|
کتاب نجاسات اور ان کے احکام
س٢٧٩۔ کيا خون پاک ہے؟
ج۔ جن جانداروں کا خون اچھل کر نکلتا ہو خواہ و انسان و ہو يا غير
انسان، وہ خون نجس ہے۔
س٢٨٠۔ امام حسين عليہ السلام کي عزاداري ميں ايک انسان پوري طاقت سے
اپنا سر ديوار سے ٹکراتا ہے ،ا س سے بہنے والے خون کي چھينٹيں مجلس عزا
ميں شرکت کرنے والوں کے سروں اور چہروں پر پڑتي ہيں وہ خون پاک ہے يا
نجس؟
ج۔ انسان کا خون ہر حال ميں نجس ہے۔
س٢٨١۔ دھلنے کے بعد کپڑے پر جو خون کا دھبہ رہ جاتا ہے کيا وہ ہلکے رنگ
کا دھبہ نجس ہے؟
ج۔ اگر عين خون زائل ہوجائے اور فقط رنگ باقي رہ جائے اور دھونے سے
زائل نہ ہوتا ہو تو پاک ہے۔
س٢٨٢۔ اگر انڈے ميں خون کا ايک نقطہ ہو تو اس کا کيا حکم ہے؟
ج۔ پاک ہے ليکن اس کا کھانا حرام ہے۔
س٢٨٣۔ فعل حرام کے ذريعہ مجنب ہونے والے پسينے اور نجاست خوار حيوان کے
پسينے کا کيا حکم ہے۔
ج۔ نجاست خوار اونٹ کا پسينہ نجس ہے ليکن نجاست خوار اونٹ کے علاوہ
دوسرے نجاست خوار حيوانات اور اسي طرح (فعل) حرام سے مجنب ہونے والے
شخص کے پسينہ کے بارے ميں اقويٰ يہ ہے کہ پاک ہے ليکن احتياط واجب يہ
ہے کہ (فعل) حرام سے مجنب ہونے پر جو پسينہ آئے اس ميں نماز نہ پڑھي
جائے۔
س٢٨٤۔ ميت کو آب سدر اور آب کافور سے غسل دينے کے بعد اور خالص پاني سے
غسل دينے سے پہلے جو قطرے ميت کے بدن سے ٹپکتے ہيں وہ پاک ہيں يا نجس؟
ج۔ ميت کا بدن اس وقت تک نجس کہلائے گا جب تک تيسرا غسل کامل نہ
ہوجائے۔
س٢٨٥۔ ہاتھوں يا ہونٹوں يا پيروں سے بعض اوقات جو کھال جدا ہوتي ہے وہ
پاک ہے يا نجس؟
ج۔ ہاتھوں يا ہونٹوں يا پيروں يا بدن کے ديگر اعضائ سے کھال کے جو ٹکڑے
يا چھلکے خود بخود جدا ہوتے ہيں وہ پاک ہيں۔
س٢٨٦۔ جنگي محاذ پر ايک شخص ايسے دور سے گزرا کہ وہ سور کو مارنے اور
اسے کھانے پر مجبور ہوگيا، کيا اس کے بدن کا پسينہ اور لعاب دہن نجس
ہے؟
ج۔ حرام گوشت کھانے والے انسان کے بدن کا پسينہ اور لعاب دہن نجس نہيں
ہے اور نہ اس پر استبرائ واجب ہے۔ ليکن رطوبت کے ساتھ جو چيز بھي سور
کے گوشت سے مس ہوگي وہ نجس ہوگي۔
س٢٨٧۔ تصويريں بنانے اور لکھنے کے کام آنے والے بالوں کے برش (موقلم)جن
کي نئي اور بہترين قسم اسلامي ملکوں سے منگوائي جاتي ہيں۔
اور بيشتر اوقات وہ سور کے بالوں سے بنائے جاتے ہيں۔ ايسے برش ہرجگہ
خاص طور سے تبليغاتي اور ثقافتي مراکز ميں موجود ہيں اور استعمال کئے
جاتے ہيں۔ پس اس قسم کے برشوں کے استعمال کے سلسلے ميں شرعي حکم کيا
ہے؟ اور دوسرے يہ کہ ان کے ذريعہ قرآني آيات اور احاديث شريفہ کے لکھنے
کا کيا حکم ہے؟
ج۔ سور کے بال نجس ہيں اور ان سے ان امور ميں استفادہ جائز نہيں ہے جن
ميں شرعاً طہارت شرط ہوتي ہے ليکن ان امور ميں ان کا استعمال کرنے ميں
کوئي حرج نہيں جن ميں طہارت شرط نہيں ہے۔ اور اگر ان برشوں کے بارے ميں
يہ معلوم نہ ہو کہ وہ سور کے بالوںسے بنے ہيں يا نہيں تو ان کا استعمال
ان امور بھي بلا اشکال ہے جن ميں طہارت شرط ہے۔
س٢٨٨۔ جرمني ميں ايک محترم عالم دين تشريف لائے، انہوں نے بتايا تھا کہ
يہاں تين ہي چيزوں ميں شک پر اعتنائ کرنا واجب ہے اور وہ موارد يہ ہيں:
گوشت ، کھال اور روغن (گھي یاتيل)وغيرہ۔ بقيہ چيزوں ميں شک کي پرواہ
کرنا ضروري نہيں ہے۔ کيا يہ رائے صحيح ہے؟ اس وقت يہاں کئي قسم کے
بناسپتي گھي ملتے ہيں۔ ان پر جو عبارت لکھي ہوتي ہے اس کے اعتبار سے ان
ميں کوئي ايسا مواد نہيں ہے جس ميں اشکال ہو، ليکن برادران کي تحقيق سے
يہ ثابت ہوا کہ ان ميں سے ايک قسم کے ’’ گھي ‘‘ ميں تھوڑي سي مقدار ميں
ديسي گھي کي ملاوٹ کي جاتي ہے ليکن ڈبے پر لکھا نہيں جاتا، اس مسئلہ کا
کيا حکم ہے؟
ج۔ ہر وہ گوشت جس کا حلال ہونا يا حلال اور پاک ہونا ذبح شرعي پر موقوف
ہو، وہ غير اسلامي ممالک ميں مردار اور جھٹکے کے حکم ميں ہے ليکن سيدي
گھي پاک اور حلال ہے ، مگر يہ معلوم ہوجائے کہ يہ غير مزکي حيوان کي
چربي سے بنا ہے يا نجس چيز کے مل جانے سے نجس ہوگيا ہے۔
س٢٨٩۔ اگر مجنب کا لباس مني سے نجس ہوجائے تو اول يہ کہ اگر ہاتھ يا اس
کپڑے ميں سے کوئي ايک گيلا ہو تو ہاتھ سے اس لباس کو چھونے کا کيا حکم
ہے؟ اور دوسرے يہ کہ مجنب کے لئے جائز ہے کہ وہ کسي شخص کو وہ لباس پاک
کرنے کے لئے دے؟ کيا مجنب کے لئے ضروري ہے کہ وہ دھلنے والے کو يہ
بتائے کہ يہ لباس نجس ہے؟
ج۔ مني نجس ہے اور جب اس سے کوئي سرايت کرنے والي گيلي چيز ملے تو وہ
بھي نجس ہوجائے گي ، اور لباس دھونے والے کو يہ بتانا ضروري نہيں ہے کہ
وہ نجس ہے۔
س٢٩٠۔ پيشاب کرنے کے بعد استبرائ کرتا ہوں ليکن اس کے بعد ايک سيال چيز
نکلتي ہے جس سے مني کي بو آتي ہے اميد ہے کہ اس سلسلے ميں نماز کے لئے
ميرا حکم بيان فرمائيں گے؟
ج۔ اگر اس کے مني ہونے کا يقين نہ ہو اور اس کے ساتھ مني نکلنے کے
سلسلے ميں جو شرعي علامتيں بيان ہوئي ہيں وہ بھي پائي جاتي ہوں تو پاک
ہے اور اس پر مني کا حکم نہيں لگے گا۔
س٢٩١۔ کيا کوے کا پاخانہ نجس ہے؟
ج۔ اقويٰ يہ ہے کہ پاک ہے۔
س٢٩٢۔ رسالہ عمليہ ميں (مراجع عظام نے)ذکر کيا ہے کہ ان حيوانات اور
پرندوں کا پاخانہ نجس ہے جن کا گوشت نہيں کھايا جاتا۔ تو جن حيوانات کا
گوشت کھايا جاتا ہے مثلاً گائے، بکري يا مرغي ان کا پاخانہ نجس ہے يا
نہيں؟
ج۔ حلال گوشت جانوروں کا پاخانہ پاک ہے۔
س٢٩٣۔ اگر بيت الخلائ ميں کموڈ کے اطراف يا اس کے اندر نجاست لگي ہوئي
ہو اور اس کو کر بھر پاني يا قليل پاني سے دھويا جائے اور عين نجاست
باقي رہ جائے تو کيا وہ جگہ جہاں عين نجاست نہيں لگي ہے بلکہ صرف دھونے
کے لئے ڈالا جانے والا پاني اس تک پہنچا ہے وہ نجس ہے يا پاک ہے؟
ج۔ جو جگہ نجاست کے قريب ہے ليکن اس تک نجاست سے متصل پاني نہيں پہنچتا
ہے وہ پاک ہے۔
س٢٩٤۔ اگر مہمان ، ميزبان کے گھر کي کسي چيز کو نجس کردے کيا اس سے
ميزبان کو مطلع کرنا واجب ہے؟
ج۔ کھانے پينے والي چيزوںاور کھانے کے برتنوں کے علاوہ دوسري چيزوں کے
سلسلے ميں مطلع کرنا ضروري نہيں ہے۔
س٢٩٥۔ نجس چيز سے ملنے والي چيز بھي نجس ہوجاتي ہے يا نہيں؟ اور اگر
نجس ہوجاتي ہے تو کيا يہ حکم تمام واسطوں ميں جاري ہوگا يا صرف نزديک
کے واسطوں ميں جاري ہوگا؟
ج۔ کم سے کم تين واسطوں تک نجاست کا حکم جاري ہوگا، چوتھے اور اس کے
بعد والے واسطہ کے لئے اقرب يہ ہے کہ پاک ہے اگرچہ احتياط (مستحب)يہ ہے
کہ اس سے اجتناب کيا جائے۔
س٢٩٦۔ کيا غير مزکي حيوان کي کھال کے جوتے استعمال کرنے والے کے لئے
وضو سے قبل ہميشہ پيروں کو دھونا واجب ہے؟ بعض لوگ کہتے ہيں : اگر جوتے
کے اندر پيروں کو پسينہ آجائے تو دھونا واجب ہے، اور ميں نے ديکھا ہے
کہ ہر قسم کے جوتوں ميں پيروں سے تھوڑا بہت پسينہ ضرور نکلتا ہے، اس
مسئلہ ميں آپ کي کيا رائے ہے؟
ج۔ اگر يہ ثابت ہوجائے کہ مذکورہ جوتے ميں پير سے پسينہ نکلتا ہے تو
نماز کے لئے پيروں کا دھونا واجب ہے۔
س٢٩٧۔ اس بچہ کے گيلے ہاتھ، اس کي ناک کے پاني اور اس کي جھوٹي غذا کا
کيا حکم ہے جو خود کو نجس کرتا رہتا ہے اور ان بچوں کا کيا حکم ہے جو
اپنے گيلے ہاتھوں سے اپنے پير چھوتے ہيں؟
ج۔ جب تک ان کے نجس ہونے کا يقين حاصل نہ ہوجائے اس وقت تک انہيں پاک
مانا جائے گا۔
س٢٩٨۔ ميں مسوڑھوں کے مرض ميں مبتلا ہوں اور ڈاکٹر کے مشوروں کے مطابق
انہيں ہميشہ ملتے رہتا رہنا ضروري ہے اس سے بعض مسوڑھے سياہي مائل
ہوجاتے ہيں گويا ان کے اندر خون جمع ہوجاتا ہے اور جب ان پر کاغذي
رومال (دست مال)رکھتا ہوں تو اس کا رنگ سرخ ہوجاتا ہے، اس لئے ميں اپنا
منھ آبِ کر سے پاک کرتا ہوں اس کے باوجود وہ جما ہوا خون کافي دير تک
باقي رہتا ہے اور دھونے سے نہيں چھوٹتا۔ پس دھلنے کے بعد جو پاني ميرے
منھ کے اندر ہے، اور ان جگہوں سے گزرا ہے اور پھر ميں کلي کرديتاہوں
چونکہ اب جو پاني مسوڑھوں کے نيچے جمع خون کے اجزائ سے مل کر گزرا ہے ،
کيا نجس ہے يا اسے لعاب دہن کا جزئ شمار کيا جائے گا اور پاک ہوگا؟
ج۔ پاک ہے اگرچہ احتياط (مستحب)يہ ہے کہ اس سے پرہيز کيا جائے۔
س٢٩٩۔ اور يہ بھي پوچھنا چاہتا ہوں کہ ميں جو کھانا کھاتا ہوں وہ
مسوڑھوں ميں جمع شدہ خون سے مس ہوتا ہے تو يہ کھانا نجس ہے يا پاک؟ اور
اگر نجس ہے تو کيا اس کھانے کو نگلنے کے بعد منھ کي فضا نجس رہتي ہے؟
ج۔ مذکورہ فرض ميں کھانا نجس نہيں ہے اور نہ اس کے نگلنے ميں کوئي
اشکال ہے اور منھ کے اندر کي فضا پاک ہے۔
س٣٠٠۔ مدتوں سے مشہور ہے کہ ميک اپ کا سامان نجس ہے۔ کہا جاتا ہے کہ جب
بچہ پيدا ہوتا ہے تو اس وقت اس کي جھلي کو اتار ليتے ہيں اور اسے خنزير
ميں محفوظ رکھتے ہيں، يہ بھي کہا جاتا ہے کہ جنين کي ميت کو بھي محفوظ
رکھتے ہيں اور اس سے ميکپ (سنگھار)کا سامان۔ جيسے لپ اسٹک حلق کے نيچے
بھي اتر جاتي ہے تو کيا يہ نجس ہے؟
ج۔ سنگھار کي چيزوں کے نجس ہونے پر پروپيگينڈے کوئي شرعي دليل نہيں ہيں
اور جب تک شريعت کے معتبر طريقوں سے ان کي نجاست ثابت نہيں ہوتي اس وقت
تک ان کو استعمال کرنے ميں کوئي حرج نہيں ہے۔
س٣٠١۔ ہر لباس يا کپڑے کے ٹکڑے سے بہت ہي باريک روئيں گرتے رہتے ہيں
کپڑوں کو پاک کرتے وقت جب ہم طشت کے پاني کو ديکھتے ہيں تو اس ميں يہ
باريک روئيں نظر آتے ہيں، اس بنا پر جب طشت پاني سے بھرا ہو اور اس کا
اتصال نل کے پاني سے ہو تو اس وقت ميں طشت ميں لباس کو غوطہ ديتا ہوں
اور طشت سے باہر گرنے والے پاني ميں ان رووں کي موجودگي کي وجہ سے ميں
احتياطاً ہر جگہ کو پاک کرتا ہوں يا جب ميں بچوں کا نجس لباس اتارتا
ہوں تو اس جگہ کو بھي پاک کرتا ہوں جہاں لباس اتارا گيا تھا خواہ وہ
جگہ خشک ہي ہو اس لئے کہ ميں کہتا ہوں وہ روئيں اس جگہ گرے ہيں۔ پس کيا
يہ احتياط ضروري ہے؟
ج۔ پاک کرتے وقت جس لباس کو ظرف ميں رکھ کر اس پر پائپ کا پاني ڈالا
جاتا ہے اور پاني اچھي طرح لباس کو گھير ليتا ہے تو ( اس وقت) وہ لباس
ظرف اور ظرف کے اندر کا پاني اور لباس سے جدا ہو کر پاني ميں تيرنے
والے روئيں سب پاک ہوجاتے ہيں اور يہ روئيں يا غبار جو نجس کپڑے سے جدا
ہو کر گرتے ہيں ، پاک ہيں، مگر يہ کہ يقين حاصل ہوجائے کہ يہ روئيں نجس
جگہ سے جدا ہوئے ہيں اور صرف اس شک کي بنا پر کہ روئيں گرتے ہيں يا
نہيں يا روئيں نجس جگہ سے گرتے ہيں يا پاک جگہ سے احتياط ضروري نہيں
ہے۔
س٣٠٢۔ اس رطوبت کي مقدار کيا ہے جو ايک چيز سے دوسري چيز ميں سرايت
کرنے کا سبب بن جاتي ہے؟
ج۔ سرايت کرنے والي رطوبت کا معيار يہ ہے کہ کوئي گيلي چيز جب دوسري
چيز سے ملے تو اس کي رطوبت محسوس طريقہ سے اس ميں منتقل ہوجائے۔
س٣٠٣۔ ان کپڑوں کا کيا حکم ہے جو پاک کرنے کے لئے دھوبي يا ڈرائي
کليننگ کو دئے جاتے ہيں؟ اس بات کي وضاحت کردينا ضروري ہے کہ انہيں
جگہوں پر اقليتيں مثلاً يہودي اور عيسائي وغيرہ بھي اپنا لباس ديتے ہيں
اور يہ بھي معلوم ہے کہ ڈرائي کليننگ والے کپڑے دھونے ميں کيمياوي مواد
کا استعمال کرتے ہيں۔
ج۔ جو لباس ڈرائي کليننگ ميں ديا جاتا ہے اگر وہ پہلے سے نجس نہ ہوتو
پاک ہے اور اہل کتاب اقليتوں کے ساتھ مل کر دھلے ہوئے کپڑے نجس نہيں
ہوتے۔
س٣٠٤۔ جو کپڑے گھر کي آٹو ميٹک کپڑا دھونے کي مشين سے دھوئے جاتے ہيں،
وہ پاک ہيں يا نہيں؟ مذکورہ مشين اس طرح کام کرتي ہيں کہ پہلي بار مشين
کپڑوں کو کپڑے دھونے والے پاوڈر سے دھوتي ہے جس کي وجہ سے کچھ پاني اور
کپڑوں کا جھاگ مشين کے دروازے کے شيشے اور اس پر لگے ہوئے ربر کے خول
پر پھيل جاتا ہے اور جب مشين دوسري بار دھونے کے لئے پاني ليتي ہے تو
پاني اس کے دروازے اور ربر کے خول پر لگے جھاگ کو پوري طرح گھير ليتا
ہے اور اگلے مراحل ميں مشين کپڑوں کو تين مرتبہ آب قليل سے دھوتي ہے
پھر اس کے بعد دھوون کو باہر نکالتي ہے۔ برائے مہرباني وضاحت فرمائيں
کہ اس طرح کپڑے پاک ہوتے ہيں يا نہيں؟
ج۔ عين نجاست زائل ہوجانے کے بعد جب پاني پائپ کے ذريعہ براہ راست مشين
ميں داخل ہوکر کپڑوں اور مشين کے اندر ہر جگہ پہنچ جائے اور پھر اس سے
جدا ہو کر نکل جائے تو ان کپڑوں پر طہارت کا حکم لگے گا۔
س٣٠٥۔ اگر زمين پر يا حوض يا حمام ميں جس ميں کپڑے دھوئے جاتے ہيں،
پاني بہايا جائے اور اس پاني کے چھينٹے لباس پر پڑجائيں تو وہ نجس
ہوجائے گا يا نہيں؟
ج۔ اگر پاني پاک جگہ يا پاک زمين پر بہايا جائے تو اس کے چھينٹے پاک
ہيں۔
س٣٠٦۔ بلديہ کي کوڑا ڈھونڈنے والي گاڑيوں سے جو پاني سڑکوں پر بہتا
جاتا ہے۔ بعض اوقات تند ہوا کي وجہ سے لوگوں کے اوپر بھي پڑجاتا ہے ،
وہ پاني پاک ہے يا نجس؟
ج۔ پاک ہے مگر يہ کہ نجاست سے ملنے کي وجہ سے اس پاني کے نجس ہونے کا
کسي شخص کو يقين ہوجائے۔
س٣٠٧۔ سڑکوں کے گڑھوں ميں جمع ہوجانے والا پاني پاک ہے يا نجس؟
ج۔ يہ پاک پاني کے حکم ميں ہے۔
س٣٠٨۔ ان لوگوں کے ساتھ گھريلو آمدو رفت رکھنے کا کيا حکم ہے جو کھانے،
پينے وغيرہ ميں طہارت و نجاست کے مسائل کو اہميت نہيں ديتے ؟
ج۔ طہارت و نجاست کے موضوع ميں ہر وہ چيز جس کے نجس ہونے کا يقين نہ ہو
بظاہر شرع ميں پاک ہے۔
س٣٠٩۔ برائے مہرباني درج ذيل صورتوں ميں قے کي طہارت اور نجاست کے بارے
ميں حکم شرعي بيان فرمائيں:
الف : شير خوار بچہ کي قے۔
ب : اس بچہ کي قے جو دودھ پيتا اور کھانا بھي کھاتا ہے۔
ج : بالغ انسان کي قے۔
ج۔ تمام صورتوں ميں پاک ہے۔
س٣١٠۔ شبہہ محصورہ ( يعني ايسي چيزيں جن ميں سے ايک نجس ہے ان ميں سے
کسي ) سے ملنے والي چيز کا کيا حکم ہے؟
ج۔ اگر ان ميں سے بعض چيزوں سے ملے تو اس پر نجس ہونے کا حکم مرتب نہيں
ہوگا۔
س٣١١۔ ايک شخص کھانا بيچتا ہے اور اس ميں سرايت کرنے والي تري ہونے کے
باوجود اسے اپنے جسم سے مس بھي کرنا ہے ليکن اس کے دين کا پتا نہيں ہے،
کيا اس سے اس کے دين کے بارے ميں سوال کرنا واجب ہے يا اس پر اصالت
طہارت کا حکم جاري ہوگا؟ جبکہ يہ معلوم ہے کہ وہ اسلامي ملک کا باشندہ
نہيں ہے بلکہ وہاں کام کرنے آيا ہے؟
ج۔ اس سے اس کا دين پوچھنا واجب نہيں ہے بلکہ اس کو اور اس سے لي گئي
چيز کو بھي جو اس کے جسم سے مس ہورہي ہے، اصالت طہارت کي بنا پر پاک
سمجھيں گے۔
س٣١٢۔ کسي شخص کے گھر ميں يا اس کے رشتہ داروں کے گھروں ميں ايک ايسا
آدمي ہے جو ان لوگوں کے گھروں ميں آيا جايا کرتا ہے۔ اور يہ آدمي طہارت
و نجاست کو اہميت نہيں ديتا ، جس سے گھر اور اس ميں موجود چيزيں وسيع
پيمانہ پر نجس ہوجاتي ہيں جن کا دھونا اور پاک کرنا ممکن نہيں ہے، پس
اس صورت ميں ان لوگوں کا فريضہ کيا ہے؟ اور ايسي صورت ميں انسان کيسے
پاک رہ سکتا ہے خصوصاً نماز ميں جس کے صحيح ہونے ميں طہارت شرط ہے؟ اور
اس سلسلہ ميں کيا حکم ہے؟
ج۔ تمام گھر کو پاک کرنا ضروري نہيں ہے اور نماز صحيح ہونے کے لئے نماز
گزار کا لباس اور سجدہ گاہ کا پاک ہونا کافي ہے۔ گھر اور اس کے اثاثہ
کي نجاست نماز اور کھانے پينے ميں طہارت کا لحاظ رکھنے سے زيادہ انسان
پر کوئي مزيد ذمہ داري عائد نہيں ہوتي۔
نشہ آور چيزيں
س٣١٣۔ انگور اور کھجور کے اس عرق کا کيا حکم ہے جس کو آگ پر ابالا گيا
ہو اور دو تہائي سے کم جلا ہو ليکن نشہ آور نہ ہو؟
ج۔ اس کا پينا حرام ہے ليکن وہ نجس نہيں ہے۔
س٣١٤۔ کہا جاتا ہے کہ اگر کچے انگور يا پھل کا عرق نکالنے کے لئے اسے
ابالا جائے اور اس ميں انگور کے کچھ دانے ہوں يا ايک ہي دانہ ہو تو
ابال آجانے کے بعد وہ سب حرام ہوجاتا ہے کيا يہ بات صحيح ہيں؟
ج۔ اگر انگور کے دانوں کا پاني بہت ہي کم ہو اور وہ کچے انگور کے عرق
ميں اس طرح مل گيا ہو کہ اسے انگور کا عرق نہ کہا جاتا ہو تو حلال ہے
ليکن اگر خود انگور کے دانوں کو آگ پر ابالا جائے تو حرام ہے۔
س٣١٥۔ دور حاضر ميں بہت سي دوا وں ميں الکحل ۔ جو درحقيقت نشہ آور ہے۔
خاص طور سے پينے والي دواوں اور عطريات ( خصوصاً ان خوشبووں ميں
استعمال ہوتا ہے جنہيں باہر سے منگايا جاتا ہے) تو کيا اس سے واقف يا
ناواقف آدمي کے لئے ان چيزوں کا خريدنا، بيچنا، فراہم کرنا استعمال
کرنا اور دوسرے تمام فوائد حاصل کرنا جائز ہے؟
ج۔ جس الکحل کے بارے ميں يہ نہ معلوم ہو کہ وہ بذات خود نشہ آور سيال
ہے تو وہ پاک ہے اور ان سيال چيزوں کي خريد و فروخت اور ان کے استعمال
ميں بھي کوئي حرج نہيں ہے جن ميں الکحل ملا ہوا ہو۔
س٣١٦۔ کيا سفيد الکحل کے ذريعہ ہاتھ اور طبي آلات کو طبي امور ميں
استعمال کے لئے جراثيم سے پاک کرنے کي غرض سے نيز ڈاکٹر يا طبي بورڈ کے
ذريعہ علاج کي غرض سے استعمال کيا جاسکتاہے؟سفيد الکحل جو طبي الکحل ہے
اورپينے کے قابل بھي ہے اور اس کا معادل (c2hooh
) ہے، پس کيا جس کپڑے پر اس الکحل کا ايک قطرہ يا اس سے زيادہ گرجائے
اس کپڑے ميں نماز جائز ہے؟
ج۔ جو الکحل دراصل سيال نہ ہو، پاک ہے اگرچہ نشہ آور ہي ہو اور طبي
وغير طبي امور ميں اس کے استعمال ميں مضائقہ نہيں ہے۔ اس لباس ميں نماز
بھي صحيح ہے جس پر ايسا الکحل پڑجائے۔ اس کے پاک کرنے کي ضرورت نہيں
ہے۔
س٣١٧۔ کفير نام کا ايک مادہ ہے جو غذائيں اور دوائيں بنانے ميں استعمال
ہوتا ہے اور تخمير کے دوران اس مادہ ميں سے ٥%يا ٨ % الکحل حاصل ہوتا
ہے۔ الکحل کي يہ قليل مقدار مستہلک ہوجانے کي صورت ميں کسي قسم کے نشہ
کا سبب نہيں بنتي۔ آيا شريعت کي رو سے اس کے استعمال ميں کوئي مانع ہے
يا نہيں؟
ج۔اس حاصل شدہ مادہ ميں موجود الکحل اگر بذات خود نشہ آور ہو تو وہ نجس
و حرام ہے اور چاہے وہ قليل مقدار ہونے اوراس مادہ ميں ممزوج ہوجانے کے
سبب نشہ آور ہے يا شک ہو کہ وہ اصل ميں سيال ہے يا نہيں تو حکم مختلف
ہوگا۔
س٣١٨۔ ١۔ ديتائيل الکحل نجس ہے يا نہيں؟ ( بظاہر الکحل منشيات ميں
موجود ہوتا ہے اور نشہ آور ہوتا ہے)
٢۔ الکحل کي نجاست کا معيار کيا ہے؟
٣۔ وہ کونسا طريقہ ہے جس سے ہم ثابت کريں کہ فلاں مشروب نشہ آور ہے؟
٤۔ صنعتي الکحل سے کيا مراد ہے؟
ج۔ الکحل کي وہ تمام قسميں جو نشہ آور اور دراصل سيال ہيں نجس ہيں۔
٢۔ نشہ آور ہو اور دراصل سيال ہو۔
٣۔ اگر خود مکلف کو يقين نہ ہو تو اس کے لئے موثق اہل علم کي گواہي
کافي ہے۔
٤۔ اس سے مراد وہ الکحل ہے جس کو رنگ اور تصوير بنانے کي صنعت، آپريشن
کے اوزار کو جراثيم سے پاک کرنے اور انجکشن لگانے نيز ان کے علاوہ
دوسرے موارد ميں استعمال کيا جاتاہے۔
س٣١٩۔ بازار ميں موجود مشروبات کے پينے اور اسي ضمن ميں ملک ميں بننے
والے مشروبات ( کوکا کولا ، پيپسي وغيرہ) کا کيا حکم ہے؟ جبکہ يہ کہا
جاتا ہے کہ اس کا اساسي مواد باہر سے لگايا جاتا ہے اور احتمال ہے کہ
اس ميں مادہ الکحل پايا جاتا ہو؟
ج۔ طاہر و حلال ہيں مگر يہ کہ خود مکلف کو يہ يقين ہو کہ ان ميں
بالاصالۃ نشہ آور سيال الکحل ملايا گيا ہے۔
س٣٢٠۔ کيا غذائي سامان خريدتے وقت اس بات کي تحقيق ضروري ہے کہ اس کے
بيچنے والے يا بنانے والے نے اسے ہاتھ سے چھوا ہے يااس کے بنانے ميں اس
نے الکحل استعمال کيا ہے؟
ج۔ پوچھنا اور تحقيق کرنا ضروري نہيں ہے۔
س٣٢١۔ ميں ’’ اٹروپين سلفيٹ اسپرے ‘‘ بناتا ہوں جو الکحل کے لئے اس کے
دوائي توازن کي ترکيب ( فارموليشن) ميں بنيادي حيثيت رکھتي ہے۔ يعني
اگر ہم اس ميں الکحل کا اضافہ نہ کريں تو اسپرے نہيں بن سکتا ہے۔ اور
کار آمد ہونے کے لحاظ سے مذکورہ اسپرے ايسا دفاعي اسلحہ ہے جس سے لشکر
اسلام جنگ ميں اعصاب پر اثر انداز ہونے والي گيسوں سے محفوظ رہتا ہے ۔
کيا آپ کي نظر شريف ميں شرعي طور پر الکحل کا استعمال مذکورہ بالا دوا
بنانے کے لئے جائز ہے؟
ج۔ اگر الکحل مسکر اور اصلاً سيال ہے تو وہ نجس و حرام ہے ليکن اس کو
دوا کے طور پر کسي بھي حال ميں استعمال کرنے ميں کوئي اشکال نہيں ہے۔
وسوسہ اور اس کا علاج
س٣٢٢۔ چند سال ميں سے وسواس کي بلا ميں مبتلا ہوں، يہ چيز ميرے لئے بڑي
تکليف دہ ہے۔اور يہ وسواس دن بدن بڑھتا ہي جارہا ہے، يہاں تک کہ ميں ہر
چيز ميں شک کرنے لگا ہوں۔ميري پوري زندگي شک پر استوار ہے، ميرا زيادہ
تر شک کھانے ميں اور تر چيزوں ميں ہوتا ہے۔ لہذا ميں عام لوگوں کي طرح
معمول کے کام نہيں کرسکتا۔ چنانچہ جب ميں کسي مکان ميں داخل ہوتا ہوں
تو فوراً اپنے موزے اتارليتا ہوں کيونکہ ميں سمجھتا ہوں کہ ميرے موزے
پسينہ سے تر ہيں اور وہ کسي چيز کے ساتھ ملنے سے نجس ہوجائيں گے يہاں
تک کہ ميں جانماز پر بھي نہيں بيٹھ سکتا اور جب بيٹھ جاتا ہوں تو ميرا
نفس مجھے اٹھنے پر مجبور کرتا ہے کہ جانماز کے روئيں ميرے لباس پر نہ
لگ جائيں اور ميں انہيں دھونے پر مجبور ہوجاوں گا پہلے ميري يہ حالت
نہيں تھي ليکن اب تو مجھے ان اعمال سے شرم آتي ہے، ہميشہ يہي دل چاہتا
ہے کہ کسي کو خواب ميں ديکھوں اور اس سے سوال کروں ، يا کوئي معجزہ
ہوجائے جس سے ميري زندگي بدل جائے اور ميں پہلے جيسا ہوجاو ں ، اميد ہے
کہ ميري ہدايت فرمائيں گے؟
ج۔ طہارت و نجاست کے وہي احکام ہيں جن کو تفصيل کے ساتھ رسالہ عمليہ
ميں بيان کياگيا ہے اور شريعت کي رو سے ہر چيز پاک ہے سوائے اس کے جس
کو شارع نے نجس قرار ديا ہو اور انسان کو اس کے نجس ہونے کا يقين حاصل
ہوگيا ہو اور اس حالت ميں وسواس سے نجات کے لئے خواب يا معجزہ کي ضرورت
نہيں ہے بلکہ مکلف پر واجب ہے کہ وہ اپنے ذاتي ذوق کو ايک طرف رکھ دے
اور شريعت مقدسہ کي تعليمات کے سامنے سراپا تسليم ہوجائے ان پر ايمان
لے آئے، اور اس چيز کو نجس نہ سمجھے جس کے نجس ہونے کا يقين نہ ہو آپ
کو يہ يقين کہاں سے حاصل ہوا کہ دروازہ ، ديوار ، جا نماز اور آپ کے
استعمال کي تمام چيزيں نجس ہيں آپ نے کيسے يہ يقين کرليا کہ جانماز ،
جس پر آپ چلتے يا بيٹھتے ہيں اس کے روئيں نجس ہيںاور اس کي نجاست آپ کے
موزے ، لباس اور بدن ميں سرايت کرجائے گي؟! بہر صورت اس حالت ميں آپ کے
لئے اس وسواس کي طرف اعتنائ کا عادي بننا آپ کي شرعي ذمہ داري ہے ۔ ان
شائ اللہ خدا آپ کي مدد کرے گا اور آپ کے نفس کو وسواس اس کے چنگل سے
نجات دے گا۔
س٣٢٣۔ ميں ايک عورت ہوں ميرے چند بچے ہيں، ميں اعليٰ تعليم يافتہ ہوں ،
ميرے لئے مسئلہ طہارت مشکل بنا ہوا ہے اور ميں نے ايک دين دار گھرانہ
ميں پرورش پائي ہے اور ميں تمام اسلامي دستورات پر عمل کرنا چاہتي ہوں
ليکن چونکہ ميرے چھوٹے چھوٹے بچے ہيں۔ لہذا ہميشہ ان کے پيشاب پاخانہ
ميں مشغول رہتي ہوں اور ان کا پيشاب پاک کراتے وقت سائفن کے پاني کے
چھينٹے اڑ کر ميرے ہاتھوں ، پيروں يہاں تک سر پر بھي پڑجاتے ہيں اور ہر
مرتبہ ان اعضائ کي طہارت کي مشکل سے دوچارہوتي ہوں، اس سے ميري زندگي
ميں بہت سي مشکليں پيدا ہوگئي ہيں۔ دوسري طرف ان امور کي رعايت کو ميں
ترک نہيں کرسکتي کيونکہ اس کا تعلق ميرے دين اور عقيدہ سے ہے ، ميں نے
کئي بار ماہر نفسيات سے رجوع کيا ہے ليکن کسي نتيجہ پر نہيں پہنچ سکي۔
اس کے علاوہ ديگر امور بھي ميري پريشاني کا سبب ہيں جيسے نجس چيز کا
غبار بچہ کے نجس ہاتھوں سے محتاط رہنا جن کا يا پاک کرنا مجھ پر واجب
ہے يا اسے دوسري چيزيں چھونے سے باز رکھنا۔ ميرے لئے نجس چيز کا پاک
کرنا بہت مشکل کام ہے ليکن ساتھ ہي ان برتنوں اور کپڑوں کا دھونا ميرے
لئے آسان ہے جو ميلے يا گندے ہوں۔ اميد ہے کہ آپ کي راہنمائي سے ميري
زندگي آسان ہوجائے گي۔
ج۔١۔ شريعت کي نظر ميں باب طہارت و نجاست ميں اصل طہارت ہے يعني جس جگہ
بھي تمہيں نجاست ميں معمولي سا شک ہو وہاں تمہارے اوپر واجب ہے کہ عدم
نجاست کا حکم لگاو۔
٢۔ نجاست کے سلسلہ ميں جو لوگ بہت حساس ہيں ( اسلامي فقہ کي اصطلاح ميں
جنہيں وسواسي يا شکي کہا جاتاہے) اگر انہيں بعض جگہوں پرنجاست کا يقين
بھي ہوجائے تب بھي ان پر واجب ہے کہ ان پر نجس نہ ہونے کا حکم لگائيں
سوائے ان موارد کے جنہيں انہوں نے اپني آنکھوں سے نجس ہوتے ديکھا ہو۔
اس طرح کہ اگر کوئي بھي دوسرا شخص ديکھے تو نجاست کے سرايت کرنے کا
يقين کرے ايسي جگہوں پر واجب ہے کہ وہ بھي نجاست کا حکم لگائيں اور يہ
حکم اس وقت تک ان لوگوں پر جاري رہے گا جب تک مذکورہ حساسيت بالکل ختم
نہ ہوجائے۔
٣۔ جو چيز يا عضو نجس ہوجائے اس کي طہارت کے لئے، عين نجاست زائل ہونے
کے بعد اسے ايک مرتبہ پائپ سے دھونا کافي ہے، دوبارہ دھونا يا پاني کے
نيچے رکھنا واجب نہيں ہے اور اگر نجس ہونے والي چيز موٹے کپڑے کي جيسي
ہو تو اسے بقدر معمول نچوڑيں تاکہ اس سے پاني نکل جائے۔
٤۔ چونکہ آپ نجاست کے سلسلہ ميں بے حد حساس ہوچکي ہيں، پس جان ليجئے کہ
نجس غبار آپ کے لئے کسي صورت ميں بھي نجس نہيں ہے اور بچہ کے پاک يا
نجس ہاتھ کے سلسلہ ميں محتاط رہنا ضروري نہيں ہے اور نہ ہي اس سلسلہ
ميں دقت کرنا ضروري ہے کہ بدن سے خون زائل ہوا يا نہيں اور آپ کے لئے
يہ حکم اس وقت تک باقي ہے جب تک مکمل طور پر آپ کي حساسيت بالکل ختم
نہيں ہوجاتي۔
٥۔ دين اسلام کے احکام سہل و آسان اور فطرت انسان کے موافق ہيں انہيں
اپنے لئے مشکل نہ بنائے اور اس صورت ميں اپنے بدن اور روح کو تکليف و
ضرر ميں مبتلا نہ کيجئے اور ايسے حالات ميں قلق و اضطراب سے زندگي تلخ
ہوجاتي ہے۔ بے شک خدائے متعال اس بات سے خوش نہيں ہے کہ آپ اورآپ کے
متعلقين عذاب ميں مبتلا ہوں۔ آسان دين کي نعمت پر شکر ادا کيجئے اور اس
نعمت پر شکر ادا کرنے کا مطلب يہ ہے کہ خدا کے دين کے احکام کے مطابق
عمل کيا جائے۔
٦۔ آپ کي موجودہ کيفيت وقتي اور قابل علاج ہے ، اس ميں مبتلا ہونے کے
بعد بہت سے لوگوں نے مذکورہ طريقہ کے مطابق عمل کرکے بہت آرام محسوس
کيا ہے، خدا پر بھروسہ کيجئے اور اپنے اندر عزم و ہمت پيدا کيجئے۔
کافر کي نجاست
اہل کتاب کي طہارت اور دوسرے کفار کا حکم
س٣٢٤۔ اہل کتاب پاک ہيں يا نجس؟
ج۔ ان کا ذاتاً پاک ہونا بعيد نہيں ہے۔
س٣٢٥۔ بعض فقہا اہل کتاب کو نجس اور بعض انہيں پاک قرار ديتے ہيں آپ کي
کيا رائے ہے؟
ج۔ اہل کتاب کي ذاتي نجاست ثابت نہيں ہے، بلکہ ہم انہيں ذاتاً پاک کے
حکم ميں سمجھتے ہيں۔
س٣٢٦۔ وہ اہل کتاب جو فکري لحاظ سے خاتم النبيين
۰
کي رسالت کے قائل ہيں ليکن اپنے آبائ و اجداد کے عادات اور ان کي روش
کے مطابق عمل پيرا ہيں کيا وہ طہارت کے مسئلے ميں کافر کے حکم ميں ہيں؟
ج۔ صرف خاتم النبيين
۰
کي رسالت کا اعتقاد رکھنا اسلام کے تحت آنے کے لئے کافي نہيں ہے۔ ليکن
اگر ان کا شمار اہل کتاب ميں ہوتا ہے تو وہ پاک ہيں۔
س٣٢٧۔ ميں نے اپنے چند دوستوں کے ساتھ ايک گھر کرايہ پر ليا،ہميں معلوم
ہوا کہ ان ميں سے ايک نماز نہيں پڑھتا ، اس سلسلے ميں پوچھے جانے پر اس
نے جواب ديا کہ وہ دل سے تو خدا پر ايمان رکھتا ہے ليکن نماز نہيں
پڑھتا ۔ اس بات کے پيش نظر کہ ہم اس کے ساتھ کھانا کھاتے ہيں اور اس سے
بہت زيادہ گھلے ملے ہيں ، آيا وہ نجس ہے يا پاک؟
ج۔ صر ف نماز اور روزہ اور دوسرے شرعي واجبات کا ترک کرنا، مسلمان کے
مرتد اور نجس ہونے کا موجب نہيں ہوتا، بلکہ جب تک اس کے مرتد ہونے کا
يقين نہ ہوجائے اس کا حکم سارے مسلمانوں جيسا ہے۔
س٣٢٨۔ وہ کون سے اديان ہيں جن کے ماننے والے اہل کتاب ہيں؟ اور معيار
کيا ہے جو ان ے ساتھ رہن سہن کے حدود کو معين کرتا ہے۔
ج۔اہل کتاب سے مراد وہ لوگ ہيں جن کا تعلق کسي الہي دين سے ہو، وہ اپنے
کو انبيائ اللہ ميں سے کسي نبي ٴ کي امت سے مانتے ہوں اور ان کے پاس
انبيائ پر نازل ہونے والي آسماني کتابوں ميں سے کوئي کتاب ہو، جيسے
يہودي، عيسائي، زرتشي اور اسي طرح صائبي ہيں ( ہماري تحقيق کي رو سے)
اہل کتاب ہيں۔ پس ان سب کا حکم اہل کتاب کا حکم ہے اور اسلامي قوانين و
اخلاق کي رعايت کرتے ہوئے ان کے ساتھ معاشرت کرنے ميں کوئي حرج نہيں
ہے۔
س٣٢٩۔ ايک فرقہ ہے جو اپنے کو ’’ علي اللھيہ ‘‘ کہتا ہے۔ وہ لوگ امير
المومنين علي ابن ابي طالب کو خدا سمجھتے ہيں اور ان کا عقيدہ يہ ہے کہ
دعا اور طلب حاجت، نماز اور روزے کا بدل ہيں، کيا يہ لوگ نجس ہيں؟
ج۔ اگر وہ اميرالمومنين علي بن ابي طالب کو اللہ مانتے ہيں ۔ تعاليٰ
اللہ عن ذلک علوا ًکبيراً۔ تو ان کا حکم اہل کتاب کے سوا دوسرے غير
مسلموں جيسا ہے۔
س٣٢٠۔ ايک فرقہ ہے جس کا نام ’’ علي اللھيہ ‘‘ ہے اس کے ماننے والے
کہتے ہيں کہ علي خدا تو نہيں ہيں ليکن خدا سے کم بھي نہيں ہيں ، ان کا
کيا حکم ہے؟
ج۔ اگر وہ ( حضرت علي ٴ کو ) خدائے واحد و منان کا شريک قرار نہيں ديتے
تو وہ مشرک کے حکم ميں نہيںہيں۔
س٣٢١۔ کسي شيعہ اثنا عشري نے اگر امام حسين ٴ يا اصحاب کسائ (پنجتن
پاک)کیلئے نذر کي ہو تو کيا اس نذر کو ان مراکز ميں دينا صحيح ہے جہاں
فرقہ ’’ علي اللھيہ ‘‘ کے ماننے والے جمع ہوتے ہيں اور يہ (نذر)کسي نہ
کسي شکل ميں ان مراکز کي تقويت کا باعث بنتي ہے؟
ج۔ مولائے موحدين (حضر ت علي عليہ السلام)کو خدا ماننے کا عقيدہ باطل
ہے اور ايسا عقيدہ رکھنا اسلام سے خارج ہونے کا موجب ہے ايسے فاسد
عقيدہ کي ترويج ميں مدد کرنا حرام ہے، مزيد يہ کہ اگر مال کو کسي خاص
منذور کے لئے نذر کيا گيا ہو تو اسے دوسري جگہ پر خرچ کرنا جائز نہيں
ہے۔
س٣٣٢۔ ہمارے علاقے اور بعض دوسرے علاقوں ميں ايک فرقہ پايا جاتا ہے جو
اپنے کو ’’ اسماعيليہ ‘‘ کہتاہے۔ وہ لوگ چھ اماموں ( پہلے امام سے چھٹے
امام تک) کا اعتقاد رکھتے ہيں۔ ليکن وہ کسي بھي واجبات ديني کو نہيں
مانتے اسي طرح وہ ولايت فقيہہ کو بھي نہيں مانتے ، لہذا آپ بتائيں کہ
اس فرقے کي پيروي کرنے والے نجس ہيں يا پاک؟
ج۔ صرف چھ معصومين ٴ يا احکام شرعيہ ميں سے کسي حکم پر اعتقاد نہ رکھنا
اگر وہ اصل شريعت سے انکار نہ ہو اور نہ خاتم الانبيائ عليہ وآلہ
والصلاۃ والسلام کي نبوت سے انکار ہو تو کفر و نجاست کا موجب نہيں ہے۔
مگر يہ کہ وہ لوگ کسي امام کو برا بھلا کہيں يا ان کي اہانت کريں۔
س٣٣٣۔ يہاں سب سے بڑي آبادي( بدھ مذہب کے ماننے والے) کافروں کي ہے۔
اگر يونيورسٹي کا کوئي طالب علم کرايہ پر مکان لے تو اس مکان کي طہارت
و نجاست کا کيا حکم ہے؟ کيا اس مکان کو دھونا اور اسے پاک کرنا ضروري
ہے؟ اس بات کي طرف بھي اشارہ کردوں کہ يہاں اکثر مکان لکڑي کے بنے ہوئے
ہيں ان کا دھونا ممکن نہيں ہے، نيز ہوٹلوں اور ان ميں موجود چيزوں کا
کيا حکم ہے؟
ج۔ جب تک کافر غير کتابي کے ہاتھ اور بدن کا سرايت کرنے والي رطوبت کے
ساتھ مس ہونے کا يقين نہ ہو، اس پر نجاست کا حکم نہيں لگے گا اور نجاست
کا يقين ہونے کي صورت ميں ہوٹلوں اور مکانوں کے دروازوں اور ديواروں
کاپاک کرنا واجب نہيں ہے، بلکہ کھانے پينے ميں اور نماز کے لئے استعمال
کي جانے والي چيزيں اگر نجس ہوں تو ان کا پاک کرنا واجب ہے۔
س٣٣٤۔ خوزستان (ايرا ن) ميں بہت سے لوگ ايسے ہيں جو اپنے کو صائبي کہتے
ہيں۔ وہ کہتے ہيں کہ ہم جناب يحييٰ کے ماننے والے ہيں اور ہمارے پاس ان
( جناب يحييٰ ٴ) کي کتا ب ہے۔ اور دين شناسوںکے نزديک ثابت ہوچکا ہے کہ
يہ وہي صائبي ہيں جن کا ذکر قرآن مجيد ميں ہے۔ لہذا آپ بتائيں کہ وہ
اہل کتاب ميں سے ہيں يا نہيں؟
ج۔ مذکورہ گروہ اہل کتاب کے حکم ميںہے۔
س٣٣٥۔ يہ جو کہا جاتا ہے کہ کافر کے ہاتھ کا بنا ہوا گھر نجس ہوتا ہے
اور اس ميں نماز پڑھنا مکروہ ہے کيا يہ صحيح ہے؟
ج۔ ايسے گھر ميں نماز پڑھنا مکروہ نہيں ہے۔
س٣٣٦۔ يہوديوں اور کافروں کے دوسرے فرقوں کے يہاں کام کرنے اور ان سے
اجرت لينے کا کيا حکم ہے؟
ج۔ اس ميں بذات خود کوئي مانع نہيں ہے بشرطيکہ وہ کام حرام اور اسلام و
مسلمين کے مفادات کے خلاف نہ ہو۔
س٣٣٧۔ جس جگہ ہم فوج ميں کام کرتے ہيں وہاں بعض قبيلے ہيں جن کا تعلق
ايسے فرقہ سے ہے جسے مذہب ’’ الحق‘‘ کہا جاتا ہے۔ کيا ان کے ہاتھ سے
دودھ دہي اور مکھن لے کر کھاسکتے ہيں؟
ج۔ اگر وہ اصول اسلام کے معتقد ہوں تو طہارت و نجاست کے مسئلے ميں سارے
مسلمانوں کے حکم ميں ہيں۔
س٣٣٨۔ جس گاوں ميں ہم پڑھاتے ہيں وہاں کے لوگ نما زنہيں پڑھتے کيونکہ
وہ فرقہ ’’ الحق ‘‘ سے ہيں اور ہم ان سے روٹي لينے اور ان کے يہاں
کھانا کھانے پر مجبور ہيں ، کيونکہ ہم رات دن اسي قريہ ميں رہتے ہيں،
تو کيا وہاں ہماري نمازوں ميں کوئي اشکال ہے؟
ج۔ اگر وہ توحيد اور نبوت کے منکر نہ ہوں، نہ ضروريات دين ميں سے کسي
چيز کے منکر ہوں اور نہ رسول اسلام کي رسالت کے ناقص ہونے کے معتقد ہوں
تو ان پر نہ کفر کا حکم لگے گا اور نہ نجاست کا ۔ ليکن اگر ايسا نہ ہو
تو ان کا کھانا کھانے اور انہيں چھونے کي صورت ميں طہارت و نجاست کا
لحاظ رکھنا واجب ہے۔
س٣٣٩۔ ہمارے رشتہ داروں ميں ايک صاحب کميونسٹ تھے، انہوں نے بچپن ميں
ہميں بہت ساري چيزيں اور مال ديا تھا، پس اگر وہ مال اور چيزيں بنفسہ
موجود ہوں تو ان کا کيا حکم ہے؟
ج۔ اگر اس کا کفر اور ارتداد ثابت ہوجائے اور اس نے سن بلوغ ميں اظہار
اسلام سے پہلے کفر اختيار کيا تو اس کے اموال کا حکم وہي ہے جو دوسرے
کافروں کے اموال کا ہے۔
س٣٤٠۔ مندرجہ ذيل سوالات کے جواب مرحمت فرمائيں:
١۔ ابتدائي ، متوسط اور اس سے بالاتر کلاسوں کے مسلمان طلاب کا بہائي
فرقے کے طلاب کے ساتھ ملنے جلنے ، اٹھنے بيٹھنے اور ان سے ہاتھ ملانے
کا کيا حکم ہے، خواہ وہ لڑکے ہوں يا لڑکياں ، مکلف يا غير مکلف، اسکول
ميں ہوں يا اس سے باہر ؟
٢۔ جو طلاب اپنے کو بہائي کہتے ہيں يا جن کے بہائي ہونے کا يقين ہے ان
کے ساتھ اساتذہ اور مربيوں کو کس طرح کا رويہ رکھنا واجب ہے؟
٣۔ جن چيزوں کو سارے طلاب استعمال کرتے ہيں ان سے استفادہ کرنے کے بارے
ميں شرعي حکم کيا ہے جيسے پينے کے پاني يا بيت الخلائ کا نل، لوٹا،
صابن اور اسي جيسي دوسري چيزيں جہاں ہاتھ اور بدن کے مرطوب ہونے کا
يقين ہو؟
ج۔ گمراہ فرقہ بہائيہ کے تمام افراد نجس ہيں، اور ان کے کسي چيز کے
چھونے کي صورت ميں جن امور ميں طہارت شرط ہے ان ميں طہارت کا لحاظ
رکھنا واجب ہے، ليکن اساتذہ اور مربيوں پر واجب ہے کہ ان کا رويہ بہائي
طلاب کے ساتھ قانوني مقررات اور اسلامي اخلاق کے مطابق ہو۔
س٣٤١۔ اسلامي معاشرہ ميں بہائي فرقہ کے ماننے والوں کي وجہ سے جو
کمزورياں پيدا ہوتي ہيں ان کا مقابلہ کرنے کے لئے مومنين اور مومنات کي
کيا ذمہ داري ہے؟
ج۔ سارے مومنين پر واجب ہے کہ وہ بہائي فرقہ کي فتنہ پردازي اور ان کے
مکروہ حيلے کو روکيں اور لوگوں کو اس گمراہ فرقہ کے ذريعہ منحرف ہونے
سے بچائيں۔
س٣٤٢۔ بعض اوقات بہائي فرقہ کے ماننے والے کھانے کي يا دوسري چيزيں
ہمارے پاک لاتے ہيں، تو کيا ان کا استعما کرنا ہمارے لئے جائز ہے؟
ج۔ ان کے تحفوں کو واپس کرنا اور ان کو قبول نہ کرنا واجب نہيں ہے اور
جن تر چيزوں کے بارے ميں شک ہو کہ اس ميں ان کا ہاتھ لگا ہے يا نہيں
ايسي صورت ميں بنياد طہارت پر رکھني چاہئيے ، ليکن ان کي ہدايت اور
انہيں اسلام کي طرف مائل کرنے کي سعي و کوشش آپ پر لازم ہے۔
س٣٤٣۔ ہمارے پڑوس ميں بہت سے بہائي رہتے ہيں اور ہمارے ہاں اکثر ان کا
آنا جانا ہوتا ہے۔ کوئي کہتا ہے کہ بہائي نجس ہيں اور کوئي کہتا ہے کہ
پاک ہيں ، اور يہ بہائي بہت اچھے اخلاق کا اظہار کرتے ہيں ، پس وہ نجس
ہيں يا پاک ہيں؟
ج۔ وہ نجس ہيں اور تمہارے دين اور ايمان کے دشمن ہيں۔ پس اے ميرے عزيز
بيٹے ! تم ان کے ساتھ سنجيدگي کے ساتھ پرہيز کرو۔
س٣٤٤۔ بسوں اور ريل گاڑيوں کي ان سيٹوں کا کيا حکم ہے جن پر مسلمان اور
کافر دونوں بيٹھتے ہيں اور بعض علاقوں ميں کافروں کي تعداد مسلمانوں سے
زيادہ ہے ، کيا يہ سيٹيں پاک ہيں؟ جبکہ ہم جانتے ہيں کہ گرمي کي وجہ سے
پسينہ نکلتا ہے بلکہ وہ پسينہ ميں سرايت کرجاتا ہے۔
ج۔ جب تک ان کے نجس ہونے کا علم نہ ہو ان کو پاک سمجھا جائے گا۔
س٣٤٥۔ دوسرے ممالک ميں پڑھنے کا لازمہ يہ ہے کافروں کے ساتھ تعلقات
رکھے جائيں ايسے موقع پر ان کے ہاتھ کا بنا ہوا کھانا کھانے کا کيا حکم
ہے ( بشرطيکہ حرام چيزوں کے نہ ہونے کي رعايت کي جائے جيسے غير مزکي
گوشت) اگرچہ اس ميں ان کے گيلے ہاتھ کے لگنے کا احتمال ہو؟
ج۔ صرف کافر کے تر ہاتھ لگنے کا احتمال وجوب اجتناب کے لئے کافي نہيں
ہے۔ بلکہ جب تک کافر کے تر ہاتھ سے مس ہونے کا يقين نہ ہوجائے اس وقت
تک چيز پاک کہلائے گي اور اگر کافر اہل کتاب ہو تو اس کي نجاست ذاتي
نہيں ہے لہذا اس کے تر ہاتھ کے مس ہونے سے کوئي چيز نجس نہيں ہوگي۔
س٣٤٦۔ اگر اسلامي حکومت ميں زندگي بسر کرنے والے مسلمان کے تمام مصارف
و اخراجات پورے ہورہے ہيں اور اس کے باوجود وہ غير مسلم کي ملازمت کرتا
ہواور اس سے اس کے گہرے تعلقات ہوں تو ايسے مسلمان سے گھريلو تعلقات
قائم کرنا اور کبھي کبھار اس کے يہاں کھانا کھانا جائز ہے؟
ج۔ مسلمانوں کے لئے مذکورہ مسلمان سے تعلقات رکھنے ميں کوئي مضائقہ
نہيں ہے۔ ليکن اگر غير مسلم کي دوستي سے اس مسلمان کے عقيدہ ميں انحراف
کا خوف ہو تو اس پر اس کام سے کنارہ کش ہونا واجب ہے اور ايسي صورت ميں
دوسرے مسلمانوں پر واجب ہے کہ اس کو غير مسلم کي ملازمت سے باز رکھيں۔
س٣٤٧۔ افسوس کہ ميرے برادر نسبتي مختلف اسباب کي بنا پر مرتد ہوگئے تھے
اور نوبت يہاں تک پہنچ چکي تھي کہ ديني مقدسات کي اہانت کے مرتکب بھي
ہوتے تھے ۔ کئي سال گزر جانے کے بعد اب ان کے ايک حظ سے ظاہر ہوتا ہے
کہ وہ دوبارہ اسلام پر ايمان لے آئے ہيں ليکن اس وقت بھي وہ روزے نماز
کے پابند نہيں ہيں ايسي صورت ميں ان سے ان کے والدين اور رشتہ داروں کے
کيسے تعلقات ہونا چاہئيں اور کيا ان کو کافر قرار ديتے ہوئے نجس سمجھنا
چاہئيے؟
ج۔ اگر سابق ميں اس کا مرتد ہونا ثابت ہوجائے تو جب اس سے توبہ کرلے گا
تو پاک ہوجائے گا اور اس کے والدين اور رشتہ داروں کے لئے اس سے تعلقات
رکھنے ميں کوئي مضائقہ نہيں ہے۔
س٣٤٨۔ اگر کوئي شخص بعض ضروريات دين جيسے روزہ کا منکر ہوجائے تو کيا
اس پر کافر کا حکم لگے گا؟
ج۔ اگر بعض ضروريات دين کا انکار ، رسالت کا انکار يا پيغمبر اسلام
۰
کي تکذيب يا شريعت کي تنقيص کہلاتا ہو تو يہ کفر و ارتداد ہے۔
س٣٤٩۔ کافر ذمي کافر حربي مرتد کے لئے جو سزائيں معين کي گئي ہيں کيا
وہ سياسي نوعيت کي ہيں اور قائد کے فرائض ميں شامل ہيں يا وہ سزائيں
قيامت تک کے لئے ثابت ہيں؟
ج۔ يہ الہي اور شرعي حکم ہے۔
|