|
کتاب خمس
ہبہ ، ہديہ ( تحفہ) بينکوں کے
انعامات اور مہر و ميراث
س٨٦٨۔ ہبہ اور عيد کے تحفے ( عيدي) پر خمس ہے يا نہيں؟
ج۔ ہبہ اور ہديہ پر خمس نہيں ہے۔ اگرچہ ان ميں سے جو کچھ سالانہ
اخراجات سے بچ جائے اس کا خمس نکالنا احوط ہے۔
س٨٦٩۔ آيا بينکوں اور قرض الحسنہ کے اداروں سے ان کے حصہ داروں کو ملنے
والے انعامات پر بھي خمس ہے يا نہيں؟ اسي طرح وہ نقدي تحائف جو انسان
اپنے شناسا افراد يا عزيزوں سے پاتا ہے،ا س پر بھي خمس ہے يا نہيں؟
ج۔ انعامات اور تحائف اگر بہت زيادہ قيمتي نہيں ہيں تو ان ميں خمس واجب
نہيں ہے ليکن اگر وہ بہت زيادہ قيمتي ہوں تو ان ميں خمس کا واجب ہونا
بعيد نہيں ہے۔
س٨٧٠۔ شہيد کے اہل و عيال کے خرچ کے لئے جو رقم بنياد شہيد ( شہيد
فاونڈيشن ) سے ملتي ہے، اگر وہ ان کے سالانہ اخراجات سے زائد ہو تو اس
ميں خمس ہے يا نہيں ؟
ج۔ شہيدان محترم کے پسماندگان کو ’’ بنياد شہيد ‘‘ سے جو کچھ ملتا ہے
اس ميں خمس نہيں ہے۔
س٨٧١۔ وہ نان و نفقہ جو باپ يا بھائي يا قريبي رشتہ دار کي جانب سے کسي
کو ديا جاتا ہے وہ ہديہ محسوب ہوگا يا نہيں؟ اور جب نفقہ دينے والا
اپنے اموال کا خمس نہ ديتا ہو تو نفقہ لينے والے پر ( پائے ہوئے نفقہ
کا)خمس نکالنا واجب ہے يا نہيں؟
ج۔ ہبہ اور تحفہ کے عنوان کا تحقق ان کے دينے والوں کے ارادہ کے تابع
ہے۔ اور جب تک نفقہ لينے والے کو يہ يقين حاصل نہ ہو کہ جو کچھ اسے خرچ
کے لئے ديا گيا ہے اس پر خمس ( واجب ) ہے۔ اس کے لئے خمس نکالنا واجب
نہيں ہے۔
س٨٧٢۔ ميں نے اپني بيٹي کو جہيز ميں ايک گھر رہنے کے لئے ديا ہے اس پر
خمس ہے يا نہيں؟
ج۔ آپ نے اپني بيٹي کو جو مکان ديا ہے اگر وہ عرف عام ميں آپ کي حيثيت
کے مطابق ہے تو آپ پر اس کا خمس دينا واجب نہيںہے۔
س٨٧٣۔ کيا سال پورا ہونے سے پہلے کسي شخص کو اپني زوجہ کو ہديہ کے طور
پر کچھ دينا جائز ہے جبکہ اسے علم ہو کہ اس کي زوجہ اس مال کو مستقبل
ميں گھر خريدنے يا وقت ضرورت خرچ کے لئے رکھ دے گي؟
ج۔ ہاں اس کے لئے ايسا کرنا جائز ہے اور جو کچھ اس نے اپني زوجہ کو ديا
ہے اگر وہ عرف عام ميں اس کے مناسب حال اور اس جيسے لوگوں کي حيثيت کے
مطابق ہو اور يہ ( بخشش) خمس کي ادائيگي سے فرار کے لئے نہ ہو تو ا س
پر خمس نہيں ہے۔
س٨٧٤۔ شوہر اور زوجہ صرف اس لئے کہ انہيں اپنے مال ميں سے خمس نہ دينا
پڑے خمس کي تاريخ آنے سے پہلے ہي اپنے اموال کا تخمينہ کرکے سالانہ بچت
کو بعنوان ہديہ ايک دوسرے کو دے ديتے ہيں۔ مہرباني کرکے ان کے خمس کا
حکم بيان فرمائيے؟
ج۔ اس کي بخشش سے ان دونوں سے واجبي خمس ساقط نہيں ہوسکتا، البتہ فقط
اس مقدار پر خمس ساقط ہوجائے گا جس کا ہديہ دينا عرف عام ميں دونوں کي
حيثيت کے مطابق ہو۔
س٨٧٥۔ ايک شخص نے حج کميٹي کے کھاتے ميں مستحب حج بجالانے کے لئے اپنا
پيسہ جمع کيا مگر خانہ خدا کي زيارت کے لئے جانے سے پہلے ہي اسے موت
آگئي تو اس جمع شدہ رقم کا کيا حکم ہے؟ کيا اس رقم کو مرنے والے کي
نيابت ميں حج کروانے پر صرف کرنا واجب ہے؟ اور کيا اس رقم ميں سے خمس
نکالنا واجب ہے؟
ج۔ حج کرنے کے لئے جو سند نامہ اس کو حج کميٹي ميں جمع کي گئي رقم کے
عوض ميں ملا ہے اس وقت اس کي قيمت کو مرنے والے کے ترکے ميں محسوب کيا
جائے گا۔ اور اگر مرنے والے پر حج واجب نہيں ہے تو اس کي قيمت کو اس کي
نيابت ميں حج کرانے پر صرف کرنا واجب نہيں ہے اور اس کا خمس نکالنا بھي
واجب نہيں ہے اگرچہ سفر حج کے لئے جمع کي ہوئي رقم اس مال کي منفعت ميں
سے رہي ہو جو اس وقت باعتبار قيمت يا باعتبار اجرت غير مخمس تھي۔ چونکہ
ايسي صورت ميں حج کميٹي کے ساتھ طے شدہ معاہدے ميں دي گئي رقم ايسا مال
ہوگا جسے ميت نے اپنے سال کے اخراجات ميں صرف کيا تھا۔
س٨٧٦۔ باپ کا باغ بيٹے کو بعنوان ہبہ يا ميراث ملا اس وقت باغ کي قيمت
بہت زيادہ نہ تھي۔ ليکن بيچتے وقت اس باغ کي قيمت سابقہ قيمت سے زيادہ
ہے تو کيا اس صورت ميں بڑھي ہوئي قيمت ميں خمس ہے؟
ج۔ ميراث وہبہ اور فروخت کے نتيجے ميں ان دونوں سے حاصل شدہ قيمت ميں
خمس واجب نہيں ہے چاہے ان کي قيمت بڑھ ہي کيوں نہ گئي ہو۔
س٨٧٧۔ بيمہ کمپني ميري مقروض ہے اور يقيني ہے کہ آج ہي کل ميں وہ ميرا
قرض ادا کرے تو اس ( بيمہ) سے ملنے والي رقم ميں خمس ہے يا نہيں؟
ج۔ بيمہ سے ملنے والي رقم پر خمس نہيں ہے۔
س٨٧٨۔ کيا اس رقم پر بھي خمس ہے ، جسے ميں اپني ماہانہ تنخواہ سے اس
لئے بچا کر رکھتا ہوں کہ بعد ميں اس سے شادي کے لوازمات مہيا کرسکوں؟
ج۔ اگر تنخواہ ميں ملنے والي رقم سے بچا رکھا ہے تو آپ پر واجب ہے کہ
سال پورا ہوتے ہي اس کا خمس ادا کريں خواہ اسے شادي کے ضروري اسباب
خريدنے کے لئے ہي کيوںنہ رکھا ہو۔
س٨٧٩۔ کتاب تحرير الوسيلہ ميں بيان کيا گيا ہے کہ عورت کو دئيے جانے
والے مہر پر خمس نہيں ہے۔ مگر يہ نہيں بتايا گيا کہ مہر موجل ( بعد ميں
ادا کي جانے والي رقم ) پر معجل ( عقد کے وقت دي گئي رقم) پر نہيں ہے۔
اميدوار ہوں کہ اس کي وضاحت فرمائيں گے؟
ج۔ اس ( خمس) ميں مہر معجل اور موجل اور نقد رقم يا سامان ميں کوئي فرق
نہيںہے۔
س٨٨٠۔ حکومت اپنے ملازموں کو عيد کے دن عيدي کے نام سے کچھ ديتي ہے جس
ميں سے کبھي کبھي سال گذر جانے کے بعد کچھ بچ جاتا ہے۔ چنانچہ
باوجوديکہ ملازمين کي عيدي پر خمس نہيں ہے پھر بھي ہم لوگ اس ميں سے
کچھ نکال ديا کرتے ہيں کيونکہ اسے کامل طور پر ہديہ اس لئے نہيں کہا
جاسکتا کہ ہم اس کے مقابلہ ميں قيمت ادا کرتے ہيں البتہ وہ قيمت بازار
کے بھاو سے بہت کم ہوتي ہے، توکيا جو قيمت ہم نے اس کے خريدنے ميں صرف
کي ہے اس کا خمس دينا ہم پر واجب ہے يا اس چيز کي بازاري قيمت کا خمس
دينا واجب ہے يا يہ کہ چونکہ وہ عيدي کے نام سے ملتي ہے لہذا اس ميں
خمس ہے ہي نہيں؟
ج۔ مذکورہ صورت ميں بقيہ اصل جنس کا يا اس کي موجودہ قيمت کا خمس
نکالنا آپ پر واجب ہے۔
س٨٨١۔ ايک شخص مر گيا اس نے اپني حيات ميں اپنے ذمہ خمس کو لکھ رکھا
تھا اور اس کے ادا کرنے کا ارادہ رکھتا تھا۔ مگر اس کي وفات کے بعد اس
کي ايک بيٹي کے سوا تمام ورثا خمس کي ادائيگي ميں مانع ہيں اور ميت کے
ترکہ کو اپنے اور ميت اور اس کے علاوہ ديگر امور ميں صرف کررہے ہيں۔
لہذا درج ذيل مسائل ميں آپ کي رائے کيا ہے بيان فرمائيں ۔
١۔ ميت کے منقولہ يا غير منقولہ اموال ميں اس کے داماد يا کسي دوسرے
وارث کے لئے تصرف کرنے کا کيا حکم ہے؟
٢۔ مرحوم کے گھر ميں اس کے داماد يا ورثائ ميں سے کسي دوسرے کے کھانا
کھانے کا کيا حکم ہے؟
٣۔ مذکورہ افراد کي طرف سے جو اخراجات ہوگئے ہيں يا جو کھانا وغيرہ
تناول کيا گيا ہے اس کا کيا حکم ہے؟
ج۔ اگر مرنے والے نے وصيت کي تھي کہ اس کے ترکہ سے بطور خمس رقم ادا کي
جائے يا خود ورثائ کو يقين حاصل ہوجائے کہ مرنے والا ايک مقدار خمس کا
مقروض ہے تو اس وقت تک ان کو ترکہ ميں تصرف کا حق نہيں جب تک کہ وصيت
کے مطابق يا جس مقدار ميں اس کے ذمہ خمس يقيني ہے اس کے ترکہ سے ادا نہ
کرديا جائے اور ان( ورثا) کے تمام وہ تصرفات جو اس کي وصيت کي تکميل يا
قرض کي ادائيگي سے پہلے ہوئے ہيں وہ غصب کے حکم ميں ہوں گے۔ اور ان (
ورثائ) کو مذکورہ تصرفات کے سلسلہ ميں ضامن مانا جائے گا۔ ( يعني ان کو
بہر حال اسے ادا کرنا ہوگا)
قرض ، تنخواہ ، بيمہ اور پنشن
س٨٨٢۔ ميرے پاس کاروبار کے سالانہ منافع ميں سے جو کچھ موجود ہے اس ميں
خمس واجب ہے اور ميں في الحال کسي حد تک مقروض بھي ہوں۔ سوال يہ ہے کہ
کيا مجھ کو يہ حق ہے کہ ميں اپنے مجموعي سالانہ منافع سے اس قرض کي رقم
کو عليحدہ کرلوں؟ واضح رہے کہ قرض کا سبب نجي موٹر کار خريدنا ہے۔
ج۔ وہ قرض جو نجي گاڑي خريدنے کے سلسلہ ميں ليا ہے اسے کاروبار کے
سالانہ منافع سے عليحدہ نہيں کيا جاسکتا ہے۔
س٨٨٣۔ وہ ملازمين جن کے پاس کبھي کبھي سالانہ اخراجات سے کچھ بچ جاتا
ہے کيا ان پر خمس واجب ہے جبکہ وہ لوگ يکمشت يا بالاقساط ادائيگي کي
شرط پر مقروض بھي ہيں؟
ج۔ اگر وہ قرض سالانہ اخراجات کے ضمن ميں اسي سال ليا گيا ہے یا اسي
سال کے اخراجات کے لئے بعض ضروري اشيائ کي خريداري کے لئے ليا گيا ہو
تو اسے سالانہ بچت سے الگ کرکے خمس نکالا جائے گا۔ ورنہ جتني بچت ہوئي
ہے سب کا خمس ديا جائے گا۔
س٨٨٤۔ کيا حج تمتع کي غرض سے حاصل کئے ہوئے قرض کا مخمس پاک ہونا واجب
ہے اس طرح کہ خمس نکالنے کے بعد جو رقم بچ جائے اسے حج پر خرچ کيا
جائے؟
ج۔ جو مال بعنوان قرض ليا گيا ہو اس پر خمس واجب نہيں ہے۔
س٨٨٥۔ ميں نے گذشتہ پانچ سال کے دوران ايک ہاوسنگ کمپني کو اس اميد پر
کچھ رقم دي ہے کہ وہ تھوڑي سي زمين خرید کہ ميرے رہنے کے لئے مکان مہيا
کردے ليکن ابھي تک مجھے زمين دئيے جانے کا حکم صادر نہيں ہوا ہے۔ لہذا
اب ميرا ارادہ يہ ہے کہ ميں اپني دي ہوئي رقم اس کمپني سے واپس لے لوں۔
واضح رہے کہ کل رقم کا ايک حصہ تو ميں نے قرض لے کرديا ہے اور ايک حصہ
گھر کے فرش کو بيچ کرديا تھا اور باقي ميں نے اپني بيوي کي تنخواہ سے
جمع کيا تھا جو پيشہ کے لحاظ سے معلمہ ہے۔ آپ اس تفصيل کي روشني ميں
ذيل کے دو سوالوں کا جواب مرحمت فرمائيے:
١۔ اگر ميں اپني رقم واپس لے سکا اور اس سے مکان يا زمين خريدلي تو کيا
اس پر خمس واجب ہے؟
٢۔ اس رقم ميں جو خمس واجب ہے اس کي مقدار کيا ہوگي؟
ج۔ جو رقم آپ نے اپني زوجہ سے بطور ہبہ لي ہے اور جو رقم قرض لي ہے اس
ميں خمس نکالنا آپ پر واجب نہيں ہے۔ ليکن گھر کا جو قالين آپ نے بيچا
ہے اگر وہ کاروبار کے سالانہ منافع سے سالانہ خرچ کے حساب ميں خريدا
تھا تو اس کي قيمت ميں بنابر احتياط خمس واجب ہے۔ مگر يہ کہ آپ مکان
خريدنے ميں کامل طور پر اس رقم کے محتاج ہوں ، اس طرح کہ اگر اس رقم کا
خمس ادا کريں تو بقيہ رقم سے آپ وہ مکان نہ خريد سکيں جس کي آپ کو
ضرورت ہے تو پھر آپ پر اس کا خمس نکالنا واجب نہيں ہے۔
س٨٨٦۔ چند سال قبل ميں نے بينک سے قرض ليا اور اس کو اپنے کرنٹ اکاونٹ
ميں ايک سال کے لئے رکھ ديا ليکن اس قرض کي رقم کو کام پر نہ لگاسکا ،
البتہ ہر مہينہ اس کي قسط ادا کرتا رہا ہوں تو کيا اس قرض ميں خمس
نکالنا ہوگا؟
ج۔ بنابر فرض سوال قرض لئے ہوئے مال کي اسي مقدار ميں سے خمس نکالنا
ہوگا جس کي قسطيں آپ نے کاروبار کے منافع سے ادا کي ہيں۔
س٨٨٧۔ ميں نے اپنے سال کي ابتدائ ميں تنخواہ ليتے ہي حساب کيا تو باقي
ماندہ رقم اور گھر کي بچي ہوئي چيزوں کا خمس ٨١٠ روپے ہوئے۔ اس حقيقت
کے پيش نظر کہ ميں مکان کے سلسلہ ميں مقروض ہوں اور يہ قرض بارہ سال تک
رہنے والا ہے اميد رکھتا ہوں کہ خمس کے سلسلہ ميں ميري راہنمائي
فرمائيں گے؟
ج۔ اگرچہ تعميرمکان کي خاطر لئے گئے قرض کي قسطوں کا اسي سال کے
کاروباري منافع سے ادا کرنا جائز ہے ليکن اگر ادا نہ کيا جائے تو انہيں
اس سال کے منافع سے جدا نہيں کيا جاسکتا بلکہ آخر سال ميں جو بچت آئي
ہے اس کا خمس نکالنا واجب ہے۔
س٨٨٨۔ طالب علم نے جن کتابوں کو والد کي کمائي يا اس قرض سے جو طلاب کو
کالج سے ديا جاتا ہے خريدا ہو اور خود اس کے پاس کوئي ذريعہ آمدني نہ
ہو تو کيا ان ميں خمس واجب ہے؟ اور اگر يہ معلوم ہو کہ باپ نے کتاب کي
خريداري ميں جو مال ديا ہے اس نے اس کا خمس ادا نہيں کيا ہے تو کيا اس
ميں خمس دينا واجب ہوگا؟
ج۔ قرض کي رقم سے خريدي ہوئي کتابوں ميں خمس نہيں ہے۔ اسي طرح اس مال
ميں بھي خمس نہيں ہے کہ جس کو باپ نے اسے ديا ہے۔ مگر يہ کہ اس بات کا
يقين پيدا ہوجائے کہ يہ وہي مال ہے جس ميں خمس واجب تھا تو اس صورت ميں
اس کا خمس دينا واجب ہے۔
س٨٨٩۔ جب کوئي شخص کچھ مال قرض کے طور پرلے اور اپنے سال کے حساب سے
پہلے اسے ادا نہ کرسکے تو اس قرض کا خمس، لينے والے پر ہے يا دينے والے
پر؟
ج۔ قرض کي رقم ميں قرض لينے والے پر مطلقاً خمس نہيں ہے ليکن اگر قرض
دينے والے نے اپنے کاروباري سالانہ منافع کا خمس نکالنے سے پہلے يہ قرض
ديا ہے تو اگر وہ سال کے تمام ہونے تک قرضدار سے قرض وصولي کرسکے تو
تاريخ خمس آتے ہي اس پر واجب ہے کہ اس کا بھي خمس نکالے اور اگر سال کے
آخر تک وصول نہ کرسکے تو ابھي اس کا خمس نکالنا اس پر واجب نہ ہوگا
بلکہ اس کي وصولي کا منتظر رہے گا اور جب وصولي ہوجائے تو اس وقت اس پر
اس کا خمس نکالنا واجب ہے۔
س٨٩٠۔ ريٹائرڈ ( وظيفہ ياب) افراد جن کو پينشن مل رہي ہے، کيا ان پر
بھي واجب ہے کہ سال بھر کي تنخواہ کا خمس نکاليں؟
ج۔يہ لوگ پينشن کے طور پر جو رقم پارہے ہيں اگر وہ ان کي
ملازمت کے زمانے کي تنخواہ سے کاٹي گئي ہے تو جس سال انہيں وہ رقم
پينشن کے طور پر دي جائے اگر وہ اس سال کے خرچ سے زائد ہو تو اس ميں
خمس واجب ہے۔
س٨٩١۔ ايسے تمام وہ قيدي جن کي مدت اسيري ميں ان کے والدين کو جمہوري
اسلامي کي طرف سے ماہانہ وظيفہ ديا جاتا ہے اوران کي وہ رقم بينک ميں
جمع ہے کيا اس ميں خمس واجب ہے؟ جبکہ يہ معلوم ہے کہ اگر وہ لوگ آزاد
ہوتے تو اس رقم کو خرچ کر ڈالتے ؟
ج۔ مال مذکورہ ميں خمس نہيں ہے۔
س٨٩٢۔ مجھ پر کچھ قرض ہے کہ اب جبکہ سال کا آخري دن آيا ہے اور سالانہ
بچت بھي ميرے پاس اتني ہے کہ قرض واپس کرنے پر قدرت رکھتا ہوں ۔ ليکن
قرض دينے والے نے قرض کا مطالبہ نہيں کيا تو کيا ميں قرض کي رقم کو
سالانہ بچت سے عليحدہ کرسکتا ہوں؟
ج۔ قرضہ چاہے رقم قرض لينے کي وجہ سے ہو اگر يہ زندگي کے ساز و سامان
قرض پر لئے جانے کي وجہ سے ہو اگر يہ زندگي کے سالانہ اخراجات کو پورا
کرنے کے لئے ہے تو اس کو سالانہ بچت سے جدا کيا جاسکتا ہے اور اس کے
برابر سالانہ منفعت ميں خمس نہيں ہے۔ ليکن اگر يہ قرض زندگي کے سالانہ
اخراجات پورا کرنے کے لئے نہ ہو يا گذشتہ برسوں کا قرض ہو تو اگرچہ
سالانہ بچت سے اس کا ادا کرنا جائز ہے ليکن اگر اس کو سال کے تمام ہونے
سے پہلے ادا نہيں کيا گيا تو سالانہ منفعت سے اس کو جدا نہيں
کياجاسکتا۔
س٨٩٣۔ جس کے سالانہ حساب ميں کچھ مال بچ گيا ہو تو کيا اس پر خمس واجب
ہے جبکہ سال پورا ہونے کے وقت وہ مقروض ہي ہو ليکن اسے معلوم ہے کہ قرض
ادا کرنے کے لئے اس کے پاس چند سال کي مہلت ہے؟
ج۔ قرض چاہے ابھي دينا ہو يا بعد ميں سالانہ منفعت سے جدا نہيں کيا
جائے گا سوائے اس قرض کے جس کو اسي سال زندگي کے اخراجات کے لئے ليا
گيا ہو اس قرض کو منفعت سے جدا کرنے ميں کوئي حرج نہيں ہے اور اس قرض
کے برابر سالانہ بچت ميں خمس نہيں ہے۔
س٨٩٤۔ بيمہ کمپنياں جسماني يا مالي نقصان کے بدلے ميں جو رقم اپني
قرارداد کے مطابق ديتي ہيں کيا اس پر خمس ہے؟
ج۔ بيمہ کمپنياں جو رقم بيمہ شدہ اشيائ کے مقابل ميں ديتي ہيں اس پر
خمس نہيں ہے۔
س٨٩٥۔ گزشتہ سال ميںنے کچھ رقم لے کر اس سے ايک زمين اس اميد پر خريدلي
کہ اس کي قيمت بڑھے گي تاکہ بعد ميں اس زمين اور اپنے موجودہ گھر کو
بيچ کر آئندہ کے لئے رہائشي مشکل کو حل کرسکوں۔ اور اب جبکہ ميرے خمس
کا سال آپہونچا ہے توميرا سوال يہ ہے کہ آيا ميں گذشتہ سال کے کاروباري
منافع ميں سے کہ جس پر خمس واجب ہوچکا ہے اپنا قرض جدا کرسکتا ہوں يا
نہيں؟
ج۔ اس فرض کي بنائ پر کہ قرض کا مال زمين کي خريداري ميں اس کو آئندہ
بيچنے کي اميد پر خرچ ہوا ہے اس لئے جس سال قرض لياگيا ہے اس سال کے
منافع ميں سے اسے جدا نہيں کيا جاسکتابلکہ واجب ہے کہ سالانہ اخراجات
کے بعد جو کچھ بھي کاروباري منافع ميں سے بچ گيا ہو اس سب کا خمس ادا
کياجائے۔
س٨٩٦۔ ميں نے بينک سے کچھ رقم قرض لي تھي جس کے ادا کرنے کا وقت ميرے
خمس کي تاريخ کے بعد آئے گا اور مجھے ڈر ہے کہ اگر اس سال ميں نے اس
قرض کو ادا نہ کيا تو آئندہ سال اس کے اد ا کرنے پر قادر نہيں رہوں گا
اب جب ميرے خمس کي تاريخ آئے گي تو اس مشکل کے پيش نظر ميرے خمس کا کيا
حکم ہے؟
ج۔ اگرسال ختم ہونے سے پہلے سال کے منافع کو قرض کي ادائيگي ميں خرچ
کرديں اور وہ قرض بھي اصل سرمايہ کو زيادہ کرنے کے لئے نہ ليا گيا ہو
تو اس پر خمس نہيں ہے ليکن اگر قرض اصل سرمايہ کي زيادتي کے لئے ہو يا
سال کے منافع اس سال کے ختم ہونے کے بعد قرض کي ادائيگي کے لئے ہو
ياذخیرہ کئے گئے ہوں تو آپ پر واجب ہے کہ اس کا خمس ادا کريں۔
گھر ، وسائل نقليہ ( گاڑي وغيرہ) اور زمين کي خريد و فروخت
س٨٩٧۔ آيا غير مخمس مال سے بنوائے ہوئے گھرميں خمس ہے ؟ اگر خمس واجب
ہے توموجودہ قيمت کو سامنے رکھ کر خمس نکالا جائے گا يا جس سال بنا ہے
اس سال کي قيمت کے مطابق ؟
ج۔ اگر وہ اپني رہائش کا گھر نہيں ہے اور اس نے اس گھر کي تعمير کي غير
مخمس مال سے کي ہو، اس طريقہ سے کہ مال کو اس گھر کے مصالحہ کي خريداري
اور مزدوروں کي اجرت وغيرہ ميں خرچ کيا ہے تو اس کو حال حاضر ميں اس
گھر کي عادلانہ قيمت ميں سے خمس نکالنا ہوگا ليکن اگر اس نے قرض اور
ادھار لے کر بنايا اور بعد ميں اس قرض کو غير مخمس مال سے چکايا ہو تو
صرف اسي مال ميں خمس نکالنا ضروري ہے جو اس نے قرض چکانے ميں صرف کيا
ہے۔
س٨٩٨۔ ميں نے اپنا مکان اس بنياد پر بيچا کہ دوسرا خريدوں گا بعد ميں
معلوم ہوا کہ اس کي قيمت ميں خمس ہوگا۔ اب اگر خمس نکالتا ہوں تو دوسرا
مکان خريدنے پر قادر نہ رہوں گا واضح رہے کہ اس کو بيچنے سے قبل ميں اس
کے فرش کے لئے کچھ رقم کا محتاج تھا تو اس صورت ميں ميرے لئے کيا حکم
ہے؟
ج۔ بيچے ہوئے گھر کي قيمت اگر اسي سال دوسرے گھر ، جس کي ضرورت ہو ، کي
خريداري ميں يا نذر کے دوسرے اخراجات پر صرف کي جائے تو اسں ميںخمس
نہيںہے۔
س٨٩٩۔ ميں نے اپنا رہائشي فليٹ بيچ ديا اور يہ معاملہ خمس کا سال آتے
ہي واقع ہوا اور ميں اپنے کو حقوق شرعيہ کي ادائيگي کا سزاوار سمجھتا
ہوں ليکن اس سلسلہ ميں اپنے خاص حالات کي وجہ سے مشکل سے رو برو ہوں۔
گذارش ہے کہ اس مسئلہ ميں ميري راہنمائي فرمائيں؟
ج۔ جس گھر کو آپ نے بيچا ہے، اگر وہ ايسے مال سے خريدا گيا تھا جس ميں
خمس نہيں تھا تو اب بيچنے کے بعد بھي اس کي قيمت ميں خمس نہيں ہے۔ اسي
طرح اگر گھر کي قيمت اس سال کے اخراجات زندگي ميں خرچ ہوئي ہے۔ مثال کے
طور پر ايسے گھر کے خريدنے ميں جس کي ضرورت تھي يا زندگي کي ضروريات کے
خريدنے ميں تو اس ميں بھي خمس نہيںہے۔
س٩٠٠۔ ميرے پاس ايک شہر ميں نصف تعمير شدہ مکان ہے اور مجھے رہنے کے
لئے حکومت کي طرف سے ملے ہوئے گھر کي وجہ سے اس کي ضرورت نہيں ہے ميں
چاہتا ہوں کہ اس کو بيچ کر اس سے ايک گاڑي اپني ضرورت کے لئے خريد لوں
تو کيا اس کي قيمت ميں سے خمس نکالنا ہوگا؟
ج۔ اگر مذکورہ گھر جسے آپ نے دوران سال ، سال کے منافع ميں سے خانگي
اور رہائشي اخراجات کے حساب سے بنوايا يا خريدا ہے تو اس گھر کي قيمت
ميںخمس نہيں ہے جبکہ اس کي قيمت کو اسي سال زندگي کي ضروريات ميں خرچ
کيا ہے اور اگر ايسا نہ ہو تو احتياطاً اس ميں خمس واجب ہے۔
س٩٠١۔ ميں نے اپنے گھر کے لئے چند دروازے خريدے ليکن دو سال کے بعد
ناپسند ہونے کي بنا پر انہيں بيچ ديا اور اس کي قيمت کو المونيم کمپني
ميں اپنے لئے المونيم کے دروازے بنانے کے لئے رکھ ديا جو اسي بيچے ہوئے
دروازے کي قيمت کے برابر ہے تو کيا ايسے مال ميں خمس نکالنا ہوگا؟
ج۔ اگر دروازوں کي قيمت فروخت اسي سال دوسرے دروازے خريدنے ميں صرف
ہوئي ہے تو اس ميں خمس نہيں ہے۔
س٩٠٢۔ ميں نے ايک لاکھ تومان ايک کمپني کو مکان کي زمين کے لئے ديا ہے
اور اب اس رقم پر سال تمام ہوچکا ہے ، صورت حال يہ ہے کہ ايک حصہ اس
رقم کا ميرا اپنا ہے اور ايک حصہ ميں نے قرض ليا تھا جس ميں سے کچھ ادا
کرچکا ہوں تو کيا اس ميں خمس ہے اور اگر ہے تو کتنا؟
ج۔ اگر ضرورت کے مطابق گھر بنوانے کے لئے زمين کي خريداري اس بات پر
موقوف ہے کہ بيعانہ کے طور کچھ رقم پہلے سے جمع کرني ہے تو دي ہوئي
قيمت پر خمس دينا ضروري نہيں ہے چاہے آپ نے اس کو اپنے سالانہ منافع سے
ہي ادا کيا ہو۔
س٩٠٣۔ اگر کسي نے اپنا گھر بيچا اور اس کي قيمت کے منافع سے فائدہ
اٹھانے کے لئے اس کو بينک ميں جمع کرديا پھر خمس کي تاريخ آگئي تو اس
کا کيا حکم ہے؟ اور اگر اس مال کو اس نے گھر خريدنے کے لئے رکھا ہو تو
اس کا کيا حکم ہے؟
ج۔ اگر گھر کو اثنائ سال ميں اسي سال کے منافع سے خانگي اور رہائشي
اخراجات سے بنوايا يا خريدا ہے تو اس صورت ميں گھر کي قيمت اگر اس سال
ميں صرف کي گئي ہے تب بھي اس ميں خمس نہيں ہے اور اگر ايسا نہيں ہے تو
احوط يہ ہے کہ اس کا خمس نکالا جائے۔
س٩٠٤۔ وہ رقم جو انسان گھر کے کرايہ پر لينے کے لئے رہن کے طور پر ديتا
ہے آيا اس ميں خمس ہے يا نہيں؟
٢۔ آيا ايسے مال پر جسے تھوڑا تھوڑا کرکے گھر يا گاڑي خريدنے کے لئے
جمع کيا گيا ، خمس ہے؟
ج۔ ضروريات زندگي خريدنے کے لئے جمع کردہ مال پر اگر کاروبار کے منافع
ميں سے ہو اور اس پر ايک سال گذر چکا ہے تو اس ميں خمس ہے ليکن وہ مال
جو مالک مکان کو قرض کے طورپر ديا گيا ہے اس ميں اس وقت تک خمس نہيں ہے
جب تک کہ قرض لينے والا واپس نہ کردے۔
س٩٠٥۔ ايک شخص کے پاس اپني گاڑي ہے جس کو اس نے درميان سال کے منافع سے
خريدا ہے اور چند سال کے بعد اس نے اس کو خمس کے حساب کے وقت بيچ ديا۔
اس گاڑي کي فروخت سے پہلے اس شخص نے دوسري گاڑي خريدي تھي جس کا کچھ
قرض اس کے ذمے تھا، جس کو پہلي گاڑي کے فروخت کرنے کے بعد ادا کيا اور
باقي قيمت ميں سے کچھ بينک کو گذشتہ سالوں کے ٹيکس کي ادائيگي کے لئے
ديا جس کو وہ قسطوںکے طور پر ديتاتھا۔ ليکن چند سال سے قسطيں ادا نہيں
کي تھيں۔ لہذا اس نے وہ ساري قسطيں ايک ساتھ ادا کرديں، ايسي صورت ميں
باقي رقم ميں مضاربہ يا نفع کے لئے رکھ دي ، ايسي صورت ميں :
١۔ کيا گاڑي کي سب قيمت ميں خمس ہے؟
٢۔ کيا پہلي گاڑي کي قيمت فروخت سے ( خمس نکالتے وقت) نئي گاڑي کي قيمت
خريد کا قرض الگ کيا جاسکتا ہے؟
٣۔ کيا گاڑي کا قرض اور گذشتہ سالوں کے تمام ٹيکس يا کم ازکم سال جاري
کے ٹيکس کو گاڑي کي قيمت فروخت سے خمس نکالتے وقت الگ کرليا جائے اور
جو باقي بچے اس کا خمس دينا واجب ہو؟
ج۔ گاڑي کي قيمت فروخت سے خمس کے سال ميں جو رقم اخراجات زندگي اور قرض
وغيرہ ادا کرنے وغيرہ کے لئے صرف کي ہے، اس ميں خمس نہيں ہے ليکن جو
رقم بينک ميں فائدے کے لئے رکھي ہے يا آئندہ برسوں کي ٹيکس کي ادائيگي
کے لئے رکھي ہے تو احتياط واجب کے طور پر سال خمس کي تاريخ خمس آنے پر
ا س ميں خمس دينا واجب ہے۔
س٩٠٦۔ ميں نے ايک گاڑي چند سال پہلے خريدي جسے اب کئي گنا قيمت پر بیچا
جاسکتا ہے جبکہ جس رقم سے اس کو خريدا تھا وہ غير مخمس تھي اور اب جو
قيمت مل رہي ہے اس سے ميں گھر خريدنا چاہتاہوں تو کيا قيمت وصول ہوتے
ہي اس تمام رقم پر خمس واجب ہوگا؟ يا جتنے ميں گاڑي خريدي تھي بس اسي
ميںخمس نکالا جائے گا؟ اور بقيہ رقم جو قيمت بڑھنے کي وجہ سے ملي ہے اس
کو گاڑي بيچنے والے سال کي منفعت ميں حساب کيا جائے گا اور سال تمام
ہونے کے بعد اگر وہ مصرف سے بچي رہي تو اس وقت اس کا خمس نکالنا
ہوگا؟؟؟
ج۔ اگر گاڑي ضروريات زندگي ميں سے ہے اور سال جاري کے منافع سے خريدي
گئي ہے تو اس کي قيمت ميں خمس نہيں ہے جبکہ وہ رقم خمس کے اسي سال ميں
اپني ضروريات ميں صرف کي جائے جيسے رہنے کے لئے گھر يا اس کے مثل کوئي
چيز خريدي ہو ورنہ بنابر احوط واجب ہے کہ آخر سال ميں آپ اس کا خمس
نکاليں۔ اور اگر گاڑي کرائے پر چلانے کے لئے خريدي ہے تو اگر اس کو آپ
نے ادھار ليا ہے يا قرض لے کر خريد ليا ہے اور پھر اس ادھار يا قرض کو
اپنے کاروبار کے منافع سے ادا کيا ہے تو اس صورت ميں آپ کو اتنے ہي مال
کا خمس نکالنا ہوگا جتنا قرض ادا کرنے ميں خرچ کيا ہے۔ اور اگر آپ نے
گاڑي اپنے کاروباري منافع سے خريدي ہے تو آپ پر واجب ہے کہ جس دن گاڑي
فروخت کريں اس کي تمام قيمت کا خمس ادا کريں۔
س٩٠٧۔ ميں ايک بہت ہي معمولي مکان کا مالک تھا۔ چند وجوہات کي بنائ پر
دوسرا گھر خريدنے کا ارادہ کرليا ليکن مقروض ہونے کي بنائ پر ميں اپنے
استعمال کي گاڑي بيچنے پر مجبور ہوا اسي طرح صوبے کے بينک سے اور اپنے
شہر کے قرض الحسنہ سوسائٹي سے قرض لينے پر مجبور ہوا تاکہ ميں گھر کي
قيمت ادا کرسکوں واضح رہے کہ ميں نے اپنے خمس کي تاريخ آنے سے قبل گاڑي
بيچي ہے اور جو قيمت ملي ہے اس کو اپنے قرض کي ادائيگي ميں خرچ کيا ہے۔
آيا گاڑي کي قيمت ميں خمس ہے يا نہيں؟
ج۔ مفروضہ سوال ميں بيچي ہوئي گاڑي کي قيمت ميں کوئي خمس نہيں ہے۔
س٩٠٨۔ گھر، موٹر يا دوسري وہ چيزيں جن کي انسان کو يا ان کے بچوں کو
ضرورت ہوتي ہے اور سالانہ منافع سے ان اشيائ کو خريدتا ہے، اب اگر ان
کو کسي ضرورت کي بنائ پر يا اس سے بہتر خريدنے کے لئے بيچا جائے تو ان
کے بارے ميں خمس کا کيا حکم ہے؟
ج۔ اگر ضروريات زندگي ميں سے کوئي چيز بيچ کر اس کي قيمت سے اسي خمس کے
سال ميں ضروريات زندگي ميں سے کوئي چيز بيچ کر اس کي قيمت سے اسي خمس
کے سال ميں ضروريات زندگي ميں سے کوئي چيز خريدے تو اس ميں خمس نہيں ہے
اور اگر ايسا نہيں ہے تو نيا خمس سال آتے ہي اس کا خمس نکالنا بربنائے
احوط واجب ہے۔
مگر يہ کہ جب بقيہ قيمت جس کو وہ اگلے سال کے مخارج
ميںصرف کرنا چاہتا ہے وہ اتني مقدار ميں نہ ہو جو اس کي احتياج کو پورا
کرسکے تو اس پر خمس نہيں ہے۔
س٩٠٩۔ ايک متدين انسان نے اپني نجي گاڑي يا اپنا گھر بيچ ديا تاکہ اس
سے بہرحال مکان يا گاڑي خريدے۔ اس نے اس رقم کے علاوہ الگ سے کچھ رقم
اس ميں اضافہ کي اور پہلے سے بہتر گاڑي اور گھر خريدا تو اس کے لئے خمس
کا کيا حکم ہے؟
ج۔ اگر ا س نے اپني ضروريات زندگي ميں سے کچھ بيچ کر اس کي قيمت اسي
سال کي لازمي چيزوں ميں صرف کي تو اس پر خمس نہيں ہے۔ ليکن اگر اس نے
رقم آخر سال تک اپنے پاس رکھي تو احوط يہ ہے کہ اس ميں خمس نکالنا واجب
ہے اور اگر خمس کے بعد باقيماندہ رقم اس کے اگلے سال کے اخراجات کے لئے
کافي نہ ہوتي ہو تو اس صورت ميں اس پر خمس ادا کرنا واجب نہيں ہے۔
س٩١٠۔ گھر ، گاڑي يا ان جيسي ديگر ضرورت کي چيزيں اگر خمس نکالے ہوئے
مال سے خريدي جائيں اور فروخت يا تجارت کي غرض سے نہيں بلکہ استفادہ کي
نيت سے خريدي جائيں اور بعد ميں کسي وجہ سے ان کو بيچ ديں تو کيا اصل
قيمت سے زيادہ ميں خمس ہے؟
ج۔ بنابر فرض سوال قيمت بڑھنے سے جو منفعت حاصل ہوئي ہے اس ميں خمس
نہيں ہے،
خزانہ ، چوپائے اور وہ مال حلال جو حرام سے مل گيا ہے
س٩١١۔ جو لوگ اپني ملکيت کي زمين ميں سے کوئي خزانہ پاجاتے ہيں اس کے
بارے ميں آپ کي کيا رائے ہے؟
ج۔ اگر يہ احتمال نہ ہو کہ جو خزانہ اس نے پايا ہے وہ اس زمين کے سابقہ
مالک کا مال ہے تو دفينہ اس پانے والے کي ملکيت مانا جائے گا اور جب وہ
( دفينہ) ٢٠ دينا سونا يا دو سو درہم چاندي ہو اور اگر ان دونوں کے
علاوہ ہو تو قيمتاً کسي ايک کے مساوي ہو ايسي حالت ميں اس کے پانے والے
کو اس کا خمس نکالنا ہوگا يہ حکم اس صورت ميں ہے کہ جب کہ اس کو کوئي
اس پر ملکيت جتانے سے روکنے والا نہ ہو۔ ليکن اگر اس کو حکومت منع کرے
يا کوئي اور مانع ہوجائے اور زور اور غلبہ سے اس چيز پر قبضہ کرلے جو ا
س نے پايا تھا تو اس صورت ميں اگر اس کے پاس نصاب کے برابر بچا ہو تو
صرف اس ميں اس کو خمس دينا ہوگا۔ اب اگر اس کے پاس نصاب سے کم ہے تو جو
کچھ اس سے زور اور غلبہ سے ليا گيا ہے، اس کے خمس کي ذمہ داري اس پر
نہيں ہے۔
س٩١٢۔ اگر چاندي کے ايسے سکے ميں جن کو کسي شخص کي مملوکہ عمارت ميں
دفن ہوئے تقريباً سو سال گذر چکے ہوں تو کيا يہ سکے عمارت کے اصلي مالک
کي ملکيت سمجھے جائيں گے يا يہ قانوني مالک ( خريدار عمارت) کي ملکيت
مانے جائيں گے؟
ج۔ اس کا حکم بعينہ اس دفينہ کا ہے جس کو ابھي سابقہ مسئلہ ميں بيان
کيا جاچکا ہے۔
س٩١٣۔ ہم ايک شبہہ ميں مبتلا ہيں وہ يہ کہ موجود دور ميں کانوں سے
نکالي گئي معدنيات کا خمس نکالنا واجب ہے کيونکہ فقہا عظام کے نزديک جو
مسلم احکام ہيں ان ميں معدنيات کے خمس کا وجوب بھي ہے اور اگر حکومت
اسے صرف شہروں اور مسلمانوں ميں خرچ کرتي ہے تو يہ وجوب خمس کي راہ ميں
مانع نہيں بن سکتا اس لئے کہ معدنيات کا نکالنا يا تو حکومت کي جانب سے
عمل ميں آتا ہے اور يہي وجہ ہے کہ وہ اس کو لوگوں پر خرچ کرتي ہے تو اس
صورت ميں حکومت اس شخص کي مانند ہے کہ جو معدنيات کو نکالنے کے بعد ان
کو تحفہ ، ہبہ يا صدقہ کي شکل ميں کسي دوسرے شخص کو دے دے اور خمس کا
اطلاق اس صورت کو شامل ہے کيونکہ اس صورت ميں وجوب خمس کے مستثنيٰ ہونے
پر کوئي دليل نہيں ہے۔ يا پھر حکومت لوگوں کي وکالت کے طور پر معاون کو
نکالتي ہے ۔ يعني حقيقت ميں نکالنے والے خود عوام ہيں اور يہ ان سب
وکالتوں کي طرح ہے جن ميں خود موکل پر خمس نکالنا واجب ہوتا ہے يا
حکومت عوام کے سرپرست اور ولي کي حيثيت سے نکالتي ہے تو اس صورت ميں يا
ولي کو معاون نکالنے والا مانا جائے گا۔ يا وہ نائب کي طرح ہوگا اور
اصل نکالنے والا وہ ہوگا جس پر اس کو ولايت حاصل ہے ۔ بہر صورت معدنيات
کے عمومات خمس سے خارج کرنے پر کوئي دليل نہيںہے۔ جيسا کہ يہ بھي مسئلہ
ہے معدنيات جب نصاب تک پہنچ جائيں تو اس پر خمس واجب ہوتا ہے اور يہ
منافع کے مانند نہيں ہے کہ اگر ان کو خرچ کيا جائے يا ہبہ کيا جائے تو
وہ سال کے خرچ ميں شمار ہوگا اور خمس سے مستثنيٰ ہوگا۔ لہذا اس اہم
مسئلہ ميں آپ کي کيا رائے ہے بيان فرمائيں؟
ج۔ معادن ميں خمس کے واجب ہونے کي شرطوں ميں سے ايک شرط يہ ہے کہ اس کو
ايک شخص زمين سے نکالے يا کئي لوگ مل کر نکاليں بشرطيکہ ان ميں سے ہر
ايک کا حصہ حد نصاب تک پہونچے وہ بھي اس طرح کہ جو کچھ وہ نکالے وہ اس
کي ملکيت ہو اور چونکہ وہ معدنيات جن کو خود حکومت نکلواتي ہے وہ کسي
خاص شخص يا اشخاص کي ملکيت نہيں ہوا کرتي بلکہ مقام اور جہت کي ملکيت
ہوتي ہيں اس لئے ان ميں شرط وجوب خمس نہيں پائي جاتي لہذا کوئي وجہ
نہيں کہ حکومت پر خمس واجب ہو۔ اور يہ حکم معدن ميں خمس کے واجب ہونے (
کي دليل) سے مستثنيٰ نہيں ہے۔ ہاں وہ معادن جن کو شخص واحد يا چند
اشخاص نکالتے ہيں تو ان پر اس ميں خمس نکالنا واجب ہے يہ اس صورت ميں
کہ جب شخص واحد کا يا چند اشخاص ميں سے ہر ايک کا حصہ معادن نکلوانے
اور تصفيہ کروانے کے مخارج کو جدا کرنے کے بعد نصاب تک پہونچے کہ وہ
نصاب ٢٠ دينار سونے کا اور دو سو درہم چاندي کا ہے چاہے خود سونا يا
چاندي ہو يا قيمت۔
س٩١٤۔ اگر حرام مال کسي شخص کے مال سے مخلوط ہوجائے تو اس مال کا کيا
حکم ہے ؟ اور اس کے حلال کرنے کا کيا طريقہ ہے؟ اور جب حرمت کا علم ہو
يا نہ ہو تو اس صورت ميں اس کو کيا کرنا چاہئيے؟
ج۔ جب يہ يقين پيدا ہوجائے کہ اس کے مال ميں حرام مال بھي ملا ہوا ہے
ليکن اس کي مقدار واقعي کے بارے ميں نہ جانتا ہو اور صاحب مال کو بھي
نہ جانتا ہو تو اس کے حلال بنانے کا طريقہ يہ ہے کہ اس کا خمس نکال دے
ليکن اگر اپنے مال ميں حرام مال کے مل جانے کا صرف شک کرے تو کچھ بھي
اس کے ذمہ نہيں ہے۔
س٩١٥۔ ميں نے شرعي سال شروع ہونے سے قبل ايک شخص کو کچھ رقم بطور قرض
دي اور وہ شخص اس مال سے تجارت کي نيت رکھتا ہے جس کامنافع ہمارے
درميان نصف نصف تقسيم ہوگا اور واضح رہے کہ وہ مال في الحال ميري دسترس
سے باہر ہے اور ميں اس کا خمس بھي نہيں ادا کررہا ہوں تو اس کے لئے آپ
کي کيا رائے ہے؟
ج۔ اگر آپ نے مال قرض کے عنوان سے ديا ہے تو ابھي آپ پر اس کا خمس ادا
کرنا واجب نہيں ہے ہاں جب آپ کو واپس ملے گا تب ہي آپ پر اس کا خمس
دينا واجب ہوگا ليکن اس صورت ميں اس منافع ميں آپ کا کوئي حق نہيں ہے
جو قرض دار کے عمل سے حاصل ہوا ہے اور اگر آپ اس کا مطالبہ کريں گے تو
وہ سود اور حرام ہوگا۔ اور اگر آپ نے اس رقم کو مضاربہ کے عنوان سے ديا
ہے تو معاہدہ کے مطابق منافع ميں آپ دونوں شريک ہوں گے اور آپ پر اصل
مال کا خمس ادا کرنا واجب ہوگا۔
س٩١٦۔ ميں بينک ميں کام کرتا ہوں اور بينک کے کاموں ميں براہ راست دخيل
ہونے کي وجہ سے لامحالہ ٥ لاکھ تومان بينک ميں رکھنا پڑا۔ فطري بات ہے
کہ رقم ميرے ہي نام سے ايک طولاني مدت کے لئے رکھي گئي ہے اور مجھے ہر
ماہ اس کا نفع ديا جارہا ہے تو کيا اس رکھي ہوئي رقم ميں ميرے اوپر خمس
ہے قابل ذکر ہے کہ اس رکھي ہوئي رقم کو چار سال ہورہے ہيں؟
ج۔ امانت کے طور پر رکھي ہوئي رقم کو اگر آپ نکال کر اپنے اختيار ميں
نہيں لے سکتے تو اس وقت تک اس پر خمس عائد نہيں ہوگا جب تک کہ آپ کو مل
نہ جائے۔
س٩١٧۔ يہاں بينکوں ميں اموال کے رکھنے کا ايک خاص طريقہ ہے کہ صاحبان
اموال کا ہاتھ اس تک اصلاً نہيں پہنچ سکتا۔ ليکن وہ اموال ايک معين
نمبر ميں اس کے حساب ميں رکھ دئيے جاتے ہيں۔ تو کيا ان اموال ميں خمس
واجب ہے؟
ج۔ اگر بينک ميں رکھا ہوا مال سالانہ منافع کے ساتھ ہے اور صاحب مال کے
لئے خمس کے حساب کا سال آتے ہي اس مبلغ کو حاصل کرنا اور بينک سے واپس
لينا ممکن ہو تو خمس کا سال آتے ہي اس مال ميں خمس ادا کرنا واجب ہے۔
س٩١٨۔ جو مال کرايہ دار رہن يا قرض الحسنہ کے طور پر مالک کے پاس رکھتے
ہيں کيا اس ميں خمس ہے؟ اگر ہے تو کيا مالک پر ہے يا کرايہ دار پر؟
ج۔ اگر وہ رقم دينے والے کے کاروباري منافع ميں سے ہے تو واپس ملنے کے
بعد کرايہ دار پر واجب ہے اس کا خمس ادا کرے اور مالک مکان نے قرض کے
عنوان سے جو رقم لي تھي اس پر خمس نہيں ہے۔
س٩١٩۔ نوکري پيشہلوگوں کي وہ تنخواہيں جو چند سال سے حکومت نے نہيں دي
ہيں آيا سال جاري ميں ملنے پر اس کو اسي سال کے منافع ميں سے حساب کيا
جائے گا اور خمس کا سال آنے پر اس کا حساب کرنا واجب ہے يا يہ کہ ايسے
مال پر سرے سے خمس ہي نہيں ہے؟
ج۔ وہ تنخواہ اسي سال کي منفعت ميں شمار کي جائے گي اور سال کے اخراجات
کے بعد باقيماندہ رقم ميں خمس واجب ہے۔
اخراجات
س٩٢٠۔ اگر ايک شخص کے پاس ذاتي کتب خانہ ہو اور اس نے معين اوقات ميں
اس کي کتابوں سے استفادہ کيا ليکن پھر چند سال گذرنے پر دوبارہ اس سے
استفادہ نہ کرسکا ليکن احتمال ہے کہ آئندہ اس کتب خانہ سے فائدہ اٹھائے
گا۔ تو آيا جس مدت ميں اس نے کتابوں سے استفادہ نہيں کيا اس پر ان کا
خمس واجب ہے؟ اور خمس کے وجوب ميں کچھ فرق ہے جبکہ يہ کتابيں اس نے خود
خريدي ہوں يا اس کے والد نے خريدي ہيں؟
ج۔ اگر کتاب خانہ کي حاجت اسے اس اعتبار سے ہے کہ آئندہ وہ اس سے
استفادہ کرے گا اور کتب خانہ اس شخص کي شان کے مناسب اور متعارف مقدار
ميں ہو تو اس صورت ميں اس ميں خمس نہيں ہے حتيٰ کہ اگر وہ کچھ زمانے تک
اس سے فائدہ نہ بھي اٹھاسکے اور يہي حکم ہے اگر کتابيں اسے ميراث ميں
يا تحفہ کے عنوان سے والدين يا دوسرے افراد نے دي ہوں تو ان پر خمس
نہيں ہے۔
س٩١٢۔ وہ سونا جو شوہر اپني بيوي کے لئے خريدتا ہے آيا اس پر خمس ہے يا
نہيں؟
ج۔ اگر وہ سونا اس کي شان کے مناسب اور متعارف مقدار ميں ہے تو اس ميں
خمس نہيں ہے۔
س٩٢٢۔ کتابوں کي خريداري کے لئے جو رقم بين الاقوامي نمائش گاہ تہران
کو دي گئي ہے اور ابھي تک وہ کتابيں نہيں ملي ہيں ، کيا اس رقم ميں خمس
ہے؟
ج۔ جب کتابيں ضرورت کے مطابق ہوں اور اس مقدار ميں ہوں کہ عر ف ميں اس
شخص کي حيثيت کے مناسب ہوں اور ان کا حاصل کرنا بھي بيعانہ کے عنوان سے
قيمت دينے پر موقوف ہو تو اس صورت ميں اس پر خمس نہيں ہے۔
س٩٢٣۔ اگر کسي شخص کے پاس اس کي حيثيت کے مناسب دوسري زمين ہے اور اس
کي ضرورت ہو کيونکہ وہ بال بچے رکھتا ہے اور وہ خمس کے سال اس زمين پر
مکان بنوانے کي استطاعت نہ رکھتا ہو يا ايک سال ميں عمارت کي تعمير
مکمل نہ ہوتي ہو، تو کيا اس پر خمس دينا واجب ہے؟
ج۔ زمين ، جس کي مکان بنانے کے لئے انسان کو ضرورت ہو ،اس پر خمس واجب
نہ ہونے ميں فرق نہيں ہے کہ زمين کا ايک ٹکڑا ہو يا متعدد يا ايک مکان
ہو يا ايک سے زيادہ بلکہ معيار، ضرورت ، شان و حيثيت کے مطابق اور
متعارف ہونا ہے اور تدريجي تعمير ميں اس شخص کي مالي حيثيت پر موقوف
ہے۔
س٩٢٤۔ اگر ايک شخص کے پاس بہت سارے برتن ہوں تو کيا بعض کا استعمال خمس
واجب نہ ہونے کے لئے کفايت کرے گا؟
ج۔ خمس واجب نہ ہونے کا معيار گھر کي ضروريات کے بارے ميں يہ ہے کہ
شايان شان اور ضرورت کے مطابق اور متعارف ہواگرچہ سال ميں کبھي بھي ان
برتنوں کو استعمال نہ کرے۔
س٩٢٥۔ جب برتن اور فرش سرے سے استعمال ميں نہ لايا جائے۔ يہاں تک کہ
سال بھي گذر جائے ليکن انسان کو مہمانوں کي ضيافت کے لئے ان کي ضرورت
ہے تو کيا اس ميں خمس نکالنا واجب ہے؟
ج۔ اس ميں خمس ادا کرنا واجب نہيں ہے۔
س٩٢٦۔ دلہن کے اس جہيز سے متعلق کہ جس کو لڑکي اپني شادي کے وقت شوہر
کے گھر لے جايا کرتي ہے ، امام خميني
۲
کے فتويٰ کو مدنظر رکھتے ہوئے بتائيں کہ جب کسي علاقے يا ملک ميں يہ
رواج ہو کہ لڑکے والے جہيز ( سامان زندگي اور گھر کي ضرورت کي چيزيں)
مہيا کرتے ہوں اور عام طريقہ يہ ہے کہ ان چيزوں کو رفتہ رفتہ مہيا کرتے
ہوں ، اگر ايک سال ان پر گذر جائے تو اس کا کيا حکم ہے؟
ج۔ اگر اسباب اور ضروريات زندگي کا آئندہ کے لئے اکھٹا کرنا عرف ميں
اخراجات زندگي ميں شمار کيا جاتا ہو اور تدريجي طور پر حاصل کرنے کے
علاوہ کوئي دوسرا راستہ نہ ہو تو اس ميں خمس نہيں ہے۔
س٩٢٧۔ جن کتابوں کے دورے کئي کئي جلدوں پر مشتمل ہيں ( مثلاً وسائل
الشيعہ وغيرہ) تو کيا ان کي ايک جلد سے استفادہ کرلينے سے يہ ممکن ہے
کہ پورے دورے پر سے خمس ساقط ہوجائے يا اس کے لئے واجب ہے کہ ہر جلد سے
ايک صفحہ پڑھا جائے؟
ج۔اگر مورد احتياج پورا دورہ ہو يا جس جلد کي ضرورت ہے وہ موقوف ہو
کامل دورہ خريدے جانے پر تو اس صورت ميں اس ميں خمس نہيں ہے۔ ورنہ جن
جلدوں کي انسان کو ابھي ضرورت نہيں ہے ان ميں خمس کا نکالنا واجب ہے۔
اور تنہا ہر جلد سے ايک صفحہ کا پڑھ لينا خمس کے ساقط ہونے کے لئے کافي
نہيں ہے۔
س٩٢٨۔ وہ دوائيں جنہيں درميان سال ہونے والي آمدني سے خريدا جاتا ہے
اور پھر اس کي قيمت بيمہ کمپني ادا کرتي ہے اگر وہ دوائيں خمس کي تاريخ
آنے تک خراب نہ ہوں تو ان ميں خمس واجب ہے يا نہيں؟
ج۔ اگر آپ نے دوا کو اس لئے خريدا ہے کہ وقت ضرورت استعمال کريں گے اور
وہ معرض احتياج ميں رہي ہوں اور ابھي بھي ان کي ضرورت ہوتو ايسي صورت
ميں ان ميں خمس نہيں ہے۔
س٩٢٩۔ اگر کسي شخص کے پاس رہنے کے لئے گھر نہ ہو اور و ہ اسے خريدنے کے
لئے کچھ رقم جمع کرے تو کيا اس مال پر اس کو خمس اد اکرنا ہوگا؟
ج۔ سال کے منافع سے جمع کيا ہوا مال اگرچہ وہ آئندہ زندگي کي ضروريات
مہيا کرنے کے لئے کيوں نہ ہو اگر اس پر ايک سال گذرجائے تو خمس نکالنا
واجب ہے۔
س٩٣٠۔ ميري زوجہ ايک قالين بن رہي ہے جس کا اصلي مال ميري ملکيت ہے
کيونکہ ميں نے اس کے لئے کچھ رقم قرض لي ہے اور اب تک صرف کچھ ہي حصہ
اس قالين کا تيار ہوا ہے ۔ جبکہ ميري خمس کي تاريخ گذر چکي ہے تو کيا
اتنے ہي بنے ہوئے حصہ کا خمس بنائي تمام ہونے اور اس کو بيچے جانے کے
بعد دينا ہوگا يا نہيں حالانکہ ميرا رادہ اس کو بيچ کر اس کي قيمت
گھريلو ضروريات ميں خرچ کرنے کا ہے؟ نيز اصل مال کے سلسلہ ميں کيا حکم
ہے؟
ج۔ قالين کي قيمت سے اس اصل مال کو جسے قرض ليا گيا ہے، جد اکرنے کے
بعد رقم کو بيچے جانے کے سال کے منافع ميں محسوب کيا جائے گا۔ لہذا جب
رقم بنائي ختم ہونے اور بيچنے کے بعد اسي سال کے مخارج زندگي ميں صرف
کي جائے تو اس ميں خمس نہيں ہے۔
س٩٣١۔ ميري پوري جائيداد تين منزلہ عمارت ہے، ہر منزل پر دو کمرے ہيں۔
ايک ميں خود رہتا ہوں اور دو ميں ميرے بچے رہتے ہيں ۔ کيا ميري حيات
ميں اس پر خمس ہے؟ ميري وفات کے بعد اس ميں خمس ہے تاکہ ميں ورثائ کو
اپنے مرنے کے بعد اسے ادا کرنے کي وصيت کروں؟
ج۔ مفروضہ سوال کے مطابق آپ پر اس عمارت کا خمس واجب نہيں ہے۔
س٩٣٢۔ اسباب خانہ کے خمس کا حساب کيونکر کيا جائے گا؟
ج۔ وہ چيزيں جن کے بعينہ باقي رہتے ہوئے ان سے انسان فائدہ اٹھاتا ہے
جيسے فرش ، چادر وغيرہ ان ميں خمس نہيں ہے ليکن روزمرہ استعمال کي جانے
والي چيزيں جيسے چاول روغن يا ان کے علاوہ ديگر چيزيں تو اگر وہ خرچ سے
زيادہ ہوں اور عند الحساب باقي ہوں تو ان ميں خمس واجب ہے۔
س٩٣٣۔ زيد کے پاس تھوڑ ي سي زمين ہے ليکن اس کے پاس خود اپنا کوئي مکان
رہنے کے لئے نہيں ہے لہذا اس نے ايک زمين خريد لي تاکہ رہنے کے لئے ايک
گھر تعمير کروائے ليکن اس کے پاس اتنا پيسہ نہيں ہے کہ اس زمين پر گھر
بنواسکے يہاں تک کہ زمين لئے ہوئے سال گذرگيااور اس نے اس کو بيچا بھي
نہيں ۔ تو کيا اس زمين ميں خمس واجب ہے بنا بر وجود اس کے لئے خريدي
ہوئي قيمت ميں خمس نکالنا کافي ہے يا زمين کي موجودہ قيمت پر خمس کا
نکالنا واجب ہے؟
ج۔ اگر سال خريد کے منافع سے اس نے گھر بنوانے کے لئے زمين خريدي ہيں
جس کي اس کو ضرورت ہے تو اس ميں خمس نہيں ہے۔
س٩٣٤۔ سابقہ سوال کي روشني ميں اگر اس نے مکان بنوانا شروع کرديا ہے
مگرمکمل نہيں ہوا يہاں تک کہ سال گذر گيا تو کيا اس پر واجب ہے کہ
تعمير کے سلسلہ ميں جو لوازمات و مصالحہ وغيرہ خرچ کيا ہے اس ميں خمس
نکالے؟
س۔ سوال کے مطابق اس پر خمس نکالنا واجب نہيں ہے۔
س٩٣٥۔ جس شخص نے گھر کا دوسرا طبقہ اپنے بچوں کے مستقبل کے لئے بنوايا
ہو حالانکہ خود وہ پہلے طبقہ پر رہتا ہے اور اس کو دوسرے طبقہ کي
احتياج چند سال کے بعد ہے تو کيا جو کچھ اس نے دوسرا طبقہ بنوانے ميں
صرف کيا ہے اس ميں خمس نکالنا واجب ہے؟
ج۔ جب دوسرا طبقہ بچوں کے مستقبل کے خيال سے بنوايا ہے اور اس وقت اس
کے اخراجات زندگي ميں شمار ہوتا ہے اور عرف عام ميں اس کي شان کے مطابق
ہے تو اس کے بنوانے ميں جو خرچ کيا ہے اس ميں خمس نہيں ہے۔
س٩٣٦۔ آپ فرماتے ہيں کہ جو کچھ سال کا خرچ ہے اس ميں خمس واجب نہيں ہے
تو ايک انسان جس کے پاس اپنا رہائشي مکان نہيں ہے اس کے پاس ايک زمين
ہے جس پر ايک سال يا اس سے زيادہ عرصہ گذر چکا ہے اور وہ اس پر عمارت
نہيں بنواسکا تو اس کو خرچ ميں کيوں نہيں شمار کيا جاتا ہے ؟ اميدوار
ہوں کہ اس کي وضاحت فرمائيں ، خدا آپ کو اجر دے؟
ج۔ اگر زمين ، مکان بنانے کے لئے ہے جس کي اس کو ضرورت ہے تو اس کو سال
کے اخراجات ميں شمار کيا جائے گا اور اس پر خمس نہيں ہے۔ ليکن اگر زمين
بيچنے کے لئے ہو اور پھر اس کي قيمت سے مکان تعمير کرنا مقصود ہو تو
اگر زمين تجارتي منفعت ميں سے ہے تو اس کا خمس ادا کرنا واجب ہے۔
س٩٣٧۔ ميرے خمس کے سال کي ابتدائ ہر سال کے ستمبر کي پہلي تاريخ سے
ہوتي ہے۔ اور عموماً سال کے دوسرے يا تيسرے مہينہ ميں مدرسوں اور
کالجوں کے امتحانات شروع ہوتے ہيں اور اس کے چھ ماہ کے بعد ہم کو اضافي
کام کي ( جو امتحانات کے دوران کيا ہے) اجرت ملتي ہے ۔ لہذا برائے
مہرباني وضاحت فرمائيں کہ : وہ کام جو ہم نے تاريخ خمس سے پہلے کيا ہے
اس کي اجرت جو ہم کو سال کے تمام ہونے کے بعد ملي ہے آيا اس ميں خمس
ادا کرنا ہے؟
ج۔ اس اجرت کا حساب اسي سال کي منفعت ميں کيا جائے گا جس سال وہ ملي ہے
اور جب وہ رقم اسي سال کے اخراجات ميں صرف کي گئي تو اس رقم کا خمس آپ
پر واجب نہيں ہے۔
س٩٣٨۔ کبھي کبھي ہم لوگوں کو گھريلو سامان کي جيسے ريفريجريٹر وغيرہ جو
بازار سے کم قيمت پر بيچا جاتا ہے۔ آئندہ يعني شادي کے بعد ضرورت ہوتي
ہے۔ يہ لحاظ کرتے ہوئے کہ ہمارے لئے ان سامان کا خريدنا اس وقت لازمي
ہوگا جبکہ اس کي قيمت اس وقت کئي گنا زيادہ ہوگي تو کيا ايسا سامان جو
اس وقت استعمال ميں نہيں ہے اور گھر ميں پڑا ہوا ہے اس ميں خمس نکالنا
ہوگا؟
ج۔ اگر آپ نے ان چيزوں کو کاروباري منافع سے اس خيال سے خريدا کہ آئندہ
ان سے استفادہ کريں گے اور جس سال آپ نے ان کو خريدا ہے اس سال آپ کو
ان کي ضرورت نہيں ہے تو سال پورا ہوتے ہي ان کي اوسط قيمت ميں خمس ادا
کرناآپ پر واجب ہے سوائے اس کے کہ وہ ان اشيائ ميں سے ہوں جنہيں عام
طور پر رفتہ رفتہ خريدا جاتا ہے اور وقت ضرورت کے لئے بہت پہلے سے، اس
لئے مہيا کياجاتا ہے کہ انہيں يکبارگي خريدنا ممکن نہيں نيز يہ کہ وہ
معمولاً آپ کي حيثيت کے مطابق بھي ہوں تو اس صورت ميں ان کو اخراجات
ميں شمار کيا جائے گا اور آپ پر ان کا خمس نکالنا واجب نہيں۔
س٩٣٩۔ وہ رقوم جن کو انسان امور خير ميں صرف کرتا ہے جيسے مدارس کي
امداد سيلاب زدہ لوگوں اور فلسطيني و بوسنيائي مظلوموں کي امداد وغيرہ
کيا ان کو سال کے اخراجات ميں محسوب کيا جائے گا يا نہيں ؟ يعني کيا ہم
پر واجب ہے کہ ہم پہلے اس کا خمس ادا کريں پھر ان امور ميں خرچ کريں يا
اس کے لئے خمس نہيں نکالا جائے گا ( بلکہ خمس نکالے بغير ديا جاسکتا
ہے)؟
ج۔ امور خير ميں صرف کي جانے والي رقوم کا حساب و شمار اسي سال کے
اخراجات ميں ہوگا جس سال اسے خرچ کيا گيا ہے اور ان ميں خمس نہيں ہے۔
س٩٤٠۔ گزشتہ سال ميں نے ايک قالين خريدنے کے لئے کچھ رقم جمع کي اور
آخر سال ميں قالين بيچنے والے چند محلوں کا چکر لگايا۔ ان محلوں ميں سے
ايک محلہ ميں يہ طے پايا کہ ميري پسند کا ايک قالين ميرے لئے تيار کريں
يہ مسئلہ اس سال کے دوسرے مہينہ تک درپيش رہا چونکہ ميرے خمس کي تاريخ
ہجري شمسي سال کے آغاز سے ہے تو کيا اس مذکورہ رقم پر خمس عائد ہوگا؟
ج۔ چونکہ جمع کي گئي رقم تاريخ خمس آنے تک ضرورت کے مطابق قالين کي
خريداري ميں خرچ نہيں کي جاسکي لہذا اس ميں خمس نکالنا واجب ہے۔
س٩٤١۔ چند لوگ ايک پرائيويٹ مدرسہ بنانے کے لئے تيار ہوئے۔ مگر شرکائ
کي تنگ دستي کے پيش نظر مدرسہ بنوانے والي کميٹي نے طے کيا کہ ديگر
اخرجات کے لئے بينک سے قرض ليا جائے، اسي طرح کميٹي نے يہ بھي طے کيا
کہ شرکائ کي مشترک رقم کو مکمل کرنے اوربينک کي قسطيں ادا کرنے کے لئے
ممبران مدرسہ سے ہر ماہ کچھ معين رقم جمع کريں گو کہ يہ مدرسہ ابھي تک
منفعت بخش نہيں ہوسکا ہے۔ تو کيا ممبران جو ماہانہ رقم ادا کريں گے اس
ميں انہيں خمس دينا ہوگا ؟ اور کيا وہ اصل سرمايہ جس سے يہ مدرسہ
بنوايا گيا ہے ، اس ميں خمس نکالنا ہوگا؟
ج۔ ہر ممبر کو اصل سرمايہ ميں شريک ہونے کي بنائ پر ہر مہينہ ميں جو
کچھ دينا ہے اس ميں اور جو کچھ اس نے پہلي بار شراکت کے طور پر مدرسہ
بنوانے کے لئے ديا ہے اس ميں خمس کا ادا کرنا واجب ہے۔ اور جب ہر ممبر
اپنے حصہ کا خمس ادا کردے گا تو مجموعي سرمايہ ميں خمس نہيں ہوگا۔
س٩٤٢۔ وہ ادارہ جہاں ميں ملازمت کرتا ہوں چند سال سے ميري کچھ رقم کا
مقروض ہے اور ابھي تک اس نے ميري رقم ادا نہيں کي ہے۔ توکيا اس رقم کے
ملتے ہي مجھے خمس نکانا ہوگا يا ضروري ہے کہ ايک سال اس پر گذر جائے؟
ج۔ اگر رقم خمس کے سال ميں نہ ملے تو پھر وہ جس سال ملے گي اسي سال کي
منفعت ماني جائے گي۔ اور اگر اسے اسي ملنے والے سال کي ضروريات ميں صرف
کرديا جائے تو اس ميں خمس واجب نہ ہوگا۔
س٩٤٣۔ کيا سال کے کاروباري منافع سے حاصل شدہ اموال کے مخارج زندگي ميں
خمس واجب نہ ہونے کا معيار يہ ہے کہ اس کو سال کے اندر ہي استعمال ميں
لايا جائے يا سال ميں ان کي ضرورت پڑنا ہي کافي ہے خواہ ان کو استعمال
نہ کيا جاسکے؟
ج۔ کپڑے ، فرش وغيرہ جيسي اشيائ جن سے بعينہ فائدے اٹھايا جاتا ہے ان
کا معيار صرف ان کي ضرورت پڑنا ہے۔ ليکن روزمرہ کي اشيائ زندگي جيسے
چاول ، گھي وغيرہ ان کا معيار سال کے اندر ان کا خرچ ہوناہے۔ لہذا ان
ميں سے جو کچھ بچ جائے ان ميں خمس ادا کرنا واجب ہے۔
س٩٤٤۔ اپنے بال بچوں کي سہولت اور ان کي ضرورت کے لئے ايک شخص نے ايک
گاڑي غير مخمس مال سے خريدي وہ بھي درميان سال کے منافع سے تو کيا اس
کو اس مال کي خمس دينا ہوگا۔ اسي طرح اگر اس نے اپنے کام سے مربوط امور
کے لئے يا دونوں ( اپنے کام نيز بچوں کي سہولت) کے لئے گاڑي خريدي ہو
تو اس کا کيا حکم ہے؟
ج۔ اگر اس نے اپنے کام يا تجارت سے متعلق امور کے لئے گاڑي خريدي ہے تو
اس گاڑي کے لئے وہي حکم ہے جو ديگر سازو سامان تجارت کے خريدنے پر خمس
واجب ہونے کا حکم ہے۔ ليکن اگر گاڑي ضروريات ميں ہو جو اس کے شان کے
مطابق ہو تو اس صورت ميں اس ميں خمس نہيں ہے۔
مصالحت ، اور خمس ميں غير خمس کي ملاوٹ
س٩٤٥۔ يہاں کچھ ايسے لوگ ہيں جن پر خمس واجب تھا مگر انہوں نے ابھي تک
ادا نہيں کيا ہے ، اور في الوقت يا تو وہ خمس دينے کي استطاعت نہيں
رکھتے ہيں يا ان کے لئے خمس کا ادا کرنا دشوار ہے تو ان کے بارے ميں
کيا حکم ہے؟
ج۔ جن پر خمس دينا واجب ہے تنہا ادائيگي دشوار ہونے کہ وجہ سے خمس ان
سے ساقط نہيں ہوسکتا ہے بلکہ جس وقت بھي اس کا ادا کرنا ان کے لئے ممکن
ہو اس وقت دينا واجب ہوگا۔ وہ لوگ خمس کے ولي امر يا اس کے وکيل سے
اپني استطاعت کے مطابق خمس ادا کرنے کے لئے وقت اور مقدار کے بارے ميں
صلاح و مشورہ کريں۔
س٩٤٦۔ ميں نے قرض پر ايک مکان اور دوکان ، جس ميں کاروبار کرتا
ہوں،حاصل کي ہے اور يہ قرض قسط وار ادا کررہا ہوں اور شريعت پر عمل
کرتے ہوئے اپنے خمس کا سال بھي معين کرلياہے۔ آپ سے التجا ہے کہ مجھ پر
اس گھر کا خمس معاف فرماديں جس ميں ميرے بچے زندگي گذار رہے ہيں۔ رہا
دوکان کا خمس تو اس کو قسطوں کي شکل ميں ادا کرنا ميرے امکان ميں ہے۔
ج۔ بنابر فرض سوال جس مکان ميں آپ رہتے ہيں اس پر خمس نکالنا واجب نہيں
ہے۔ رہي دوکان تو اس کا خمس دينا آپ پر واجب ہے چاہے اس کے لئے ميري
طرف سے جن وکلائ کو اس کام کي اجازت ہے ان ميں سے کسي سے بھي صلاح و
مشورہ کرنے کے بعد رفتہ رفتہ ادا کريں۔
س٩٤٧۔ ايک شخص ملک سے باہر رہتا تھا اور خمس نہيں نکالتا تھا اس نے ايک
گھر غيرمخمس مال سے خريدا ليکن اس وقت اس کے پاس اتنا مال نہيں ہے جس
سے وہ اپنے اوپر واجب خمس کو ادا کرے البتہ اس پر جو خمس قرض ہے اس کے
عوض ميں ہر سال خمس کي محسوبہ رقم سے کچھ زيادہ نکالتا رہتا ہے تو اس
کا يہ عمل قبول ہوگا يا نہيں؟
ج۔ فرض سوال کے مطابق اس کو واجب خمس کي ادائيگي کے سلسلہ ميں مصالحت
کرنا ضروري ہے پھر وہ رفتہ رفتہ اس کو ادا کرسکتا ہے اور اب تک جتنا اس
نے ادا کيا ہے وہ قبول ہے۔
س٩٤٨۔ ايک شخص جس پر چند سال کي منفعت کا خمس ادا کرنا
واجب ہے ليکن اب تک اس نے خمس کے عنوان سے کچھ بھي ادا نہيں کيا ہے اور
اس پر کتنا خمس نکالنا واجب ہے يہ بھي اس کو ياد نہيں ہے تو وہ کيوں کر
خمس سے سبکدوش ہوسکتا ہے؟
ج۔ ضروري ہے کہ وہ اپنے ان تمام اموال کا حساب کرے جن ميں خمس واجب ہے
اور ان کا خمس ادا کرے اور مشکوک معاملات ميں حاکم شرع يا اس کے وکيل
مجاز سے مصالحت کرلينا ہي کافي ہے۔
س٩٤٩۔ ميں ايک نوجوان ہوں اپنے گھر والوں کے ساتھ رہتا ہوں اور ميرے
والد نہ خمس نکالتے ہيں اور نہ زکوٰۃ ادا کرتے ہيں ، يہاں تک انہوں نے
سود کے پيسے سے ايک مکان بھي بنا رکھا ہے ۔ چنانچہ اس مکان ميں ، ميں
جو کچھ کھاتا پيتا ہوں اس کا حرام ہونا واضح ہے۔ اس بات کومدنظر رکھتے
ہوئے کہ ميں اپنے گھر والوں سے الگ رہنے کي استطاعت نہيں رکھتا۔
اميدوار ہوں کہ ميري ذمہ داري بيان فرمائيں گے۔
ج۔ بالفرض آپ کو يہ يقين ہو کہ آپ کے باپ کے مال ميں سود ملا ہوا مال
ہے، يا آپ کو علم ہو کہ آپ يقين کرليں کہ جو کچھ آپ باپ کے مال ميں سے
خرچ کرچکے ہيں يا خرچ کريں گے وہ آپ کے لئے حرام ہے اور جس وقت تک حرمت
کا يقين نہ ہو آپ کا اس مال سے استفادہ کرنا حرام نہيں ہوگا ۔ ہاں جب
حرمت کا يقين حاصل ہوجائے تو آپ کے لئے اس ميں تصرف جائز نہيں ہوگا،
اسي طرح جب آپ کا گھر والوں سے جدا ہونا اور ان کے ساتھ اٹھنا بيٹھنا
ترک کرنا موجب حرج ہو تو اس صورت ميں آپ کے لئے ان کے اموال سے استفادہ
کرنا جائز ہوجائے گا البتہ آپ ان اموال ميں سے جس قدر خمس و زکوٰۃ اور
دوسرے مال سے استفادہ کريں گے ان کے ضامن رہيں گے۔
س٩٥٠۔ ميں جانتا ہوں کہ ميرے والد خمس و زکوٰۃ نہيں ادا کرتے ہيں اور
جب ميں نے اس کي طرف ان کو متوجہ کيا تو انہوں نے يہي جواب ديا کہ ہم
خود ہي محتاج ہيں لہذا ، ہم پر خمس و زکوٰۃ واجب نہيں ہے تو اس سلسلہ
ميں آپ کا کيا حکم ہے؟
ج۔ جب آپ کے پاس وہ مال نہيں کہ جس پر زکوٰۃ واجب ہے اور اتنا مال بھي
نہيں کہ جس ميں خمس واجب ہو تو ان پر نہ خمس ہے نہ زکوٰۃ اور اس مسئلہ
ميں آپ پر تحقيق کرنا بھي ضروري نہيں ہے۔
س٩٥١۔ ہم ايسے لوگوں کے ساتھ کام کرتے ہيں جو خمس ادا نہيں کرتے، اور
نہ ان کے پاس اپنا سالانہ حساب ہے تو ہم ان کے ساتھ جو خريد و فروخت
اور کاروبار کرتے ہيں اور ان کے ساتھ کھاتے پيتے ہيں اس سلسلہ ميں کيا
حکم ہے؟
ج۔ جو اموال آپ ان لوگوں سے خريد و فروخت کے ذريعہ ليتے ہيں يا ان کے
ہاں جا کر ان ميں تصرف کرتے ہيں ، اگر ان ميں خمس کے موجود ہونے کا
يقين ہو تو ان ميں آپ کے لئے تصرف جائز نہيں۔ اور جو اموال ان سے آپ
خريد و فروخت کے ذريعے ليتے ہيں تو جتني مقدار ميں ان ميں خمس واجب ہے
اتنا معاملہ فضولي ہوگا جس کے لئے ولي امر خمس يا ا س کے وکيل سے اجازت
لينا ضروري ہے۔البتہ اگر ان کے ساتھ معاشرت کھانے پينے اور ان کے اموال
ميں تصرف سے پرہيز آ پ کے لئے دشوار ہو تو اس صورت ميں آپ کے لئے ان
چيزوں ميں تصرف جائز تو ہے ليکن جتنا مال آپ نے ان کا صرف کيا ہے اس کے
خمس کے آپ ضامن ہوں گے۔
س٩٥٢۔ کيا جو مال کاروبار کي منفعت سے گھر خريدنے يا بنوانے کے لئے جمع
کيا گيا ہے اس ميں خمس دينا ہوگا؟
ج۔ اگر گھر خريدنے يا بنوانے سے پہلے جمع کئے ہوئے مال پر خمس کا سال
پورا ہوجائے تو مکلف کو خمس دينا ہوگا۔
س٩٥٣۔ جب کوئي شخص کسي مسجد کے لئے ايسا مال دے جس کا خمس نہيں نکالا
گيا ہے تو کيا اس کا لينا جائز ہے؟
ج۔ اگر اس امر کا يقين ہو کہ اس شخص نے جو مال مسجد کو ديا ہے اس کا
خمس نہيں نکالا گيا ہے تو اس مال کا اس شخص سے لينا جائز نہيں ہے۔ اور
ا گر اس سے ليا جاچکا ہے تو اس کي جس مقدار ميں خمس دينا واجب ہے اتني
مقدار کے لئے حاکم شرع يا اس کے وکيل کي طرف رجوع کرنا واجب ہے۔
س٩٥٤۔ ايسے لوگوں کے ساتھ معاشرت کا کيا حکم ہے کہ جو مسلمان تو ہيں
مگر ديني امور کے پابند نہيں ہيں خاص طور سے نما زاور خمس کے پابند
نہيں ہيں ؟ اور کيا ان کے گھروں ميں کھانا کھانے ميں اشکال ہے؟ اگر
اشکال ہے تو جو چند مرتبہ ايسے فعل انجام دے چکا ہو اس کے لئے کيا حکم
ہے؟
ج۔ ان کے ساتھ رفت و آمد رکھنا اگر ان کے ديني امور ميں لاپرواہي برتنے
ميں معاون و مددگار نہ ہو تو کوئي حرج نہيں ہے۔ ہاں اگر آپ کا ان کے
ساتھ ميل جول نہ رکھنا ان کو دين کا پابند بنانے ميں موثر ہو تو ايسي
صورت ميں وقتي طور پر ان کے ساتھ ميل جول نہ رکھنا ہي کچھ مدت کے لئے
امر بالمعروف و نہي عن المنکر کے عنوان سے واجب ہے۔ البتہ ان کے اموال
سے استفادہ مثلاً کھانا پينا وغيرہ تو جس وقت تک يہ يقين نہ ہو کہ اس
مال ميں خمس باقي ہے، اس وقت تک استفادہ کرنے ميں کوئي مانع نہيں ہے
ورنہ يقين کے بعد حاکم شرع يا اس کے وکيل کي اجازت کے بغير استفادہ
کرنا جائز نہيں۔
س٩٥٥۔ ميري سہيلي اکثر مجھے کھانے کي دعوت ديا کرتي ہے ليکن ايک مدت کے
بعد مجھے يہ معلوم ہوا ہے کہ اس کا شوہر خمس نہيں نکالتا۔ تو کيا ميرے
لئے ايسے شخص کے ہاں کھانا پينا جائز ہے؟
ج۔ ان کے ہاں اس وقت تک کھانا کھانے ميں کوئي حرج نہيں جب تک کہ يہ
معلوم نہ ہوجائے کہ جو کھانا وہ پيش کررہے ہيں وہ غير مخمس مال سے تيار
کيا گيا ہے۔
س٩٥٦۔ ايک شخص پہلي مرتبہ اپنے اموال کا حساب کرنا چاہتا ہے تاکہ ان کا
خمس ادا کرسکے تو اس کے اس گھر کے لئے کيا حکم ہے جسے اس نے خريدا تو
ہے ليکن اس کو يہ ياد نہيں ہے کہ کس مال سے خريدا ہے؟ اور اگر يہ جانتا
ہو کہ يہ ( مکان) اس مال سے خريدا گيا ہے جو چند سال تک ذخيرہ تھا تو
اس صورت ميں اس کا کيا حکم ہے؟
ج۔ جب وہ خريدنے کي کيفيت سے بے خبر ہو تو بنا بر احوط اس پر واجب ہے
کہ اس کے خمس ميں سے کچھ دے کر حاکم شرع سے مصالحت کرلے اور اگر اس نے
غير مخمس مال سے گھر خريدا ہے تو اس پر في الحال مکان کي قيمت کے حساب
سے خمس ادا کرنا واجب ہے مگر يہ کہ اس نے ما في الذمہ قرض سے گھر خريدا
ہو اور اس کے بعد غير مخمس مال سے اپنا قرض ادا کيا ہو تو اس صورت ميں
صرف اتنے ہي مال کا خمس ادا کرنا واجب ہوگا جس سے اس نے قرض چکا يا ہے۔
س٩٥٧۔ ايک عالم دين کسي شہر ميں وہاں کے لوگوں سے خمس کے عنوان سے ايک
رقم ليتا ہے ليکن اس کے لئے عين مال کو آپ کي جانب يا آپ کي جانب يا آپ
کے دفتر کي جانب ارسال کرنا دشوار ہے تو کيا وہ يہ رقم بينک کے حوالے
سے ارسال کرسکتا ہے ، يہ جانتے ہوئے کہ بھي کہ بينک سے جو مال وصول کيا
جائے گا بعينہ وہي مال نہ ہوگا جو اس نے اپنے شہر ميں بينک کے حوالے
کيا ہے؟
ج۔ خمس يا ديگر رقوم شرعيہ بينک کے ذريعہ بھيجنے ميں کوئي حرج نہيں ہے۔
س٩٥٨۔ اگر ميں نے غير مخمس مال سے زمين خريدي ہو تو اس ميں نما زصحيح
ہے يا نہيں؟
ج۔ اگر عين غير مخمس اموال سے زمين کي خريداري عمل ميں آئي ہے ، تو
جتني مقدار خمس کي بنتي ہے اتنا معاملہ فضولي ہے جس ميں ولي امر کي
اجازت ضروري ہے لہذا جب تک اس کي اجازت نہ ہو اس زمين ميں نماز صحيح نہ
ہوگي۔
س٩٥٩۔ جب خريدنے والا يہ جان لے کہ خريدے ہوئے مال ميں خمس کي ادائيگي
باقي ہے اور فروخت کرنے والے نے خمس نہيں ديا ہے تو کيا اس ميں خريدنے
والے کے لئے تصرف جائز ہوگا؟
ج۔ اس فرض کے ساتھ کہ بيچے ہوئے مال ميں خمس ہے ، خمس کي مقدار کے
برابر معاملہ فضولي ہوگا جس کے لئے حاکم شرع سے اجازت ليني ضروري ہے۔
س٩٦٠۔ وہ دوکاندار جو يہ نہ جانتا ہو کہ خريدار نے اپنے مال کا خمس ادا
کيا ہے يا نہيں اور وہ اس کے ساتھ معاملہ کررہا ہے تو آيا اس کے لئے اس
مال کا خمس ادا کرنا واجب ہوگا يا نہيں؟
ج۔ جب تک يہ علم نہ ہو کہ خريدار سے ملنے والي رقم ميں خمس ہے خود
دوکاندار پر کچھ نہيں ہے۔ اور نہ تو اس کے لئے چھان بين و تحقيق کرنا
ضروري ہے۔
س٩٦١۔ اگر چار آدمي مل کر ايک لاکھ روپے شراکت کے عنوان سے جمع کريں
تاکہ اس سے کام کرکے فائدہ اٹھائيں ليکن ان ميں سے ايک شخص خمس کا
پابند نہ ہو تو کيا اس کي شراکت ميں کام کرنا صحيح ہو گا يا نہيں؟اور
آيا ان کے لئے ممکن ہے کہ اس شخص سے جو پابند خمس نہيں ہے مال لے کر اس
سے فائدہ اٹھائيں ( اس طرح کہ مال قرض الحسنہ کے عنوان سے ليں) اور عام
طورپر چند افراد شريک ہوں تو کيا ہر ايک پر اپنے حصہ کي منفعت سے
عليحدہ طور پر خمس دينا واجب ہوگا يا اس کو مشترک کھاتے سے ادا کرنا
ضروري ہے؟
ج۔ ايسے شخص کے ساتھ شريک ہونا کہ جس کے اصل مال ميں خمس ہے اور اس نے
ادا نہيں کيا ہے اس کا حکم يہ ہے کہ خمس کي مقدار کے برابر مال ميں
معاملہ فضولي ہوگا جس کے لئے حتمي طور پر حاکم شرع کي طرف رجوع کرنا
ہوگا اور اگر بعض شرکائ کے لگائے ہوئے مال ميں خمس باقي ہو تو شراکت کے
اصل مال ميں تصرف ناجائز ہوگا۔ اور جس وقت شراکت کے مال کے منافع کو
افراد وصول کررہے ہيں تو ہر شخص مکلف ہے کہ وہ اپنے حصہ ميں خرچ سے بچے
ہوئے مال کا خمس ادا کرے۔
س٩٦٢۔ جب ميرے کاروبار شريک اپنے حساب کا سال نہ رکھتے ہوئے ہوں تو
ميري کيا ذمہ داري ہے؟
ج۔ جو لوگ شريک ہيں ان ميں سے ہر ايک پر واجب ہے کہ وہ اپنے حصہ کے
حقوق شرعي کو ادا کرے تاکہ مشترک اموال ميں ان کے تصرفات جائز ہوسکيں۔
اور اگر تمام شرکائ ايسے ہوں جو اپنے ذمہ کے حقوق شرعي نہ اد اکرتے ہوں
اور کمپني ( شرکت) کا توڑ دينا يا شرکائ سے جدا ہونا آپ کے لئے موجب
حرج ہو تو آپ کے لئے کمپني ميں کام کو جاري رکھنے کي اجازت ہے۔
اصل سرمايہ
س٩٦٣۔ ١٣٦٥ ھ۔ش ١٩٨٦ ميں تعليم و تربيت کے مقصد سے کسي کمپني ميں کام
کرنے والوں نے ايک کواپريٹيو سوسائٹي قائم کي اور ابتدائ ميں سرمايہ کي
رقم حصص کے طور پر تعليم و تربيت کے چند ملازمين نے فراہم کي۔ ( اس
وقت) ان ميں سے ہر ايک نے سو سو تومان دئيے تھے۔ ابتدائ ميں کمپني کي
اصل پونجي بہت کم تھي، ليکن اس وقت ممبروں کي کثرت کي وجہ سے گاڑي
وغيرہ کے علاوہ کمپني کا اصل سرمايہ ١٨ ملين تومان ہے، اور اس سرمايہ
سے جو فائدہ حاصل ہوتا ہے وہ ممبروں کے درميان ان کے حصے کے مطابق
تقسيم ہوتا ہے اور ان ميں کا ہر شخص جب بھي چاہے اپنا حساب ختم کرسکتا
ہے؟
ابھي تک نہ تو اصل سرمايہ سے خمس ديا گيا ہے اور نہ فائدے سے توکيا
کمپني کا انچارج ہونے کي حيثيت سے کمپني کي جن چيزوں ميں خمس ہے اس کا
اد اکرنا ميرے لئے جائز ہے ؟ اور کيا حصہ داروں کي رضامندي شرط ہے يا
نہيں؟
ج۔ اصل مال اور اس سے حاصل ہونے والے فائدے کا خمس دينا ہر ممبر پر
اپنے حصے کے لحاظ سے واجب ہے اور کمپني کے انچارج کا خمس نکالنا کمپني
کے حصہ داروں کي اجازت و وکالت پر موقوف ہے۔
س٩٦٤۔ چند افراد بوقت ضرورت ايک دوسرے کي مدد کے لئے قرض الحسنہ کا
بينک قائم کرنا چاہتے ہيں اس طرح کہ ہر ممبر پر ( پہلي مرتبہ دي جانے
والي رقم کے علاوہ) اصل سرمايہ ميں اضافے کے لئے ہر مہينہ کچھ رقم کا
دينا ضروري ہے ، لہذا وضاحت فرمائيے کہ ہر ممبر نے ہميشہ کے لئے قرض کے
طور پر خود ليا ہو تو اس صورت ميں خمس کي کيا شکل ہوگي؟
ج۔ اگر ممبر نے اپنے حصے کي رقم کاروبار کے منافع سے خمس سال کے ختم
ہونے کے بعد دي ہے تو ا س پر پہلے خمس کا ادا کرنا واجب ہے ليکن اگر
اپنے حصے کي رقم اثنائ سال ميں دي ہے تو خمس کي ادائيگي سال کے آخر ميں
واجب ہے اگر اس رقم کا وصول کرنا ممکن ہو ورنہ جب تک اس رقم کا وصول
کرنا ممکن نہ ہو اس وقت تک اس پر خمس نکالنا واجب نہيں ہے۔
س٩٦٥۔ کيا صندوق قرض الحسنہ ( امدادي باہمي بينک) مستقل حيثيت رکھتا
ہے؟ اور اگر ايسا ہے تو اس سے حاصل ہونے والے فائدے پر خمس ہے يا نہيں؟
اور اگر مستقل حيثيت نہيں رکھتا تو اس کے خمس نکالنے کا کيا طريقہ ہے؟
ج۔ اگر قرض الحسنہ کے اصل سرمايہ ميں چند افراد شريک ہوں تو اس سے حاصل
ہونے والا فائدہ ہر شخص کے حصے کے لحاظ سے اس کي ملکيت ہوگا اور اسي
ميں اس پر خمس واجب ہوگا۔ليکن اگر قرض الحسنہ کا سرمايہ کسي ايک يا چند
اشخاص کي ملکيت نہ ہو جيسے کہ وہ وقف عام کے مال سے ہو تو اس سے حاصل
ہونے والے فائدے ميں خمس نہيں ہے۔
س٩٦٦۔ بارہ مومنين نے يہ طے کياہے کہ ان ميں ہر ايک ہر ماہ خاص فنڈ ميں
بيس دينار جمع کرے گا اور ہر مہينے ان ميں سے ايک نفر ، اس رقم کو لے
کر اپنے خاص ضروريات کے لئے صرف کرے گا اور جب آخري شخص کا نمبر آئے گا
تو وہ بارہ مہينے کے بعد رقم لے گا جس ميں اس مدت ميں اس کي دي ہوئي
رقم مثلاً ٢٤٠ دينار بھي ہوں گے تو کيا اس شخص کي اپني رقم پر بھي خمس
واجب ہوگا يا اس رقم کا شمار اس کے اخراجات ميں کيا جائے گا؟ اور اگر
خمس کے حساب کے لئے اس کي تاريخ معين ہو ، اور اس نے جو رقم لي ہے اس
ميں سے معين تاريخ کے بعد کچھ رقم باقي ہے ، تو کيا اس شخص کے لئے جائز
ہے کہ اس رقم کے لئے دوسري مستقل تاريخ رکھے تاکہ وہ اس تاريخ پر اس کے
خمس سے بري الذمہ ہوجائے؟
ج۔فنڈ ميں جمع شدہ رقم اگر اس کے سال کے منافع ميں سے ہے اور اب جو رقم
اس سال کے خرچ کے لئے لي ہے اگر وہ اسي سال کے منافع سے ہے جس کو اس نے
جمع کيا ہے تو اس پر خمس نہيں ہے ليکن اگر اس نے گذشتہ سال کے منافع
ميں سے جمع کيا ہے تو جو رقم اخراجات کے لئے لي ہے اس کا خمس نکالنا
واجب ہے اور اگر وہ منافع دونوں سال کا ہو تو ہر سال کے منافع کا اپنا
حکم ہوگا۔ ليکن اس نے جو رقم لي ہے اگر وہ اس سال کے اخراجات سے زائد
ہو تو اس کے لئے جائز نہيں ہے کہ وہ خمس سے بچنے کے لئے اضافي مقدار کي
خاطر مستقل تاريخ خمس مقرر کرے بلکہ اس کے لئے ضروري ہے کہ وہ پورے سال
کي آمدني کے خمس کے لئے ايک تاريخ معين کرے اور اخراجات سے جو بچ جائے
اس تاريخ ميں اس کا خمس نکال دے۔
س٩٦٧۔ مين نے رہن پر کرايہ کا مکان ليا ہے اور بطور رہن ( مالک مکان
کو) ايک رقم دي ہے ، کيا مجھ پر ايک سال کے بعد بطور رہن دي جانے والي
رقم کا خمس واجب ہوگا؟
ج۔ اگر وہ ( رقم) منفعت ميں سے ہو تو مالک مکان کے لوٹانے کے بعد اس
رقم پر خمس ہوگا۔
س٩٦٨۔ آبادکاري کے لئے ايک خطير رقم کي ضرورت ہوتي ہے اور اس کو يکمشت
دينا ہمارے لئے مشکل ہے۔ لہذا اس کام کو انجام دينے کے لئے ہم لوگوں نے
ايک فنڈ قائم کيا ہے اور اس ميں ہ رمہينے کچھ رقم جمع کرتے ہيں اور رقم
جمع ہونے کے بعد اسے آبادکاري ميں صرف کرتے ہيں، کيا جمع شدہ رقم ميں
خمس ہے؟
ج۔ ہر شخص کي جانب سے دي جانے والي رقم اگر آبادکاري ميں خرچ کي جانے
تک اس کي ملکيت ميں رہے اور خمس کا سال پورا ہونے تک اسے فنڈ کے کھاتے
سے واپس لينا ناممکن ہو تو اس پر خمس واجب ہے۔
س٩٦٩۔ چند سال پہلے ميں نے اپنے مال کا حساب کيا اور خمس کي تاريخ مقرر
کردي ، ميرے پاس نقد رقم اور موٹر سائيکل کے علاوہ خمس نکالي ہوئي ٩٨
بھيڑ بکرياں تھيں ليکن چند سال سے ميري بھيڑ بکرياں بيچنے کي وجہ سے کم
ہوگئي ہيں ليکن نقدي ميں اضافہ ہوگيا ہے۔ اس وقت ميرے پاس ٦٠ بھيڑ
بکرياں ہيں اور اس کے علاوہ نقد رقم ہے، پس کيا اس مال کا خمس نکالنا
مجھ پر واجب ہے يا صرف اضافي مال کا خمس نکالنا ہوگا؟
ج۔ اگر موجودہ بھيڑ بکريوں کي مجموعي قيمت اور نقدي مال کي مقدار اور
٩٨ بھيڑ بکريوں کي کل قيمت اور خمس دئے ہوئے مال کے مجموعہ سے زيادہ ہو
تو اب زائد پر خمس ہے۔
س٩٧٠۔ ايک شخص کے پاس ايک ملکيت ( گھر يا زمين) ہے جس پر خمس ہے، تو
کيا وہ اس کا خمس اپنے سال کي منفعت سے ادا کرسکتا ہے يا واجب ہے کہ
پہلے وہ منفعت کا خمس نکال ڈالے پھر اس خمس نکالي ہوئي رقم سے اس ملکيت
کا خمس اد اکرے؟
ج۔ اگر سال کي منفعت کا خمس نکالنا چاہتا ہے تو واجب ہے کہ اس کا بھي
خمس نکالے۔
س٩٧١۔ ہم نے شہيدوں کے بچوں کے لئے کچھ شہيدوں کا کارخانوں ، زرعي
زمينوں اور بنياد شہدائ سے ملنے والے وظيفہ سے کچھ مال جمع کيا ہے جس
سے بعض اوقات ان کي ضرورتوں کو پورا کيا جاتا ہے۔ براہ کرم يہ فرمائيے
کہ کيا ان منافع اور ماہانہ جمع شدہ رقم پر خمس واجب ہے يا ان لوگوں کے
بڑے ہونے تک انتظار کيا جائے گا؟
ج۔ شہدائ کي اولاد کو ان کے باپ کي طرف سے جو چيزيں ميراث ميں ملي ہيں
يا جو بنياد شہيد کي طرف سے انہيں ديا گيا ہے ان ميں خمس واجب نہيں ہے،
ليکن ارث ميں يا بنياد شہيد کي طرف سے ہديہ ملنے والے مال سے حاصل ہونے
والے منافع کا اگر وہ ان کے بالغ ہونے تک ان کي ملکيت ميں رہيں تو خمس
نکالنا احتياط واجب ہے۔
س٩٧٢۔ کيا نفع کمانے اور تجارت ميں جو مال انسان لگاتا ہے اس ميں خمس
ہے؟
ج۔ اگر اصل سرمايہ کاروبار سے حاصل ہوا ہو تو اس ميں خمس ہے ، ليکن نفع
کمانے ميں جو مال اصل سرمايہ سے خرچ ہوتاہے جيسے ذخيرہ کرانے، مزدوري ،
وزن کرانے اور دلالي وغيرہ تو ان سب کو تجارت کے منافع سے منہا کرليا
جائے گا اور ان ميں خمس نہيں ہے۔
س٩٧٣۔ اصل مال اور اس کے منافع ميں خمس ہے يا نہيں؟
ج۔ اگر اصل مال کو انسان نے کسب ( تنخواہ وغيرہ سے) حاصل کيا ہو تو اس
ميں خمس ہے صرف جو مال منافع تجارت سے حاصل ہو تو اس ميں سال کے خرچ سے
زائد پر خمس واجب ہے۔
س٩٧٤۔ اگر کسي کے پاس سونے کے سکے ہوں اور وہ نصاب تک پہنچ جائيں تو
کيا اس پر زکوٰۃ کے علاوہ خمس بھي ہوگا؟
ج۔ اگر اسے کاروباري منافع ميں شمار کيا جاتا ہو تو وجوب خمس کے سلسلے
ميں اس کا وہي حکم جو دوسرے منافع کا ہے۔
س٩٧٥۔ ميري زوجہ اور ميں وزارت تعليم ميں کام کرتے ہيں اور وہ اپني
تنخواہ ہميشہ مجھے ھبہ کرديتي ہے اور ميں نے وزارت تعليم ميں کام کرنے
والوں کي زرعي سوسائٹي ميں ايک رقم لگادي ہے اور ميں خود بھي اس کا
ممبر ہوں ليکن مجھے يہ معلوم نہيں کہ وہ رقم ميري تنخواہ سے تھي يا
ميري اہليہ کي تنخواہ سے تھي يہ جانتے ہوئے کہ ميري اہليہ کي جمع شدہ
تنخواہ کي رقم اس مقدار سے کم ہے جتنا وہ ہر سال مجھ سے ليتي ہے ، تو
کيا اس مبلغ ميں خمس ہے يا نہيں؟
ج۔ جمع شدہ مال جو آپ کي تنخواہ کاہے اس ميں خمس ہے اور جو آپ کي اہليہ
نے آپ کو ہبہ کيا ہے اس ميں خمس واجب نہيں ہے، اسي طرح جس مال ميں شک
ہو کہ وہ آپ کا ہے يا آپ کي اہليہ نے ہبہ کيا ہے اس کا خمس نکالنا بھي
واجب نہيں ہے ليکن احوط يہي ہے کہ اس کا خمس نکالا جائے يا تھوڑا مال
دے کر خمس کے بارے ميں ( حاکم شرع سے) مصالحت کي جائے۔
س٩٧٦۔جو رقم بینک ميں دوسال کیلئے بطور قرض الحسنہ موجود تھي کیا اس
ميں خمس ہے ؟
ج۔ سال کے منافع ميں سے جو مقدار جمع ہو اس ميں ايک مرتبہ خمس ہے اور
بينک ميں قرض الحسنہ کے طور پر جمع کرنے سے خمس ساقط نہيں ہوتا ۔ البتہ
جب تک قرض لينے والے سے وہ رقم نہ مل جائے اس پر خمس واجب نہيں ہے۔
س٩٧٧۔ ايک شخص اپنے يا اپنے ( زير کفالت) عيال کے خرچ ميں سے کٹوتي
کرتا ہے تاکہ کچھ مال جمع کرسکے يا کچھ رقم قرض ليتا ہے تاکہ اپني
زندگي کي پريشانيوں کو دور کرسکے، پس اگر خمس کي تاريخ تک جمع شدہ مال
يا قرض لي ہوئي رقم باقي رہ جائے تو کيا اس پر خمس ہوگا؟
ج۔ جمع شدہ منفعت اگر خمس کي تاريخ تک رہ جائے تو اس ميں ہر حال ميں
خمس واجب ہوگا، قرض لينے والے پر قرض کا خمس واجب نہيں ہے ليکن قرض کو
سال کے منافع ميں سے قسط وار ادا کرے اور قرض کا عين مال خمس کي تاريخ
کے وقت اس کے پاس موجود ہو تو اس کا خمس دينا واجب ہے۔
س٩٧٨۔ دو سال پہلے مکان بنانے کے لئے ميں نے تھوڑي سي زمين خريدي تھي،
اگر ميں مکان کي تعمير کے لئے ( روزانہ کے خرچ سے بچا کر) کچھ مال جمع
کروں ، تو کيا سال کے آخر ميں اس ( جمع شدہ) رقم ميں خمس ہے؟ جبکہ ميں
کرايہ کے مکان ميں رہتا ہوں؟
ج۔ اگر اس رقم کو سال کے منافع ميں سے جمع کيا ہو يہاں تک کہ خمس کي
تاريخ آگئي ہو تو اس ميں خمس واجب ہے ، ليکن سال کے داخل ہونے سے پہلے
اگر اس رقم کو مکان کے لوازمات ميں تبديل کرديا جائے تو اس پر خمس نہيں
ہے۔
س٩٧٩۔ ميں شادي کرنا چاہتاہوں اور مالي ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے
ميںنے اپني رقم ايک شخص کے پاس بطور بيع شرط رکھا ہے ، اور اس وقت مالي
ضرورت کے پيش نظر جب کہ ميں کالج کا ايک طالب علم ہوں، کيامسئلہ خمس
ميں مصالحت کا امکان ہے؟
ج۔ اگر مذکورہ مال آپ کے منافع کسب ميں سے تھا تو سال خمس کے پورا ہونے
پر اس کا خمس نکالنا واجب ہے۔ اور خمس نکالنا يقيني ہو تو اس ميں
مصالحت نہيں ہوسکتي۔
س٩٨٠۔ گذشتہ سال حج کميٹي نے حاجيوں کے قافلوں کے تمام سامان اور اسباب
ان سے خريد لئے اور ميں نے اس سال گرمي ميں اپنے سامان کي قيمت ٣ لاکھ
٢١ ہزار تومان وصول کي۔ اس کے علاوہ ميں نے گذشتہ سال اسي ہزار تومان
لئے تھے۔ اس بات کے پيش نظر کہ ميں نے خمس کي تاريخ معين کردي ہے اور
خرچ سے بچے ہوئے مال پر ہر سال خمس ديتاہوں ، نيز يہ کہ مذکورہ چيزيں
ميري ضرورت کي تھيں، کيا اس وقت اس رقم ميں خمس نکالنا واجب ہے ؟ جبکہ
اس وقت ان کي قيمتوں ميں بہت زيادہ اختلاف ہوچکا ہے؟
ج۔ مذکورہ سامان اگر مخمس مال سے خريدا گيا تھا توبيچنے کے بعد ان کي
قيمتوں ميں خمس نہيں ہے، ورنہ اس کا خمس نکالنا واجب ہے۔
س٩٨١۔ ميں ايک دوکاندار ہوں اور ہر سال نقد مال اور سامان کا حساب کرتا
ہوں۔ بعض چيزيں ايسي ہوتي ہيں جو سال کے آخر تک فروخت نہيںہو پاتيں تو
کيا سا ل کے آخر ميں ان کو بيچنے سے پہلے ان کا خمس نکالنا واجب ہے يا
يہ کہ اس کو بيچنے کے بعد اس کا خمس نکالنا واجب ہے؟ اور اگر ان چيزوں
کا خمس دے ديا ہو اور پھر انہيں فروخت کيا ہو تو اگلے سال ان کا کس طرح
حساب کروں گا؟ اور اگر انہيں نہ بيچا ہو اور ان کي قيمت ميں فرق آگيا
ہو تو اس کا کيا حکم ہے؟
ج۔ جن چيزوں کو نہيں بيچا ہے اور نہ اس سال انہيں کوئي خريدنے والا ہے
تو ان کي بڑھي ہوئي قيمتوں پر خمس نکالنا واجب نہيں ہے بلکہ آئندہ بيچ
کر حاصل ہونے والا منافع اس سال کا شمار ہوگا جس سال اسے فروخت کيا
ہے،اور اگر جن چيزوں کي قيمتيں بڑھيں تھيں اور ان کا مشتري بھي اس وقت
موجود تھا ليکن زيادہ ( منافع) کي خاطر آپ نے اسے سال کے آخر تک نہيں
بيچا تو سال کے داخل ہوتے ہي ان کي بڑھي ہوئي قيمت کا خمس نکالنا واجب
ہے۔
س٩٨٢۔ ايک مکان تين منزلوں پر مشتمل ہے اور مکان کي سند ( قانوني
کاغذات) کي رو سے وہ ١٩٧٣ سے چار افراد کي درج ذيل تفصيل سے ملکيت ميں
ہے:
پورے گھر کے پانچ حصوں ميں سے تين حصے تين اولاد کي ملکيت ميں ہيں اور
دو حصے ان کے والدين کے ہيں، اور ايک طبقہ پر اولاد ميں سے کوئي ايک
رہتا ہے اور دوسري دو منزلوں پر ان کے مالکوں کي مالي ضرورت کو پورا
کرنے کے لئے دو کرايہ دار رہتے ہيں ، اور يہ جانتے ہوئے کہ ان دو
مالکوں ميں سے ايک کے پاس اس گھر کے علاوہ دوسرا گھر نہيں، کيا ان
دونوں منزلوں پر خمس واجب ہے؟ اور کيا يہ ان دونوں منزلوں کي آمدني سال
کے خرچ ميں شمار ہوگي؟
ج۔ معيشت چلانے کے لئے مذکورہ گھر کا جو حصہ کرايہ پر ديا گيا ہے اس کا
حکم اصل مال کا حکم ہے، پس اگر وہ کاروبارہ فائدے ميں شمار ہوتا ہو تو
اس ميں خمس ہے اور اگر وہ ارث ميں ملا ہو يا ہبہ کے طور پر ملا ہو تو
اس ميں خمس نہيں ہے۔
٩٨٣۔ ايک شخص کے پاس ايسا گيہوں تھا جس کا خمس دے چکا ہے اور جب وہ (
دوسري فصل کے لئے) گيہوں بو رہا تھا تو اسي مخمس گيہوں کو صرف کرتا رہا
، پھر وہ اس ( خمس دئيے ہوئے گيہوں) کي جگہ نئے گيہوں کو رکھتا رہا اس
طرح کئي سال گذر گئے تو کيا اس نئے گيہوں پر خمس ہوگا جنہيں استعمال کے
لئے گيہوں کي جگہ رکھتا تھا ؟ اور ايسا ہونے کي صورت ميں کيا سب پر خمس
ہوگا؟
ج۔ جب اس نے خمس دئيے ہوئے گيہوں کو صرف کيا تو اس کے لئے درست نہيں
تھا کہ نئے گيہوں کو الگ کرے تاکہ اس طرح وہ مقدار خمس کے حکم سے
مستثنيٰ ہو۔ پس جدا کئے ہوئے نئے گيہوں کو اگر سال کے اخراجات ميں صرف
کيا ہے تو اس ميں خمس نہيں ہے اور اس ميں سے جو سال تک بچ جائے اس ميں
خمس واجب ہے۔
س٩٨٤۔ بحمد اللہ ميں ہر سال اپنے مال کا خمس نکالتا ہوں ليکن خمس کا
حساب کرتے وقت ہميشہ مجھ کو شک ہوتا ہے پس اس شک کا کيا حکم ہے؟ اور
کيا واجب ہے کہ اس سال سارے نقد مال ميں حساب کروں اس سلسلے ميں شک کا
کوئي اعتبار نہيں کيا جائے گا؟
ج۔ اگر آپ کا شک گذشتہ برسوں کي منفعت کے حساب کے صحيح ہونے کے بارے
ميں ہے تو ا س کا کوئي اعتبار نہيں کيا جائے گا اور دوسري مرتبہ اس کا
خمس نکالنا واجب نہيں ہے ليکن اگر آپ کو آمدني کے بچے ہوئے مال ميں اس
بارے ميں شک ہو کہ يہ اس سال کا ہے جس ميں خمس ديا جاچکا ہے يا اس سال
کا کہ جس کا خمس نہيں ديا ہے ، تو اس صورت ميں آپ پر اس کا خمس نکالنا
واجب ہے مگر اس بات کا يقين ہوجائے کہ اس کا خمس پہلے نکالا جاچکا تھا۔
س٩٨٥۔ ميں نے بالفرض مخمس مال سے دس ہزار تومان ميں ايک قالين خريدا
اور کچھ دنوں کے بعد اسے ١٥ ہزار تومان ميں بيچ ديا تو کيا ٥ ہزار
تومان کہ جو مخمس مال سے زيادہ ہيں ، کاروبار کے منافع ميں شمار ہوں گے
اور ان پر خمس ہوگا؟
ج۔ اگر اسے بيچنے کے ارادے سے خريدا تھا تو خريد سے زيادہ وصول ہونے
والي رقم منفعت ميں شمار ہوگي اور اگر سال کے آخر ميں اس ميں کچھ بچ
جائے تو اس پر خمس واجب ہوگا۔
س٩٨٦۔ جو شخص اپنے منافع ميں سے ہر منفعت کے لئے خمس کي ( جدا) تاريخ
معين رکھتا ہے ہو کيا اس کے لئے جائز ہے کہ اس منفعت کا خمس جس کي
تاريخ آگئي ہے ، ان منافع سے دے جن کي تاريخيں نہيں آئي ہيں؟ اور جن
منافع کے بارے ميں جانتا ہو کہ يہ منافع آخر سال تک باقي رہيں گے اور
زندگي کے اخراجات ميں صرف نہيں ہوں گے تو اس صورت ميں کيا حکم ہے؟
ج۔اگر يہ جائز بھي ہو کہ ہر آمدني کے لئے خمس کي مستقل تاريخ رکھي جائے
تو بھي يہ جائز نہيں کہ ايک کاروبار کے منافع کا خمس ديا جاچکا ہو اور
جو منافع سال کے آخر تک خرچ نہ ہوں ان ميں اختيار ہے کہ ان کے حصول کے
بعد ہي خمس دے دے يا سال کے ختم ہونے کا انتظار کرے۔
س٩٨٧۔ ايک شخص کے پاس دو منزلہ مکان ہے جس کي اوپري منزل ميں وہ خود
رہتا ہے اور نچلي منزل کو ايک شخص کو دے ديا ہے اور چونکہ وہ مقروض
تھااوراس نے اس شخص سے کرايہ لينے کے بجائے قرض لے ليا ہے ، تو کيا اس
رقم ميں خمس ہوگا؟
ج۔ قرض لے کر مفت ميں مکان دينے کي کوئي شرعي حيثيت نہيں ہے ، بہر حال
جس مال کو بطور قرض ليا ہے اس ميں خمس نہيں ہے۔
س٩٨٨۔ ميں نے ادارہ اوقاف سے ايک مکان مطب ( کلينک) کے لئے ماہانہ
کرايہ پر ليا ہے۔ ميري درخواست قبول کرنے کے عوض انہوں نے مجھ سے پگڑي
بھي لي ہے پس کيا اس پگڑي پر خمس ہے؟ واضح رہے کہ اس وقت مذکورہ رقم
ميري ملکيت سے خارج ہوچکي ہے اور وہ مجھے کبھي نہيں ملے گي؟
ج۔ اگر يہ رقم پگڑي کے طور پر دي گئي ہے اور سال بھر کے بچے ہوئے مال
سے اس کا تعلق تھا تو اس کا خمس دينا واجب ہے۔
س٩٨٩۔ ايک شخص نے بنجر زمين کو آباد کرنے اور اس ميں پھل دار درخت
لگانے کے لئے تاکہ ان کے پھلوں سے مستفيد ہوسکے، ايک کنواں کھودا اور
اس بات کو مد نظر رکھتے ہوئے کہ يہ درخت سالہا بعد پھل ديتے ہيں اور ان
پر کافي سرمايہ خرچ ہوتا ہے ، اس شخص نے اب تک ايک ملين تومان سے زيادہ
ان پر خرچ کيا ہے ليکن اب تک اس نے خمس کا حساب نہيں کيا، اب جب اس نے
خمس ادا کرنے کے لئے اپنے اموال کا حساب کيا تو معلوم ہوا کہ کنويں ،
زمين اور باغ کي قيمت شہروں کي آبادي بڑھ جانے کي وجہ سے لگائي گئي رقم
کا کئي گنا ہوگئي ہے۔ پس اگر اسے موجودہ قيمت کا خمس ادا کرنے کي تکليف
دي جائے تو اس ميں اس کي استطاعت نہيں ہے، اور اگر اسے خود زمين اور
باغ کا خمس دينے کي تکليف دي جائے تو اس سے وہ مشکلوں ميں مبتلا ہوگا
کيونکہ اس سلسلہ ميں اس نے اس اميد پر خود مشقت اٹھائي کہ وہ اپنے معاش
اور اپنے عيال کے اخراجات کو باغ کے پھلوں سے پورا کرے گا پس اس کے
اموال سے خمس نکالنے کے بارے ميں اس کيا کيا فريضہ ہے؟ اور اس پر جو
خمس ہے اس کا وہ کس طرح حساب کرے کہ اس کے لئے اس کا ادا کرنا آسان
ہوجائے گا؟
ج۔ جس بنجر اور غير آباد زمين کو اس نے باغ بنانے اور اس ميں پھل دار
درخت لگانے کے لئے آباد کيا ہے اور اس کا اس کي آبادکاري پر ہونے والے
اخراجات کو الگ کرکے خمس دينا ہوگا اوراس سلسلہ ميں اسے اختيار ہے کہ
وہ خود زمين کا خمس دے يااس کي موجودگي قيمت کے لحاظ سے خمس نکالے ليکن
کنويں، پائپ ، واٹر پمپ ، نلکے اور درختوں وغيرہ پر جو پيسہ خرچ ہوا ہے
اسے اگر اس نے قرض ليا ہو يا ادھا ر حاصل کيا ہو اور پھر اس ادھار کو
غير مخمس مال سے ادا کياہو تو اسے صرف اس رقم کا خمس دينا پڑے گا جو اس
نے قرض ميں ادا کيا ہے ليکن اگر اس نے اسے غير مخمس مال سے حاصل کيا ہے
توموجودہ قيمت کے لحاظ سے اس کا خمس دينا ہوگا پس اگر اس خمس کو جو کہ
اس پر واجب ہے ايک مرتبہ ادا نہيں کرسکتا ہے تو ہمارے کسي وکيل سے
مصالحت کرکے خمس کي رقم کو جتني مقدار و مدت معين کي جائے اس ميں رفتہ
رفتہ اد اکرے۔
س٩٩٠۔ خمس ادا کرنے کے لئے ايک شخص کے پاس سال بھر کا حساب نہيں ہے اور
اب وہ خمس نکالنا چاہتا ہے اور شادي سے آج تک وہ مقروض چلا آرہا ہے پس
اپنے خمس کا وہ کيسے حساب کرے؟
ج۔ اگر ماضي سے آج تک اس کے پاس اس کے اخراجات کے بعد کچھ بچت نہيں ہے
تو خمس نہيں ہے۔
س٩٩١۔ موقوفہ اشيائ اور زمين کے منافع اور محصول پر خمس و زکوٰۃ کا کيا
حکم ہے؟
ج۔ موقوفہ چيزوں پر مطلقاً خمس نہيں ہے خواہ وہ وقف خاص ہي کيوں نہ ہو
اور نہ ان کے فوائد خمس ہے اور نہ ہي وقف عام ميں موقوف عليہ کے قبضہ
کرنے سے اس قبل اس کے محصول ميں زکوٰۃ ہے۔ ليکن قابض ہونے کے بعد وقف
کے محصول پر زکوٰۃ واجب ہے، بشرطيکہ اس ميں زکوٰۃ کے شرائط پائے جاتے
ہوں ، ليکن وقف خاص کے محصول ميں جس شخص کے حصہ کا محصول حد نصاب تک
پہونچ جائے تو اس پر اس کي زکوٰۃ دينا واجب ہے۔
س٩٩٢۔ کيا چھوٹے بچوں کي کمائي ميں بھي سہم سادات کثرھم اللہ تعاليٰ ،
اور سہم امام ٴ ہے؟
ج۔ احتياط واجب ہے کہ وہ بالغ ہونے کے بعد اپني اس کمائي کے منافع کا
خمس ادا کريں جو بلوغ سے قبل کي تھي بشرطيکہ بالغ ہونے تک وہ ان کي
ملکيت ميں رہے۔
س٩٩٣۔ کيا ان آلات پر بھي خمس ہے جو کاروبار ميں استعمال ہوتے ہيں؟
ج۔ کاروبار کے وسائل اور آلات کا حکم وہي ہے جو وجوب خمس ميں راس المال
کا حکم ہے۔
س٩٩٤۔ چند سال قبل ہم نے حج بيت اللہ جانے کي غرض سے بينک ميں کچھ پيسے
جمع کئے مگر ابھي تک ہم حج کے لئے نہيں جاسکے اور يہ ياد نہيں کہ ماضي
ميں ہم نے اس پيسہ کا خمس نکالا تھا يا نہيں۔ کيا اب اس پر خمس دينا
واجب ہے؟ اور حج پر جانے کي نام نويسي کے لئے ہم جو پيسہ جمع کيا تھا
اس کو کئي سال ہوگئے ہيں کيا اس پر بھي خمس واجب ہے يا نہيں؟
ج۔ حج کے لئے اسم نويسي کے سلسلہ ميں جو پيسہ آپ نے جمع کيا تھا اگر وہ
آپ کي سال بھرکي کمائي ميں سے تھا يا جمع کرتے وقت وہ اس قول و قرار کے
تحت کہ وہ آنے جانے کے اخراجات اور وہاں کي خدمات کي قيمت يا اجرت کے
لئے ہے، جو آپ کے اور ادارہ حج و زيارت کے درميان ہوا تھا تو اس کا خمس
دينا آپ پر واجب نہيں ہے۔
س٩٩٥۔ جن ملازمت پيشہ لوگوں کے خمس کے سال کا پہلا دن بارہويں مہينے کا
آخري دن ہو اور وہ سال کا پہلا مہينہ شروع ہونے سے پانچ روز قبل ہي
اپني تنخواہ لے ليں تاکہ اسے آنے والے سال کے آغاز ميں خرچ کريں تو کيا
اس کا خمس دينا واجب ہے؟
ج۔ جو تنخواہ انہوں نے سال ختم ہونے سے قبل ہي لے لي ہے، اس ميں سے خمس
والے سال کے آخر تک جتني مقدار خرچ نہيں ہوئي ہے اس پر خمس ہے۔
س٩٩٦۔ يونيورسٹيوں کے اکثر طلبہ غير متوقع مشکلوں کو حل کرنے کے لئے
اپني زندگي کے اخراجات ميں ميانہ روي سے کام ليتے ہيں لہذا ان کے پاس
پيسہ وافر مقدار ميں جمع رہتا ہے۔
سوال يہ ہے کہ :اس بات کو مد نظر رکھتے ہوئے کہ يہ مال قناعت اور وزارت
تعليم کے وظيفہ سے حاصل ہوتا ہے تو کيا ان اموال پر خمس ہے؟
ج۔ وظيفہ اور تعليمي امداد پر خمس نہيں ہے۔
خمس کے حساب کا طريقہ
س٩٩٧۔ اگر خمس ادا کرنے ميں آنے والے سال تک تاخير ہوجائے تو اس کا کيا
حکم ہے؟
ج۔ حکم يہ ہے کہ خمس ادا کيا جائے چاہے آئندہ سال ہي کيوں نہ ہو ليکن
خمس کے سال کے داخل ہونے کے بعد اس مال ميں تصرف کا حق نہيں ہے جس کا
خمس ادا نہيں کيا ہے اور اگر خمس دينے سے قبل اس سے کوئي چيز يا زمين
وغيرہ خريد لي تو خمس کي مقدار کے معاملے ميں ولي امر خمس کي اجازت کے
بعد اس ملکيت يا زمين کي موجودہ قيمت کے مطابق حساب کرے اور اس کا خمس
ادا کرے۔
س٩٩٨۔ ميں ايسے مال کا مالک ہوں جس کا کچھ حصہ نقد کي صورت ميں اور کچھ
قرض حسنہ کي شکل ميںديگر اشخاص کے پا س ہے، دوسري طرف ميں مکان کي خاطر
زمين خريدنے کي وجہ سے مقروض ہوں اور اس زمين کي قيمت سے متعلق ايک
نقدي چيک ہے جس کو مجھے چند ماہ تک ادا کرنا ہے پس کيا ميں موجودہ رقم
( نقد و قرض حسنہ) ميں سے زمين کا قرض نکال کر باقي رقم کا خمس دے سکتا
ہوں؟ اور کيا اس زمين پربھي خمس ہے جس کو رہائش کے لئے خريدا ہے؟
ج۔ آپ کو خمس کا سال شروع ہوجانے کے بعد سال بھر کے منافع ميں سے اس
قرض کو دے سکتے ہيں جس کا چند ماہ بعد اد اکرنا ضروري ہے ليکن اگر آپ
نے اس پيسے کو سال کے دوران قرض ميں ادا نہيں کيا يہاں تک کہ خمس کا
سال آگيا تو اسکے بعد آپ قرض کو اس سے جدا نہيں کرسکتے بلکہ پورے مال
کا خمس دينا واجب ہے ۔ ليکن آپ نے جو زمين رہائش کے لئے خريدي ہے اگر
آپ کو اس کي ضرورت ہے تو اس پر خمس نہي ہے۔
س٩٩٩۔ ميں نے ابھي تک شادي نہيں کي ہے تو کيا مستقبل ميںاپني ضرورتوں
کو پورا کرنے کے لئے ميں موجودہ مال سے کچھ ذخيرہ کرسکتا ہوں؟
ج۔ اگر آپ نے سال بھر کے نفع سے ذخيرہ کيا يہاں تک خمس کي تاريخ آگئي
تو آپ پر اس کا خمس نکالنا واجب ہے خواہ وہ پيسہ مستقبل ميں شادي ميں
خرچ کرنے کے لئے کيوں نہ رکھا ہو۔
س١٠٠٠۔ ميں نے سال کے دسويں مہينے کي آخري تاريخ کو خمس نکالنے کے لئے
مقرر کيا ہے۔ پس ميري دسويں مہينے کي تنخواہ اس ماہ کے آخر ميںملتي ہے
۔ کيا اس پر بھي خمس ہے؟ اور اگر ميں تنخواہ لينے کے بعد کچھ پيسہ اپني
زوجہ کو ہديہ کردوں جس کو ہر مہينے جمع کرتا ہوں۔ تو کيا اس پر بھي خمس
ہے؟
ج۔ جو تنخواہ آپ نے خمس کي تاريخ آنے سے پہلے لي ہے يا خمس کي تاريخ سے
ايک دن پہلے جس تنخواہ کو لے سکتے ہيں اس ميں سے اگر سال کے خرچ سے کچھ
بچ جائے تو اس کا خمس ادا کرنا واجب ہے ليکن جو پيسہ آپ نے اپني زوجہ
يا کسي دوسرے شخص کو ہديہ کرديا ہے اگر خمس سے بچنے کي غرض سے ايسا نہ
کيا ہو اور وہ عرف عام ميں آپ کي حيثيت کے مطابق بھي ہو تو اس پر خمس
نہيں ہے۔
س١٠٠١۔ ميرے پاس کچھ مال يا پونجي ايسي ہے جس کا خمس ديا جا چکا ہے اسے
ميں خرچ کرنا چاہتا ہوں ۔ کيا سال کے آخر ميں جب مال کے خمس کا حساب
ہوگا ميں سال بھر کے منافع ميں سے کچھ مقدار مال کو اس خرچ شدہ مخمس
مال کے بدلے خمس سے الگ کرسکتا ہوں؟
ج۔ سال بھر کے منافع ميں سے کوئي بھي چيز مخمس مال کے بدلے خمس سے الگ
نہيں کرسکتے۔
س١٠٠٢۔ اگر وہ مال جس پر خمس نہيں ہے جيسے انعام وغيرہ اصل مال سے
مخلوط ہوجائے تو کيا خمس کي تاريخ ميں اسے الگ کرکے باقي مال کا خمس
نکال سکتے ہيں؟
ج۔ اس کے جدا کرنے ميں کوئي مانع نہيں ہے۔
س١٠٠٣۔ تين سال قبل ميں نے اس پيسہ سے دوکان کھولي جس کا خمس ديا جاچکا
ہے اور ميرے خمس کي تاريخ شمسي سال کي آخري تاريخ ہے، يعني عيد نوروز
کي شب، اور آج تک جب بھي ميرے خمس کي تاريخ آتي ہے تو ميں ديکھتا ہوں
کہ ميرا تمام سرمايہ قرض کي صورت ميں لوگوں کے ذمہ ہے اور ميں خود
بھاري رقم کا مقروض ہوں ۔ اميد ہے کہ ہماري تکليف بيان فرمائيں گے؟
ج۔ اگر خمس کي تاريخ کے وقت نہ آپ کے راس المال ميں سے کچھ ہو اور نہ
منافع سے ، يا يہ کہ کل نقد رقم اور دوکان ميں موجود مال اس مال کے
برابر ہو جس کا آپ خمس دے چکے ہيں تو آپ پر خمس واجب نہيں ہے ليکن جو
اجناس آپ نے ادھار پر فروخت کي ہيں، ان کا اس سال کے منافع ميں حساب
ہوگا جس سال ان کي قيمت آپ وصول کريں۔
س١٠٠٤۔ جب خمس کي تاريخ آتي ہے تو ہمارے لئے دوکان ميں موجود مال کي
قيمت کا اندازہ لگانا مشکل ہوتا ہے ۔ پس کس طريقے سے اس کا حساب لگانا
واجب ہے؟
ج۔ جس طرح بھي ہوسکے خواہ تخمينہ کے ذريعہ ہي بہر حال دوکان ميں موجود
مال کي قيمت کا تعيين واجب ہے تاکہ سال بھر کے اس منافع کا حساب ہوجائے
جس کا خمس نکالنا آپ پر واجب ہے۔
س١٠٠٥۔ اگر ميں چند سال تک خمس کا حساب نہ کروں يہاں تک کہ ميرا مال
نقد بن جائے اور اصلي پونجي ميں اضافہ ہوجائے تو اگر ميں سابقہ اصل
سرمايہ کي علاوہ جو مال ہے اس کا خمس نکالوں تو کيا اس ميں کوئي اشکال
ہے؟
ج۔ اگر خمس کي تاريخ آنے تک آپ کے اموال ميں کچھ خمس تھا، اگرچہ کم ہي
سہي تو جب تک آپ اپنے اموال کا حساب نہيں کريں گے اور جب تک وہ خمس ادا
نہيں کريں گے اس وقت تک آپ کو اپنے اموال ميں تصرف کا حق نہيں ہوگا اور
اگر آپ نے اس کا خمس دينے سے قبل خريد و فروخت کے ذريعہ اس ميں تصرف
کيا تو اس ميں موجود خمس کي مقدار کے برابر معاملہ فضولي ہوگا۔ اور ولي
خمس کي اجازت پر موقوف رہے گا۔ اور اجازت کے بعد پہلے آپ پر کل خمس
دينا واجب ہے اور بعد ميں دوسرے سال کے اخراجات سے بچ جانے والے پيسہ
کا خمس دينا واجب ہے۔
س١٠٠٦۔ اميد ہے کہ ايسا طريقہ بيان فرمائيں کہ جس سے دوکاندار کے لئے
خمس نکالنا ممکن ہوجائے؟
ج۔ پہلے خمس کے سال کے آغاز ميں موجود مال و نقد کا حساب کريں اور اس
کا اصلي مال سے موازنہ کريں اگر اصلي پونجي سے زيادہ نکلے تو اسے منافع
سمجھا جائے گا اور اس پر خمس ہے۔
س١٠٠٧۔ گذشتہ سال ميں نے سال کے تيسرے مہينے کي پہلي تاريخ کو اپنے خمس
کي تاريخ مقرر کيا تھا اور يہ وہ تاريخ ہے جس ميں ، ميں نے اس فائدے کے
خمس کا حساب کياتھا جو مجھے بينک کے حساب سے ملا تھا باوجوديکہ ميں اس
سے قبل اس فائدہ کا مستحق تھا مگر ميں اس مال سے کام چلا رہا تھا جس پر
خمس نہيں ہے پس سال بھر کے حساب کا يہ طريقہ صحيح ہے؟
ج۔آپ کے خمس کے سال کي ابتدائ وہ دن ہے جس دن پہلي مرتبہ آپ کو وہ
فائدہ ملا جو لينے کے قابل تھا اور خمس کے سال ميں تاخير اس دن سے آپ
کے لئے صحيح نہيں ہے۔
س١٠٠٨۔ چند سال قبل ايک شخص نے کم قيمت پر زمين خريدي اس وقت وہ اپنے
امور کے خمس کا حساب کرنا چاہتا ہے تاکہ پاک ہوجائے۔ کيا اس پر سابقہ
قيمت کے مطابق خمس نکالنا واجب ہے يا موجودہ قيمت کے مطابق جو بہت
زيادہ ہے؟
ج۔ اگر اس نے معاملہ اپنے ذمے غير مشخص قيمت کے عنوان سے کيا ہو تو اسي
قيمت پر خمس ہے ۔ ليکن اگر اس نے خاص مشخص و غير مخمس مال سے زمين
خريدي ہو تو اگر اثنائ سال ميں سال کے منافع سے خريدي ہے تو خود زمين
کا يا اس کي قيمت پر خمس دينا واجب ہے اور اگر خمس کي تاريخ کے بعد سال
کے نفع سے خريدي ہے تو خمس کي مقدار کے برابر معاملہ فضولي ہے اور حاکم
شرعي کي اجازت پر موقوف ہے، پس اگر ولي امر يا اس کا وکيل اس کي اجازت
ديدے تو مکلف پر اس زمين کا يا اس کي موجودہ قيمت کا خمس دينا واجب ہے۔
س١٠٠٩۔ اگر کوئي شخص اپنے مال کے حساب کي تاريخ آنے سے قبل اپني آمدني
کا کچھ حصہ قرض پر ديدے اور خمس کي تاريخ کے چند ماہ بعد اس سے واپس لے
لے تو اس رقم کا کيا حکم ہے؟
ج۔ مفروضہ سوال ميں مقروض سے قرض ليتے وقت اس ميں سے خمس دينا واجب ہے۔
س١٠١٠۔ ان چيزوں کا کيا حکم ہے کہ جن کو انسان اپنے خمس کے سال کے
درميان خريدتا ہے پھر خمس کي تاريخ آنے کے بعد فروخت کرديتا ہے؟
ج۔ اگر انہيں فروخت کرنے کي غرض سے خريدا تھا اور خمس کي تاريخ آنے سے
پہلے ان کا فروخت کرنا ممکن تھا تو اس پر ان کے منافع کا خمس واجب ہے
اور اگر فروخت کرنا ممکن نہيں تھا تو ان کاخمس واجب نہيں ہے اور جب
انہيں فروخت کرے گا تو ان کے بيچنے سے جو فائدہ حاصل ہوگا اس کا فروخت
والے سال کے منافع ميں شمار ہوگا۔
س١٠١١۔ اگر ملازم خمس والے سال کي تنخواہ خمس کي تاريخ آنے کے بعد وصول
کرے تو کيا اس پر اس کا خمس دينا واجب ہے؟
ج۔ اگر آغاز سال ميں تنخواہ کو لے سکتا تھا تو اس کا خمس دينا واجب ہے
اگرچہ اس نے لي نہ ہو ورنہ وصولنے کے سال کے منافع ميں شمار ہوگي۔
س١٠١٢۔ اگر کوئي شخص خمس کي تاريخ آنے پر اتني ہي مقدار کا مقروض ہو
جتنا اس کا نفع ہوا ہے تو کيا اس منافع پر خمس ہے؟
ج۔ اگر وہ قرض اسي سال کے اخراجات سے متعلق ہے تو وہ اس سال کے منافع
سے عليحدہ کيا جائے گا ورنہ مستثنيٰ نہيں ہوگا۔
س١٠١٣۔ سونے کے سکہ کا کيسے خمس ديا جائے جس کي مستقل طور پر قيمت
گھٹتي بڑھتي رہتي ہے؟
ج۔ اگر خمس کے لئے قيمت نکالنا چاہتا ہے تو معيار ادائيگي کے دن کي
قيمت ہے۔
س١٠١٤۔ اگر کوئي شخص اپنے مال کا سالانہ حساب سونے کي قيمت سے کرے
مثلاً جب اس کي کل پونجي سونے کے سو سکہ ( بہار آزادي) کے برابر ہو اور
وہ اس سے بيس سکے نکال دے تو اس کے پاس اسي سکے مخمس بچيں گے اور سال
آئندہ سونے کے سکوں کي قيمت بڑھ جائے۔ ليکن اس شخص کا راس المال اسي
سکوں کي قيمت کے برابر باقي بچے تو اس پر خمس ہے يا نہيں؟ اور کيا اس
بڑھي ہوئي قيمت پر خمس دينا واجب ہے؟
ج۔ مخمس راس المال کے استثنائ کا معيار خود راس المال ہے پس اگر راس
المال کہ جس سے کاروبار ہوتا ہے، بہار آزادي نام کے سونے کے سکے ہيں تو
يہ مخمس سونے کے سکے سالانہ مالي حساب کے وقت مستثنيٰ ہوں گے اگرچہ
ريال کے اعتبار سے ان کي قيمت ميں گذشتہ سال کي نسبت اضافہ ہي ہوا ہو
ليکن اگر اس کا راس المال نقد کاغذي نوٹ ہوں اور خمس کي تاريخ ميں
انہيں سونے کے سکوں کے مساوي حساب کرے اور اس کا خمس ديدے گا تو آئندہ
خمس کي تاريخ ميں سونے کے سکوں کے برابر والي وہ قيمت مستثنيٰ ہوگي جس
کا گذشتہ سال حساب کيا تھا خود سونے کے سکے مستثنيٰ نہيں ہوں گے چنانچہ
سال آئندہ اگر سونے کے سکوں کي قيمت بڑھ جائے تو بڑھي ہوئي قيمت
مستثنيٰ نہيں ہوگي بلکہ اسے منافع ميں شمار کيا جائے گا اور اس پر خمس
واجب ہے۔
مالي سال کي تعيين
س١٠١٥۔ جو شخص اس بات سے مطمئن ہو کہ سال کے آخر تک اس کي سال بھر کي
آمدني ميں سے ايک پيسہ بھي نہيں بچے گا بلکہ جو کچھ اس کمائي اور منافع
ہے وہ درميان سال ہي ميں روٹي اور کپڑے پر خرچ ہوجائے گا تو کيا اس کے
باوجود اس پر خمس کي تاريخ معين کرنا واجب ہے؟اور کيا آغاز سال کا تعين
واجب ہے؟ اور اس شخص کا کيا حکم ہے جو اپنے اس اطمينان کي بنا پر کہ اس
کے پاس زيادہ پيسہ نہيں ہے ، خمس کے سال کا تعين نہيں کرتا ہے؟
ج۔ خمس کے سال کي ابتدائ مکلف کي تعين و حد بندي سے نہيں ہوتي ہے بلکہ
وہ ايک امر واقعي ہے جس کا آغاز ہر شخص کي کمائي کے آغاز کے ساتھ ہي
ہوجاتا ہے۔ مثلاً جو شخص زراعت کرتا ہے اس کے لئے سال کا آغاز کھيتي
کاٹنے کے وقت سے ہوگا اور ملازمت پيشہ لوگوں کے سال کا آغاز کھيتي
کاٹنے کے وقت سے ہوگا اور ملازمت پيشہ لوگوں کے سال کا آغاز وصول کرنے
کا وقت ہے ، آغاز سال اور سالانہ آمدني کا حساب خود مستقل واجب نہيں ہے
يہ صرف اس لئے کہ اس سے يہ معلوم ہوتا ہے کہ اس پر کتنا خمس واجب ہے ،
پس اگر اس کي کمائي ميں اس کے پاس کچھ بھي باقي نہ بچے بلکہ جتنا وہ
کماتا ہے اس کو اپني زندگي پر خرچ کرديتا ہے تو اس پر ان امور ميں سے
کچھ بھي واجب نہيں ہے۔
س١٠١٦۔ کيا مالي سال کا آغاز کام کے پہلے مہينہ سے ہوتا ہے ؟ يا پہلا
مہينہ ماہانہ تنخواہ وصول کرنے سے متعلق ہے؟
ج۔ ملازمت کرنے والوں کا خمس کا سال اس دن سے شروع ہوجاتا ہے جس دن
تنخواہ پاتے ہيں يا اس کو وصول کرنے پر قادر ہوتے ہيں۔
س١٠١٧۔ خمس ادا کرنے کے لئے سال کي ابتدائ کا کيسے تعين ہوتا ہے؟
ج۔ کاروندوں اور ملازمت پيشہ افراد کے خمس کے سال کي ابتدائ اس تاريخ
سے ہوتي ہے جس دن وہ اپنے کام و ملازمت کا پہلا ثمرہ حاصل کرتے ہيں
ليکن تاجروں کے سال کي ابتدائ ان کي خريد و فروخت شروع کرنے کي تاريخ
سے ہوتي ہے۔
س١٠١٨۔ غير شادي شدہ جوانوں پر جو اپنے والدين کے ساتھ زندگي بسر کرتے
ہيں، خمس کي تاريخ کا تعين کرنا واجب ہے؟ اور ان کے سال کي ابتدائ کب
سے ہوگي؟ اور اس کا وہ حساب کريں گے؟
ج۔ اگر غير شادي شدہ جوان کي ذاتي کمائي ہو ، خواہ قليل ہي کيوں نہ ہو
تو اس پر واجب ہے کہ خمس کي تاريخ معين کرے تاکہ اس سے سال بھر کي
آمدني کا حساب ہو کہ اگر سال کے آخر ميں اس کے پاس کوئي چيز باقي بچے
تو اس کا خمس دے اور خمس کے سال کا آغاز پہلے فائدے کے حصول کے دن سے
ہوتا ہے۔
س١٠١٩۔ جو مياں بيوي اپني اپني آمدني سے مشترک طور پر گھر کے اخراجات
پورا کرتے ہيں تو ان کے لئے ممکن ہے کہ مشترکہ طور پر اپنے خمس کي
تاريخ بھي معين کريں؟
ج۔ ان ميں سے مستقل طور پر ہر ايک کے لئے خمس کي تاريخ ہوگي بس سال کے
آخر ميں ان سے ہر ايک پر تنخواہ اور سال بھر کي آمدني ميں سے خرچ کرنے
کے بعد جو کچھ بچے گا اس پر خمس دينا واجب ہے۔
س١٠٢٠۔ ميرے اوپر گھر کي ذمہ داري ہے، ميں امام خميني
۲
کي مقلد ہوں ۔ ميرے شوہر نے خمس کي تاريخ معين کررکھي ہے جس ميں وہ
اپنے اموال کا خمس نکالتے ہيں مجھے بھي کچھ آمدني ہوتي ہے پس کيا خمس
ادا کرنے کے لئے ميں بھي اپني تاريخ معين کرسکتي ہوں اور کيا اپنے خمس
کے سال کي ابتدائ اس حاصل ہونے والے اولين فائدے سے کرسکتي ہوں جس کا
ميں نے خمس نہيں ديا ہے اور سال کے آخر ميں گھر کے اخراجات سے جو کچھ
بچ جائے اس کا خمس ادا کروں اور کيا درميان سال جو پيسہ ميں زيارت پر
يا ہدايا خريدنے ميں خرچ کرتي ہوں اس پر بھي خمس ہے؟
ج۔ آپ پر واجب ہے کہ خمس کے سال کي ابتدائ اس دن سے کريں جس دن آپ کو
سال کي پہلي آمدني حاصل ہوئي اور سال کے دوران اپني آمدني يا کمائي سے
جو کچھ ان امور پر خرچ کرتي ہيں جنہيں آپ نے بيان کيا ہے اس ميں خمس
نہيں ہے ليکن سال کے اخراجات کے بعد کمائي ميں سے جو کچھ بچ جائے اس کا
خمس دينا واجب ہے۔
س١٠١٢۔ کيا خمس کي تاريخ شمسي يا قمري سال کے اعتبار سے معين کرنا واجب
ہے؟
ج۔ اس سلسلہ ميں مکلف کو اختيار ہے۔
س١٠٢٢۔ ايک شخص کا کہنا ہے کہ اس کے خمس کے سال کا آغاز سال کے
گيارہويں مہينہ سے ہوتا ہے ليکن وہ اسے بھول گيا اور خمس نکالنے سے قبل
بارہويں مہينے ميں اس نے اس مال سے اپنے گھر کے لئے جانماز، گھڑي اور
قالين خريد ليا اور اب وہ اپنے خمس کے سال کا آغاز رمضان سے کرنا چاہتا
ہے اس بات کي طرف اشارہ کردينا ضروري ہے کہ اس شخص پر گذشتہ سال کے سہم
امام و سہم سادات کے ٨٣ تومان قرض ہيں اور انہيں وہ قسط وار ادا
کررہاہے پس مذکورہ سامان (جا نماز ، گھڑي اور قالين) کے سہم امام و سہم
سادات کے بارے ميں آپ کيا فرماتے ہيں؟
ج۔ خمس کے سال ميں تقديم و تاخير صحيح نہيں ہے مگر گذشتہ سال کے منافع
کے حساب کے بعد اور اس شرط کے ساتھ کہ اس سے ارباب خمس کو ضرر نہ پہنچے
ليکن غير مخمس مال سے اس نے جو ولي امر خمس يا اس کے وکيل کي اجازت پر
موقوف ہے اور اجازت مل جانے کے بعد اس کي موجودہ قيمت کا خمس دينا واجب
ہے۔
س١٠٢٣۔ کيا انسان اپنے مال کے خمس کا حساب خود کرسکتا ہے پھر جس مقدار
ميں خمس واجب ہوا ہے آپ کے وکلائ کي خدمت ميں پيش کردے؟
ج۔ جس شخص کے خمس کي تاريخ معين ہے وہ اپنے مال کا خود حساب کرسکتا ہے۔
ولي امر خمس اور موارد مصرف
س١٠٢٤۔ ميں نے خمس کے بارے ميں آپ کے کسي جواب ميں پڑھا ہے کہ خمس کو
ولي امر خمس اور ان کے امور حساب کے وکيل کو ديا جاسکتا ہے ، تو يہاں
سوال يہ ہے کہ ولي خمس سے مراد کون ہے ، کيا مجتہد مطلق يا ولي امر
مسلمين؟
ج۔ ولي خمس وہ ولي امر ہے جسے مسلمانوں کے امور ميں ولايت حاصل ہو۔
س١٠٢٥۔ کيا امور خيريہ مثلاً سادات کي شادي وغيرہ ميں سہم سادات کا صرف
کرنا جائز ہے؟
ج۔ سہم سادات ، سہم امام کي طرح ہے جو ولي خمس سے متعلق ہے اور مذکورہ
چيز ميں سہم سادات خرچ کرنے ميں کوئي مانع نہيں ہے بشرطيکہ ولي خمس سے
خاص طور پر اجازت لي گئي ہو۔
س١٠٢٦۔ عمل خير ، مثلاً يتيم خانہ يا ديني مدارس کے لئے سہم امام کے
صرف کرنے ميں کيا مجتہد مقلد کا اجازہ لينا ضروري ہے يا کسي بھي مجتہد
کا اجازہ کافي ہے اور بنيادي طور کيا مجتہد کا اجازہ لينا ضروري ہے؟
ج۔ سہم امام اور سہم سادات دونوں ولي امر مسلمين سے متعلق ہيں لہذا جس
کے ذمے يا جس کے مال ميں حق امام يا سہم سادات ہو اس پر ان دونوں کو
ولي امر خمس يااس کے وکيل کے حوالے کرنا واجب ہواور اگر ان کو ان کے
معين موارد ميں صرف کرنا ہو تو اس سے پہلے اس کے لئے اجازت لينا واجب
ہے۔ اور مکلف کے لئے ضروري ہے کہ اس سلسلے ميں وہ جس مجتہد کي تقليد
کررہا ہے اس کے فتوے کي بھي رعايت کرے۔
س١٠٢٧۔ اگر حاکم ( شرع) ايک شخص اور مرجع تقليد دوسرا شخص ہو تو کس کو
خمس دينا واجب ہے؟
ج۔ ولي امر خمس کو خمس کا دينا واجب ہے اور وہي امور مسلمين کا ولي
ہوتا ہے، مگر يہ کہ جس مجتہد کي تقليد کرتا ہے اس کا فتويٰ اس سے مختلف
ہو۔
س١٠٢٨۔ کيا آپ کے وکلائ يا ان افراد پر جو حقوق شرعيہ کے وصول کرنے ميں
آپ کے وکيل نہيں ہيں لازم ہے کہ سہم امام اور سہم سادات وصول کرتے وقت
ان کي رسيد ديں يا ان پر واجب نہيں ہے؟
ج۔ جو لوگ ہمارے محترم وکلائ کو يا دوسرے افراد کو ہمارے دفتر تک
پہونچانے کے لئے حقوق شرعيہ ديں وہ ان سے ہماري مہر لگي رسيد کا مطالبہ
کريں۔
س١٠٢٩۔ اگر آپ کے وکلائ يا دوسرے افراد جو لوگوں سے سہم امام و سہم
سادات ليتے ہيں ان کي رسيد نہ ديں توکيا خمس دينے والا اس سے بري الذمہ
ہوجائے گا؟
ج۔ مسائل مختلف ہيں ، ہمارے بعض معروف و مشہور وکلائ کو چھوڑ کر دوسرے
افراد ( ان رقومات کي) رسيد نہ ديں تو پھر اس کے بعد انہيں ميرے نام سے
حقوق شرعيہ نہ ديں۔
س١٠٣٠۔ امام خميني
۲
کے مقلدين خمس کا مال کس کو ديں؟
ج۔ ان کے لئے ممکن ہے کہ وہ اسے ہمارے تہران کے دفتر ميں بھيجديں اپنے
شہروں ميں موجود ہمارے وکلائ کو ديں۔
س١٠٣١۔ ہمارے علاقے ميں موجود آپ کے وکلائ کو جب خمس ديا جاتا ہے تو
بعض اوقات وہ سہم امام واپس کرديتے ہيں اور کہتے ہيں کہ اس کي آپ کے
طرف سے ان کو اجازت ہے تو کيا اس لوٹائي ہوئي رقم کو ہم اپنے گھر والوں
پر صر ف کرسکتے ہيں؟
ج۔ جو شخص اجازہ کا دعويٰ کرتا ہے اگر آپ کو اس کے پاس اجازہ ہونے ميں
شبہہ ہو تو اس سے احترام کے ساتھ تحريري اجازہ دکھانے کے لئے کہيں يا
اس سے خمس وصول پانے کي ہماري مہر لگي ہوئي رسيد مانگئے پس اگر وہ
اجازہ کے مطابق عمل کريں تو وہ ( لوٹائي ہوئي رقم) آپ کے مصرف کے لئے
ہے۔
س١٠٣٢۔ غير مخمس مال سے ايک شخص نے ايک قيمتي جائيداد
خريدي اور اس کي تعمير و مرمت ميں خطير رقم لگائي اور اس کے بعد اسے
اپنے نابالغ بيٹے کو ہبہ کرديا اور قانوني طور پر اس جائيداد کو اس
بيٹے کے نام کراديا ۔ اب يہ جانتے ہوئے کہ خريدنے والا ابھي تک زندہ ہے
اس کے خمس کا کيا مسئلہ ہے؟
ج۔ ملکيت کے خريدنے اور اس کي مرمت و تعمير ميں جو صرف کيا ہے اگر دو
سال کے منافع ميں سے ہے اور اس نے اپني جائيداد کو اسي سال اپنے بيٹے
کو ہبہ کرديا ہے اور عرف عام ميں اس کي حيثيت کے مطابق ہے تو اس پر خمس
نہيں ہے، ورنہ اس جائيداد پر خمس واجب ہوگا۔ اور خمس کي مقدار کا ہبہ
فضولي ہوگا جس کي صحت اجازہ پر موقوف ہے۔
سہم سادات
س١٠٣٣۔ ميري والدہ سيداني ہيں، لہذا مندرجہ ذيل سوالات کے جواب مرحمت
فرمائيں:
١۔ کيا ميں سيد ہوں۔
٢۔ کيا ميري اولاد ميرے پوتے پر پوتے وغيرہ سيد ہيں؟
٣۔ وہ شخص جو باپ کي طرف سے سيد ہو اور جو ماں کي طرف سے سيد ہو ، ان
دونوں ميں کيا فرق ہے؟
ج۔ سيد پر آثار و احکام شرعيہ کے مرتب ہونے کي معيار يہ ہے کہ سيد کي
نسبت باپ کي طرف سے ہو ليکن رسول اکرم
۰
سے ماں کي طرف سے منسوب ہونے والے بھي اولاد رسول اکرم
۰
ہيں۔
س١٠٣٤۔ کيا جناب عباس ابن علي ابن ابي طالب کي اولا دکا حکم بھي وہي ہے
جو دوسرے سيدوں کا ہے ، مثلاً جو طالب علم اس سلسلے سے منسوب ہيں کيا
وہ سادات کا لباس پہن سکتے ہيں ؟ اور کيا اولاد عقيل ابن ابي طالب کا
بھي يہي حکم ہے؟
ج۔ جو شخص باپ کي طرف سے جناب عباس ابن علي ابي طالب ٴ سے نسبت رکھتا
ہے وہ علوي سيد ہوتا ہے اور سارے علوي اور عقيلي سيد ہاشمي ہيں۔ لہذا
ہاشمي سيد کے لئے جو مراعات ہيں وہ ان سے استفادہ کرسکتے ہيں۔
س١٠٣٥۔ پچھلے دنوں ميں نے اپنے والد کے چچيرے بھائي کے ذاتے وثيقہ کو
ديکھا جس ميں انہوں نے اپنے کو سيد لکھا ہے ، لہذا مذکورہ بات کے پيش
نظر رکھتے ہوئے اور يہ بھي جانتے ہوئے کہ اپنے رشتہ داروں ميں ہم سيد
مشہور ہيں، جبکہ جو وثيقہ مجھے ملا ہے وہ بھي اس بات کا قرينہ ہے ميري
سيادت کے بارے ميں آپ کي کيا رائے ہے؟
ج۔ کسي رشتہ دار کا اس قسم کا وثيقہ آپ کي سيادت کے لئے شرعي دليل نہيں
بن سکتا اور جب تک آپ کو سيد ہونے کا ا طمينان يا اس کے بارے ميں شرعي
دليل نہ ہو، تب تک آپ کے لئے جائز نہيں کہ اپنے کو سيادت کے شرعي آثار
اور احکام کا حقدار سمجھيں۔
س١٠٣٦۔ميں نے ايک بچے کو بيٹا بنايا اور اس کا نام علي رکھا ہے ۔ا س کا
شناختي کارڈ لينے کے لئے جب رجسٹريشن آفس گيا تو ان لوگوں نے ميرے اس
گود لئے بيٹے کو ’’ سيد ‘‘ لکھ ديا ، ليکن ميں نے اسے قبول نہيں کيا۔
کيونکہ ميں اپنے جد رسول اللہ
۰
سے ڈرتا ہوں۔ اب ميں ان دو چيزوں کے بارے ميں متردد ہوں يا تو اسے بيٹا
نہ بناوں اور يا اس گناہ کا مرتکب ہوجاوں ( يعني ) جو سيد نہيں ہے اس
کا سيد ہونا قبول کروں۔ پس ميں کس طرف جاوں برائے مہرباني ميري
راہنمائي فرمائيے؟
ج۔ گود لئے بيٹے کے شرعي آثار مرتب نہيں ہوتے اور جو حقيقي باپ کي طرف
سے سيد نہ ہو اس پر سيد کے احکام و آثار نافذ نہيں ہوتے ليکن جس بچے کا
کوئي کفيل اور سرپرست نہ ہو اس کي کفالت کرنا مستحسن عمل اور شرعاً
اچھا فعل ہے۔
خمس کے مصارف ، اجازہ ، ہديہ ، حوزہ علميہ کا ماہانہ وظيفہ
س١٠٣٧۔بعضي اشخاص خود سادات کے بجلي ، پاني کابل ادا کرتے ہيں کيا وہ
اس بل کو خمس ميں حساب کرسکتے ہيں؟
ج۔ ابھي تک جو انہوں نے سہم سادات کے عنوان سے ادا کيا ہے وہ قبول ہے
ليکن مستقبل ميں ادا کرنے سے پہلے اجازت لينا واجب ہے۔
س١٠٣٨۔ جناب عالي ! ميرے ذمہ جو سہم امام ہے اس ميں سے ايک ثلث کو ديني
کتابيں خريدنے اور تقسيم کرنے کي اجازت عنايت فرمائيں گے؟
ج۔ اگر ہمارے وہ وکيل جن کو سہم امام خرچ کرنے کي اجازت ہے مفيد ديني
کتابوں کي تقسيم و فراہمي کو ضروي سمجھيں تو اس سلسلہ ميں وہ اس مال سے
ايک تہائي صرف کرسکتے ہيں جس کوو ہ مخصوص شرعي موارد ميں صرف کرنے کے
مجاز ہيں۔
س١٠٣٩۔ کيا ايسي علوي عورت کو سہم سادات ديا جاسکتا ہے جو نادار اور
اولاد والي ہے ليکن اس کا شوہر علوي نہيں اور نادار اور فقير ہے؟ اور
کيا وہ عورت اس سہم سادات کو اپني اولاد اور شوہر پر خرچ کرسکتي ہے؟
ج۔ اگر شوہر نادار ہونے کي بنا پر اپني زوجہ کا نفقہ پورا نہيں کرسکتا
اور زوجہ بھي شرعي اعتبار سے فقير ہو تو اپني حاجت پوري کرنے کے لئے وہ
حق سادات لے سکتي ہے اور جو حق سادات اس نے ليا ہے اسے وہ اپنے اوپر
اپني اولاد پر يہاں تک کہ اپنے شوہر پر خرچ کرسکتي ہے۔
س١٠٤٠۔ حق امام حق سادات لينے والے ايسے شخص کے بارے ميں کيا حکم ہے جو
( حوزہ علميہ کے وظيفہ کے علاوہ) تنخواہ ليتا ہے جو اس کي زندگي کے
ضروريات کے لئے کافي ہے؟
ج۔ جو شخص شرعي نقطہ نظر سے مستحق نہيں ہے اور نہ حوزہ علميہ کے شہر کے
قواعد و ضوابط اس سے متعلق ہيں وہ حق امام و حق سادات سے نہيں لے سکتا۔
س١٠٤١۔ ايک علوہ عورت مدعي ہے کہ اس کا باپ اپنے اہل و عيال کے اخراجات
پورے نہيں کرتا ہے اور ان کي حالت يہ ہے کہ وہ مساجد کے سامنے بھيک
مانگنے پر مجبور ہيں اور اس سے وہ اپني زندگي کا خرچ نکالتے ہيں۔ليکن
اس علاقے کے رہنے والے جانتے ہيں کہ يہ سيد پيسے والا ہے ليکن بخل کي
وجہ سے اپنے اہل و عيال پر خرچ نہيں کرتا تو کيا ان کے اخراجات کے لئے
سہم سادات سے پورے کرنا جائز ہے اور فرض کريں کہ بچوں کا والد يہ کہے
کہ مجھ پر فقط طعام اور لباس واجب ہے اور دوسري چيزيں مثلاً عورتوں کي
بعض خصوصي ضروريات ، اسي طرح چھوٹے بچوں کا روزانہ خرچ جو عام طور پر
ديا جاتا ہے واجب نہيں ، تو کيا ان کو ان ضروريات کے لئے سہم سادات دے
سکتے ہيں؟
ج۔ پہلي صورت ميں اگر وہ اپنے باپ سے نفقہ لينے پر قدرت نہ رکھتے ہوں
تو انہيں نفقہ کے لئے ضرورت کے مطابق سہم سادات سے دے سکتے ہيں ، اسي
طرح دوسري صورت ميں اگر انہيں ، خوراک ، لباس اور رہائش کے علاوہ ، کسي
ايسي چيز کي ضرورت ہو جو ان کي حيثيت کے مطابق ہو تو انہيں سہم سادات
ميں سے اتنا ديا جاسکتا ہے جس سے ان کي ضرورت پوري ہوجائے۔
س١٠٤٢۔ کيا آپ اس بات کي اجازت ديتے ہيں کہ لوگ سہم سادات خود محتاج
سيدوں کو ديديں؟
ج۔ جس شخص کے ذمہ سہم سادات ہے اس پر واجب ہے کہ وہ اس سلسلہ ميں اجازت
حاصل کرے۔
س١٠٤٣۔ کيا آپ کے مقلدين سہم سادات نادار سيد کو دے سکتے ہيں يا کل خمس
يعني سہم امام و سہم سادات آپ کے وکلائ کو دينا واجب ہے تاکہ وہ اسے
شرعي امور ميں صرف کريں۔
ج۔ اس سلسلہ ميں سہم سادات اور سہم امام ٴ ميں کوئي فرق نہيں ہے۔
س١٠٤٤۔ کيا شرعي حقوق ( خمس ، رد مظالم اور زکوٰۃ) حکومت کے امور سے ہے
يا نہيں؟ اور کيا وہ شخص جس پر حقوق شرعيہ واجب ہوں وہ خود مستحقين کو
سہم سادات و زکوٰۃ وغيرہ دے سکتا ہے؟
ج۔ زکوٰۃ اور رد مظالم کي رقم دين دار پارسا مفلسوں کو دينا جائز ہے
ليکن خمس کو ہمارے دفتر ميں يا ہمارے ان وکيلوں ميں سے کسي ايک کے پاس
پہونچانا واجب ہے جنہيں شرعي موارد ميں خمس صرف کرنے کي اجازت ہے۔
س١٠٤٥۔ وہ سادات جن کے پاس کام اور کاروبار کا ذريعہ ہے ، خمس کے مستحق
ہيں يا نہيں؟ اميد ہے کہ اس کي وضاحت فرمائيں گے؟
ج۔ اگر ان کي آمدني عرف عام کے لحاظ سے انکي معمولي زندگي کے لئے کافي
ہے تو وہ خمس کے مستحق نہيں ہيں۔
س١٠٤٦۔ ميں ايک پچيس سالہ جوان ہوں۔ ملازمت کرتا ہوں اور ابھي تک
کنوارہ ہوں والد اور والدہ کے ساتھ زندگي بسر کرتا ہوں والدين ضعيف
العمر ہيں اور چار سال سے ميں ہي اخراجات پورے کررہا ہوں ميرے والد کام
کرنے کے لائق نہيں ہيں نہ ان کي کوئي آمدني ہے۔ واضح رہے کہ ميں ايک
طرف سال بھر کے منافع کا خمس ادا کروں اور دوسري طرف زندگي کے تمام
اخراجات پورے کروں يہ ميرے بس ميں نہيں ہے ، ميں گذشتہ برسوں کے منافع
کے خمس مبلغ ١٩ ہزار تومان کا مقروض ہوں۔ ميںنے اس کو لکھ ديا ہے تاکہ
بعد ميں ادا کروں۔ عرض يہ ہے کہ کيا ميں سال بھر کے منافع کا خمس اپنے
اقربائ جيسے ماں باپ کو دے سکتا ہوں يا نہيں؟
ج۔ اگر ماں باپ کے پاس اتني مالي استطاعت نہيں جس سے وہ اپني روز مرہ
کي زندگي چلاسکيں اور آپ ان کا خرچ برداشت کرسکتے ہيں تو ان کا نفقہ آپ
پر واجب ہے اور جو کچھ آپ ان کے نفقہ پر خرچ کرتے ہيں، وہ شرعي اعتبار
سے آپ پر واجب ہے ،اس کو آپ اس خمس ميںحساب نہيں کرسکتے جس کا ادا کرنا
آپ پر واجب ہے۔
س١٠٤٧۔ ميرے ذمہ سہم امام عليہ السلام کے ايک لاکھ تومان ہيں اور ان کا
آپ کي خدمت ميں ارسال کرنا واجب ہے دوسري طرف يہاں ايک مسجد ہے جہاں
پيسہ کي ضرورت ہے، کيا آپ اجازت ديتے ہيں کہ يہ رقم اس مسجد کے امام
جماعت کو ديدي جائے تاکہ وہ اس مسجد کي تکميل ميں اسے خرچ کريں؟
ج۔ دور حاضر ميں ، ميں سہم امام و سہم سادات کو حوزات علميہ ( ديني
مدارس) پر خرچ کرنا مناسب سمجھتا ہوں ، مسجد کي تکميل کے لئے مومنين کے
تعاون اور بخشش سے استفادہ کيا جاسکتا ہے۔
س١٠٤٨۔ اس بات کو ملحوظ رکھتے ہوئے کہ ممکن ہے ہمارے والد نے اپني
زندگي ميں مکمل طور پر اپنے مال کا خمس ادا نہ کيا ہو اور ہم نے ہسپتال
بنانے کے لئے ان کي زمين سے ايک ٹکڑا ہبہ کيا ہے کيا اس زمين کو مرحوم
کے خمس ميں حساب کيا جاسکتا ہے؟
ج۔ خمس ميں اس زمين کا حساب نہيں کيا جاسکتا ہے۔
١٠٤٩۔ کن حالات ميں خمس دينے والے کو خود اس کا خمس ہبہ کيا جاسکتا ہے؟
ج۔ سہمين مبارکين کو ھبہ نہيں کياجاسکتا۔
س١٠٥٠۔ اگر ايک شخص کے پاس سال کي اس تاريخ ميں جس ميں خمس ادا کرتا ہے
، اس کے اخراجات سے ايک لاکھ روپيہ زيادہ ہو۔ اور اس رقم کا وہ خمس ادا
کرچکا ہو ، اور آنیوالے سال ميں نفع کي رقم ايک لاکھ پچاس ہزار ہوگئي
ہو تو کيا نئے سال ميں وہ صرف پچاس ہزار روپيہ کا خمس اد ا کرے گا يا
دوبارہ مجموعاً ايک لاکھ پچاس ہزار کا خمس دے گا؟
ج۔ جس مال کا خمس ديا جاچکا ہے اگر نئے سال ميں وہ خرچ نہيں ہوا ہے اور
کل مال موجود ہے تو دوبارہ اس کا خمس نہيں دينا ہے اور اگر سال کے
اخراجات کو خود راس المال سے اور اس کے منافع سے پورا کيا گيا ہے تو
سال کے آخر ميں منافع پر خمس مخمس اور غير مخمس مال کي نسبت سے واجب
ہے۔
س١٠٥١۔ جن ديني طلبہ نے اب تک شادي نہيں کي ہے۔ اور ان کے پاس اپنا گھر
بھي نہيں ، کيا ان کي اس آمدني ميں خمس ہے جو انہيں تبليغ ، ملازمت
امام عليہ السلام سے دستياب ہوئي ہے، يا وہ خمس دئيے بغير اس آمدني کو
شادي کے لئے جمع کرسکتے ہيں اور وہ آمدني خمس سے مستثنيٰ ہو؟
ج۔ وہ حقوق شرعيہ ميں سے جو طلاب محترم حوزہ علميہ کو مراجع عظام کي
طرف سے دئيے جاتے ہيں ان پر خمس نہيں ہے ليکن تبليغ و ملازمت کے ذريعہ
ہونے والي آمدني اگر سال کي اس تاريخ تک محفوظ ہے جس ميں خمس دينا ہے
تو اس کا خمس دينا واجب ہے۔
س١٠٥٢۔ اگر کسي شخص کا مال اس مال سے مخلوط ہوجائے جس کا خمس ديا جاچکا
ہے اور کبھي کبھي وہ اس مخلوط مال سے خرچ بھي کرتا ہو اور کبھي اس ميں
اضافہ بھي کرتا ہو ، اس امر کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ مخمس مال کي مقدار
معلوم ہے تو کيا اس پر پورے مال کا مخمس دينا واجب ہے يا صرف اس مال کا
خمس دينا واجب ہے جس کا خمس نہيں ديا تھا؟
ج۔ اس پر باقي ماندہ رقم سے صرف اس مال کا خمس دينا واجب ہے جس کا خمس
نہيں ديا گيا ہے۔
س١٠٥٣۔ وہ کفن جو خريدنے کے بعد چند برسوں تک اسي طرح پڑا رہا کيا اس
کا خمس دينا واجب ہے يا اس کي اس قيمت کا خمس دينا واجب ہے کہ جس سے
خريدا گيا تھا؟
ج۔ اگر کفن اس مال سے خريدا گيا ہے کہ جس کا خمس ديا جاچکا تھا تو اس
پر خمس نہيں ہے ورنہ اس کا موجودہ قيمت کے مطابق خمس دينا پڑے گا۔
س١٠٥٤۔ ميں ايک ديني طالب علم ہوں اور ميرے پاس کچھ مال تھا ، بعض
اشخاص کي مدد سے اور سہم سادات اور قرض لے کر ميں نے ايک چھوٹاسا گھر
خريدا تھا۔اب وہ گھر ميں نے فروخت کرديا ہے، پس اگر ا س کي قيمت اس سال
تک ايسے ہي رکھي رہے اور دوسرا گھر نہ خريدوں تو کيا اس مال پر جو گھر
خريدنے کے لئے ہے خمس دينا واجب ہے؟
ج۔ اگر آپ نے حوزہ علميہ کے وظيفہ دوسروں کے مدد اور شرعي حقوق سے گھر
خريدا تھا تو اس گھر کي قيمت پر خمس نہيں ہے۔
خمس کے متفرق مسائل
س١٠٥٥۔ ميں نے ١٣٤١ ھ۔ش ١٩٦٢ ئ ميں امام خميني
۲
کي تقليد کي تھي اور ان کے فتوے کے مطابق رقوم شرعيہ انہي کي خدمت ميں
پيش کرتاتھا ١٣٤٦ ھ۔ش ميں امام خميني
۲
نے رقوم شرعيہ اور ماليات کے سلسلہ ميں ايک سوال کے جواب ميں فرمايا
:’’ خمس و زکوٰۃ حقوق شرعيہ ہيں اور ماليات حقوق شرعيہ ميں شامل نہيں
ہيں۔‘‘ اور آج جبکہ ہم اسلامي جمہوريہ کي حکومت ميں زندگي بسر کررہے
ہيں ، اميد ہے کہ ( اس زمانہ ميں) رقوم شرعيہ اور ماليات ادا کرنے سے
متعلق ميرا فريضہ بيان فرمائيں گے؟
ج۔ اسلامي جمہوريہ کي حکومت کي طرف سے قوانين و دستورات کے مطابق جو
ماليات عائد کئے جاتے ہيں اگرچہ ان کا ادا کرنا ان لوگوں پر واجب ہے جو
قانون کے زمرہ ميں آتے ہيں ليکن اس ماليات کو سہمين مبارکين ميں شامل
نہيں کرنا چاہئيے اور انہيں اپنے اموال کا مستقل طور پر خمس ادا کرنا
چاہئيے۔
س١٠٥٦۔ کيا رقوم شرعيہ کو ڈالر کي شکل ميں تبديل کيا جاسکتا ہے جبکہ يہ
معلوم ہے کہ کرنسي کي قيمت گھٹتي بڑھتي رہتي ہے، يہ کام شريعت کي رو سے
جائز ہے يا نہيں؟
ج۔ جس کے اوپر حقوق شرعيہ ہيں وہ ڈالر کي شکل ميں ادا کرسª
|