شخصیت امیرالمومنین حضرت امام علي عليہ السلام
حضرت آیت اللہ العظميٰ سید علي خامنہ اي

کے مجمو عہ خطابات کي روشني ميں
 

نشر ولایت پاکستان

مرکزحفظ ونشر آثار ولایت

www.wilayat.com

 

اھدائ

جمہوريہ اسلاميہ ايران کے باني
حضرت امام خميني رضوان ا? تعاليٰ عليہ
کے نام ايک ناچيز ہديہ

 

فہرست

مقدمہ
علي عليہ السلام کي متوازي شخصيت
علي عليہ السلام پيغمبر اکرم
۰ کي ہو بہو ا يک مثال
آپکے اٹل فیصلے اور رحم دلي
خوارج کو ٹھيک سے پہچانيں
پرہيز گاري اور حکومت اميرالمومنين ٴ
قدرت اور حضرت علي عليہ السلام کي مظلوميت
حضرت علي عليہ السلام کي سادگي اور زھد
عدالت اميرالمومنين ٴ
علي عليہ السلام کي دعا اور توجہ و استغفار
استغفار کا اثر
مختلف حالات و شرائط کا سامنا
علي عليہ السلام کي زندگي کے مختلف دور
اميرالمومنين کي بزرگي و عظمت
حضرت کے ہمرزم ہوئے
اميرالمومنين ٴ کي اجتماعي عدالت
پارسائي و زہد اميرالمومنين ٴ
نظام اسلامي کے عہدیداران امام علي ٴ کے اصلي مخاطبین
علي ٴ کي تہہ در تہہ شخصيت درس جاويداني ہے
اميرالمومنين ٴ کا جہاد
حکومت کے معني ميں تبديلي
ولايت علي عليہ السلام سے تمسک
علوي معاشرہ
مقصد محرومين اور عوام کي خدمت ہو
ظلم کے خلاف جنگ
اخلاصِ حضرت علي عليہ السلام
علي ٴبام عروج پر
اخلاص اور جوہر عمل
فقط رضائے الہي
حضرت علي عليہ السلام سے اخلاص آموزي
امام علي ٴ کي شہادت کي وجہ سے ستون ہدايت منہدم ہو گيا
حکومت علوي کي خصوصيات
آپکي حکومت کي پہلي خصوصيت
حضرت کا تين طرح کے لوگوں سے مقابلہ
مسئلہ ولايت ميں گمراہ گروہ
ولايت دين کا بنيادي ترين مسئلہ
جس ہاتھ کو کاٹ دينا چاہيے
پيغمبر
۰ کے زمانہ ميں کب يہ موقع پيش آيا تھا؟
عمار ياسر فتنوں کو برملہ کرنے والے
خوارج کون تھے؟
خوارج کے ايک فرد سے حجاج بن يوسف کا مناظرہ
جنگ نہروان
استقامت کے ليے بصيرت لازمي ہے
حکومتِ اميرالمومنين ٴ کي دوسري خصوصيت
زھد کي طرف قدم بڑھائیے
حکمرانوں کو زھد کا سبق
غدير يعني اثبات فضائل و کمالات وحکومت و ولايت حضرت علي عليہ السلام
غدير کا دوسرا پہلو
جمہوري ترين حکومت
اقدار، ولايتِ اسلامي کا سرچشمہ
مسلمانوں کے ذريعے ولايت کا تجربہ
ولايت اسلامي، اقوام عالم کے لئے سعادت کا راستہ
شجاعت حضرت علي عليہ السلام
شجاعت ايک عظيم اور تعميري صفت
زندگي کے تمام مراحل ميں شجاعت
حضرت علي عليہ السلام کي شجاعت سے درس عمل
حضرت علي عليہ السلام کا اقتدار نفس
گلِ گلاب
علي عليہ السلام کي زندگي نمونہ عمل
اميرالمومنين ٴ کے ذريعہ عدالت اور حدود الہيٰ کا اجرائ
خدا کے کام ميں کوئي رعايت نہيں
علي عليہ السلام کي يہاں کوئي ساز باز ممکن نہيں!
حفاظت بيت المال ميں پر عزم
بے جا توقعات کے مقابلہ ميں اٹل رہنا
معاو يہ کے بار ے ميں اھل سنّت کا نظر يہ
تم مجھے حساب دو
تقسيم مناصب اور عہدہ سے برخواست کرتے و قت علي عليہ السلام کے اٹل فيصلے
حضرت پر تھوپي جانے والي جنگيں
١۔جنگ جمل
٢۔جنگ صفين
٣۔جنگ نہروان
خشک و مقدس مآب افراد کا جتّھہ
اجتماعي ذمہ داري کے لئے اسلامي معيارات
آگاہي اور ثابت قدمي حضرت علي عليہ السلام کي دو ممتاز صفتيں
بيگا نوں کے تسلط کو ختم کر نے کے لئے ضروري بيداري اور پا ئيداري
اقتدار علي عليہ السلام اور انکي مظلوميت و کاميابي مشعل تاريخ
اقتدار،منطقِ فکر، سياست و حکومت
تاريخ کا مظلوم ترين انسان!
علي عليہ السلام کے چہر ے پر نُور کي تاباني
اميرالمو منين ٴ کے مقا بلہ ميں تين طرح کے مکتب فکر کي صف آرائي
دنيائے اسلام ميں حکومت اموي کے کھِلا ئے ہوئے گل
کچھ اپنے جو حکومت ميں حصہ دار ہونا چاہتے تھے!!
وہ کج فہمياں جو حکومت شام کي طرف سے پيدا کي گئيں!!
جن غلط کاموں کي بنياد پر اسلام کي آڑ ميں علي عليہ السلام سے جنگ کي گئي
پيروان علي عليہ السلام کے خلاف سازش
شہادت حضرت علي عليہ السلام کي مصيبت
علي ان کے لئے بددعا کر و! !
دعائيہ کلمات


 

تعارف نامہ
جس وقت ڈوگروں کي تحریک آزادي کشمیر کي واديوں ميں ابھر رہي تھي اس وقت 90%مسلمان ايک کشمیري ہندو کے تحت رہ رہے تھے ۔جمو ں و کشمیر کے شیعوں نے اپنے ایک الگ تشخص (گروہ) کي تجویز دي ،جو انکے معاشرتي،اقتصادي اور دیني امور کے علاوہ سیاسي پہلووں کو مد نظر رکھتے ہوئے کام کرے۔
انصاري خاندان ايک عر صہ سے شیعہ مذہب کي تبلیغ و ترویج کي خدمات اس خطے ميں انجام دے رہا تھا اور وہاں کے لوگوں ميں قابل احترام ہونے کے ساتھ ساتھ لوگوں کي بڑي تعداد انکي پیروي بھي کررہے تھے۔ان تمام امور کے پیچھے (آل جموں و کشمیر شیعہ ایسو سیشن )کے باني جناب حجۃ الاسلام مولوي محمد جواد انصاري
۲ کا رفرماتھے جنہوں نے 1928ميں اس تنظیم کي بنیاد رکھي۔
اس تنظیم کے کارکن متحدہ جموں و کشمیر کے مختلف علاقوں ميں پھیلے ہوئے تھے جسمیںموجودہ بلتستان اور گلگت کا حصہ بھي شامل تھا کہ جو اب پاکستان کا حصہ شمار ہوتا ہے۔
1947کي تقسیم بندي کے بعد اس تنظیم کي سر گرمیاں صر ف انڈین حصے تک محدود ہو گئیں ۔اور حال حاضر ميں اس تنظیم کي سرگرمیاں مندرجہ ذیل ہيں :
١۔تبلیغ دین
٭دیني مجالس کا احیائ
٭دیني سیمینار کا اہتمام
٭ معارف اسلامي کے تحت مدارس اور اسکولوں کا قیام
٭اقامہ نماز جماعت
٢۔شرعي عدالتیں
٭لوگوں کے نجي معاملات کو شرعي طریقہ کار کے مطابق حل کرنے کے لئے مختلف علاقوں ميں عدالتوں کا اہتمام۔
٣۔انتشارات
٭کتب اسلامي کي تشہیر
٭مختلف مناسبات سے متعلق اخباروں ميں مقالے چھاپنا۔
٤۔اوقاف
٭مساجد کا قيام
٭امام بارگاہوں کا قيام
٭لائبیریریوں کي تآسیس
٭سیمینار حالوں کي تعمیرات وغیرہ...
1957ميں مولوي محمد جواد انصاري
۲ کي رحلت کے بعدسے آج تک حجۃ الاسلام مولوي افتخار حسین انصاري مدظلہ العالي کي باصلاحیت قیادت ميں يہ تنظیم اپنے خطے ميں مصروف کار ہے۔

والسلام علیکم و رحمتہ اللہ برکاتہ
آل جمو ں و کشمیر شیعہ ایسو سیشن


مقدمہ


بسم اللہ الرحمن الرحیم

چاروں طرف گردوغبار پھيلا ہوا تھا۔کچھ دير بعد جب غبار چھٹا تو ديکھا کہ علي عليہ السلام کے ہاتھ ميں عمرو بن عبدود کا سر ہے صرف يہي نہيں بلکہ اگر تاريخ کے کچھ اوراق پلٹائيں گے تو پھر علي عليہ السلام کے ہاتھ ميںکبھي مرحب کااور کبھي عنتر کا اور کبھي کسي اور کا سر نظر آئے گا۔
کوئي سوچ بھي نہيں سکتا کہ جو اتنا بہادر اور نڈر سپاہي ہوگا وہ تاریخ کے کچھ اوراق پلٹنے کے بعد ساري ساري رات عبادت اور نماز ميں کھڑا ہوا نظر آئے گا۔يہي شخص جب منبر رسول
۰ پر بيٹھ کر ظاہري طور پر حکومت کو اپنے ہاتھ ميں ليتا ہے تو انصاف اور عدالت کي وہ مثال قائم کرتا ہے کہ جس پر ہر نبي اور دنيا کا ہر بادشاہ آج تک انگشت بدنداں ہے۔
اگر بات صرف يہاں تک محدود ہوتي تو شايد ميں چپ رہتا ليکن جب علي عليہ السلام حاکم اسلامي ہونے کے باوجودراتوں کو يتيموں کي خدمت کرتے ہوئے نظر آتے ہيں تو يہ دنيا کي پہلي اور آخري مثال ہے۔
يہي مر د ميدان جب جملصفين اور نہروان کے ميدان ميں دشمنوں کے سامنے آتا ہے تو جيتنے کے بعد اس کے چہرے پر فتح کي لالي نہيں بلکہ مسلمانوں کا خون بہنے کا افسوس ہے۔
علمي ميدان ميں جہاں تک نظر دوڑائيں گے علي عليہ السلام ہي علي عليہ السلام نظر آئے گا۔چاہے علم نحو ہوچاہے علم تفسيرہوچاہے علم فقہ ہوچاہے علم فلسفہ ۔جس طرف بھي جائيں گے جائے پناہ سوائے علي کے اور کوئي نہيں پائیں گے۔ علي عليہ السلام جس جگہ پيدا ہوئے وہ خانہ کعبہ ہے اور جس جگہ اس دنيا کو فزت و رب الکعبہ کہہ کر ظاہري طور پر آنکھ بند کي وہ مسجد کوفہ ۔کعبے سے زيادہ مقدس جگہ کا مجھے نہيں پتہ اور مسجد کي محراب ميں شہادت سے بڑے رتبے کا بھي مجھے علم نہيں ہے۔
ميںبہت زيادہ لکھ گيا۔اگر ايک مفکر کا قول نقل کر ديتا تو بات شروع ہونے سے پہلے ہي ختم ہو جاتي۔ندائے عدالت اسلامي کا مصنف مسلمان نہ ہوتے ہوئے بھي لکھتا ہے کہ ’’ميں چاليس سال صرف اس کوشش ميں رہا کہ کسي بھي کتاب سے علي عليہ السلام کي ايک غلطي يا ايک خامي تلاش کرلوں۔ليکن چاليس سال کي تحقيق اور مطالعے کے بعد بھي ميں وہيں کھڑا ہوں جہاں چاليس سال پہلے تھا‘‘
يہ کتاب جو آپ کے ہاتھوں ميں ہے کسي پیشاور مصنف کي لکھي ہوئي نہيں ہے بلکہ يہ ايک ايسے شخص کے خطبات کا گلدستہ ہے جو نام کا بھي علي ہے ، اورکام و پيروي ميں بھي علي کا صحيح جانشين ہے جي ہاں آپ نے صحیح پہچانا نائب بر حق امام زماں(عج) حضرت آیت العظميٰ سید علي حسیني خامنہ اي دامت برکاتہ۔يہ آپ کے ان خطبوں کے چند ٹکڑے ہيں کہ جن کي للکار سن کر امريکہ کے وہائٹ ہاؤس سے ليکر اسرائيل کے ايوانوں تک سب پر لرزہ طاري ہو جاتا ہے۔
اس کتاب کي خاص بات يہ ہے کہ علي عليہ السلام کي زندگي کے اُن پہلوؤں پر روشني ڈالي گئي ہے کہ جن پر بہت کم کام ہوا ہے اور اتفاقاً آج کل کے معاشرے ميں اس کي بہت ضرورت ہے۔انتہائي مشکل سياسي مسائل کو تحليل کر کے نہايت سادہ زبان ميں بيان کيا گيا ہے۔جو آج کل کے تمام سياستدانوں بلکہ زندگي کے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے انسان کے ليے مشعل راہ ہے۔يہ کتاب توليٰ، تبريٰ،عبادت اور تبليغ دین کا چھوٹا سا مجموعہ ہے۔
آخر ميں مرکز حفظ و نشر آثار ولایت کے صدر حجۃ الاسلا م والمسلمين مولانا سید باقر مہدي رضوي صاحب کا شکر گزار ہوں کہ جنہوں نے يہ کتا ب ترجمہ کرواکے آل جموں و کشمير شيعہ ايسوسي ايشن کے حوالے کي۔اور حجۃ الا سلام والمسلمين مولانا عمران رضا انصاري صاحب نے اس کتاب کو چھاپنے کي ذمہ داري کو قبول فرمايا۔خدا ان کي توفيقات ميں اضافہ فرمائے۔اور ہم سب کو علي عليہ السلام کي طرح زندگي گزارنے کي اور ان کے نقش قدم پر چلنے کي توفيق عطا فرمائے۔
سيد بلال حيدر کاظمي
مصادف با ١٣۔رجب المرجب۔١٤٢٦ھ
معارف علوم اسلامي۔شعبہ حوزہ علميہ قم

شخصيت امير المومنينعليہ السلام
ولي امر مسلمين کي نگاہ ميں

بسم اللہ الرحمن الرحیم

علي عليہ السلام کي متوازي شخصيت:

امير المومنين علي عليہ السلام کي ذات ايک بہت بڑے اوقیانوس کے چھپے ہوئے کنارے کي طرح ہے کہ ايک انسان کے لئے جسکا پوري طرح سے احاطہ کرنا ناممکن ہے آپ جس طرف سے بھي فضيلت کے اس سمندر ميں وارد ہونے کي کوشش کریں گے آپ عظمت کي ايک کائنات کا بچشم خود مشاہدہ کریں گے،عجائبات کي ايک دنيا مختلف ند ّياں، گہرائياں ،قسم قسم کے دريائي حيوانات اس طرف کو چھوڑ کر ايک دوسرے کنارے سے وارد ہوں تو پھر بھي يہي منظر دکھائي دے گا۔ اگر اس اقيانوس کے تيسرے چوتھے يا دسويں حصے کي طرف جائيں يا جس طرف سے بھي اسکے اندر داخل ہوں اسي طرح کے عجائب و غرائب انسان کو حيرت ميں ڈالتے رہيں گے ذات اميرالمومنين عليہ السلامبھي کچھ اسي طرح ہے اور اس بات میں کوئي مبالغہ نہيں ہے انکي ہمہ گير و آفاقي شخصيت کے لئے يہ مثال بھي نارسا دکھائي ديتي ہے انکي ذات واقعاً عجائب و غرائب کا ايک شگفتہ انگيز مجموعہ ہے۔ يہ اظہارات ايک انسان کے عجز و ناتواني کو بتا رہے ہيں جس نے خود ايک مدّت تک آپکي شخصيت کو زير مطالعہ رکھا ہے اور پھر يہ محسوس کيا کہ اس فضيلت مآب ذات علي عليہ السلام کو ايک معمولي ذہن اپني اس عقل و فہم کے ذريعہ سمجھنے سے قاصر ہے اس لئے کہ انکي ذات ہر طرف سے شگفت آور نظر آتي ہے ۔
علي عليہ السلام پيغمبر اکرم
۰ کي ہو بہو ا يک مثال:
اگرچہ اميرالمومنين عليہ السلام حضور اکرم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم کے شاگرد خاص اور انکي ہو بہو تصوير ہيں مگر يہي عظيم المرتبت شخصيت جو ہماري نظروں کے سامنے ہے، خود کو پيغمبر صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم کے مقابل ناچيز سمجھتے اور آنحضرت کي شاگردي پر فخر کرتے ہيں مگر جب ہم انہيں بحیثیت ايک بشر ديکھتے ہيں تو وہ ايک انسان سے بالاتر نظر آتے ہيں، کيونکہ ہم اس جيسي عظمتوں کي حامل ذات کا تصور ہي نہيں کر سکتے انسان کے ذرائع معلومات يعني عقل و ادراک وفہم (البتہ ميں ٹيليويژن و کيمرہ کي بات نہيں کرتا جو کہ انساني ذہن سے بھي حقير تر ہيں اور ذہن انساني ہر مادي اسباب سے بلند و برتر ہے) اس سے کہيں نا چيز و کمتر ہيں کہ وہ اميرالمومنين عليہ السلام کي شخصيت کو ايسے لوگوں کے سامنے پوري طرح پيش کر سکے جو تہذيب نفس اور روحاني کشف و شہود کي منزل تک پہنچ ہي نہيں سکے ہيں۔
البتہ اس بات سے بھي انکار نہيں کيا جا سکتا کہ کچھ ايسے عرفائ بھي ہيں جو روحاني پاکيزگي اور تہذيب نفس کي وجہ سے کشف و شہود کي منزل پرپہنچ کر ممکن ہے آپکي شخصيت کے کچھ پہلوؤں کو درک کر سکيں ليکن ہم جيسے لوگ ان تک رسائي نہيں رکھتے۔ ميں آپکے سامنے اميرالمومنين عليہ السلام کي ايک خصوصيت بيان کرنا چاہتا ہوں کہ جس خصوصيت کو ميں اميرالمومنين عليہ السلام کي ذات ميں توازن سے تعبير کرتا ہوں جو آپکي زندگي ميں ايک عجيب و غريب توازن ہے يعني بظاہر کچھ صفات آپکي ذات ميںاس طرح خوبصورتي سے يکجا ہيں کہ جو خود اپني جگہ حسن کا ايک مرقع بن گئي ہیں جبکہ ايک انسان کے اندر يہ صفات اکھٹي ہوتي دکھائي نہیں آتیں باہم نہيں دکھائي پڑتيں،اور علي عليہ السلام کے وجودمیں ايسي متضادصفات ايک دو نہيں بلکہ بے نہايت جمع ہو گئيں ہيں۔
ميں يہاں اسمیں سے چند صفتوں کو آپکے سامنے بيان کرتا ہوں۔
آپکے اٹل فیصلے اور رحم دلي:
مثال کے طور پر بيک وقت ايک انسان کسي کے ساتھ رحم دلي بھي کرے اور وہيں اور وہيں پراپنافیصلہ بھي اٹل رکھے اور قطعاً کسي کوبے جا حق دينے پر راضي نہ ہو يعني رحم دلي اور قاطعيت آپس ميں دو ايسي متضاد صفتيں ہيں جو ايک شخص کے اندر جمع نہيں ہو سکتيں!ليکن حضرت امير المومنين عليہ السلام کے اندر رحم دلي، عطوفت و محبت اپني حد کمال کو پہنچي ہوئي ہے جو ايک عام انسان کے اندر بہت کم نظر آتي ہے مثال کے طور پر فقيروں کو مدد کرنے والے پسماندہ لوگوں کي مشکلات حل کرنے والے آپکو بہت مليں گے۔ مگر ايک ايسا شخص جو نمبر ١ ۔اس کام کو اپني حکومت کے دوران انجام دے ، نمبر٢ ۔اسکا يہ عمل ايک دو دن نہيں ہميشہ کا ہو،نمبر٣۔تنہا ماّدي مدد تک ہي اسکا يہ عمل محدود نہ رہے بلکہ وہ بنفس نفيس ايسے لوگوں کے گھر جائے،اس بوڑھے کي دلداري کرے، اس نابينا کو دلاسا دے ، ان بچوں کے ساتھ بچوں کي طرح کھيلے اسکا دل بہلائے اور اسي کے ساتھ ساتھ انکي مالي مدد بھي کرے پھر ان سے رخصت ہو يہ فقط امير المومنين عليہ السلام ہي کي ذات ہے اب ذرا بتائيے آپ دنيا کے رحم دل انسانوں ميں اس جيسا کتنوں کو پيش کر سکتے ہيں!؟ حضرت عليہ السلام مہر ومحبت عطوفت اور رحم دلي ميں اسطرح سے ديکھائي ديتے ہيں۔کہ ايک بيوہ جس کے چھوٹے چھوٹے بچے ہيں اسکے گھر جاتے ہيں ، تنور روشن کرتے ہيں انکے لئے روٹياں سينکتے ہيں انکے لئے کھاناپکاتے ہيں اور اپنے ہاتھوں سے ان يتيم بچوں کو کھانا کھلاتے ہيں يہي نہيں بلکہ اسلئے کہ ان بچوں کے لبوں پربھي دیگر بچوں کي طرح مسکراہٹ آئے اور وہ بھي کچھ دير کے لئے غم و اندوہ سے باہر نکل سکيں انکے ساتھ بچوں کي طرح کھيلتے بھي ہيں انہيں اپني پشت پر سوار کرتے ہيں انکے لئے ناقہ(اونٹ) بنتے ہيں اس جھونپڑي ميں انہيں مختلف طريقوں سے سرگرم رکھتے ہيں تا کہ وہ بھي مسکرا سکيں يہ ہے حضرت اميرالمومنين عليہ السلام کي رحم دلي اور محبت و عطوفت کي ايک مثال يہاںتک کہ محبت کا يہ برتاؤ ديکھ کر اس زمانے کے ايک بزرگ کہتے ہيں اس قدر اميرالمومنين يتيموں اور بے سہارا بچوں سے محبت سے پيش آتے اور انکے منہ ميں شہد ڈالتے اور انہيں پيار کرتے تھے کہ خود ميں تمنا کرنے لگا ’موددتُ ان اکون يتيماً ‘کاش ميں بھي يتيم ہوتاتاکہ مجھے بھي علي عليہ السلام اسي طرح پيار کرتے! يہ آپکي محبت ہے۔
اوريہي علي عليہ السلامجنگ نہروان ميں بھي ہيں جب کچھ کج فکر اور متعصب لوگ بے بنياد بہانوں سے آپکي حکومت کو ختم کر دينا چاہتے ہيں پہلے آپ انہيں نصيحت کرتے ہيں کہ وہ جسکا مطلقاً اثر نہيں ليتے ، احتجاج کرتے ہيں مگر اسکا بھي کوئي فائدہ نظر نہيں آتا۔کسي تيسرے آدمي کو صلح و مصالحت کے لئے واسطہ بناتے ہيں انکي مالي امداد کرتے ہيں ساتھ ساتھ رہنے کا وعدہ ديتے ہيں مگر ان سب سے کوئي فائدہ نہيں پہنچتا اور آخر کار وہ لوگ لڑنے پر تل جاتے ہيں پھر بھي آپ انہيں نصيحت کرتے ہيں مگر آپکي يہ نصيحت انکے لئے بے فائدہ ثابت ہوتي ہے اسوقت پورے شد و مد کے ساتھ پوري قطعيت سے پرچم زمين پر گاڑ کر فرماتے ہيں ! تم ميں سے کل تک جو بھي اس پرچم تلے آجائيگا وہ امان ميں رہے گااور جو نہيں آيا اس سے ميں جنگ کروں گا۔ ان بارہ ہزار١٢٠٠٠ افراد ميں سے ٨٠٠٠آٹھ ہزار افراد پرچم کے نيچے آگئے اور باوجوديکہ ان لوگوں نے آپ سے دشمني کي ہے، لڑنے ميں بر ابھلا کہا ہے پھر بھي فرماتے ہيں جاؤ تم لوگ يہاں سے چلے جاؤ و ہ لوگ چلے گئے اور پھر حضرت نے انہيں کوئي اہميت نہيں دي اور انہيں معاف کر ديا، جو دوسرے ٤٠٠٠چار ہزار بچے،فرمايا! اگر تم لڑنے پر تلے ہوتو آؤ پھر جنگ کرو، آپ نے ديکھا وہ لڑنے مرنے پر تيار ہيں فرمايا ! ياد رکھو تم چار ہزار ميں سے دس افراد کے علاوہ کوئي باقي نہيں بچے گا ۔جنگ شروع ہوگئي اس ٤٠٠٠ چار ہزار ميں ١٠ لوگ زندہ بچے بقيہ سب کے سب ہلاک ہوگئے، يہ وہي علي عليہ السلام ہيں جب ديکھا مقابلہ ميں بدسرشت و خبيث النفس انسان ہیں تو پھر پوري صلاحيت کے ساتھ ان سے جنگ لڑتے ہيں اور انکا دندان شکن جواب ديتے ہيں۔
خوارج کو ٹھيک سے پہچانيں:
’’خوارج‘‘ کا صحيح ترجمہ نہيں ہوا ہے مجھے افسوس ہے کہ مقرّرين ،اسلامي شعرائ فلموں ميں کام کرنے والے فنکار وغيرہ خوارج کو ’’خشک مقدس‘‘ سے تعبير کرتے ہيںجبکہ يہ سراسر غلط ہے، ’’خشک مقدس‘‘ کا کيا مطلب؟ ! حضرت امير عليہ السلام کے زمانے ميں بہت سے لوگ ايسے تھے جو اپني ذات کے لئے کام رہے تھے اگر آپ خوارج کو پہچاننا چاہتے ہيں تو ميںاپنے ہي زمانے ميں انکي مثاليں پيش کر سکتا ہوں۔

آپ نے (ابتدائے انقلاب اسلامي ايران) کے گروہ منافقين کو ابھي بھلايا نہ ہوگا؟ وہ لوگ تلاوت کرتے تھے، نہج البلاغہ کے خطبے پڑھتے تھے، دينداري کا دعويٰ کرتے تھے اورا پنے آپ کو سارے مسلمانوں سے مسلمان تر اور سارے انقلابيوں سے زيادہ انقلابي سمجھتے تھے اور وہي لوگ مملکت جمہوري اسلامي ايران ميں بم دھماکہ بھي کرتے تھے اور گھروں کے گھر ویران کردیتے تھے بوڑھے جوان عورت مرد بچوں تک کو ماہ رمضان المبارک ميں بوقت افطار قتل کردیتے تھے ! آخر کيوں؟کيا اسلئے کہ يہ لوگ واقعي امام خميني ۲اور انقلاب کے طرفدار تھے؟! جو ناگہاني طور پر بم دھماکے کرتے اور مثلاًايک بے گناہ قوم شہر کے فلاں ميدان ميں خاک و خون ميں غلطاں ہو جاتي تھي؟ يہي لوگ ٨٠ سالہ شہيد محراب ايک مقدس مجاہد راہ خدا ،عالم رباني کو اسي بم سے اڑا ديتے ہيں ان لوگوں نے چار پانچ بزرگ نوراني علمائ اور کئي مومنوں اور مجاہدوںکو اسي طرح شہيد کر ديا،عموماً انکي سياہ اعمالي يہ تھي اسي طرح سے خوارج اور انکے ناپسند افعال بھي تھے جو عبداللہ بن خبّاب کو قتل کر ديتے ہيں اسکے بعد انکي حاملہ بيوي کا پيٹ چاک کر کے جنين(بچے) کو باہر نکال ليتے ہيں اوربے رحمي سے اسکے سر کو کچل کر اسے موت کے گھاٹ اتار ديتے ہيں۔آخر ايسا کيوں؟ اسلئے کہ يہ علي ابن ابي طالبعليہ السلام کے چاہنے والے ہيں لہذا وہ اس جرم ميں قتل کر دئے گئے ہيں۔يہ ہيں خوارج ،يہ ہے انکي صحيح صورت ! اسلئے خوارج کو صحيح طور سے پہچانيے۔
جو تنہا ظاہري طور پر دين کا ڈھونگ کرنے والے قرآني آيات کاحفظ کر کے نہج البلاغہ کو رٹ کراگرچہ اس زمانے ميں نہج البلاغہ نہيں تھي ليکن اس قسم کي فکر رکھنے والے آئندہ اپنے مفاد و مصلحت کے تحت دين قرآن، نہج البلاغہ کو ايک وسيلہ قرار ديں گے کہ بعض ديني عقائد کے پاپند تھے ليکن روح دين کے مخالف تھے اور انہيں شديد تعصب تھا، ويسے تو وہ خدا خدا کرتے تھے مگر وہ شيطان کے حلقہ بگوش تھے کيا آپ نے اپني مملکت ميں نہيں ديکھا تھا کہ يہي منافقين جو اپنے آپ کوسب سے بڑا انقلابي سمجھتے تھے وقت پڑنے پر حکومت اسلامي،امام خميني
۲ اور ساري انقلابي قدروں سے جنگ کرنے کے لئے تيار ہوگے اور امريکہ یہودیوں اور صدام کے ساتھ ہاتھ بٹانے پر پوري طرح راضي ہوگئے اور انکي غلامي کرنے لگے!
خوارج اس قسم کے افراد تھے جواُسوقت اميرالمومنين عليہ السلام سيسہ پلائي ہوئے ديوار بن کے انکے مقابل ڈٹ گئے کہ قرآن کہتا ہے (اشدّا ئ علي الکفار ئ رحمائ بینھم) يہ وہي علي ہيںذرا غور تو کريں يہ دو(٢) خصوصیتیں کسطرح خوبصورتي اور زيبائي خلق کرتي ہيں،ايک ايساانسان جو رحم و محبت کا مجسمہ ہے اور ايک يتيم کو غم زدہ رہنا تک گوارہ نہيں کرتا اپنے دل ميں کہتا ہے جب تک اس بچہ کو ہنسانہ دونگا اپني جگہ سے ہٹ بھي نہيں سکتا، جبکہ ان الٹي فکروں اور غلط فکرکے لوگوں (جو بچھو کي طرح ہر بے گناہ کو ڈنک مارنے پر تلے ہيں )کے مقابلہ ميں يہي با فضيلت انسان ڈ ٹ کر مقابلہ کرتا ہے اور چار ہزار افراد کو ايک دن يا چند گھنٹوں ميں موت کے گھاٹ اتار ديتا ہے ۔ ’’ من يفلت منھم عشرۃ ‘‘کہ ظاہراً اس جنگ ميں خود آپکے پانچ يا چھ اصحاب شہيد ہوئے مگر ان چار ہزار ميں سے دس افراد سے کم يعني نو ٩لوگ باقي بچتے ہيں متوازي شخصيت کا مطلب يہ ہے يعني رحم دلي کے ساتھ ساتھ اپنے ارادوں میںمحکم بھي ہے ۔
پرہيز گاري اور حکومت اميرالمومنين عليہ السلام :
ايک دوسري مثال اور آپ کي متضاد صفات کا نمونہ حکومت کے ساتھ ساتھ تقويٰ و پارسائي ہے يہ ايک عجيب چيز ہے؟ ورع و تقويٰ کا کيا مطلب ہے؟ يعني انسان ہر وہ چيز جس سے دين خدا کي مخالفت کي بو آتي ہو اس سے پرہيز کرے اور اسکے قريب نہ جائے۔پھر ادھر حکومت کا کيا ہو گا؟ آخر ممکن ہے کہ حکومت رکھتے ہوئے کوئي پارسا بھي ہو آج جب ہمارے کاندھوں پر اہم ذمہ دارياں ہيں ہميں زيادہ احساس ہے کہ اگر يہ خصوصيات کسي کے اندر موجود ہوں تو وہ کسقدر اہميت کا حامل ہو گا، حکومت ميں رہتے ہوئے صرف اسے کلي قوانين سے سروکار ہوتا ہے اور قانون کا نفاذ اپني جگہ بہت سے فوائد لئے ہوتا ہے اگرچہ عين ممکن ہے اسي قانون کي وجہ سے مملکت کے کسي گوشہ ميں کسي شخص پر ظلم و ستم بھي ہواور ممکن ہے حکومت کے ذمہ دار کي طرف سے خلاف ورزياں بھي ہوں اور پھر نا محدود جزئيات کے ہوتے ہوئے کيسے ممکن ہے کہ وہ (حاکم)ہر شعبہ ميں زہد و پارسائي کا بھي لحاظ رکھ سکے؟ اسلئے بظاہر لگتا ہے کہ تقويٰ حکومت کے ساتھ اکٹھا ہونا نا ممکن سي بات ہے ليکن قربان جائیں اميرا لمومنين عليہ السلام کي ذات پر کہ اپنے وقت کي بااقتدار حکومت کے ساتھ بھي پارسائي و تقويٰ کو يکجا کرتے ہوئے ديکھائي ديتے ہيں جوايک حيرت انگيز بات نظر آتي ہے۔
وہ اس معاملہ ميں کسي کا پاس و لحاظ نہيں کرتے تھے کہ اگر انکي نگاہ ميں کوئي کسي منصب کا اہل نہيں ہے تو اسے منصب دے کر بھي بلاتکلف اس عہدے کو واپس لے ليتے ہيں ۔محمد بن ابي بکر کو حضرت اميرعليہ السلام اپنے بيٹے کي طرح سمجھتے تھے اور وہ حضرت علي عليہ السلام کو اپنے مہربان باپ کي حيثيت سے جانتے تھے (آپ ابوبکر کے چھوٹے صاحب زادہ اور علي عليہ السلام کے مخلص شاگرد ہيں آپکے دامن پر مہر و محبت ميں پروان چڑھے ہيں ) مگر مصر کي ولایت دينے کے بعد امير المومنين عليہ السلام نے ايک خط ميں آپکو لکھا ميں تم کو مصر کي حکومت کے لائق نہيں سمجھتا اسلئے مالک اشتر کو تمہاري جگہ بھيج رہا ہوں۔اور آپنے انکو معزول کر ديا اگرچہ انسان ہونے کے ناطے محمد بن ابي بکر کويہ بات بري بھي لگي مگر حضرت نے اس معاملہ ميں کسي بھي چيز کالحاظ نہيں کيا يہ ہے آپکي پارسائي ايسي پارسائي جسکي ضرورت ايک حکومت اور حاکم کو پڑتي ہے و ہ ذات علي عليہ السلام ميں اپنے نقطہ کمال پر نظر آتي ہے۔
آپکے زمانے ميں نجاشي نامي ايک شاعر تھا جو اميرا لمومنين عليہ السلام کا مداح اور آپکے دشمنوں کے خلاف اشعار کہتا تھا۔ماہ رمضان ميں ايک دن کسي گلي سے گذر رہا تھا کہ ايک برے انسان نے اسکو ورغلايا وہ کہتا ہے کہ آؤ آج ہمارے ساتھ ميں کچھ وقت گذارو مثلاً اس شاعر نے کہا نہيں ميں مسجد جا رہا ہوں قرآن پڑھنے يا نماز پڑھنے بہرحال زبردستي اس شاعر کو اپنے گھر ميں بلا ليا! آخر يہ بھي ايک شاعر ہي تو تھا اسکے فريب ميں آگيا اور اسکے دسترخوان پر روزہ خوري کے بعد شراب بھي پي جاتي تھي اور لوگوں کو اس بات کا پتہ چلا تو اميرالمومنين عليہ السلام نے فرمايا: اس پر حد جاري کرواور اس کو اسي٨٠ تازيانے شراب نوشي کي وجہ سے اور دس١٠ يا بيس٢٠تازيانے دن ميں حرام چيز سے روزہ توڑنے کي بنائ پر ۔ نجاشي نے کہا ميں آپکا اور آپکي حکومت کا مداح ہوں اپنے اشعار سے آپکے دشمنوں کو جواب ديتا ہوں اور آپ مجھے تازيانے مارنے کا حکم دے رہے ہيں؟فرمايا، کہ يہ ساري باتيں اپني جگہ قابل قبول اور قابل تحسين ہيں مگر ميں حکم خدا کو اپني ذات کي خاطر معطل نہيں کر سکتا ،ہر چند انکے قوم و قبيلہ والوں نے اصرار کيا يا اميرالمومنين عليہ السلام اسطرح ہماري عزت چلي جائيگي پھر ہم معاشرے ميں سر اٹھانے کے قابل نہيں رہیں گے آپ معاف کر ديجئے مگر حضرت نے فرمايا نہيں ممکن نہيں کہ ميں حد خدا جاري نہ کروں ۔ اس شخص کو لٹايا گيا، اور اسے کوڑے مارے گئے اور وہ راتوں رات آپکي حکومت سے يہ کہتے ہوئے فرار کر گيا کہ جب آپ کو ميري قدر نہيں معلوم اور آپکي حکومت ميں روشن خيالوں اور شاعروں کے ساتھ يہ برتاؤ ہے تو ميں وہاں جاؤنگا جہاں ہماري قدر کو پہچانتے ہوں ! اور معاويہ کے دربار ميں اس خيال سے چلا گيا کہ وہ اسکي قدر کو جانتا ہے ! خيرجسے اپني خواہشات پر اتنا قابو نہيں کہ وہ علي عليہ السلام کي تابندگي کو اپني خواہشات کے طوفان ميں جھانک کر ديکھ سکے تو اسکي سزا بھي يہي ہے کہ وہ علي عليہ السلام کو چھوڑ کر معاويہ کے پاس چلا جائے حضرت علي عليہ السلام حضرت جانتے تھے کہ يہ شخص ايک نہ ايک دن ان سے جدا ہو جائے گا آج بھي شعرائ اور فنکاروں کي اپني جگہ اہميت ہے ليکن اس زمانہ ميں ايک شاعر اسلئے زيادہ اہميت رکھتا تھا کہ وہ افکار و خيالات اور حکومت کي سياست و حکمت عملي کو اپنے شعروں میں لوگوں تک پہنچاتا تھا کيونکہ اس زمانے میں آج کي طرح ٹيلويژن اور ريڈيو نہيں تھے بلکہ يہ شعرائ کا کام ہو ا کرتا تھايہاں ملاحظہ کيجيے کس طرح اميرالمومنين عليہ السلام کي پارسائي انکي بااقتدار حکومت کے ساتھ ساتھ ہے ذرا ديکھيں توسہي کيا خوبصورتي و زيبائي سامنے نکھرکر آتي ہے ۔ہم دنيا اور تاريخ عالم ميں اس قسم کي مثال نہيں تلاش کر سکتے ۔پيش رو خلفائ ميںبھي بہت سي جگہوںپر صلاحیت نظر آتي ہے ليکن کہاں حضرت اميرعليہ السلام کہاں ديگر لوگ جو کچھ آپ سے پہلے اور آپکے بعد اور آج نظر آرہا ہے گذِشتہ اور آج میں ايک عجيب و غريب فاصلہ نظر آتا ہے اصلاً اميرالمومنين عليہ السلام کي صلاحيت و قابليت ناقابل توصيف ہے۔
قدرت اور حضرت علي عليہ السلام کي مظلوميت:
ايک دوسرا نمونہ جو آپکي زندگي ميں ملتا ہے وہ ہے آپکي قدرت و شجاعت اور مظلوميت ۔آپکے زمانے ميں آپ سے زيادہ شجاع و بہادر کون ہو سکتا ہے؟ اميرالمومنين عليہ السلام کي آخري زندگي کے آخري لمحات تک کسي شخص کي بھي جرآت نہ ہو سکي کہ آپکي شجاعت و قدرت کے سامنے اپني بہادري کا دعو يٰ کرسکے اس کے باوجود آپکي ذات گرامي اپنے زمانے کي مظلوم ترين شخصيت ہے۔ کسي کہنے والے نے کتني سچي بات کہي ہے کہ شايد تاريخ اسلام کي شخصيتوں ميں مظلوم ترين شخصيت آپ کي ذات ہے قدرت اور مظلوميت آپس ميں دو متضادصفات ہيں جو جمع نہيں ہوتيں،عموماً طاقتور مظلوم نہيں مگر امير المومنين عليہ السلام قوت وطاقت کے مالک ہو کر بھي مظلوم واقع ہوئے ہيں۔
حضرت علي عليہ السلام کي سادگي اور زھد:
سادگي اور دنيا سے بے توجہي اميرالمومنين عليہ السلام کي حيات بابرکت ميں ضرب المثل کي حيثيت رکھتي ہے، نہج البلاغہ کے موضوعات ميں سے ايک اہم موضوع زہد ہے يہي اميرالمومنين عليہ السلام وفات پيغمبرصلي اللہ عليہ وآلہ وسلم کے بعد سے اپنے زمانہ حکومت تک ٢٥ سالہ خانہ نشيني کے دوران اقتصادي آباد سازي کے کام کرتے رہے، باغ لگاتے ، کنويں کھودتے، پاني کي نہريں اور کھتي باڑي کرتے تھے اور تعجب اس بات پر ہے کہ يہ ساري محنتيں راہ الہيٰ ميںہوتيں اور ان سب چيزوں کو راہ خدا وقف کر ديتے تھے۔
شايد آپکو يہ جان کر حيرت ہوگي کہ خود اميرالمومنين عليہ السلام اپنے وقت کے مالدار لوگوں ميں سے تھے کہ آپ نے فرمايا! اگر ميرے مال سے نکلي ہوئي خيرات پورے قبيلہ بني ہاشم پر تقسيم کر دي جائے تو سب کے لئے کافي ہوگي ’’ انّ صدقتي لووزّع عليٰ بني ہاشم لوسعھم‘‘ تو حضرت کي درآمدکم نہيں تھي مگر وقت کا يہ دولت مند انسان فقيرانہ زندگي بسر کرنے کو ترجيح ديتا ہے اور اپنے زور بازو سے کمائي ہوئي دولت راہ خدا ميںخرچ کر ديتے ہيں، اپنے ہاتھوں کنواں کھود رہے ہيں راوي کہتا ہے ميں نے ديکھا فوارے کي طرح زمين سے پاني ابل رہاتھا حضرت مٹي اور کيچڑ ميں لتھ پتھ کنويں سے باہر تشريف لائے کنويں کے دہانے پر بيٹھ گئے ايک کاغذ منگوايا اور اس پر اسطرح لکھا: يہ کنواں فلاں قبيلہ کے لوگوں کے ليے ميں وقف کرتا ہوں،آپ جو کچھ بھي اميرالمومنين عليہ السلام کي خلافت کے دوران آپکے کاموں کو ملاحظہ کرتے ہيں وہ سب آپکي انفرادي زندگي کے کارنامہ ہيں جسکي برکتيں آپکے دوران حکومت ميں بھي عياں رہيں دنيا سے بے توجہي اوردنیا کو آباد کرنے (کہ خدا نے تمام انسانوں کا يہ ايک فريضہ قرار ديا ہے) ميں کوئي تضاد نہيں پايا جاتا يعني دنيا کو تعمير کریں زمين آباد کريں ثروت و دولت کے اسباب وسائل تلاش کريں مگر ان سب سے دل نہ لگائيں اسکے اسير و غلام نہ ہوں تا کہ با سکون ہو کر اسے راہ خدا ميں خرچ کر سکيں اسلامي اعتدال اور توازن کا يہ مطلب ہے کہ حضرت علي عليہ السلام کي (اور ديگر آئمہ کي زندگيوں ميں)اس قسم کے بہت سے نمونہ ہيں جسکے بيان کرنے کے لئے وقت درکار ہے۔
عدالت اميرالمومنين عليہ السلام :
عدل!علي عليہ السلام کي زندگي ميںايک اہم صفت کي حيثيت رکھتا ہے، جب ہم عدل علي عليہ السلام کي بات کرتے ہيں تو اسکا ايک مطلب وہي ہے جسے ہر انسان اپني جگہ درک کرتا ہے يعني وہ معاشرہ ميں،اجتماعي عدل و مساوات بر قرار کرنے والے حاکم ہيں۔يہ ہے ابتدائي عدل ليکن بالاترين عدل يہي اعتدال و توازن ہے ’’بالعدل قامت السموات والارض‘‘ زمين اور آسمانوں کي استقامت و استواري عدل کي بنائ پر ہے يعني ايک توازن ہے خلقت و فطرت ميں کہ يہي بات حق بجانب بھي ہے اورآ خري معني کے لحاظ سے درحقيقت عدل و حق ايک ہي حقيقت کي دو تعبيریں ہيں اميرالمومنين عليہ السلام کي زندگي کا امتياز ہي یہ ہے کہ وہ اعتدال و توازن کا مظہر نظر آتي ہے اور سارے محاسن و محامد(اچھائیاں) اپني اپني جگہ نقطہ کمال پر پہنچے ہوئے دکھائي ديتے ہيں۔

علي عليہ السلام کي دعا اور توجہ و استغفار:
اميرالمومنين عليہ السلام کي خصوصيات ميں سے آپکي ايک خصوصيت بارگاہ خداوندي ميں خود انکا استغفار کرنا اور طلب مغفرت ہے کہ اس خطبہ کے آخري حصہ ميں آپکي اسي خصوصيت کے بارے ميں چند جملے بيان کرنا چاہتا ہوں۔
آپکي زندگي ميں توبہ و استغفار نہايت اہميت رکھتا ہے آپ ذرا تصور کريں ايک ايسي ذات جو ميدان جنگ کے بے مثل بہادرہيں جنگ کے ميدان ميں صف آرائي کرتے ہيں (اگر آج کے زمانے ميں اميرالمومنين عليہ السلام کي حکومت پرنظر دوڑائيں تو اس زمانے ميں آپکي حکومت تقريباً دس١٠ ممالک کو اپنے حدود اربعہ ميں سميٹے ہوئے نظر آئے گي) اور اس جيسے وسيع و عريض مملکت کے حاکم ہوتے ہوئے ان ساري فعاليّتوں اور تلاش کو شش کے باوجود ايک منجھے ہوئے ماہر سياست دان ہيں وہ انکي ماہرانہ سياست، ميدان جنگ کي ، معاشرے کے نظم و نسق کي ذمہ داري مسند قضاوت پر آکر لوگوں کے حقوق کي بازدہي اور انساني حقوق کي حفاظت جيسے عظيم اور بزرگ امور انسان کي مصروفيات بڑھا دينے کے علاوہ ہر کام اپنے ليے خصوصي انتظام چاہتا ہے يہي وہ مقام ہے جہاں ايسے لوگ جو فقط ايک زاويہ سے نگاہ کرتے ہيں اپني انہيں مصروفيات کو دعا و عبادت کہہ کر ، دعا و عبادت سے دور ہو جاتے ہيں اسلئے کہ انکے خيال ميں يہ سب راہ خدا ميں کام ہي تو ہے مگر اميرالمومنين عليہ السلام اسطرح نہيں فرماتے بلکہ حکومتي اصرار اپني جگہ اور عبادت وبندگي اپني جگہ اسي طرح سے جاري رہتے ہيں، بعض روايات ميں ہے۔البتہ ذاتي طور پر خود ميں نے اس روايت کي چھان بين نہيں کي ہے کہ آپ روز و شب ميں ايک ہزار رکعت نماز پڑھا کرتے تھے۔
حضرت دوران جواني سے ہي اسي طرح تھے يہ جو دعائيں آپ ديکھتے ہيں يہ آپکا روزانہ کا وتيرہ تھا۔آنحضرت صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم کے زمانے ميں بھي آپ ايک انقلابي جوان کي حيثيت سے ہر ميدان ميں پيش پيش تھے کبھي آپ بیکار نہيں بيٹھے اور آپکے پاس کبھي خالي وقت نہيں تھا۔
ليکن اسي دوران جب اصحاب ميں گفتگو چلي اور آپس ميں پوچھا کہ سب سے زيادہ عبادت کس کي ہے تو ’’ابو دردائ‘‘نے علي عليہ السلام کا نام ليا سوال کيا کس طرح؟ تو انہوں نے دوران جواني اور اسکے بعد پھر خلافت کے زمانے کي مثال پيش کر کے سب کو قانع کر ديا مختلف واقعات ہیںجيسے نوف بکائي کا واقعہ۔آپکي عبادت کے سلسلے ميں نقل ہوئے ہيں يہ صحيفہ علويہ جسے بزرگوں نے جمع کيا ہے وہي اميرالمومنين عليہ السلام سے ماخوذدعاؤں کا مجموعہ ہے اور دعائے کميل اسکا ايک نمونہ ہے جسے آپ ہر شب جمعہ پڑھتے ہيں، ايک مرتبہ ميں نے امام خميني
۲سے سوال کیاکہ آپ موجودہ دعاؤں ميں سے کس دعا کو سب سے زيادہ پسند کرتے ہيں اور باعظمت سمجھتے ہيں تو انھوں نے تھوڑا سا سوچنے کے بعد فرمايادو٢ دعائيں ہيں ايک دعائے کميل جسے ميں زيادہ پسند کرتا ہوں اور با عظمت سمجھتا ہوں ،دوسري مناجات شعبانيہ، ميرا قوي گمان ہے کہ مناجات شعبانيہ بھي اميرالمومنين عليہ السلام ہي سے ماخوذ ہے کيونکہ روايت ميں آيا ہے کہ تمام آئمہ اس مناجات سے مانوس تھے اور اسکے مضامين بھي دعائے کمیل کے مضمون سے ملتے جلتے ہیں۔
دعائے کميل بھي کيا عجيب دعا ہے، آغاز سخن استغفار سے ہے کہ خدا کو دس١٠ چيزوں کي قسم دي ہے ’’اللھم اني اسئلک برحمتک التي وسعت کل شئي‘‘ خدا کو اسکي رحمت قدرت اور صفت ،جبروتیت کي قسم دي ہے يہاں تک کہ پروردگار کوانہي عظيم صفات کي قسم ديکر فرماتے ہيں ’’اللھم اغفرلي الذن التي تھتک العصم ، اللھم اغفرلي الذنوب التي تنزل النعم،اللھم اغفرلي الذنوب التي تحبس الدعائ‘‘يہاں پر حضرت پانچ قسم کے گناہوں کو بارگاہ خداوندي ميں شمار کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہيں ۔ايک وہ گناہ جو دعاوں کو باب اجابت تک پہونچنے سے روک ديتے ہيں دوسرے وہ گناہ جو نزول عذاب کا سبب بنتے ہيں وغيرہ يعني ان میں دعاؤں کي ابتدائ استغفارسے ہے اور اس دعا کا اکثر وبيشتر مضمون طلب مغفرت ہي ہے ۔بارگاہ رب العزت ميں بخشش و طلب مغفرت کے لئے دل ميں آگ لگا دينے والي سوزوگذار سے بھري ہوئي ايک مناجات ہے يہ ہيں اميرالمومنين عليہ السلام اور يہ ہے انکي مناجات اور راہ خدا ميں استغفار...
ميرے عزيزوں : ايک کامل اور عالي مرتبت انسان وہي ہے جو خواہشات و ہويٰ نفس سے اپنے آپ کو خالص کر کے راہ خدا ميں چلنے کي کوشش کرتا ہے اور اپنے معبود کي خوشنودي کے لئے قدم بڑھاتا ہے، وہ شخص جو اپني خواہشات کا غلام ہے جو اپنے غيض و غضب او ر شہوت ہي سے نہ نکل سکے وہ ظاہري طور پر چاہے کس قدر عظيم کيوں نہ ہو جائے لیکن درحقیقت ايک پست و حقير انسان ہے۔
دنيا کے بڑے بڑے وزرائے اعظم ،صدرہاي جمہوريہ جو دنيا کي بڑي بڑي ثروتوں پرقبضہ جمائے ہوئے ہيں وہ کب اپني خواہشات اورہويٰ نفساني سے جدا ہو سکتے ہيں اور وہ کب اسکي اسارت و غلامي سے نجات پا سکتے ہيں؟وہ تو اپني خواہشات کے اسير ہيں اور حقير و پست انسان ہيں۔
ليکن ايک وہ فقير و غريب جو اپني خواہشات پر قابو رکھ سکتا ہے اور اپنے نفس کو اپنے اختيار ميں کر سکتا ہے اور صحيح راستے پر راہ کمال انساني اور راہ خدا ميں چل سکتا ہے اپني جگہ ايک بزرگ وعظيم انسان ہے۔
استغفار کا اثر:
استغفار اور طلب مغفرت انسان کو حقارت و پستي سے نجات دلاتا ہے خدا سے استغفار ہميں اور آپکو ساري نفساني و شہواني زنجيروں سے رہائي عطا کرتا ہے استغفار دل کي وہ نورانيت ہے جسے خدا نے آپکو عطا کيا ہے۔
دل يعني جان، روح،يعني وہي حقيقت انسان ، يہ ايک نہايت نوراني شي ہے ہر انسان اپني اپني جگہ نوراني وجود کا حامل ہے چاہے خدا سے اسکا تعلق بھي نہ ہو اور وہ اسکي معرفت بھي نہ رکھتا ہو۔

البتہ لوگ اپني شہوت پرستي،خواہش نفس کي پيروي اور عدم شناخت کي وجہ سے اپنے قلب کو زنگ آلودکر ليتے ہيں اور استغفار اس زنگ کو مٹا کر اسے پھر سے نوراني کر ديتا ہے۔
ماہ رمضان دعا و استغفار کا ايک بہترين موقع ہے ۔ انيسويں اور اکيسويں کي راتیں کہ جسکے شب قدر ہونے کا احتمال پايا جاتا ہے گذر چکي ہے مگر ابھي تيسويں کي شب باقي ہے اسکي قدر کريں غروب کے بعد تيسويں شب کے آغاز ہي سے سلام الہيٰ ’’ سلام ھي حتيٰ مطلع الفجر‘‘کا آنا شروع ہو جاتا ہے يہاںتک کہ صبح کي اذان کا آغاز ہو جاتا ہے درميان کي يہ گھڑياں سلامتي و امن الہيٰ کي برکتيں ليکر ساري مخلوقات کو رحمت کے سايہ ميں لے ليتیںہيں۔يہ ايک عجيب و غريب شب ہے،ہزار ماہ سے بہتر ’’خير من الف شھر‘‘ہزار ماہ سے بہتر، برابر نہيں انسان کي ہزار مہينہ کي زندگي کس قدر بابرکت ثابت ہو سکتي ہے کس قدرانسان رحمت و برکت الہيٰ کو اپني ذات کے لئے مخصوص کر سکتا ہے اسلئے يہ شب بہت اہميت رکھتي ہے اسکي قدر و منزلت کو پہچانيں اور دعاو مناجات ، ميں سرگرم عمل رہيں خلقت اور آيات الہيٰ ميں تفکر و تعقل کريں انسان کي سرنوشت اور جو کچھ خدا نے اس سے چاہا ہے اسکے بارے ميں غور و خوض کريں ياد رکھيں يہ سب مادي اسباب وسائل زندگي سب کے سب اس عالم ملکوت کے لئے دريچہ کي حيثيت رکھتے ہيں جومرنے کے فوراً بعد انسان پر کھل جائيں گے اور ياد رکھيں دنيا کو کوئي ثبات و دوام حاصل نہيں ہے۔
معزز حاضرين !جان کني کے وقت ہم لوگ ايک دوسري دنيا ميں پہنچ جاتے ہيں اس دن کے لئے پہلے سے ہي ہميں اور آپکو تيار رہنا چاہئے يہ ساري کائنات،يہ دولت و ثروت ،يہ قوت و طاقت جسے خدا نے ہمارے وجود ميں حرکت و تحريک عمل پيدا کرنے کیلئے وديعت فرمايا ہے اور وہ تمام چيزيں جس کا خدا نے ہم سے مطالبہ کيا ہے ۔ جيسے عدل و انصاف کي حکومت اچھي زندگي وغيرہ۔سب کے سب صرف اس لئے ہيں تا کہ انسان اس دنيا ميں جانے کے لئے پوري طرح تيار ہو سکے، لہذا خود کوآمادہ کيجئے، خدا سے مانوس ہوجائیے ، خدا سے مناجات کيجئے،ذکر و درود کيجئے توبہ و استغفار کيجئے۔
ايسے لوگ جو اپنے کو خدا سے نزديک کرتے ہيں، اپنے قلب کو پاک وپاکيزہ رکھتے ہيں گناہوں سے دوري کرتے ہيں اعمال خير انجام دينے کا مصمم ارادہ رکھتے ہيں وہي دنيا کے عظيم انسان ہيں۔ جو دينوي مشکلات کے مقابلے کا حوصلہ رکھتے ہيں جسکا ايک نمونہ قائد انقلاب اسلامي حضرت امام خمیني
۲ ہيںاور ہمارے اس معاشرے کے مومنين بھي ہيں، وہ مومن و مخلص انتھک جوان، يہ عورتيں اور مرد ،وہ حضرات جو شہيد ہوگئے، جو زخمي ہوئے اورغازيِ میدان کہلائے ،جنہوں نے دشمن کے شکنجے برداشت کيے اور قيد و بند کي مصيبتيں جھيليں،ميدان جنگ کي سختياں برداشت کيں، يہ سب اسي کا ايک دوسرا نمونہ ہيں۔آج آپ انہيں شہداميں سے ايک ہزار شہيدوں کو سپرد خاک کر رہے ہيں اسميں سے ہر ايک اپني اپني جگہ ايک عالي رتبہ، اورنمونے کي حيثيت رکھتا ہے ا ور کتنا اچھا ہوتا کہ ہر قوم وملت ميں ایک دو نمونے ديکھنے کو ملتے،مناسب ہے کہ آپکي تجليل اور احترام کيا جائے اور انہيں اسوہ نمونہ کے طور پر پيش کيا جائے۔(١)
مختلف حالات و شرائط کا سامنا:
شايد دنيا کے مشہور و معروف لوگوں خاص طور پر اسلامي شخصيتوں کے درميان اميرالمومنين عليہ السلام کے علاوہ (یہاں تک کہ خود آنحضرت صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم)ايسا کوئي اور نظر نہيں آتا جو مختلف دين و مذہب کے ماننے والوں اور مختلف قوم و ملت ميں زيادہ محبوبيت رکھتا ہو، جب آپ انکي شخصيت پر نظر ڈاليں گے تو آپکو معلوم ہوگا کہ اگرچہ آپکے زمانے ميں کچھ سرکش اور خود غرض لوگ آپکي شمشير عدالت اور شدّت عدل و انصاف کي وجہ سے آپ سے بيزار نظر آتے ہيںاورآپکے بدترين دشمن ہيں مگر وہي لوگ جب اپنے دل کي گہرائيوں ميں جھانک کر ديکھتے ہيں تو علي عليہ السلام کي نسبت اپنے دل میں تعظيم و تکريم اور محبت کا احساس بھي کرتے ہيں اور يہي صفت بعد کے زمانے ميں بھي ديکھائي ديتي ہے جہاں علي عليہ السلام کے دشمن بہت ہيں وہيں آپکے مداح بھي بکثرت موجود ہيں حتي وہ لوگ بھي آپکے مداح ہيں جو آپکے مذہب و مسلک پر اعتقاد بھي نہيں رکھتے۔
پہلي صدي ہجري ميں زبير کا خاندان بني ہاشم خصوصاً آل علي سے بغض و عداوت کے لئے مشہور رہا ہے اور يہ عداوت زيادہ تر عبداللہ بن زبير کي وجہ سے تھي، ايک دن زبير کے پوتوں ميں سے ايک نے اپنے باپ سے دريافت کيا
کہ آخر کيوں دشمن کے پروپگنڈے کے باوجود روز بروز علي کا خاندان اور انکا نام لوگوں ميں زيادہ محترم ہوتا جا رہا ہے اور


١۔ ٢١ رمضان ١٤١٧ھ ميں تہران کے خطبہ نماز جمعہ ميں رہبر انقلاب اسلامي کا ايک بيان۔
انکے خلاف پروپگنڈے کا کوئي اثر نہيں ہوتا؟ اسکے باپ نے تقريباً اس طرح سے جواب ديا: ان لوگوں نے خدا کے لئے حق کي طرف لوگوں کو دعوت دي يہي وجہ ہے اوران کے دشمنوں نے لوگوں کو باطل کي طرف بلاياکہ آج تک کوئي اس شرف و فضيلت کو چھپانے کي کوششوں کے باوجود بھي نہيں چھپا سکا۔
طول تاريخ ميں يہي ديکھا گيا آپ دنيا کے بڑے بڑے متفکرين ، (چاہے وہ مسلمان ہوں یاغير مسلمان) کو ديکھيں وہ لوگ اميرالمومنين عليہ السلام کي نسبت اظہار محبت کرتے ہوئے نظر آتے ہيں دنيا کے وہ بزرگ جنہوں نے اپني قوم و ملت کے حق کو حاصل کرنے کے لئے پرچمِ بغاوت بلند کيا ان سب کي نگاہوں ميں اميرالمومنين عليہ السلام معزّزہيں،شعرا ئ ادیبوں،فنکاروںاور بشر دوست حضرات کو ديکھيں تو وہ بھي آپکا کلمہ پڑھتے ہوئے دکھائي ديتے ہيں۔المختصر وہ جوان ہو يا بوڑھا عالم ہو يا جاہل اگر تاريخ اسلام سے آشنا ہے يا اميرالمومنين عليہ السلام کا نام اسکے کانوں سے ٹکرايا ہے اُنکے حالات زندگي سے واقفيت رکھتا ہے تو وہ آپ سے محبت و مودّت کا اظہار کرتا نظر آتا ہے۔
خود ہمارے زمانے ميں کئي مصنفين اور مصري اديبوںکے ذريعہ کئي کتابيں امير المومنين عليہ السلام کي شخصيت کے بارے ميں منظر عام پر آئي ہيں۔کہ اسميں سے دو٢يا اس سے زيادہ کتابيں عيسائي مذہب رکھنے والے مصنفين کي لکھي ہوئي ہيں جو اسلام کو تو قبول نہيں رکھتے مگر وہ علي عليہ السلام کو مانتے ہيں۔
علي عليہ السلام کي زندگي کے مختلف دور:
مختلف اسلامي شخصيتوں کے مابين تنہا يہ اميرالمومنين عليہ السلام کي ہي خصوصيت ہے جو اپني زندگي کے مختلف ادوار ميں مختلف حالات و شرائط ميں رہ کر اپنے بلند و عالي اہداف کے تحت جہاں کہيں بھي رہے اپنے پورے وجود کو صرف کر ديتے ہيں
آپ اميرالمومنين عليہ السلام کو مکہ ميں ايک سولہ ١٦ سالہ يا انيس١٩ سالہ جوان کي حيثيت سے فرض کريں يا مدينہ ميں وارد ہوتے وقت کہ (جب بھي آپ تقريباً ايک ٢٠ بيس سالہ جوان ہي ہيں) فرض کريں و ملاحظہ کريں گے کہ حقيقتا ً ايک جوان ہونے کي حيثيت سے آپ ہر زمانے کے جوانوں کے لئے بہترين نمونہ ہيں،جواني کي تمام خواہشات اور دينوي لذتوں سے دور ہیں ۔یہاں تک کہ وہ زيبائي و خوبصورتي جو اس دوران ايک جوان کي نظر ميں اہميت رکھتي ہے اس سے بھي لا تعلق ہيں اور بعثت نبي اکرم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم کا جو عالي و بلند مرتبہ مقصد تھا وہي آپکا بھي ہدف ہے اس راستے ميں خود کو فدا کر دينے پر تلے ہوئے ہيں آپکي نگاہ ميں دنيا کي بقيہ چيزيں دوسرے درجہ کي حيثيت رکھتي ہيں۔يہ ايک جوان کے لئے نہايت اہميت رکھتي ہے کہ وہ دنيا کي لذتوں ، شيرينيوں کي طرف کوئي توجہ نہيں ديتا اور اپني ساري خوشياں راہ خدا ميں قربان کر ديتا ہے کيا اس سے بھي بلند کوئي شئي ہو سکتي ہے ؟
اس زمانے کونظر ميں رکھيں جبکہ آپ ايک پختہ کار کي حيثيت سے اپنے معاشرے کا ايک فرد شمار ہوتے ہيں اور آپکا اچھا خاصاسن ّ ہے شايد ہزاروں لوگوں نے خود پيغمبر صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم کي زبان سے آپکي تعريف و تمجيد سني ہوگي ميرا خيال ہے کہ کوئي بھي مسلمان محدّث ايسا نہيں ہوگا جس نے پيغمبر صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم کي زباني اميرالمومنين عليہ السلام کے علاوہ کسي اور کي اسقدر مدح و ستائش سني ہو البتہ ديگر صحابہ کے بھي فضائل نقل ہوئے ہيں مگر کميت و کيفيت کے لحاظ سے جو فضائل و مناقب اميرالمومنين عليہ السلام کے لئے تمام فرق اسلامي کے محدثين نے آنحضرت سے نقل کئے ہيں ميرے خيال ميںکسي اور کے بارے ميں نقل نہيں کئے ہيں۔مگر اسکے باوجود نہ تو آپ اس تعريف کي وجہ سے مغرور ہوتے ہيں نہ اپنے فرائض کي ادائيگي ميں لغزش کا شکار ہوتے ہيں جبکہ ايسي جگہ ايک انسان کے لئے مغرور ہونا يا خطا کرنا فطري امر ہے۔
تمام صحابہ نے آپکے بارے ميں سينکڑوں تعريفيں سنيں گويا امتحان دينے کا وقت آن پہنچا اور خلافت کا مسئلہ پيش آيا جو مسلمہ حقيقت ہے وہ يہ ہے کہ علي عليہ السلام مدعي خلافت تھے (في الحال مجھے حق و باطل يا پيغمبر صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم کي وصيت وغيرہ سے يہاں کچھ لينا دينا نہيں )ليکن جب آپ نے ديکھا کہ خلافت سے کنارہ کشي ہي اسلامي مصالح کے لئے ضروري ہے تو خود کو ميدان خلافت سے دور کر ليا يعني اميرالمومنين عليہ السلام حق بجانب ہوتے ہوئے بھي امت اسلامي کي مصلحت کے پيش نظر وقتي طوراپني ساري خوبیوں پر اپنے سارے محامد و محاسن کے باوجود خلافت سے کنارہ کش ہوگئے اور فرمايا’’ جب ميں نے ديکھا حالات بدتر ہو گئے ہيں اور دين اسلام کو خطرہ لاحق ہے توميں خلافت سے کنارہ کش ہو گيا‘‘
ايک مخلص سياستداں، ايک عظيم انسان جو کہ اپني خواہشات کے مطابق نہيں چاہتا کہ عمل کرے، اسکے لئے اس سے بڑھ کر واضح ،گويا اور حيرت انگيز انداز ميں اپنے نفس پر کنڑول اور کسطرح ہو سکتا ہے!؟ يہي شخصيت ايک دن حاکم اسلام ہو جاتي ہے لوگ چاہتے ہوئے يا نہ چاہتے ہوئے بھي اسے رياست اسلامي کے لئے انتخاب کرتے ہيں دوست ،دشمن،رقيب،حبيب يا آپکے ہاتھوں پر بيعت کرتا ہے يا پھر اپني مخالفت کا اظہار کرتا ہے (پانچ ، چھ لوگ ايسے بھي تھے جنہوں نے آپکے ہاتھ پر بيعت نہيں کي اور اعلان کيا کہ ہم آپکي مخالفت بھي نہيں کريں گے) بقيہ سب نے آپکے دست مبارک پر بيعت کي اور آپ ساري دنيائے اسلام کے حاکم و مولا ہو گئے، آپ تصور کر سکتے ہيں اس زمانے کي اسلامي دنيا کے کيا معني ہيں؟ يعني ہندوستان کي سرحدوں سے دريائے بحر احمر تک جس ميں عراق ،مصر ،شام، فلسطين اور ايران سب کے سب شامل ہيں شايد اس زمانے ميں آباد دنيا کا آدھا حصہ آپکي زير سلطنت ہے۔
اس وقت آپکي سادہ زيستي ،زہد و پارسائي جسکے بارے ميں آپ سنتے رہتے ہيں وہ اسي دوران حکومت سے تعلق رکھتي ہے يعني يہ زندگي کي لذتيں،عيش و عشرت، اور آسايش و آرام جو کسي بھي بڑے سے بڑے انسان کو اپني طرف کھينچ کر فرائض سے دور کر ديتا ہے اسميں سے کوئي بھي شئي لمحہ بھر کے لئے بھي اميرالمومنين عليہ السلام کے دل ميں شک و ترديد نہيں پيدا کر پائي ، نہ ہي اُنکے راستے سے انہيں ہٹا پاتي ہے۔
انہوں نے ثابت کر ديا کہ سارے گمراہي کے اسباب و وسائل ايک طرف اور انکي قوت ارادي اور اقتدار نفس ايک طرف۔عظمت و بزرگي اسے کہتے ہيں، يہ ہيں وہ چيزيں جو نسلوںکو انساني اجتماع اور پوري تاريخ بشريت کو اپنے مقابل خضوع و خشوع پر مجبور کرتي ہيں،اگر کوئي انصاف پسندي سے کام لے تو وہ اس جيسي شخصيت کے مدمقابل سر کشي نہيں کر سکتابلکہ سب کے قلوب خودبخود اسکے سامنے جھک جائيں گے۔
اگر کسي کے يہاں اميرالمومنين عليہ السلام کے اندر موجود صفات کا ايک کر شمہ بھي پايا جاتا ہو تو وہ اپنے نفس اور خواہشات پر غلبہ حاصل کر سکتا ہے۔حضرت امام خمیني
۲ ہمارے زمانے کي عظيم شخصيت جسے آپ نے ديکھا ہے دنيا کي بڑي اور عظيم شخصيتيں انکے سامنے اپني پستي کا احساس کرتي تھيں۔انکے نمائندگان چونکہ آپکے نام اور آپکي ياد ليکر جاتے تھے دنيا ميں کہيں بھي گئے دنيا کے بااقتدار سرکش حاکموں کو اپنے سامنے خضوع پر مجبور کر ديتے تھے اسلئے کہ حضرت امام خميني ۲ نے اميرالمومنين عليہ السلام کي خوبصورت اور زيباصفات والي ذات کا کچھ گوشہ اپني زندگي ميں عملي کر ليا تھا۔
البتہ ان تجليات کے بارے ميں جو کچھ ہم يہاں بيان کر رہے ہيں اپني جگہ عظيم ہيں مگر اميرالمومنين عليہ السلام کي لا متناہي ذات کے مد مقابل ايک قطرے کي طرح بہت کم اورحقير ہے ليکن خود آپکي شخصيت بہت عظيم ہے۔
اميرالمومنين عليہ السلام کي بزرگي و عظمت:
ميرے عزيزو:اميرالمومنين عليہ السلام کو اسطرح نہيں پہچانا جا سکتا کہ وہ کيا تھے انکي بلند و بالا شخصيت ان ناقص معیاروں کي بنياد پرآخر کس طرح سمجھي جا سکتي ہے؟ايک دن ايک صحابي امام سجاد عليہ السلام کي عبادتوں،رياضتوں اور زہدو پارسائي کو ديکھ کر حيرت کرتا ہے اور چاہتا ہے کہ آپ عليہ السلام اتني زحمت برداشت نہ کريں! تھوڑا سا اپنے اوپر رحم کريں ، امام سجادعليہ السلام گريہ فرماتے ہوئے اس سے خطاب کرکے کہتے ہيں تم مجھے نہ ديکھو، ذرا اميرالمومنين عليہ السلام سے ميري ان عبادتوں کا موازنہ کرو تو تم کو معلوم ہوگا، کہ کہاں وہ ؟ اور کہاں ميں؟ ذرا ديکھيں تو سہي يہ امام سجادعليہ السلام ہيں خود آپکي شخصيت ايسي ہے کہ آپ تک لوگوں کي رسائي ناممکن ہے ،ميرا مقصد يہ نہيں ہے کہ کوئي عمل ميں آپ تک نہيں پہنچ سکتا ،نہيں بلکہ وہم و خيال تک آپکي عظمت و بزرگي کو چھونے سے عاجز ہیں۔آپکي ذات اس سورج کي مانند ہے کہ جسکي کرنوں کو ہم دور سے چمکتے ہوئے ديکھ سکتے ہيں مگر خود خورشيد تک نہيں پہنچ سکتے کچھ اسطرح سے امام سجادعليہ السلام کي شخصيت ہے مگر آپ جب حضرت اميرالمومنين عليہ السلام کي شخصيت کو ديکھتے ہيں تو ايسا لگتا ہے جيسے کوئي بچہ کسي بزرگ کو ديکھ رہا ہے يہ ہيں اميرالمومنين عليہ السلام اوريہ ہے انکي عظمت و بزرگي۔
حضرت کے ہمرزم ہوئے:
ميرے عزيزو! ايک نکتہ جسکا رابط ہم سب سے ہے ہم اسکي طرف توجہ کريں:آپکي پيروي اور اتباع تنہا زبان سے تو ہو نہيں سکتي ۔مثلاً آپ ميدان جنگ ميں اتر کر رٹ لگائيں کہ فلاں ہمارے سپہ سالار ہيں ميں ان سے محبت کرتا ہوں انہيں پسند کرتا ہوں اور وہي سپہ سالار آپکو فوجي ٹریننگ کے لئے بلائے اور آپ اپني جگہ سے نہ ہليں وہ آپکو دشمن پر حملہ کے لئے حکم دے مگر آپ اس سے رخ موڑ ليں.جبکہ انسان اپنے دشمن اور جسے وہ نا پسند کرتا ہے اس سے یہ رویہ اختیار کرتا ہے، اميرالمومنين عليہ السلام ہمارے مولا ہيں امام ہيں آقا و سردار ہيں ہم شيعوں کو انکي محبت پر ناز ہے اگر ہم لوگوں کے سامنے کوئي علي عليہ السلام کو انکي عظمت و بزرگي سے گھٹاتا ہے تو ہم اس سے بھي بغض و نفرت کرتے ہيں اسے ناپسند کرتے ہيں تو پھر انکي ولايت کا کچھ نہ کچھ اثر ہماري عملي زندگي ميں بھي نظر آنا چاہئيے۔
ميں آپ سے يہ نہيں کہتا کہ آپ اميرالمومنين عليہ السلام جيسے بنيئے خود حضرت امام سجادعليہ السلام بھي اس بات کے قائل ہيں کہ وہ اميرالمومنين عليہ السلام کي طرح عمل نہيں کرسکتے خود حضرت عليہ السلام نے عثمان بن حنيف سے فرمايا: ’’ الا و انکم لا تعدون علي ذالک‘‘تم ميري طرح نہيں ہو سکتے يہ تو بالکل واضح ہے ليکن تم سے يہ توقع ضرور ہے کہ ہمارے ہمرزم بنو ہمارے پائے رکاب ميں قدم رکھو اور ہمارے پيچھے پيچھے چلو اگر آپ اميرالمومنين عليہ السلام کي آواز سے آواز ملانا چاہتے ہيں تو ہميں انکے زمانہ حکومت کي دو٢خصوصيتوں کو اپنانا پڑیگا۔کہ جسکا تعلق ہمارے اور آپکے زمانے سے ہے اور ہم سے اور آپ سے اسکا ربط پايا جاتا ہے۔اور وہ ہے نمبر١۔اجتماعي عدالت و مساوات، نمبر٢۔دنيا کي نسبت بے توجہي اور اس سے دل نہ لگانا۔
اميرالمومنين عليہ السلام کي اجتماعي عدالت:
عزيزان گرامي: ان دونوں خصوصيتوں کو پرچم کي طرح اپنے ہاتھوں ميں ليکر معاشرے ميں عملي کرنے کي کوشش کريں عدالت اجتماعي کا مطلب يہ ہے کہ حکومت کا قانون يکساں طور پر معاشرے کے ايک ايک فرد کو زير نظر رکھے کسي کے ساتھ کوئي امتيازي سلوک نہ کرے، انسان ايک دوسرے سے مختلف قسم کا رابطہ رکھتا ہے جسکي بنائ پرآپس کے برتاؤ ميں بھي فرق آجاتا ہے اسلئے کہ کوئي کسي کا رشتہ دار ہے تو کوئي دوست ہے کسي سے جان پہچان ہے تو کسي سے نہيں ہے البتہ جو شخص بھي کسي بھي مقام يا منصب کا مالک ہے ، يہاں ميري مراد يہ ہے کہ قانون اسکے ہاتھ ميں ہے اس لئے کسي تفريق کے بغير، سب کو ايک نگاہ سے ديکھنا ضروري ہے۔ خصوصاً ايک اسلامي نظام حکومت ميں ہر ايک فرد کو يہ اطيمنان اور احساس ہونا چا ہیے کہ اسکے ساتھ قانون کي نگاہ نہيں بدلے گي، جو جسقدر زحمت ومشقت اٹھائے گا اسي لحاظ سے بہرہ مند بھي ہو گا، اگرچہ کچھ لوگ کاہل اور سست اور کام چور ہوتے ہيں جو کام چوري کرتے ہيں وہ اپنے نفس پر خود ظلم کرتے ہيں، کام کرنے ميں کوتاہي کرتے ہيں لہذا ان کا دوسرے لوگوں سے مسئلہ ہي يہاں جدا ہے يہاں عدالت اجتماعي کے معني يہ ہيں کہ بغير دليل کسي کو کسي پر ترجيح حاصل نہ ہو سب کے لئے ايک قانون ہو اور اميرالمومنين عليہ السلام نے يہ کام اپني حکومت ميں انجام ديا اور اسي کو عدالت اجتماعي کہتے ہيں۔
علي عليہ السلام سے دشمني کي بنياد يہي تھي، وہ نجاشي شاعر، جس نے اميرالمومنين عليہ السلام کے لئے اشعار کہے تھے، آپکے دشمنوں سے ٹکر لي تھي آپ کا محب تھا، دشمنوں کے مقابلے پر بھي علي عليہ السلام کا دامن نہيں چھوڑا ، ليکن جب وہي حرمت الہيٰ کو توڑتا ہے، ماہ مبارک رمضان ميں شراب پيتا ہے تو لوگوں کے اصرار کے باوجود،آپ فرماتے ہيں سب کچھ اپني جگہ درست، اسکي محبت قابل قدر اسکي دوستي اپنے مقام پر ليکن چونکہ اس نے حرمت الہيٰ کو توڑا ہے اسلئے اس پر حد خدا جاري ہوگي وہ بھي ناراض ہو کر آپ کو چھوڑ کر معاويہ کي طرف چلا گيا يعني اميرالمومنين عليہ السلام حدود خداوندي کے ساتھ اس طرح کا برتاؤ کرتے ہيں کہ گویااُنکي نگاہ ميں اہمیت صرف اور صرف قوانینِ الہيٰ ہے اور خدا سے ہٹ کر کوئي شئي ارزش و اہميت نہيں رکھتي۔
يہي اميرالمومنين عليہ السلام ہيں کہ جب ايک شخص چوري کرتاہے اور وہ آپکے سامنے پيش کيا جاتا ہے تو فرماتے ہيں تم کو قرآن کتنا ياد ہے اس نے سنا ديا تو فرمايا! ’’قد وھميت يدک لسورۃ البقرۃ،، تمہارے عمل کي بنياد پر تو تمہارا ہاتھ کاٹ دينا چاہئے تھا مگر اس سورہ مبارکہ بقرہ کي وجہ سے تيرے ہاتھ کو بخش ديا جاو پھر ايسي حرکت نہ کرنا۔
يہ کوئي بيجا امتياز نہيں ہے بلکہ قرآن کي وجہ سے آپ نے اسکے ساتھ يہ برتاو کيا۔اميرالمومنين عليہ السلام اقتدار اسلامي اور اصول وقوانین ِديني کے سامنے کسي کا کوئي لحاظ نہيں کرتے تھے وہاں محب ہونے کے باوجود اسکے فسق و فجور کي بنياد پر حدجاري کرتے ہيں اور يہاں قرآن کي بنياد پر اس چور کو معاف کر ديتے ہيں يہ ہیں اميرالمومنين عليہ السلام جو صد در صد الہيٰ معيار کي بنياد پر عمل کرتے ہيں يہ ہے آپکي عدالت، جس کسي نے بھي يہ کہا ہو مجھے يقيني طور پر معلوم نہيں يہ کس کا قول ہے ’’ قتل في محراب عبادتہ لشدّۃ عدلہ‘‘علي عليہ السلام محراب عبادت ميں اپني انصاف پسندي کي شدّت کي وجہ سے قتل کر دئے گئے ۔

مگر کہنے والے نے درست کہا ہے يعني عدالت اميرالمومنين عليہ السلام اثر ورسوخ رکھنے والوںاور صاحبان نفوذ کے لئے ناقابل برداشت تھي يہاں تک کہ اسي وجہ سے وہ لوگ انکے قتل کے درپے ہوگئے۔
اب ذرا ملاحظہ کريں آج کچھ لوگ کہتے ہيں کہ جناب آپ کس طرح اس اسلامي معاشرے ميں اسي عدالت کو برقرار کر سکتے ہيں جسکي وجہ سے علي آخر تک حکومت نہيں کر سکے! ميں کہتا ہوں جس قدر اسے عملي کرنا ممکن ہے ہمارا فرض ہے کہ اس اندازہ کے مطابق معاشرہ ميں اسے عملي کريں ہم کب کہتے ہيں اور يہ دعويٰ کرتے ہيں کہ با لکل عدل اميرالمومنين عليہ السلام کي طرح ہم عدل جاري کرنا چاہتے ہيں۔ہمارا تو يہ کہنا ہے کہ جس قدر بھي ايک مومن اس پر عمل کر سکتا ہے ، انجام دے کم از کم جتنا ہو سکتا ہے اسے تو ہاتھ سے نہ جانے ديا جائے۔
اگر يہي عدالت فرھنگ و تمدن (کلچر)کي صورت اختيار کرے اور عوام اُس کو سمجھ جائيں تولوگ خود بخود اسکو برداشت کريں گے۔ عدالت اميرالمومنين عليہ السلام سے عوام الناس خوشحال تھے محض صاحبان نفوذ کو برُا لگتا تھا وہ اس سے ناراض تھے اور اميرالمومنين عليہ السلام کو ان لوگوں نے يہ خود شکست دي اور معرکہ صفين پيش آيا ۔کہ جس میں حضرت عليہ السلام کو خون ِدل پينا پڑا اور اسکے بعد آپکو شہيد کر ديا گيا ان سب کي وجہ يہ تھي کہ عام لوگ اسوقت مسائل کو صحيح طور پر سمجھنے سے عاجز تھے اور اسکا صحيح تجزئيہ انکے بس سے باہر تھا۔
صاحبان نفوذ ومطلب پرست عام لوگوں کے ذہنوں پر غلبہ رکھتے تھے انہيں سوچنے کا موقع ہي نہيں ديتے تھے اسلئے ،درک و فھم پيدا کرنا چاہئيے لوگوں کي سياسي بصيرت ميں اضافہ کرنا چاہيے تاکہ ايک دن عدالت اجتماعي کو پورے معاشرے ميں جاري کيا جاسکے ۔
پارسائي و زہد اميرالمومنين عليہ السلام:
ايک دوسرا مسئلہ اميرالمومنين عليہ السلام کا زھد ہے جو نہج البلاغہ کا ايک نماياں پہلو ہے ، جس وقت اميرالمومنين عليہ السلام نے اس زھد و پارسائي کو لوگوں کے سامنے بيان کيا تھا اسے اسلامي معاشرے کي بنياد ي بیماري کے علاج کے طور پر پيش فرمايا تھا اور ميں نے بارھا يہ بات کہي ہے کہ آج ہميں انہيں مسائل پر توجہ کرنے کي ضرورت ہے، اميرالمومنين عليہ السلام جب يہ فرمارہے تھے کہ دنيا کي لذتوں اور اسکے زرق برق ميں مبتلا نہ ہوں توکچھ لوگ ايسے بھي تھے جنکے ہاتھ وہاں تک پہنچے ہوئے تھے آپکا خطاب ان سے تھا ’’ان لوگوں سے نہيں جو فقير تھے کہ جنکي اسوقت اکثريت تھي‘‘امير المومنين عليہ السلام ان سے خطاب کر رہے تھے جو فتوحات اسلامي کي وجہ سے دولت و ثروت کي بہتات اور مملکت اسلامي کے پھیلنے کے نتيجہ ميں دنيا اور اسکي لذات ميں غرق ہوتے جا رہے تھے۔آج جب ہم بھي اس صفت کے بارے ميں دو٢ باتیں کہنا چاہتے ہيں تو کچھ لوگ کہتے ہيں کہ جناب آپ کيسي باتيں کرتے ہيں لوگوں کي اکثريت ايسي ہے جنکے پاس وہ مادي اسباب ووسائل نہيں ہيں، جي ہاں ہمارا خطاب بھي ان سے نہيں ہے بلکہ ان لوگوں سے ہے جو ان اسباب و وسائل کے مالک ہيں ان لوگوں کے لئے ہے جو صاحب ثروت و دولت ہيں۔
جو لوگ حرام طريقوں سے دنيا کي لذتوں کو حاصل کر سکتے ہيں ہمارا خطاب بھي ان سے ہے البتہ ان لوگوں کے علاوہ وہ حضرات بھي توجہ رکھيں جو حلال راستوں سے دنيا کي شيرينياں اکٹھا کر سکتے ہيں ان سے بھي ہماري يہي گذارش ہے کہ وہ زہد اختيار کريں اور لذائذ دنيا ميں غوطہ زن نہ ہو جائيں۔
نظام اسلامي کے عہدیداران امام علي عليہ السلام کے اصلي مخاطبین:
زہد و پارسائي کا بلند و عالي مرتبہ اور واجب ترين مرحلہ يہ ہے کہ انسان حرام چيزوں سے پرہيز کرے اور اپنے دامن کو آلودہ نہ ہونے دے ،ليکن جہاں حرام چيزوں سے پرہيز کرنا زہد کا بلند درجہ ہے، وہيں بقدر ضرورت حلال چيزوں سے استفادہ کرنا اور زہد و پارسائي برتنا بھي بلند درجہ کي حيثيت رکھتا ہے اگرچہ ممکن ہے بہت ہي تھوڑے لوگ زہد حلال کے مخاطب قرار پائيں وہي لوگ کہ جن کے ہاتھ وہاں تک پہنچ سکتے ہيں ، جو لذّت و نعمات خداوندي سے حلال طريقہ سے بہرہ مند ہو سکتے ہيں اور اس زمانہ ميں ہر ايک اپني پوسٹ کے لحاظ سے زہد اميرالمومنين عليہ السلام کا مخاطب ہے لہذا انہيں زہد اميرالمومنين عليہ السلام ياد رکھنا چاہئے جنکے پاس کوئي حکومتي عہدہ و منصب ہے انکي زيادہ ذمہ داري بنتي ہے اور جن لوگوں کے پاس کوئي حکومتي عہدہ و ذمہ داري نہيں ہے اُن پر بھي لازم ہے کہ وہ اپني زندگي ميں زہد اپنائيں البتہ حکومت کي ذمہ داریوںکے مقابلے میں انکي ذمہ داري اتني نہيں ہے جتني کہ مسؤلين کي ذمہ داري بنتي ہے۔
انہيں چاہيے کہ اسے ايک فرھنگ (کلچر)کي حيثيت سے زندگي کا جز بنائيں اسطرح نظام اسلامي پر منڈلاتے ہوئے خطرات کم سے کم ہو جائيں گے اور عدالت و زہد کي بنائ پر نظام اسلامي قوي سے قوي تر ہو جائيگا پھر اسے کوئي نقصان نہيں پہنچا سکتا۔جن لوگوں کو دنيا کي لذتيں، خواہشات نفس، فريب و دھوکہ نہ دے سکیں اور انکے ارادے ميں تزلزل ايجاد نہ کر سکيں وہي لوگ تمام دشمنوں کے مقابلے میںڈٹ سکتے ہيں وہي خطرے کے وقت اسلامي حکومت کو نجات دلا سکتے ہيں ، آج جو حکومت اسلامي پر ہر چار جانب سے يلغار ہو رہي ہے ايسے نازک موقع پر ہماري سب سے زیادہ ذمہ داري يہ بنتي ہے خصوصاً جوانوں ذمہ داران حکومت بالاخص علمائ حضرات وقوم و ملت کے مختلف افراد، اور وہ لوگ جنہيں لوگ اپنا آئيڈیل سمجھتے ہيں ان سب کي ذمہ داري ہے کہ ان دو ٢ صفات کو (عدالت و زہد) کو اپنائيں اميرالمومنين عليہ السلام نے تاريخ ميں يہ دو مشعليں روشن کيں ہيں تاکہ پوري تاريخ روشن رہے اگر اس سے کوئي شخص منہ موڑے گا تو خود اسکا نقصان ہوگا ليکن علي عليہ السلام کا نام ان کي يا د اور انکے دئيے ہوئے سبق، تاريخ کچھ نہيں بھلا سکتي يہ ہميشہ ہميشہ کے لئے تاريخ کے دامن ميں محفوظ رہيں گے۔(١)
علي عليہ السلام کي تہہ در تہہ شخصيت درس جاويداني ہے:
اميرالمومنين عليہ السلام کي ذات گرامي، مختلف زمانوں ميں مختلف حيثيت سے تمام کاروان بشر کے لئے ايک نہ بھلايا جانے والا سبق اور درس جاودانگي ہے چاہے وہ انکا انفرادي عمل ہو يا محراب عبادت ميں انکي بندگي، انکي مناجات ہو يا انکا زہدوہ ياد خدا ميں غرق ہوں يا اپنے نفس اور شيطان کے مقابل انکا جہاد ہر ميدان ميں انکي زندگي ہميں درس عمل سکھاتي ہے آج بھي عالم کي فضاميں انکا يہ جملہ گونج رہا ہے ’’دنيا دنيا غرّي غيري‘‘(٢) (اي دنيا کي لذتوں، اي جاذب نظر پرفريب ماّدي زرق و برق دنیا قوت و طاقت رکھنے والے انسانوں کو اپنے دام پرخطر ميں پھانسنے والي جا علي عليہ السلام کے علاوہ کسي اور کو فريب دے علي عليہ السلام تيرے دھوکہ ميںآنے والا نہيں )اس بنياد پر ہر بيدار ذہن اميرالمومنين عليہ السلام کي زندگي کے ايک ايک لمحات ميں خدا سے ارتباط اور معنويت و روحانيت کے لئے نابھلايا جانے والا درس حاصل کرتا ہے۔
اميرالمومنين عليہ السلام کا جہاد :
حق و عدالت کے قيام کے لئے جہاد کرنا آپکي زندگي کا ايک دوسرا پہلو ہے نبي پيغمبر اکرم صليٰ اللہ عليہ وآلہ وسلم نے جس روز سے رسالت کا بوجھ اپنے کاندھوں پر اٹھايا اسي وقت سے آپکے ساتھ ايک مومن و مخلص مجاہد (جو کہ ابھي جوان تھا) آپکے شانہ بشانہ موجود رہا اوروہ مومن مخلص جوان مجاہد علي عليہ السلام کے سوائ اورکوئي نہيں تھا۔پيغمبر صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم کي بابرکت زندگي کے آخري لمحات تک اميرالمومنين عليہ السلام اسلام کي حفاظت وبقاکے لئے لمحہ بھر کے لئے بھي غافل نہيں ہوئے اپني اس راہ ميں ۔کس قدر زحمتيں اٹھائيں،کس قدر اپني جان کے لئے خطرات مول لئے اور حق و عدل کے قيام کے ليے جدوجہد کي اور اسميں غرق رہے اور يہ کوئي ڈھکي چھپي بات نہيں ہے سب جانتے ہيں کہ جب کوئي ميدان ميں نہيں ٹکتا تھا
تب وہ ميدان ميں ثابت قدم ہو جاتے تھے، جب لوگ ميدان ميں اترنے سے کتراتے تھے اسوقت آپ ميدان ميں

١۔ ولادت اميرالمومنين عليہ السلام کي مناسبت سے معاشرے کے مختلف لوگوں سے قائد انقلاب اسلامي کاايک خطاب۔
٢۔ نہج البلاغہ کلمات قصار، متن ٧٧
ڈٹ جاتے جب لوگ سختيوں سے فرار کرتے تو اسوقت آپ اپنے پورے وجود کے ساتھ سختيوں کا مقابلہ کرتے اور مجاہدين اسلام کو تسلي ديتے آپکے لئے زندگي کا معني و مفہوم يہي تھا کہ خدا نے جو قوت و طاقت جو صلاحتيں آپکو عطا کيں سب کو حفاظت دين اور اسلام کي بقائ کے لئے صرف کر ديں ۔جي ہاں: علي عليہ السلام کے قوت بازو اور انکے فولادي ارادے کي برکت سے آج حق زندہ ہے۔
اگر آج دنيا کے انسانوں کے لئے حق و عدل اہمیت رکھتے ہیں اور يہ مفاہيم دنيا ميں پائے جاتے ہيں اور روز بروز انکو تقويت ملتي جا رہي ہے تو يہ صرف اور صرف آپ ہي کي فداکاریوں کا نتيجہ ہے۔
اگر علي ابن ابيطالب جيسي شخصيت نہ ہوتي تو آج انساني قدروں کا بھي کوئي نام لیوا نہ ہوتا انسان کے پاس تمدن(کلچر)،بلند اہداف اور کوئي اعليٰ مقصد بھي نہ ہوتا اور انسانيت ايک جنگلي حيوان و درندگي کي شکل ميں تبديل ہو چکي ہوتي ، بشريت بلند و عالي مقاصد کي حفاظت کے لئے آج اميرالمومنين عليہ السلام کي زحمتوں اور مشقتوں کي مرہون منت ہے اور يہ سب آپ کے جہاد کا اثر ہے۔
حکومت کے معني ميں تبديلي:
حکومت کے ميدان ميں آپکا ايک انوکھا انداز آپکي شخصيت کا ايک منفرد پہلو ہے۔جو اپنے وقت پر عظیم حکومت و قدرت اپنے ہاتھ ميں ليتا ہے اور ايک تھوڑي سي مدت حکومت ميں وہ کارہاي نماياں وہ ديرپا اثر چھوڑتا ہے کہ لکھنے والے، لکھتے رہيں ،اسکي تصوير کشي کرنے والے تصوير کشي کرتے رہيں اور مورخين قلم چلاتے رہيں پھر بھي جو کچھ لکھا جائے، کہا جائے يا اسکي تصوير کشي کي جائے کم ہے۔دوران حکومت آپکا طرز حيات خودکسي قيامت سے کم نہيں ہے اصلاً علي عليہ السلام نے حکومت کے معني ہي بدل کر رکھ ديے وہ مظہر حکومت الہي مسلمانوں کے درميان مجسم آيات قرآني،سراپا’’اشدائ علي الکفائ و رحمائ بينھم ‘‘(١)اور مجسمہ عدل مطلق تھے وہ فقيروں کو اپنے قريب رکھتے تھے ’ ’کان يقرب المساکين‘‘(٢)معاشرے کے پسماندہ اور دبے کچلے افراد کا خاص لحاظ رکھتے تھے اور جو لوگ
مال و ثروت کي وجہ سے خود کو ناحق بڑا اور بزرگ بنائے ہوئے تھے آپ انہيں خاک و مٹي کے برابر سمجھتے تھے آپکي نظر ميں

١۔فتح ٢٩۔
٢۔شرح ابن ابي الحديد،ح ١٨،باب٧٥،ص ٢٢٦۔
جو شيئ قيمتي اور ارزشمند تھي وہ ايمان، تقويٰ،اخلاص و جہاد اورانسانيت تھي آپ نے اس حکومتي طرز تفکر کیساتھ پانچ٥ سال سے بھي کم حکومت کي، صدياں گذر رہي ہيں اور لکھنے والے اميرالمومنين عليہ السلام کي خوبیاں پيش کر رہے ہيں لکھنے والے لکھ رہے ہيں مگر پھر بھي ابھي تک بہت کم لکھا گيا ، اور اچھے اچھے اپني عاجزي ، ناتواني کا اعتراف کرتے ہوئے نظر آتے ہيں۔
ولايت علي عليہ السلام سے تمسک:
دنيا ہميں علي عليہ السلام کا چاہنے والا سمجھتي ہے’’معروفين بتصديقنا اياّکم‘‘(١) اور دنيائے اسلام بھي ہميں ان لوگوں ميں شمار کرتي ہے جو علي بن ابي طالب عليہ السلام کي نسبت شديد محبت و موّدت اور انکي غلامي کا دم بھرتے ہیں اور تمام دنيا والے بھي ہمارے بارے ميں يہي خيال رکھتے ہيں۔لہذا ہم پر فرض ہے کہ انکے اس خيال کو يقين ميں تبديل کر ديں۔
ايک زمانہ تھا کہ جب اسي ملک ميں اگر کوئي اپني زبان سے يہ کلمات جاري کرتاتھا ’’الحمد اللہ الذي جعلنا من المتمّسکين بولايۃ اميرالمومنين و اولادہ المعصومين‘‘(٢)( ترجمہ:اس خدا کي حمد جس نے ہميں اميرالمومنين علي عليہ السلام اور انکي اولاد کي ولايت رکھنے والوں میں سے قرار دینا)‘‘تو بہت سے لوگ شک و ترديد کي نگاہ سے اسکو ديکھنے لگتے تھے، کہتے تھے کہ کیا ہم اس پر خدا کي حمد کریں کہ علي کے موالي ہیں ؟ کيا واقعاً يہ کلمات برحق ہيں؟البتہ انہيں شک کرنے کا حق بھي تھا، اسلئے کہ اسوقت اس ملک ميں امريکہ ، یہودیوںا ور دشمنان خدا کي ولايت و حکومت تھي لہذا ہميں کياحق تھا جو کہتے ’’الحمد اللہ الذي جعلنا من المتمّسکين بولايۃ اميرالمومنين و اولادہ المعصومين‘‘ اور اپني جگہ يہ بات بھي ہے کہ لوگوں کي اکثريت اپنے دل ميں انہيں کي محبت چھپائے ہوئے تھي اور انکي ولايت کے معتقد تھے۔
مگر ياد رکھيئے ولايت اس سے کہيں بڑھ چڑھ کر معني و مفہوم رکھتي ہے البتہ آج مملکت ايران کے لوگ حضرت علي عليہ السلام کي ولايت سے تمسک پر خدا کي حمد و ستائش کر سکتے ہيں کيونکہ ہمارا انقلاب، ہمارا پيغام سب کچھ راہ ولايت علي عليہ السلام ہي کا صدقہ ہے۔

١۔زيارت جامعہ کبيرہ مفاتيح الجنان
٢۔اقبال ۔ص ٤٦٤۔
علوي معاشرہ:
ہماري خواہش ہے کہ ہماري زندگي، ہماري حکومت اميرالمومنين عليہ السلام کي زندگي اور انکي حکومت کے مطابق ہو جائے ہم چاہتے ہيں ہماري حکومت ميں مکمل طور پر اسلامي عدالت کا نفاذ ہو جائے جو شخص بھي اس حکومت ميں زندگي بسر کر رہا ہے اسکا فريضہ ہے کہ وہ اس مقصد تک پہنچنے کے لئے تلاش و کوشش کرے ۔
ہمارا فريضہ ہے کہ کوئي ايسا طريقہئ کار اپنائيں کہ ہمارا معاشرہ ہمارا نظام حکومت سب کا سب علوي معاشرے اور علوي حکومت کي طرح ہو جائے تنہا اسلام اسلام کرنا اور ولايت کا دم بھرتے رہنا ہي کافي نہيں ہے خصوصاً جن لوگوں کے کاندھوں پر کوئي حکومتي منصب ہے۔ وہ عدليہ ہو، يا مجلس شوراي اسلامي ہو (پارليمنٹ) يا پھر مقام صدارت و رياست بھي اجرائ قوانين کي منزل يا پھر دوسرے حکومتي ادارہ جات اورديگر مراکز وغيرہ...زبان و عمل ميں سب طريقہ کار بالکل اميرالمومنين عليہ السلام جيسا ہونا چاہيے۔
مقصد محرومين اور عوام کي خدمت ہو:
اميرالمومنين عليہ السلام خدا کے لئے اوراسکي راہ ميں کام کرتے تھے، لوگوں کے ہمدم اور ہمدرد تھے ان سے لگاو تھا اور عوام کي خدمت کو اپنا فريضہ سمجھتے تھے اس کے باوجودکہ آپکي حکومت کا مقصد پسماندہ لوگوں کي امداد تھا پھر بھي راتوں کو تن تنہا ايک ايک پسماندہ اور معاشرے کے دبے کچلے لوگوں کے پاس جاتے تھے اورانکي مدد کرتے تھے۔يہ اميرالمومنين عليہ السلام کي زندگي تھي،ہمارا راستہ بھي وہي ہے کہ طاغوتي حکومتوں نے جس لحاظ سے بھي لوگوں کومحروم و پسماندہ کر ديا ہے ہم انکي مدد کے لئے دوڑيں يہي اميرالمومنين عليہ السلام کا راستہ تھا يہي درس ہے جسے رہبر کبير انقلاب اسلامي حضرت امام خمیني
۲ نے علي عليہ السلام سے سيکھا تھا اور ہمارے سامنے اسے پيش کيا ہميں اسي راستے ميں چلنا چاہيے۔
۔حديث ولايت ،ج ششم ،ص ٢٠١١٩
ظلم کے خلاف جنگ:
علي عليہ السلام ہر منزل پر ہر جگہ پر چاہے جس نام سے ياد کئے گئے ہوں ظلم کے خلاف ايک مسلسل جنگ کرنے والے مجاہد تھے۔ذرا آپ اميرالمومنين عليہ السلام کي دشوار گذار زندگي کے مراحل پر ايک نظردوڑائيں،ديکھيں تو سہي انہوں نے کن لوگوں سے جنگيں لڑي ہيں،کسي صلاحيت و شہامت کا مظاہرہ کيا ہے، مدمقابل کون لوگ تھے کيسے پرفريب ناموں کے زيرسايہ علي عليہ السلام سے مقابلہ کرنے آئے تھے،مگر پھر بھي آپ جنگ کو ٹالتے رہتے تھے يہاں تک کہ جب آپکے لئے عياں ہوجاتا کہ يہ ظلم ہے يہ باطل ہے تو پھر کوئي رعايت نہيں کرتے تھے، يہي ہمارا بھي راستہ ہے، ايک دشوار گذار راستہ کہ جسے بہرحال ہميں طے کرنا ہے اور يہي ان تمام پيروان اميرالمومنين عليہ السلام کا راستہ ہے جو آپکي محبت و غلامي کا دم بھرتے ہيںيعني ظلم و ظالم سے لڑائي چاہے وہ کسي بھي صورت میں نہ ہو جس سطح پر ہو اور چاہے جس انداز سے بھي لڑنا پڑے۔
اخلاص حضرت علي عليہ السلام :
علي ابن ابي طالب (عليہ الصلوۃ والسلام) کے سلسلہ ميں جو کچھ بھي کہا جائے کم ہے اسلئے کہ آپکي آفاقي شخصيت ذہن ميں سمانے اور بيان کے دائرے سے خارج ہے مجھ جيسے لوگ آپ کي تہہ در تہہ شخصيت کے بارے ميں کسي ايک پہلو کو بھي بيان کرنے سے عاجز ہے مگر چونکہ آپ نمونہ عمل ہيں اسلئے ہميں آپکو اپني بساط و توانائي کے اعتبار سے پہچاننا بھي ضروري ہے۔
ممکن نہيں کوئي علي عليہ السلام کي سدرہ نشين شخصيت تک اپني کمتر فکر ڈال سکے اسلئے کہ يہ بات ہمارے ديگر بزرگ آئمہ علیھم السلام نے ہم سے کہي ہے ايک روايت جس ميں امام باقرعليہ السلام اميرالمومنين عليہ السلام کے زھد و عبادت اور ديگر خصوصيات کو بيان کرنے کے بعد فرماتے ہيں:’’وما اطاق عملہ منّا احد‘‘(١)
ہم میںسے کوئي بھي آپ جيسے عمل کو انجام دينے کي طاقت نہيں رکھتا يعني :حتي خود امام صادق ، امام باقر عليہ السلام اور ائمہ ہديٰ بھي جہاں اميرالمومنين عليہ السلام پہنچے ہوئے ہيں نہيں پہنچ سکتے ۔اس روايت کے مطابق امام نے آگے فرمايا: ’’وان کان علي بن الحسين عليہ السلام لينظر في کتاب من کتب علي عليہ السلام (٢)ايک دن آپکے والد حضرت علي بن الحسين اميرالمومنين عليہ السلام کي کسي کتاب کو ديکھ رہے تھے۔ يقينا يہ کتاب آپکي زندگي کا دستورالعمل تھا جس کے مطابق آپنے اپني زندگي گذاري تھي۔
کہ ايک مرتبہ پڑھتے پڑھتے ’’فيضرب بہ الارض‘‘(٣)اسے زمين پر رکھ ديا اور پھرفرمايا’’و يقول من يطيق ھذا؟‘‘(٤) کون ہے جو اسقدر عمل انجام دے سکتا ہو؟ يعني امام سجاد عليہ السلام جو کہ سيد العابدين اور زين العابدين ہیں اميرالمومنين عليہ السلام کي عبادتوں اور زہد و پارسائي کے مقابلے ميں خود کو عاجز سمجھتے ہيں ،خود اميرالمومنين عليہ السلام نے عثمان بن حنيف کو اس خط ميں لکھا’’الا وانّکم لا تقدرون علي ذالک‘‘ (٥)جسطرح ميں عمل کر رہا ہوں

(١،٢،٣،٤)۔بحارالانوار ج ، ٤،ص ٣٤۔
٥ ۔ نہج البلاغہ نامہ ٤٥۔
تم اسطرح نہيں کر سکتے واقعيت بھي يہي ہے جو کچھ تاريخ نے اميرالمومنين عليہ السلام کے بارے ميں ہم تک عبادت و رياضت کے بارے ميں نقل کيا ہے آدمي جب اسپر نظر ڈالتا ہے تو پھر انسان کو اپني ناتواني کااحساس ہونے لگتا ہے۔
اس بنياد پر موضوع سخن يہ نہيں کہ ہمارا معاشرہ مثل علي عليہ السلام ہو جائے بلکہ موضوع گفتگو يہ ہے کہ معاشرے کے افراد کو کس راستے کي طرف لے جایا جائے مخصوصاً ايک اسلامي حکومت کے سربراہوں کو کون سا راستہ اپنانا ہوگا اور زندگي کس نمونے کے مطابق گذارنا ہوگي يہ ہے گفتگو کا مقصد اور يہ ہے راستہ....
علي عليہ السلام بام عروج پر:
ذات علي(عليہ السلام) کچھ ايسے عناصر کا مجموعہ ہے کہ اگر ايک بلند مرتبہ انسان وہاں تک پہنچنا بھي چاہے تو نہيں پہنچ سکتا اور انکي عظمتوں کے سامنے گھٹنے ٹيکنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔دنياسے لاتعلقي ،خواہشات ولذائذ سے بے پروائي اور دنيا کي زرق برق چيزوں سے دوري جہاں ايک عنصر ہے، آپکا پيکراں علم جسکے بارے ميں بہت سے مسلمان دانشمنداور تمام بزرگان شيعہ اس پر متفق ہيں کہ نبي اکرمصلي اللہ عليہ وآلہ وسلم کے بعد علم و دانش ميں علي عليہ السلام کے علاوہ کوئي اور نہيں ہے يہ آپ کي شخصيت کا ايک دوسرا پہلو ہے اور مختلف ميدانوں ميں آپ کي فداکاري اور جانثاري کا انوکھا انداز بھي انہيں عناصر کا ايک جز ہے ۔

وہ چاہے ميدان سياست ہو يا ميدان سير وسلوک يا کوئي اور ميدان ۔آپکي عبادتوں کا طريقہ اپني جگہ پر ايک جداگانہ عنصر ہے ، عدل و مساوات کي جو مثال آپ نے قائم کي ہے وہ خود عدالت اسلامي کي مکمل تفسير ومجسم کي حيثيت سے آپکے تہہ در تہہ وجود کا ايک اور عنصر ہے۔معاشرے کے مختلف طبقات جيسے فقير،غلام وکنيز،بچے عورتيں وغيرہ کے ساتھ آپکا نرمي سے پيش آنا ان سے محبت ،اور پسماندہ ،دبے کچلے لوگوں کے ساتھ بھي محبت کا برتاوآپکي زندگي کا ايک اور نماياں پہلو ہے۔
ہروہ ترقي جو آپکي زندگي کے مختلف مراحل ميں نظر آتي ہے وہ بھي انہيں عناصر کا ايک جز ہے فصاحت و بلاغت حکمت و دانائي يہ سب کے سب اپني اپني جگہ آپکے مجموعہ عناصر کے اجزائ ميںسے ہیں جن کا شمار کرنا بھي مشکل ہے۔ چھٹي صدي ہجري کے ہمارے ايک بزرگ عالم جناب قطب راوندي آپکے زہد کے سلسلہ ميں فرماتے ہيں: جس وقت کوئي شخص علي عليہ السلام کي ان باتوں کو جو انہوں نے زہد کے بارے ميں ارشاد فرمائي ہيں ديکھتا ہے اور وہ يہ نہيں جانتا کہ علي ابن ابي طالب عليہ السلام نے يہ فرمايا ہے (يعني ايک ايسا انسان جو اپنے زمانے ميں دنياکے ايک بڑے حصے پر حکمراني کر رہا تھا)توا سے شک و شبہ بھي نہيں ہوتا کہ يہ کلام ايک ايسے شخص کا ہے جسکا کام ہي فقط عبادت وبندگي تھا’’لايشک انّہ کلام من لا شغل لہ بغير العبادۃ‘‘’’ولا حظّ لہ في غيرالزّھادۃ‘‘ اور بجز زہد و پارسائي انکا کوئي اور شيوہ ہي نہيں تھا ’’وھذا من مناقبہ العجيبۃ التي جمع جھاتين الاضداد‘‘ اور يہ ہیں آپ کے وہ حيرت انگيز مناقب جو آپکي شخصيت ميں متضاد صفتوں کو يکجا کرتے ہیں۔
اخلاص اور جوہر عمل :
ميں آج جس نکتہ کي طرف آپکي توجہ دلانا چاہتا ہوں وہ ہے اميرالمومنين عليہ السلام کا اخلاص عمل:ہم کو چاہئيے کہ اس صفت کو اپنے روزمرہ کے کاموں کا جوہر قرار ديں جيسا کہ يہي صفت علي ابن ابي طالب عليہ السلام کي زندگي کي روح رہي ہے يعني آپ اپنے کاموں کو فقط اور فقط خدا کي خوشنودي کے لئے انجام ديتے تھے اور آپ اپنے کسي بھي عمل سے سوائے قربۃالي ا? اور خدائي فرض کے اور کوئي مقصد نہيں رکھتے تھے۔
ميرے خيال ميں علي عليہ السلام کي ذات ميں يہ ايک حقيقت ايسي ہے جو اپني جگہ پر بنيادي حيثيت کي حامل ہے۔اميرالمومنين عليہ السلام نے اپنے بچپنے سے اپني جواني کي عمر تک آغوش نبيصلي اللہ عليہ وآلہ وسلم سے جب کہ آپ نے اسلام کو تمام سختيوں اور مشقتوں کے بدلے اپني جان کے بدلے خريدا تھا جگہ جگہ پر اس خلوص کا ثبوت ديا۔
انہوں نے ايک محترمانہ آسايش و آرام اور اشرافيت کو کہ جو کسي قرشي زادہ کي عيش و عشرت کے لئے ميسرتھي صرف خداکے لئے نظرانداز کر ديا اور تيرہ سال کي مدّت حيات ميں پيغمبر صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم کے شانہ بشانہ کفر کے خلاف جنگ کرتے رہے اور اسکے بعد شب ہجرت حضرت عليہ السلام کے بستر پر سوئے کہ اگر کوئي آپکے اس کا رنامہ پر غور و فکر کرے تو اسے پتہ چلے گا کہ آپ نے اس ايک عظيم فداکاري کا ثبوت ديا ہے کہ جسے ايک انسان پيش کر سکتا ہے يعني يقيني اور حتمي طور پر موت کے مقابل تسليم ہوجانا ۔اور موقع پر صرف پيغمبر صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم سے اتنا ہي پوچھا کہ کيا ميرے سونے سے آپ بچ جائيں گے تو حضرت صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم نے فرمايا:ہاں ميں بچ جاؤں گا تو آپ نے عرض کي، تو میرا سونا حتمي ہے ۔
اس جگہ پر وہ عيسائي مصنف کہ جنکي نگاہ اسلامي اور شيعي بھي نہيں ہے اور ہمارے دين سے بھي خارج ہيں اميرالمومنين عليہ السلام کے بارے ميں کہتے ہيں ’’اميرالمومنين عليہ السلام کا يہ عمل تنہا سقراط کے اس عمل سے ہي قابل موازنہ ہے جو معاشرے کي مصلحت کے لئے خود اپنے ہاتھوںسے زہر کا پیالہ پي ليتا ہے‘‘ يعني اس شب ميں مسلم جانثاري عمل اور اخلاص تھا۔نہ جانے کتنے حکمراںہیںجو ایسے موقع پر فائدہ اٹھانے کي فکر کرتے ہيں اپنے لئے سوچتے ہيںليکن آپ ايسے موقع پر خود پيغمبر صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم کي جان بچانے کي فکر ميں ہيں۔
فقط رضائے الہيٰ:
غزوات پيغمبر صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم کو ديکھئے جنگ احدميں کہ جب چند انگشت شمار لوگوں کے علاوہ بقيہ سبھي فرار کر گئے تو اسوقت اميرالمومنين عليہ السلام نے آنحضرت صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم سے دفاع کيا۔جنگ خندق پر نظر ڈالئے جہاں سارے مجاہدين عمروبن عبدود کے مقابلے سے ہٹ گئے اور آپ آنحضرت صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم سے باربار اس سے مقابلہ کے لئے اجازت طلب کرتے ہيں اسي طرح جنگ خيبر ہو يا آيہ برآت کي تبليغ،رحلت پيغمبر صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم کے بعد سقيفہ نبي ساعدہ ميں جانشيني کا مسئلہ ہو یا پھر خليفہ دوم کي وفات کے بعد شوريٰ کي تشکيل کا مرحلہ ہر ہر جگہ پر اميرالمومنين عليہ السلام نے فقط خوشنودي خداکو پيش نظر رکھا اور اسلام اور مسلمانوں کے حق ميں الہي چيز کا انتخاب فرمايا جو انکے لئے مفيد تھي اور رضائے الٰہي کا سبب تھي اور کہيں بھي آپ نے اپني ’’انا‘‘ کو درميان ميں نہيں آنے ديا۔آپکي خلافت ظاہري کا زمانہ ہو يا ٢٥ سال تک آپکي خانہ نشيني ، خلفائ کي امداد کے لئے آپکا جانا ہو يا پھر اپني خلافت ظاہري کے دوران مختلف احزاب کے مقابل اپنے موقف کا اظہار يا اس جيسے ديگر اور مقامات، پر وہي علي ہيں جسے خدا پسند کرتا ہے، اور رسول صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم اسکا انتخاب کرتا ہے، خدا کا ايک خالص اور مخلص بندہ، اور يہي وہ خصوصيت ہے کہ جسکا ايک ذرہ ہي سہي مگر ہم اپني زندگي اور عمل ميںاسکو جگہ ديں اور ہم يہ صفت علي عليہ السلام سے سيکھ ليں اسلئے کہ اسوقت يہي خصوصيت اسلام کي ترقي کا سبب بني تھي اور آج اگر اسي صفت کا ايک چھوٹا سا حصہ بھي کسي انسان ميںپيدا ہو جائے تو وہ اسلام اور مسلمين کے لئے ايک مفيد عنصر بن سکتا ہے۔
حضرت علي عليہ السلام سے اخلاص آموزي:
ہم لوگوں نے عظيم انقلاب اسلامي کے دوران اپني آنکھوں سے لوگوں کي زندگي ميں اس خلوص نيت کا مشاہدہ کيا ہے اور جو کچھ کارنامے ہونا تھے وہ ہوئے ،قائد انقلاب اسلامي امام خميني
۲ اس اخلاص عمل کا مظہر تھے اور انکے ہاتھوں جو کچھ ہونا تھا وہ ہوا انہوں نے اسلام کے مقابلہ ميں ساري دنيا کو جھکا ديا اور دشمنان دين کو پيچھے ہٹنے پر مجبور کر ديا آج بھي ايران کي قوم و ملت اور مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے لوگ چاہے وہ مر د ہوں يا عورت سب کے سب خصوصاً ہم سب ذمہ داران حکومت جس قدر جس کي ذمہ دارياں بڑھتي جائيں گي۔اسي خلوص نيت کے محتاج ہوجائيںگے يہاں تک کہ اسي اخلاص کي مدد سے اس بوجھ کو منزل مقصود تک پہنچا ديں۔ امير المومنين عليہ السلام نہج البلاغہ ميں ارشاد فرماتے ہيں : ’’ولقد کنّا مع رسول اللہ صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم نقتل اباتنا وانباتنا و اخواننا واعمامنا لا يزيدنا ذالک الاّ ايمانا و تسليما ومضيّا ولي اللقم و صبرا وعلي مضض الالم‘‘(١)۔ہم لوگ خلوص نيت کے ساتھ رسول خدا صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم کے پائے رکاب ميں اپنے خاندان و گھرانے والوں سے لڑ رہے ہوتے تھے، ’’فلمّا رآي اللہ صدقنا انزل بعد وّنا الکبت وانزل عليناٰ النّصر‘‘(٢)
تو جس وقت خدا نے ہمارے اس مخلصانہ عمل کو ديکھا ہمارے دشمن کو سرکوب کر ديا اور ہميں فتح و ظفر سے سرفراز فرمايا: پھر آپ ارشاد فرماتے ہيںکہ اگر ہمارا يہ عمل نہ ہوتا اور ہم لوگ اس طرح اخلاص نہ رکھتے ہوتے ’’ماقام للدّين عمود ولا اخضرَّ للايمان عود‘‘ ايمان کي ايک ٹہني بھي سر سبز و شاداب نہ ہوتي اور آج دين کا کوئي ستون بھي اپني جگہ محکم و استوار نہ دکھائي ديتا يہ انہيں مسلمانوں کے خلوص دل اور انکي صداقت کي ہي برکتيں تھيں کہ روح زمين پر آج ايک اسلامي معاشرہ پھلتا پھولتا نظرآ رہا ہے اور يہ ترقياں انھيں کي زحمات کا نيتجہ ہيں يہ اسلامي تمدّن اور يہ عظيم تاريخي تحريک بھي آج اسي کا نتيجہ ہے، ہماري قوم دنيا کے سارے مسلمانوں عراق کي عوام انکے سربراہوں اور ان تمام لوگوں کو جو دنيا کے کسي بھي گوشہ و کنا ميں اسلام کي باتيں کرتے ہيں ان سب کو علي ابن ابي طالب عليہ السلام سے ہي اخلاص کا سبق حاصل کرنا ہوگا ۔
حضرت عليہ السلام کي شہادت کي وجہ سے ستون ہدايت منہدم ہو گيا:
آج انيسويں ماہ رمضان ہے حضرت عليہ السلام کے سر اقدس پر ضربت لگنے سے اہل کوفہ کا کيا حال ہوا، خدا ہي جانے وہ آپکا لوگوں کے درميان محبوب چہرہ، وہ بزرگ انسان، وہ عدل مجسم،وہ آپکي ولولہ انگيز صدا وہ آپکا ضعفائ اور دبے کچلے لوگوں پر شفقت کرنے والا مہربان ہاتھ،اشقيائ کے مد مقابل غيض و غضب کرنے والا انسان ، اس پانچ سال کي مدت ميں اہل کوفہ و اہل عراق اور جو لوگ مدينہ سے ہجرت کر کے حضرت کے پاس آئے تھے، خود کو کوفہ ميں يا کوفہ سے باہر ديگر ميدانوں ميں ان لوگوں نے علي عليہ السلام کو کچھ اسي طرح پايا تھا اور ان سے مانوس ہو چکے تھے اسلئے نہيں کہا جا سکتا کہ جب ان لوگوں نے يہ سنا کہ اميرالمومنين عليہ السلام کے سر مبارک پر ضربت لگي ہے تو انکا کيا حال ہو ا؟ پس ميں قائد انقلاب اسلامي امام خمیني
۲ کي وفات سے قبل آپکي بيماري کي کيفيت کو ذرا سا اس وقت کي کيفيت سے تشبيہ کر رہا ہوں آپ جانتے ہيں کہ جس وقت حضرت امام خمیني ۲ کي بيماري کي خبر ايران ميں پھيلي تو لوگوں کا کيا جوش و ولولہ اور کيا غوغہ تھا بس ايک قيامت ايک حشر بپا تھا لوگ ہر طرف دعائيں کر رہے تھے ، آنکھيں رو رہي تھيں۔لگتا ہے آج کوفہ کي بھي ايسي حالت تھي(٣)
١،٢۔نہج البلاغہ خطبہ ٥٦۔ ٣۔حديث ولايت ،ج ٧، ص١٥۔١٠
حکومت علوي کي خصوصيات:
اميرالمومنين علي بن ابي طالب عليہ السلام کي زندگي پر توجہ کرنا حقيقتاً اس مہينہ کي اہم برکتوں ميں سے ايک بہت با اہميت برکت ہے لوگوں کو کبھي يہ توفيق حاصل نہيں ہو پاتي کہ مختلف زاويہ سے علي ابن ابي طالب عليہ السلام کي زندگي کا جائزہ لے سکيں اور انکي زندگي کا مطالعہ کر سکيں، چاہے وہ کوئي عام آدمي ہو يا پھر خطبائ واعظين ہو، خصوصاً اسلامي مملکت کے ذمہ داران تو آج سب سے زيادہ آپکو پہچانتے اور آپکي معرفت کے نيازمند ہيں اور يہ موقع ديگر مہينوں ميں بہت کم ہي نصيب ہوتا ہے، جس کي جو بھي ذمہ داري ہو۔اوپر سے نيچے تک تمام عہد داران مملکت اسلامي آج ہر زاويہ اور ہر پہلو سے علي عليہ السلام کي زندگي اور انکي شخصيت کو پہچاننے کیلئے سراپا محتاج ہيں۔
مختلف روايات کے مطابق آنجناب کي عمر شريف،٥٨ سال سے ليکر،٦٠ ٦٣ اور ٦٥ سال تک ذکر ہوئي ہے ليکن ٦٣ سال مشہور ہے (يعني وہي نبي گرامي صلي اللہ عليہ وآلہ وسلمکا سن و سال) مگر اکثر و بيشتر اسلامي معارف جو آپکي زبان مبارک سے صادر ہوئے ہيں انکا تعلق آپکي چار سال اور نو ٩ماہ يا دس١٠ ماہ کي ظاہري خلافت ميں سے ہے کہ يہ خود اپني جگہ ايک حيرت و استعجاب کا مقام ہے ، جسقدر انسان باريک بيني سے کام ليتا ہے ايسا لگتا ہے کہ جيسے کوئي ديومالائي داستان پيش ہو رہي ہو۔آپکي زندگي کے مختلف پہلو کہ جس کا تعلق آپ کي پانچ سالہ ظاہري حکومت سے ہے اس کي تصوير کشي ايک عام ذہن کے لئے نا ممکن ہے ۔
ذرا آپ طول تاريخ ميں نظر اٹھا کر ديکھيں ايک حکومت اور حاکم کا کيا کردار رہا ہے اور لوگوں کا اس کے بارے ميں کيا تصور ہے؟ ايک حاکم کے ليے مطلق العناني، شمشير بدست ہونا ،من ماني کرنا اور جو بھي دنيا کي لذّات ہیں اس سے استفادہ کرنا اسکا ايک حق سمجھا جاتا رہا ہے مصلحت انديش، سياست بازي، اور غير واقع عمل کا لوگ اس سے انتظار رکھتے ہيں اور اگر وہ اسکے برخلاف کوئي عمل انجام دے تو لوگوں کو تعجب ہوتا رہے کيونکہ حکومتيں اسي طرح سے عمل کرتي رہي ہيں اور اسکے بارے ميں ايک غلط تصور قائم ہو چکا ہے۔مگر اميرالمومنين عليہ السلام کي حکومت وہ حکومت ہے جو ان ساري باتوں کو يکسر غلط ثابت کر ديتي ہے اور حکومت کے ان سارے باطل تصورات کو منسوخ کر ديتي ہے ۔
البتہ مکرر آپ نے يہ اظہار فرمايا ہے کہ ميرے پاس جو کچھ بھي ہے وہ نبي اکرم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم کي تعليمات کا ادنيٰ سا حصہ ہے، اميرالمومنين عليہ السلام کے زہد کے بارے ميں وہ راوي يوں کہتا ہے ، کہ ميں نے ديکھا وہ بزرگوار خشک روٹي اپنے گھٹنوں سے توڑ کر تناول فرما رہے ہيں، عرض کيا يا اميرالمومنين عليہ السلام ! آپ اپنے آپ کو کيوں اسقدر زحمت ميں ڈالتے ہيں؟تو آپ نے بحالت گريہ ارشاد فرمايا: ميرے والد قربان جائيں اس ذات والي صفات پر جس نے ساري عمر دوران حکومت اپنے شکم کو گہيوں کي روٹي سے پر نہيں کيا اور مراد ذات نبي اکرم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم تھي۔يہ ہے اميرالمومنين عليہ السلام کي زندگي اور نبي گرامي صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم کي نسبت سے آپ کي شاگردي کي منزل بہرصورت آپ کي حکومت کے سلسلہ سے جو کچھ بھي تاريخ ميں ہے وہ ايک حيرت انگيز شئي ہے۔اور اگر ان چند سالوں ميں آپ کي زندگي کچھ زيادہ نماياں ہوئي ہے تو اسکي ايک وجہ يہ ہے کہ دشمنوں نے آپ کے بارے ميں جان بوجھ کر عيب جوئي اور تہمت و الزام تراشي سے کام ليا ہے اور انھيں عيوب والزامات ميں سے آپکے فضائل نکل کر سامنے آگئے ہيں اور بہت سے حقائق آشکار ہوئے ہيں۔ميں آج چند جملے ان بزّرگوار کي حيات طيبہ کے بارے ميں بحیثیت ايک حاکم کے پيش کرنا چاہتا ہوں، البتہ سب سے پہلے مجھے خود آپ کي زندگي سے سبق لينا چاہیے اور اسکے بعد سارے عہدے داران مملکت کو اس سے سبق لينے کي ضرورت ہے اور ديگر حضرات اور ايک عام انسان کو بھي بہت کچھ سيکھنے اور سبق لينے کي ضرورت ہے۔
آپکي حکومت کي پہلي خصوصيت:
اگر ہم اميرالمومنين عليہ السلام کي حکومتي زندگي کي خصوصيات ’’يعني علي عليہ السلام بحیثیت ايک حاکم‘‘ پيش نظر رکھيں تو چند اہم خصوصيتيں آپ کي اس زندگي ميں نظر آتي ہيں۔
نمبر ١۔حق کي راہ ميں اٹل ہو جانا۔ اگر اس خصوصيت کو سب سے اہم نہ بھي مانيں پھر بھي آپکي حيات ميں کم از کم ايک نماياں خصوصيت ضرور ہے آپکي حکومت مين پہلي چيز جو نظر آتي ہے وہ يہ ہے کہ حق کو پہچاننے اور اسکے تعين کے بعد، کوئي چيز بھي حق پر عمل کرنے سے آپ کے راستے ميںرکاوٹ نہيں بن سکتي ، پيغمبر اکرم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلمنے آپ کے بارے ميں فرمايا تھا:’’ردخشن في ذات اللہ‘‘ (١)يعني آپ کي ذات ايسي ہے کہ راہ حق ميں آپ کے لئے کوئي چيز رکاوٹ نہيں بن سکتي،جس جگہ حق کا تعين ہو گيا کسي کي پرواہ کئے بغير اسپر عمل کرتے ہيں ۔
آپ اميرالمومنين عليہ السلام کي ساري زندگي اٹھا کے دیکھیںگے تويہي ايک صفت ہر جگہ کارفرما ديکھائي ديگي،حق کے لئے اٹل ہو جانا، مسند خلافت پر بيٹھتے ہي آپکي يہي صفت دکھائي ديگي يعني جب حکومت بنام خدا، برائے خدا اور احکام الہيٰ جاري کرنے کے لئے قائم ہوئي تو پھر اس راستے ميں کسي مصلحت و مفاد کے بغير کام کرنا ہے يہ وہ منطق اور اصول ہے کہ جس کو اميرالمومنين عليہ السلام اپني حکومت ميں حتي الامکان رائج کرتے ہيں۔ آپ اگر دشمنان علي بن ابي طالب عليہ السلام کو ملاحظہ کريں تو معلوم ہوگا آپ کي يہ صلاحيت اور حق پر اٹل ہو جانا کس قدراہم ہے۔
حضرت کا تين طرح کے لوگوں سے مقابلہ:
اميرالمومنين عليہ السلام نے تين قسم کے لوگوں سے مقابلے کئے نمبر١ ۔مارقين يعني( دين سے نکل جانے والے)نمبر٢۔ ناکثين يعني (بيعت کر کے توڑ دينے والے)٣۔قاسطین یعني(ظلم کرنے والے) اسميں سے ايک گروہ اہل شام سے تھا يعني اصحاب معاويہ و عمر بن عاص وغيرہ کہ جس ميں کچھ تو وہ تھے جو نسبتاً مسلمان ہونے کي حيثيت سے ايک طولاني مدت بھي گذار چکے تھے اور کچھ جديد الاسلام تھے، نو مسلم تھے يعني زمانہ پيغمبر صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم کے دو٢ يا تين٣ سال گذار ے تھے اور آنحضرت صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم کي حيات کازیادہ حصہ نہيں دیکھا بلکہ زيادہ تر آپ کے بعد زندگي کے حصے گذارے، اور کچھ ايسے بھي تھے جو گروہ شام ہي ميں رہ کر بھي اصحاب پيغمبر صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم ميں شمار ہونے لگے تھے اور يہ سياسي، مالي، اور امکانات و وسائل کے اعتبار سے کچھ قوي اور با حيثيت لوگ تھے اور حضرت کے مد مقابل ميں تھے ليکن حضرت نے اس سب کے باوجود ان کا کوئي پاس و لحاظ نہيں کیا تھا۔
البتہ ايسا بھي نہيں تھا کہ حضرت تنہا حاکم شام کو ہي فاسق سمجھتے تھے اور اس سے جنگ کرنے کے لئے تيار تھے نہيں ايسا نہيں ہے بلکہ اس کے علاوہ بہت سے ايسے حکام اور بھي تھے جو ايمان کے لحاظ سے ضعيف تھے اور آپ کي حکومت سے قبل کہيں نہ کہيں کے حاکم تھے اميرالمومنين عليہ السلام کے زمانے میں بھي وہ اپنے منصب پر باقي رہے جيسے زيادبن ربيہ ظاھراً يہ شخص اميرالمومنين عليہ السلام کي حاکميت سے قبل اسي فارس اور کرمان ميں حاکم تھا اور حضرت کے زمانے ميں بھي حاکم رہا تھا اور جب امام حسن عليہ السلام حاکم وقت ہوئے اسوقت بھي يہ اپني جگہ برقرار رہا اور بعد ميں جا کر معاويہ سے مل گيا لہذا آپ کے ليے اصل مسئلہ ظلم و جور تھا اور مسلمانوں کي روشِ زندگي ميں تبدیلي ايجاد کرنا تھا اور اسلامي خدوخال کو معين کر کے نئي اور بھلي شکل دينے کا مسئلہ تھا اسلئے اميرالمومنين عليہ السلام ظلم و ستم کے مقابل ڈٹ گئے اور آپ اس راستے ميں کسي بھي مقام ومنصب والے سے متاثر نہيں ہوئے آپ کے سامنے اس سے بھي بڑي ايک مشکل، اصحاب جمل تھے کہ جس ميں ايک فرد مسلمانوں کے نزديک محترم المقام ام المومنين عائشہ بھي شامل ہيں اور قديم مسلمانوں ميں سے پيغمبر کے دو بزرگ صحابہ طلحہ و زبير جو پہلے اميرالمومنين عليہ السلام کے دوستوں ميںشمار ہوتے تھے۔اور ان میں سے بعض رشتہ دار بھي تھے جيسے زبير جو اميرالمومنين عليہ السلام اور حضور صلي اللہ عليہ وآلہ وسلمکا پھوپھي زاد بھائي بھي ہے آپ کے مدمقابل جنگ کیلئے کھڑے تھے اور دوسري جانب اميرالمومنين عليہ السلام تھے مگر يہاں پر بھي آپ نے اپنے شرعي فر یضے پر عمل کيا اور اسي راہ ميں اقدام فرمايا۔ جب میں اپنے زمانے ميں اسي ميزان کو سامنے رکھ کر امام خمیني
۲کي زندگي کا مطالعہ کرتا ہوں تو پھر مجھے آپکي زندگي بھي انھيں بزرگوں کي زندگي کا عکس نظر آتي ہے، طريقہ وہي روش وہي کسي کو نظر ميں رکھے بغير عمل کرنا اميرالمومنين عليہ السلام کي زندگي کے مطابق آپ کي بھي زندگي تھي۔ علي عليہ السلام کوئي سنگدل انسان نہيں تھے ان سے زيادہ رحم دل، ان سے زيادہ دقيق القلب، گريہ و زاري کرنے والا مگر انکے لئے جو معاشرے ميں پسماندہ تھے جن کا حق مارا گيا تھا)اور کون ہو سکتا ہے۔ مگر جہاں پرحق کوچيلنج کيا جارہا ہو، اميرالمومنين عليہ السلام وہاں اٹل ہو جاتے ہيں جس کي تاريخ ميں نظير تلاش کرنا ناممکن ہے۔


مسئلہ ولايت ميں گمراہ گروہ:
حقيقتاً اميرالمومنين عليہ السلام ايک بڑي مشکل سے دوچار تھے اس لئے کہ آنحضرت صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم کے زمانے ميں جنگ ميں دشمن کے مقابلے ميں صف آرائياں احزاب گروہ وغيرہ بالکل واضح تھے ايک طرف کفر تو دوسري طرف ايمان، ايک طرف مشرک تو دوسري طرف توحيد والے تھے ،شرک بالکل واضح تھا اگر کچھ منافقين تھے بھي تو وہ جانے پہچانے تھے پيغمبر صلي اللہ عليہ وآلہ وسلماپنے عصر کے منافقين کو پہچانتے تھے ، جو منافقين مدينہ ميں تھے، جو مدينہ سے بھاگ کر مکہ چلے گئے ’’فمالکم في المنافقين فئیتن واللہ ارکسھم بما کسبوا۔ نسائ٨٨‘‘ مختلف رنگ و روپ کے منافقين حضرت صلي اللہ عليہ وآلہ وسلمکے زمانے ميں بھي تھے لیکن ايک چھوٹي سي بھي غلطي کرتے تو اسکے بارے ميں آيت اتر کر دودھ کا دودھ اور پاني کا پاني کر ديتي تھي اور حقائق کھل کر سامنے آجاتے تھے آنحضرت صلي اللہ عليہ وآلہ وسلمبيان کرتے اور لوگ غلطي کو سمجھ جاتے تھے مگر اميرالمومنين عليہ السلام کے زمانے ميں ايک بڑي مشکل ايسے لوگوں کا مد مقابل آجانا ہے جو علي الظاہر مسلمان ہيں، اسلامي بھیس میں ہيں مگر دين کے بنيادي ترين مسئلے ميں گمراہي کا شکار ہيں يعني خود يہي لوگ جو اميرالمومنين عليہ السلام کے مد مقابل جنگ و جدال کے لئے آتے ہيں

ولايت دين کا بنيادي ترين مسئلہ:
دين کا بنيادي ترين مسئلہ،ولايت ہے کيونکہ ولايت توحيد کي نشاني اور اسي کا پرتو ہے ، ولايت يعني حکومت؛ اسلامي معاشرے ميں حکومت ؛اصل ميں خدا کا حق ہے جسے وہ پيغمبر صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم کے سپرد کرتا ہے اور پھر پيغمبر صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم اسے ولّي مومنين تک پہنچاتا ہے اور وہ لوگ اس نکتے ميں شک و ترديد کا شکار تھے ان کے افکار ميں انحراف و کجي پائي جاتي تھي، اگرچہ وہ لوگ لمبے لمبے سجدے بھي کرتے تھے! مگر حقيقت کونہيں سمجھتے تھے وہي لوگ جو ولايت امیرالمومنين عليہ السلام کو نہيں سمجھ رہے تھے جنگ صفين ميں اميرالمومنين عليہ السلام سے روگرداں ہو کر خراسان اور ديگر علاقوں ميں بحیثیت نگہبان و پاسبان وطن ہو گئے اور جنگ سے کنارہ کشي اختيار کر لي يہ لوگ پوري پوري رات سجدے کيا کرتے يا کئي گھنٹے سجدہ ريز رہتے تھے مگر اسکا فائدہ کيا تھا جب وہ اميرالمومنين عليہ السلام(حاکم وقت) کو نہ پہچان سکے، صحيح راہ يعني توحيد و ولايت کا راستہ‘‘ نہ سمجھے اور سب کچھ چھوڑ کر سجد وںميں لگ جائے! ايسے سجدہ کي کيا قيمت ہوگي۔
ولايت کے باب ميں جو روايات وارد ہوئيں ہيں اس سے معلوم ہوتا ہے، ايسے لوگ جو ساري عمر عبادتيں کرتے ہيں مگر ولي خدا کو نہيں پہچانتے اور اپني زندگي اس کي انگلي کے اشارے پر نہيں چلاتے اس کے فرمان کے مطابق نہيں عمل کرتے تو تمام عبادتیںبے فائدہ اور بے ارزش ہے! ’’ ولم يعرف ولايۃ ولّي اللہ فيواليہ ويکون جميع اعمالہ برلاللہ‘‘(١) آخر يہ کيسي عبادت ہے؟ اميرالمومنين عليہ السلام کا کچھ اس طرح کے لوگوں سے سروکار تھا۔
جس ہاتھ کو کاٹ دينا چاہيے:
اميرا لمومنين عليہ السلام نے يہ عجيب و غريب جملہ ارشاد فرماياہے ’’ايھاالنّاس ان احقّ الناس بھذا الآمراقواھم عليہ واعلمھم بامراللہ فيہ فان شغب شاغب استعب‘‘(٢)جس راستے کو ميں نے اختيار کيا ہے اگر کوئي شخص اس سے منحرف ہو جائے اورفتنہ و فساد برپا کرے تو ميں پہلے اسے نصيحت کروں گا تا کہ اپنے اس عمل سے رک جائے،ليکن اگر اس نے اس سے انکار کيا تو پھر اس کا فيصلہ ميري تلوار کريگي ’’فان ابي قوتل‘‘(٣)
اسي خطبہ ميں فرماتے ہيں ،’’الا واني اقاتل رجلين‘‘(٤)آگاہ ہو جاو ميں دو قسم کے لوگوں سے جنگ کروںگا ايک تو وہ شخص جو کسي چيز جيسے (مال) حق،مقام وغيرہ،کا حق دار نہيں ہے مگر اسے ہتھيانا چاہتا ہے دوسرے وہ آدمي کہ جو اپني ذمہ داري کو نبھانے ميں ٹال مٹول کرتا ہے مثلاً جہاد کرنا اس کا فرض ہے مگر وہ نہيں کرتا يا کسي کو کسي کا حق يا مال ادا کرنا چاہيے اور وہ ادا نہيں کرتا يا مسلمانوں کے ایسے اجتماعي امور جن ميں شريک ہونا چاہیے اور وہ شريک نہيں ہوتا ’’ اجلاّ ادعي ماليس لہ و اخر منع الذي عليہ‘‘(٥) آپ پوري قوت سے فرما رہے تھے ’’وقد فتح ياب الحرب بينکم و بين اھل القبلۃ ولا يحمل ھذا العلم الا اھل البصر و البصّر‘‘ (٦) ياد رکھو تمہارے اور اھل قبلہ کے درميان جنگ کا دروازہ کھل گيا ہے۔
١۔الاصول من الکافي ،ج ٢،ص ١٩۔
٢،٣،٤،٥،٦، نہج البلاغہ خطبہ ٣
پيغمبر
۰ کے زمانے ميں کب يہ موقع پيش آيا تھا؟
عمار ياسر جنگ صفين ميں ايک دفعہ متوجہ ہوئے کہ جيسے لشکر ميں کچھ سرگوشیاں ہو رہي ہے جلدي سے خود کو وہاں پہنچا يا معلوم ہواکہ کسي نے آکر سپاہيوں کے درميان يہ وسوسہ کر ديا ہے کہ تم لوگ کن لوگوں کے مقابلہ کے لئے آئے ہو جو نماز پڑھتے ہيں ان کے مقابلے کے ليے، جو خود مسلمانوںہیں ان سے لڑنے آئے ہو! آپ کو ياد ہوگاايران عراق جنگ ميں بھي ايسے نمونے ديکھنے کو ملے ہيں جس وقت ہمارے سپاہي دشمن پر حملہ کر کے انہيں اسير کرکے لاتے تھے تو ان کي جيبوں ميں تسبيح و سجدہ گاہ ہوتي تھي، اس لئے کہ يہ لوگ شيعہ تھے کہ جن کو طاغوت صدام نے اپنے مفاد کے لئے استعمال کيا تھا۔ ياد رکھیں يہ مسلمان اس وقت تک قيمت رکھتا ہے جب تک خدا کے ارادہ سے اسي کے راستہ ميں قدم اٹھائے اگر يہي ہاتھ شيطان کے ارادے سے آگے بڑھے تو پھر اسے کاٹ دينا چاہيے ، اور اميرالمومنين عليہ السلام نے اس چيز کو بہت اچھي طرح تشخيص ديا تھا۔
عمار ياسر فتنوں کو برملہ کرنے والے:
بہرحال معرکہ صفين ميں کئي بار سپاہيوں کے درميان يہي وسوسہ پيدا کيا گيا اور ميرے خيال ميں عمار ياسر تھے جنہوں نے ہر بار اس فتنہ کو برملہ کيا اورعمار کہہ رہے تھے اسطرح خطاب کر کے کہ جھگڑا نہ کرو بلکہ حقيقت کو پہچانو يہ پرچم جو تمہارے سامنے نظر آرہا ہے ميں نے ديکھا ہے يہي پرچم پيغمبر صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم کے مقابلہ ميں آيا تھا اور جو لوگ اس پرچم تلے اس وقت نظر آرہے ہيں اس وقت بھي يہي لوگ حضور صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم سے بھي جنگ کرنے آئے تھے اور پھر ’’اميرالمومنين عليہ السلام کے پرچم کي طرف‘‘ اشارہ کرتے ہوئے فرمايا ميںنے ايک اور علم بھي ديکھا ہے جو اس پرچم کے مدمقابل تھا اور اسي کے نيچے پيغمبر صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم اور وہ شخص يعني اميرالمومنين عليہ السلام کھڑے ہوئے تھے ، تو آخر کيوں پہچاننے ميں غلطي کر رہے ہو؟ کيوں حقيقت کو پہچاننے کي کوشش نہيں کرتے ؟
اس خطاب سے عماّر کي بصيرت کا اندازہ ہوتا ہے، بصيرت ايک نہايت اہم شئي ہے،ميں نے تاريخ کو کھنگالاليکن يہ کردار مجھے فقط عمار ہي کا دکھائي ديا ، عمار جن جن مواقع پر حقائق سے پردہ اٹھانے کے لئے پہنچے ہيں ميں نے اسے کہيں لکھاہے جو اس وقت ميرے ہاتھ ميں نہيں کہ ميں آپکے سامنے پيش کر سکوں۔خداوند کريم نے اس مرد کو زمان پيغمبر صلي اللہ عليہ وآلہ وسلمسے اميرالمومنين عليہ السلام کے دور کے لئے ذخيرہ کر کے رکھا تھا کہ وہ اس دوران حقائق کو سب کے سامنے آشکار کريں اور ظلمت کا پردہ چاک کر کے نور کي طرف لوگوں کي رہنمائي کريں۔
خوارج کون تھے؟
ميں خوارج کے سلسلہ سے بہت زيادہ حساس ہوں،ماضي ميں ان کے بارے ميں کافي مطالعہ بھي کيا ہے انھيں خشک مقدس سے تعبير کيا جاتا ہے۔ليکن تعبير غلط ہے خوارج اس قسم کے لوگ نہيں ہیں اس لئے کہ جو خشک و مقدس مآب ہو گا وہ گوشہ نشيني کي زندگي بسر کرے گا اسے کسي سے کيا لينا دينا، کہاں يہ اور کہاں خوارج؟ خوارج تو فسادي تھے، قتل و غارت کرتے تھے، شکم پارہ پارہ کرتے تھے اور چوري چکاري بھي ان کا ايک معمول کاکام تھا، آخر ان کے بارے ميں يہ کيسے مشہور کر ديا ہے کہ خشک مقدس مآب تھے۔اگر وہ گوشہ نشين بھي ہوتے تو پھر اميرالمومنين عليہ السلام کو ان سے کيا مطلب ہوتا وہ تو انھيں ہاتھ بھي نہ لگاتے؟خوارج سے جنگ کے دوران ميں عبداللہ بن مسعود کے ساتھيوں نے اميرالمومنين عليہ السلام سے کہا ’’لا لک ولا عليک‘‘ نہ تو اس جنگ ميں آپکے ساتھ ہيں نہ آپکے خلاف،اب خدا جانے کہ خود عبداللہ بن مسعود بھي انہيں کہنے والوں ميں سے ہيں يا نہيں مجھے کچھ ايسا ہي لگتا ہے کہ وہ خود بھي اس قول ميں شريک تھے اور اميرالمومنين عليہ السلام سے کہا اگر آپ کفار و اھل روم وغيرہ سے جنگ کرنے جائيں تو ہم بھي آپ کے ساتھ ساتھ ہيں ليکن اگر آپ مسلمانوں ’’اھل بصرہ و اھل شام‘‘ سے لڑنے کے ليے جائيں گے تو پھر نہ ہم آپ کے ساتھ لڑيںگے نہ آپ کے خلاف جنگ کريں گے۔اب ذرا بتائيں اميرالمومنين عليہ السلام ان لوگوں کے ساتھ کيا سلوک انجام ديں؟
کيا اميرالمومنين عليہ السلام نے ان کو موت کے گھاٹ اتار ديا؟ ھر گزنہیں، حتيٰ آپ ان کے ساتھ بد اخلاقي سے بھي پيش نہيں آئے۔ خود ان لوگوں نے آپ کے سامنے پيشکش کي کہ ہميں سرحدوں کي پاسباني کے ليے بھيج ديں،اميرالمومنين عليہ السلام نے قبول کر ليا اور ان کو سرحدوں کي نگہباني پر لگا ديا، بعض کو خراسان کي طرف بھيج ديا يہي ربيع بن خثيم ،جو مشہد ميں خواجہ ربيع سے شہرت رکھتے ہيں ،جيسا کہ نقل کرتے ہيں انھيں افراد ميں سے ايک ہيں ۔اميرالمومنين عليہ السلام نے ان مقدس مآب لوگوں کو ان کے حال پر چھوڑ ديا ۔ يہ دراصل جھل مرکب کا شکار تھے يعني ايک غلط ديد کي بنائ پر دائرہ دين کو نہايت تنگ سمجھتے تھے اور پھر اس تنگ نظري کے ساتھ عمل بھي کرتے تھے اس راہ ميں چوري بھي کرتے تھے قتل و غارت سے بھي انھيں دریغ نہيں تھا اور جنگ و جدال بھي کرتے تھے: البتہ جو ان کے سردار اور رئيس تھے وہ اپنے آپ کو پيچھے رکھتے تھے، اشعث بن قيس اور محمد بن اشعث جيسے لوگ ہميشہ مورچے کے پيچھے پيچھے دکھائي ديتے تھے اور ان کے آگے آگے کچھ جاھل نادان ، ظاھر بين تھے جن کے ذہن غلط باتوں سے پرُ ہيں اور ان کے ہاتھ ميں تلوار بھي تھي انھيں آگے آگے بڑھا ديا گیااور يہ لوگ آگے بڑھ بھي گئے وہ تلوار چلاتے تھے ، قتل کرتے تھے مارے بھي جاتے تھے ابن ملجم کے بارے ميں کوئي خيال نہ کرے کہ يہ کوئي عقلمند آدمي تھا بلکہ يہ ايک احمق آدمي تھا جس کا ذہن اميرالمومنين عليہ السلام کے خلاف بھر ديا گيا تھا وہ کافر ہو گيا تھا اسے علي عليہ السلام کے قتل کے ليے کوفہ بھيجا گيا، اتفاقاً اس ماموريت کے ساتھ ايک عشقيہ حادثہ بھي پيش آگيا اور وہ اپنے اس ناپاک ارادے ميں اور مصمّم ہو گيا يہاں تک کہ وہ خيانت انجام دي ۔ تو خوارج اس قسم کے لوگ تھے جو بعد ميں بھي اسي طرح سے رہے۔
خوارج کے ايک فرد سے حجاج بن يوسف کا مناظرہ:
آپ جانتے ہيں کہ حجاج بن يوسف ايک نہايت سفاک، اور قسي القلب خونخوار حاکم تھا جس کے ظلم اور بربريت کي مثال نہيں ملتي شايد صدام حاکم عراق(جو اب معزول کر ديا گيا ہے) کي طرح تھا اتفاقاً وہ بھي عراق پر حکومت کر رہا تھا ! البتہ صدام کي ظالمانہ روش ترقي يافتہ ہے! اس کے پاس قتل و شکنجے کے جدید اسباب وسائل ہيں اور اس کے پاس نيزہ ، شمشير تيغ و تير جيسي چيزيں نہيں ،حجاج بن يوسف کے اندر کچھ خصوصيتيں بھي تھيں مثلاً اس کا شمارفصحائ و بلغائ ميں ہوتا تھا کہ الحمداللہ موجودہ حکّام ان کمالات سے بھي عاري ہيں!۔
اُس نے منبر سے جو خطبے پڑھے ہيں جاحظ نے ’’البيان والتبين‘‘ ميں اسے نقل کيا ہے، وہ حافظ قرآن تھا مگر ايک خبيث النفس انسان بھي تھا عدل و انصاف اور پيغمبر صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم اور اھل بيت عليھم السلام کا دشمن بھي تھا ايک عجيب آدمي! انھي خوارج ميں سے کسي ايک کو حجاج کے پاس ليکر آئے حجاج اس کے بارے ميں پہلے سے جانتا تھا کہ وہ حافظ قرآن ہے لہذا اس سے سوال کيا:’’آجمعت القرآن‘‘ قرآن کو جمع کر رکھا ہے؟ اس کي مراد تھي کہ کيا قرآن کو اپنے ذھن ميں يونہي جمع کر رکھا ہے، اگر آپ اس کے تيز و تند جوابات پر توجہ کريں تو آپ لوگوں کو اس کي طبيعت اور مزاج کا اندازہ ہو سکتا ہے۔ اس نے جواب ديا؛ ’’آصفرقاً کان فاجمعہ‘‘مگر قرآن پھیلاتھاکہ ميں اسے جمع کرتا؟ جب کہ وہ (خارجي) اس کے مقصد سے واقف تھا مگر اسے جواب نہيں دينا چاہتا تھا۔
حجاج اپني تمام شدّت و قساوت کے باوجود اسے برداشت کر رہا تھا اور پھر کہا’’ آفتحفظہ‘‘ کيا قرآن حفظ کرتے ہو؟ اس نے جواب ديا ’’آخثيتُ فرارہ کا حفظہ‘‘ کيا اس بات کا خوف تھا کہ وہ کہيں فرار نہ کر جائے جو اسے محفوظ کر ليتا؟ ايک اورجواب اسنے سنا! اسنے پوچھا’’ما تقول في اميرالمومنين عبدالمالک‘‘ عبدالمالک بن مروان کے بارے ميں تمہارا کيا خيال ہے عبدالمالک بن مروان خبيث جو اموي خليفہ تھا، اس خارجي نے کہا ’’لعنہ اللہ ولعنک معہ‘‘ خدا اس کے ساتھ تم پر بھي لعنت کرے! ذرا ديکھيں يہ وہ لوگ تھے جو بغير کسي تکلف، بالکل صراحت کے ساتھ،شدت پسندي سے گفتگو کرتے تھے، حجاج غصہ دباکرکہتا ہے تو مارا جاے گا لہذا يہ بتاو کہ تم خدا سے کس حالت ميں ملاقات کرو گے؟اس نے جواب ديا’’ القيٰ اللہ بعملي و تلقاہ انت بدمن‘‘ ميں خدا سے اپنے اعمال کے ساتھ ملوںگا اور تو ميرے خون کے ساتھ خدا سے ملاقات کرے گا ! آپ ذرا ملاحظہ تو کريں ، اس جيسے افراد کا مقابلہ کوئي آسان کام نہيں ہے اگر ايک عام آدمي انھيں ديکھے گا تو ان کا گرويدہ ہو جائيگا، ايک بے بصيرت اگر ان کے اعمال و افعال کو ديکھے تو پھر انھي کا ہو جائے گا، جيسا کہ خود حضرت اميرالمومنين عليہ السلام کے زمانے ميں بھي ايسے اتفاقات ہوئے۔
جنگ نہروان:
ايک روايت کے مطابق، جنگ نہروان کے زمانے ميں ايک دن اميرالمومنين عليہ السلام اپنے ايک صحابي کے ساتھ چہل قدمي کر رہے تھے، وہيں کہيں نہروان کے قريب، نيمہ شب ميں تلاوت قرآن کي آواز سنائي دي، کوئي ايک درد ناک، آواز ميں خوبصورت انداز سے قرآن پڑھ رہا تھا، جوصحابي اميرالمومنين عليہ السلام کے ساتھ تھا کہنے لگا کاش ميں اس کے بدن کا ايک بال ہوتا، کيونکہ سوائے بہشت کے اس شخص کا کوئي ٹھکانا ہو ہي نہيں سکتا، حضرت نے تقريباً اس جيسا جملہ ارشاد فرمايا تھوڑا صبر کرو اس قدر جلدي فيصلہ نہ کرو،اور يہ واقعہ گزر گيا یہاں تک کہ نہروان کي جنگ چھڑ گئي۔اس جنگ ميں يہي، شدت پسند، بد زبان ،متعصب غصہ ور خارجي، ہاتھ ميں تلوار ليے مسلح ہو کر اميرالمومنين عليہ السلام کے مقابلے ميں آگيا،حضرت عليہ السلام نے فرمايا جو ميدان سے چلا جائے يا اس علم کے نيچے پناہ لے لے گا ميں اس سے جنگ نہيں کروںگا اور آپ کے اس اعلان پر کچھ آئے بھي ليکن تقريباً چار ہزار ٤٠٠٠ لوگ رہ گئے پھر آپ عليہ السلام نے اس جنگ ميں ان تمام لوگوں کو تہہ تيغ کر ديا اور لشکرکے دس ١٠ لوگ ہي زندہ بچے بقيہ سب کے سب قتل ہو گئے، اس جنگ ميں اميرالمومنين عليہ السلام فاتح قرار پائے جب کہ اس ميں بہت سے مقتولين اہل کوفہ تھے يا کوفہ کے قرب وجوار کے رہنے والے تھے۔ وہي لوگ جو صفين و جمل ميں حضرت کے ساتھ ہم رزم رہ چکے تھے اور اس کے بعد ان کے ذہن بھٹک گئے تھے زمين پر ان کے لاشے يونہي بکھرے ہوئے تھے اور حضرت ايک خاص کيفيت کے ساتھ ان کے درميان ميں قدم زني فرما رہے تھے ، اس کے باوجودکہ وہ سب مر چکے تھے مگر حضرت ان سے،حکمت کي ايک تہہ اپنے اندر سموئے ہوئے گفتگو فرمارہے تھے اس کے بعد ايک مقتول کے قريب پہنچے اور فرمايا اسے ذرا پلٹو: آپ نے اسپر ايک نگاہ ڈالي اور اس صحابي سے کہ جو ايک شب ان کے ساتھ چہل قدمي کر رہا تھا خطاب کر کے فرمايا! کيا تم اس مقتول کو پہچانتے ہو؟ اسنے کہا نہيں يا اميرالمومنين عليہ السلام !فرمايا! يہ وہي شخص ہے اس رات کو اسطرح دردناک انداز ميں تلاوت قرآن کر رہا تھا اور تم تمنّا کر رہے تھے کہ کاش تم اس کے جسم کا ايک بال ہوتے ! وہ اس طرح سوزو گداز سے تلاوت قرآن کر رہاتھا مگر قرآن مجسم( علي عليہ السلام ) سے لڑنے کیلئے آيا تھا علي ابن ابي طالب عليہ السلام نے ايسے لوگوں سے جنگ کي اور انہيں قلع قمع کيا،البتہ خوارج مکمل طور پر قلع قمع نہيں ہوئے ۔اور ہميشہ ايک محکوم اقليت کي حيثيت سے باقي رہے۔وہ معاشرہ پر تو مسلط نہيں ہو سکے مگر ان کا مقصد اس سے کہيں زيادہ وسيع اور آگے کا تھا جو پورا نہيں ہو سکا۔
استقامت کے ليے بصيرت لازمي ہے:
ميںہميشہ سے تکرار کرتا رہا ہوں کہ اگر کوئي قوم حالات کا تجزئيہ و تحليل کرنے کي صلاحيت کھو بيٹھے تو وہ شکست کھا جائيگي، اصحاب امام حسن عليہ السلام تجزئیے کي صلاحيت سے محروم تھے وہ يہ نہيں سمجھ سکے تھے کہ ماجرا کيا ہے اور ان کے ساتھ کيا چال چلي جا رہي ہے، (اسي طرح) اصحاب اميرالمومنين عليہ السلام بھي حالات کو نہيں سمجھتے تھے کہ جنہوں نے آپ کو خون دل پينے پر مجبور کيا ،وہ سب کے سب آپ کے دشمن نہيں تھے، ليکن اس ميں سے بہت سے ايسے تھے جيسے خوارج، جو پوري طرح واقعات کو سمجھنے سے قاصر تھے ان کے اندر تجزيہ و تحليل کي قوت مفقودتھي ايک بد جنس ايک ناکارہ شخص ادھر ادھر نکل آتا تھا اور لوگوں کو ايک طرف کھيچ ليتا تھا، سنگ ميل کو کھو بيٹھتے تھے اور راستے سے بھٹک جاتے تھے، راستہ چلتے وقت ہميشہ سنگ ميل پر نظر رکھني چاہيے اگر سنگ ميل نظروں سے اوجھل ہو گيا تو ياد رکھيئے بہت جلد راستے سے بھي بھٹک جائيں گے۔
اميرالمومنين عليہ السلام فرماتے تھے ’’ولا يحمل ھذا العلم الا اھل البصر و الصبرہ‘‘(١) سب سے پہلے بصيرت، ہوشمندي، ہوشياري ، تجزئيہ وتحليل اور فھم و درک کي صلاحيت حاصل کرنا پھر اس کے بعد صبرو استقامت سے کام لينا چاہيے جو واقعات پيش آرہے ہيں اس سے بہت جلد دل برداشتہ نہ ہو، حق کا راستہ بہت دشوار گذار راستہ ہے۔

١۔ نہج البلاغہ،خطبہ ١٧٣

دنيا کے سارے ظالمين اور طاقتور آئے اور کچھ نہ کچھ باطل کے لشکر ميں انہوں نے اور اضافہ ہي کيا طول تاريخ اور ہمارے زمانے ميں بھي سارے شيطان صفت انسان آئے اور اس باطل کے بند کو (جو اميرالمومنين عليہ السلام اور بندگان خدا کے راستہ ميں حائل تھا)کواور قوت بخشي جب کہ حق انسانوں کے راستے ميں حائل اس بند اور اس ٹيلے کو ہٹا دينا چاہتا ہے جو خود اپني جگہ کوئي آسان کام نہيں ہے بلکہ ايک مشکل امر ہے جو صبر و تحمل کے ساتھ ساتھ سعہ صدر اور اپني روحاني قوت کي طرف رجوع کرنے کے علاوہ اپنے اندروني چشمے کے ابلنے کا مطالبہ کرتا ہے، تاکہ انسان حق کي ڈگر پر چل سکے،البتہ راہ حق پر چلنے کي کوشش زندگي کو لذيذ بنا ديتي ہے، ايک ايسي زندگي جس ميں ظلم و زيادتي، زور و زبردستي نہ ہو، کوئي چيز الگ سے اس پر تھوپي نہ جائے ايک ايسي زندگي جس ميں انسان کے اعمال پر شيطان کا بسيرا نہ ہو، بلکہ اس کي زندگي روحانيت اورمعنویت سے لبريز ہو۔
حکومتِ اميرالمومنين عليہ السلام کي دوسري خصوصيت:
آپ کي زندگي کا ايک دوسرا پہلو زہد و پارسائي ہے جس کے لئے خود ايک مفصل گفتگو کي ضرورت ہے، واقعاً اميرالمومنين عليہ السلام کا زہد عجيب و غž