|
کتاب جہاد
س١٠٧٣۔ امام معصوم ٴ کي غيبت کے زمانہ
ميں ابتدائي جہاد کا کيا حکم ہے؟ اور کيا فقيہہ جامع الشرائط اور نافذ
کلمہ ( ولي امر مسلمين) کے لئے جائز ہے کہ جہاد کا حکم دے؟
ج۔ بعيد نہيں کہ وہ جامع الشرائط مجتہد
جو ولي امر مسلمين ہو جب يہ سمجھے کہ مصلحت کا تقاضہ يہي ہے تو جہاد
ابتدائي کے جواز کا حکم ديدے بلکہ يہ قول اقويٰ ہے۔
س١٠٧٤۔ جب اسلام خطرے ميں ہو تو والدين
کي اجازت کے بغير اسلام کے دفاع کے لئے اٹھ کھڑے ہونے کا کيا حکم ہے؟
ج۔ اسلام و مسلمين کا دفاع واجب ہے اور
والدين کي اجازت پر موقوف نہيں ہے ليکن اس کے باوجود جہاں تک ہوسکے
والدين کي رضا حاصل کرنے کي کوشش کرے۔
س١٠٧٥۔ کيا ان اہل کتاب پر ، جو اسلامي
ملکوں ميں زندگي گزارتے ہيں ، کافر ذمي کا حکم جاري ہوگا؟
ج۔ جب تک وہ اس اسلامي حکومت کے قوانين و
احکام کے پابند ہيں جس ميں زندگي بسر کرتے ہيں اور کوئي ايسا کام نہ
کريں جو امان کے خلاف ہو تو ان کا وہي حکم ہے جو کافر ذمي کا ہے۔
س١٠٧٦۔ کيا کوئي مسلمان اسلامي يا غير
اسلامي ممالک ميں کسي اہل کتاب يا غير اہل کتاب کافر مرد يا عورت کو
اپني ملکيت بناسکتا ہے؟
ج۔ ملکيت بنانا جائز نہيں ہے ليکن جنگي
قيديوں کا فيصلہ جب بالفرض کفار نے اسلامي شہروں پر حملہ کيا ہو ، حاکم
اسلام کے ہاتھ ميں ہے اور عامہ مسلمين کو اس کا حق نہيں ہے۔
س١٠٧٧۔ اگر ہم يہ فرض کريں کہ اسلام ناب
محمدي کي حفاظت ايک محترم النفس انسان کے قتل پر موقوف ہے تو کيا ہم
اسے قتل کرسکتے ہيں؟
ج۔ محترم نفس کا خون ناحق بہانا شرع کے
لحاظ سے حرام اور اسلام ناب محمدي کے احکام کے خلاف ہے ،اس بنا پر ايسا
قول بے معني ہے کہ اسلام ناب محمدي کا تحفظ ايک نيک شخص کے قتل پر
موقوف ہے ليکن اگر خون بہنے سے يہ مراد ہو کہ مکلف نے جہاد في سبيل
اللہ اور اسلام ناب محمدي کے دفاع کے لئے ان حالات ميں قيام کيا ہے جن
ميں اس کے قتل کا احتمال ہو ، تو اس کے مختلف پہلو ہيں ،پس جب مکلف يہ
محسوس کرے کہ مرکز اسلام خطرہ ميں ہے تو اس وقت اس پر واجب ہے کہ وہ
اسلام کا دفاع کرنے کے لئے قيام کرے اگرچہ اس ميں اسے اپنے قتل ہوجانے
کا خوف ہي ہو۔
|