيا اس سے ميرا روزہ باطل ہوگيا؟
ج۔ کھانے پينے سے روزہ باطل ہوجاتا ہے خواہ کسي کے شديد اصرار پر ہو کسي کے دعوت پر۔
س٨١٥۔ اگر کوئي زبردستي کسي روزہ دار کے منھ ميں کوئي چيز ڈال دے يا اس کے سر کو پاني ميں ڈبو دے يا مجبور کرے کہ اگر روزہ نہيں توڑا تو تمہاري جان و مال کو خطرہ ہے، تو اگر وہ خطرہ ٹالنے کے لئے کچھ کھالے تو کيا اس کا روزہ باطل ہوجائے گا؟
ج۔ روزہ دار کے اختيار کے بغير زبردستي اس کے منہ ميں کوئي چيز ڈالنے يا پاني ميں اس کا سر ڈبونے سے روزہ باطل نہيں ہوتا ليکن اگر کسي کے مجبور کردينے پر خود کچھ کھالے تو روزہ باطل ہوجاتا ہے۔
س٨١٦۔ اگر روزہ دار کو معلوم نہ ہو کہ زوال سے پہلے حد ترخص تک نہ پہنچا تو افطار کرنا جائز نہيں ہے اور وہ اپنے کو مسافر تصور کرتے ہوئے حد ترخص سے پہلے ہي کچھ کھاپي لے تواس شخص کا کيا حکم ہے کيا اس پر قضا واجب ہے يا اس کا حکم کچھ اور ہے؟
ج۔ اس کا حکم وہي ہے جو عمداً افطار کرنے والے کا ہے۔
س٨١٧۔ زکام ميں مبتلا ہونے کي وجہ سے ميرے حلق ميں تھوڑا بلغم جمع ہوگيا ، جسے ميں تھوکنے کے بجائے نگل گيا تو ميرا روزہ صحيح ہے يا نہيں؟
نيز ميں ماہ رمضان کے کچھ دنوں اپنے عزيز کے گھر رہا اور شرم و حيائ اور زکام کي وجہ سے غسل جنابت کے بدلے تيمم کرتا رہا اور ظہر تک غسل نہيں کرسکا۔ چند روز تک يہي سلسلہ چلتا رہا۔ اب سوال يہ ہے کہ ان دنوں کے روزے صحيح ہيں يا نہيں اور صحيح نہ ہونے کي صورت ميں کيا قضا کے ساتھ کفارہ بھي واجب ہے؟
ج۔ آپ نے جو بلغم اور ناک کي رطوبت نگلي ہے اس سے آپ کے روزے پر کوئي اثر نہيں پڑا۔ اگرچہ احتياط مستحب يہ ہے کہ جب بلغم دہن کي فضا تک آجائے اور آپ اسے نگل ليں تو اس روزے کي قضا کي جائے گي۔
اب رہا روزے کے دن طلوع فجر سے پہلے آپ کا غسل جنابت نہ کرنا، اور اس کے بدلے تيمم کرنا ۔ اگر يہ عذر شرعي کي وجہ سے تھا يا آپ نے آخر وقت کي تنگي کي وجہ سے تيمم کيا تھا تو اس تيمم کے ساتھ آپ کا روزہ صحيح تھا اور اگر ايسا نہيں تھا تو ان دنوں ميں آپ کے روزے باطل ہيں۔
س٨١٨۔ ميں لوہے کي کان ميں ملازمت کرتا ہوں اور مجھے اپني ملازمت کے پيش نظر ہر روز اس ميں اترنا پڑتا ہے اور مشينوں سے کام کرتے وقت غبار منھ ميں جاتا ہے اور پورے سال يہي سلسلہ جاري رہتاہے ۔ ميري ذمہ داري کيا ہے ؟ ميرا روزہ اس حالت ميں صحيح ہے يا نہيں؟
ج۔ گرد و غبار کا روزے کي حالت ميں نگلنا، روزہ کو باطل کرديتا ہے۔ اس سے پرہيز واجب ہے۔ ليکن صرف گرد و غبار کے ناک اور منھ ميں جانے سے روزہ باطل نہيں ہوتا جب تک اسے نگلا نہ جائے۔
س٨١٩۔ اگر روزہ دار ايسا انجيکشن لگوائے جس ميں غذائيت اور وٹامن ہوں تو اس کے روزے کا کيا حکم ہے؟
ج۔ اگر اسے رگ ميں انجيکشن لگوانا ہو تو احتياط واجب يہ ہے کہ روزہ دار اس سے پرہيز کرے اور اگر ايسا کرليا ہے تو احتياط واجب يہ ہے کہ اس روزے کي قضا کرے۔
س٨٢٠۔ ايک شخص نے رمضان کے روزے رکھے اور روزوں کے درميان ايسے کام انجام دئيے جن کے بارے ميں يہ اعتقاد رکھتا تھا کہ يہ روزوں کے لئے مضر ہيں۔ليکن رمضان کے بعد ثابت ہوا کہ وہ مضر نہيں تھے۔ اس کے روزہ کا کيا حکم ہے؟
ج۔ اگر روزہ توڑنے کا ارادہ نہيں کيا اور نہ روزے توڑنے والي چيز کا استعمال کيا تو روزہ صحيح ہے۔
 

 

احکام کفارہ
 


س٨٢١۔ کيا فقير کو ايک مد ( ٧٥٠ گرام) طعام کي قيمت ديدينا کہ وہ اپنے لئے کھانے کا انتظام کرلے کافي ہے؟
اگر اطمينان ہو کہ فقير و کالۃً اس کي طرف سے کھانے کو خريد کر پھر خود اس کو کفارہ کے عنوان سے قبول کرلے گا تو کوئي مضائقہ نہيں ہے۔
س٨٢٢۔ اگر کوئي شخص چند مسکينوں کو کھانا کھلانے پر وکيل ہو تو کيا وہ مال کفارہ ميں سے پکانے کي مزدوري اور اپني اجرت لے سکتاہے؟
ج۔ کام اور پکانے کي اجرت کا مطالبہ کرنا اس کے لئے جائز ہے ليکن يہ جائز نہيں ہے کہ مال کفارہ سے اس کا حساب کرے۔
س٨٢٣۔ ايک خاتون حاملگي يا زمانہ ولادت کے قريب ہونے کي وجہ سے روزہ رکھنے پر قادر نہيں تھيں اور يہ مسئلہ جانتي تھيں کہ ولادت کے بعد آنے والے رمضان سے پہلے قضا کرني ہوگي ليکن اس نے چند برسوں تک جان بوجھ کر يا غفلت کي وجہ سے قضا نہيں کي کيا اس پر صرف اسي سال کا کفارہ واجب ہے يا جتنے سال اس نے روزے رکھنے ميں تاخير کي ان سب کا کفارہ دينا واجب ہے؟ اس کي بھي وضاحت فرماديں کہ عمدي اور غير عمدي ميں کيا فرق ہے؟
ج۔ تاخير چاہے جتنے سال کي ہو اس کا فديہ صرف ايک مرتبہ واجب ہے۔ فديہ سے مراد ہر روزے کے بدلے ايک مد طعام ہے ۔ اور يہ بھي اس وقت ہے جب قضا کي ادائيگي سستي کي وجہ سے اور عذر شرعي کے بغير ہو ۔ ليکن اگر تاخير ايسے عذر کي وجہ سے ہو جو روزہ کے صحيح ہونے ميں مانع ہو تو فديہ بھي نہيں ہے۔
س٨٢٤۔ ايک خاتون بيماري کي وجہ سے رمضان کا روزہ نہيں رکھ سکيں اور آنے والے رمضان تک ادا کرنے پر قادر بھي نہيں تھيں ايسي حالت ميں خود مريضہ پر کفارہ واجب ہے يا ان کے شوہر پر؟
ج۔ مفروضہ سوال کي روشني ميں ہر دن کے بدلے ايک مد طعام خود مريضہ پر واجب ہے۔ اس کے شوہر پر نہيں۔
س٨٢٥۔ ايک شخص کے ذمہ رمضان کے دس روزے قضا تھے اس نے شعبان کي بيسويں سے اس قضا کو ادا کرنا شروع کيا اب يہ شخص کيا زوال سے قبل يا زوال کے بعد عمداً افطار کرسکتا ہے؟ اور اگر وہ زوال سے پہلے يااس کے بعد افطار کرلے تو مقدار کفارہ کيا ہوگي؟
ج۔ مذکورہ سوال کي روشني ميں اس کے لئے عمداً افطار کرنا جائز نہيں ہے۔ اور اگر زوال سے پہلے عمداً افطار کرے تو اس پر کفارہ نہيں ہے۔ ليکن زوال کے بعد افطار کرنے پر کفارہ ميں دس مسکينوں کو کھانا کھلانا ہوگا اور اگر اس پر قادر نہيں ہے تو اس پر تين روزے واجب ہوں گے۔
س٨٢٦۔ ايک عورت دو سال ميں دو مرتبہ حاملہ ہوئي جس کي وجہ سے روزہ نہيں رکھ سکي اب وہ روزہ رکھنے پر قادر ہے۔ اس کے روزوں کا کيا حکم ہے؟ کيا اس پر کفارہ جمع واجب ہے يا صرف قضا واجب ہے اور اس نے جو تاخير کي ہے اس کا حکم کيا ہے؟
ج۔ اگر عذر شرعي کي وجہ سے روزے ترک ہوئے ہيں تو اس پر صرف قضا واجب ہے۔ اور اگر افطار کي وجہ يہ تھي کہ روزے سے حمل يا بچے کو ضرر پہنچنے کا ڈر تھا تو ايسي صورت ميں قضا کے ساتھ ہر روزے کے بدلے ايک مد طعام بھي فقير کو دينا ہوگا۔
س٨٢٧۔ کيا روزوں کے کفارے ميں قضا اور کفارہ کے درميان ترتيب واجب ہے ؟
ج۔ واجب نہيں ہے۔
 

 

احکام قضا
 


س٨٢٨۔ ميں نے ديني امور کي انجام دہي کے لئے ماہ مبارک ميں ١٨ دن سفر ميں گذارے توميري تکليف شرعي کيا ہے اور کيا مجھ پر قضا واجب ہے؟
ج۔ سفر کي وجہ سے ماہ رمضان کے جو روزے چھوٹے ہيں ان کي قضا واجب ہے۔
س٨٢٩۔ اگر اجرت پر روزے رکھنے والا زوال کے بعد افطار کرے تو اس پر کفارہ واجب ہے يا نہيں؟
ج۔ کفارہ واجب نہيں۔
س٨٣٠۔ جن افراد نے مذہبي امور کي انجام دہي کي وجہ سے رمضان ميں سفر کيا اور روزے نہيں رکھے اب جبکہ کئي برس گذرنے کے بعد انہوں نے روزہ رکھنے کاارادہ کيا ہے تو کيا قضا کے ساتھ ساتھ ان پر کفارہ بھي واجب ہے؟
ج۔ اگر دوسرے رمضان تک عذر شرعي باقي رہنے کي وجہ سے قضا روزے نہ رکھ پائے ہوں تو ان کے لئے چھوٹے ہوئے روزوں کي قضا ہي کافي ہے ۔ ہر روزے کے لئے ايک مد طعام دينا واجب نہيں ہے، اگرچہ احتياط مستحب يہ ہے کہ روزے بھي رکھيں اور طعام فديہ بھي ديں، ليکن تاخير قضا کي وجہ اگر سستي ہو تو ايسي صورت ميں ان پر قضا و فديہ دونوں واجب ہيں۔
س٨٣١۔ ايک شخص نے جہالت کي وجہ سے دس سال نہ نماز پڑھي اور نہ روزے رکھے اب اس نے توبہ کي ہے اللہ کي طرف رجوع کيا ہے اور ان روزوں اور نمازوں کي قضا کا ارادہ کرليا ہے ليکن في الوقت وہ تمام روزوں کي قضا پر قدرت نہيں رکھتا اور نہ کفارہ کے لئے مال رکھتا ہے تو کيا ايسي صورت ميں صرف استغفار پر اکتفائ کرسکتا ہے؟
ج۔ چھوٹے ہوئے روزوں کي قضا بہرحال معاف نہيں ہے ليکن کفارے ميں اگر دو ماہ کے روزے اور ساٹھ مسکين کے کھانا کھلانے پر قادر نہيں ہے تو بقدر امکان فقيروں کو صدقہ دے۔
س٨٣٢۔ اگر آنے والے رمضان تک کسي نے روزوں کي قضا اس وجہ سے ادا نہ کي ہو کہ وہ آنے والے رمضان سے پہلے وجوب قضا سے بے خبر تھا تو اس وقت اس کي شرعي ذمہ داري کيا ہے؟
ج۔ آنے والے رمضان سے پہلے وجوب قضا کا علم نہ ہونے کي صورت ميں بھي تاخير قضا کا فديہ اد اکرنا ہوگا۔
ج۔ ماہ رمضان کے چھوٹے ہوئے روزوں کي قضا واجب ہے اور اگر عذر شرعي کے بغير عمداً چھوڑا ہے تو قضا کے ساتھ کفارہ بھي واجب ہے اور ہر روزے کا کفارہ ساٹھ دن کے روزے يا ساٹھ مسکينوں کو کھانا کھلانا ہے۔ يا ساٹھ مسکينوں ميں سے ہر ايک کو ايک مد طعام دينا ہے۔
س٨٣٤۔ ميں نے تقريباً ايک ماہ اس نيت سے روزے رکھے کہ اگر ميرے ذمہ کچھ روزے ہيں تو يہ ان کي قضا ہے ورنہ صرف خدا کي قربت کي نيت سے ہے ۔ کيا يہ ايک مہينہ ان قضا روزوں ميں حساب ہوگا جو ميري گردن پرہيں؟
ج۔ اگر آپ کي نيت يہ رہي ہو کہ اس وقت ميرے ذمہ واجب و سنت جو روزے ہيں ميں ان کو ادا کررہا ہوں اور اتفاق سے آپ کے ذمہ روزوں کي قضا تھي تو يہ روزے ان ميں محسوب ہوجائيں گے۔
س٨٣٥۔ اگر قضا روزوں کي تعداد معلوم نہ ہو اور اس فرض کے ساتھ کہ اس کے ذمہ قضا واجب ہے ، مستحبي روزہ رکھے تو کيا يہ روزہ واجب روزوں ميں محسوب ہوگا اور اگر اس نے اس نيت سے روزہ رکھا ہو کہ اس کے ذمہ قضا روزہ نہيں ہے تو کيا حکم ہے؟
ج۔ مستحب کي نيت سے رکھا جانے والا روزہ قضا روزوں ميں محسوب نہيں ہوگا۔
س٨٣٦۔ اگر کوئي شخص جاہل مسئلہ ہونے کي بنائ پر بھوک و پياس کے سبب عمداً افطار کرے تو کيا اس پر قضا کے ساتھ کفارہ بھي واجب ہے؟
ج۔ اگر مسئلہ سے لاعلمي و کوتاہي کي وجہ سے ہو تو احتياط واجب يہ ہے کہ قضا کے ساتھ کفارہ بھي ادا کرے۔
س٨٣٧۔ اگر کوئي شخص ابتدائے بلوغ ميں ضعف و ناتواني کي وجہ سے روزے نہ رکھ سکے تو کيا اس پر صرف قضا واجب ہے يا قضا کے ساتھ کفارہ بھي واجب ہے؟
ج۔ اگر روزہ اس پر حرج و ضرر کا باعث نہ تھا اس کے باوجود اس نے عمداً افطار کيا ہو تو قضا کے ساتھ کفارہ بھي واجب ہے۔
س٨٣٨۔ جس کو ترک شدہ روزے اور نمازوں کي تعداد معلوم نہ ہو اور روزوں کے بارے ميں يہ بھي معلوم نہ ہو کہ عذر شرعي سے چھوٹے ہيں يا عمداً ترک ہوئے ہيں تو اس انسان کا فريضہ کيا ہے؟
ج۔ اس تعداد پر اکتفائ کرنا جائز ہے جس سے يقين پيدا ہوجائے کہ قضا نمازيں اور روزے ادا ہوگئے۔ اور اگر شک ہو کہ عمداً افطار کيا تھا يا نہيں تو کفارہ واجب نہيں ہے۔
س٨٣٩۔ اگر کوئي شخص رمضان ميں روزے رکھتا ہو ليکن کسي روز سحر کھانے کے لئے نہ اٹھ پايا جس کا نتيجہ يہ ہوا کہ مغرب تک روزہ کو پورا نہ کرسکا اور دن ميں اس کو ايک حادثہ پيش آگيا اور اس نے افطار کرليا۔ کيا اس شخص پر قضا و کفارہ دونوں واجب ہيں ؟
ج۔ گر اس نے روزہ رکھا ليکن بعد ميں روزہ بھوک پياس وغيرہ کي وجہ سے مشقت کا سبب بن گيا اور افطار کرلياتو اس پر صرف قضا واجب ہے کفارہ نہيں۔
س٨٤٠۔ اگر مجھے شک ہو کہ اپنے قضا روزے ادا کئے ہيں يا نہيں تو ميري شرعي ذمہ داري کيا ہے؟
ج۔ اگر آپ کو دونوں کي قضا کا يقين تھا تو ان کے ادا کرنے کا يقين پيدا کرنا بھي واجب ہے۔
س٨٤١۔ اگر کسي شخص نے ابتدائے بلوغ کے سال گيارہ روزے رکھے ايک روزہ ظہر کے وقت توڑ ديا اور اٹھارہ روزے چھوڑ دئيے اور ان اٹھارہ روزوں کے بارے ميں نہيں جانتا تھا کہ اس پر کفارہ واجب ہوجائے گا تو اب اس کا شرعي حکم کيا ہے؟
ج۔ اگر رمضان کا روزہ عمداً اور اختيار سے توڑا ہے تو خواہ کفارہ سے آگاہ ہو يا نہ ہو قضا کے ساتھ کفارہ بھي واجب ہے۔
س٨٤٢۔ اگر ڈاکٹر کي تجويز يہ ہو کہ روزہ مضر ہے اور مريض نے اس پر اعتبار کرتے ہوئے روزہ نہيں رکھا برسوں کے بعد معلوم ہوا کہ اس طبيب کي تشخيص غلط تھي تو کيا اس پر قضا اور کفارہ واجب ہے؟
ج۔ اگر ماہر و امين ڈاکٹر کے کہنے سے خوف ضرر پيدا ہوجائے ياکوئي معقول وجہ ہو جس کي وجہ سے روزہ ترک کيا ہو تو صرف قضا واجب ہے۔
 

 

روزہ کے متفرق احکام
 


س٨٤٣۔ اگر عورت کو نذر معين کے روزہ کے درميان خون حيض آجائے تو اس کے روزہ کا کيا حکم ہے؟
ج۔ حيض آنے سے روزہ باطل ہوجائے گا اور طہارت کے بعد اس پر قضا واجب ہے۔
س٨٤٤۔ ايک شخص ’’ دير ‘‘ کي بندرگاہ کا رہنے والا ہے۔ اس نے يکم رمضان سے ستائيسويں رمضان تک روزے رکھے۔ اٹھائيسويں کي صبح کو دبئي کے لئے روانہ ہوا اور انتيسويں کو وہاں پہنچ گيا۔دبئي ميں اس دن عيد تھي تو کيا وطن واپس آنے کے بعد اس پر فوت شدہ روزے کي قضا واجب ہے؟ اب اگر اس نے ايک دن کي قضا کي تو جس دن وہ دبئي پہنچ گيا تھا وہاں عيد کا اعلان ہوچکا تھا۔ ايسے شخص کا حکم کيا ہے؟
ج۔ اگر عيد کا اعلان ٢٩ ويں رمضان کو شرعي ضابطوں کے مطابق تھا تو اس دن کے روزہ کي قضا واجب نہيں ہے ليکن اس سے يہ واضح ہوجائے گا کہ ابتدائے ماہ کے روزے اس سے چھوٹے ہيں تو اس پر واجب ہے کہ يقيني طور سے چھوٹے ہوئے روزوں کي قضا کرے۔
س٨٤٥۔ اگر روزہ دار نے اپنے شہر ميں افطار کيا اور پھر کسي ايسے شہر کا سفر کيا جہاں ابھي سورج غروب نہيں ہوا ہے تو اس کے روزے کا کيا حکم ہے ۔ کيا يہ شخص اس شہر کے غروب آفتاب سے قبل اس شہر ميں کھاپي سکتا ہے؟
ج۔ روزہ صحيح ہے اور جب اپنے شہر ميں غروب آفتاب کے بعد افطار کرچکا ہے تو جس شہر ميں ابھي غروب نہيں ہوا ہے وہاں کھاپي سکتا ہے۔
س٨٤٦۔ ايک شہيد نے اپنے دوست کو وصيت کي کہ ميري شہادت کے بعد احتياطاً کچھ روزے ميري طرف سے رکھ لينا، شہيد کے ورثائ ان باتوں کے پابند نہيں ہيں اور نہ ہي ان کو اس پر آمادہ کيا جاسکتا ہے جبکہ شہيد کے دوست کے لئے روزہ رکھنا سخت ہے کيا اس کا کوئي اور حل ہے؟
ج۔ اگر شہيد نے دوست سے وصيت کي تھي تو شہيد کے ورثائ سے اس کا کوئي تعلق نہيں ہے۔ اب اگر دوست پر نيابتاً روزہ رکھنا باعث مشقت ہے تو اس پر سے تکليف ساقط ہے۔
س٨٤٧۔ ميں کثير الشک بلکہ کثير الوسواس ہوں۔ فروعي مسائل ميں تو بہت زيادہ شکي ہوں۔ في الحال مجھے شک ہے کہ رمضان ميں جو روزے رکھے تھے کہيں ايسا تو نہيں کہ جو گرد و غبار منہ ميں گيا تھا اس کو نگل ليا ہو۔ يا جو پاني منھ ميں ليا تھا اس کو ٹھيک سے تھوکا تھا يا نہيں ۔ کيا اس شک کے بعد روزہ صحيح ہے؟
ج۔ اس سوال کي روشني ميں روزہ صحيح ہے اور اس طرح کہ شک کي کوئي حيثيت نہيں ہے۔
س٨٤٨۔ کيا حديث کسائ معتبر ہے جس کي روايت حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ عليہا سے ہے اور روزوں ميں اس کي نسبت شہزادي ٴ کي طرف دي جاسکتي ہے؟
ج۔ اگر شہزادي ٴ کي طرف نسبت ’’ حکايت ‘‘ اور ان کتابوں کے ذريعہ ’’ نقل قول ‘‘ ہو جن ميں حديث کسائ منقول ہے تو کوئي مضائقہ نہيں ہے۔
س٨٤٩۔ ميں نے بعض علمائ اور غير علمائ سے يہ سنا ہے کہ اگر کسي کو مستحبي روزے ميں کسي نے دعوت دي تو اس کي دعوت کو قبول کرتے ہوئے کھاپي لينے سے روزہ باطل نہيں ہوتا اور ثواب بھي باقي رہتا ہے۔ آپ کا اس سلسلہ ميں کيا نظريہ ہے ؟
ج۔ مومن کي دعوت کو مستحب روزے ميں قبول کرنا رجحان شرعي رکھتا ہے اور اس کي دعوت پر کھاپي لينے سے روزہ تو باطل ہوجاتا ہے ليکن روزے کے اجر و ثواب سے محروم نہيں رہے گا۔
س٨٥٠۔ ماہ مبارک کے پہلے روز سے تيسويں روز تک کے لئے مخصوص دعائيں وارد ہوئي ہيں۔ اگر ان کي صحت ميں شک ہو تو ان کے پڑھنے کا کيا حکم ہے؟
ج۔ اگر يہ دعائيں اس نيت سے پڑھي جائيں کہ وارد ہوئي ہيں اور مطلوب ہيں تو ان کے پڑھنے ميں بہرحال کوئي مضائقہ نہيں ہے۔
س٨٥١۔ ايک شخص روزے رکھنے کے ارادے سے سوگيا ليکن سحر کے وقت کھانے کے لئے بيدار نہ ہوسکا ، جس کے سبب اس ميں روزہ رکھنے کي طاقت نہ رہي تو روزہ نہ رکھنے کا عذاب خود اس پر ہے يا اس شخص پر ہے جس نے اس کو بيدار نہيں کيا۔ اور کيا سحر کھائے بغير اس کا روزہ رکھنا صحيح ہے؟
ج۔ ناتواني کي وجہ سے روزہ افطار کرلينا اگرچہ سحر نہ کھانے کي وجہ سے ہو گناہ اور معصيت نہيں ہے۔ بہر حال نہ جگانے والے پر کوئي گناہ نہيں ہے اورسحر کھائے بغير روزہ رکھنا صحيح ہے۔
س٨٥٢۔ اگر کوئي شخص مسجد الحرام ميں اعتکاف کررہا ہو تو تيسرے دن کے روزے کا کيا حکم ہے؟
ج۔ اگر اعتکاف کرنے والا مسافر ہے اور مکہ مکرمہ ميں دس روز اقامت کا ارادہ رکھتاہے۔ يا سفر ميں روزہ رکھنے کي نذر کي ہے تو دو روز روزہ رکھنے کے بعد اعتکاف کو پورا کرنے کے لئے تيسرے دن کا روزہ واجب ہے۔ اور اگر دس روز اقامت کي نيت نہيں کي اور نہ سفر ميں روزہ رکھنے کي نذر کي تو اس کا سفر ميں روزہ رکھنا دوست نہيں ہے اور روزے کي صحت کے بغير اعتکاف صحيح نہيں ہے۔
 

 

رويت ہلال
 


س ٨٥٣۔ آپ جانتے ہيں کہ ابتدائ ماہ اور آخر ماہ ميں چاند حسب ذيل حالتوں ميں سے کسي ايک حالت ميں ہوتا ہے:
١۔ غروب آفتاب سے پہلے ( چاند) ہلال ڈوب جاتا ہے۔
٢۔ کبھي چاند اور سورج دونوں ايک ساتھ غروب ہوجاتے ہيں۔
٣۔ کبھي چاند آفتاب کے بعد غروب ہوتا ہے۔
مہرباني کرکے ان چند امور کي وضاحت فرمائيں:
الف ۔ مذکورہ تين حالتوں ميں سے وہ کون سي حالت ہے جس کو فقہي نقطہ نظر سے مہينے کي پہلي تاريخ مانا جائے گا۔
ب۔ اگر ہم يہ مان ليں کہ آج کے اليکٹرانک دور ميں مذکورہ تمام شکلوں کو دنيا کے آخري نقطے ميں دقيق اليکٹرانک نظام کے حساب سے ديکھ ليا جاتا ہے ، تو کيا اس نظام کے تحت ممکن ہے کہ پہلي تاريخ کے پہلے سے طے کرليا جائے يا آنکھ سے ہلال کا ديکھنا ضروري ہے؟
ج۔ اول ماہ کا معيار اس چاند پر ہے جو غروب آفتاب کے بعد غروب ہوتا ہے اور جس کو غروب سے پہلے عام طريقہ سے ديکھا جاسکتا ہو۔
س٨٥٤۔ اگر شوال کا چاند ملک کے کسي شہر ميں دکھائي نہيں ديا ليکن ريڈيو اور ٹي وي نے اول ماہ کا اعلان کرديا تو کيا يہ اعلان کافي ہے يا تحقيق ضروري ہے؟
ج۔ اگر رويت ہلال کا يقين ہوجائے يا اعلان رويت ولي فقيہہ کي طرف سے ہو تو پھر تحقيق کي ضرورت نہيں ہے۔
س٨٥٥۔ اگر رمضان کي پہلي تاريخ يا شوال کي پہلي تاريخ کا تعين بادل يا ديگر اسباب کي وجہ سے ممکن نہ ہو اور رمضان و شعبان کے تيس دن پورے نہ ہوئے ہوں تو کيا ايسي صورت ميں جبکہ ہم لوگ جاپان ميں ہوں، ايران کے افق پر عمل کرسکتے ہيں يا جنتري پر اعتماد کرسکتے ہيں؟
ج۔ اگر اول ماہ نہ چاند ديکھ کر ثابت ہو، چاہے ان قريبي شہروں کے افق ميں سہي جن کا افق ايک ہو، نہ دو شاہد عادل کي گواہي سے اور نہ حکم حاکم سے ثابت ہو تو ايسي صورت ميں احتياط واجب ہے کہ اول ماہ کا يقين حاصل کيا جائے۔ اور چونکہ ايران، جاپان کے مغرب ميں واقع ہے اس لئے جاپان ميں رہنے والوں کے لئے ايران ميں چاند کا ثابت ہوجانا کوئي اعتبار نہيں رکھتا۔
س٨٥٦۔ رويت ہلال کے لئے اتحاد افق کا معتبر ہونا شرط ہے يا نہيں؟
ج۔ کسي شہر ميں چاند کا ديکھا جانا اس کے ہم افق يا نزديک کے افق والے شہروں کے لئے کافي ہے اسي طرح مشرق ميں واقع شہروں کي رويت مغرب ميں واقع شہروں کے لئے کافي ہے۔
س٨٥٧۔ اتحاد افق سے کيا مراد ہے؟
ج۔ اس سے وہ شہر مراد ہيں جو ايک طول البلد پر واقع ہوں اور اگر دو شہر ايک طول البلد پر واقع ہوں تو ان کو متحد الافق کہا جاتا ہے ۔ يہاں طول البلد علم ہئيت کي اصطلاح کے اعتبار سے ہے۔
س٨٥٨۔ اگر ٢٩ تاريخ کو خراسان اور تہران ميں عيد ہو تو کيا بو شہر کے رہنے والوں کیلئے بھي افطار کرلينا جائز ہے جبکہ بو شہر اور تہران کے افق ميں فرق ہے؟
ج۔ اگر دونوں شہروں کے درميان اختلاف افق اتنا ہو کہ اگر ايک شہر ميں چاند ديکھا جائے تو دوسرے شہر ميں دکھائي نہ دے توايسي صورت ميں مغربي شہروں کي رويت مشرقي شہروں کے لئے کافي نہيں ہے کيونکہ مشرقي شہروں ميں سورج مغربي شہروں سے پہلے غروب ہوتا ہے۔ ليکن اس کے برخلاف اگر مشرقي شہروں ميں چاند دکھائي دے تو رويت ثابت و محقق ماني جائے گي۔
س٨٥٩۔ اگر ايک شہر کے علمائ کے درميان رويت ہلال کے ثابت ہونے ميں اختلاف ہوگيا ہو يعني بعض کے نزديک ثابت ہو اور بعض کے نزديک ثابت نہ ہو اور مکلف کي نظر ميں دونوں گروہ کے علمائ عادل اور قابل اعتماد ہوں تو اس کا فريضہ کيا ہے؟
ج۔ اگر اختلاف شہادتوں کي وجہ سے ہے يعني بعض کے نزديک چاند کا ہونا ثابت ہو اور بعض کے نزديک چاند کا نہ ہونا ثابت ہو، ايسي صورت ميں چونکہ دونوں شہادتيں ايک دوسرے سے متعارض ہيں لہذا قابل عمل نہيں ہوں گي۔ اس لئے مکلف پر واجب ہے کہ اصول کے مطابق عمل کرے۔ ليکن اگر اختلاف خود رويت ہلال ميں ہو يعني بعض کہيں کہ چاند ديکھا ہے اور بعض کہيں کہ چاند نہيں ديکھا ہے۔ تو اگر رويت کے مدعي دو عادل ہوں تو مکلف کے لئے ان کا قول دليل اور حجت شرعي ہے اور اس پر واجب ہے کہ ان کي پيروي کرے اسي طرح اگر حاکم شرع نے ثبوت ہلال کا حکم ديا ہو تو اس کا حکم بھي تمام مکلفين کے لئے شرعي حجت ہے اور ان پر واجب ہے کہ اس کا اتباع کريں۔
س٨٦٠۔ اگر ايک شخص نے چاند ديکھا اوراس کو علم ہو کہ اس شہر کا حکم شرعي بعض وجوہ کي بنا پر رويت سے آگاہ نہيں ہوپائے گا تو کيا اس شخص پر لازم ہے کہ حاکم کو رويت کي خبر دے؟
ج۔ خبر دينا واجب نہيں ہے بشرطيکہ نہ بتانے پر کوئي فساد نہ برپا ہو۔
س٨٦١۔ زيادہ تر فقہا افاضل کي توضيح المسائل ميں ماہ شوال کي پہلي تاريخ کے اثبات کے لئے پانچ طريقے بتائے گئے ہيں مگر حاکم شرع کے نزديک ثابت ہونے کا اس ميں ذکر نہيں ہے۔ اگر ايسا ہي ہے تو پھر اکثر مومنين مراجع عظام کے نزديک ماہ شوال کا چاند ثابت ہونے پر کيونکر افطار کرتے ہيں۔ اور اس شخص کي تکليف کيا ہے جس کو اس طريقے سے رويت کے ثابت ہونے پر اطمينان نہ ہو؟
ج۔ جب تک حاکم ثبوت ہلال کا حکم نہ دے اتباع واجب نہيں ہے پس تنہا اس کے نزديک چاند کا ثبوت ہونا دوسروں کے اتباع کے لئے کافي نہيں ہے ليکن حکم نہ دينے کے باوجود اگر ثبوت ہلال پر اطمينان حاصل ہوجائے تو کوئي مضائقہ نہيں ہے۔
س٨٦٢۔ اگر ولي امر مسلمين يہ حکم فرمائيں کہ کل عيد ہے اور ريڈيو اور ٹي وي بھي اعلان کريں کہ فلاں فلاں شہر ميں چاند ديکھا گيا ہے تو کيا تمام شہروں کے لئے عيد ثابت ہوجائے گي يا صرف ان شہروں کے لئے ہوگي جو افق ميں متحد ہيں؟
ج۔ اگر حکم حاکم تمام شہروں کے لئے ہے تو اس کا حکم اس ملک کے تمام شہروں کے لئے معتبر ہے۔
س٨٦٣۔ چاند کا چھوٹا ہونا، نيچے ہونا، بڑا ہونا، بلند ہونا يا چوڑا يا باريک ہونا گذشتہ شب يا دوسري رات کے چاند ہونے کي دليل نہيں ہے۔ ليکن اگر مکلف کو ان علائم سے علم و يقين حاصل ہوجائے تو اس وقت اپنے علم کي روشني ميں عمل کرنا واجب ہے۔
س٨٦٤۔ کيا چودہويں کے چاند کو اول ماہ کي تعيين ميں قرينہ قرار ديا جاسکتا ہے کيونکہ چودھويں کي شب ميں چاند کامل ہوجاتا ہے اور اس طرح يوم شک کي تعيين ہوجائے گي کہ وہ تيسويں رمضان ہے تاکہ جس نے اس دن روزہ نہيں رکھا ہے اس پر حجت شرعي ہو کہ اس پر قضا واجب ہے اور جس نے اس دن رمضان سمجھ کر روزہ رکھا ہے وہ بري الذمہ ہے؟
ج۔ مذکورہ چيزيں کسي کے لئے حجت شرعي نہيں ہيں ليکن اگر مکلف کو ان سے علم حاصل ہو تو ايسي صورت ميں وہ اپنے علم و يقين کے مطابق علم کرسکتا ہے۔
س٨٦٥۔ کيا چاند کا ديکھنا واجب کفائي ہے يا احتياط واجب ہے؟
ج۔ چاند کا ديکھنا بذات خود واجب شرعي نہيں ہے۔
س٨٦٦۔ ماہ رمضان کي پہلي اور آخري تاريخ چاند ديکھنے سے طے ہوگي يا جنتري سے؟ جبکہ ماہ رمضان کے تيس دن پورے نہ ہوئے ہوں؟
ج۔ پہلي اور آخري تاريخ درج ذيل طريقوں سے ثابت ہوگي:
خود چاند ديکھے ، دو عادل گواہي ديں، اتني شہرت ہو جس سے يقين حاصل ہوجائے، تيس دن گذر جائيں يا حاکم شرع حکم صادر فرمائے۔
س٨٦٧۔ اگر کسي بھي حکومت کے اعلان رويت کو تسليم کرنا جائز ہے اور وہ اعلان دوسرے شہروں کے ثبوت ہلال کے لئے علمي معيار ہے تو کيا اس حکومت کا اسلامي ہونا شرط اور ضروري ہے يا حکومت ظالم و فاجر کا اعلان بھي ثبوت ہلال کے لئے کافي ہوگا؟
ج۔ اس ميں اصل اور قاعدہ کلي يہ ہے کہ مکلف جس علاقے ميں رہتا ہو اس ميں ثبوت ہلال کا اطمينان پيد اہوجائے تو اول ماہ ثابت ہوجائے گا۔
 

استفتا آت (١)
کتاب اجتہاد اور تقليد
کتاب طہارت
کتاب نجاسات اور ان کے احکام
کتاب نماز
کتاب صوم(روزہ)
کتاب خمس
کتاب جہاد
کتاب امر بالمعروف و نہي عن المنکر
متفرقات