کتاب نماز


اہميت اور شرائط


س٣٥٠۔ عمداً نماز ترک کرنے والے يا اسے سبک سمجھنے والے کا کيا حکم ہے؟
ج۔ نماز پنجگانہ شريعت اسلاميہ کے اہم واجبات ميں سے ہے، بلکہ يہ دين کا ستون ہے اور اس کا ترک کرنا يا سبک سمجھنا شرعاً حرام اور عذاب کا موجب ہے۔
س٣٥١۔ اگر کسي کو وضو اور غسل کے لئے پاني اور تيمم کے لئے خاک ميسر نہ ہو تو کيا اس پر نماز واجب ہے؟
ج۔ ادا کرنا واجب نہيں ہے اگرچہ احتياط مستحب ہے کہ ادا کرے (ليکن) احتياطاً قضا پڑھنا واجب ہے۔
س٣٥٢۔ آپ کي نظر ميں ايک واجبي نماز سے کن موقعوں پر عدول کيا جاسکتا ہے؟
ج۔ مندرجہ ذيل موارد ميں عدول کرنا واجب ہے:
١۔ عصر کي نما زسے ظہر کي طرف عدول کرنا اگر نماز کے درميان متوجہ ہو کہ اس نے ظہر کي نما زنہيں پڑھي ہے۔
٢۔ عشائ کي نماز سے مغرب کي نما زکي طرف بشرطيکہ اس نے محل عدول سے تجاوز نہ کيا ہو اور متوجہ ہوگيا مغرب کي نما زنہيں پڑھي ہے۔
٣۔ اگر ترتيب وار پڑھي جانے والي دو قضا نمازوں ميں بھول سے بعد کي نماز کو پہلے شروع کرديا ہو۔
اور مندرجہ ذيل موقعوں پر عدول مستحب ہے:
١۔ ادا نماز سے قضا کي طرف ، بشرطيکہ ادا نماز کي فضيلت کا وقت فوت نہ ہوجائے۔
٢۔ جماعت ميں شرکت کي غرض سے واجب نماز سے مستحبي کي طرف عدول۔
٣۔ اگر جمعہ کے دن نماز ظہر ميں سورہ جمعہ کے بجائے بھول کر دوسرا سورہ شروع کرديا ہو اور نصف يا کچھ زائد پڑھ چکا ہو تو وہ واجبي نماز سے مستحبي نما زکي طرف عدول کرسکتا ہے ۔ تاکہ نماز فريضہ کو سورہ جمعہ کے ساتھ ادا کرسکے۔
س٣٥٣۔ جمعہ کے دن جو نمازي جمعہ اور ظہر دونوں نمازوں ميں صرف ’’ قربۃ الي اللہ ‘‘ يا دونوں ميں واجب قربۃ الي اللہ کي نيت کرے؟
ج۔ دونوں ميں قربت کي نيت کرنا کافي ہے اور کسي ميں وجوب کي نيت واجب نہيں ہے۔
س٣٥٤۔ اگر نماز کے اول وقت سے تقريباً آخر وقت تک منہ يا ناک سے خون جاري رہے تو ايسے ميں نماز کا کيا حکم ہے؟
ج۔ اگر بدن کے پاک کرنے پر قادر نہ ہو اور وقت نماز کے ختم ہوجانے کا خوف ہو تو اسي حالت ميں نماز پڑھے گا۔
س٣٥٥۔ نما زميں مستحبي ذکر کو پڑھتے وقت کيا بدن کو پوري طرح ساکن رکھنا واجب ہے؟
ج۔ خواہ ذکر واجب ہو يا مستحب اثنائے نماز ميں دونوں کي قرآت کے وقت جسم کا مکمل سکون و اطمينان کي حالت ميں ہونا واجب ہے۔
س٣٥٦۔ ہسپتالوں ميں مريضوں کو پيشاب کے لئے نلکي لگادي جاتي ہے جس سے غير اختياري طور پر سوتے جاگتے يہاں تک کہ درميان نماز بھي مريض کا پيشاب نکلتا رہتا ہے پس يہ فرمائيں کہ کيا اس پر دوبارہ نماز پڑھنا واجب ہے يا اس حالت ميں پڑھي جانے والي نمازيں کافي ہيں؟
ج۔ اگر اس نے اپني نماز اس وقت کے شرعي فريضہ کے مطابق پڑھي ہو ، تو صحيح ہے اس پر نہ تو اعادہ واجب ہے اور نہ قضا۔
س٣٥٧۔ جو نمازيں ميں نے مستحبي غسل سے اور وضو کے بغير پڑھي ہيں وہ صحيح ہيں يا نہيں؟
ج۔ اگر آپ نے اس مرجع کے فتوے کے مطابق نما زپڑھي ہے جس کي تقليد کو اپنے لئے شرعاً صحيح سمجھا ہے تو وہ نمازيں صحيح ہيں۔
 


اوقات نماز
 


س٣٥٨۔ شيعہ فرقہ نماز پنجگانہ کے وقت کے بارے ميں کس دليل پر اعتماد کرتا ہے؟ جيسا کہ آپ جانتے ہيں يا اہل سنت وقت عشائ کے داخل ہونے کو نماز مغرب کے قضا ہونے کي دليل قرار ديتے ہيں ، ظہر و عصر کي نماز کے بارے ميں بھي ان کا يہي نظريہ ہے۔ اسي لئے وہ معتقد ہيں کہ جب وقت عشائ داخل ہو اور پيش نماز ، نماز عشائ پڑھنے کے لئے کھڑا ہو تو مامورين اس کے ساتھ مغرب کي نماز نہيں پڑھ سکتے ، اس لئے کہ ( اس طرح ) مغرب اور عشائ ايک ہي وقت ميں پڑھ لي جائے گي؟
ج۔ دليل ، آيات قرآنيہ اور سنت نبويہ کا اطلاق ہے ، اس کے علاوہ بہت سي روايتيں ہيں جو خاص طور سے دو نمازوں کو ملا کر پڑھنے کے جواز پر دلالت کرتي ہيں اور ظاہر ہے کہ اہل سنت کے يہاں بھي ايسي روايتيں ہيں جو دو نمازوں کو کسي ايک نماز کے وقت ميں ادا کرنے پر دلالت کرتي ہيں۔
س٣٥٩۔ اس بات کو پيش نظر رکھتے ہوئے کہ نماز عصر کا آخري وقت مغرب ہے اور نماز ظہر کا آخري وقت مغرب سے اتنا پہلے تک ہے جتني دير ميں صرف نماز عصر پڑھي جاسکے۔ يہاں ميں يہ سوال کرنا چاہتا ہوں کہ مغرب سے کيا مراد ہے؟ کيا غروب آفتاب ہے يا اس شہر کے افق کے اعتبار سے اذان مغرب کا بلند ہونا ہے؟
ج۔ غروب آفتاب مراد نہيں ہے۔ بلکہ مراد، وقت اذان مغرب ہے يعني جب مشرق کي سرخي زائل ہوجاتي ہے تو وہ نماز عصر کا آخري وقت ہے جو نماز مغرب کے اول وقت سے متصل ہوجاتا ہے۔
س٣٦٠۔ غروب آفتاب اور اذان مغرب ميں کتنے منٹ کا فاصلہ ہوتا ہے؟
ج۔ بظاہر يہ فاصلہ موسموں کے اختلاف کے ساتھ ساتھ گھٹتا بڑھتا رہتاہے۔
س٣٦١۔ ميں تقريباً گيارہ بجے رات ڈيوٹي سے گھر پلٹتا ہوں اور لوگوں کي زيادي آمد و رفت کي وجہ سے ڈيوٹي کے دوران نماز مغربين نہيں پڑھ سکتا، تو گويا گيارہ بجے رات کے بعد نماز مغربين کا پڑھنا صحيح ہے؟
ج۔ کوئي حرج نہيں ہے بشرطيکہ نصف شب نہ گذرنے پائے، ليکن کوشش کيجئے کہ گيارہ بجے رات سے زيادہ تاخير نہ ہو بلکہ نماز کو اول وقت پڑھنے کي کوشش کيجئے۔
س٣٦٢۔ کتني رکعتي نماز وقت ميں ادا ہونا چاہئيے جس کے بعد ادا کا اطلاق صحيح ہو اور اگر شک ہو کہ اتني مقدار وقت ميں پڑھي گئي يا نہيں تو اس کا کيا حکم ہے؟
ج۔ نما زکي ايک رکعت کا آخر وقت کے اندر انجام پانا ادا کے لئے کافي ہے ، اور شک ہو کہ کم ازکم ايک رکعت کے لئے وقت ہے يا نہيں، تو پھر ما في الذمہ کي نيت سے نماز پڑھے اور ادا اور قضا کي نيت نہ کرے۔
س٣٦٣۔ غير مسلم ملکوں ميں اسلامي جمہوريہ کے سفارت خانوں اور کونسل خانوں کي طرف سے اداروں اور بڑے بڑے مراکز اور شہروں کے لئے اوقات نما زکے نقشے شائع ہوتے ہيں ان پر کس حد تک اعتبار کيا جاسکتاہے ؟ اور دوسرے يہ کہ ان ملکوں کے دوسرے شہروں ميں رہنے والوں کا کيا فريضہ ہے؟
ج۔ معيار يہ ہے کہ مکلف کو اطمينان حاصل ہوجائے اور اگر مکلف کو ان نقشوں کے وقت کے مطابق ہونے کا يقين نہ ہو، تو اس پر واجب ہے کہ احتياط کرے، اور اس وقت تک انتظار کرے کہ اسے وقت شرعي کے داخل ہونے کا يقين حاصل ہوجائے۔
س٣٦٤۔ صبح صادق اور صبح کاذب کے مسئلہ ميں آپ کي کيا رائے ہے؟ اور اس سلسلہ ميں نمازي کي شرعي ذمہ داري کيا ہے؟
ج۔ نماز اور روزے کے وقت کا شرعي معيار ، صبح صادق ہے اور اس کي تعيين و تشخيص کي ذمہ داري ہے۔
س٣٦٥۔ ايک مدرسہ جس ميں پورے دن کلاسيں ہوتي ہيں۔ اس کے ذمہ دار حضرات ظہرين کي جماعت کو تقريباً ٢ بجے ظہر کے بعد اور عصر کي کلاسيں شروع ہونے سے پہلے منعقد کراتے ہيں۔ تاخير کي وجہ يہ ہے کہ صبح کي کلاسوں کے دروس اذان ظہر سے تقريباً پون گھنٹہ پہلے ختم ہوجاتے ہيں اور ظہر شرعي تک طلاب کا ٹھہرنا مشکل ہے۔ اس بنا پر اول وقت نماز ادا کرنے کي اہميت کو مدنظر رکھتے ہوئے (ا س نماز کے بارے ميں ) آپ کا کيا حکم ہے؟
ج۔ اگر نماز کے اول وقت طلاب حاضر نہيں ہوسکتے تو نماز گزاروں کي خاطر تاخير ميں کوئي مضائقہ نہيں ہے۔
س٣٦٦۔ کيا اذان ظہر کے بعد نماز ظہر کا پڑھنا اور وقت نماز عصر کے شروع ہونے کے بعد نماز عصر کا پڑھنا واجب ہے اور کيا اسي طرح نماز مغرب و عشا کا پڑھنا بھي واجب ہے؟
ج۔ وقت کے داخل ہونے کے بعد نمازي کو اختيار ہے کہ وہ دونوں کو ملا کر پڑھے يا جدا جدا۔
س٣٦٧۔ کيا چاندني راتوں ميں نماز صبح کے لئے ١٥ منٹ سے ٢٠ منٹ تک انتظار کرنا واجب ہے؟ جبکہ ہم جانتے ہيں کہ وقت کافي ہے اور طلوع فجر کا يقين حاصل کيا جاسکتاہے؟
ج۔ طلوع صبح صادق ، وقت نماز صبح اور ترک سحر کے وجوب کے سلسلے ميں چاندني راتوں يا اندھيري ميں کوئي فرق نہيں ہے اگر اس سلسلے ميں احتیاط بہتر ہے ۔
س٣٦٨۔صوبوں اور شہروں ميں افق کے اختلاف کي وجہ سے اوقات شرعیہ ميں جو اختلاف ہوتا ہے کیا دن رات کي واجب تمام نمازوں ميں وہي وقت معیاد ہے ؟مثال کے طور پر اگر دو شہروں ميں ظہر کے شرعي وقت ميں ٢٥ منٹ کا اختلاف ہو تو کیا دوسرے اوقات ميں بھي اتناہي اختلاف ہو گا یا صبح و عشائ ميں اس سے مختلف ہے ؟
ج: فجر ،ظہر یا غروب آفتاب کے وقت کا اندازہ ایک جیسا ہونے کا لازمي نتیجہ یہ نہيں ہے کہ دوسرے اوقات ميںبھي اتناہي فرق اور فاصلہ ہو بلکہ مختلف شہروںميںاکثرتينوںاوقات کااختلاف متفاوت ہوتاہے۔
س٣٦٩:اہل سنّت نماز مغرب کو غروب شرعي سے پہلے پڑھتے ہيں، کيا ہمارے لئے ايام حج يا دوسرے ايام ميں ان کي اقتدا ميں نماز پڑھنا اور اسي نماز پر اکتفا کرلينا جائز ہے؟
ج۔ يہ معلوم نہيں ہے کہ ان کي نماز وقت سے پہلے ہوتي ہے، ليکن ان کي جماعت ميں شرکت کرنے اور ان کي اقتدائ کرنے ميں کوئي حرج نہيں ہے اور وہ نماز کافي ہے، ليکن وقت نماز کا درک کرنا ضروري ہے۔ مگر يہ کہ وقت کے بارے ميں بھي تقيہ کيا جائے۔
س٣٧٠۔ ڈنمارک اور ناروے ميں صبح کے سات بجے سورج نکلتا ہے اور اس وقت تک آسمان ميں چمکتا رہتا ہے۔ جبکہ دوسرے نزديکي ملکوں ميں رات کے بارے بج چکے ہوتے ہيں۔ ايسي صورت ميں ميري نماز و روزہ کا کيا حکم ہے؟
ج۔ نماز پنجگانہ کے لئے اس جگہ کے افق کا خيال رکھنا واجب ہے ، اور اگر دن کے طولاني ہونے کي وجہ سے روزہ رکھنا شاق ہو تو اس وقت روزہ ساقط ہے اور بعد ميں اس کي قضا واجب ہے۔
س٣٧١۔ سورج کي شعاعيں تقريباً سات منٹ ميں زمين تک پہنچ جاتي ہيں، آيا نماز صبح کے وقت کے ختم ہونے کي معيار طلوع آفتاب ہے يا اس کي شعاعوں کا زمين تک پہونچنا ہے؟
ج۔ معيار طلوع آفتاب اس کا اس افق ميں ديکھا جانا ہے جہاں نماز گزار موجود ہے ۔
س ٣٧٢۔ ذرائع نشر و اشاعت ہر روز آنے والے دن کے شرعي اوقات کا اعلان کرتے ہيں کيا ان پر اعتماد کرنا جائز ہے اور ريڈيو و ٹيلي ويژن کے ذريعہ نشر کي جانے والي اذان کو وقت کے داخل ہوجانے کا معيار بنايا جاسکتا ہے؟
ج۔ معيار يہ ہے کہ مکلف کو وقت کے داخل ہوجانے کا اطمينان حاصل ہوجائے۔
س٣٧٣۔ کيا اذان کے شروع ہوتے ہي نماز کا وقت شروع ہوجاتا ہے يا اذان کے ختم ہونے کاانتظار کرنا واجب ہے اور اس کے بعد نماز کو شروع کرنا چاہئيے؟ اور اسي طرح کيا اذان کے شروع ہوتے ہي روزہ دار کے لئے افطار کرنا جائز ہے يا يہ کہ يہاں بھي آخر اذان تک انتظار کرنا واجب ہے؟
ج۔ اگر اس بات کا يقين ہو کہ وقت داخل ہوجانے کے بعد اذان شروع ہوئي ہے تو آخر اذان تک انتظار کرنا واجب نہيں ہے۔
س٣٧٤۔ کيا اس شخص کي نماز صحيح ہے جس نے دوسري نماز کو پہلي نماز پر مقدم کرديا ہو جيسے عشائ کو مغرب پر؟
ج۔ اگر غلطي يا غفلت کي وجہ سے مقدم کيا ہو اور پوري نماز پڑھ ڈالي ہو تو اس کے صحيح ہونے ميں کوئي اشکال نہيں ہے ليکن اگر اس نے جان بوجھ کر ايسا کيا ہے تو وہ نماز باطل ہے۔
 


قبلہ کے احکام
 


س٣٧٥۔ درج ذيل سوالوں کے جواب عنايت فرمائيں:
١۔ بعض فقہي کتابوں ميں ہے کہ خرداد ماہ کي چوتھي اور تير ماہ کي چھبيسويں مطابق ٢٥ مئي اور ١٧ جولائي کو خانہ کعبہ پر سورج کي کرنيں عمودي پڑتي ہيں ، تو کيا اس صورت ميں جس وقت مکہ ميں اذان ہوتي ہے اس وقت شاخص نصب کرکے جہت قبلہ کي تشخيص کي جاسکتي ہے؟ اور اگر جہت قبلہ کے سلسلے ميں شاخص کے سايہ اور مسجدوں کي محراب کي سمت ميں اختلاف ہو تو کس کو صحيح سمجھا جائے گا؟
٢۔ کيا قطب نما پر اعتماد کرنا صحيح ہے۔
ج۔ شاخص اور قطب نما کے ذريعے اگر مکلف کو جہت قبلہ کا يقين حاصل ہوجائے تو اس پر اعتماد کرنا صحيح ہے اور اس کے مطابق عمل کرنا واجب ہے ، اور اگر يقين نہ ہو تو جہت قبلہ کے تعين کے لئے مسجدوں کي محراب اور مسلمانوں کے قبروں پر اعتماد کرلينے ميں کوئي مضائقہ نہيں ہے۔
س٣٧٦۔ جب جنگ کي شدت جہت قبلہ کي تعيين ميں مانع ہو تو کيا کسي بھي طرف ( رخ کرکے) نماز کا پڑھنا صحيح ہے؟
ج۔ اگر وقت ہو تو چاروں طرف نماز پڑھي جائے ورنہ جتنا وقت ہو اس ميں جتني سمتوں ميں قبلہ کا احتمال ہو اتني سمتوں ميں نماز پڑھے گا۔
س٣٧٧۔ اگر کرہ زمين کي دوسري سمت ميں خانہ کعبہ کے مقابل ايک نقطہ دريافت ہوجائے اس طرح کہ اگر ايک خط مستقيم زمين کعبہ کے وسط سے کرہ ارض کو چيرتا ہوا مرکز زمين سے گزر کر اس نقطہ کے دوسري طرف نکل جائے تو اس نقطہ پر قبلہ رو کيسے کھڑے ہوں گے؟
ج۔ بقدر واجب قبلہ رو ہونے کا معيار يہ ہے کہ کرہ زمين کي سطح سے خانہ کعبہ کي طرف رخ کرے اس طرح کہ جو شخص روئے زمين پر ہے وہ اس کعبہ کي طرف رخ کرے جو کہ مکہ مکرمہ ميں سطح زمين پر بنا ہو اہے۔ اور اسي بنا پر اگر وہ زمين کے کسي ايسے مقام پر کھڑا ہو جہاں سے کھينچے جانے والے خطوط مساوي مسافت کے ساتھ کعبہ تک پہنچتے ہيں تو اسے اختيار ہے کہ جس طرف چاہے رخ کرکے نما زپڑھے ليکن عرف عام ميں جس سمت قبلہ ہے اگر اس کے مقابلہ ميں کسي اور سمت کے خط کي مسافت کم ہو تو نماز گزار پر واجب ہے کہ اسي طرف رخ کرکے نماز پڑھے۔
س٣٧٨۔ جس جگہ ہم جہت قبلہ کو نہ جانتے ہوں اور جہت معلوم کرنے کے لئے ہمارے پاس وسائل بھي نہ ہوں نيز چاروں سمتوں ميں قبلہ کا احتمال ہو تو ايسي جگہ پر ہميں کيا کرنا چاہئيے؟
ج۔ اگر چاروں سمتوں ميں قبلہ کا احتمال مساوي ہو تو چاروں طرف رخ کرکے نماز پڑھني چاہئيے تاکہ يہ يقين ہوجائے کہ اس نے رو بہ قبلہ نماز ادا کردي ہے۔
س٣٧٩۔ قطب شمالي اور قطب جنوبي کي سمت کي کس طرح معين کيا جائے گا؟ اور کس طرح نماز پڑھي جائے گي؟
ج۔ قطب شمالي و جنوبي ميں سمت قبلہ معلوم کرنے کا معيار يہ ہے کہ نماز گزاروں کي جگہ سے کعبہ تک سب سے چھوٹا خط کھينچا جائے گا اور اس خط کے معين ہوجانے کے بعد اسي رخ پر نماز پڑھي جائے گي۔
 


نماز گزار کے مکان کے احکام
 


س٣٨٠۔ وہ جگہيں جن کو ظالم حکومتوں نے غصب کرليا ہے،کيا وہاں بيٹھنا نماز پڑھنا اور چلنا جائز ہے؟
ج۔ اگر غصبي ہونے کا علم ہو تو اس ميں تصرف ناجائز ہونے اور تصرف کي صورت ميں ضامن ہونے کے سلسلے ميں ان امکانات کا حکم وہي ہے جو غصبي چيزوں کا ہوتا ہے۔
س٣٨١۔ اس زمين پر نماز پڑھنے کا کيا حکم ہے جو پہلے وقف تھي اور پھر حکومت نے اس پر تصرف کرکے مدرسہ بناديا ہو؟
ج۔ اگر اس بات کا قوي احتمال ہو کہ اس ميں تصرف کرنا شرعي لحاظ سے جائز تھا تو اس جگہ نماز پڑھنے ميں کوئي مضائقہ نہيں ہے۔
س٣٨٢۔ميں کئي مدرسوں ميں نماز جماعت پڑھتا ہوں، ان مدرسوں کي بعض زمينيں ايسي ہيں جو ان کے مالکوں سے ان کي رضامندي کے بغير لي گئي ہيں ، لہذا ان جيسے مدرسوں ميں ميري اور طلاب کي نمازوں کا کيا حکم ہے؟
ج۔ اگر ان زمينوں کے شرعي مالک سے غصب ہونے کا يقين نہ ہو تو کوئي مضائقہ نہيں ہے۔
س٣٨٣۔ اگر کوئي شخص ايک مدت تک غير مخمس جا نماز يا لباس ميں نماز پڑھے تو اس کي نمازوں کا کيا حکم ہے؟
ج۔ اگر وہ نہ جانتا ہو کہ ان چيزوں ميں خمس ہے يا ان پر تصرف کے حکم سے ناواقف رہا ہو تو جو نمازيں اس نے ان ميں پڑھي ہيں ، صحيح ہيں۔
س٣٨٤۔ کيا يہ بات صحيح ہے کہ نماز ميں مردوں کو عورتوں سے آگے ہونا واجب ہے؟
ج۔ واجب نہيں ہے، اگرچہ اس مسئلہ ميں احتياط کي رعايت کرنا بہتر ہے۔
س٣٨٥۔ مسجدوں ميں امام خميني
۲ اورشہدائ انقلاب کي تصويروں کے لگانے کا کيا حکم ہے، جبکہ امام خميني ۲ مساجد ميں اپني تصويروں کو لگانے پر راضي نہ تھے۔ اسي طرح اور بھي اقوال ہيں جو اس سلسلہ ميں کراہت پر دلالت کرتے ہيں؟
ج۔ مسجدوں ميں ان افراد کي تصويروں کے لگانے ميں شرعاً کوئي ممانعت نہيں ہے اور اگر وہ تصويريں قبلہ کي طرف اور نمازي کے سامنے نہ ہوں تو کراہت بھي نہيں ہے۔
س٣٨٦۔ ايک شخص حکومت کے مکان ميں رہتا تھا اب اس ميں اس کے رہنے کي مدت ختم ہوگئي اور مکان خالي کرنے کے لئے اس کے پاس نوٹس بھيجا گيا، پس جس تاريخ ميں مکان خالي کرنا تھا اس کے بعد اس ميں پڑھي جانے والي نماز اور روزے کا کيا حکم ہے؟
ج۔ اگر مقررہ تاريخ کے بعد متعلقہ حکام کي طرف سے اس مکان ميں رہنے کي اجازت نہ ہو تو اس ميں تصرف کرنا غصب کرنا غصب کرنے کے حکم ميں ہے۔
س٣٨٧۔ جس جا نماز پر تصويريں اور سجدہ گاہ پر نقش و نگار بنے ہوئے ہيں ، کيا ان پر نماز پڑھنا مکروہ ہے؟
ج۔ بذات خود کوئي حرج نہيں ہے ليکن اگر اس سے شيعوں پر تہمت لگانے والوں کے لئے بہانہ فراہم ہوتا ہو ايسي چيزيں بنانے اور ان پر نماز پڑھنے سے اجتناب کرنا واجب ہے۔
س٣٨٨۔ اگر نماز پڑھنے کي جگہ پاک نہ ہو ليکن سجدہ کي جگہ پاک ہو، تو کيا ہماري نماز صحيح ہے؟
ج۔ اگر اس جگہ کي نجاست لباس يا بدن ميں سرايت نہ کرے اور سجدہ کي جگہ پاک ہو تو ايسي جگہ نماز پڑھنے ميں کوئي حرج نہيں ہے۔
س٣٨٩۔ ميرے دفتر کي موجودہ عمارت پرانے قبرستان پر بنائي گئي ہے۔ تقريباً چاليس سال قبل سے اس ميں مردے دفن کرنا چھوڑ ديا گيا تھا لہذا تيس سال پہلے اس عمارت کي بنياد پڑي اب پوري زمين پر يہ عمارت مکمل ہوچکي ہے اور اس وقت قبرستان کا کوئي نشان باقي نہيں ہے۔ پس ايسے دفتر ميں اس کے کارکنوں کي نمازيں شرعي اعتبار سے صحيح ہيں يا نہيں؟
ج۔ اس وقت تک اس ميں کام کرنے اور نماز پڑھنے ميں کوئي حرج نہيں ہے جب تک شرعي طريقے سے يہ ثابت نہ ہوجائے کہ يہ جگہ ميت دفن کرنے کے لئے وقف کي گئي تھي۔
س٣٩٠۔ مومن نوجوان نے ( امر بالمعروف کي خاطر) ، پارکوں اور تفريح گاہوں ميں ہفتے ميں ايک يا دو دن اقامہ نماز کا پروگرام بنايا ہے ،ليکن بعض مشہور اور سن رسيدہ افراد اعتراض کرتے ہيں کہ پارکوں اور تفريح گاہوں کي ملکيت واضح نہيں ہے۔ لہذا ان جگہوں پر نماز کيسے ہوگي؟
ج۔ موجودہ پارکوں اور تفريح گاہوں کو نماز وغيرہ کے لئے استعمال کرنے ميں کوئي حرج نہيں ہے اور غصب کا احتمال قابل توجہ نہيں ہے۔
س٣٩١۔ اس شہر ( ہادي شہر ) کے موجودہ مدارس ميں سے ايک مدرسہ کي زمين ايک شخص کي ملکيت ہے۔ شہر کے نقشہ کے مطابق اس کو پارک ميں تبديل کرنا مقررہ کيا گيا تھا۔ ليکن جن مدرسہ کي شديد ضرورت محسوس ہونے لگي تو اسے ميونسپل بورڈ کي اجازت سے مدرسہ ميں تبديل کرديا گيا مگر چونکہ مالک زمين ( حکومت کي طرف سے) اس ضبطي پر راضي نہيں ہے اور اس نے اعلان کرديا ہے کہ اس ميں نماز وغيرہ صحيح نہيں ہے۔ لہذا آپ فرمائيں کہ مذکورہ عمارت ميں نماز کا کيا حکم ہے؟
ج۔ اگر اس زمين کو اس کے حقيقي مالک سے پارليمنٹ کے پاس کئے ہوئے قانون کے تحت جس کي سوائے نگہبان نے بھي تائيد کي ہو، ليا گيا ہے تو اس ميں تصرف کرنے اور نماز پڑھنے ميں کوئي مضائقہ نہيں ہے۔
س٣٩٢۔ ہمارے شہر ميں دو ملي ہوئي مسجديں تھيں جن کے درميان صرف ايک ديوار کا فاصلہ تھا۔ کچھ دنوں پہلے بعض مومنين نے دونوں مسجدوں کو ايک کرنے کے لئے درمياني ديوار کے بڑے حصے کو گراديا ۔ يہ اقدام بعض لوگوں کے لئے شک و شبہ کا سبب بنا ہوا ہے اور وہ ان مسجدوں ميں نماز نہيں پڑھ رہے ہيں۔ آپ فرمائيں کہ اس مسئلہ کا کيا حل ہے؟
ج۔
دونوں مسجدوں کے درميان کي ديوار کو گرانے سے ان ميں نماز پڑھنے ميں کوئي حرج واقع نہيں ہوتا۔
س٣٩٣۔ شاہراہوں پر کھانے کے ہوٹلوں ميں نماز پڑھنے کي بھي ايک مخصوص جگہ ہوتي ہے، لہذا اگر کوئي شخص اس ہوٹل ميں کھانا نہ کھائے تو کيا اس کے لئے وہاں نماز پڑھنا جائز ہے يا اجازت لينا واجب ہے؟
ج۔ اگر اس کا احتمال ہو کہ نماز کي جگہ ہوٹل والے کي ملکيت ہے اور وہاں صرف وہي اشخاص نماز پڑھ سکتے ہيں جو اس ہوٹل ميں کھانا کھاتے ہيں ، تو اجازت لينا واجب ہے۔
س٣٩٤۔ جو شخص غصبي زمين پر ليکن ايسي جانماز يا تختے پر نماز پڑھے جو مباح ہو تو اس کي نماز باطل ہے يا صحيح؟
ج۔ غصبي زمين پر پڑھي جانے والي نما زباطل ہے خواہ وہ مباح جائے نماز يا تخت پر ہي کيوں نہ پڑھي جائے۔
س٣٩٥۔ موجودہ حکومت کے زير تصرف اداروں اور کمپنيوں ميں بعض افراد وہ ہيں جو نماز باجماعت ميں شرکت نہيں کرتے اور اس کي وجہ يہ ہے کہ يہ عمارتيں ان کے مالکوں سے شرعي عدالت کے فيصلہ پر ضبط کي گئي ہيں۔ برائے مہرباني اس سلسلے ميں آپ اپنے فتوے سے مطلع فرمائيں؟
ج۔ نماز جماعت ميں شرکت کرنا بنيادي طور سے ضروري نہيں ہے ، ہر شخص کو کسي عذر کي وجہ سے شريک جماعت نہ ہونے کا حق ہے اور رہا مکان کا حکم شرعي تو اگر يہ احتمال ہے کہ ضبط کرنے کا حکم ايسے شخص نے ديا تھا جس کو قانوني حيثيت حاصل تھي اور اس نے شرعي اور قانوني تقاضوں کے مطابق ضبط کرنے کا حکم ديا تھا تو شرعاً اس کا عمل صحيح تھا۔ لہذا ايسي صورت ميں اس مکان پر تصرف کرنا جائز ہے اور غصب کا حکم نافذ نہيں ہوگا۔
س٣٩٦۔ اگر امام بارگاہوں کے پڑوس ميں مسجد بھي ہو تو کيا امام بارگاہ ميں نماز جماعت قائم کرنا صحيح ہے اور کيا دونوں جگہوں کا ثواب مساوي ہے؟
ج۔ اس ميں کوئي شک نہيں کہ مسجد ميں نماز پڑھنے کي فضيلت دوسري جگہوں پر نماز پڑھنے سے زيادہ ہے، ليکن امام بارگاہ يا دوسري جگہوں پر نماز جماعت قائم کرنے ميں شرعاً کوئي مانع نہيں ہے۔
س٣٩٧۔ جس جگہ حرام موسيقي ہورہي ہو کيا وہاں نماز پڑھنا صحيح ہے؟
ج۔ اگر وہاں نماز پڑھنا حرام موسيقي سننے کا سبب بنے تو اس جگہ ٹھہرنا جائز نہيں ہے۔ ليکن نماز صحيح کہلائے گي ور اگر موسيقي کي آواز نماز سے توجہ ہٹانے کا سبب بنے تو اس جگہ نما زپڑھنا مکروہ ہے۔
س٣٩٨۔ ان لوگوں کي نماز کا کيا حکم ہے جن کو بحري جہاز کے ذريعہ خاص ڈيوٹي پر بھيجا جاتا ہے اور سفر کے دوران نماز کا وقت ہوجاتا ہے اور اگر اسي وقت وہ نماز نہ پڑھيں تو پھر وہ وقت کے اندر نماز نہيں پڑھ سکيں گے؟
ج۔ مذکورہ صورت ميں ان پر واجب ہے کہ وہ کشتي ميں جس طرح ممکن ہو نماز پڑھيں۔
مسجد کے احکام
س٣٩٩۔ اس بات کو مد نظر رکھتے ہوئے کہ اپنے محلہ کي مسجد ميں نماز پڑھنا مستحب ہے، کيا اپنے محلہ کي مسجد چھوڑ کر جماعت کے ساتھ نما زپڑھنے کے لئے شہر کي جامع مسجد جانے ميں کوئي اشکال ہے؟
ج۔ اگر اپنے محلہ کي مسجد چھوڑنا دوسري مسجد ميں نماز جماعت ميں شرکت کے لئے ہو خصوصاً شہر کي جامع مسجد ميں تو اس ميں کوئي حرج نہيں ہے۔
س٤٠٠۔ اس مسجد ميں نماز پڑھنے کا کيا حکم ہے جس کے بانيوں ميں سے بعض يہ کہتے ہيں کہ يہ مسجد ہم نے اپنے لئے اور اپنے قبيلہ والوں کے لئے بنائي ہے؟
ج۔ کوئي مسجد جب بن گئي تو کسي قوم ، قبيلہ اور اشخاص سے مخصوص نہيں رہتي بلکہ اس سے قوم مسلمانوں کو استفادہ کرنا جائز ہے۔
س٤٠١۔ عورتوں کے لئے مسجد ميں نماز پڑھنا افضل ہے يا گھر ميں؟
ج۔ مسجد ميں نماز پڑھنے کي فضيلت مردوں ہي کے لئے مخصوص نہيں ہے۔
س٤٠٢۔ دور حاضر ميں مسجد الحرام اور صفا ومروہ کي جائے سعي کے درميان تقريباً آدھا ميٹر اونچي اور ايک ميٹر چوڑي ديوار ہے يہ مسجد اور جائے سعي کے درميان مشترک ديوار ہے، کيا وہ عورتيں اس ديوار پر بيٹھ سکتي ہيں جن کے لئے ايام عادت کے دوران مسجد الحرام ميں داخل ہونا جائز نہيں ہے؟
ج۔ اس ميں کوئي حرج نہيں، مگر يہ کہ يہ يقين ہوجائے کہ وہ مسجد کا جزو ہے۔
س٤٠٣۔ کيا محلہ کي مسجد ميں ورزش کرنا اور سونا جائز ہے ؟ اور اس سلسلہ ميں دوسري مساجد کا کيا حکم ہے؟
ج۔ مسجد ورزش گاہ نہيں ہے اور مسجد ميں سونا مکروہ ہے۔
س٤٠٤۔ کيا مسجد کے صحن ميں جوانوں کو فکري، ثقافتي ، عقائدي اور عسکري درس ديا جاسکتا ہے ؟ اور ان امور کو اس مسجد کے ايوان ميں انجام دينے کا شرعي حکم کيا ہے ، جس سے استفادہ نہيں کيا جاتا؟ جبکہ اس طرح کي تعليم کے لئے جگہيں بہت کم ہيں؟
ج۔ يہ چيزيں مسجد کے صحن و ايوان کے وقف کي کيفيت سے مربوط ہيں۔ اور اس سلسلہ ميں مسجد کے امام جماعت اور انتظاميہ کميٹي کي رائے حاصل کرنا واجب ہے۔واضح رہے کہ امام جماعت اور انتظاميہ کميٹي کي موافقيت سے جوانوں کو مساجد ميں جمع کرنا اور ديني کلاسيں لگانا مستحسن اور مطلوب فعل ہے۔
س٤٠٥۔ بعض علاقوں ، خصوصاً ديہاتوں ميں لوگ مساجد ميں شادي کا جشن منعقد کرتے ہيں يعني وہ رقص اور گانا تو گھروں ميں کرتے ہيں ليکن صبح يا شام کا کھانا مسجد ميں کھلاتے ہيں۔ شريعت کے لحاظ سے يہ جائز ہے يا نہيں؟
ج۔ مہمانوں کو مسجد ميں کھا نا کھلانے ميں في نفسہ کوئي اشکال نہيں ہے ليکن مسجد ميں جشن شادي منعقد کرنا اسلام کي مسجد کي عظمت کے خلاف ہے ، اور يہ جائز نہيں ہے اور شرعي طور سے حرام کاموں کو انجام دينا جيسے ، گانا اور طرب انگيز لہويہ موسيقي سننا مطلقاً حرام ہے۔
س٤٠٦۔ قوي کو اپريٹيو کمپنياں رہائش کے لئے فليٹ اور کالونياں بناتي ہيں۔ شروع ميں شرکائ کے ساتھ اس بات پر اتفاق ہوتا ہے کہ ان فليٹوں ميں عمومي استفادہ ، جيسے مسجد وغيرہ کے لئے جگہيں ہوں گي۔
جب گھر تيار ہوئے اور شرکائ کو دئيے گئے تو آپ بعض حصہ داروں کے لئے جائز ہے کہ وہ قراردادکو توڑديں اور يہ کہہ ديں کہ ہم مسجد کي تعمير کے لئے راضي نہيں ہيں؟
ج۔ اگر کمپني تمام شرکائ کي موافقيت سے مسجد کي تعمير کا اقدام کرے اور مسجد تيار ہوجانے کے بعد وقف ہوجائے تو اپني پہلي رائے سے بعض شرکائ کے پھر جانے سے اس پر کوئي اثر نہيں پڑے گا۔ ليکن اگر مسجد کے وقف ہونے سے قبل بعض شرکائ اپني سابقہ موافقيت سے پھر جائيں تو مسجد کي تعمير کمپني کے تمام اعضائ کے مشترکہ اموال اور ان کي مشترک زمين ميں ان کي رضا مندي کے بغير جائز نہيں ہے مگر يہ کہ کمپني کے تمام شرکائ سے عقد لازم کے ضمن ميں يہ شرط کرلي گئي ہو کہ مشترک زمين کا ايک حصہ مسجد کي تعمير کے لئے مخصوص کيا جائے گا اور تمام اعضائ نے اس شرط کو قبول کيا ہو۔اس صورت ميں انہيں اپني رائے سے پھرنے کا کوئي حق نہيں ہے ا ور ان کے پھرنے سے کوئي اثر پڑ سکتا ہے۔
س٤٠٧۔ غير اسلامي تہذيبي اور ثقافتي يلغار کا مقابلہ کرنے کے لئے ہم نے مسجد ميں ابتدائي اور مڈل کلاسوں کے تيس لڑکوں کو گروہ اناشيد کي شکل ميں ( چند نفر کا ايک ساتھ قرآن يا مدح پڑھنا) جمع کيا، اس گروہ کے افراد کو عمرو استعداد کے مطابق قرآن، احکام اور اسلامي اخلاق کا درس ديا جاتا ہے۔ اس تحريک کو چلانے کا کيا حکم ہے؟ اور اگر يہ لوگ آلہ موسيقي جسے ’’ آرگن‘‘ کہا جاتا ہے، استعمال کريں تو اس کا کيا حکم ہے ؟ اور شرعي قوانين کي رعايت کرتے ہوئے مسجد ميں اس کي مشق کرانے کا کيا حکم ہے ؟ کہ يہ چيزيں ريڈيو اور ٹيلي ويژن اور ايران کي وزارت ارشاد اسلامي ميں عام ہيں؟
ج۔ تہذيبي اور ثقافتي يلغار کا مقابلہ اور امر بالمعروف و نہي عن المنکر کا فريضہ انجام دينا، موسيقي کے آلات سے استفادہ پرموقوف نہيں ہے خصوصاً مسجد ميں پس مسجد کي عظمت کا لحاظ کرنا واجب ہے ، اس ميں عبادت کرنا چاہئيے اور اس سے ديني معارف کي تبليغ اور انقلاب کے تابناک افکار کي ترويج کرنا چاہئيے۔
س٤٠٨۔ کيا مسجد ميں ان لوگوں کو جو قرآن کي تعليم کے لئے آتے ہيں، ايسي فلميں دکھانے ميں کوئي حرج ہے جن کو ايران کي وزارت ارشاد اسلامي نے فراہم کيا ہو؟
ج۔ مسجد کو فلم دکھانے کي جگہ ميں تبديل کرنا جائز نہيں ہے ۔ ليکن ضرورت کے وقت اور مسجد کے پيش نماز کي موافقت سے دکھانے ميں کوئي حرج نہيں ہے۔
س٤٠٩۔ کيا آئمہ معصومين ٴ کي عيد ميلاد کے موقع پر مسجد سے فرح بخش کے نشر کرنے ميں کوئي شرعي اشکال ہے؟
ج۔ واضح رہے کہ مسجد ايک خاص شرعي مقام ہے، پس اس ميں موسيقي ( کا پروگرام) رکھنا اور نشر کرنا اس کي عظمت کے منافي ہے ۔ لہذا حرام ہے ، يہاں تک کہ غير مطرب موسيقي بھي حرام ہے۔
س٤١٠۔ مساجد ميں موجود لاوڈ اسپيکر ، جس کي آواز مسجد کے باہر سني جاتي ہے، اس کا استعمال کب اور کس صورت ميں جائز ہے؟ اور اذان سے قبل اس پر تلاوت قرآن اور انقلابي ترانے سنانے کا کيا حکم ہے؟
ج۔ جن اوقات ميں محلہ والوں اور ہمسايوں کے لئے تکليف و آزار کا سبب نہ ہو ان ميں اذان سے قبل چند منٹ تلاوت قرآن نشر کي جاسکتي ہے۔
س٤١١۔ جامع مسجد کي تعريف کيا ہے؟
ج۔ وہ مسجد جو شہر ميں اکثر شہر کے اجتماع کے لئے بنائي جاتي ہے اور کسي قبيلہ يا بازار والوں سے مخصوص نہيں ہوتي ہے۔
س٤١٢۔ تيس سال سے ايک چھت دار مسجد کا ايک حصہ ويران پڑا تھا اس ميں نماز نہيں ہوتي تھي اور وہ ايک کھنڈر بن چکا تھا،اس کے ايک حصہ کو مخزن بنالياگيا ہے۔ ادھر کچھ مدت قبل رضاکاروں ( بسيجيوں) کي طرف سے اس ميں بعض تبديلياں ہوئي ہيں جو اس کے چھت والے حصہ ميں پندرہ سال سے مقيم ہيں اور ان تبديليوں کي وجہ سے عمارت کي نامناسب حالت تھي، خصوصاً چھت گرنے کے قريب تھي اور چونکہ بسيج والے مسجد کے شرعي احکام سے ناواقف تھے اور جو لوگ جانتے تھے انہوں نے ان کي راہنمائي بھي نہيں کي۔ لہذا انہوں نے چھت والے حصے ميں چند کمرے تعمير کرالئے، اور ان تعميرات پر خطير رقم بھي خرچ ہوچکي ہے۔ اب تعمير کا کام اختتام پر ہے۔ برائے مہرباني درج ذيل موارد ميں حکم شرعي سے مطلع فرمائيں:
١۔ فرض کيجئے اس کام کے باني اور اس پر نگراں کميٹي کے اراکين مسئلہ سے ناواقف تھے تو کيا ان لوگوں کو بيت المال سے خرچ کئے جانے والي رقم کا ذمہ دار کہا جائے گا؟ اور وہ گناہگار ہيں يا نہيں؟
٢۔ اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ يہ رقم بيت المال سے خرچ ہوئي ہے۔ کيا آپ ان کو يہ اجازت ديتے ہيں کہ وہ ( جب تک مسجد کو اس حصہ کي ضرورت نہ ہو اور اس ميں نماز قائم نہ ہو اس وقت تک) ان کمروں سے مسجد کے شرعي احکام و حدود کي رعايت کرتے ہوئے قرآن و احکام شريعت کي تعليم کے لئے استفادہ کريں۔ اسي طرح مسجد کے امور کے لئے بھي ان کمروں کا استعمال کيا جائے يا ان کمروں کو فوراً منہدم کردينا واجب ہے؟
ج۔ مسجد کے چھت والے حصہ ميں بنے ہوئے کمروں کو منہدم کرکے اس کو سابقہ حالت پر لوٹانا واجب ہے اور خرچ شدہ رقم کے بارے ميں افراط و تفريط نيز کوتاہي نہ ہوئي ہو يا جان بوجھ کر ايسا نہ کياگيا ہوتو اس کا کوئي ضامن نہيںہے
اور مسجد کے چھت والے حصہ ميں قرآت قرآن، احکام شرعي، اسلامي معارف کي تعليم اور دوسرے ديني و مذہبي پروگرام منعقد کرنے ميں اگر نماز گزاروں کے لئے زحمت کا باعث نہ ہو اور امام جماعت کي نگراني ميں ہو تو کوئي حرج نہيں ہے اور امام جماعت ، رضا کاروں اور مسجد کے دوسرے ذمہ داروں کو ايک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنا واجب ہے تاکہ مسجد ميں رضا کار بھي موجود رہيں اور مسجد کے عبادي فرائض جيسے نماز وغيرہ ميں بھي خلل واقع نہ ہو۔
س٤١٣۔ ايک سڑک کي توسيع کے منصوبے ميں متعدد مساجد آتي ہيں۔ منصوبہ کے اعتبار سے بعض کا کچھ حصہ گرايا جائے گا تاکہ ٹريفک کي آمد و رفت ميں آساني ہو۔ برائے مہرباني اپنا نظريہ بيان فرمائيں؟
ج۔ مسجد يا اس کے کسي حصہ کو منہدم کرناجائز نہيں ہے مگر اس مصلحت کي بنائ پر جس سے چشم پوشي ممکن نہ ہو۔
س٤١٤۔ کيا مسجد ميں لوگوں کے وضوئ کے لئے مخصوص پاني کو مختصر مقدار ميں اپنے ذاتي استعمال ميں لانا جائز ہے جيسا کہ دوکاندار اس سے ٹھنڈا پاني پينے يا چائے بنانے يا موٹر گاڑي ميں ڈالنے کے لئے ليتے ہيں۔ واضح رہے کہ اس مسجد کا واقف کوئي ايک شخص نہيں ہے جو اس سے منع کرے؟
ج۔ اگر يہ معلوم نہ ہو کہ يہ پاني خصوصاً نماز گزاروں کے وضو ئ کے لئے وقف ہے اور عرف ميں يہ رائج ہو کہ جس محلہ ميں مسجد ہے اس کے ہمسايہ اور راہ گير اس کے پاني سے استفادہ کرتے ہيں تو اس ميں کوئي حرج نہيں ہے اگرچہ اس سلسلے ميں احتياط بہتر ہے۔
س٤١٥۔ قبرستان کے پاس ايک مسجد ہے اور جب بعض قبور کي زيارت کے لئے آتے ہيں تو وہ اپنے کسي عزيز کي قبر پر پاني چھڑکنے کے لئے اس مسجد سے پاني ليتے ہيں اور ہم يہ نہيں جانتے کہ يہ پاني مسجد کے لئے وقف ہے يا سبيل عام ہے اور بالفرض اگر يہ معلوم ہو کہ يہ پاني مسجد کے لئے وقف نہيں ہے ليکن وضوئ و طہارت کے لئے مخصوص کيا گيا ہے تو کيا اسے قبر پر چھڑکنا جائز ہے؟
ج۔ جب قبر پر چھڑکنے کے لئے مسجد سے باہر پاني لے جانا لوگوں ميں رائج ہو اور ناپسنديدہ نہ ہو اور اس بات پر کوئي دليل نہ ہو کہ پاني صرف وضوئ کے لئے يا وضوئ اور طہارت کے لئے وقف ہے تو اس کے استعمال ميں کوئي حرج نہيں ہے۔
س٤١٦۔ اگر مسجد ميں ترميم کي ضرورت ہو تو کيا حاکم شرع يا اس کے وکيل کي اجازت ضروري ہے؟
ج۔ اگر مسجد کي ترميم و تعمير اپنے ياخير افراد کے مال سے کرنا ہو تو اس ميں حاکم شرع کي اجازت کي ضرورت نہيں ہے۔
س٤١٧۔ کيا ميں اپنے مرنے کے بعد کے لئے يہ وصيت کرسکتا ہوں کہ مجھے محلے کي اس مسجد ميں دفن کيا جائے جس کے امور کي بہتري کے لئے ميں نے کوشش کي تھي کيونکہ ميں چاہتا ہوں کہ مجھے اس مسجد ميں دفن کيا جائے خواہ مسجد کے اندر يا اس کے صحن ميں؟
ج۔ اگر صيغہ وقف جاري کرتے وقت مسجد ميں ميت دفن کرنے کو مستثنيٰ نہ کيا گيا ہو تو اس ميں دفن کرنا جائز نہيں ہے اور اس سلسلہ ميں آپ کي وصيت کا کوئي اعتبار نہيں ہے۔
س٤١٨۔ ايک مسجد تقريباً بيس سال پہلے بنائي گئي ہے اور اسے امام زمانہ عجل اللہ تعاليٰ فرجہ الشريف کے نام مبارک سے موسوم کيا گيا ہے اور يہ معلوم نہيں ہے کہ مسجد کا نام صيغہ وقف ميں ذکر کيا گيا ہے يا نہيں پس مسجد کا نام مسجد صاحب زمان عجل اللہ تعاليٰ فرجہ الشريف کے بجائے بدل کر جامع مسجد رکھنے کا کيا حکم ہے؟
ج۔ صرف مسجد کا نام بدلنے ميں کوئي حرج نہيں ہے۔
س ٤١٩۔ زمانہ قديم سے عام رواج ہے کہ محلہ کي مسجد ميں نذريں دي جاتي ہيں تاکہ انہيں محرم ، صفر ، رمضان اور تمام مخصوص ايام ميں صرف کيا جائے ادھر اسے بجلي اور ائر کنڈيشنر سے بھي آراستہ کرديا گيا ہے جب محلہ والوں ميں سے کوئي مرجاتا ہے تو اس کے فاتحہ کي مجلس بھي مسجد ہي ميں ہوتي ہے اور مجلس ميں مسجد کي بجلي اور ائرکنڈيشنر وغيرہ کو استعمال کيا جاتا ہے ليکن مجلس کرنے والے اس کا پيسہ ادا نہيں کرتے شرعي نقطہ نظر سے يہ جائز ہے يا نہيں؟
ج۔ مسجد کے وسائل اور امکانات سے فاتحہ کي مجلس وغيرہ ميں استفادہ کرنا مسجد کے وقف يا مسجد کو نذر کئے گئے وسائل کي کيفيت پر موقوف ہے۔
س٤٢٠۔ گاوں ميں ايک جديد التعمير مسجد ہے ( جو پراني مسجد کي جگہ بنائي گئي ہے ) موجودہ مسجد کے ايک کنارے پر جس کي زمين پراني مسجد کا جزو ہے ، مسئلہ سے ناواقفيت کي بنا پر چائے وغيرہ بنانے کے لئے ايک کمرہ بنايا گياہے اور اسي طرح اس کي بالکني پر جو کہ مسجد ميں داخل ہے ايک لائبريري بنائي گئي ہے، برائے مہرباني اس سلسلہ ميں اپنا نظريہ بيان فرمائيں؟
ج۔ سابق مسجد کي جگہ پر چائے خانہ بنانا صحيح نہيں ہے اور اس جگہ کو دوبارہ مسجد کي حالت ميں بدلنا واجب ہے مسجد کي چھت بھي مسجد کے حکم ميں ہے اور اس پر مسجد کے تمام شرعي احکام و آثار مترتب ہوں گے ليکن بالکني ميں کتابوں کے لئے المارياں رکھنے اور مطالعہ کے لئے وہاں جمع ہونے ميں، اگر نماز گزاروں کے لئے مزاحمت نہ ہو تو کوئي حرج نہيں ہے۔
س٤٢١۔ اس مسئلہ ميں آپ کي کيا رائے ہے کہ ايک گاوں ميں ايک مسجد گرنے والي ہے ليکن في الحال اسے منہدم کرنے کے لئے کوئي شرعي جواز نہيں ہے کيونکہ وہ راستہ ميں رکاوٹ نہيں ہے کيا مکمل طور پر اس مسجد کو منہدم کرنا جائز ہے ؟ اس مسجد کا کچھ اثاثہ اور پيسہ بھي ہے يہ چيزيں کس کو دي جائيں؟
ج۔ مسجد کو منہدم و خراب کرنا جائز نہيں ہے اور عمومي طور سے مسجد کا خرابہ بھي مسجديت سے خارج نہيں ہوگا، اور مسجد کے اثاثہ و مال کي اگر اس مسجد کو ضرورت نہيں ہے تو استفادہ کے لئے انہيں دوسري مسجدوں ميں منتقل کيا جاسکتا ہے۔
س٤٢٢۔ کيا مسجد کے صحن کے ايک گوشہ ميں مسجد کي عمارت ميں کسي تصرف کے بغير ، ميوزيم بنانے ميں کوئي شرعي حرج ہے جيسا کہ آج کل مسجد کي عمارت کے ايک حصہ ميں ہي لائبريري بنادي جاتي ہے؟
ج۔ صحن مسجد کے گوشہ ميں لائبريري يا ميوزيم بنانا جائز نہيں ہے اگر وہ صحن مسجد کے وقف کي کيفيت کے مخالف يا عمارت مسجد کي تغير کا باعث ہو مذکورہ غرض کے لئے بہتر ہے کہ مسجد سے متصل کسي جگہ کا انتظام کيا جائے۔
س٤٢٣۔ ايک موقوفہ جگہ ميں مسجد، ديني مدرسہ اور عام لائبريري بنائي گئي ہے اور سب کام کررہے ہيں ليکن اس وقت يہ سب بلديہ کي توسيع کے نقشہ ميں آرہے ہيں جن کا انہدام بلديہ کے لئے ضروري ہے ، ان کے انہدام کے لئے بلديہ کيسے تعاون کيا جائے اور کيسے ان کا معاوضہ ليا جائے تاکہ اس کے عوض نئي اور اچھي عمارت بنائي جاسکے؟
ج۔ اگر ميونسپلٹي اس کو منہدم کرنے اور معاوضہ دينے کے لئے تيار ہوجائے تو معاوضہ لينے ميں کوئي حرج نہيں ہے ليکن کسي اہم مصلحت کے بغير موقوفہ مسجد و مدرسہ کو منہدم کرنا جائز نہيں ہے۔
س٤٢٤۔ جامع مسجد کي توسيع کے لئے اس کے صحن سے چند درختوں کو اکھاڑنا ضروري ہے۔ کيا ان کو اکھاڑنا جائز ہے ، جبکہ مسجد کا صحن کافي بڑا ہے اور اس ميں اور بھي بہت سے درخت ہيں؟
ج۔ اگر مسجد کي توسيع کي ضرورت ہو اور مسجد کے صحن کو مسجد ميں داخل کرنے اور درخت کاٹنے کو وقف ميں تغير و تبديلي شمار نہ کيا جاتا ہو تو اس ميں کوئي حرج نہيں ہے۔
س٤٢٥۔ اس زمين کا کيا حکم ہے کہ جو مسجد کے چھت والے حصہ کا جزو تھي، بعد ميں بلديہ کے توسيعي دائرے ميں آنے کے بعد مسجد کے اس حصہ کو مجبوراً منہدم کرديا گيا اور سڑک ميں تبديل ہوگئي؟
ج۔ اگر اسے مسجد کي پہلي حالت کي طرف پلٹانے کا احتمال بعيد ہو تو اس مسجد کے آثار مرتب ہونا لامعلوم ہے۔
س٤٢٦۔ ميں عرصہ سے ايک مسجد ميں نماز جماعت پڑھاتا ہوں، اور مسجد کے وقف کي کيفيت کي مجھے اطلاع نہيں ہے، دوسري طرف مسجد کے اخراجات کے سلسلے ميں بھي مشکلات درپيش ہيں پس کيا مسجد کے سرداب کو مسجد کے شايان شان کسي مقصد کے لئے کرايہ پر ديا جاسکتا ہے؟
ج۔ اگر سرداب پرمسجد کا عنوان صادق نہيں آتا ہے اور وہ اس کا ايسا جزئ بھي نہيں ہے جس کي مسجد کو ضرورت ہو تو کوئي حرج نہيں ہے؟
س٤٢٧۔ مسجد کے پاس کوئي املاک نہيں ہے جس سے اس کے اخراجات پورے کئے جاسکيں اور انتظاميہ کميٹي مسجد کے چھت والے حصہ کے نيچے مسجد کے اخراجات پورا کرنے کے لئے ايک تہہ خانہ کھود کرا س ميں کارخانہ يا دوسرے عمومي مراکز بنانا چاہتي ہے ، يہ عمل جائز ہے يا نہيں؟
ج ۔
مسجد کے چھت والے حصے کے نیچے کار خانہ وغیرہ تاسیس کے لئے تہہ خانہ بنانا جائز نہيں ہے
س٤٢٩۔ کيا اس مسجد ميں نماز پڑھنا جائز ہے جو کفار کے ہاتھوں سے بني ہو؟
ج۔ اس ميں نما ز پڑھنے ميں کوئي حرج نہيں ہے۔
س٤٣٠۔ اگر ايک کافر اپني خوشي سے مسجد بنانے کے لئے پيسہ دے يا کسي اور طريقہ سے مدد کرے تو کيا اسے قبول کرنا جائز ہے؟
ج۔ اس ميں کوئي حرج نہيں ہے۔
س٤٣١۔ اگر ايک شخص رات ميں مسجد ميں آکر سوجائے اور اسے احتلام ہوجائے ليکن جب بيدار ہو تو مسجد سے نکلنے پر قادر نہ ہوتو اس کي کيا ذمہ داري ہے؟
ج۔ اگر وہ مسجد سے نکلنے اور دوسري جگہ جانے پر قادر نہ ہو تو اس پر واجب ہے کہ فوراً تيمم کرے تاکہ اس کے لئے مسجد ميں باقي رہنے کا جواز پيدا ہوجائے۔
 


دوسرے ديني مکانات کے احکام

 


س٤٣٢۔ کيا شرعي نقطہ نظر سے امام بارگاہ کو معين اشخاص کے نام رجسٹرڈ کرنا جائز ہے؟ اور اگر دوسرے افراد جنہوں نے اس عمل خير يعني امام بارگاہ کي تعمير ميں شرکت کي ہے ، اس امر سے راضي نہ ہوں تو اس کا کيا حکم ہے؟
ج۔ ديني مجالس برپا کرنے کے لئے موقوفہ ، امام بارگاہ کو معين اشخاص کے نام رجسٹرڈ کرنے کي کوئي ضرورت نہيں ہے۔ بہرحال بعض معين افراد کے نام کرنے کے لئے لازم ہے کہ ان تمام افراد کي اجازت لي جائے جنہوں نے اس عمارت کے بنانے ميں شرکت کي ہے۔
س٤٣٣۔ مسائل کي کتابوں ميں لکھا ہو اہے کہ مجنب شخص اور حائضہ عورت دونوں کے لئے آئمہ عليہم السلام کے حرم ميں داخل ہونا جائز نہيں ہے۔ برائے مہرباني اس کي وضاحت فرمائيں کہ کيا صرف قبہ کے نيچے کي جگہ حرم ہے يا اس سے ملحق ساري عمارت حرم ہے؟
ج۔ حرم سے مراد وہ جگہ ہے جو قبہ مبارک کے نيچے ہے اور عرف عام ميں جس کو حرم اور زيارت گاہ کہا جاتا ہے ۔ ليکن ملحقہ عمارت اور راہداري حرم کے حکم ميں نہيں ہيں، ان ميں مجنب و حائضہ کے داخل ہونے ميں کوئي حرج نہيں ہے مگر يہ کہ ان ميں سے کسي کو مسجد بناديا گيا ہو۔
س٤٣٤۔ قديم مسجد سے ملحق ايک امام باڑہ بنايا گيا ہے اور آج کل مسجد ميں نماز گزاروں کے لئے گنجائش نہيں ہے، کيا مذکورہ امام باڑہ کو مسجد ميں شامل کرکے اس سے مسجد کے عنوان سے استفادہ کيا جاسکتا ہے ؟
ج۔ امام باڑہ ميں نماز پڑھنے ميں کوئي اشکال نہيں ہے ليکن اگر امام باڑہ شرعاً صحيح طريقہ سے امام باڑہ کے عنوان سے وقف کيا گيا ہے تو اسے مسجد ميں تبديل کرنا اور اسے برابر والي مسجد ميں مسجد کے عنوان سے ضم کرنا جائز نہيں ہے۔
س٤٣٥۔ کيا اولاد آئمہ عليہم السلام ميں سے کسي کے مرقد کے لئے نذر ميں آئے ہوئے اسباب اور فرش کو محلہ کي جامع مسجد ميں استعمال کيا جاسکتا ہے؟
ج۔اگر يہ چيزيں فرزند امام عليہ السلام کے مرقد اور اس کے زائرين کي ضرورت سے زيادہ ہوں تو کوئي حرج نہيں ہے۔
س٤٣٦۔ جو تکيے يا عزاخانے حضرت ابو الفضل العباس ٴ اور ديگر شخصيات کے نام پر بنائے جاتے ہيں کيا وہ مسجد کے حکم ميں ہيں اميد ہے کہ ان کے احکام بيان فرمائيں گے؟
ج۔ تکيے اور امام بارگاہيں مسجد کے حکم ميں نہيں ہيں۔
 


نماز گزار کا لباس
 


س٤٣٧۔ اگر مجھے اپنے لباس کے نجس ہونے ميں شک ہو اور ميں اس ميں نماز پڑھ لوں تو ميري نما زباطل ہے يا نہيں؟
ج۔ جس لباس کے نجس ہونے ميں شک ہو وہ پاک ہے اور اس ميں نماز صحيح ہے۔
س٤٣٨۔ ميں نے جرمني ميں کھال کي ايک پيٹي ( بيلٹ) خريدي کيا اس کو باندھ کر نماز پڑھنے ميں کوئي شرعي اشکال ہے۔ اگر مجھے يہ شک ہو کہ يہ اصل کھال کي ہے يا مصنوعي اور يہ کہ يہ تزکيہ شدہ حيوان کي کھال کي ہے يا نہيں تو ميري ان نمازوں کا کيا حکم ہے جو ميں نے اس ميں پڑھي ہيں؟
ج۔ اگر يہ شک ہو کہ يہ طبيعي کھال کي ہے يا نہيں تو اسے باندھ کر نماز پڑھنے ميں کوئي حرج نہيں ہے ۔ ليکن اگر طبيعي کھال ثابت ہونے کے بعد يہ شک ہو کہ وہ تزکيہ شدہ حيوان کي کھال ہے يا نہيں؟ تو وہ مردار کے حکم ميں ہے مگر گزشتہ نمازيں صحيح ہوں گي۔
س٤٣٩۔ اگر نماز گزار کو يہ يقين ہو کہ اس کے لباس و بدن پرنجاست نہيں ہے اور وہ نماز بجالائے اور بعد ميں معلوم ہو کہ اس کا بدن يا لباس نجس تھا تو اس کي نماز باطل ہے يا نہيں؟ اور اگر وہ اثنائے نماز ميں اس کي طرف متوجہ ہوجائے تو اس کا کيا حکم ہے؟
ج۔ اگر وہ اپنے بدن يا لباس کے نجس ہونے کا قطعي نہ جانتا ہو اور نماز کے بعد اسے نجاست کا علم ہو تو اس کي نماز صحيح ہے اور اس پر اعادہ يا قضا واجب نہيں ہے ليکن اگر وہ اثنائے نماز ميں اس کي طرف متوجہ ہوجائے اور وہ نجاست کو بغير ايسے فعل کے جو نماز کے منافي ہے، دور کرسکتا ہو تو اس پر يہي واجب ہے کہ وہ نجاست دور کرے اور اپني نماز تمام کرے گا ليکن اگر نماز کي شکل کو باقي رکھتے ہوئے نجاست دور نہيں کرسکتا اور وقت ميں بھي گنجائش ہے تو نماز توڑنا اور نجاست دور کرنے کے بعد دوبارہ بجالانا واجب ہے۔
س٤٤٠۔ زيد مراجع عظام ميں سے ايک کا مقلد ہے وہ ايک زمانہ تک ايسے حيوان کي کھال ، جس ذبح ہونا مشکوک ہو اور جس ميں نماز صحيح نہيں ہوتي ، ميں نماز پڑھتا رہا ۔ پس اس کے مرجع کي رائے کے مطابق اگر ايسے حيوان کي کھال کے نماز ميں استعمال پر،جس کا گوشت نہيں کھاياجاتا ، احتياط واجب يہ ہے کہ نماز کا اعادہ کيا جائے تو کيا مشکوک التزکيہ حيوان کا بھي وہي حکم ہے جو غير ماکول اللحم حيوان کا ہے؟
ج۔ جس حيوان کا ذبح مشکوک ہو وہ نجاست ميں مردار کے حکم ميں ہے۔ اس کا کھانا حرام ہے اور اس ( کي کھال) ميں نماز جائز نہيں ہے۔
س٤٤١۔ ايک عور ت نماز کے درميان اپنے بعض بالوں کو کھلا ہوا محسوس کرتي ہے اور فوراً چھپاليتي ہے اس پر نماز کا اعادہ واجب ہے يا نہيں؟
ج۔ اگر بال کھولنا جان بوجھ کر نہ رہا ہو تو اعادہ واجب نہيں ہے۔
س٤٤٢۔ ايک شخص پيشاب کے مقام کو مجبوراً ڈھيلے يا کنکري ، لکڑي يا کسي اور چيز سے پاک کرتا ہے اور جب گھر لوٹتا ہے تو اسے پاني سے پاک کرليتا ہے تو کيا نما زکے لئے داخلي لباس کا بدلنا پاک کرنا بھي واجب ہے؟
ج۔ اگر پيشاب کے مقام کي رطوبت سے لباس نجس نہ ہوا ہو تو اس پر لباس پاک کرنا واجب نہيں ہے۔
س٤٤٣۔ بيرون ملک سے جو بعض صنعتي آلات منگائے جاتے ہيں وہ غير ملکي ماہروں کے ذريعہ فٹ کئے جائے ہيں جو اسلامي فقہ کے اعتبار سے کافر اور نجس ہيں اور يہ معلوم ہے کہ ان آلات کي فٹنگ تيل اور دوسري چکنائي وغيرہ لگا کر ہاتھ کے ذريعہ انجام پاتي ہے نتيجہ يہ ہے کہ وہ آلات پاک نہيں ہوتے کام کے دوران ان آلات سے کاريگروں کا لباس اور بدن مس ہوتاہے اور وہ کام کے دوران مکمل طور سے لباس و بدن کو پاک نہيں کرسکتے تو نماز کے سلسلہ ميں ان کا فريضہ کيا ہے؟
ج۔ ممکن ہے کہ آلات کو فٹ کرنے والا اہل کتاب ميں سے ہو جو کہ پاک کہلاتے ہيں يا کام کے وقت وہ دستانہ پہنے ہوئے ہو ۔ پس صرف کافر کے کام کرنے سے جگہ اور آلات کے نجس ہونے کا يقين حاصل نہيں ہوتا۔بالفرض اگر کام کے دوران آلات، بدن اور لباس کے نجس ہونے کا يقين حاصل ہوگيا تو نماز کے لئے بدن کا پاک کرنا اور لباس کا پاک کرنا يا بدلنا واجب ہے۔
س٤٤٤۔ اگر نماز گزار خون سے نجس رومال يا اس جيسي کوئي نجس چيز اٹھائے يا اسے جيب ميں رکھے ہو تو اس کي نماز صحيح ہے يا باطل؟
ج۔ اگر رومال اتنا چھوٹا ہو جس سے شرم گاہ نہ چھپائي جاسکے تو اس ميں کوئي حرج نہيں ہے۔
س٤٤٥۔ کيا اس کپڑے ميں نما زصحيح ہے جو آج کل کے ايسے عطر سے معطر کيا گيا ہو جس ميں الکحل پايا جاتا ہے؟
ج۔ جب تک مذکورہ عطر کي نجاست کا علم نہ ہو اس سے معطر کپڑے ميں نماز پڑھنے ميں کوئي حرج نہيں ہے۔
س٤٤٦۔ حالت نماز ميں عورت پر کتنا بدن چھپانا واجب ہے؟ کيا چھوٹي آستين والے لباس پہننے اور جوراب ميں کوئي حرج ہے؟
ج۔ معيار يہ ہے کہ چہرے کي اتني مقدار جس کا وضوئ ميں دھونا واجب ہے اور گٹوں تک دونوں ہاتھوں اور دونوں پيروں کو چھوڑ کر پورے بدن کو چھپائے چاہے وہ پردہ ايراني ہي جيسا ہو۔
س٤٤٧۔ حالت نماز ميں عورتوں پر قدموں کو چھپانا بھي واجب ہے يا نہيں؟
ج۔ پنڈليوں ( کي ابتدائ) تک دونوں قدموں کا چھپانا واجب نہيں ہے۔
س٤٤٨۔ کيا حجاب پہنتے وقت اور نماز ميں تھوڑي کو مکمل طور پر چھپانا واجب ہے يا نچلے حصہ ہي کو چھپانا کافي ہے يا ٹھوڑي کا اس لئے چھپانا واجب ہے کہ وہ چہرہ کي اس مقدار کا مقدمہ ہے جس کا چھپانا شرعاً واجب ہے؟
ج۔ ٹھوڑي کا نچلا حصہ چھپانا واجب نہ کہ ٹھوڑي کا چھپانا کيونکہ وہ چہرے کا جزو ہے۔
س٤٤٩۔ ايسي نجس چيز ( مثلاً رومال يا ٹوپي وغيرہ) جس ميں نما زنہيں ہوتي ، اس کے ساتھ نماز کے صحيح ہونے کا حکم صرف اس حالت سے مخصوص ہے جب انسان بھولے سے اس ميں نماز پڑھ لے يا اس کے حکم يا موضوع کو نہ جانتے ہوئے نماز پڑھ لے يا پھر يہ حالت شبہہ موضوعيہ يا شبيہہ حکميہ دونوں ميں عام ہے؟
ج۔ يہ حکم نسيان يا جہالت حکمي يا موضوعي دونوں سے مخصوص نہيں ہے بلکہ نجس شدہ غير ساتر لباس ميں جس ميں نما زنہيں ہوتي ، حتيٰ علم يا توجہ ہوجانے کي صورت ميں بھي نماز پڑھنا جائز ہے۔
س٤٥٠۔ کيا نماز گزار کے لباس پر بلي کے بال يا اس کے لعاب دہن کا وجود نماز کے باطل ہونے کا سبب ہے؟
ج۔ ہاں نماز کے باطل ہونے کا سبب ہے۔
سونے ، چاندي کا استعمال
س٤٥١۔ مردوں کا سونے کي انگوٹھي پہننے کا ( خصوصاً نما زميں ) کيا حکم ہے؟
ج۔ مرد کے لئے سونے کي انگوٹھي پہننا جائز نہيں ہے اور اس ميں نماز باطل ہے۔
س٤٥٢۔ مردوں کے لئے سفيد سونے کي انگوٹھي پہننے کا کيا حکم ہے؟
ج۔ جسے سفيد سونا کہا جاتا ہے اگر وہ زرد سونے کے علاوہ کسي دوسرے مادہ سے مرکب ہو تو اس کي انگوٹھي پہننا حرام نہيں ہے۔
س٤٥٣۔ کيا اس وقت بھي سونا پہننے ميں کوئي شرعي اشکال ہے جب وہ زينت کے لئے نہ ہو اور دوسروں کي نظر ميں نہ آئے؟
ج۔ مردوں کے لئے سونا پہننا مطلق طور پر حرام ہے چاہے وہ زينت کے قصد سے نہ پہنا جائے يا دوسروں کي نظروں سے پوشيدہ رکھا جائے۔
س٤٥٤۔ مردوں کے لئے سونا پہننے کا کيا حکم ہے؟ کيونکہ ہم بعض لوگوں کو يہ ادعا کرتے ہوئے ديکھتے ہيں کہ کم مدت کے لئے ، جيسے عقد کے وقت، سونا پہننے ميں کوئي حرج نہيں ہے؟
ج۔ مردوں کے لئے سونا پہننا حرام ہے چاہے تھوڑے وقت کے لئے ہو يا زيادہ وقت کے لئے اس سے کوئي فرق نہيں پڑتا۔
س٤٥٥۔ نماز گزاروں کے لباس کے احکام کو ملحوظ رکھتے ہوئے اور اس حکم کو پيش نظر رکھتے ہوئے کہ مردوں کا خود کو سونے سے مزين کرنا حرام ہے۔ درج ذيل دو سوالوں کے جواب مرحمت فرمائيں:
١۔ يا سونے سے زينت کرنے کا مطلب يہ ہے کہ مردوں کے لئے مطلق طور پر سونے کا استعمال حرام ہے خواہ ہڈي کے زحم اور دانت بنوانے ہي کے لئے ہو؟
٢۔ اس بات کو مد نظر رکھتے ہوئے کہ ہمارے شہر ميں رواج ہے کہ نئے شادي شدہ جوڑے، منگني ميں زرد سونے کي انگوٹھي پہنتے ہيں اور عام لوگوں کي نظر ميں يہ چيز کسي طرح بھي زينت ميں شمار نہيں ہوتي بلکہ يہ اس شخص کے لئے، ازدواجي کي شروعات کي علامت ہے، اس سلسلہ ميں آپ کا کيا نظريہ ہے؟
ج۔ مردوں کے لئے سونا پہننے کے حرا م ہونے کا معيار زينت کا صادق آنا نہيں ہے بلکہ کسي بھي طرح اور کسي بھي قصد سے سونا پہننا حرام ہے چاہے وہ سونے کي انگوٹھي ہو يا گلوبند و زنجير وغيرہ ہو ليکن زخم ميں بھرنے اور دانت بنوانے ميں مردوں کے لئے سونے کے استعمال ميں کوئي حرج نہيں ہے۔
٢۔ منگني کے زرد سونے کي انگوٹھي پہننا مردوں کیلئے ہر حال ميں حرام ہے۔
س٤٥٦۔ سونے کے ان زيورات کو بيچنے اور انہيں بنانے کا کيا حکم ہے جو مردوں سے مخصوص ہيں اور جنہيں عورتيں نہيں پہنتيں؟
ج۔ سونے کے زيورات بنانا اگر وہ صرف مردوں کے استعمال کے لئے ہوں حرام ہے اور اسي طرح انہيں مردوں کے لئے خريدنا اور بيچنا بھي جائز نہيں ہے۔
س٤٥٧۔ہم بعض دعوتوں ميں ديکھتے ہيں کہ شيريني چاندي کے ظروف ميں پيش کي جاتي ہے کيا اس عمل کو چاندي کے ظروف ميں کھانے سے تعبير کيا جائے گا؟ اور اس کا کيا حکم ہے؟
ج۔ کھانے کے قصد سے چاندي کے برتن ميں سے کھانے وغيرہ کي چيز لينا حرام ہے۔
س٤٥٨۔ کيا مردوں کے لئے جائز ہے کہ وہ دانتوں پر سونے کا رنگ چڑھوائيں يا سونے کا دانت لگوائيں؟
ج۔ اس ميں کوئي حرج نہيں ہے، سامنے کے چار دانتوں کے سوا۔ پس اگر زينت کے قصد سے ايسا کيا جائے تو اس ميں اشکال ہے۔
س٤٥٩۔ کيا دانت پر سونے کا خول چڑھوانے ميں کوئي اشکال ہے؟ اور دانت پر پلاٹينيم کا خول چڑھوانے کا کيا حکم ہے؟
ج۔ دانت پر سونے يا پلاٹينيم کا خول چڑھوانے ميں کوئي حرج نہيں ہے۔ ليکن اگر زينت کي غرض سے خصوصاً سامنے کے چار دانتوں پر سونے کا خول چڑھوائے تو اشکال سے خالي نہيں ہے۔
 


اذان و اقامت
 


س٤٦٠۔ رمضان المبارک ميں ہمارے گاوں ميں موذن ہميشہ صبح کي اذان وقت سے چند منٹ پہلے ہي ديتا ہے تاکہ لوگ درميان اذان يا اذان ختم ہونے تک کھانے پينے سے فارغ ہوليں۔ کيا يہ عمل صحيح ہے؟
ج۔ اگر اذان کي آواز لوگوں کو شبہہ ميں مبتلا نہ کرے اور وہ طلوع فجر کے اعلان کے عنوان سے نہ ہو تو اس ميں کوئي اشکال نہيں ہے۔
س٤٦١۔ بعض اشخاص امربالمعروف اور نہي عن المنکر کے فريضہ کي انجام دہي کے لئے وہ اجتماعي صورت ميں عام راستوں ميں اذان ديتے ہيں اور خدا کا شکر ہے کہ اس اقدام کے علاقے ميں کھلم کھلا فسق و فساد روکنے ميں بڑا اثر ہورہا ہے اور عام لوگ خصوصاً جوان اول وقت نما زپڑھنے لگے ہيں؟
ليکن ايک صاحب کہتے ہيں کہ : يہ عمل شريعت اسلامي ميں وارد نہيں ہوا ہے ، يہ بدعت ہے، اس بات سے شبہہ پيدا ہوگيا ہے ، آپ کا کيا نظريہ ہے؟
ج۔ روزانہ کي واجب نمازوں کے اول اوقات ميں نماز کے لئے اذان دينا اور سامعين کي طرف سے اسے بلند آواز سے دہرانا مستحبات ميں سے ہے جن کي شريعت نے تاکيد کي ہے اور سڑکوں کے کناروں پر اجتماعي صورت ميں اذان دينے ميں اگر يہ عمل بے حرمتي يا راستہ روکنے اور دوسروں کي اذيت کا سبب نہ ہو تو کوئي حرج نہيں ہے۔
س٤٦٢۔ چونکہ اذان دينا عبادي ، سياسي عمل ہے اور اس ميں عظيم ثواب ہے لہذا مومنين نے يہ طے کيا ہے کہ وہ لاوڈ اسپيکر کے بغير واجب نماز کے وقت خصوصاً نماز صبح کے لئے اپنے اپنے گھروں کي چھت سے اذان ديں گے(ليکن) سوال يہ ہے کہ اگر اس عمل پر بعض ہمسايہ اعتراض کريں تو اس کا کيا حکم ہے؟
ج۔ عام طور پر جس طرح اذان دي جاتي ہے اس طرح مکان کي چھت سے اذان دينے ميں کوئي اشکال نہيں ہے بشرطيکہ اس سے دوسروں کو تکليف نہ پہنچے اور نہ ہمسايوں کے گھروں کي طرف نگاہ اٹھائي جائے۔
س٤٦٣۔رمضان المبارک ميں اذان صبح کو چھوڑ کر مسجد کے لاوڈ اسپیکر سے سحري کے مخصوص پروگرام نشر کرنے کا کیا حکم ہے تاکہ سب لوگ سب لیں ؟
ج۔ رمضان المبارک کي راتوں ميں جہاں اکثر لوگ تلاوت قرآن مجيد، دعائيں پڑھنے اور ديني و مذہبي مراسم ميں شرکت کے لئے بيدار رہتے ہيں وہاں اس ميں کوئي حرج نہيں ہے ليکن اگر يہ مسجد کے ہمسايوں کي تکليف کا موجب ہو تو جائز نہيں ہے۔
س٤٦٤۔ کيا اذان صبح سے قبل مساجد اور مراکز سے بہت بلند آواز ميں جس کي آواز کئي کلوميٹر تک پہنچے قرآني آيات اور دعاوں کا نشر کرکے دوسروں کو زحمت ميں مبتلا کرنا صحيح نہيںہے۔
ج۔رائج طریقہ کے مطابق نماز صبح کے وقت کے داخل ہونے اعلان کے لئے لاوڈ اسپیکر سے اذان دینے ميں کوئي حرج نہيں ہے لیکن لاوڈ اسپیکر کے ذریعے سے مسجد سے آیت قرآني اور دعاوں وغیرہ کا کسي بھي وقت نشر کرنا اگر ہمسائیوں کیلئے تکلیف کا باعث ہے تو اس کیلئے شرعاً کوئي جواز نہيں بلکہ اس ميں اشکال ہے اور بنیادي طور پر آیات قرآني کي تلاوت اور دعاو ں کے نشر کرکے دوسروں کو زحمت ميں مبتلا کرنا صحیح نہيںہے ۔
س٤٦٥۔ کيا اپني نما زکے لئے مرد عورت کي اذان پر اکتفا کرسکتا ہے؟
ج۔ عورت کي اذان پر اکتفا کرنا بعيد نہيں ہے اگر اس کے تمام کلمات سنے گئے ہوں۔
س٤٦٦۔ واجب نماز کي اذان و اقامت ميں شہادت ثالثہ يعني سيد الاوصيائ ( حضرت علي ٴ) کو امير و ولي کہنے کے سلسلے ميں آپ کا کيا نظريہ ہے؟
ج۔ شرع کے لحاظ سے اذان و اقامت کا جزئ نہيں ہے ليکن اگر اذان و اقامت کے جزئ اور اس ميں شامل ہونے کے قصد سے نہ ہو تو اسے کہنے ميں کوئي حرج نہيں ہے بلکہ اگر خليفہ رسول صلي اللہ عليہ و عليٰ اوصيائہ المعصومين ٴ کہنا اپنے عقيدے کے اعتراف و اذعان کے اظہار کے لئے ہو تو راجح و بہتر ہے۔
 


قرآت اور اس کے احکام
 


س٤٦٧۔ ہماري اس نماز کا کيا حکم ہے جس ميں قرآت جہري يعني آواز سے نہ ہو؟
ج۔ مردوں پر واجب ہے کہ وہ صبح، مغرب اور عشائ کي نماز ميں حمد و سورہ کو بلند آواز سے پڑھيں ۔
س٤٦٨۔ اگر ہم صبح کي قضا نماز پڑھنا چاہيں تو اسے بلند آواز سے پڑھيں گے يا آہستہ؟
ج۔ صبح، مغرب اور عشائ کي نمازوں ميں چاہے وہ ادا ہوں يا قضا، حمد و سورہ کو بہرحال آواز سے پڑھنا واجب ہے چاہے ان کي قضا دن ميں پڑھي جائے۔
س٤٦٩۔ ہم جانتے ہيں کہ نماز کي ايک رکعت نيت، تکبيرۃ الاحرام ، حمد و سورہ اور رکوع و سجود پر مشتمل ہے، دوسري طرف ظہر و عصر اور مغرب کي تيسري رکعت اور عشا کي آخري دو ( تيسري اور چوتھي) رکعتوں کو آہستہ پڑھنا بھي واجب ہے۔ليکن ٹيلي ويژن سے تيسري رکعت کے رکوع و سجود کو بلند آواز سے نشر کيا جاتا ہے جبکہ معلوم ہے کہ رکوع وسجود دونوں ہي اس رکعت کي جزئ ہيں جس کو آہستہ پڑھنا واجب ہے۔ اس مسئلہ ميں آپ کا کيا حکم ہے؟
ج۔ مغرب و عشائ اور صبح کي نماز ميں آواز سے پڑھنا واجب ہے، اور ظہر و عصر کي نما زميں آہستہ پڑھنا واجب ہے۔ ليکن يہ صرف حمد و سورہ ميں ہے۔ جيسا کہ مغرب و عشائ کي پہلي دو رکعتوں کے علاوہ باقي رکعتوں ميں اخفات يعني آہستہ پڑھنا واجب ہے اور يہ ( اخفات) ، صرف سورہ حمد و تسبيحات ( اربعہ) سے مخصوص ہے ليکن رکوع و سجود کے ذکر نيز تشہد و سلام اور اسي طرح نمازپنجگانہ کے تمام واجب اذکار ميں مکلف کو اختيار ہے کہ وہ انہيں آواز سے ادا کرے يا آہستہ پڑھے۔
س٤٧٠۔ اگر کوئي شخص ،روزانہ کي سترہ رکعت نمازوں کے علاوہ احتياطاً سترہ رکعت قضا نماز پڑھنا چاہتا ہے تواس پر صبح اور مغرب و عشا کي پہلي دو رکعتوں ميں حمد و سورہ آواز سے پڑھنا واجب ہے يا آہستہ پڑھنا؟
ج۔ نماز پنجگانہ کے اخفات و جہر کے وجوب ميں ادا و قضا نما زکے لحاظ سے کوئي فرق نہيں ہے، چاہے وہ احتياطي ہي کيوں نہ ہو۔
س٤٧١۔ہم جانتے ہيں کہ لفظ صلوۃ کے آخر ميں (ت) ہے لیکن حيّ علي الصلاۃ (حا) کیساتھ کہتے ہيں کیا صحیح ہے ؟
ج۔ لفظ صلوٰۃ کے اختتام پر ’’ ہا‘‘ پر وقف کرنے ميں کوئي حرج نہيں ہے بلکہ يہي معين ہے۔
س٤٧٢۔ تفسير سورہ حمد ميں امام خميني
۲ کے نظريہ کو ملحوظ رکھتے ہوئے کہ آپ نے سورہ حمد کي تفسير ميں لفظ ملک کا مالک پر ترجيح دي ہے تو کيا واجب و غير واجب نمازوں ميں اس سورہ مبارکہ کي قرآت ميں دونوں طريقوں سے پڑھنا صحيح ہے؟
ج۔
اس مورد ميں احتياط کرنے ميں کوئي حرج نہيں ہے۔
س٤٧٣۔ کيا نماز گزار کے لئے صحيح ہے کہ وہ ’’غير المغضوب عليہم ۔۔۔۔۔ ‘‘ پڑھنے کے بعد عطف فوري کے بغير وقف کرے پھر ’’ ولا الضآلين ‘‘ پڑھے اور کيا تشہد ميں لفظ ’’ محمد‘‘ پر ٹھہرنا صحيح ہے جيسا کہ ہم ( صلواۃ پڑھتے وقت) کہتے ہيں اللھم صلي علي محمد پھر تھوڑے وقفہ کے بعد ’’ وآل محمد ‘‘ کہتے ہيں؟
ج۔ اس حد تک کوئي حرج نہيں ہے جب تک کہ وحدت جملہ ميں خلل نہ پيدا ہو۔
س٤٧٤۔ امام خميني
۲ سے درج ذيل سے استفتائ کيا گيا:
تجويد ميں حرج ’’ ضاد‘‘ کے تلفظ کے سلسلہ ميں متعدد اقوال ہيں آپ کس قول پر عمل کرتے ہيں؟ اس کے جواب ميں امام خميني
۲ نے لکھا کہ علمائے تجويد کے مطابق حروف کے مخارج کي معرفت واجب نہيں ہے بلکہ ہر حرف کا تلفظ اس طرح ہونا واجب ہے کہ عرب کے عرف کے نزديک صادق آجائے کہ وہ حرف اد اہوگيا،اب سوال يہ ہے:
اول يہ کہ :اس عبارت کے معني کيا ہيں کہ ’’ عرب کے عرف ميں يہ صادق آجائے کہ اس نے وہ حرف ادا کيا ہے ۔
دوسرے :کيا علم تجويد کے قواعد عرف و لغت عرب سے نہيں بنائے گئے ہيں ۔ جيسا کہ ان ہي سے صرف و نحو کے قواعد بنائے گئے ہيں؟ پس لغت و عرف ميں جدائي کيسے ممکن ہے؟
تيسرے : اگر کسي کو کسي معتبر طريقہ سے يہ علم حاصل ہوگيا کہ وہ قرآت کے دوران حروف کو صحيح مخارج سے ادا نہيں کرتا يا وہ عام طور پر حروف و کلمات کو صحيح شکل ميں ادا نہيں کرتا اور اس کے سيکھنے کے لئے اسے ہر قسم کے مواقع فراہم ہيں، گويا سيکھنے کے لئے اس کي استعداد بھي اچھي ہے يا اس کا علم حاصل کرنے کے لئے اس کے پاس وقت بھي ہے تو کيا ، اپني صلاحيت کي حدود ميں ،اس پر صحيح قرآت سيکھنے يا صحيح سے نزديک قرآت کے سيکھنے کي کوشش کرنا واجب ہے يا نہيں؟
ج۔ قرآت کے صحيح ہونے ميں معيار يہ ہے کہ وہ اہل زبان ، جنہوںنے تجويد کے قواعد و ضوابط بنائے ہيں، کي قرآت کے موافق ہو۔اس بنا پر کسي حروف کے تلفظ کي کيفيت ميں جو علمائے تجويد کے اقوال ميں اختلاف ہے، اگر يہ اختلاف اہل زبان کے تلفظ کي کيفيت کو سمجھنے ميں ہے تو اس کي اصل اور مرجع خود عرف اہل لغت ہے ليکن اگر اقوال ميں اختلاف ہے ليکن اگر اقوال کے اختلاف کا سبب تلفظ کي کيفيت ميں خود اہل زبان کا اختلاف ہے تو مکلف کو اختيار ہے کہ جس قول کو چاہے اختيار کرے۔
س٤٧٥۔ جس شخص کي ابتدائ سے نيت يا عادت ہو کہ وہ حمد کے بعد سورہ اخلاص پڑھتا ہے اور اگر کبھي اس نے سورہ مشخص کئے بغير بسم اللہ پڑھ لي تو کيا اس پر واجب ہے کہ پہلے سورہ معين کرے اس کے بعد دوبارہ بسم اللہ پڑھے؟
ج۔ اس پر بسم اللہ کا اعادہ کرنا واجب نہيں ہے بلکہ وہ اسي پر اکتفا کرسکتا ہے اور پھر حمد کے بعد جو سورہ چاہے پڑھ سکتا ہے۔
س٤٧٦۔ کيا واجب نمازوں ميں عربي الفاظ کو کامل طور پر ادا کرنا واجب ہے؟ اور کيا اس صورت ميں بھي نماز کو صحيح کہا جائے گا جب کلمات کا تلفظ مکمل طور پر صحيح عربي ميں نہ کيا جائے؟
ج۔ نما زکے تمام اذکار جيسے حمد وسورہ کي قرآت اور ديگر ذکر و تسبيحات کا صحيح طريقہ سے ادا کرنا واجب ہے۔ اور اگر نماز گزار عربي الفاظ کي اس کيفيت کو نہيں جانتا جس کے مطابق ان کا پڑھنا واجب ہے تو اس پر سيکھنا واجب ہے اور اگر سيکھنے سے عاجز ہو تو معذور ہے۔
س٤٧٧۔ نماز ميں قلبي قرآت ، يعني کلمات کو تلفظ کے بدل دل ميں دہرانے پر قرآت صادق آتي ہے يا نہيں؟
ج۔ اس پر قرآت کا عنوان صادق نہيں آتا اور نماز ميں ايسے تلفظ کا ہونا ضروري ہے جس پر قرآت صادق آئے۔
س٤٧٨۔ بعض مفسرين کي رائے کے مطابق قرآن مجيد کے چند سورے مثلاً سورہ فيل و قريش ، انشراح و ضحي کامل سورے نہيں ہيں، وہ کہتے ہيں کہ جو شخص ان سوروں ميں سے ايک سورہ مثلاً سورہ فيل پڑھے اس پر اس کے بعد سورہ قريش پڑھنا واجب ہے اسي طرح سورہ انشراح وضحي کو بھي ايک ساتھ پڑھنا واجب ہے۔ پس اگر کوئي شخص نماز ميں سورہ فيل يا تنہا سورہ ضحي پڑھتا ہے اور اس مسئلہ سے واقف نہيں ہے تو اس کا کيا فريضہ ہے؟
ج۔ وہ گزشتہ نمازيں ، جن ميں اس نے سورہ فيل و ايلاف يا سورہ ضحي و الم نشرح ميں سے ايک سورہ پر اکتفا کي ہے، صحيح ہيں اگر وہ اس مسئلہ سے بے خبر رہا ہو۔
س٤٧٩۔ اگر اثنائے نما زميں ايک شخص غافل ہوجائے اور ظہر کي تيسري رکعت ميں حمد و سورہ پڑھے اور نماز تمام ہونے کے بعد اسے ياد آئے تو کيا اس پر اعادہ واجب ہے؟ اور اگر ياد نہ آئے تو اس کي نماز صحيح ہے يا نہيں؟
ج۔ پہلي دو رکعتوں کے علاوہ ديگر رکعات ميں بھي سورہ حمد پڑھنا کافي ہے خواہ غفلت و نسيان ہي سے پڑھے۔اور غفلت يا جہالت کي وجہ سے زيادہ سورہ پڑھنے سے بھي اس پر کوئي چيز واجب نہيں ہوتي۔
س٤٨٠۔ امام خميني
۲ کا نظريہ ہے کہ نماز ظہر و عصر ميں اخفات کا معيار عدم جہر ہے اور يہ بات ہميں معلوم ہے کہ دس حروف کے علاوہ بقيہ حروف جہري صورت ميں پڑھے جاتے ہيں۔ اس بنا پر اگر ہم نما زظہر و عصر کو آہستہ پڑھيں تو اٹھارہ جہري حروف کا حق کيسے ادا ہوگا۔ اميد ہے کہ اس مسئلہ کي وضاحت فرمائيںگے؟
ج۔ اخفات کا معيار بالکل بے صدا پڑھنا نہيں ہے۔ بلکہ اس سے مراد آواز کا اچھي طرح اظہار نہ کرنا ہے اور يہ جہر کے مقابل ہے جس سے مراد آواز کا اظہار ہے۔
س٤٨١۔ غير عرب افراد خواہ مرد ہوں يا عورتيں اسلام قبول کرليتے ہيں ليکن عربي سے واقف نہيں ہوتے وہ اپنے ديني واجبات يعني نماز وغيرہ کو کس طرح ادا کرسکتے ہيں؟ اور بنيادي طور سے ان کے لئے عربي سيکھنا ضروري ہے يا نہيں؟
ج۔ نما زميں تکبير ، حمد و سورہ ، تشہد اور سلام کا سيکھنا واجب ہے اور اسي طرح جس چيز ميں بھي عربي کا تلفظ شرط ہے، اسے سيکھنا واجب ہے۔
س٤٨٢۔ کيا اس بات پر کوئي دليل ہے کہ شب کے نوافل يا جہري نمازوں کے نوافل کو آواز سے پڑھا جائے۔ اسي طرح اخفاتي نمازوں کے نوافل کو آہستہ پڑھا جائے۔ اگر جواب مثبت ہے تو کيا اگر جہري نما زکے نوافل آہستہ اور اخفاتي نما زکے نوافل بلند آواز سے پڑھے جائيں توکافي ہوں گے؟اس سلسلے ميں اپنے فتوے سے نوازئيے؟
ج۔ واجب جہري نمازوں کے نوافل کو بھي آواز سے پڑھنا مستحب اور ( يوں ہي) آہستہ پڑھي جانے والي نمازوں کے نوافل کو آہستہ پڑھنا مستحب ہے ، اگر اس کے خلاف اور برعکس عمل کرے تو بھي جائز ہے۔
س٤٨٣۔ کيا نماز ميں سورہ حمد کے بعد ايک کامل سورہ کي تلاوت کرنا واجب ہے يا قرآن کي چند آيتيں پڑھنا کافي ہے؟ اور کيا پہلي صورت ميں يعني حمد و سورہ پڑھنے کے بعد قرآن کي چند آيتيں پڑھنا جائز ہے؟
ج۔ روز مرہ کي واجب نمازوں ميں ايک کامل سورہ کے بجائے قرآن کي چند آيات پڑھنا کافي نہيں ہے ليکن مکمل سورہ پڑھنے کے بعد قرآن کے عنوان سے بعض اوقات کے پڑھنے ميں کوئي حرج نہيں ہے۔
س٤٨٤۔ اگرسستي کي وجہ سے يا اس لہجہ کے سبب جس ميں انسان گفتگو کرتا ہے، حمد و سورہ کے پڑھنے يا نماز کے کلمات و حرکات کے اعراب کي ادائيگي ميں غلطي ہوجائے اور ’’ يولد ‘‘ کے بجائے ’’ يولد ‘‘ بالکسرہ پڑھے تو اس نماز کا کيا حکم ہے؟
ج۔ اگر يہ جان بوجھ کر يا وہ جاہل مقصر جو سيکھنے پر قدرت رکھتا ہے ، اس کے باجود ايسا کرتا ہے تو اس کي نما زباطل ہے ورنہ صحيح ہے۔
س٤٨٥۔ ايک شخص کي عمر ٣٥ يا ٤٠ سال ہے، بچپنے ميں اس کے والدين نے اسے نما زنہيں سکھائي تھي، اس ان پڑھ آدمي نے صحيح طريقہ سے نماز سيکھنے کي کوشش کي ليکن نماز کے اذکار و کلمات کو صحيح صورت ميں ادا کرنا اس کے امکان ميں نہيں ہے بلکہ بعض کلمات کو تو وہ ادا ہي نہيں کرپاتا ہے کيا اس کي نماز صحيح ہے؟
ج۔ اس کي نماز صحيح ہے بشرطيکہ جتنے کلمات کا ادا کرنا اس کے بس ميں ہے ، انہيں ادا کرے۔
س٤٨٦۔ ميں نماز کے کلمات کو ويسے ہي تلفظ کرتا تھا جيسا کہ ہم نے انہيں اپنے والدين سے سيکھا تھا اور جيسا کہ ہميں مڈل اسکول ميں سکھايا گيا تھا ، بعد ميں مجھے يہ معلوم ہو اکہ ميں ان کلمات کو غلط طريقہ سے پڑھتا تھا ، کيا مجھ پر ، امام خميني طاب ثراہ کے فتوے کے مطابق ، ان نمازوں کا اعادہ کرنا واجب ہے؟ يا وہ تمام نمازيں جو ميں نے اس طريقہ سے پڑھي ہيں صحيح ہيں؟
ج۔ سوال کي مفروضہ صورت ميں گزشتہ تمام نمازيں صحيح ہيں نہ ان کا اعادہ کرنا ہے اور نہ قضا۔
س٤٨٧۔ کيا اس شخص کي نما زاشارے سے صحيح ہے جس کو گونگے پن کا مرض لاحق ہوگيا ہے اور وہ بولنے پر قادر نہيں ہے ليکن اس کے حواس سالم ہيں؟
ج۔ مذکورہ فرض کے مطابق اس کي نما زصحيح اور کافي ہے۔


ذکر
 


س٤٨٨۔ کيا جان بوجھ کررکوع و سجود کے اذکار کو ايک دوسرے کي جگہ ادا کرنے ميں کوئي حرج ہے؟
ج۔ اگر انہيں محض اللہ عزاسمہ کے ذکر کے عنوان سے بجالائيں تو کوئي حرج نہيں ہے رکوع و سجود اور پوري نماز صحيح ہے۔
س٤٨٩۔ اگر ايک شخص بھولے سے سجود ميں رکوع کا ذکر پڑھتا ہے يا اس کے برعکس رکوع ميں سجود کا ذکر پڑھتا ہے اور اسي وقت اس کو ياد آگيا اور وہ اس کي اصلاح کرلے تو کيا اس کي نماز باطل ہے؟
ج۔ اس ميں کوئي حرج نہيں ہے اور اس کي نماز صحيح ہے۔
س٤٩٠۔ اگر نماز گزار کو نماز سے فارغ ہونے کے بعد يا اثنائے نما زميں ياد آجائے کہ ذکر غلط تھا تو اس مسئلہ ميں کيا حکم ہے؟
ج۔ اگر ذکر کے محل سے آگے بڑھ چکا ہے يعني رکوع و سجود کو ختم کرچکا ہے تو اس کے ذمہ کچھ نہيں ہے۔
س٤٩١۔ کيا نماز کي تيسري او ر چوتھي رکعت ميں ايک مرتبہ تسبيحات اربعہ پڑھنا کافي ہے؟
ج۔ کافي ہے، اگرچہ تين مرتبہ پڑھنا احتياط مستحب ہے۔
س٤٩٢۔ نماز ميں تين مرتبہ تسبيحات اربعہ پڑھنا چاہئيے مگر ايک شخص بھولے سے چار مرتبہ پڑھتا ہے تو کيا خدا کے نزديک اس کي نماز قبول ہے؟
ج۔ اس ميں کوئي حرج نہيں ہے۔
س٤٩٣۔ اس شخص کا کيا حکم ہے جو يہ نہيں جانتا کہ اس نے نماز کي تيسري اور چوتھي رکعت ميں تسبيحات اربعہ تين مرتبہ پڑھي ہے يا اس سے زيادہ يا کم پڑھي ہے؟
ج۔ ايک مرتبہ پڑھنا بھي کافي ہے اور وہ بري الذمہ ہے اور جب تک رکوع ميں نہيں جاتا اس وقت تک وہ تسبيحات ميں کم پر بنا رکھتے ہوئے اس کي تکرار کرے گا، يہاں تک کہ اسے يقين ہوجائے کہ تسبيحات اربعہ تين مرتبہ پڑھ لي ہيں۔
س٤٩٤۔ کيا نماز ميں بدن کي حرکت کے وقت ’’ بحول اللہ ‘‘ کہنا جائز ہے کيا يہ اسي طرح صحيح ہے جس طرح قيام کي حالت ميں صحيح ہے؟
ج۔ اس ميں کوئي حرج نہيں ہے اور مذکورہ ذکر کي اصل صورت يہ ہے کہ اسے نماز کي اگلي رکعت کے قيام کي حالت ميں انجام پانا چاہئيے۔
س٤٩٥۔ ذکر سے کيا مراد ہے ؟ کيا اس ميں نبي اکرم
۰ اور آپ ۰ کي آل ٴ پر صلوات بھي شامل ہے؟
ج۔ جو عبادت بھي اللہ عزاسمہ کے ذکر پر مشتمل ہے وہ ذکر ہے اور محمد و آل محمد
۰ پر صلوات بھيجنا بہترين ذکر ہے۔
س٤٩٦۔ نماز وتر ، جو کہ ايک ہي رکعت ہے، جب ہم اس ميں قنوت کے لئے ہاتھ بلند کرتے ہوئے اور خدا سے اپني حاجتيں طلب کرتے ہيں تو کيا اس ميں کوئي اشکال ہے کہ ہم اپني حاجتيں فارسي ميں بيان کريں؟
ج۔ قنوت ميں فارسي ميں دعا کرنے ميں کوئي حرج نہيں ہے بلکہ قنوت ميں مطلق دعا کسي بھي زبان ميں کرنے ميں کوئي حرج نہيں ہے۔
 


سجدہ کے احکام
 


س٤٩٧۔ سيمنٹ اور موزائيک (ٹائلز)پر سجدہ اور تيمم کرنے کا کيا حکم ہے؟
ج۔ ان دونوں پر سجدہ کرنے ميں کوئي حرج نہيں ہے ليکن تيمم محل اشکال ہے اور احتياط واجب يہ ہے کہ نہ کيا جائے۔
س٤٩٨۔ کيا حالت نماز ميں اس موزائيک (ٹائل)پر ہاتھ رکھنے ميں کوئي اشکال ہے جس ميں چھوٹے چھوٹے سوراخ ہوں؟
ج۔ مذکورہ فرض ميں کوئي اشکال نہيں ہے۔
س٤٩٩۔ کيا مٹي کي اس سجدہ گاہ پر سجدہ کرنے ميں کوئي اشکال ہے جوميل سے کالي ہوگئي ہواس طرح کہ اصل خاک اس ميل کي پرت سے چھپ گئي ہو اور پيشاني اور خاک کے درميان حائل ہو؟
ج۔ اگر سجدہ گاہ پر اتنا زيادہ ميل ہو جو پيشاني اور سجدہ گاہ کي خاک کے درميان حاجب بن جائے تو اس پر سجدہ باطل ہے اور اسي طرح نماز بھي (باطل ہے)
س٥٠٠۔ ايک عورت سجدہ گاہ پر سجدہ کرتي ہے اور اس کي پيشاني خاص کر سجدہ کي جگہ حجاب سے چھپي ہوئي ہے، تو کيا اس پر ان نمازوں کا اعادہ واجب ہے؟
ج۔ اگر وہ سجدہ کے وقت اس حائل کي طرف متوجہ نہ تھي تو اس پر نمازوں کا اعادہ واجب نہيں ہے۔
س٥٠١۔ ايک عورت سجدہ گاہ پر اپنا سر رکھتي ہے اور يہ محسوس کرتي ہے کہ اس کي پيشاني مکمل طور پر خاک سے مس نہيں ہوئي ہے، گويا چادر يا رومال حائل ہے جو مکمل طور پر سجدہ گاہ سے مس نہيں ہونے دے رہا ہے۔ لہذا وہ اپنا سر اٹھاتي ہے اور حائل چيز کو ہٹا کر دوبارہ خاک پر اپنا سر رکھتي ہے اس مسئلہ ميں کيا حکم ہے؟اگر اس کے بعد والے کو مستقبل سجدہ فرض کيا جائے تو اس کے ساتھ پڑھي جانے والي نمازوں کا کيا حکم ہے؟
ج۔ اس پر واجب ہے کہ زمين سے اٹھائے بغير پيشاني کو اتني حرکت دے کہ وہ خاک تک پہنچ جائے اور اگر سجدہ گاہ پر سجدہ کرنے کے لئے زمين سے پيشاني اٹھانا لاعلمي اور فراموشي کي وجہ سے ہو اور يہ کام وہ ايک ہي رکعت کے دو سجدوں ميں سے ايک ميں انجام ديتي ہو تو اس کي نماز صحيح ہے اور اعادہ واجب نہيں ہے ليکن اگر وہ سجدہ گاہ پر سجدہ کرنے کے لئے جان بوجھ کر سر اٹھاتي ہے يا ہر رکعت کے دونوں سجدوں ميںايسا کرتي ہے تو اس کي نما زباطل ہے اور اس پر نماز کا اعادہ واجب ہے۔
س٥٠٢۔ حالت سجدہ ميں ساتوں اعضائ سجدہ کو زمين پر رکھنا واجب ہے ليکن ہمارے لئے يہ مقدور نہيں ہے کيونکہ ہم جنگي زخميوں ميں سے ہيں جو متحرک کرسي سے استفادہ کرتے ہيں۔ نما زکے لئے ہم يا سجدہ کو پيشاني تک ملاتے ہيںيا سجدہ گاہ کو کرسي کے بازو پر رکھ کر اس پر سجدہ کرتے ہيں کيا ہمارا اس طرح سجدہ کرنا صحيح ہے؟
ج۔ اگر آپ کرسي کے دستہ پر سجدہ گاہ رکھ کر اس پر سجدہ کرسکتے ہيں تو ايسا ہي کريں اور آپ کي نما زصحيح ہے ورنہ جو طريقہ بھي آپ کے لئے ممکن ہو مثلاً اشارہ يا ايمائ ہي سے رکوع و سجود کريں اس ميں کوئي اشکال نہيں ہے۔ اللہ آپ لوگوں کو مزيد توفيق عطا کرے۔
س٥٠٣۔ مقامات مقدسہ کي زمين پر بچھائے گئے سنگ مرمر پر سجدہ کرنے کا کيا حکم ہے؟
ج۔ سنگ مرمر پر سجدہ کرنے ميں کوئي حرج نہيں ہے۔
س٥٠٤۔ سجدہ کي حالت ميں انگوٹھے کے علاہ پير کي بعض ديگر انگليوں کے زمين پر رکھنے کا کيا حکم ہے؟
ج۔ اس ميں کوئي حرج نہيں ہے۔
س٥٠٥۔کچھ دنوں پہلے نماز کے لئے ايک سجدہ گاہ بنائي گئي ہے جسے ’’ مہرامين‘‘ کہتے ہيں۔ اس کا فائدہ يہ ہے کہ وہ نماز گزار کي رکعتوں اور سجدوں کو شمار کرتي ہے اور ايک حد تک شک کو رفع کرتي ہے۔ يہ معلوم ہے کہ جس کمپني نے اس سجدہ گاہ کو بنايا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ مراجع تقليد نے اس پر سجدہ کي اجازت دي ہے۔ اس وقت وہ نيچے کي طرف حرکت کرتي ہے اس لئے کہ اس کے نيچے لوہے کي ايک اسپرنگ ہے۔ کيا ايسي صورت ميں اس پر سجدہ صحيح ہے۔
ج۔ اگر يہ ان چيزوں ميں سے ہے جن پر سجدہ کرنا صحيح ہے اور پيشاني رکھنے اور اس پر دباو پڑنے کے بعد وہ ثابت ہوجاتي ہے اور ٹھہر جاتي ہے تواس پر سجدہ کرنے ميں کوئي اشکال نہيں ہے۔
س٥٠٦۔ سجدوں کے بعد بيٹھتے وقت ہم کس پير کو دوسرے پير کے اوپر رکھيں؟
ج۔ داہنے پير کو بائيں پير کے باطني حصہ پر رکھنا مستحب ہے۔
س٥٠٧۔ رکوع و سجود ميں واجب ذکر کے بعد کون سا ذکر بہتر و افضل ہے؟
ج۔ واجب ذکر ہي کي اتني تکرار کرے کہ وہ طاق پر تمام ہوجائے (مثلاً ٣، ٥، ٧، ٩) اس کے علاوہ سجود ميں دنيوي و اخروي حاجات طلب کرنا بھي مستحب ہے۔
س٥٠٨۔ اگر قاري سامنے نہ ہو بلکہ ذرائع ( مثلاً ريڈيو اور ٹيپ ريکارڈ) کے ذريعہ وہ آيات نشر ہورہي ہو جن ميں سجدہ واجب ہے تو ان کو سننے کے بعد شرعي فريضہ ہے ؟
ج۔ ٹيپ ريکارڈ وغيرہ کے ذريعہ آيات سجدہ کے سننے سے سجدہ واجب نہيں ہوتا ہے، ليکن اگر ريڈيو اور لاوڈ اسپيکر سے براہ راست زندہ تلاوت نشر ہورہي ہے ، تو بنا بر احتياط سجدہ واجب ہے۔
 


نماز ميں سلام کے احکام
 


س٥٠٩۔ کيا بچوں اور بچيوں کے سلام کا جواب دينا واجب ہے؟
ج۔ لڑکے لڑکيوں ميں سے مميز بچوں کے سلام کا جواب دينا يوں ہي واجب ہے جيسے مردوں اور عورتوں کے سلام کا جواب دينا واجب ہے۔
س٥١٠۔ اگر کسي شخص نے سلام سنا اور غفلت يا کسي دوسري وجہ سے اس کا جواب نہ ديا يہاں تک کہ تھوڑ افاصلہ ہوگيا تو کيا اس کے بعد جواب سلام دينا واجب ہے۔
ج۔ اگر اتني تاخير ہوجائے کہ اس کو سلام کا جواب نہ کہا جائے تو جواب دينا واجب نہيں ہے ۔
س٥١١۔ اگر ايک شخص ايک جماعت پر اس طرح سلام کرے ’’ السلام عليکم جميعاً ‘‘ اور ان ميں سے ايک نماز پڑھ رہا ہو تو کيا نماز پڑھنے والے پر سلام کا جواب دينا واجب ہے جبکہ حاضرين بھي سلام کا جواب ديں؟
ج۔ احتياط واجب يہ ہے کہ اگر دوسرے جواب دينے والے موجود ہوں تو نمازي جواب دينے ميں عجلت نہ کرے۔
س٥١٢۔ جو تحيت ( مثلاً آداب و بندگي) سلام کے صيغہ کي صورت ميں نہ ہو تو اس کا جواب دينے کے سلسلہ ميں آپ کا کيا نظريہ ہے؟
ج۔ اگر تحيت قول کي صورت ميں ہو اور عرف عام ميں اسے تحيت شمار کيا جاتا ہو اور اگر انسان نما زميں ہے تو اس کا جواب دينا جائز نہيں ہے ليکن اگر حالت نما زميں نہ ہو تو احتياط واجب يہ ہے کہ جواب دے۔
س٥١٣۔ اگر ايک شخص ايک ہي وقت کئي بار سلام کرے يا متعدد اشخاص سلام کريں تو کيا سب کا ايک ہي مرتبہ جواب دينا کافي ہے؟
ج۔ پہلي صورت ميں ايک ہي مرتبہ جواب دينا کافي ہے اور دوسري صورت ميں ايک صيغہ کے ذريعہ جو سب کو شامل ہو سب کے سلام کا جواب دينا کافي ہے ۔
س٥١٤۔ ايک شخص ’’ السلام عليکم ‘‘ کے بجائے صرف ’’ سلام ‘‘ کہتاہے۔ کيا اس کے سلام کا جواب دينا کافي ہے؟ اور اگر کوئي نابالغ ’’ سلام عليکم ‘‘ کہے تو کيا اس کا جواب دينا واجب ہے؟
ج۔ اگر عرف ميں اسے سلام و تحيت کہا جاتا ہے تو اس کا جواب دينا واجب ہے اور اگر سلام کرنے والا بچہ مميز ہو تو اس کے سلام کا جواب دينا بھي واجب ہے۔
 

 

مبطلات نماز
 


س٥١٥۔ کيا تشہد ميں ’’ اشہد ان اميرالمومنين عليا ولي اللہ ‘‘ کہنے سے نماز باطل ہوجاتي ہے؟
ج۔ ان امور کو ، جو واجب نمازوں کے تشہد ميں وارد نہيں ہوئے ہيں، اس قصد سے بجالانا کہ وہ شرع ميں وارد ہوئے ہيں ، يعني تشہد کا جزئ ہيں نماز کو باطل کرديتا ہے ، چاہے وہ امور بذات خود حق اور صحيح ہوں۔
س٥١٦۔ ايک شخص جو اپني عبادتوں ميں رياکاري کرتا رہا اور اب وہ اپنے نفس سے جہاد کررہا ہے تو کيا اسے بھي ريا کاري سے تعبير کيا جائے گا ؟ وہ ريا کار سے کس طرح اجتناب کرے؟
ج۔ قربۃً الي اللہ کے قصد سے عبادات کا بجالانا واجب ہے اور ريا سے نجات حاصل کرنے کے لئے اسے عظمت و شان خدا اور اپني ضعف و ناتواني اور اپنے اور تمام انسانوں کے خدا کا محتاج ہونے کے بارے ميں غور کرنا چاہے۔
س٥١٧۔ عورتوں پر، حالت نماز ميں ہاتھوں کو ايک دوسرے کے اوپر رکھنا واجب ہے يا نہيں؟
ج۔
واجب نہيں ہے اور اگر ہاتھ باندھنے کي صورت ميں ہو تو جائز نہيں ہے۔
س٥١٨۔ برادران اہل سنت و الجماعت کي نما زجماعت ميں شرکت کے وقت، امام جماعت کے سورہ حمد پڑھنے کے بعد بلند آواز سے ’’ آمين‘‘ کہي جاتي ہے۔اس کے بارے ميں ہمارے لئے کيا حکم ہے؟
ج۔ اگر مذکورہ فرض ميں تبيعت ’’ آمين‘‘ کہنے کا اقتضا کرے تو کوئي حرج نہيں ہے ورنہ جائز نہيں ہے۔
س٥١٩۔ ہم کبھي اثنائے نماز ميں بچہ کو کوئي خطرناک کام کرتے ہوئے ديکھتے ہيں تو کيا سورہ حمد يا دوسرے سورہ يا بعض ذکر کے کچھ کلمات کو بلند آواز سے پڑھ سکتے ہيں تاکہ بچہ متنبہ ہوجائے يا ہم گھر ميں موجود کسي شخص کو ملتفت کريں اور اسے خطرہ سے خبردار کرديں تاکہ خطرہ رفع ہوجائے؟ نيز اثنائے نما زميں ہاتھ کو حرکت دينے يا بھووں کے ذريعہ کسي شخص کو سمجھانے يا اس کے کسي سوال کا جواب دينے کا کيا حکم ہے؟
ج۔ اگر آيات و اذکار پڑھتے وقت آواز بلند کرکے دوسروں کو خبردار کرنے سے نما زکي ہئيت ( حالت) سے خارج نہ ہو تو اس ميں کوئي اشکال نہيں ہے بشرطيکہ قرآت اور ذکر کو ، قرآت و ذکر ہي کي نيت سے انجام ديا جائے۔ہاں حالت نما زميں بولنايا ايسي حرکت کرنا جو سکون و طمانيت يا نماز کي شکل کے منافي ہو اس کے نماز باطل ہوجاتي ہے۔
س٥٢٠۔ اگر اثنائے نما زميں کوئي شخص کسي مضحکہ خيز بات کو ياد کرکے يا کسي مضحکہ خيز امر کي وجہ سے ہنس پڑے تو اس کي نما زباطل ہے يا نہيں؟
ج۔ اگر ہنسي آواز کے ساتھ، يعني قہقہہ ، ہو تو نما زباطل ہے۔
س٥٢١۔ کيا قنوت کے بعد ہاتھوں کو چہرے پر ملنے سے نما زباطل ہوجاتي ہے؟ اگر يہ بطلان کا سبب ہے تو کيا اسے معصيت و گناہ بھي شمار کيا جائے گا؟
ج۔ اس ميں کوئي حرج نہيں ہے اور نہ يہ نما زکے باطل ہونے کا سبب ہے۔
س٥٢٢۔ کيا حالت نماز ميں دونوں آنکھوں کا بند کرنا جائز ہے کيونکہ آنکھيں کھلي رکھنا انسان کي فکر کو نماز سے بہکا ديتا ہے؟
ج۔ حالت نماز ميں دونوں آنکھوں کو بند کرنے ميں شرع کے لحاظ سے کوئي حرج نہيں ہے۔
س٥٢٣۔ ميں اکثر نما زميں ان ايماني لحظات اور معنوي کو ياد کرتا ہوں جن کے سائے ميں ميں نے بعثي کافر نظام ميں زندگي گزاري تھي، اس سے ميرے خشوع ميں اضافہ ہوتا ہے، کيا اس سے نما زباطل ہوجاتي ہے؟
ج۔ اس سے نماز کي صحت کو کوئي نقصان نہيں پہنچتا۔
س٥٢٤۔ اگر دو اشخاص ميں تين دن تک دشمني اور جدائي باقي رہے تو کيا اس سے ان کا نماز روزہ باطل ہوجاتا ہے؟
ج۔ دو اشخاص کے درميان دشمني اور جدائي پيدا نہ ہونے سے نماز روزہ باطل نہيں ہوتا۔
 

 

شکيات اور ان کے احکام
 


س٥٢٥۔ جو شخص نما زکي تيسري رکعت ميں ہو اور اسے يہ شک ہوجائے کہ قنوت پڑھا جائے يا نہيں تو اس کا کيا حکم ہے؟ کيا وہ اپني نما زکو تمام کرے يا شک پيدا ہوتے ہي توڑدے۔
ج۔ مذکورہ شک کي پرواہ نہيں کي جائے گي، نماز صحيح ہے اور مکلف کے ذمہ کوئي چيز نہيں ہے۔
س٤٢٦۔ کيا نافلہ نمازوں ميں رکعات کے علاوہ کسي اور چيز ميں شک کي اعتنائ کي جائے گي؟ مثلاً يہ شک کرے کہ ايک سجدہ يا دونوں سجدے بجالايا ہے يا نہيں؟
ج۔ نافلہ کے اقوال و افعال ميں شک کي پرواہ کرنے کا وہي حکم ہے جو واجب نمازوں کے اقوال و افعال ميں شک کا ہے، بشرطيکہ انسان محل شک سے نہ گزرا ہو۔ محل شک کے گزر جانے کے بعد شک کي پرواہ نہيں کرنا چاہئيے۔
س٥٢٧۔ کثير الشک کا حکم يہ ہے کہ وہ اپنے شک کي پرواہ نہ کرے ليکن اگر اسے نما زميں شک ہوجائے تو اس کا کيا فريضہ ہے؟
ج۔ اس کا فريضہ ہے کہ جس چيز کے بارے ميں شک ہو اسے انجام شدہ قرار دے اور اگر اسے انجام شدہ سمجھنے سے خرابي لازم آئے تو اس کے عدم پر بنا رکھے اس سلسلے ميں رکعات، افعال اور اقوال کے درميان کوئي فرق نہيں ہے۔
س٥٢٨۔ اگر کوئي شخص چند سال کے بعد اس بات کي طرف متوجہ ہوکر اس کي عبادتيں باطل تھيں يا وہ ان شک کرے تو اس کا کيا فريضہ ہے؟
ج۔ عمل کے بعد شک کي پرواہ نہيں کي جاتي اور باطل ہونے کے علم کي صورت ميں ان ہي کي قضا واجب ہے جنہيں بجالاسکتا ہو۔
س٥٢٩۔ اگر سہواً نما زکے بعض اجزائ کو دوسرے اجزائ کي جگہ بجالائے يا اثنائے نماز ميں اس کي نظر کسي چيز پر پڑ جائے يا بھولے سے کچھ کہہ دے تو اس کي نماز باطل ہے يا نہيں؟اور اس پر کيا واجب ہے؟
ج۔ نما زميں بھولے سے جو اعمال سرزد ہوجاتے ہيں وہ بطلان کا سبب نہيں ہيں، ہاں بعض موقعوں پرسجدہ سہو کا موجب ہوتے ہيں ليکن کسي رکن ميں کمي يا زيادتي ہوجائے تو اس سے نماز باطل ہوجاتي ہے۔
س٥٣٠۔ اگر کوئي اپني نما زکي ايک رکعت بھول جائے اور پھر آخري رکعت ميں اسے ياد آجائے ليکن آخري رکعت ميں اس بات کي طرف متوجہ ہو کہ يہ تيسري رکعت ہے تو اس کا شرعي فريضہ کيا ہے؟
ج۔ سلام سے قبل اس پر اپني نماز کي چھوٹي ہوئي رکعت کو بجالانا واجب ہے، اس کے بعد سلام پھيرے اس حالت ميں اگر بھولے سے کچھ زيادہ انجام ديا ہو يا بعض ايسے واجبات چھوٹ جائيں جو رکن نہيں ہيں تو اس پر دو سجدہ سہو بجالانا واجب ہے اور واجب تشہد کو اس کے مقام پر ترک کردے تو احتياط واجب يہ ہے کہ اس کي قضا بھي بجالائے۔
س٥٣١۔ نما زاحتياط کي رکعات کي تعداد کا جاننا کيسے ممکن ہے کہ يہ ايک رکعت ہے يا دو؟
ج۔ نما زاحتياط کي رکعتوں کي مقدار اتني ہي ہوگي جتني احتمالي طور پر نماز ميں چھوٹ گئي ہے۔ پس اگر دو اور چار کے درميان شک ہو تو دو رکعت نمازاحتياط واجب ہے اور اگر تين اور چار کے درميان ہو تو ايک رکعت نما زاحتياط واجب ہے۔
س٥٣٢۔ اگر کوئي بھولے سے يا غلطي سے ذکر، آيات قرآن يا دعائے قنوت ميں سے کوئي کلمہ ( زيادہ) پڑھ لے تو اس پر سجدہ سہو واجب ہے؟
ج۔ واجب نہيں ہے۔

 


قضا نماز
 


س٥٣٣۔ ميں سترہ سال کي عمر تک احتلام اور غسل وغيرہ کے بارے ميں نہيں جانتا تھا اور ان امور کے متعلق کسي سے کوئي بات نہيں سني تھي، خود بھي جنابت اور غسل واجب ہونے کے معني نہيں سمجھتا تھا لہذا اس عمر تک ميرے روزے اور نمازوں ميں اشکال ہے، اميد ہے کہ مجھے اس فريضہ سے مطلع فرمائيں گے جس کا انجام دينا ميرے اوپر واجب ہے؟
ج۔ ان تمام نمازوں کي قضا واجب ہے جو آپ نے جنابت کي حالت ميں پڑھيں ليکن اصل جنابت کا علم نہ ہونے کي صورت ميں جو روزے جنابت کي حالت ميں رکھے ہيں وہ صحيح اور کافي ہيں ان کي قضا واجب نہيں ہے۔
س٥٣٤۔ افسوس کہ ميں جہالت اور ضعيف الارادہ ہونے کي وجہ سے استمنائ ( مشت زني) کيا کرتا تھا جس کے باعث بعض اوقات نماز نہيں پڑھتا تھا۔ ليکن مجھے يہ معلوم نہيں ہے کہ ميں نے کتنے دنوں تک نماز ترک کي ہے اور پھر ميں نے مستقل طور سے نماز نہيں چھوڑي تھي بلکہ ان ہي اوقات ميں نماز نہيں پڑھتا تھا جن ميں مجنب ہوتا تھا اور غسل نہيں کرپاتا تھا ميرے خيال ميں چھ ماہ کي نماز چھوٹي ہوگي اور ميں نے اس مدت کي قضا نمازوں کو ادا کرنے کا ارادہ کرليا ہے ، آيا ان نمازوں کي قضا واجب ہے يا نہيں؟
ج۔ جتني پنجگانہ نمازوں کے بارے ميں آپ کو يقين ہے کہ ادا نہيں کي ہيں يا حالت حدث ميں پڑھي ہيں، آپ پر ان کي قضا واجب ہے۔
س٥٣٥۔ جس شخص کو يہ معلوم نہ ہو کہ اس کے ذمہ قضا نمازيں ہيں يا نہيں اور اگر بالفرض اس کے ذمہ قضا نمازيں ہوں تو کيا اس کي مستحب و نافلہ پڑھي ہوئي نمازيں، قضا نماز ميں شمار ہوجائيں گي؟
ج۔ نوافل و مستحب نمازيں قضا نماز ميں شمار نہيں ہوں گي۔ اگر اس کے ذمہ قضا نمازيں ہيں تو ان کو قضا کي نيت سے پڑھنا واجب ہے۔
س٥٣٦۔ ميں تقريباً سات ماہ قبل بالغ ہوا ہوں اور بالغ ہونے سے چند ہفتے پہلے ميں يہ سمجھتا تھا کہ بلوغ کي علامت صرف قمري حساب سے پندرہ سال کامل ہونے ہے۔ مگر ميں نے اس وقت ايک کتاب کا مطالعہ کيا جس ميں لڑکيوں کے بلوغ کي علامت بيان ہوئي ہيں ، تو اس ميں کچھ اور بھي علامتيں ميں نے ديکھيں جو مجھ ميں پائي جاتي تھيں ليکن ميں نے نہيں جانتا کہ يہ علامتيں کب سے وجود ميں آئي ہيں، کيا اب ميرے ذمہ نماز و روزہ کي قضا ہے؟ واضح رہے کہ ميں کبھي کبھي نماز پڑھتا تھا اور گزشتہ سال ماہ رمضان کے سارے روزے رکھے ہيں پس اس مسئلہ کا کيا حکم ہے؟
ج۔ ان تمام روزوں اور نمازوں کي قضا واجب ہے جن کے بالغ ہونے کے بعد چھوٹ جانے کا يقين ہے۔
س٥٣٧۔ اگر ايک شخص نے ماہ رمضان ميں تين غسل جنابت انجام دئے مثلاً ايک بيسويں تاريخ ايک پچيسويں تاريخ اور ايک ستائيسويں تاريخ کو بعد ميں اسے يہ يقين ہوگيا کہ ان ميں سے ايک غسل باطل تھا۔ پس اس شخص کے نماز ، روزے کا کيا حکم ہے؟
ج۔ روزے صحيح ہيں ليکن نماز کي قضا احتياطاً واجب ہے۔
س٥٣٨۔ ايک شخص نے ايک عرصہ تک ناواقفيت کي بنا پر غسل جنابت ميں ترتيب کي رعايت نہيں کي تو اس کے روزہ نما زکا کيا حکم ہے؟
ج۔ اگر ترتيب کي رعايت نہ کرنا غسل کے باطل ہونے کا سبب ہے جيسے سروگردن دھونے سے پہلے جسم کا داياں حصہ دوھوئے تو جو نمازيں اس نے حدث اکبر کي حالت ميں پڑھي ہيں ان کي قضا واجب ہے ليکن اگر وہ اس وقت اپنے غسل کو صحيح سمجھتا تھا تو اس کے روزے صحيح ہيں۔
س٥٣٩۔ جو شخص ايک سال کي قضا نمازيں پڑھنا چاہتا ہے، اسے کس طرح پڑھنا چاہئيے؟
ج۔ اسے کسي ايک نماز سے شروع کرنا چاہئيے اور نماز پنجگانہ کي طرح پڑھنا چاہئيے۔
س٥٤٠۔ اگر ايک شخص پر کئي نمازيں واجب ہيں تو کيا وہ درج ذيل ترتيب کے مطابق ان کي قضا کرسکتا ہے:
١۔ صبح کي بيس نمازيں پڑھے۔
٢۔ ظہر و عصر کي بيس بيس نمازيں پڑھے۔
٣۔ مغرب و عشائ کي بيس بيس نمازيں پڑھے اور سال بھر اسي طريقہ پر عمل پيرارہے۔
ج۔ مذکورہ طريقہ سے قضا نمازيں پڑھنے ميں کوئي حرج نہيں ہے۔
س٥٤١۔ايک شخص کا سر زخمي ہوگيا جس کا اثر اس کے دماغ تک پہنچا،اس کے نتيجہ ميں اس کا ہاتھ ، باياں پير اور زبان شل ہوگئي ( اس سانحہ کے نتيجے ميں وہ) نماز کا طريقہ بھول گيا اور اسے دوبارہ سيکھ بھي نہيں سکتا۔ ليکن کتاب ميں پڑھ کر يا کيسٹ سے سن کر نما زکے بعض اجزائ کو سمجھ سکتا ہے۔ اس وقت نماز کے سلسلہ ميں اس کے سامنے دو شکليں ہيں:
١۔ وہ پيشاب کے بعد طہارت نہيں کرسکتا اور نہ وضو کرسکتا ہے۔
٢۔ نما زميں اسے قرآت کي مشکل ہے ، اس کا کيا حکم ہے؟ اسي طرح چھ ماہ سے اس کي جو نمازيں چھوٹ گئي ہيں، ان کا کيا حکم ہے؟
ج۔ اگر وہ دوسروں کي مدد سے ہي وضو يا تيمم کرسکتا ہے تو واجب ہے کہ وہ جس طرح ہوسکے نما زپڑھے چاہے کيسٹ سن کر يا کتاب ديکھ کر يا وہ جس ذريعہ سے پڑھ سکتاہو۔ اور گزشتہ فوت ہوجانے والي نمازوں کي قضا واجب ہے مگر جس نما زکے پورے وقت وہ بے ہوش رہا ہے اس کي قضا واجب نہيں ہے۔
س٥٤٢۔ جواني کے زمانہ ميں مغرب و عشائ اور صبح کي نما زسے زيادہ ميں نے ظہر و عصر کي نمازيں قضا کي ہيں ليکن نہ ميں ان کے تسلسل کو جانتا ہوں نہ ترتيب کو اور نہ ان کي تعداد کو ، کيا اس موقع پر اسے نماز دور پڑھنا ہوگي؟ اور نما زدور کيا ہے؟ اميدہے کہ اس کي وضاحت فرمائيں گے۔
ج۔ ترتيب کي رعايت واجب نہيں ہے ، اور جتني نمازوں کے فوت ہونے کا آپ کو يقين ہے۔ ان ہي کي قضا بجالانا کافي ہے اور ترتيب کے حصول کے لئے آپ پر دور کي نماز اور تکرار واجب نہيں ہے۔
س٥٤٣۔ ايک کافر ( بالغ ہونے کے ايک) عرصہ کے بعد اسلام لاتا ہے تو اس پر ان نمازوں اور روزوں کي قضا واجب ہے يا نہيں جو اس نے ادا نہيں کي ہيں؟
ج۔ واجب نہيں ہے۔
س٥٤٤۔ شادي کے بعد کبھي کبھي ميرے عضو مخصوص سے ايک قسم کا سيال مادہ نکل آتا تھا جسے ميں سمجھتا تھا کہ نجس ہے۔ اس لئے غسل جنابت کي نيت سے غسل کرتا اور پھر وضو کے بغير نما زپڑھتا تھا، توضيح المسائل ميں اس سيال مادہ کو ’’ مذي‘‘ کا نام ديا گيا ہے، اب يہ فيصلہ نہيں کرپارہا ہوں کہ جو نمازيں ميں نے مجنب ہوئے بغير غسل جنابت کرکے بلا وضو کے پڑھي ہيں ان کا کيا حکم ہے؟
ج۔ وہ تمام نمازيں جو آپ نے سيال مادہ نکلنے کے بعد غسل جنابت کرکے وضو کئے بغير ادا کي ہيں ان کي قضا واجب ہے۔
س٥٤٥۔ بعض اشخاص نے گمراہ کن پروپيگينڈہ کے زير اثرکئي سال تک نماز اور ديگر واجبات ترک کردئے تھے ليکن امام خميني
۲ کا رسالہ عمليہ آنے کے بعد انہوں نے خدا سے توبہ کرلي اور اب وہ چھوٹ جانے والے واجبات کي قضا نہيں کرسکتے ، ان کا کيا حکم ہے؟
ج۔ جتني مقدار ميں بھي ممکن ہو ان پر قضا ہوجانے والے واجبات کا ادا کرنا واجب ہے۔
س٥٤٦۔ ايک شخص مرگيا اور اس کے ذمہ رمضان المبارک کے روزے اور قضا نمازيں تھيں، اس نے کچھ مال چھوڑا ہے اگر اسے صرف کيا جائے تو فقط ماہ رمضان المبارک کے روزوں کي قضا ہوسکتي ہے اور نما زباقي رہے گي يا نماز پڑھوائي جاسکتي ہے اور روزے باقي رہ جاتے ہيں اس صورت ميں کس کو مقدم کيا جائے؟
ج۔ نماز اور روزہ ميں ( ايک کو دوسرے پر ) ترجيح نہيں ہے جب تک ( انسان) زندہ ہے اس پر خود قضا نما زو روزہ ادا کرنا واجب ہے اور جب خود ادا نہ کرسکے تو اس پر واجب ہے کہ آخر عمر ميں يہ وصيت کرے کہ ميرے ايک تہائي ترکہ سے قضا نمازوں کو اجرت پر ادا کرائيں۔
س٥٤٧۔ ميں زيادہ تر نمازيں پڑھتا رہا ہوں اور جو چھوٹ گئي ہيں ان کي قضا کي ہے يہ چھوٹ جانے والي نمازيں وہ ہيں جن کے اوقات ميں، ميں سوتا رہا ہوں يا اس وقت ميرا بدن و لباس نجس رہا ہے جن کا پاک کرنا دشوار تھا پس ميں يہ کيسے سمجھوں کہ نماز پنجگانہ ، نماز قصر اور نما زآيات ميں سے ميرے ذمہ کتني نمازيں باقي ہيں؟
ج۔ جتني نمازوں کے چھوٹ جانے کا يقين ہے ان ہي کي قضا پڑھنا کافي ہے اور ان ميں سے جتني کے بارے ميں آپ کو يہ يقين ہو کہ وہ قصر ہيں يا نما زآيات، انہيں اپنے يقين کے مطابق بجالائيے اور باقي کو نماز پنجگانہ سمجھ کر پوري پڑھئيے اس سے زيادہ آپ کے ذمہ کوئي چيز نہيں ہے۔
بڑے بيٹے پر باپ کي قضا نمازيں
س٥٤٨۔ ميرے والد دماغي فالج کا شکار ہوئے اور اس کے بعد دو سال تک مريض رہے، مرض کي بنا پر وہ اچھے برے ميں تميز نہيں کرپاتے تھے يعني ان سے سوچنے سمجھنے کي قوت ہي سلب ہوگئي تھي، چنانچہ دو برسوں کے دوران انہوں نے نہ روزہ رکھا اور نہ نماز ادا کي۔ميں ان کا بڑا بيٹا ہوں پس کيا مجھ پر ان کے روزہ اور نماز کي قضا واجب ہے؟ جبکہ ميں جانتا ہوں کہ اگر وہ مذکورہ مرض ميں مبتلا نہ ہوتے تو ان کي قضا مجھ پر واجب تھي۔ اميد ہے کہ اس مسئلہ ميں ميري راہنمائي فرمائيں گے؟
ج۔ اگر ان کي قوت عقليہ اتني زيادہ کمزور نہيں ہوئي تھي جس پر جنون کا عنوان صادق آسکے اور نہ نماز کے پورے اوقات ميں وہ بے ہوش رہتے تھے تو ان کي فوت ہوجانے والي نمازوں کي قضا واجب ہے۔
س٥٤٩۔ اگر ايک شخص مرجائے تو اس کے روزہ کا کفارہ دينا کس پر واجب ہے؟ کيا اس کے بيٹوں اور بيٹيوں پر يہ کفارہ دينا واجب ہے؟ يا کوئي اور شخص بھي دے سکتا ہے؟
ج۔ جو کفارہ باپ پر واجب ہے اگر وہ کفارہ مخيرہ تھا يعني وہ روزہ رکھنے اور کھانا کھلانے پر قدرت رکھتا تھا تو اگر ترکہ ميں سے کفارہ کا دينا ممکن ہے تو اس ميں سے نکال کر ادا کيا جائے ورنہ احتياط واجب ہے کہ بڑا بيٹا روزے رکھے۔
س٥٥٠۔ ايک سن رسيدہ آدمي بعض اسباب کي بنا پر اپنے گھروالوں کو چھوڑ کر چلا گيا اور ان سے رابطہ رکھنے سے معذور ہوگيا وہ اپنے باپ کا سب سے بڑا بيٹا ہے۔ اسي زمانے ميں اس کے والد کا انتقال ہوگيا۔ وہ باپ کي قضا نماز وغيرہ کي مقدار نہيں جانتا ہے اور اتنا مال بھي نہيں رکھتا کہ باپ کي نماز اجارہ پڑھوائے ۔ نيز بڑھاپے کي وجہ سے خود بھي باپ کي قضا نہيں لاسکتا پھر وہ کيا کرے؟
ج۔ باپ کي صرف ان ہي نمازوں کي قضا واجب ہے جن کے فوت ہونے کا علم ہو اور جس طريقے سے بھي ممکن ہو بڑے بيٹے پر باپ کي نمازوں کي قضا واجب ہے۔ ہاں اگر وہ اسے ادا ہي نہ کرسکتا ہو تو معذور ہے۔
س٥٥١۔ اگر کسي شخص کي بڑي اولاد بيٹي ہو اور دوسري اولاد بيٹا ہو تو کيا ماں باپ کي قضا نماز اور روزہ اس بيٹے پر بھي واجب ہے؟
ج۔ معيار يہ ہے کہ بيٹوں ميں سب سے بڑا بيٹا ہو لہذا مذکورہ سوال ميں باپ کے روزے اور نما زکي قضا اسي بيٹے پر واجب ہے جو باپ کي دوسري اولاد ہے اور ماں کے فوت ہوجانے والے، روزے اور نماز کي قضا کا واجب ہونا ثابت نہيں ہے اگرچہ احتياط مستحب يہ ہے کہ اس کي قضا نماز و روزے بھي ادا کئے جائيں۔
س٥٥٢۔ اگر بڑے بيٹے کا باپ سے پہلے انتقال ہوجائے، خواہ بالغ ہو يا نابالغ ، تو باقي اولاد سے باپ کي قضا ساقط ہوجائے گي يا نہيں؟
ج۔ باپ کے روزہ نماز کي قضا اس بڑے بيٹے پر واجب ہے، جو باپ کي وفات کے وقت زندہ ہے خواہ وہ باپ کي پہلي اولاد يا پہلا بيٹا نہ ہو۔
س٥٥٣۔ ميں اپنے باپ کي اولاد ميں بڑا بيٹا ہوں کيا مجھ پر واجب ہے کہ باپ کے قضا فرائض کي ادائيگي کي غرض سے ان کي زندگي ہي ميں ان سے تحقيق کرلوں يا ان پر واجب ہے کہ وہ مجھے ان کي مقدار سے باخبر کريں پس اگر وہ باخبر نہ کريں تو ميرا کيا فريضہ ہے؟
ج۔ آپ پر تحقيق اور سوال کرنا واجب نہيں ہے ليکن اس سلسلہ ميں باپ پر وصيت کرنا واجب ہے۔ بہرحال بڑا بيٹا مکلف ہے کہ اپنے باپ کے اپنے باپ کے انتقال کے بعد اس کے يقيني طور پر چھوٹ جانے والے روزے اور نمازيں اد اکرے۔
س٥٥٤۔ ايک شخص کا انتقال ہوا اور اس کا کل اثاثہ وہ گھر ہے جس ميں اس کي اولاد رہتي ہے ، اور اس کے ذمہ روزے اور نمازيں باقي رہ گئے ہيں اور بڑا بيٹا اپني مشغوليتوں کي بنا پر انہيں ادا نہيں کرسکتا، پس کيا اولاد پر واجب ہے کہ وہ اس گھر کو فروخت کرکے باپ کے روزے اور نمازيں اد اکرائيں؟
ج۔ جن روزوں اور نمازوں کي قضا باپ پر واجب تھي بہر حال ان کي قضا بڑے بيٹے پر ہے ليکن اگر مرنے والا يہ وصيت کردے کہ ميرے ترکہ کے ایک تہائي حصہ سے اجرت پر نماز روزکي قضائ ادا کریں اور تو ترکہ ميں سے ايک تہائي مال اس ميں صرف کرنا واجب ہے۔
س٥٥٥۔ اگر بڑا بيٹا جس پر باپ کي قضا نماز واجب تھي ، مرچکاہو تو کيا اس قضا کو اس کے وارث ادا کريں گے يا يہ قضا دادا کي اولاد ميںسے دوسرے بيٹے پر واجب ہوگي؟
ج۔ باپ کي جو نمازيں اور روزے بڑے بيٹے پر واجب تھے۔ ان کي قضا اس کے بيٹے پر واجب نہيں ہے اور نہ ہي اس کے بھائي پر واجب ہے۔
س٥٥٦۔ جب باپ قطعي طور سے نما زنہ پڑھتا ہو تو کيا اس کي ساري نمازيں قضا ہيں اور بڑے بيٹے پر واجب ہيں؟
ج۔ احتياط واجب يہ ہے کہ اس صورت ميں بھي اس کي نمازيں پڑھي جائيں۔
س٥٥٧۔ جس باپ نے جان بوجھ کر اپنے تمام عبادي اعمال کو ترک کيا ہے کيا بڑے بيٹے پر اس کي تمام نمازوں اور ورزوں کا ادا کرنا واجب ہے جن کي مقدار پچاس سال تک پہنچتي ہے؟
ج۔ بعيد نہيں ہے کہ عمداً ترک کرنے کي صورت ميں ان کي قضا بڑے بيٹے پر واجب نہ ہو ليکن اس صورت ميں بھي اس کي قضا ادا کرنے کي احتياط کو ترک نہيں کرنا چاہئيے۔
س٥٥٨۔ جب بڑے بيٹے پر خود اس کي نماز اور روزے کي قضا بھي ہو اور باپ کے روزے اور نمازوں کي قضا بھي ہو تو اس وقت دونوں ميں سے کس کو مقدم کرے گا؟
ج۔

اس صورت ميں اسے اختيار ہے جس کو بھي پہلے شروع کرے گا صحيح ہے۔
س٥٥٩۔ ميرے والد کے ذمہ کچھ قضا نمازيں ہيں ليکن انہيں ادا کرنے کي ان ميں استطاعت نہيں ہے اور ميں ان کا بڑا بيٹا ہوں، کيا يہ جائز ہے کہ ، جبکہ وہ ابھي زندہ ہيں، ميں ان کي فوت ہوجانے والي نمازيں بجالاوں يا کسي شخص سے جارہ پر پڑھواوں ؟
ج۔ زندہ شخص کي قضا نما ز اور روزوں کي نيابت صحيح نہيں۔

 


نماز جماعت
 


س٥٦٠۔ امام جماعت نماز ميں کيا نيت کرے؟ جماعت کي نيت کرے يا فراديٰ کي؟
ج۔ اگر جماعت کي فضيلت حاصل کرنا چاہتا ہے تو واجب ہے کہ امامت و جماعت کا قصد کرے۔اگر امامت کي قصد کے بغير نماز شروع کرے تو اس کي نما زاور دوسروں کے لئے اس کي اقتدائ ميں کوئي شکل نہيں۔
س٥٦١۔ فوجي مراکز ميں نماز جماعت کے وقت، جو کہ دفتري کام کے وقت ميں قائم ہوتي ہے ، بعض کارکن کام کي وجہ سے نما زجماعت ميں شريک نہيں ہوپاتے۔ اگرچہ وہ اس کام کو دفتري اوقات کے بعد يا دوسرے دن بھي انجام دسے سکتے ہيں۔ کيا اس عمل کو نما زکو سبک سمجھنے سے تعبير کيا جائے گا؟
ج۔ في نفسہ نما زجماعت ميں شرکت واجب نہيں ہے ليکن اول وقت اورجماعت کي فضيلت حاصل کرنے کے لئے بہتر يہ ہے کہ دفتري امور کو اس طرح منظم کريں جس سے وہ اس الہي فريضہ کو کم سے کم وقت ميں جماعت کے ساتھ انجام دے سکيں۔
س٥٦٢۔ ان مستحب اعمال ، جيسے مستحب نماز يا دعائے توسل اور دوسري دعاوں کے بارے ميں آپ کا کيا نظريہ ہے جو سرکاري اداروں ميں نماز سے پہلے يا بعد ميں يا اثنائے نما زميں پڑھي جاتي ہيں جن ميں نما زجماعت سے بھي زيادہ وقت صرف ہوتا ہے۔
ج۔ جو مستحب اعمال اور دعائيں ، الہي فريضہ اور اسلامي شعائر يعني نماز جماعت کے ساتھ انجام پاتے ہيں اگر دفتري وقت کے ضائع ہونے اور دفتري کا کاموں کي تاخير کے موجب ہوتے ہوں تو ان ميں اشکال ہے۔
س٥٦٣۔ کيا ا س جگہ دوسري نما زجماعت قائم کرنا صحيح ہے جہاں سے پچاس يا سو ميٹر کي دوري پر بے پناہ نماز گزاروں کے ساتھ ايک جماعت برپا ہوتي ہے اور اذان اور اقامت کي آواز بھي سني جاتي ہے؟
ج۔ ايسي دوسري جماعت قائم کرنے ميں کوئي اشکال نہيں ہے ليکن مومنوں کے شايان شان ہے کہ وہ ايک ہي جگہ جمع ہوں اور ايک جماعت ميں شريک ہوں تاکہ نماز جماعت کي عظمت ميں چار چاند لگ جائيں۔
س٥٦٤۔ جب مسجد ميں نماز جماعت قائم ہوتي ہے اس وقت ايک شخص يا چند اشخاص اس قصد سے اپني فراديٰ نماز شروع کرتے ہيں کہ امام جماعت کي نااہلي يا بے عدالتي ثابت ہوجائے، اس عمل کا کيا حکم ہے؟
ج۔ اس ميں اشکال ہے کيونکہ نماز جماعت کي تضعيف کرنا جائز نہيں ہے اسي طرح اس امام جماعت کي اہانت اور بے عزتي کرنا بھي جائز نہيں ہے جس کو لوگ عادل سمجھتے ہوں۔
س٥٦٥۔ ايک محلہ ميں متعدد مساجد ہيں اور سب ميں نماز جماعت ہوتي ہے اورايک مکان دو مسجدوں کے درميان واقع ہے اس طرح کہ ايک مسجد اس سے دس گھروں کے فاصلہ پر واقع ہے اور دوسري دو ہي گھروں کے بعد ہے اور اس گھر ميں نما زجماعت برپا ہوتي ہے،اس کا کيا حکم ہے؟
ج۔ ضروري ہے کہ نماز جماعت کو اتحاد و الفت کے لئے قائم کيا جائے نہ کہ اختلاف و افتراق کا ذريعہ بنايا جائے۔ مسجد سے متصل گھر ميں نماز جماعت قائم کرنے ميں کوئي حرج نہيں ہے اگر اختلاف و پراگندگي کا سبب نہ ہو۔
س٥٦٦۔ کيا کسي شخص کے لئے جائز ہے کہ وہ مسجد کے امام راتب ، جس کي مساجد کے مرکز نے تائيد کي ہے، کي اجازت کے بغير اس مسجد ميں نماز جماعت قائم کرے؟
ج۔ نما زجماعت قائم کرنا امام راتب کي اجازت پر موقوف نہيں ہے ليکن بہتر يہ ہے کہ جب نماز جماعت قائم کرنے کے لئے امام راتب مسجد ميں موجود ہو تو اس سے مزاحمت نہ کي جائے بلکہ اکثريہ مزاحمت حرام ہوتي ہے جبکہ فتنہ و شر کے بھڑک اٹھنے کاسبب ہو۔
س٥٦٧۔ اگر امام جماعت کبھي غير شائستہ بات کہے يا ذوق سے ہٹ کر ايسا مذاق کرے جو کہ عالم دين کے شايان شان ہو تو کيا اس سے عدالت ساقط ہوجاتي ہے؟
ج۔ اس چيز کو نما زگزار طے کريں گے اور اگر ايسا مذاق اور کلام شريعت کے خلاف اور مروت کے منافي نہ ہو تو اس سے عدالت پر کوئي اثر نہيں پڑتا۔
س٥٦٨۔ کيا امام جماعت کي کما حقہ معرفت نہ ہونے کے باوجود اقتدائ کي جاسکتي ہے؟
ج۔ اگر ماموم کے نزديک کسي بھي طريقہ سے امام کي عدالت ثابت ہوجائے تو اس کي اقتدائ جائز ہے اور جماعت صحيح ہے۔
س٥٦٩۔ اگر ايک شخص کسي دوسرے شخص کو عادل و متقي سمجھتا ہے اور اسي لمحہ اس بات کا بھي معتقد ہے کہ اس نے بعض موقعوں پر ظلم کيا ہے تو کيا وہ اسے عمومي حيثيت سے عادل سمجھ سکتا ہے؟
ج۔ جب تک اس شخص کے بارے ميں ، جس کو اس نے ظالم سمجھا ہے، يہ ثابت نہ ہوجائے کہ اس نے وہ کام علم و ارادہ اور اختيار يا کسي شرعي جواز کے بغير انجام ديا ہے اس وقت تک وہ اس کے فاسق ہونے کا حکم نہيں لگا سکتا۔
س٥٧٠۔ کيا ايسے امام حاضر کي اقتدائ کي نيت کرنا جائز ہے جس کا نہ نام جانتا ہو اور نہ اس کا چہرہ ديکھتا ہو ؟
ج۔ جس کسي بھي طريقہ سے يہ اطمينان ہوجائے کہ امام حاضر عادل ہے تو اس کي اقتدائ صحيح ہے۔
س٥٧١۔ کيا ايسے امام جماعت کي اقتدائ کرنا جائز ہے جو ممکن ہے مکلف کي نظر ميں کسي قابل قبول عذر کي بنا پر ہو عدالت ميں خدشہ پيدا کرنے کا سبب نہيں ہوتا اور نہ اس کي اقتدائ کي راہ ميں رکاوٹ ہے۔
س٥٧٢۔ آپ کے نزديک عدالت کے کيا معني ہيں؟
ج۔ يہ ايک نفساني حالت ہے جو ايسا تقويٰ اختيار کرنے کا باعث ہوتي ہے جو انسان کو شرعي محرمات کے ارتکاب سے روکتا ہے ۔ا س کے اثبات کے لئے اس شخص کے ظاہر کا اچھا ہونا کافي ہے جو عام طور پر عدالت کا گمان پيدا کرتا ہے۔
س٥٧٣۔ ہم چند جوان ہيں مجلسوں اور امام بارگاہوں ميں ايک جگہ بيٹھتے ہيں جب نما زکا وقت ہوتا ہے تو اپنے درميان ميں سے کسي ايک عادل شخص کو نماز جماعت کے لئے آگے بڑھا ديتے ہيں ليکن بعض بردادران اس نماز پر اعتراض کرتے ہيں اور کہتے ہيں کہ امام خميني
۲ نے غير عالم دين کے پيچھے نماز پڑھنے کو حرام قرار ديا ہے پس ہمارا کيا فريضہ ہے؟
ج۔ يہ بردران عزيز اگر آساني سے ايسے عالم دين کے پيچھے نماز پڑھ سکتے ہيں جس کو وہ اقتدائ کا اہل بھي سمجھتے ہوں، چاہے انہيں محلہ کي مسجد ميں جانا پڑے تو اس صورت ميں غير عالم دين کي اقتدائ نہيں کرنا چاہئيے بلکہ غير عالم دين کي اقتدائ بعض حالات ميں اشکال سے خالي نہيں ہے۔
س٥٧٤۔ کيا دو اشخاص سے نما زجماعت قائم ہوسکتي ہے؟
ج۔ اگر ايک امام اور ايک ماموم سے تشکيل جماعت مراد ہو تو کوئي حرج نہيں ہے۔
س٥٧٥۔ جب ماموم ظہر و عصر کي نماز باجماعت پڑھتے ہوئے حمد و سورہ خود پڑھے، اس فرض کے ساتھ کہ حمد و سورہ پڑھنا اس سے ساقط ہے ليکن اگر اس نے اپنے ذہن کو ادھر ادھر بھٹکنے سے بچانے کے لئے ايسا کرليا تو اس کي نماز کا کيا حکم ہے؟
ج۔ اخفاتي نما جيسے ظہر و عصر کي نمازوں ميں، جب امام حمد و سورہ پڑھ رہا ہو اس وقت ماموم پر خاموش رہنا واجب ہے، قرآت اس کے لئے جائز نہيں ہے اپنے ذہن کو مرتکز کرنے کي غرض سے ہي ہو۔
س٥٧٦۔ اگر کوئي امام جماعت ٹريفک کے تمام قوانين کي رعايت کرتے ہوئے موٹر سائيکل سے نما زجماعت پڑھانے جاتا ہو تو اس کا کيا حکم ہے؟
ج۔ اس سے عدالت اور امام کي صحت پر کوئي حرف نہيں آتا مگر يہ کہ وہاں کے لوگوں نظرميں يہ چيز شان و مروت کے منافي اور معيوب ہو۔
س٥٧٧۔ جب ہميں نما زجماعت نہيں مل پاتي اور ختم کے قريب ہوتي ہے تو ہم ثواب جماعت حاصل کرنے کي غرض سے تکبيرۃ الاحرام کہہ کر دو زانو بيٹھ جاتے ہيں اور امام کے ساتھ تشہد پڑھتے ہيں اور امام کے سلام پھيرنے کے بعد کھڑے ہوجاتے ہيںاور پہلي رکعت پڑھتے ہيں تو سوال يہ ہے کہ کيا چار رکعتي نماز کي دوسري رکعت کے تشہد ميں بھي ہم ايسا کرسکتے ہيں؟
ج۔ مذکورہ طريقہ امام جماعت کي نماز کے آخري تشہد سے مخصوص ہے تاکہ جماعت کا ثواب حاصل کيا جاسکے۔
س٥٧٨۔ کيا امام جماعت کے لئے نماز کي اجرت لينا جائز ہے؟
ج۔ جائز نہيں ہے۔
س٥٧٩۔ کيا امام جماعت کو عيد يا کوئي بھي دو نمازوں کي ايک وقت ميں امامت کرنا جائز ہے ؟
ج۔ نماز پنجگانہ ميں امام کا دوسرے مامومين کے لئے نماز جماعت کا ايک بار اعادہ کرنے ميں کوئي حرج نہيں ہے، بلکہ مستحب ہے ، ليکن مستحب کا اعادہ کرنے ميں اشکال ہے۔
س٥٨٠۔ جب امام عشائ کي نما زکي تيسري يا چوتھي رکعت ميں اور ماموم دوسري ميں ہو تو کيا ماموم حمد و سورہ کو بلند آواز سے پڑھ سکتا ہے؟
ج۔ واجب ہے کہ دونوں کو آہستہ پڑھے۔
س٥٨١۔ نماز جماعت کے سلام کے بعد نبي اکرم
۰ پر صلواۃ کي آيت پڑھي جاتي ہے۔ اس کے بعد نماز گزار محمد وآل محمد ۰ پر تين مرتبہ درود بھيجتے ہيں اور اس کے بعد تين مرتبہ تکبرير کہتے ہيں اس کے بعد سياسي ( يعني دعا اور برآت کے جملے کہے جاتے ہيں جنہيں مومنين بلند آواز سے دہراتے ہيں) کيا اس ميں کوئي حرج ہے؟
ج۔ آيہ صلوات پڑھنے اور محمد و آل محمد
۰ پر درود بھيجنے ميں نہ صرف کوئي حرج نہيں بلکہ يہ مستحسن اور راجح ہے اور اس ميں ثواب ہے اور اسي طرح اسلامي اور اسلامي انقلاب کے نعرے ’’ تکبير اور اس کے ملحقات ‘‘ جو کہ اسلامي انقلاب کے پيغام و مقاصد کي ياد تازہ کرتے ہيں وہ بھي مطلوب ہيں۔
س٥٨٢۔ اگر ايک شخص نماز جماعت ميں شرکت کي غرض سے مسجد ميں دوسري رکعت ميں پہنچے اور مسئلہ سے ناواقفيت کي وجہ سے بعد والي رکعت ميں تشہد و قنوت ، جن کا بجالانا واجب تھا نہ بجالائے تو کيا اس کي نماز صحيح ہے؟
ج۔ نما زصحيح ہے ليکن تشہد کي قضا اور دو سجدہ سہو بجالانا واجب ہے۔
س٥٨٣۔ نما زميں جس کي اقتدائ کي جارہي ہے کيا اس کي رضا مندي شرط ہے؟ اور کيا ماموم کي اقتدائ کرنا صحيح ہے؟
ج۔ اقتدائ کے صحيح ہونے ميں امام جماعت کي رضا مندي شرط نہيں ہے اور اس شخص کي اقتدائ جو نماز ميں ماموم ہوتا ہے، صحيح نہيںہے۔
س٥٨٤۔ دو اشخاص ميں ايک امام اور دوسرا ماموم جماعت قائم کرتے ہيں، تيسرا شخص آتا ہے وہ دوسرے ( يعني ماموم ) کو امام سمجھتا ہے اور اس کي اقتدائ کرتا ہے اور نماز سے فراغت کے بعد اسے معلوم ہوتا ہے کہ وہ امام نہيں بلکہ ماموم تھا پس اس تيسرے شخص کي نما زکا کيا حکم ہے؟
ج۔ ماموم کي اقتدائ صحيح نہيں ہے ليکن جب نہ جانتا ہو اور اقتدائ کرلے اور رکوع و سجود ميں اس نے اپنے انفرادي فريضہ پر عمل کيا ہو يعني عمداً و سہواً کسي رکن کي کمي کي زيادتي نہ کي ہو تو اس کي نماز صحيح ہے۔
س٥٨٥۔ جو شخص نما زعشائ پڑھنا چاہتا ہے کيا اس کے لئے جائز ہے کہ اس جماعت ميں شريک ہو جو مغرب کي نما زپڑھ رہي ہے؟
ج۔ اس ميں کوئي حرج نہيں۔
س٥٨٦۔ مکان کي بلندي اور پستي ميں اگر ماموم امام کي رعايت نہ کرے تو کيا يہ ان کي نما زکے باطل ہونے کا سبب بن سکتا ہے؟
ج۔ اگر امام کے کھڑے ہونے کي جگہ مامومين کے کھڑے ہونے کہ جگہ سے اتني بلند ہو جس کي اجازت نہيں ہے تو وہ ان کي جماعت کے باطل ہونے کا سبب ہوگي۔
س٥٨٧۔ اگر نماز جماعت کي ايک صف ان لوگوں سے تشکيل پائي ہے جن کي نماز قصر ہے اور اس کے بعد والي ان لوگوں کي ہے جن کي نماز پوري ہے اس صورت ميں اگر اگلي صف والے دو رکعت نما زتمام کرنے کے فوراً بعد اگلي دو رکعت کي اقتدائ کے لئے کھڑے ہوجاتے ہيں تو ان کے بعد کي صف والوں کي آخري دو رکعت کي جماعت صحيح ہے يا نہيں؟
ج۔ بالفرض اگلي صف ميں تمام افراد کي نما زقصر ہو تو بعد والي صفوں کي جماعت کا صحيح ہونا محل اشکال ہے اور احتياط واجب ہے کہ جب پہلي صف والے سلام کي نيت سے بيٹھ جائيں تو بعد والي صف والے فراديٰ کي نيت کرليں۔
س٥٨٨۔ جب ماموم نما زکے لئے پہلي صف کے آخري سرے پر کھڑا ہو تو کيا وہ ان مامومين سے پہلے نما زميں شامل ہوسکتا ہے جو اس کے اور امام کے درميان واسطہ ہيں؟
ج۔ جب وہ مامومين ، جو کہ اس کے اور امام کے درميان واسطہ ہيں، امام کي نيت کرنے کے بعد نما زميں شامل ہونے کے لئے تيار ہوں تو وہ جماعت کي نيت سے نما زميں شامل ہوسکتا ہے۔
س٥٨٩۔ جو شخص يہ سمجھ کر کہ امام کي پہلي رکعت ہے اس کي تيسري رکعت ميں شريک ہوجائے اور کچھ نہ پڑھے تو کيا ا س پر اعادہ واجب ہے؟
ج۔ اگر وہ رکوع ميں جانے سے پہلے ہي اس کي طرف ملتفت ہوجائے تو اس پر قرآت کا تدارک واجب ہے اور اگر رکوع کے بعد ملتفت ہو تو بھي اس کي نما زصحيح ہے اور اس پر کوئي چيز واجب نہيں ہے اگرچہ احتياط مستحب يہ ہے کہ قرآت ترک کرنے کے سبب دو سجدہ بھي بجالائے۔
س٥٩٠۔ حکومتي دفاتر اور مدارس ميں نما زجماعت قائم کرنے کے لئے امام جماعت کي اشد ضرورت ہے اور ميرے علاوہ اس علاقہ ميں کوئي عالم دين نہيں ہے اس لئے ميں مجبوراً مختلف مقامات پر ايک واجب نما زکي تين يا چار مرتبہ امامت کرتا ہوں۔ دوسري نما زپڑھانے کے لئے تو سارے مراجع نے اجازت دي ہے، کيا اس سے زائد کو احتياطاً قضا کي نيت سے پڑھا جاسکتا ہے؟
ج۔ جو نماز جماعت سے پڑھي جاچکي ہے اس کا دوسري جماعت ميں اعادہ کرنے ميں کوئي حرج نہيں ہے ليکن ايک مرتبہ سے زيادہ پڑھي جانے والي نماز ميں اشکال ہے اور احتياطاً پڑھي جانے والي نمازوں ميں امامت صحيح نہيں ہے۔
س٥٩١۔ ايک کالج نے اپنے اسٹاف کے لئے کالج کي عمارت ميں نما زجماعت قائم کي ہے جو شہر کي مسجد کے نزديک ہے اور وہ لوگ جانتے ہيں کہ عين اسي وقت مسجد ميں نما زجماعت قائم ہوتي ہے پس کالج کي جماعت ميں شريک ہونے کا کيا حکم ہے؟ اور کالج کے ذمہ داروں کا نما زميں شرکت پر اصرار و اجبار حکم کو بدل سکتا ہے يا نہيں؟
ج۔ ايسي نماز جماعت ميں شرکت کرنا ، جس ميں ماموم کي نظر ميں وہ شرعي شرائط جو جماعت اور اقتدائ کے لئے لازمي ہيں، پائے جاتے ہوں، بے اشکال ہے، خواہ جماعت اس مسجد سے قريب ہي ہورہي ہو جس ميں عين اسي وقت نما زجماعت قائم ہوتي ہے ليکن نما زجماعت ميں شرکت کرنے پر اصرار اور اجبار کے لئے کوئي شرعي دليل نہيں ہے۔
س٥٩٢۔ کيا اس شخص کے پيچھے نماز صحيح ہے جو محکمہ قضاوت ( عدليہ ) ميں ہے ليکن مجتہد نہيں ہے؟
ج۔ محکمہ قضاوت ( عدليہ) ميں اگر ان کا تقرر اس شخص نے کيا ہے جس کو تقرر کا حق ہے تو اس کي اقتدائ کرنے ميں کوئي مانع نہيں ہے۔
س٥٩٣۔ مسئلہ مسافر ميں امام خميني
۲ کا مقلد کيا ايسے امام جماعت کي اقتدائ کرسکتا ہے جو اس مسئلہ ميں امام ۲ کا مقلد نہيں ہے خصوصاً جبکہ اقتدائ نما زجمعہ ميں ہو؟
ج۔ تقليد کا اختلاف کے صحيح ہونے ميں مانع نہيں ہوتا ليکن اس نما زکي اقتدائ صحيح نہيں ہے جو ماموم کے مرجع تقليد کے فتوے کے مطابق قصر ہو اور امام جماعت کے مرجع تقليد کے فتوے کے مطابق کامل ہو۔
س٥٩٤۔ اگر امام جماعت تکبيرۃ الاحرام کے بعد بھولے سے رکوع ميں چلا جائے تو ماموم کا کيا فريضہ ہے؟
ج۔ اگر ماموم نما زجماعت ميں شامل ہونے کے بعد اس طرف متوجہ ہو تو اس پر فراديٰ کي نيت کرلينا اور حمد و سورہ پڑھنا واجب ہے۔
س٥٩٥۔ جب نماز جماعت کي تيسري يا چوتھي صف ميں مدرسوں کے نابالغ بچے نما زکے لئے کھڑے ہوں اور ان کے بعد چند بالغ اشخاص کھڑے ہوں تو اس حالت ميں نماز کا کيا حکم ہے؟
ج۔ مذکورہ فرض ميں کوئي اشکال نہيں ہے۔
س٥٩٦۔ امام جماعت نے اگر غسل کے بدلے معذور ہونے کے سبب تيمم کيا ہو تو يہ نماز جماعت پڑھانے کے لئے کافي ہے يا نہيں؟
ج۔ اگر وہ سرعي اعتبار سے معذور ہے تو غسل جنابت کے بدلے تيمم کرکے امامت کرسکتا ہے اور اس کي اقتدائ کرنے ميں کوئي حرج نہيں ہے۔

 


امام جماعت کي غلط قرآت کا حکم
 


س٥٩٧۔ کيا قرآت صحيح ہونے کے مسئلہ ميں فراديٰ نما زنيز ماموم يا امام کي نما زکے درميان کوئي فرق ہے؟ يا قرآت کي صحت کا مسئلہ ہر حال ميں ايک ہي ہے؟
ج۔ اگر مکلف کي قرآت صحيح نہ ہو اور وہ سيکھنے پر بھي قدرت نہ رکھتا ہو تو اس کي نما زصحيح ہے ليکن دوسروں کا اس کي اقتدائ کرنا صحيح نہيں ہے۔
س٥٩٨۔ حروف کے مخارج کے اعتبار سے بعض آئمہ جماعت کي قرآت صحيح نہيں ہے پس کيا ان کي اقتدائ ايسے لوگوں کے لئے صحيح ہے جو حروف کو صحيح طريقہ سے ان کے مخارج سے ادا کرتے ہوں۔ بعض لوگ کہتے ہيں کہ تم پر جماعت سے نماز پڑھنا واجب ہے اور اس کے بعد نما زکا اعادہ کرنا بھي واجب ہے ، ليکن ميرے پاس اعادہ کرنے کا وقت نہيں ہے ، پس ميرا کيا فريضہ ہے؟ اور کيا ميں جماعت ميں شريک ہونے کے اخفاتي طريقہ سے حمد و سورہ پڑھ سکتا ہوں؟
ج۔ جب ماموم کي نظر ميں امام کي قرآت صحيح نہ ہوتو اس کي اقتدائ اور جماعت باطل ہے اور اگر اعادہ کرنے پر قادر نہ ہو تو اقتدائ نہ کرنے ميں کوئي مانع نہيں ہے ليکن جہري نما زميں آہستہ سے حمد و سورہ پڑھنا ، جس سے امام جماعت کي اقتدائ کا اظہار ثابت ہو، صحيح نہيں ہے اور نہ مجزي ہے۔
س٥٩٩۔ بعض لوگوں کا خيال ہے کہ چند آئمہ جمعہ کي قرآت صحيح نہيں ہے يا تو وہ حر ف کو اس طرح ادا نہيں کرپاتے کہ جس سے وہ حرف شمار کيا جائے يا حرکت کو اس طرح بدل ديتے ہيں جس سے وہ حرکت شمار نہيں ہوتي، کيا ان کے پيچھے پڑھي جانے والي نمازوں کے اعادہ کے بغير ان کي اقتدائ صحيح ہے؟
ج۔ قرآت کے صحيح ہونے کا معيار عربي زبان کے علمائ کے مقرر کردہ قانون کے مطابق يہ ہے کہ حروف کو ان کے مخارج سے اس طرح ادا کيا جائے کہ اہل زبان يہ کہيں کہ وہي حرف ادا ہوا ہے نہ کہ دوسرا۔ ساتھ ہي ان حروف کي بنيادي حرکات اور کلمہ کي ہئيت ميں دخيل تلفظ کي رعايت کي جائے۔ پس اگر ماموم امام کي قرآت کو قواعد کے مطابق نہ پائے اور اس کي قرآت صحيح نہ ہو تو اس کي اقتدائ کرنا صحيح نہيں ہے اور اگر اس صورت ميں اس کي اقتدائ کرے تو اس کي نما زصحيح نہ ہوگي اور دوبارہ پڑھنا واجب ہوگا۔
س٦٠٠۔ اگر امام جماعت کو اثنائے نما زميں کسي کلمہ کے محل سے گزر جانے کے بعد اس کے تلفظ کي کيفيت ميں شک ہوجائے اور نماز سے فارغ ہونے کے بعد متوجہ ہو کہ اس نے کلمہ کے تلفظ ميں غلطي کي ہے تو اس کي اور مامومين کي نماز کا کيا حکم ہے؟
ج۔ نما زصحيح ہے۔
س٦٠١۔ قرآن کے مدرس اور اس شخص کي نماز کا شرعي حکم کيا ہے جو تحويد کے اعتبار سے امام جماعت کي نماز کو غلط سمجھتا ہے ايسي حالت ميں اگر وہ جمات ميں شرکت نہ کرے تو لوگ اس پر مختلف قسم کي ناروا تہمتيں لگاتے ہيں؟
ج۔ اگر ماموم کي نظر ميں امام کي قرآت صحيح نہيں ہوگي تو اس کے معني يہ ہيں کہ ماموم کي نظر ميں اس کي نماز بھي صحيح نہيں ہے، ايسي صورت ميں وہ اس کي اق