متفرقات
 

س١١٠٢۔ ميري بہن نے کچھ عرصہ پہلے ايک بے نمازي سے شادي کرلي ہے چونکہ وہ ہمارے ساتھ ہي رہتا ہے لہذا ميں اس سے گفتگو اور معاشرت پرمجبور ہوں بلکہ اکثر اس کے کہنے پر بعض کاموں ميں اس کي مدد کرتا رہتا ہوں پس کيا شريعت کي رو سے اس سے گفتگو و معاشرت اور بعض کاموں ميں اس کي مدد کرنا جائز ہے؟
ج۔ اس سلسلہ ميں آپ کے اوپر صرف يہ ہے کہ جب بھي اس کے وجوب کے حالات اور شرائط موجود ہوں تو آپ متواتر امر بالمعروف اور نہي عن المنکر کرتے رہيں اور آپ کي مدد معاشرت اسے ترک نماز پرجبري نہ بنائے تو اس کي مدد کرنے ميں کوئي اشکال نہيں ہے۔
س١١٠٣۔ اگر ظالموں اور حاکم جور کے پاس علمائے اعلام کي آمدو رفت و معاشرت سے ان کے ظلم ميں کمي واقع ہوتي ہو تو کيا ايسا کرنا جائز ہے؟
ج۔ اگر ايسے حالات ميں عالم پر يہ ثابت ہوجائے کہ اس کا ظالم کے پاس آنا جانا ظالم کو ظلم کے ترک کرنے اور منکرات سے روکنے ميں موثر ہوگا۔ يا کوئي ايسا مسئلہ ہو جس کو اہميت دينا واجب ہو تو اس صورت ميں اس ميں کوئي اشکال نہيں۔
س١١٠٤۔ ميں نے چند سال قبل شادي کي ہے اور ميں ديني امور اور شرعي مسائل کو بہت زيادہ اہميت ديتا ہوں اور امام خميني
۲ کا مقلد ہوں مگر ميري زوجہ ديني مسائل کو اہميت نہيں ديتي، بعض اوقات ، ہماري باہمي بحث و نزاع کے بعد وہ ايک مرتبہ نما زپڑھ ليتي ہے مگر زيادہ تر نہيں پڑھتي ہے جس سے مجھے بہت دکھ ہوتا ہے ايسي صورت ميں ميرا کيا فريضہ ہے؟
ج۔ آپ پر اس کي اصلاح کے اسباب فراہم کرنا واجب ہے خواہ کسي بھي طريقہ سے ہوں اور ايسي خشونت سے پرہيز ضروري ہے جس سے بدخلقي اور عدم نظم و نسق کي بو آتي ہے۔ ليکن آپ کي ياد دہاني کے لئے عرض ہے کہ ديني مجالس ميں شرکت کرنا اور دين دار خاندانوں کے يہاں آنا جانا اصلاح ميں بڑا موثر ہے۔
س١١٠٥۔ اگر ايک مسلمان قرائن کي مدد سے اس نتيجہ پر پہنچے کہ اس کي زوجہ ، چند بچوں کي ماں ہونے کے باوجود ، پوشيدہ طور پر ايسے افعال کا ارتکاب کرتي ہے جو عفت کے خلاف ہيں ليکن اس موضوع کے اثبات پر اس کے پاس کوئي شرعي دليل نہيں ہے۔ مثلاً گواہي دينے کے لئے گواہ نہيں ہے تو شرعاً اس عورت کے ساتھ انسان کيسا سلوک کرے ؟ اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ بچے اسي کے زير سايہ پرورش پائيں گے اور اگر وہ شخص يا اشخاص ، جو کہ ايسے قبيح اور احکام خدا کے برخلاف افعال کے مرتکب ہوتے ہيں، پہچان لئے جائيں تو ان کے ساتھ کيا سلوک کرنا چاہئيے؟ واضح رہے کہ ان کے خلاف ايسي دليليں نہيں ہيں جنہيں شرعي عدالت ميں پيش کيا جاسکے؟
ج۔ ظني قرائن و شواہد کے ذريعہ پيدا ہونے والے سوئ ظن سے اجتناب واجب ہے اور اگر محرمات شرعي کا وقوع ثابت ہوجائے تو اسے وعظ و نصيحت اور نہي عن المنکر کے ذريعہ اس فعل سے روکنا واجب ہے اور اگر نہي عن المنکر کا اس پر کوئي اثر نہ ہو تو اس وقت وہ عدليہ سے رجوع کرسکتا ہے بشرطيکہ اس کے پاس ثبوت موجود ہو۔
س١١٠٦۔ کيا لڑکي کے لئے جائز ہے کہ وہ جوان کو نصيحت اور راہنمائي کرے اور تعليم وغيرہ ميں موازين شرعيہ کي رعايت کے التزام کے ساتھ اس کي مدد کرے؟
ج۔ مفروضہ سوال ميں کوئي مانع نہيں ہے ليکن شيطاني وسوسوں اور بہکانے والي باتوں سے پرہيز ضروري ہے اور اس سلسلہ ميں شرع کے احکام کي رعايت کرنا، جيسے اجنبي کے ساتھ تنہا نہ رہنا واجب ہے۔
س١١٠٧۔ مختلف اداروں اور دفاتر کے ان ماتحت ملازمين کي تکليف کيا ہے جو کبھي کبھي اپنے دفاتر ميں اپنے افسران بالا سے اداري اور شرعي مخالفت ديکھيں ؟ اور کيا اس شخص سے اس جگہ تکليف ساقط ہے جب اس بات کا انديشہ ہو کہ اگر وہ نہي عن المنکر کرے گا تو اسے افسران بالادست سے نقصان پہنچے گا؟
ج۔ اگر امر بالمعروف اور نہي عن المنکر کے شرائط موجود ہوں تو انہيںامر بالمعروف اور نہي عن المنکر کرنا چاہئيے ورنہ اس سلسلہ ميں ان کے اوپر کوئي شرعي ذمہ داري نہيں ہے۔ اسي طرح اگر انہيں اس سے ضرر کا خوف ہو تو بھي ان سے تکليف ساقط ہے يہ اس جگہ کا حکم ہے جہاں اسلامي حکومت کا نظام نافذ نہ ہو ليکن جہان اسلامي حکومت ہو اور وہ اس فريضہ کو اہميت ديتي ہو تو اس وقت امر بالمعروف اور نہي عن المنکر سے عاجز شخص پر واجب ہے کہ اس سلسلہ ميں حکومت نے جو مخصوص ادارے سے قائم کئے ہيں ان کو اطلاع دے تاکہ فساد و مفسدين کي بيخ کني تک چارہ جوئي کي جائے۔
س١١٠٨۔ اگر کسي ادارہ کے بيت المال ميں غبن اور چوري ہوجائے اور يہ سلسلہ جاري ہو اور وہاں ايک ايسا شخص موجود ہو جو خود کو اس لائق سمجھتا ہے کہ اگر يہ ذمہ داري اس کے سپرد کردي جائے تو اس کي اصلاح کرسکے گا اور يہ ذمہ داري اسے اس وقت تک نہيں ملے گي جب تک وہ اسے لينے کے لئے بعض مخصوص افراد کو رشوت نہ دے تو کيا بيت المال کو دست برد سے بچانے کے لئے رشوت دينا جائز ہے ؟ درحقيقت يہ بڑي بد عنواني کو چھوٹي بدعنواني کے ذريعہ ختم کرنا ہے؟
ج۔ جو اشخاص اس بات سے باخبر ہيں کہ شريعت کي مخالفت ہورہي ہے ، ان پر واجب ہے کہ وہ نہي عن المنکر کے شرائط و ضوابط کا لحاظ کرتے ہوئے نہي عن المنکر کريں اور کسي کام کي ذمہ داري خود سنبھالنے کے لئے اگرچہ وہ مفاسد کو روکنے ہي کي غرض سے ہو، رشوت دينا اور غير قانوني اختيار کرنا جائز نہيں ہے۔ ہاں اگر يہ چيزيں اس شہر ميں فرض کي جائيں جہاں اسلامي حکومت ہو تو وہاں کے لوگوں سے يہ واجب صرف امر بالمعروف اور نہي عن المنکر سے عاجز ہونے کي بنا پر ساقط نہيں ہوگا بلکہ وہاں واجب ہے کہ حکومت کے قائم کردہ محکمہ کو اطلاع دے۔
س١١٠٩۔ کيا منکرات ، نسبي امور ميں سے ہيں تاکہ يونيورسٹيوں کے موجودہ ماحول کا باہر کے فاسد ماحول سے موازنہ کيا جائے اور اس طرح بعض منکرات سے نہي نہ کي جائے اور نہ ان سے روکا جائے، اس لئے کہ ان کو حرام اور منکر نہيں قرار ديا جاتا؟
ج۔ نامشروع اور برے افعال ، برے ہونے کي حيثيت سے نسبي نہيں ہيں۔ البتہ جب بعض برے افعال کا دوسرے قبيح افعال سے موازنہ کيا جائے گا تو کچھ زيادہ ہي قبيح و حرام ثابت ہوں گے ۔ بہر حال اس شخص پر نہي عن المنکر کرنا واجب ہے جس کے لئے شرائط فراہم ہوں، اور اس کو ترک کرنا اس کے لئے جائز نہيں ہے اور اس سلسلہ ميں برے افعال کے درميان کوئي فرق نہيں ہے اور نہ ہي يونيورسٹي کے ماحول کو دوسرے ماحول سے اس لحاظ سے جدا کيا جاسکتا ہے؟
س١١١٠۔ الکحل والے ايسے مشروبات کا کيا حکم ہے جو ان اجنبيوں کے پاس پائے جاتے ہيں جو اسلامي ممالک کے بعض اداروں ميں ملازمت کے لئے آتے ہيں اور انہيں وہ اپنے گھروں ميں يا ان جگہوں پر پيتے ہيں جو ان کے لئے مخصوص ہيں؟ اور اسي طرح ان کے خنزير کا گوشت لانے اور اسے کھانے کا کيا حکم ہے ؟ اور جو صفت اور اقدار انساني کے خلاف اعمال کا ارتکاب کرتے ہيں ان کا کيا حکم ہے؟ کارخانہ کے ذمہ داروں اور ان اجنبيوں کا ساتھ کام کرنے والوں کي تکليف کيا ہے؟ ايسي حالت ميں ہم کيا قدم اٹھائيں جبکہ مربوط ادارے اور کارخانوں کے ذمہ دار افراد اطلاع کے بعد بھي اس بارے ميں کسي قسم کي کاروائي نہ کريں؟
ج۔ ان کے ذمہ دار حکام پر واجب ہے کہ ان لوگوں کو کھلے عام ايسے امور جيسے شراب خواري اور حرام گوشت کھانے سے منع کريں اسي طرح لوگوں کے سامنے ان اشيائ کا حمل و نقل نہ کريں، ليکن جو امور عفت عامہ کے خلاف ہيں انہيں انجام دينے کي انہيں اجازت نہيں ہے بہر حال اس سلسلہ ميں ان کے لئے قانون کا اجرائ ان ہي عہدہداروں کے توسط سے ہونا چاہئيے جو ان کے لئے مختص ہيں۔
س١١١١۔ بعض برادران امر بالمعروف اور نہي عن المنکر کي غرض سے ايسے مقامات پر جاتے ہيں جہاں اکثر بے پردہ عورتيں جمع ہوتي ہيں تاکہ انہيں وعظو نصيحت کريں کيا ان کے لئے جائز ہے کہ بے پردہ عورتوں کي طرف نگاہ کريں؟ اس اعتبار سے کہ وہ اس جگہ امر بالمعروف اور نہي عن المنکر کي غرض سے گئے ہيں ؟
ج۔ غير ارادي طور پر پہلي مرتبہ نگاہ کرنے ميں کوئي اشکال نہيں ہے ليکن جان بوجھ کر چہرہ اور دونوں ہتھيليوں کے علاوہ کسي چيز کو ديکھنا جائز نہيں ہے اگرچہ مقصد امر بالمعروف ہي کيوں نہ ہو۔
س١١١٢۔ ان مومن جوانوں کا کيا فريضہ ہے جو بعض مخلوط ( نظام تعليم والي ) يونيورسٹيوں ميں برے اعمال کا مشاہدہ کرتے ہيں؟
ج۔ ان پر واجب ہے کہ خود کو برائيوں ميں ملوث نہ کريں اور اگر شرائط موجود ہوں اور وہ قدرت رکھتے ہوں تو ان پر امر بالمعروف اور نہي عن المنکر کے لئے اٹھ کھڑے ہونا واجب ہے۔

استفتا آت (١)
کتاب اجتہاد اور تقليد
کتاب طہارت
کتاب نجاسات اور ان کے احکام
کتاب نماز
کتاب صوم(روزہ)
کتاب خمس
کتاب جہاد
کتاب امر بالمعروف و نہي عن المنکر
متفرقات