|
بسم اللہ الرحمن الرحیم
استکباري طرز تفکر:
افسوس کي بات يہ ہے کہ آج پوري دنيا ميں بني نوع انسان کي زندگي
استکباري غنڈوں کے حصار ميں ہے ۔ ان ميں سرفہرست امريکہ ہے۔ اس وقت
دنياميں ايک ايسي حکومت ہے جو اپنا حق سمجھتي ہے کہ مختلف قوموں
اور ملتوں کے ذخائر کے ذريعے اپنا منافع حاصل کرے۔ يہ وہي استکبار
ي فکر و روح ہے اور کچھ نہيں۔اگر ايک حکومت اپنا يہ حق سمجھے اور
بغير شرم و حيا کے يہ اعلان کرے جو حکومت ميري مخالفت کرے گي ميں
اس کا خاتمہ کردوں گي يہ استکباري روح ہے، يہي وہ چيز ہے جس کا
امريکہ ، لاتيني امريکي حکومتوں اور دنيا کي دوسري حکومتوں کے
متعلق اظہار کرچکا ہے استکبار کے اپنے مسائل کا کوئي حل نہيں۔ اس
کے منافع خطرے ميں ہيں اور جتني زيادہ حکومتوں کو وہ تباہ و برباد
کرے گا اتنا ہي اس کے لئے سود مند ہے لہذا وہ يہ صورتحال وجود ميں
لاتا ہے ۔۔ جيسا کہ آپ مشاہدہ کررہے ہيں کہ امريکائي مکمل بے حسي
کے ساتھ ہزاروں انسانوں کے قتل عام کي بات کرتے ہيں ، يا ہيرو شيما
ميں ايٹم بم کے ذريعے ہزاروں انسانوں کے قتل عام کو معمولي شمار
کرتے ہيں اور کہتے ہيں کہ ہمارا يہ اقدام مصلحت کي بنائ پر تھا ہم
اس کام کو ضروري سمجھتے تھے ! يہ وہي استکباري فکر و روح ہے۔ اگر
وہ کسي مسافر جہاز کو تباہ کرتے ہيں اور مورد اعتراض قرار پاتے ہيں
تو کہتے ہيں وہ ايک قصہ تھا۔ جو ختم ہوگيا اب اس کي بات نہ کرو!
مسئلہ استکبار کے ساتھ جنگ کا ہے۔ امريکہ کے ساتھ جنگ کيونکہ آج
دنيا ميں استعمار کا سرغنہ (نمونہ) امريکہ ہے اور اگر امريکہ ايک
حکومت کے عنوان سے استکباري راہ و ہدف اختيار نہ کرتا تو ہمارے لئے
دوسري حکومتوں کي طرح ہوتا ليکن آج اس دور ميں امريکا ، استکبار کا
مکمل نمونہ ہے۔ اگر ہم چاہتے ہيں کہ دنيا ميں مستکبر کو تلاش کريں
تو ہرگز مشکل کا شکار نہيں ہوں گے، يعني امريکي حکومت، امام خميني
۲
نے اس کو بڑے شيطان کا لقب ديا۔ يہ ايراني قوم کي آواز حق کے
مقابلے ميں مستکبر تھا وہ استکبار جو ہمارے زمانے ميں سامنے آيا
امريکي استکبار تھا انقلاب سے پہلے انقلاب کے درميان اور آج تک يہي
استکبار ہے۔دنيا کي مستکبر و ظالم طاقتيں جن ميں سرفہرست امريکي
حکومت ہے، دوسري حکومتوں کو اظہار نظر کرنے کا حق دينے کے قائل بھي
نہيں ہيں۔ اور ہر وہ کام جو اپني سياست کے لئے مفيد سمجھتے ہيں
چاہے وہ دوسري قوموں کے لئے باعث ضرر کيوں نہ ہو انجام دئيے ہيں۔
زور زبردستي کا نمونہ :
جن افراد نے يہ اعتراض کيا ہے کہ
امريکي طاقت حد سے زيادہ دوسري حکومتوں کے اندروني معاملات ميں
مداخلت کرتي ہے اس کے جواب ميںچند روز قبل امريکي صدر نے اپني
تقرير ميں کہا ہے ہم امريکا کے منافع کے لئے دوسرے ملکوں ميں
مداخلت کرتے ہيں۔ جو چيز ان کے لئے اہميت رکھتي ہے وہ ان کے ملک کي
مصلحت ہے اور اسے حاصل کرنے کے لئے وہ دوسرے ملکوں ميں مداخلت کرتے
ہيں اور اس مداخلت کو اپنا حق سمجھتے ہيں۔ اسلامي جمہوريہ ايران
اور اس کا نظام جو کہ غير قانوني تقاضے (ڈيمانڈ) کے مقابلے ميں
کھڑا ہے ان کي نظر ميں دشمن شمار ہوگا۔ دنيا بھر ميں اظہار اور بار
بار تکرار کرتے ہيں کہ ايراني حکومت امريکي حکومت کے اہداف و مقاصد
کے خلاف ہے۔ اگر تم اپنے مفادات کو اپنے ملک کي حد تک محدود رکھو ،
تو ہميں تم سے کوئي کام نہيں ہے؟ اگر دوسرے ملکوں خصوصي طور پر
ايران ميں دست درازي نہ کرو تو ہميں تم سے کوئي مطلب نہيں ہے، ليکن
آپ زيادہ سے زيادہ کي طلب و ہوس رکھتے ہيں اور اپنے اس مقصد کے
حصول کے لئے دوسرے ملکوں ميں مداخلت کرتے ہو۔۔۔۔آج جس چيز کي تلاش
امريکہ کررہا ہے درحقيقت يہ وہي چيز ہے جسے انيسويں صدي اور بيسويں
صدي کي ابتدائ ميں استعمار گر تلاش و جستجو کررہے تھے اس وقت بھي
يورپ کي حکومتيں يہ نعرہ لگاتي تھيں کہ ہميں ان ملکوں کے ذخائر کي
ضرورت ہے آج امريکہ يہي کہہ رہا ہے اور امريکي صدر آزاد حکومتوں کے
مقابلے ميں اعلان کررہے ہيں کہ ہم دوسرے ملکوں کے داخلي امور ميں
مداخلت کريں گے ، کيونکہ ہمارے مفادات ان سے منسلک ہے۔ آج امريکي
حکومت اس بات پر قانع نہيں ہے کہ صرف اپنے ملک اور مفادات پر تسلط
رکھتي ہو اور اپنے آپ کو ايک ملک و ملت کے عنوان سے اپني مرضي کے
مطابق چلائے، بلکہ وہ چاہتے ہيں کہ دنيا بھر ميں جہاں کہيں بھي
حساس جغرافيائي علاقہ موجود ہوں۔ وہاں وہ موجود ہوں جہاں اہم بحري
راستے موجود ہوں وہ اس پر مسلط ہوں جہاں پر قيمتي زميني ذخائر اور
منابع ہوں اس کي چابي ان کے پاس ہو، جہاں پر مال و دولت کا ذخيرہ
ہو وہ اس پر مسلط ہوں جہاں کہيں انساني معاشرہ ہو وہاں وہ موجود
ہوں تاکہ وہ اپنے ارادوں کو ان پر مسلط کرسکے ۔ استکبار يعني يہ۔آج
کا اہم ترين مسئلہ يہ ہے کہ شيطان بزرگ اسلامي ممالک کے ذخائر پر
مسلط ہے سياسي واقتصادي حتيٰ فوجي لحاظ سے بھي وہ ان ملکوں پر تسلط
رکھتا ہے ۔ روس کا ٹوٹنا جو کہ کميونسٹ و ملحدوں کي شکست تھا، روس
امريکہ کے مقابلے کي صلاحيت کھو بيٹھا ، تو اب امريکہ تاک ميں
بيٹھا ہے اور چاہتا ہے کہ دنيا بھر ميں خاص طور پر زرخيز اسلامي
ممالک ميں رسوخ پيدا کرے اور ان علاقوں پر بغير کسي رقيب کے مکمل
قابض ہوجائے اور اس سے فارغ ہونے کے بعد، اسلامي بيداري جو پوري
دنيا ميں پھيل رہي ہے اور جسے امريکہ سب سے بڑي رکاوٹ تصور کرتا ہے
اس سے مقابلہ کي تياري کررہا ہے۔آج سر فہرست جو نظام رائج ہے وہ
امريکہ کي غاصبانہ حکومت کا نظام ہے، يعني دنيا ميں جہاں کہيں بھي
کوئي گناہ اس طرح کي حکومت کے ذريعے سے انجام پاتا ہے اس کا کچھ
حصہ لازمي طور پر امريکا کي گردن پر ہے۔ غاصبانہ نظام کا مطلب يہ
ہے کہ اگر امريکي طاقت دنيا کے کسي خطہ ميں اپنے لئے مفادات کو فرض
کرلے اگر چہ وہ مفادات غير قانوني اور بين الاقوامي اصولوں کے خلاف
ہي کيوں نہ ہو تو حق رکھتي ہے کہ وہاں پر اپنے طاقتور فوجي نظام کے
ساتھ پہنچ جائے اور جو بھي اس کے مفادات کي مخالفت کرے نابود کردے،
ايک وقت تھا کہ وہ ايسے کام مخفي طور پر کيا کرتے تھے ليکن اب وہ
وقت ہے کہ يہ کام آشکار اور اعلاناً انجام ديتے ہيں ، کھل کر اعلان
کرتے ہيں کہ فلاں ادارہ يا حکومت يا ملت ہمارے مفادات کے مخالف ہيں
، يہ اعلان امريکا کے لئے يہ جواز فراہم کرتا ہے کہ وہ اس ادارے يا
شخص يا حکومت و ملت کو چاہے وہ دنيا کے کسي کونے ميں ہوں ، کچل کر
رکھ دے يہ غاصبانہ نظام ہے، جنگل کا قانون ہے غير انساني اور غير
فطري نظام ہے۔
سازش بغاوت اور دہشت گردي:
آج لازماً دنيا کے لوگوں کو يہ جاننا
چاہئيے کہ بڑي طاقتيں اور امريکي استکباري طاقت کس طرح سے اپنے
اہداف کے لئے آگے بڑھ رہي ہيں بہت بے حسي کے ساتھ انسانيت کا قتل
عام کررہے ہيں اور دوسرے ممالک پر تجاوز کررہے ہيں پہلے وہ کام جو
امريکا اپني جاسوس مشينري (C.I.A)کے
ذريعے مخفيانہ انجام ديتا تھا ( جيسے کسي ملک ميں بغاوت کرواني ہو
يا کسي حکومت کو اقتدار سے ہٹانا ہو) آج نوبت يہاں تک پہنچ گئي ہے
کہ وہ يہ تمام کام آشکارا انجام دے رہے ہيں ۔ آج امريکا کا سب سے
بڑا جرم دنيا ميں يہ ہے کہ وہ جھوٹد، فريب دغابازي اور باطل روش کو
دنيا ميں پھيلا رہا ہے اور اس کو رائج کررہا ہے ۔ يہ بات قابل
افسوس ہے ۔ آپ ملاحظہ کريں دنيا کي مستکبر حکومتوں ميں جن کا سرغنہ
امريکا ہے، زيادہ تر يہ ہي ہيں جنہوں نے دنيا ميں سب سے زيادہ دہشت
گرد ي کي ہے۔ ايک امريکي سياستدان حال ہي ميں يہ دعويٰ کرتا ہے کہ
(گواتمالا) ميں قتل عام اور لوگوں کا بڑي تعداد ميں گم ہوجانا ايک
سانحہ تھا جس نے دنيا کو اپني طرف متوجہ کيا تھا يہ امريکا کي
سياست اور خفيہ ايجنسي کا کارنامہ تھا کہ انہوں نے چن چن کر اپنے
سياسي مخالفين کو شکار کيا اور غائب کرديا۔ اب انکشاف ہورہا ہے کہ
انہوں نے دنيا بھر ميں خاص طور پر لاتيني امريکا ميں قتل عام کيا
ہے دہشت گردي پھيلائي ہے اور بغاوت کو ابھارا ہے، خود ايران ميں ہم
شاہد تھے اور ہيں، دوسري جگہوں پر بھي ايسا ہي ہے ، انہوں نے
بدترين عالمي دہشت گردوں کي حمايت کي ہے انہيں پناہ دي ہے ان کي
مالي امداد کي ہے اور اب بھي کررہے ہيں۔ اسرائيل جس کي بنياد ہي
دہشت گردي پر ہے، جو غاصب، ظالم اور ستمگر ہے اس کي بھرپور حمايت
اور امداد کررہے ہيں۔ خراب استکباري نظام اور امريکا کي جاسوس
مشينري کي بدولت شر و فساد معاشروں ميں رائج ہوا ہے ، ان کي وجہ سے
پريشاني بے امني اور آلودگي اقوام عالم کے درميان پيدا ہوئي ہے۔ وہ
ناحق دوسروں کي زندگي اور ان کے کاموں ميں مداخلت کرتے ہيں ، وہي
ہيں جو اپنے وسائل اور کارندوں کے ذريعے ، انقلابي حکومتوں اور بے
گناہ عوام کے خلاف کام کرتے اور ان کے لئے پريشاني اور مزاحمت
ايجاد کرتے ہيں۔اپنے دشمن پر حملے کے بہانے سے لوگوں پر حملہ آور
ہوتے ہيں۔ سوڈان ميں جس کارخانے کو انہوں نے تباہ کيا، نہيں معلوم
کتنے بے گناہ افراد قتل ہوئے يہ حملہ فقط اس بنياد پر ہوا کہ ان کے
بقول ہم نے تشخيص دي ہے ، ہمارا اندازہ تھا، يا يہ کہ ہم يہ سمجھے
کہ يہ جنايت ہے اور جو بھي اس جنايت کا مرتکب ہو وہ قابل مزمت ہے۔
امريکي حکومت بھي قابل مذمت ہے ، وہ ايک قاتل ہے اور اس کا يہ
اقدام ، قاتلانہ اقدام ہے، امريکا قاتل حکومت ہے اور اس کا بڑا جرم
يہ ہے کہ وہ بے گناہ افراد کو بھي دہشت گردي کا شکار کرتي ہے۔ وہ
کونسي دہشت گردي ہے جو امريکي حکام نے انجام نہ دي ہو؟ کتني زيادہ
عوامي حکومتوں کا انہوں نے خاتمہ کيا ہے؟ امريکا نے اپني جاسوس
مشينري کے ذريعے (
C.I.A
)افريقا ميں، لاتيني امريکا ميں براعظم امريکا اور مشرق وسطيٰ ميں
جہاں کہيں بھي ضروري سمجھا وہاں مداخلت کي اور اس حکومت کو جو اس
کي مخالف ہو اپني سازش اور پروپيگنڈوں کي بدولت اسے ختم کرديا؟ اس
طرح کي بہت سي دوسري مثاليں موجود ہيں۔ امريکا کا موجودہ صدر بش
خود امريکا کي جاسوس مشينري کا رکن تھا۔ وہ خود جانتے ہيں کہ يہ
مشينري کون سے کام انجام ديتي ہے شايد خود اس نے يہ کام انجام دئيے
ہوں ، کسي قوم پر حملہ کرنا اسے غارت کرنا جھوٹے پروپيگينڈے ، فتنہ
و فساد کو دنيا بھر ميں پھيلانا لوگوں کي اکثريت کو احمق شمار کرنا
حتيٰ خود امريکا کے اندر بھي يہ چيز موجود ہے۔ يہ وہ کام ہيں جنہيں
امريکا اور دوسري ظالم اور ستمگر طاقتوں نے انجام ديا ہے۔
حيواني طاقت:
توجہ کيجئے ! خليج فارس کہاں اور
امريکا کہاں! ليکن انہوں نے اتنے زيادہ فاصلے کے باوجود اپنے
مفادات کو يہاں پر تشخيص ديا ہے، چاہے ان کي يہ تشخيص دنيا ميں
عقلا ئ اور مصنفين کي تائيد کے مطابق ہو يا نہ ہو يہ بات ان کے لئے
کوئي اہميت نہيں رکھتي کيوں کہ ان کا انحصار حيواني طاقت پر ہے۔
جنايت کاري:
آج سے چند سال پہلے شايد يہي دن تھے
جب امريکي بحري بيڑے نے خليج فارس ميں ايران کے ايک مسافر ہوئي
جہاز کو نشانہ بنايا جس ميں تقريباً تين سو مسافر تھے اور اس جہاز
کو تباہ و برباد کرديا ۔ تمام لوگ جل گئے اور اس قتل عام پر جب
دنيا کي جانب سے اعتراض ہوا اور اس حادثہ ميں دنيا ايران کي
مظلوميت جان گئي تو معذرت کرنے لگے معاف کيجئے گا ہم سے غلطي
ہوگئي! تعجب ہے ! غلطي ہوگئي؟! عام اور قابل احترام قانون کے حتيٰ
بڑي طاقتوں کے نزديک جو کہ خود حقوق بشر کي رعايت نہيں کرتيں ہيں
مسافر ہوائي جہاز قابل احترام ہے اور کوئي حق نہيں رکھتا کہ مسافر
طيارہ کے لئے رکاوٹ يا مشکل ايجاد کرے تين سو مسافروں کا قتل عام
کرتے ہو ، پھر کہتے ہو ہم سے غلطي ہوگئي! کيسے غلطي ہوگئي؟؟! اگر
بحري بيڑے کے کمانڈر نے غلطي کي تھي تو پھر اسے عدالت کے کٹہرے ميں
کيوں نہيں کھينچا گيا؟! کيوں تم نے اسے ميڈل ديا؟! کيوں پھر مختلف
وقتوں ميں تم نے ايراني قوم سے اپني دشمني کا اظہار کيا اور کررہے
ہو ؟! کيسي غلطي؟! آپ اپنے برے اہداف تک پہنچنے کے لئے ہرگز غلطي
نہيں کرسکتے ، آزاد قوموں کے خلاف کاروائي کرنے ميں کبھي غلطي نہيں
کرتے، اپنے برے اور بدترين مقصد کو پانے کے لئے ہميشہ مکمل توجہ کے
ساتھ اسي نکتہ تک پہنچتے ہو جو دراصل تمہارا مقصد ہوتا ہے۔ آج
استکباري دنيا يہ ہے آج امريکا يہ ہے، يہ لوگ دہشت گردي کرنے ميں
ذرہ برابر شرم و حيا محسوس نہيں کرتے۔آج روس اور يورپ کے اندر
تبديلياں رونما ہونے سے مشرقي بلاک منہدم ہوگيا ہے اور روس بڑي
طاقتوں کے صف سے خارج ہوگيا ہے لہذا امريکي طاقت منظر عام پر آکر
بلا مقابلہ غرور و تکبر کے ساتھ سرگرم عمل ہوگئي ہے اور بغير کسي
قيد و بند کے حتيٰ بين الاقوامي قوانين کي خلاف ورزي کي مرتکب ہوتي
ہے، اپنے فوائد کو دوسري ملتوں کے فوائد پر ترجيح ديتے ہوئے خود
سري کي بدولت ہر جگہ مداخلت کرتي ہے اور اپنے فوائد کو حاصل کرنے
کے لئے ہر قسم کے جرائم کي مرتکب ہورہي ہے ۔ کہنيوں تک اس کے ہاتھ
بے گناہوں کے خون سے رنگے ہوئے ہيں اور اس نے مشرق و مغرب دونوں
بلاکوں کو اپنے جاسوسي ، فوجي اور تبليغاتي حصار ميں ليا ہوا ہے۔
فساد کي جڑ:
بڑي طاقتيں خاص طور پر امريکا جو دنيا
کے نظام پر مسلط ہيں انصاف کي نگاہ سے موجودہ صدي ميں فساد کي جڑ
ہيں يہ امريکي طاقت اور متحدہ امريکي حکومتوں کے لئے بہت مناسب نام
ہے، فيصلہ کرتے ہيں ، ايک جگہ حملہ آور ہونا ہے ايک جگہ مداخلت
کرني ہے، جہاں ضروري ہو کہ مداخلت کي جائے تو وہاں مداخلت نہيں
کرتے ، ايک جگہ مظلوم کے ہاتھوں کو باندھنا ہے اور ظالم کے ہاتھوں
کو تقويت پہنچاني ہے يہ مسئلہ سب سے بدتر ہے کہ يہي ظالم طاقت
قانون بن کر رہ گئي ہے جو ان کي مخالفت کرے وہ قابل مذمت ہے ۔
کھوکھلي طاقت:
ايراني قوم اور اسلامي جمہوريہ ايران
نے دنيا پر طاري امريکي ہيبت کو توڑ پھوڑ کر رکھ ديا ہے۔ يعني
ايراني ، امريکا کي ہيبت کو چکنا چور کرنے والے ہيں، ميں نے بارہا
يہ بات کہي ہے کہ بڑي طاقتوں کي طاقت کا دار و مدار (انحصار) ان کي
ہيبت پر ہے اس کي بنياد پر کام کرتے ہيں۔۔ امريکا اب محتاج ہے وہ
دس پندرہ سال پہلے والي قدرت و طاقت ، اب کہاں ہے؟ ايک دن تھا جب
يورپ اور دوسري جگہوں پر امريکا کي بات سني جاتي تھي اس کا احترام
کيا جاتا تھا آج ايسا نہيں ہے امريکا کي سياست اور خارجہ پاليسي
بہت کمزور ہے قدرتمند نہيں ہيں پھر بھي چاہتے ہيں کہ اس کمزوري کو
چھپاتے ہوئے اپني بڑي طاقت ہونے کا اظہار اور اپني ہيبت کو ايران
اور ايراني قوم پر طاري کريں!
بہت سے ايسے عظائم ہيں جو ظاہري طور
پر مستحکم اور درحقيقت اندروني طور پر کھوکھلے ہيں ان کي حکومت کا
دار و مدار زور گوئي ظاہري قدرت اور طاقت کے بل بوتے پر ہے ان کے
اس نظام و قانون سے درحقيقت عوامي قدرت و طاقت کا لفظ مفقود ہے
يعني دراصل عوام اس نظام حکومت ميں کوئي کردار نہيں رکھتي اب ايسا
نظام ظاہري طور پر کتنا ہي مستحکم ہو ليکن درحقيقت کھوکھلا ہے۔
غالباً آج بڑي طاقتوں کے درميان (خاص طور پر امريکا) ايسا ہي نظام
رائج ہے۔جو لوگ يہ سوچتے ہيں کہ ہم استکبار يعني امريکا سے مذاکرات
کريں يا وہ افراد سادہ لوح ہيں يا پھر امريکي طاقت سے مرعوب ہيں۔
ميں نے بارہا يہ نکتہ بيان کيا ہے استکبار کا انحصار اپني طاقت اور
قدرت سے زيادہ اپني ہيبت زور و زبردستي پر ہے استکبار يعني اپني
ہيبت بٹھانے والا ، ڈرانے دھمکانے والا شک و ترديد ايجاد کرنے والا
، اور ان جيسے دوسرے کاموں سے آج تک زندہ ہے يہ طاقت جس کي بڑي
طاقتوں نے نمائش کي ہے معلوم ہوا کہ افسانہ ہے، من گھڑت ہے البتہ
ہم پہلے بھي جانتے تھے ، يہ وہ حقيقت ہے جو رہبر کبير انقلاب امام
خميني ( رضوان ۔۔۔) کي زبان پر جاري ہوئي کہ ’’ امريکا ہرگز ہمارا
کچھ نہيں بگاڑ سکتا ‘‘ يہ حقيقت آشکار ہوگئي۔
امريکي ثقافت:
ممکن ہے آپ سوال کريں کہ کس لئے مغربي
ثقافت يورپ و امريکي ثقافت سے دور بھاگا جائے کيوں اپنے ذہنوں سے
ان کي ثقافت کو نکال پھينکا جائے؟ يہ سوال صحيح ہے، لوگ انقلاب
اسلامي کے بعد کسي حد تک اس کا جواب سمجھ چکے ہيں ليکن پھر بھي ميں
ايک چھوٹا سا جملہ کہوں گا مغربي ثقافت انسانيت کي تباہي و بربادي
کا پروگرام ہے ۔ بغض اور دشمني کي ثقافت ہے ، انساني اقدار اور
فضيلتوں کي نفي ہے، ايسي ثقافت ہے جيسے بادشاہي قدرت ہو، اختيارات
کے خدا جن کے پاس دولت ودرت زور زبردستي ہو ايسي ثقافت کي بدولت
چاہتے ہيں کہ بني نوح انسانيت کو تمام فضائل سے خالي اور اندر سے
کھوکھلا کرديں،
حقائق کو الٹا دکھانا:
دنيا کي اصطلاحات ميں جو چيز
ڈيموکراسي کہلاتي ہے اور مغرب جس پر افتخار کرتا ہے، امريکا ہے ۔
انگلستان ، حتيٰ فرانس جو اپنے ملک کو ڈيموکراسي کا گہوارہ کہتے
ہيں ان کے درميان ڈيموکراسي درحقيقت وجود ہي نہيں رکھتي ليکن اہل
مغرب کي اخلاقي خصوصيت او طبيعت يہ رہي ہے کہ وہ ہميشہ بدترين چيز
کو بھي خوبصورت لباس ميں پيش کرتے ہيں يعني اگر کوئي چيز بہت بري
ہو وہ خوشنما بنا کر دنيا کے سامنے اس کي تعريف کرتے ہيں ، امريکا
اسکا واضح نمونہ ہے۔
اسلامي نظام سے امريکا کي دشمني کي
وجوہات:
اسلامي نظام کے اندر جو چيزيں امريکا
کے غصہ اور نفرت کا سبب ہيں وہ يہ ہيں
١۔ دين کا سياست سے جدا نہ ہونا اور اسلامي جمہوريہ کي بنياد
٢۔ اس نظام ميں سياسي استقلال ہے، اس معني ميں کہ يہ نظام بڑي
طاقتوں کي زور زبردستي کے مقابلے ميں سر
سليم خم ميں نہيں ہوتا ۔
٣۔ اسلامي جمہوريہ کي جانب سے فلسطين کے مسئلے کا حل
الف ) صہيونيوں کا نابود ہونا
ب) خود فلسطينيوں پر مشتمل فلسطيني
حکومت
ج) يہوديوں ، مسيحيوں اور مسلمانوں کا
مشترک طور پر فلسطين ميں سکونت پذير ہونا
٤۔ دنيا بھر ميں اسلامي تحريکوں کي سياسي و معنوي طور پر حمايت اور
مسلمانوں پر عرصہ حيات کو تنگ
کرنے پر ان طاقتوں کو مورد مذمت قرار
دينا
٥۔ دشمنان اسلام کي سازش جو کہ مقدسات اسلام کي اہانت پر مبني ہے
اور اس کے مقابلے ميں اسلام ، قرآن ،
پيامبر اکرم
۰
اور دوسرے انبيائ الہي کا دفاع کرنا ، اہانت کي روشن مثال واجب
القتل خبيث رشدي کے ہاتھوں آيات شيطاني کي تاليف ہے۔
٦۔ اسلامي ملکوں اور حکومتوں کي سياسي و اقتصادي حمايت ، اسلامي
امت کے سائے ميںمسلمانوں کي بڑي حکومت قائم کرنا
٧۔ مغربي حکومتيں اپني تنگ نظري و تعصب کي بدولت يہ چاہتي ہيں کہ
تمام ملتوں پر اپني ثقافت کو زبردستي مسلط کريں اور انہيں اس ثقافت
کو اپنانے پر مجبور کريں ايراني قوم نے زبردستي مسلط کي جانے والي
اس ثقافت کو رد کرديا اور يہ کوشش کي ہے کہ اسلامي ملکوں ميں
اسلامي ثقافت رائج ہو۔
٨۔ فتنہ و فساد اور جنسي بے راہ روي کے خلاف جنگ، جبکہ بعض مغربي
حکومتوں خاص طور طور پر امريکا و انگلستان نے جنسي بے راہ روي کي
بدترين شکل کو بڑي بے شرمي کے ساتھ قانوني شکل دي ہے۔ اور چند
دہائيوں پہلے سے اس فساد کي مختلف شکلوں کو اسلامي ممالک ميں
پھيلانے کا پروگرام بنارہے ہيں يہ وہ چيزيں ہيں جنکي بدولت امريکا
جمہوري اسلامي سے کينہ بغض اور دشمني رکھتا ہے۔
امريکا کي وسعت طلبي ايران کي مخالفت:
استکباري طاقتيں چاہتي ہيں کہ ہميشہ
زور گوئي کريں ٹال مٹول سے کام ليتے ہوئے دنيا کي دولت پر چھا
جائيںاور قوميں جو کام کريں اور زحمتیں اٹھائيں ان کے منابع و
منافع پر يہ قابض ہوں اور جو کوئي ان کے مقابلے ميں کھڑا ہو اس کے
يہ دشمن ہوجاتے ہيں ، اسلام ان کے مقابلے ميں کھڑا ہے، استکبار جو
ايران کا مخالف ہے امريکا کي ايران و اسلام سے گہري دشمني کي وجہ
يہ ہے کہ امريکي وسعت طلب ہيں اور يہ چاہتے ہيں دنيا ميں ہر جگہ
موجود ہوں اجارہ داري قائم کريں اور دوسروں کي جدوجہد کے نتيجے ميں
اس کے ثمرات و نتائج سے خود مستفيد ہوں و دوسري ملتوں کے منافع کچھ
بھي ہوں انہيں اس سے مطلب نہيں ہے۔ اسے اہميت نہيں ديتے ہاں ضروري
يہ ہے کہ خود ان کے فوائد کو کوئي نقصان نہ پہنچے اگرچہ اس کے
نتيجہ ميں دوسري ملتوں کے منافع کو نقصان کيوں نہ پہنچے ! جب
صورتحال يہ ہے تو واضح ہے کہ اسلامي تحرک وبيداري ان کے لئے نقصان
دہ ہے اور وہ اس سے انتقام لينے کے درپے ہيں۔
اسلام نظام حکومت کي خواہش اور فلسطين
کي حمايت:
جب ميں پاکستان گيا تھا تو امام خميني
۲
نے يہ فرمايا آپ پاکستان کے علمائ کو بتائيں کہ مشرق و مغرب اور
امريکا کي جانب سے ہم پر جو دباو ہے وہ اس لئے نہيں ہے کہ ہم
ايراني ہيں، بلکہ اس کي بنياد اسلام ہے، نعوذ باللہ جس دن دنيا يہ
احساس کرے کہ ہم اسلام کے لئے سنجيدہ نہيں ہيں، اسلام کے اصولوں کا
سودا کرسکتے ہيں، اسلام کو بے اہميت قرار دے رہے ہيں،اسي دن يہ
سارے دباو ختم ہوجائيں گے۔
عالمي استکبار اور سر فہرست امريکا اور دنيا پر مسلط ان کي شيطاني
مشينري يا وہ ممالک جو مسلط نہيں بھي ہيں ليکن استکبار کے منابع کے
لئے کام کرتے ہيں، يہ تمام طاقتيں ايران کي صرف اس وجہ سے دشمن ہيں
کہ ايران ميں اسلام ہے اور اس کے علاوہ کوئي وجہ نہيں ہے۔
ايران اسلامي سے امريکا کي دشمني کي
وجوہات
١۔ اسلام سے تمسک
٢۔ قضيہ فلسطين ميں
قطعي اور مستحکم موقف:
يہ بات آپ جان ليں بلکہ ساري دنيا جان
لے کہ امريکا جو ايران کے مقابلے ميں اتنا گستاخ غصہ اور کينہ اور
نفرت رکھتا ہے، اس کي دو وجوہات ہيں اسلام، اور قضيہ فلسطين ميں ،
آشکار اور قطعي موقف ، انقلاب کے پہلے دن سے آج تک فلسطين سے متعلق
يہ فيصلہ قطعي ہے اور کبھي تبديل نہيں ہوا بلکہ روز بروز واضع تر
ہوتا جارہا ہے اسلامي جمہوريہ ايران پر ہر قسم کا دباو صرف ان
وجوہات کي بنائ پر ہے۔ اسلام کو ترک کردينا ، مقدس اسلامي حاکميت
کے مقدس نظريہ سے دست بردار ہونا، اور فسلطين سے متعلق اپنے حتمي
فيصلہ کو تبديل کردينا ہي دباو کے کم ہونے کا سبب بن سکتا ہے وگرنہ
جب تک يہ موارد ہيں امريکا کا دل ہم سے صاف نہيں ہوسکتا۔
امريکا ايراني قوم اور اس کے اہداف سے
سرتاپا دشمن ہے اور ہم يہ بات جانتے ہيں ۔ اس ملت نے فلسطين سے
متعلق اپنا واضح فيصلہ سنا ديا لہذا امريکا نے اس سے چوٹ کھائي ہے،
اس ملت نے امريکا کے ظالمانہ تسلط کو آشکار کيا اور اپنے اسي موقف
پر قائم ہے۔ لہذا امريکا اور عالمي استکبار شديد ناراض ہيں۔ اس ملت
نے اسلام و قرآن سے اپني گہري وابستگي اور تمسک کو ثابت کيا ہے ۔
امريکا اور اسلام دشمن عناصر نے اس مسئلے ميں بھي ہم سے چوٹ کھائي
ہے لہذا وہ ہمارے خلاف جدوجہد اور پروپيگينڈہ کررہے ہيں۔
دنيا کے وہ ممالک جو ہمارے ساتھ سياسي و تجارتي روابط رکھتے ہيں وہ
( محرمانہ) خفيہ طور پر ہم سے کہتے ہيں امريکا کي آپ سے دشمني کي
اصل وجہ مشرق وسطيٰ کا قضيہ اسرائيل ہے۔ آپ لوگ اسرائيل کي کيوں
مخالفت کرتے ہيں اس کے نتيجے ميں مغربي ميڈيا آپ کے خلاف
پروپيگينڈہ کرتا ہے عدالتي فيصلوں ، مختلف تعزيرات اور خواتين کے
حقوق کے بارے ميں منفي تبليغات پوري دنيا ميں ہورہي ہيں ، صہيونيست
بھي اس تبليغ ميں شامل ہے ہم جانتے ہيں کہ يہ جھوٹے پروپيگينڈے ہيں
اور ايران ميں کسي قسم کي خلاف ورزي نہيں ہورہي ہے ( ايران حقوق
بشر کي رعايت نہيں کرتا) يہ صرف امريکي پروپيگينڈہ ہے ۔ ہم خود بھي
جانتے ہيں کہ يہ صرف پروپيگينڈہ ہے، آج دنيا بھي اس کا اقرار کررہي
ہے۔
وہ اعتراف کررہے ہيں اور ہم سے کہہ
رہے ہيں کہ آپ کا اقتصادي بائيکاٹ اور دشمني پر مشتمل پروپيگينڈے
امريکا کي قانون گزار (پارليمنٹ) اور اجرائي شعبہ (صدر) سے مربوط
اداروں کا دباو صرف اور صرف اسرائيل کے مسئلہ کي وجہ سے ہے۔
اسلامي بيداري کي جانب قدم:
عالمي استکبار اور ان ميں سر فہرست
امريکا کي انقلاب اسلامي ايران سے مخالفت کي ايک وجہ وہ بيداري ہے
جو اس انقلاب سے دنيا بھر ميں پيدا کي ہے ( اور مزيد انقلابات کے
لئے زمين ہموار کي ہے)
امريکہ ميں حقوق بشر کا معيار:
امريکي جو حقوق بشر کا دعويٰ کرتے ہيں
وہ ان طاقتوں کے ساتھ جن کے درميان انساني حقوق ،زادي اور
ڈيموکراسي درحقيقت وجود ہي نہيں رکھتي گہرے دوست ہيں ان پر اعتراض
نہيں کرتے ،کچھ ممالک ميں حتي پارليمينٹ وجود نہيں رکھتي، اور عوام
سياست ميں کوئي کردار ادا نہيں کرسکتے ،ليکن ان تمام عيوب کے
باوجود امريکي حکمران اسے عيب نہيں سمجھتے ،اسلام کے ساتھ سخت
مخالف ہيں درحقيقت جس چيز سے وہ روبرو ہيں وہ اسلام ہے۔
امريکہ کي جانب سے انساني حقوق کا
دفاع:
دنيا کي مظلوم قوموں کے لئے باعث گريہ
بھي ہے اور ہنسنے کا مقام بھي، يعني دعويٰ امريکہ کي جانب سے مضحکہ
خيز ہے کيونکہ سر فہرست وہ خود ہي انساني حقوق کي خلاف ورزي کرنے
والے ہيں، سينہ ٹھوک کر حقوق بشر کا دعويٰ کرنے والے کو ن ہيں؟! وہ
لوگ جن کے (پنجوں) ہاتھوں سے ج بھي فلسطينيوں کا خون بہہ را ہے۔
مشرق و مغرب ، افريقاو ايشيااور دنيا ميں جہاں کہيں بھي کسي قوم کا
قتل عام کرنا ہو يا کسي ملت کو نابود کرنا ہو انھيں لوگوں کا کام
ہے جو خود حقوق بشر کا مذاق اڑاتے ہيں ،ج صہيونيستي طاقت نے امريکہ
اور دوسري طاقتوں کي پشت پناہي کي بدولت فلسطيني قوم کو بدترين
حالت ميں تبديل کرديا ہے اور ان پر بے پناہ دبا ڈال رہي ہے فلسطين
کے شہدائ کا خون اس کي گردن پر ہے او رايسے سفاک انسان حقوق بشر کا
نعرہ لگاتے ہيں! کيا يہ بات مضحکہ خيز نہيں ؟!
دوسري طرف قابل افسوس بات يہ ہے کہ
انسانيت کے لئے اس سے بڑي اور کون سي مصيبت ہو سکتي ہے کہ انساني
اقدار کے مفاہيم انھيں عالمي سياستدانوں کے ہاتھوں پائمال ہو رہے
ہيں۔
زور و زبردستي حربہ:
’’حقوق بشر کا عنوان ‘‘ايک ايسا حربہ ہے جس کي بدولت امريکہ اپني
مخالف حکومت سے مخالفت کرتا ہے اور اس پر دبا ڈالتا ہے اور حقيقت
ميں وہ ممالک جو امريکہ کے زير تسلط ہيں ان ميں حقوق بشر نام کي
کوئي چيز وجود نہيں رکھتي۔سالوں سے امريکہ کي يہ سازش رہي ہے کہ جب
وہ چاہتا ہے کہ کسي حکومت سے دشمني کرے تو پہلا قدم يہي ہوتا ہے کہ
وہ اس حکومت کے خلاف نعرہ بلند کرتا ہے کہ اس ملک ميں حقوق بشر کي
خلاف ورزي ہورہي ہے يا يہ کہ وہ ملک ڈيموکراسي کا مخالف ہے۔
اسلام کي مخالفت:
يہ جان ليجئے کہ اگر خدا نخواستہ خدا
کي جانب سے محمد پہلوي بدبخت و ذليل کو مہلت ملتي کہ وہ سو مرتبہ
٧ا شہريور اور ٥اخرداد والا سانحہ دوبارہ وجود ميں لائے او رہزاروں
افراد کا قتل عام کرے تو امريکہ اور حقوق بشر کا نعرہ بلندکرنے
والي جھوٹي تنظيموں کي جانب سے ايک لفظ بھي اس کے خلاف صادر نہيں
ہوتا، کسي قسم کا کوئي قدم اس کے خلاف ہرگز نہيں اٹھاتے! وہ انسان
جو اپنے اہداف کي خاطر قدم اٹھائيں يہ لوگ ان افراد کے قتل عام کي
ہرگز مخالفت نہيں کرتے بلکہ ايسے موارد ميں قتل عام کي اور زيادہ
تشويق کرتے ہيں! ايسا کيوں؟ ايسا اس لئے ہے کہ يہ دين خاص طور پر
اسلام سے گہري دشمني رکھتے ہيں کيوں؟ کيونکہ اسلام مظلوم طبقہ کي
حمايت کرتا ہے، کيونکہ اسلام زبردستي کا مخالف ہے، کيونکہ اسلام
امريکہ اور اس جيسي حکومت کے تسلط کا مخالف ہے ، کيونکہ اسلام
مظلوم ملتوں کي زادي کا قائل ہے۔
بين الاقوامي قوانين کي خلاف ورزي:
امريکہ جو بين الاقوامي قوانين کي
رعايت کرنے والا سب سے بڑا دعوے دار ہے وہ دنيا کي نگاہوں ميں تمام
رڈار اور کيمروں (مخفي) کي بدولت اپنے بحري بيڑے ميں بيٹھ کر ہمارے
مسافر طيارے کا باقاعدہ نشانہ بنا کر حملہ ور ہوتا ہے اورہمارا
جہاز کا نابود کرديتا ہے کہ فقط اس لئے کہ اس جہاز کا تعلق اسلامي
ملک سے ہے!
ميں ہميشہ ان لوگوں سے کہتا ہو ں جو امريکہ کے سامنے اپني کمزوري
کا احساس کرتے ہيںکيوں پ جھوٹے پروپيگنڈوں کے فريب ميں گرفتار ہيں؟
پ کيوں يہ سوچتے ہيں کہ جب امريکہ حقوق بشر کا ذکر کرتا ہے تو
حقيقت ميں حقوق بشر کے ضائع ہونے پر فکر مند ہے؟وہ انسانيت کے لئے
اپنا دل نہيں جلاتے بلکہ وہ خود سب سے پہلے حقوق بشر کو پامال کرنے
کے عامل ہيں يہ وہ افراد ہين جو امريکہ کے ايک شہر ميں دن کي روشني
ميں اسّي نوّے افراد کو ايک گھر کے اندر زندہ جلاديتے ہيں اور ان
کي پيشاني پرکوئي خم نہيں تا، انھیںانسان او رانساني حقوق سے کيا
سروکار؟ يہ انساني حقوق کو کيا پہچانے؟
پ حقوق بشر کے معتقد نہيں ہيں بلکہ
امريکہ اور اس کے حاميوں کے حقوق کے قائل ہيں ، پ امريکہ کے ناجائز
اختيارات جو دنيا بھر ميں ہيں ان کے قائل ہيں: پ کو حقوق بشر سے
کيا سروکار ۔ وہ پ کے ماضي کے کارنامے اور يہ ج کي نئي صورتحال ج
کے کارنامے پ خود امريکہ کے اندر سياہ پوستوں کے مسئلے کا مشاہدہ
کريں۔ دسيوں يا شايد يا ٥٠ملين يا اس سے زيادہ سياہ فام افراد
امريکہ ميں انساني حقوق سے محروم ہيں خود امريکي شہري امريکي حکومت
کے پرچم تلے زندگي گذارنے والے اس حال ميں ہيں امريکہ جو حقوق بشر
کا نعرہ بلند کرتا ہے تو دنيا کے عاقل اور ہوشمند افراد کو اپنا
مذاق اڑانے پر خود مجبور کرتا ہے ۔وہ زادي اور امن و امان کے بے
شمار شہروں ميں اٹھ کھڑے ہوئے ہيں او راپنے غم و غصہ کا اظہار
کررہے ہيں۔ کس پر غصہ اور اعتراض سمجھتے ہيں درحقيقت امريکي طاقت
کے سوا کوئي نہيں ہے ؟!امريکہ ميں پ نے مشاہدہ کيا کہ امريکي حکومت
کے گماشتے ايک مسلمان کو اپنے مذہبي فريضے (نماز) کي انجام دہي پر
لوگوں کے سامنے مارتے ہيں کہ کيوں تم نے ائر پورٹ پر نماز پڑھي !
دنيا کو فريب ميں مبتلا کرنا:
امريکي حکام کي جانب سے حقوق بشر کا
قصہ چاہے وہ ابھي ہويا پہلے صرف ايک ايسا وسيلہ ہے تاکہ زيادہ سے
زيادہ اپني دوکان چمکا سکيں۔ وگرنہ درحقيقت يہ لوگ حقوق بشر کے
قائل ہي نہيں ہيں۔بہت سي دوسري بڑي طاقتيں ہوں يا امريکي ہو در اصل
يہ سب حقوق بشر کے معتقد ہي نہيں ہيں، اور اس کا جھوٹا نعرہ بلند
کرتے ہيں تاکہ دنيا کي نگاہوں ميں دھول جھونک سکيں يا کسي بھي اپنے
مخالف پردبا ڈال سکيں۔
جہاں کہيں بھي جنگ ہے ان کا پاں درميان ميں ضرور ہوگا۔ جہاں بھي
عوام حکومت يا کسي بھي قوم کے خلاف سازش ہورہي ہو وہاں امريکہ اور
اس جيسے ممالک ضرور شامل ہوںگے ليکن جہاں حقيقت ميں حق کي بات ہو
تو وہاں ان کا کوئي کردار نہيں ہوگااور ايسے حالات ميں بے شرمي کے
ساتھ حقوق بشر کے دعويدار ہيں امريکہ کے موجودہ صدر نے اپني
انتخابي تحريک ميں اور منتخب ہونے کے بعد اپني حکومت ميں جس چيز کا
اہميت دي اور جو وعدہ کيا وہ يہ تھا کہ حقوق بشر کو زيادہ اہميت
دينگے۔
کيا پ جانتے ہيں کہ حقوق بشر کا کيا مطلب ہے؟ يہ لوگ چاہتے ہيں
قوموں کے لئے حقوق بشر کا وظيفہ معين کريں!
تف اس شخص کے لئے جو امريکہ کے جھوٹے پروپيگنڈے اور صہيونيت کي
جھوٹي تبليغات کي بدولت ان کي اندھي تقليد کرے۔
تيسري دنيا اور امريکہ
ظلم و زبردستي:
ج امريکي زبردستي کے خلاف نعرہ بلند
کرتے ہيں اگر ايک زبردستي حکومت مسلط ہو جائے تو کہتے ہيں کہ ہم
ظلم و زبردستي کے مخالف ہيں ہميں اس قصہ سے کوئي سروکار نہيں ليکن
بہت سے ايسے ممالک ہيں جنھيں پ جانتے ہيں ميں ان کے نام لينا نہيں
چاہتا جہاں پر بدترين طريقے سے ظلم ہوتاہے اور انھيں کي زير نگراني
ہوتا ہے اور يہ اس بدترين ظلم کرنے والوں کا ساتھ ديتے ہيں حالانکہ
بين الاقوامي طور پر يہ خود قائل ہيں يعني امريکي زور و زبردستي جو
چاہتے ہيں او رکہتے ہيں ضروري ہے کہ وہ انجام پائے نہ وہ جو قوميں
چاہتي ہيں اور نہ ہي وہ عوامي حکومت چاہے اور کہے۔
مستکبرين سر فہرست امريکہ اس کا مقصد
و ہدف يہ ہے کہ تيسري دنيا کے ترقي يافتہ ممالک اور ان پر حاکم
حکمرانوں کو اس بات پر مجبور کرنا کہ وہ امريکي سياست کے سامنے سر
تسليم خم کريں ان کي نظر ميں معيار سپر د کردينا اور تسليم ہو جانا
ہے... سرمايہ داري نظام کي امريکي سياست ايسي ہے کہ وہ کسي پر رحم
نہيں کرتي امريکہ کي ہميشہ سے يہ کوشش ہے کہ وہ کسي بھي ملک کے
ساتھ يک طرفہ استعماري رابطہ قائم کرے۔ وہ ہرگز اپنے ملک کي جديد
ٹيکنا لوجي اور علمي اثاثہ کو کسي بھي ملک کے حوالے نہيں کرے گا۔
تعلقات بنانا:
غور رکريں ان ملکوں پرجو ج ترقي پذير
پس ماندہ يا تيسري دنيا کے ملک کہلاتے ہيں کيا ان ميں سے کسي ملک
نے امريکي مداخلت يا عالمي بينکوں يا بين الاقوامي سياسي اداروں کي
مداخلت کو روکنے کي کوشش کي اور خود اپنے بل بوتے پر کسي کا ميابي
سے روشناس ہوئے؟ زاد قوم وہ ہے جو اپنے پاں پر کھڑي ہو۔
سياسي و اقتصادي حکومت:
يہ شيطاني حکومت فطرت کے خلاف او
رانسانيت کے خلاف طبيعت رکھنے کي بناپر خود اندروني طور پر ناقابل
حل مشکلات کا شکار ہے اور انھين استکباري طبيعت کي بنائ پر چاہتے
ہيںکہ اپني مشکلات کو دنيا بھر ميں منتقل کريں اور دنيا کے تمام
حساس مراکز، خزانوں اوران ميںسے مشرق و سطيٰ خاص طور پر خليج فارس
پر مسلط ہونے کے ذريعے ايک بہت طاقتور زندگي کو قائم رکھيں۔ اگر ان
کا يہ بدترين خواب پورا ہوجائے تو قوموں کا مستقبل تباہ ہوجائے گا
کہ جس کي کوئي مثال تاريخ ميں نہيں ملتي۔ امريکي طاقت اپنے اس
شيطاني مقصد تک پہنچنے کے لئے ہر قسم کے ہتھکنڈے استعمال کررہي ہے۔
آج پہلے سے کہيں زيادہ امريکي طاقت
قوموں کي زندگي ميں مداخلت کررہي ہے قوموں کے تمام بنيادي وسیاسي
مسائل اس سے خالي نہيں۔ اور امريکي مداخلت صرف اقتصادي مسائل تک
محدود نہيں بلکہ قوموں کي ثقافت ،سياست اور ممالک کے اہم امور اور
حکمرانوں کا معين کرنا جيسے امور بھي اس سے خالي نہيں ۔ اگر معاشرے
ميں کچھ ايسے افراد موجود ہيں جو ان حالات کو نہيں سمجھتے توصرف
وہي رام سے زندگي گذار سکتے ہيں۔ ليکن ہوشيار عقلمند اوراہل فکر
حضرات جو جانتے ہيں اور سمجھتے ہيں کہ طاغوتي طاقتيں ان کي زندگي
سے کھيل رہي ہيں اور ان کے مستقبل کو تباہ کر رہي ہيں تو حقيقت ميں
ايسے افراد کے لئے دنيا تاريک ہے اور ايک قيد خانے کي حيثيت رکھتي
ہے۔ ج طاغوتي طاقتوں ميںسے ايک طاقت دنيا پر چھائي ہوئي ہے جو کسي
بھي(حقيقي ) انساني فضيلت کي پابند نہيں ہے ج امريکي طاقت اور اس
کے حکمران صرف اور صرف يہ چاہتے ہيں کہ اپنے زور زبردستي کي بدولت
دنيا بھر ميں چھا جائيں۔ انساني اصولوں ميںسے کوئي اصول ان کے لئے
معتبر نہيں ہے بہترين انساني اقدار ميںسے کوئي قدر و فضيلت ان کے
لئے قابل اعتبار نہيں ہے۔
اہل فکر و نظر کو لالچ :
قوم کے اکثرافراد ان حالات سے بے خبر
ہيں اور جو اہل فکر و نظر ہيں انھيں امريکي طاقت يا امريکہ کے خفيہ
کارندے لالچ ديتے ہيں۔ امريکہ سے وابستہ ان ممالک ميں اہل فکر نظر
موجود ہيں جو حقيقت کو سمجھتے ہيں اور چاہتے ہيں کہ عوام کو گاہ
کريں چاہے وہ گاہي تحرير کے ذريعے ہي ہو کچھ کوشش بھي کرتے ہيں
ليکن ان ميں سے بعض کو دھمکي دي جاتي ہے بعض کو دولت سے خريدا
جاتاہے اور بعض کي واز دبادي جاتي ہے۔
اخلاقي فساد پھيلا نا:
وہ ممالک جنھيں خدا نے تيل کي دولت سے
نوازا ہے اس نعمت پر اس ملک کي عوام کا پورا حق ہے اور اس دولت کو
اس ملک کي عوام پر ہي خرچ ہونا چاہئے ليکن ملک کے حکمران اس خزانے
کو مغرب کي غوش ميں ڈال رہے ہيں جو ان کي زندگي ميں اخلاقي پستي
اور فساد کو برپا کرے گا۔ تيسري دنيا کے ملکوں کے لئے يہ يورپ
وامريکا اور مغربي ثقافت کي سوغات ہے۔مغربي ممالک يورپ اور امريکہ
نے اپني بہترين ثقافت جيسے ان کي صنعت علم و تحقيق و غيرہ کے
پيرائے ميں (بہانے) مختلف قسم کي برائياں اور فتنہ و فساد ،اخلاقي
پستي کو تيسري دنيا کے ملکوں کے حوالے کيا ہے او رقوموں ،جوانوں او
رحکمرانوں کو ذليل و خوار کرکے ان کے چہروں پر سياہي لگا دي ہے يہ
مغربي ممالک اپنے کارناموں پر شرمسار نہيں ہيں اور اپني پست اور
پليد سوغات جو وہ تيسري دنیا کے ملکوں ميں پہنچاتے ہيں اس پر
افتخار بھي کرتے ہيں!
شرق وسطيٰ اور امريکہ
اسلامي اتحاد سے وحشت:
اسلام کے عالمي دشمن يعني مشرق و مغرب
کا استعمار جو تباہي و بربادي پھيلانے والے زور زبردستي مسلط کرنے
والے ہيں وہ اسلام کے شدت سے مخالف ہيں اور مسلمان ممالک کے پس ميں
تعلقات اور اتحاد اسلامي سے سخت وحشت زدہ ہيں۔
مشرق وسطيٰ کے ممالک کي سستي:
غاصب اسرائيلي طاقت کے ساتھ جنگ کے
مرحلے ميں اسلامي ممالک کي کوتاہي کي بنائ پر راستہ ہموار ہوا کہ
امريکہ اعراب و اسرائيل کے درميان بغير کسي رکاوٹ کي مذاکرات ترغيب
دے او رقابل افسوس بات يہ ہے کہ عرب سربراہ بغير اس کے استکبار کے
اس بڑے حملے کے برے نتائج پر توجہ کرتے بڑي بے شرمي کے ساتھ تسليم
ہوگئے۔
مسلمانوں کي غفلت اور کمزوري:
خدائي طاقت سے مسلمانوں کي غفلت ہميشہ
سبب بني ہے کہ اسلام دشمن مختلف بہانوں سے اسلامي ممالک کے خزانوں
پر مسلط ہوجائيںاور مسلمانوں کي تقدير ان کے ہاتھ ميں ہو، موجودہ
زمانے ميں کفر و استکبار کي (فوجي) طاقتيں خاص طور پر امريکہ کي
ظالم اور کينہ پرور طاقت اسلامي ممالک پر قابض ہو کر اپني مرضي کے
مطابق مسلمانوں کي جان ومال و عزت و برو پر دست درازي کررہے ہيں ۔ج
امريکہ کي استکباري طاقت ان علاقوں ميں مسلمانوں کي کمزوري سے
بھرپور فائدہ اٹھا رہي ہے ،کيوں اور کس لئے يہ خالص اسلامي ممالک
ميں داخل ہوں او راپنے فوائد کوحاصل کرنے کے بہانے بدترين اور رقت
ميز صورت حال پيدا کرے؟ کيوں امريکہ کي اتني جرآت ہو کہ وہ يہ
کارنامے انجام دے؟ اگر تمام مسلمان قوميں اٹھ کھڑي ہوتيں تو يہ
بدترين واقعہ ہر گز پيش نہيں تا۔
رعب ڈالنا اور لالچ ميں مبتلا کرنا:
امريکہ نے بہت سے ممالک کو اپنا محتاج
بنايا ہوا ہے کس راستے سے؟ امريکہ نے مختلف طر يقوں سے ان زاد
ممالک کواپنے دبا ميں رکھا ہوا ہے کبھي ڈرانا،دھمکانا، کبھي لالچ
دينا اور کبھي کسي طريقہ سے اپنا محتاج بنانا ، اس کے گر ہيں ان
ممالک نے مکمل طو پر اپنا رابطہ امريکہ سے ختم نہيں کيا تھا امريکہ
ميں ان کے سفير تھے امريکي سفير تھے امريکي بھي ان ممالک ميںموجود
رہتے تھے حتي عوام کے انقلابي رہبروں کے ديوں کو خالي کرديا کرتے
تھے ،انھيں ڈراتے تھے دھمکي ديتے تھے مرعوب کرتے تھے يہاں تک کہ
انھيں منظر عام سے ہٹاديا کرتے تھے ،کيوں اور کيسے جب کوئي مرعوب
ہو جائے تو چھوٹے سے بہانے سے اسے ميدان سے خارج کيا جاسکتا ہے
بشريت انقلابوں کي يہي سرنوشت ہے۔
مشرق وسطيٰ ميں امريکي سياست:
ذخائر پر تسلط:امريکہ چاہتا ہیکہ خليج
فارس کے اہم حساس اور حياتي علاقے پر قابض ہو جائے يہ علاقہ اتنا
اہم ہے کہ ايک دن ساري دنيا اس کي محتاج ہوگي۔ جيسا کہ اس نے پہلے
ہي کہا تھا کہ امريکي کويت ميں قيام کا ارادہ نہيں رکھتے ج وہ اپنے
فوجي اڈے قائم کررہے ہيں تاکہ علاقہ ميں طولاني سکونت اختيار
کرسکيں۔ وہ جھوٹ بولتے تھے او رج بھي حقوق بشر ي طرفداري ،ايران سے
دوستي اور علاقے کے ممالک سے دوستي، اور اسلام کے مخالف نہ ہونے سے
متعلق بھي جھوٹ بول رہے ہيں ۔
مختلف ممالک ميںاپني مرضي کے حکمرانوں
کا تعين:
يہ چاہتے ہيںکہ ايران ميں اور دوسرے
ممالک ميں ايسي حکومتي طاقتوں کو برسرکار لائيں جو عوام سے بالکل
جدا ہو او ران بڑي طاقتوں سے متصل ہو عوام کے فوائد او رذخائر کو
پاں تلے روندے۔عوام کي مرضي کے مطابق ان کے مفادات کے لئے کام نہ
کرے او راستکبار کي انگلي کے اشارے پر کام کرے پ ان فرسودہ طاقتوں
کا مشاہدہ کررہے ہيں يہ ايسي ہيں اور امريکي حکمرانوں کے لئے محبوب
او رمطلوب ہيں، ليکن اسلام کا مقدس نظام ايک ہے، اپنے ارادوں پر
قائم ہيں او رزندگي کے مرحلے ميں پيش پيش ہيں۔
حکومتوں کي لہ کار بنانا:
آج ساري دنيا متوجہ ہے خليج فارس کے
مسئلے پر اور عراق کے کويت پر حملے سے متعلق امريکہ کي فوجي لشکر
کشي اور علاقے ميں امريکي طاقت نے ايک جنجال (فساد) برپا کيا ہوا
ہے يہ وہي طاقتيں ہيں جو کل تک صدام کي پشت پناہي کررہي تھيں سياسي
کھيل جاري تھا صدام کي حمايت بھرپور انداز ميں کي جاررہي تھي اور
اس کي حمايت ميں مضامين تحرير ہو رہے تھے قرار داديں پاس کي جارہي
تھيں کيونکہ آج اخباروں ميں صدام کے چہرے کو ايک وحشت ناک ہيولہ کي
صورت ميں تبديل کرديا گيا ہے!
مشرق وسطيٰ ميں صلح کا حربہ:
امريکيوں نے اپني ستينيںچڑھا کر اپنے
خيال کے مطابق فلسطين کے مسئلے کو مکمل طور پر فراموشي کے سپرد
کرنا چاہا ہے او رچاہتے ہيں فلسطين کا نام مکمل طور پر لوگوں کے
ذہنوں سے مٹ جائے اس مقصد کو حاصل کرنے کے لئے انھوںنے صلح اور
مذاکرات کے فارمولے کو پيش کيا ہے۔
اسرائيل کي برتري:
امريکہ بعض ممالک پر دبا ڈال رہا ہے
کہ وہ مجبورہو جائيں اور اس ظلم غصب اور بڑي جنايت سے چشم پوشي
کرلے۔ يعني فلسطين کو غصب کرنا سان ہو سکے مقبوضہ فلسطين اور عرب
ممالک کے باشندوں کو غفلت ميں ڈالنے کا عامل اور اسرائيل کے مفادات
کا تحفظ کرنے والا بڑا عامل امريکہ ہے نيز اس کي وسعت طلبي اور
گستاخي کي حمايت بھي امريکہ کے ذمے ہے( علاقے کے وہ فرسودہ ممالک
کہ جنھوں نے امريکہ کے گے سر تسليم خم کيا ہوا ہے يہ ممالک اسرائيل
کي حمايت اور غاصب حکومت جو فلسطين کي دعويدار ہے کے دفاع ميں
امريکي سازش کا شکار نہ ہوتے ۔ وہ ممالک جن پر لازم ہے کہ اپنے
اسلامي وظيفے کے مطابق اسرائيل کا مقابلہ کريں انھوں نے اسرائيل کي
مخالفت کرنے والوں کي مخالفت ٹھان رکھي ہے۔امريکہ کي مکمل حمايت کے
بغير يہ غاصب حکومت حضرت ابراہيمٴ کے حرم مقدس ميں قتل و غارتگري
برپا نہيں کرسکتي تھي جو بلا خوف و خطر اس کے متائ? سے بري الذمہ
ہوگئي۔
علاقہ ميں اسرائيل کا ثبات:
امريکہ اس فکر ميں لگا ہوا ہے کہ کسي
طريقہ سے اسرائيل کي غاصب حکومت کو ثبات حاصل ہو جائے تا کہ وہ اس
علاقے ميں زندگي کے تمام بنیادي اور حساس مسائل تک دسترس حاصل
کرسکے اور مشرق وسطيٰ او رفريقا ميں پيدا ہونے والي اسلامي جنبش کے
خطرے سے نجات حاصل کرسکے۔
شواہد سے يہ بات ثابت ہوتي ہے کہ
امريکہ علاقے کے عرب ممالک کو لفظي اور تبليغاتي طور پر اسلامي
جمہوريہ ايران کي مخالفت اور جنگ پر ابھارنا چاہتا ہے اور وہ ان
ممالک کو بتا دينا چاہتا ہے کہ تمام عرب ممالک اگر امريکي حمايت
اور جنگي اسلحے سے مستفيد ہونا چاہتے ہيں تو يہ حمايت منحصر ہے اس
بات پر کہ وہ ايران کي مخالفت پر کمربستہ ہو جائيں اور پھر اسرائيل
کي حکومت سے انھيں کوئي سرورکار نہيں ہونا چاہئے۔
اسرائيل سے مرتبط نہ ہونے پر دھمکي:
امريکي جو وسائل بھي اپنے اختيار ميں
رکھتے ہيں ان کے وسيلے سے اور سياسي حربوں جيسے حقوق بشر، اقتصادي
حربہ، (عالمي) بين الاقوامي معاملات ميں دخالت وغيرہ کے ذريعہ ان
ممالک پر جو فلسطين کے نزديک ہيں حتيٰ جو دور بھي ہيں ان سب پر
اتنا زيادہ دبا ڈالتا ہے کہ حتي کمزور ترين حکومتيں مجبور ہو جائيں
اور اسرائيل سے اپنا رابطہ برقرار کر ليں۔
لبنان و فلسطين ميںاسرائيلي دہشت گردي
کي حمايت:
آج غاصب صہيونيست کي بدولت فلسطيني
مسلمانوں پر وحشيانہ حملات او رتشدد ہو رہا ہے اور امريکہ اس قتل
عام پر اس کي حمايت اور لبناني مسلمانوں کا فلسطيني مسلمانوں کے
دفاع کرنے پر ان مظلوم مسلمانوں پر دہشت گردي کي تہمت لگارہے
ہيں۔اور اسرائيل ج امريکہ کي حمايت پر لبنان پر حملہ کررہا ہے اور
جب ضروري سمجھے گا شام اور ايران او راردن پر حملہ ور ہوگا۔
صہيونيستي طاقت گستاخ،وحشي اور بين الاقوامي قوانين کي خلاف ورزي
کرنے والي ہے اور امريکہ کي حمايت کي بدولت ہر ہشت گردي کرنے پر
کمربستہ ہے۔صہيونيستي طاقت امريکہ کي حمايت کي بدولت بے دفاع
فلسطيني و لبناني عوام پر وحشيانہ تشدد کررہي ہے لہٰذا ہم بغير کسي
شک و ترديد کے امريکہ کے حقوق بشر کے نعرے اور کارناموں کوبے شرمي
تصور کرتے ہيں۔
اسرائيل نے لبنان کے جنوبي علاقے پر
بمباري کي ہے بچوں کے مرکز کو ويران کيا ہے ۔ کس کي پشت پناہي سے
وہ اس دشہت گردي کا مرتکب ہو رہا ہے؟! يقيني طور پر اگر امريکہ اس
غاصب کي بھرپور حمايت نہ کرتا تو اس ملک کے لئے اپني زندگي برقرار
رکھنا ممکن نہ ہوتا حقيقت ميں امريکہ ہے جو اس وقت لبنان کے جنوبي
علاقے پر بمباري کررہا ہے۔النحليل کا سانحہ جو پيش يا ہماري نظر سے
غاصب حکومت براہ راست اس ميں ملوث ہے اور اس سانحے ميں اس غاصب
حکومت کي حمايت کرنے والا امريکہ بھي ملوث او رذمہ دار ہيں امريکہ
نے ہميشہ اور ہر جگہ صہيونيست کا دفاع کيا ہے جہاں وہ مشکل کا شکار
ہوئے امريکہ سينہ سپر کرليتا ہے ،يہ امريکہ کے يہودي اور بڑے بڑے
سرمايہ دار امريکي طاقت ،پيسے اور سياسي اثر و رسوخ جو وہ دنيا ميں
رکھتا ہے اس کے ہر کام انجام ديتے ہيں جس کو انھوں نے مسلمان قوم
کے دل ميں بويا ہے۔
اسرائيل کي حمايت:
ج اس بڑے شيطان کے ہاتھو ں ميں اس
پالتو کتے کي ڈور ہے پھر ہميں تعجب نہيںکرنا چاہئے جب یہ بين
الاقوامي قوانين کو توڑ يں بدترين طريقے سے حقوق بشر کو پامال کرين
،اپنے ہمسايہ ممالک پرحملہ ور ہوں دہشت گردي اور سياسي مقاصد کو
حاصل کرنے کے لئے افراد کو اغوا کريں او ر روزبروز ان کے ايٹمي
اسلحے ميں اصافہ ہو اس ايسے ہي دوسرے مسائل اگر غاصب صہيونيت کي
جانب سے ہوں تو قابل قبول ہيں اور کسي قسم کا کوئي اعتراض سنجيدہ
طور پر عالمي استکبار خاص طور پر امريکہ کي جانب سے بلند نہيں ہوتا
دنيا کے کسي بھي ملک کا امريکہ اور دوسري بڑي طاقتوں کے ساتھ
حکمران او رعوام جيسا رابطہ اگر برقرار نہ ہو تو امريکہ کي نگاہ
ميں بڑا جرم تصور کيا جائے گا۔علاقے کے ممالک کي روزبروز امريکہ کي
بے مہار طاقت سے گہري وابستگي نے يہ موقع فراہم کيا ہے کہ غاصب اور
کينہ پرور حکومت بڑے شيطان کي بھرپور حمايت کي بدولت حملہ ور ہو
اور اپنے شکار و بدترين مقاصد کے حصول کے لئے کوشاں ہو وہ مقاصد
جنھيں مخفي (پنہان) کرنے کي اس نے کوئي خاص کوشش نہيںکي ہے اور
حقيقت ميںيہ غاصب حکومت اسلام و مسلمين کي خطرناک ترين دشمن ہے۔
فلسطين کي رزو واميد کو نابود کرنا:
امريکي ادارے اوراس کے صدر کي يہ کوشش
ہے کہ مسئلہ فلسطين کو اسلامي دنيا کے مسائل اور مشرق وسطيٰ کے
حوالے سے مکمل طور پر حذف کردے اور کسي بھي طور پر فلسطين کي رزو
اور فلسطيني تحريک دنيا سے مٹ جائے اور يہ مسئلہ ان کے اہم ترين
مقاصد ميں سے ايک مقصد ہے۔
امريکہ جب اس علاقے ميں ٹينک ،توپ،
اور جنگي بحري بيڑے کے ذريعے بمباري کرنے کے بعد ايک بڑي طاقت بن
کر ابھر تو فورا اس کي توجہ اصل مسئلہ کي جانب مبذول ہوگئي اور وہ
مسئلہ فلسطين کا مسئلہ تھا فورا امريکہ لالچ ميںمبتلا ہوگيا اور يہ
تصور کرنے لگا کہ علاقے کے کمزور او رضعيف النفس ممالک اپنے آپ کو
امريکہ کا مقروض اور احسان مند سمجھتے ہيں کيونکہ امريکہ نے عراقي
طاقت کے مقابلے ميں ان کا دفاع کيا تھا۔اب وقت پہنچا ہے اس وقت سے
بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے استکبار کي ديرينہ رزويہ ہے کہ فلسطين کي
اميد اور رزو کو صہيونيت جو داغدار بھي ہيں ان لئے قربان کردے اور
پاں تلے روند ڈالے وہ يہ کام کرنا چاہتا ہے اور حال حاضر ميں کررہا
ہے۔
اسرائيل سے اتحاد:
گذشتہ زمانہ ميں اسلام کے ساتھ سخت
دشمني کي گئي ہے، ليکن ج يہ دشمني بہت ہي شدت ا ختيارکر چکي ہے ان
دشمنوں ميں سرفہرست امريکہ اور صہيونيت کا اتحاد ہے۔ امريکہ ايک
عالمي استکبار کے طور پر اور صہيونيت عالمي، سياسي فساد کے طور پر
اسلامي ممالک کے پس کے تعلقات ميں اور انکي ترقي ميں خلل کا باعث
ہيں اور خود پس ميں متحد ہيں۔
وابستہ حکومتوں کي حمايت:
الجزائر کے زاد انہ نتخابات جو کہ
مکمل طور پر ڈيمو کريڈيٹ (عوامي) ہونے کے ساتھ ساتھ لوگوں کي
اکثريت نے اس ميں اسلامي حکومت کے لئے رائے دي تھي ، ايک سخت قسم
کي بغاوت کي بدولت اس ا نتخابات کو باطل قرار دے ديا گيا منتخب
حکمرانوں کوجيل ميں ڈالاگيا اور عوام کو طاقت سے کچل ديا گيا اس
وقت استکباري طاقت يورپ اور امريکہ نے سکون کا سانس ليا اور اس
بغاوت کي مکمل حمايت کي۔ عراق کے جنوب ميں جب عوامي طاقت نے بعثي
حکومت کے خلاف جنگ کا نعرہ اسلامي شعار کے مطابق بلند کيا اور صدام
کي حکومت کي جانب سے ان پر وحشيانہ حملات ہوئے تو مغرب اور امريکہ
اس ظلم پر خاموش تماشائي بنے رہے بلکہ ان کے عمل سے تشويق ترغيب
اور رضايت کو محسوس کيا جاسکتا تھا جب کہ يہي ممالک اپنے مفادات کے
تحفظ کے لئے عراق کو حملات کا شکار کرچکے ہيں۔
کشمير جہاں ہندو اپنے جاہلانہ تعصب
اوربڑي طاقتوں کي چشم پوشي نيز کمک کي بدولت مسلمانوں کي عزت و
ناموس اور مقدسات کو پامال کررہے ہيں مغرب اور امريکہ ہندوستان کے
ان تمام مظالم کے باوجود بے حسي اوربے اعتنائي کارويہ اختيار کئے
ہوئے ہيں مصر ميںمسلمانوں کي بڑي تعداد جو اہل فکر و نظر رہے
ہيںوہاں کے فاسد اور نالائق حکمرانوں کے غم و غصہ کا شکار ہے يہ
حکومت امريکہ کي جانب سے مالي امداد تشويق و ترغيب اور اعلان امنيت
کي مراعات رکھتي ہے۔
درباري ملاں کي حمايت:
بعض ملا روحاينت کا لبادہ اوڑھ کر
اسلام کي بعض فرقوں کے متعلق شکار طور پر کفر کا فتو ي صادر کرتے
ہيں حالانکہ يہ فرقے اسلام کي حقاينت سے وابستہ ہيں مسلمان قوم پر
لازم ہیکہ وہ بڑے شيطان کے خفيہ ہاتھوں او رحمايتوں کو پہنچانے او
رخيانت کاروںکو منظر عام پر لائيں۔
اختلاف بين مسلمين کا طريقہ يا سازش:
استعمار نے اپني ديرينہ خواہش کے
مطابق اپنا مقصد بنايا ہوا تھا کہ مسلمين کے درميان تفرقہ پھيلائے
ليکن انقلاب اسلامي کي کاميابي کے بعد ايجاد ہونے والي وحدت مسلمين
کے بعد امريکہ اور اس کے حمايتوں کي کوشش تيز ہوگئي ہے برادر کشي
کو مسلمانوں کے درميان پھيلايا ج پوري اسلامي دنيا ميں ايسے افراد
موجود ہيں جنھوں نے اپنے قلم استعمار کي خدمت کے لئے وقف کرديئے
ہيں جس کے عوض وہ امريکي ڈالر سے نوازے جاتے ہيں اور ان کا مقصد و
ہدف يہ ہے کہ وہ مسلمانوں کے درميان اختلاف ايجاد کريںاستعمار
جانتا ہے کہ انقلاب دنيا بہر کي توجہ اپني جانب مبذول کرلے گا تو
استعمار کو يہ خطرہ محسوس ہوا کہ اب تک کي جانے والي سرمايہ گذاري
جو مسلمين ميں اختلاف کا بيج بونے کے لئے کي گئي ہے وہ برباد ہو
جائے گي لہٰذا انھوںنے اپني کوشش تيز کردي اور ج وہ دنيا ميں مسجد
ضرار کي تعمير پر سرمايہ خرچ کررہے ہيں اور ايسے ادارے بنارہے ہيں
جن کي بدولت وحدت مسلمين کو ختم کيا جاسکے اور اسلامي فرقے پس کے
اختلاف ميں دست بہ گريباں ہوجائيں۔
شيطان جيسے افراد موجود ہيں جيسا کہ
شيطان نے پروردگار عالم سے کہا تھا’’لاغوينہم اجمعين ‘‘کہ ميں اپنے
وجود کو تيرے بندوں کے اغوا وگمراہ کرنے پر وقف کردوںگا۔ شيطان صفت
افراد نے بھي اپنے پ کو مسلمين کے درميان اختلاف پيدا کرنے کے لئے
وقف کرديا ہے۔ قابل افسوس بات يہ ہے کہ تمام ممالک کے اثرات ان پر
مرتب ہوتے ہيں وہ ممالک يہي کام انجام دے رہے ہيں ۔امريکہ جانتا ہے
کہ خليج فارس کے اطراف کے ممالک کا رابطہ تعاون او راتحاد جو وہ
جمہوري اسلامي ايران سے رکھتے ہيں وہ ايک عظيم قدرت و طاقت کو اس
حساس علاقے ميں جو کہ ايک تيل پيدا کرنے والا علاقہ ہے ايجاد کرے
گا لہٰذا وہ اس علاقے کے ذخائر پر قابض ہونے کے لئے اپني قديم
استعماري سياست یعني خليج فارس کے اطراف کے ممالک ميں تفرقہ
پھيلانے ميں مشغول ہوگيا ہے... ہمارے ہمسايہ ممالک کو جان لينا
چاہئے کہ ان کادشمن امريکي برطانوي استعماري طاقتیں ہيں جو کہ
تمھارے ذخائر پرقابض ہوناچاہتے ہیں۔
طالبان کي حمايت:
قابل افسوس بات يہ ہے کہ ايران کے
نزديک ملک ميں اسلام کے نام پر بہت سے کام انجام ديئے جارہے ہيں
طالبان جن کے متعلق معلوم نہيں کتنا اسلام سے گاہي رکھتے ہيں انھوں
نے ايسے کام انجام ديئے ہيں جن کا اسلام سے کوئي تعلق نہيں اور
جنھيں اسلام قبول نہيںکرتا ۔اگر قرارہے کہ تعصب کے بغير اور انساني
حقوق کے خلاف کہا جائے تو لازم ہے مثال کے طور پر بيان کيا جائے کہ
دنيا شاہد تھي کہ امريکہ نے طالبان کي ستائش کي نہ فقط سرزنش نہيں
کي بلکہ اس کي بھرپور حمايت کي تھي تاکہ وہ اپنے مخالفين کو کچل
سکے اس بات سے ہي امريکي تبلغات کي دھوکہ دہي او رحقوق بشر سے
متعلق اس کا نعرہ عورت کي زادي او ر تعليم و تربيت کا حال شکار
وواضح ہوجاتا ہے۔
انقلاب سے متعلق ذہنوں ميں تشويش
ابھارنا:
دشمن دست بردار نہيں ہے اور کوشش
کررہاہے کہ دنيا کي عمومي فکر کو منحرف کرے وہ شعور و گاہي فکر و
احساس جو تيسري دنيا کے مسلمان ممالک ميں ايران اور اسلامي انقلاب
سے متعلق پيدا ہوا ہے اس سے منحرف کرے اور يہ ثابت کرے کہ ايران
خود دوران انقلاب کو خطا تصور کرتا ہے پ پھر کس ملک کي تقليد کررہے
ہيں؟! چاہتا ہے کہ دنياکے اسلامي حتي غير اسلامي ملک کے لئے يہ
ثابت کرے کہ ايران اپني( بنيادي) راہ سے پلٹ چکا ہے ہم نے ديکھا ہے
کہ غير اسلامي ممالک بھي اپنے عظيم تحرکات ميں ايران کي راہ پر
چلنے کا نعرہ بلند کرتے ہيں پلے کارڈ اٹھائے ہوئے يہ نعرہ لگاتے
ہيں ہمارا راستہ جس ميں امريکي استعمارسے جنگ اور مقابلہ ہے امريکہ
چاہتا ہیکہ وہ دنيا کو بتائے کہ پ اس راستے پر چل رہے ہيں جس راستے
پر چلنے سے اميد پيدا ہوئي اور اس راہ کي جذابيت نے پ کو حرکت بخشي
،ليکن اب خود اس راہ پر چلنے والے اس راہ کو خطا و غلط تصور کرتے
ہيں پھر تم اس راہ کے بارے ميں کيا کہتے ہو؟! چاہتا ہے ا س جھوٹے
پروپيگنڈے کو دنيا بھر ميں پھيلائے۔
مسلمين ميں مايوسي ايجاد کرنا:
اسلام کے دشمن چين سے نہيں بيٹھے ہيں
اس قوم نے اور اس کے رہبر نے امريکہ او راس کے حمايتوں کو دندان
شکن جواب ديا ليکن وہ مايوس نہيں ہوئے ہيں جب انھوں نے ديکھا کہ اس
قوم کے ايمان کو اسلام کو انقلاب رہبر کو ان سے جدا نہيں کيا
جاسکتا اور نہ ہي ان سے ان کا نعرہ چھينا جاسکتا ہے تو دنيا بھر
ميں يہ پروپيگنڈہ کرديا کہ ايراني حکومت مغرب سے رابطہ کرنا چاہتي
ہے! يہ اس لئے ہے کہ دنيا کي مظلوم قوموں کے جذبات و روح کو کمزور
کرسکيں اس پروپيگنڈے کا مقصد يہ ہیکہ دنيا بھر ميں جو مسلمان پ
جيسي بڑي اور شجاع قوم کي جانب نگاہيں کئے ہوئے ہيں ان کے اندر
مايوسي اور ان کے دل مردہ ہوجائيں وہ کہيں تعجب سے عجيب ہے! کيا
ايران بھي ايسا ہے ، دشمن چاہتا ہے دنيا کے مسلمانوں کي اميد ختم
ہوجائے ،ليکن وہ غلطي پر ہے۔
مغربي ثقافت کو مسلط کرنا:
استکباري نظام کے سر کردہ افراد خاص
طور پر امريکي نظام ہميشہ سے يہ چاہتا ہے اور اس پر اصرار کرتا
ہیکہ کسي بھي طريقے سے اپني ثقافت کو کہ کسي بھي مسلمان ممالک او
رمسلمان قوموں پر مسلط کرے اور ہم اس کے مخالف ہيں۔
خليج فارس تيل کي جنگ اور امريکہ کے
مقاصد :
اپنے ذخيرہ کي حفاظت:
... امريکہ زاد دنيا کے منافع (ذخائر)
کے دفاع اور صدام کي ڈکٹيڑشب سے مقابلہ کے عنوان سے ميدان جنگ ميں
داخل ہونا( يعني امريکہ) جو کہ خود نہايت جھوٹا او رمکار ہے ،تجاوز
کرنے والا ،صرف اپنے منافع کي حفاظت کیلئے کوشش کرنے والا ہے۔ جو
کام صدام نے کويت ميں انجام ديا بالکل وہي کام ايک سال پہلے
یوگانڈا ميں انجام ديا تھا وہ عربي طريقہ کار تھا ! يہ خود امريکي
طريقہ کار ہے۔
علاقے ميں فساد پھيلانا:
ابھي امريکي بحري بيڑے اور نامعلوم
کونسے بحري جہاز نيز امريکي افراد اس وقت خليج فارس ميں موجود ہيں
خليج فارس جو صرف اسلامي
سمندر شمار ہوتا ہے اور دنيا کے لئے
اہم ترين انرجي کا مرکز ہ وہ ج امن و امان سے خالي ہے۔
امريکي فوجي اڈے کا ناجائز قبضہ:
مسلح افراد کي موجودگي ،ہوائي جہاز
اور امريکي بحري بيڑے کا خليج فارس ميںموجود ہونا ،عراق کے اقدام
کے مقابلے ميں مغرب کا واويلا حتي عراق کا فوجي اقدام يہ وہ تمام
چيزيں ہيں جن کے متعلق ہم شروع سے مشکوک ہيں اور براگمان رکھتے ہيں
ہم اس بات پر يقين رکھتیہيںکہ عالمي استکبار اس فکر ميں ہے کہ کسي
بھي طرح سے خليج فارس ميں اپنے قدموں کو(محکم کرے) استحکام بخشے۔
... دوسرا نکتہ يہ ہے کہ اس قصے ميں
عراق پر حملے کي مذمت کے نتيجے ميں امريکہ اس حملے کي بدولت اپني
غير قانوني مداخلت زور زبردستي کو دنيا بھر ميں ايک قانون کي شکل
بخشنا چاہتا ہے۔
زيادہ سے زيادہ کي ہوس:
ج خليج فارس کے علاقے اور مشرق وسطيٰ
ميں عالمي استعمار وامريکہ اس فکر ميں ہے کہ کسي طرح سے اپني قدرت
و طاقت کو بڑھا ئے يہ لوگ اپنے ظلم و جبر کو ختم کرنے کي فکر ميں
نہيں ہيں يہ نہايت ظالم و جابر ہيں اور اپنے ظلم و جبر کا دنيا کے
بيشتر ممالک ميں مظاہرہ کرچکے ہيں ان کا وجود مسلمان قوم کے لئے
خطرہ ہے يہ امن امان برقرار کرنے سے قاصر ہيں ہماري مسلمان قوم کو
بيدار ہونا چاہئے۔
اسرائيل کو مضبوط کرنا:
امريکہ کي خليج فارس ميں موجودگي
،عراق پر يادنيا کے کسي بھي ملک پرامريکہ کا حملہ (ا)علاقے کوبے
امن کرنا اور فتنہ و فساد کا سبب ہے (٢) اور علاقے کے ممالک کو پس
ميںدست و گريباں کرنا ہے (٣) اور تيسري وجہ صہيونيت کو طاقتور
بنانا ہے ان عوامل کي بنا پر صہيونيستوں کو اپني جگہ بروئے کار
لائيں۔
خليج فارس کي جنگ کے نتائج
بربادي اور قتل و غارتگري :
امريکہ کي عراق سے جنگ ايک عليحدہ
مسئلہ ہے ليکن انھوںنے اس جنگ ميں عوام کو نشانہ بنايا بہت سے
لوگوں کا قتل عام کيا عوامي کارخانے تباہ کئے عوامي زندگي کو تباہ
کيا بہت سي ايسي چيزيں تھيں جن کا فوج اور حکومت سے کوئي تعلق نہ
ہونے کے باوجود ان کو برباد کيا۔
امريکي اور اس کے حمايتي عراق کے خلاف
دہشت گردي کے مرتکب ہوئے ہيں اور اس حملے کے ذمہ دار افراد کے ہاتھ
عراقي عوام کے بے گناہ خون سے لودہ ہيں۔
قوموں کي امريکہ سے نفرت:
عراق کے مسئلے ميں امريکہ کاکيا کام
ہے؟ امريکي حکومت خود بخود کس طرح يہ حق رکھتي ہے کہ جو مسئلہ اس
قوم سے اور اس علاقے سے وابستہ ہے اس ميں ايک سرپرست ايک کلي
اختيار رکھنے والا اور ايکبدمعاش کا کردار ادا کرتے ہواسے املا
کہے، کہ تمھيں
لازمي طور پر کيا کرنا چاہئے؟ پ کو
کيا مطلب؟ تم نے برے اعظم امريکہ ميں دخالت کي اور تجاوز کيابغير
اجازت کے وارد ہوئے اور قتل عام کيا، کيا تمھارے لئے کافي نہيں ہے؟
مشرق وسطيٰ کے علاقے ميں لوگ گاہ و ہوشيار ہيں او رتمھارے برے
کاموں کي بنا پر تم سے نفرت کرتے ہيں ۔
... تمام مسلمين سر سے پاں تک امريکہ
سے نفرت کرتے اور اس سے ناراض ہيں امريکہ کا صدر يہ جان لے کہ ج
تمام اسلامي ممالک خاص طور پر خليج فارس کے ممالک کے درميان امريکہ
کے صدر سے زيادہ کوئي شخص قابل نفرت نہيں ہے ج سب قوميں ان سے
متنفر ہيں۔ کيا يہي کاميابي ہے؟ يہ بے عقل اپني بے شمار جھوٹي
تبلغات پر کروڑوں ڈالر خرچ کررہے ہيں تاکہ اقوام عالم کے دلوں ميں
اپني جگہ پيدا کريں ليکن انھوںنے اپنے پ کو سب کي نگاہوں ميں گرا
ديا ہے نہ فقط عراق بلکہ مشرق وسطيٰ کے ممالک و عرب ممالک سب نفرت
کرتے ہيں اور ان سے ناراض ہيں۔
بعض علاقوں کے ممالک کي بنيادي مشکلات
اسلامي جہاد سے بے اعتمادي:
اسلامي دنيا امريکہ اور مغرب کي سازش
نيز ان کي اسرائيل کي حمايت کي پايسي کے مقابلے ميں ناتواں ہے ۔ اس
ناتواني کي اصل وجہ يہ ہیکہ (ا) فلسطيني قوم کے اسلامي وجود کو
بھلا ديا ہے (٢) عرب ممالک کے حکمرانوں کي خيانت حتي فلسطين کے بعض
سرکردہ و نماياں چہروں کي خيانت شامل ہے۔
کمزور ايمان:
آج جن ممالک کا پ مشاہدہ کررہے ہيں ان
ميں سے بعض ميں فاسد ترين افراد موجود ہيں يہ ايک انقلابي ملک تھے
ليکن امريکہ اور استعماري عناصر ان ممالک ميں داخل ہوئے او ر ڈالر
سے بھرے ہوئے بيگ اِس طرف اور اس طرف لے گئے اور ان کے ذريعے افراد
کو خريدنے ميں کامياب ہوگئے کيوں؟ اسلئے کہ ان کے دل سطحي ايمان سے
مزين تھے اور وہ جلدي ختم ہو جانے والاتھا البتہ انقلابي ايمان
رکھتے تھے خدائي ايمان نہيں رکھتے تھے ليکن سطحي اور جلدي ختم
ہوجانے والاتھا ہر فکري قدم ، او رراستہ جو اسلامي اور معنوي اقدار
پر متکي نہ ہو وہ ساني کے ساتھ ختم ہو جاتا ہے۔
مسلمان قوم پر عدم اعتماد:
قابل افسوس ہے کہ اسلامي ممالک کے
سياستدان غالبا اپني قوم کي عظيم طاقت کو بے اہميت سمجھتے ہيں اور
مغربي طاقتوں کے سامنے سر تسليم خم ہوگئے بجائے اس کے کہ انقلاب
اسلامي کي کاميابي سے جو موقع حاصل ہوا اس سے فائدہ اٹھاتے نتيجہ
کے طور پر اپني قوم ہي کي دشمني اور شيطاني قوتوں کے زير تسلط
ہوگئے وہ لوگ قرن کے اس قول کے خلاف? فان العزۃ للہ جميع اللہ
عزت کو امريکہ سے مانگنے لگے اس بري فکر اور بدکرداري کے نتيجے ميں
دنيا بھر ميں ذليل و خوار ہوگئے اور ان کي حکومت کسي بھي حوالے سے
اطمينان بخش صورتحال نہيں رکھتي ہے اور تجربے سے يہ بات ثابت ہوئي
ہے کہ مشکل وقت ميں امريکہ اور استکباري طاقت انھيں نجات دلانے کي
صلاحيت نہيںرکھتي اور يہ جھوٹ ثابت ہو چکا ہے کہ امريکہ جو ارادہ
کرتا ہے اسے انجام دينے کي قدرت رکھتا ہے يہ بات سب کو مان ليني
چاہئے۔
عرب ممالک اوراس کے پڑوسي ممالک کس
طرح لرزہ براندام ہوتے ہيں اور مجبور ہوکر امريکہ سے مدد مانگتے
ہيں اور انپے دشمن کو خط لکھتے ہيں کہ ہماري جان پ پر فدا ہو پ
ہمارے گھر ميں ئيں اور ہماري حفاظت کريں! امريکہ ايک دشمن ہے يہ
حکومتيں کيوں اس حال تک پہونچي ؟ اور اپنا دفاع کرنے سے قاصر ہيں؟!
کيونکہ بنيادي حيثيت نہيں رکھتي اور اپني قوم پر اعتماد نہيں کرتي
ہيں۔
ارادے کي کمزوري:
بہتر ہے کہ ہم کہيں کہ کمزور حکمران
ہيںکيوں اس لئے کہ عوام کا شمار دوسرے زمرے ميں ہوتا ہے ۔ زيادہ تر
امور ميں عوام امريکي ظلم کا شکار ہوئے ج امريکي سياست اپنے
دوستوںوحاميوں کو يہ چیز القائ کرتي ہے کہ جو بغاوت بھي عالمي
استعمار کے خلاف ہو اسے لازمي طور پر مٹا دينا چاہئے۔
ہميں اس چيز کا ڈر ہے کہ کہيں ايسا نہ
ہو کہ علاقے کے عرب ممالک امريکہ کے فريب ميں مبتلا ہوں او رامريکہ
کے شيطاني وسوسوں کے نتيجے ميںاپنے عمل کے ذريعے اپني قوم سے در ہو
جائيں کيونکہ يہ قوم مسلمان ہے۔
امريکہ کا خوف:
امرکي کے اقتدار اورقدرت سے مرعوب
ہونا بہت بڑي غلطي ہے بہت سے ممالک امريکہ سے وابستہ ہيں کہ جن کے
سربراہ امريکہ کے دوست ہيں اور ان ممالک ميں امريکہ کي ذزہ برابر
مخالفت کي اجازت نہيں دي جاتي ۔ امريکہ نے انکے لئے کياکيا ؟ ان کي
کونسي مشکل حل کي؟ انکي زندگي کے کونسے تاريخي نکتوں کو روشن کيا؟
کون سي دولت کي بارش کي؟ کونسي خير ان تک پہونچائي ؟ کيوں امريکي
اقتدار سے مرعوب ہوئے ہو؟ميري صدارت کے زمانہ ميں ايک غير رسمي
کانفرنس کے دوران ايک ملک کے صدر نے مجھ سے سرگوشي کرتے ہوئے کہا
يہاںپر تمام ممالک کے سربراہ امريکہ سے ڈرتے ہيں صرف پ ہيں جو
امريکہ سے نہيں ڈرتے اور اپنے سر کومزيد نزديک لاکر کہا حتي مجھے
بھي امريکہ سے ڈر لگتاہے ۔جنگ کے زمانہ ميں ايک ملک جس سے ہماري
تعلقات اچھے تھے اسے ہماري ضرورت تھي اس نے ہمارے لئے اسلحہ بنايا
تھا جس کے بنانے ميں امريکہ بھي شامل تھا ليکن يہ ملک امريکہ سے
ڈرنے کي وجہ سے تمام جنگ کے دوران يہ جرآت نہيںکرسکا کہ يہ اسلحہ
ہميں دے! حالانکہ اسے خود بيچنے کي ضرورت تھي اور اس کے لئے يہ
کافي مفيد سودا تھا۔
سياسي وابستگي:
بعض عرب ممالک کے بادشاہ اپنے خدا
امريکہ کي رضايت حاصل کرنے کے لئے اپني عرب قوم کیجذبات کہ جس کا
ہميشہ دم بھرتے ہيں کو بھي اسرائيل کے مقابلے ميں بھلابيٹھے... ان
خيانت کار حکمرانوں کي نظر ميں عربوں کي وحدت اور قوميت صرف اس وقت
مطرح ہے کہ جب امريکہ چاہے کہ ان کے (عربوں) ذريعے سے اسلامي
جمہوريہ ايران اور حقيقي اسلام کے خلاف سوئ استفادہ کرے۔ تف ہے
مردہ ضمير وں اور ناپاک دلوں پر جو امريکہ کي رضايت حاصل کرنیکے
لئے ہر چيز قربان کرنے کو تيا رہيں چاہے وہ خدا داد طبيعي ذخائر
ہوں ياانساني عزت و کرامت ،يا اسلامي ايمان و برو ہو۔
اپني رعايا سے جدا حکومتيں ،جب اپنے
مقام کومتزلزل ديکھتے ہيں اور اپنا پشت پناہ نہيں پاتے تو دوسري
طاقتوں سے پناہ حاصل کرتے ہيں يا امريکہ کے پيچھے جاتے ہيں ياگذشتہ
زمانے ميں روس کي طرف جايا کرتے تھے قابل افسوس يہ ہے کہ اکثر
اسلامي حکومتيں اپني رعايا سے کٹي ہوئي ہيں اور اس کے نتيجے ميں
دوسري طاقتوں کي غوش ميں پناہ ليتي ہيں ۔
يہ ممالک اتنے زيادہ بے حسي کا شکار
ہيں کہ سياسي لحاظ سے ترقي سے محروم ہيں اور انساني حقوق سے بے خبر
،اور امريکہ کي نکھوں کا تارا ہيں اور امريکہ ان کا دفاع کرنے والا
ہے۔
نصيحت اور تنبيہ اسلامي ممالک کے لئے:
ميں اسلامي ملک کا سربراہ ہوں ان سے
يہ کہنا چاہتا ہوں کہ اس فکر ميں نہ رہيں کہ اسرائيل سے صلح کے بعد
امريکہ اپنے ظلم و ستم کو متوقف کردے گا مسلمان صلح کے لئے قدم گے
ئيں اور تسليم ہوں تو امريکہ اس کے بعد مزيد دبا بڑھائے گا۔
کيوں بعض ممالک اپني سادہ لوحي کي
بدولت امريکي نعرے کے نتيجے ميں عقب نشيني کرتے ہيں کيونکہ امريکي
تبليغات يہي کہتي ہے ، غلط کہتے ہيں جھوٹ بولتے ہيں۔
يہ خود دنيا کے سب سے بڑے سياہ رو
ترين سياستدان ہيں۔
مشرق وسطيٰ کے ممالک کو ہوشيار کرنا:
بد نصيب ہے وہ قوم جو امريکہ اور اس
کے حاميوں کي اميد پر اپنے ملک کي ترقي چاہے! بدنصيب ہے وہ قوم جو
اپني زندگي برقرار رکھنے کے لئے اس طرح کي طاقتوں پر توکل کرے وہ
طاقتيں جو شر و فساد کے علاوہ دنيا کو کچھ نہيں دے سکتيں۔
خاک ہو ان قوموں کے سر پر جو امريکہ
جيسے متجاوز کو يہ اجازت ديںکہ وہ اپنے فوائد کومدنظر رکھتے ہوئے
سازش کرے پروگرام بنائے اور اس کے نتيجے ميں خليج فارس کے علاقے
ميں امن وامان کے سيسٹم کو ترتيب دے!
مسلمان ايسا نہيں کرنے دينگے اسلامي (مسلمان قوم) قوميں اس کي ہرگز
اجازت نہيں ديں گي جو شخص بھي امريکہ کي سازش ،تجاوزي اور لالچي
سياست جو وہ خليج فارس ميں رکھتا ہے کہ گے ڈٹ جائے جنگ کرے تواس نے
خدا کي راہ ميں جہاد کيا اور جو اس راہ ميں شہيد ہو جائے وہ شہيد
ہي شمار کيا جائے گا۔
قابل افسوس ہے يہ بات کہ اسلامي دنيا ميں ایسے سرکردہ افراد جنھوں
نے اسلامي لبادہ اوڑھا ہوا ہے اور قلم فروش بھي ہيں انھوںنے اسلامي
امت کے تاج (امام خميني۲)
کي شناخت حاصل نہيں کي اوران پر ظلم وجفا کيا، امريکہ و اسرائيل کي
خوشنودي کے لئے، نيز دشمنان اسلام کي رضايت کے لئے امام خمینی کے
مقابلے ميں ئے اور ان کے نوراني وجود کے خاتمے کے لئے سرتوڑ کوشش
کرنے لگے۔
وہ افراد جو امام خمینی کے مخالف
تھے وہ روسياہ ہوئے اوریہ افراد بہت بدبخت ہيں جو صہيونيت کے دل
کوخوش کرنے کے لئے امريکہ کو خوشحال کرنے کے لئے حقيقت کو چھپاتے
رہے اور امام خمینی کي مخالفت پر کمربستہ رہے وہ لوگ جن کے چہرے
سياہ تھے اگر چاہتے تو اس مہربان باپ اوراستاد کے زير سايہ زندگي
گذارتے اور اس کے وجود سے مستفيد ہوتے ليکن انھوں نے اپني خوش بختي
کو پاں تلے روندا اور دشمنوں کي غوش ميں پناہ تلاش کرنے لگے اور ج
بھي وہ ممالک وامريکہ لاتيني امريکہ، عراق اور دوسرے ممالک حيران و
پريشان سرگرداں ہيں۔
انقلاب اسلامي کي کاميابي کي ابتدا
ميں جب تمام لوگ اسلامي انقلاب کے کاموں ميں مصروف تھے اور پروانے
کي طرح( شمع) امام خمینی کے گرد گھورم رہے تھے، ملک کے گوشہ
وکنار سے کچھ ضد انقلاب وضد اسلام کارخانوں ميں کاريگروں کي صورت
ميں ظاہر ہوئے اور ان کا مقصد خلل وارد کرنا تھا يہ جاسوسي چينل
امريکہ کے مارکسيت ان کي پہچان کے لئے اس سے بہتر کوئي اصطلاح نہيں
تھي اس گروہ نے ظاہري طور پر ہميشہ برعکس عمل کيا، ليکن باطني طور
پر وہ امريکہ سے وابستہ تھے معاشرے ميں کاريگروں کو ايک
سمجھدارطبقہ سمجھا جاتا ہے ميں عام معني ميں اس کي ابتدا ميں ہي
امريکہ کے مارکستوں نے اس گروہ پر سرمايہ گذاري کي ان کا مقصد يہ
تھا کہ انقلاب کے مضبوط ہاتھوں اور برسر اقتدار حکومت کو اپنے
ہاتھوں ميں لے ليںاورانھيں اسلامي نظام کے خلاف استعمال کريں۔
قوموں اختلاف کي شازش:
.... وہ لوگ جو قوميتوں کي طرفداري
ميں کرد قوم کا پرچم بلند کئے ہوئے تھے دوسرے الفاظ ميں وہ لوگ بڑے
شيطان کے کارندے اور امريکہ کے لہ کار تھے الحمد ?ج وہ تمام لوگ
پکي ہوشياري،رذہانت اور ايمانداري کي بدولت اپنے برے انجام تک
پہنچنے اور ان کي کوششيں بے نتيجہ ثابت ہوئي۔
اخبار ورسائل سے استفادہ:
موجودہ زمانے ميںايساخبارات ايران ميں
چھپ رہے ہيں اگر کوئي معمولي سي شناخت طاغوت کے زمانے کے ثقافتي
عناصر سے رکھتا ہو وہ جان لے کہ ہنر مند اور مصنفين شہنشاہي حکومت
کے غلام اور مخلص افراد کون ہيں، دشمن سے مرعوب ہونے والے کون لوگ
ہيں امريکہ کے دوست کون لوگ ہيں وہ جانتا ہے کہ ان اخبار ورسائل کے
پيسے کہاں سے رہے ہيں.... جو ايران ميں امريکہ کا تسلط پسند کریںا
ور اس کي ترغيب دے وہ وطن کا دوست نہيں ہے اگر کچھ لوگ يہ اجازت
دين کہ امريکي ئيں اور ان کے انتخابات ميں مداخلت کريں ايران
وتہران کے اندر اس خاتون کے لئے جوامريکي انتخابات سے برسر اقتدار
ئي ہواس کے لئے تالياں بجائے اس کا کيا مطلب ہے؟ يہ لوگ ان لوگوں
کے لئے جو گويا امريکي ظلم کے مقابلے ميں سرتسلیم ہوئے مرحبا کہتے
ہيں کہ انھوں نے اپنے دلوں کو امريکہ کے سپرد نہيں کيا، کياايسا
شخص اپنے زہريلے قلم سے اسلامي ثقافت اور ايراني ثقافت کا دفاع
کررہا ہے؟ واضع ہے کہ نہيں کررہا! معلوم يہ ہوا کہ وہ دشمن کے لئے
کام کررہاہے اور دشمن کاپانچواں ستون ہے وہ خدا سے چاہتا ہے کہ
امريکي واپس جائيں اور چاہتا ہے کہ يہ نظام اور قانون امريکي
استکبار سے دوبارہ وابستہ ہوجائے۔
دين و اعتقاد کي توہين:
متحدہ امريکي طاقت ٢٨ مرداد کي بغاوت
سے لے کر انقلاب اسلامي کي کاميابي تک محمد رضا پہلوي کي پشت پناہ
رہي اور دين کے خلاف کاروائيوں ميں مشغول رہي ہے۔ اور ج بھي اپنے
بعض کارندوں کے ذريعہ جو کہ شايد خود بھي متوجہ نہيں ہيں دين کي
توہين علمائ دين اور حوزہ علميہ کي توہين ميںمصروف کا رہے۔
جنگ کے دوران ہماري قوم امريکي استکبار کے مسلسل دبا کو محسوس
کررہي تھي اور اس کو تحمل بھي کررہي تھي ليکن اس کے دبا کا شکار
نہيں ہوئي اس وقت بھي کچھ بکے ہوئے اہل قلم حضرات ديني عقائد
ونظريات اور اس شجاع قوم کے احساسات سے متعلق خدشات ابھار رہے تھے
تنقيد کررہے تھے۔ ایسے کارندوں کو ج بھي اس قوم وملت اور اسلامي
انقلاب کے خلاف کام کر رہے ہيں نعرہ بلند کرر ہے ہيں ان کو امريکہ
کے مزدور کہتے ہيں۔
درباري ملّا:
علاقے ميں امريکي سياست کے سرکردہ
افراد کہہ سکتے ہيں کہ وہي درباري ملّا قلم فروش اور دين فروش ہيں
جن کے کثف اور نافقانہ کارنامے اور پروپيگنڈے مشاہدہ کئے جاسکتے
ہيں۔
اسرائيل:
اسلامي امت و اسلامي تاريخ کي صورت ميں بھي ان اسلام دشمن عناصر کہ
جنھوں نے اسرائيل کے ساتھ اپنے تعلقات اچھے رکھے اور ہميشہ استکبار
کے لئے کام کيا اور اسرائيل کے لئے امن فراہم کيا اور جمہوري
اسلامي اور امت کے امام کے مقابل کھڑے ہوئے کسي چہرے کو بھلا نہيں
سکتے اور انھيں نہيں بخش سکتے۔
شيعہ وسني کے درميان تفرقہ:
پ ايسا نہ سمجھيں کہ انقلاب کے اوائل
سے اگر بڑے شيطان کے لئے ہم نے ميدان نہيں چھوڑا تو وہ ہمارے
درميان اختلاف ايجاد کرنے سے غافل ہوگا اور ہمارے درميان وسوسہ
نہيں ڈالے گا بلکہ بڑا شيطان امريکہ اور اس کے حمايتي ممالک سياسي
راستے سے، خودساختہ مذاہب کي بدولت، اپنے سياسي، شيطاني کارندوں کے
ذريعہ مسلسل اس فکر ميں ہے کہ دو حقيقي بھائيوںکے درميان جدائي
پيدا کرے اور اس سے کہيں زيادہ ديني بھائيوں اور قوموں کے درميان
تفرقہ پيدا کرنا اس کے لئے بہت سان ہے!
ج تيل کے پيسوں سے شيعہ مخالفت ميں
کتابيں تحرير کي جارہي ہيں امريکي ڈالرز کے ذريعہ مذہب شيعہ کو رد
کرنے کي کوشش جارہي ہے ،عربي اور اردو زبان ميںکتابيں لکھي اور
ترجمہ کي جارہي ہيں يہ شيطاني ہاتھ ہيں يہ فاسد افراد ہيں جو يہ
چيزيں تحرير کرہے ہيں جہاں کہيں بھي ہوں ان کا يہي گھناوناکردار
ہے۔
ہم جو مسلمان ہيں تو ہميں ہوشيار رہنا چاہئے اور يہ جان لينا چاہئے
کہ يہ فلاں ملک جو مغرب اور امريکہ کا نوکر ہے يہ تيل کے پيسے
امريکي استکبار کي خدمت ميںصرف کرتا ہے اور ساري اسلامي دنيا يہ
بات جانتي ہے يہ ملک روسياہ ہے اگر ايک کتاب بھي شيعہ کے رد ميں
منتشر ہوئي تو مقصد خدا کي رضا يا اہل سنت کي محبت ہرگز نہيں ہے
بلکہ وہ شيطاني اور خبيث ہدف رکھتاہے۔
مقدسات کي توہين:
وہ افراد جواسلامي دمشن عناصر سے
ڈالرز لے کر وحدت مسلميں کے نام پر جلسات منعقد کرتے ہيں کتاب
تحرير کرتے اور مقابلہ لکھتے ہيں تاکہ شيعہ اور اہل بيت رسول۰کي
مخالفت کرے اور مقدسات کي اہانت کريں تو ہم ان تمام افراد کوامريکہ
اور اس کے مزدور شمار کرتے ہيں۔
جب کچھ چيزيں ايک کروڑ افراد کے
معاشرے ميںمقدس ہوں اور وہ ان چيزوں کے پيروکار ہوں تو ان کي اہانت
کرنا ايک مشکل کام ہے اسلام کي اہانت کرنے کي جرآت نہيں رکھتے،
لہٰذا پ مشاہدہ کرسکتے ہيں کہ امريکہ کے سرکردہ افراد اوربعض زور
وزبردستي کرنے والے ممالک بھي واضح الفاظ ميں اسلامي کي توہين کرنے
کي جرآت نہيں رکھتے ايک راستہ انھوں نے ڈھونڈ ليا ہے کہ ایسے افراد
کو تلاش کريں جو ان کي بلا، اپنے سرلے سکے اور يہ افراد اہل فکر
ونظر کي حيثيت سے ،شاعر کي حيثيت سے اور مصنف کي حيثيت سے اسلام کي
توہين کريں تاکہ ہستہ ہستہ توہين اسلام کا رواج ہوجائے يہ وہ کام
جس کا غاز انھوں نے ايک مرتد شخص کي بدولت يات شيطاني کتاب کے
ذريعہ کيا۔ اس نے انگلستان ميںاپني کتاب کو تحريرکيا اور امريکي
اخبارورسائل نے اس کي تشہير شروع کردي۔ ميں امريکي اخبارات کا ان
دنوں مشاہدہ کرکے تعجب ميں مبتلا ہوگيا کہ يہ خر کونسي (کيسي) کتاب
ہے جس کي امريکي اتني شدومد سے تشہير کررہے ہيں!
اس وقت اسلامي دنيا کا اہم ترين مسئلہ
دشمن کا کينہ، بغض، ديوانہ وار شيطاني محاذ خاص طور پر بڑے شيطان
کي اسلامي عقائد سے دشمني سرفہرست ہے.... مقالے تحرير کرنا، کتابيں
شائع کرنا اور ايسي فلميں جو اسلام سے متعلق توہين ميز ہوں ان کو
اسلامي اور غير اسلامي مراکز ميں دکھانا يہ تمام وہ امور ہيں جو
امريکہ کي اسلام سے جنگ اور اسلامي ثقافت کے خلاف کاروائيوں کا
کھلا نمونہ ہے ج استکباري ممالک، امريکہ وانگلستان، ہزاروں ڈالر
اپني اسلام دشمني پر خرچ کررہے ہيں۔
امريکي وابستگي:
انقلاب کے اوائل ميں کچھ کم عمر اور
سادہ لوح افراد اسلام کے نام پر يہ چاہتے تھے کہ امريکہ کي بدولت
قدرت وطاقت کودوستي ک پيرائے ميں امريکہ کي غوش ميں ڈال ديں اگر
خدانخواستہ وہ اپنے ان مقاصد ميں کامياب ہو جاتے تو جيسا کہ ايسا
ہي کرنا چاہتے تھے اگر ہم لوگ اس نظام کو سنبھالتے تو ايسے بہت سے
کارنامے انجام ديتے وہ اگر امريکہ سے رابطہ برقرار کرليتے اور
ايران کو بڑي تواضع وانکساري کے ساتھ امريکہ کي خدمت ميں پہنچا
ديتے تو، کيا ممکن تھا کہ يہ ہمارا انقلاب اور ملک اتني زيادہ ترقي
کرتا؟ (حاشاوکلا) نہيں ہرگز نہيں۔
.... اب بھي ايسے افراد ہيں جو يہ
تبليغ کرتے پھر رہے ہيں کہ کيا انسان کے لئے ممکن ہے کہ وہ امريکہ
سے قطع رابطہ کرے؟ اگر رابطہ کو منقطع کرليں تو زندگي امريکہ کے
بغير گذرارنا ممکن نہيں۔ اگر ہم اپنا رابطہ امريکہ سے برقرار کرليں
يا کم از کم مذاکرات ہي کرليں تو ہماري تمام مشکلات حل ہو جائينگي۔
اس طرح کي تبليغ کو رواج دينا چاہتے ہيں اور ان کي يہ تبليغ بے
معني غير منطقي اور حقيقت سے عاري ہے، بہت سے ايسے ممالک موجود ہيں
جن کے امريکہ سے دوستانہ روابط تھے ليکن امريکيوں نے ان کے ساتھ
پھر بھي بدترين خيانتيں انجام دي ہيں۔
غلط تشخيص:
اسلامي جمہوري ايران ميں اگر لوگ يہ
تصور کرتے ہيں کہ امريکہ کو برتري دينے سے وہ اسلامي اہداف کو حاصل
کرسکتے ہيں تو وہ بڑي غلطي پر ہيں... اگر لوگ يہ تصور کرتے ہيں کہ
امريکہ جو خود فتنہ وفساد کا مرکز ہے ممکن ہے کہ اسلامي نظام جو کہ
زاد زندگي کا مظہر ہے کے ساتھ دوستي کا ہاتھ بڑھائے مدد کرتا رہے
تو وہ لوگ نہايت سادہ لوح ہيں۔
کتني بيوقوفي کي بات ہے کہ لوگ کہيں
کہ امريکہ کے ساتھ جو کہ خود متکبرين ميں ہے اور انساني اصولوں نيز
بين لاقوامي اصولوں کا قائل نہيں ہے مذاکرات کئے جائيں امريکي
عالمي اور انساني حقوق کے قائل نہيں ہيں۔
غلط فکر:
کتنے سادہ لوح ہيں وہ لوگ جو يہ
سمجھتے ہيںکہ امريکہ اور استکبار نيز صہيونستيوں کي محاذ رائي اور
دشمني کي وجہ ( جيسا کہ عالمي ميڈيا ان کي دسترس ميںہے) يہ ہے کہ
جمہوري اسلامي نے اصل موقع پر دوستي کا ہاتھ ان کي جانب نہيں
بڑھايا اور ايران عالمي مسائل ميں بھي سخت رويہ اختيار کئے ہوئے ہے
يہ گمان اس بات کي نشاندہي کرتا ہے کہ يہ لوگ واقعات وحادثات کو
گہرائي سے نہيں جانتے داخلي اور عالمي مسائل سے ناواقف ہونے کے
ساتھ ساتھ دشمن کي شناخت نہيں رکھتے۔
انقلاب کے اوائل سے ہي کام مختلف
انداز سے ہوتا رہا ہے کہ ملک کے عوام کے ذہنوں ميں يہ فکرڈالي جائے
کہ امريکہ ناقابل شکست طاقت ہے عالمي سطح پر ايک عظيم حقيقت رکھتا
ہے اس کے ساتھ جنگ نہيں کي جاسکتي۔
اگر پ کو ياد ہوتو امام خمینی کے زمانے سے اور ان کي رحلت کے بعد
خاص طور پر ج تک مختلف انداز ميں کبھي مقالے کي صورت ميں کبھي قصہ،
شعر، سياسي تجزيہ وتحليل کي بدولت وہ عناصر جو شکار طور پر امريکہ
سے وابستہ ہيں يا اسي ملک کے اندروہ عناصر جو ظاہري طور پر امريکہ
سے وابستہ نہيں ہيںيہ فکر پھيلاتے ہيں۔ اگر پ اہل مطالعہ ہيں تو
جانتے ہوں گے ايسے موارد سے متعلق جن ميں يہ کہا گيا ہے کہ بلاوجہ
اپنے آپ کو زحمت ميں ڈالتے ہو کس کے ساتھ الجھنا چاہتے ہو؟! يہ فکر
غلط ہے۔
کچھ ايسے افراد جو عاقل اور مصلحت
انديش تھے وہ انقلاب کے عظيم الشان رہبر کو نصيحت کرتے تھے کہ پ
بلاوجہ عالمي طاقت امريکہ سے جنگ کيوں کرتے ہيں؟! کيوں اپنے پ کو
وحشتناک جنگ کے حوالے کررہے ہيں؟! يہ فکر بھي اسي مقام سے ہے کہ
لوگ اس کي اصل کيفيت کو سمجھ گئے، ليکن جمہوري اسلامي بغير کسي وجہ
اور دليل کے اس عالمي استکبار سے دشمني رکھتا ہے حالانکہ ايسا نہيں
ہے۔
اسلام سے دوري:
دشمن يہ کوشش کررہا ہے کہ ايسي فضا
ايجاد کرے اور اپني جھوٹي تبليغات کي بدولت پ کو اسلامي حکومت کے
نام اور نظام سے ڈرائے، شايد بعض سادہ لوح يہ سوچيں کہ امريکہ اور
مغربي ممالک حکومت اسلامي کے نام سے الرجک ہيں تو بہتر يہ ہے کہ
اعلانيہ طور پرحکومت اسلامي کا نام لينے سے اجتناب کيا جائے۔
يہ فکر نہ کريں کہ اگر اب امريکہ سے رابطہ برقرار ہو جائے يا
مذکرات ہوں تو امريکہ کي جانب سے اسلامي جمہوريہ کے لئے ذرہ برابر
بھي مخالفت نہيں رہے گي! نہيںايسا نہيں ہے بلکہ بہت سے ايسے ممالک
جو امريکہ سے مرتبط ہيں عالمي سطح پر ان کے تعلقات بہت ہي دوستانہ
اور تہذيب کے مطابق ہيں اس کے باوجود بھي امريکہ جب چاہتا ہے ان
ممالک کو نقصان پہنچانے سے گريز نہيں کرتا اور ان کے خلاف اقتصادي
بائيکاٹ کا اعلان کرديتا ہے!
ايشيائي ممالک کے ايک مشہور ومعروف
عہدہ دار شديد قسم کے اقتصادي بحران سے دوچار ہيں اسلامي کانفرنس
ميں شرکت کے لئے جب تہران ئے تو مجھ سے کہہ رہے تھے کہ ہماري قوم
اس وقت فقير ترين قوم ہے! اور اس ميں امريکي اورصہيونيستي سرمايہ
دار ہيں! اس ملک کے بھي امريکہ سے بہت دوستانہ تعلقات ہيں مگر
امريکہ سے رابطہ کسي قوم کي مشکل کو حل کرسکتا ہے؟
کيا امريکہ اور استکباري طاقتيں جہاں
ان کا منافع (فائدہ) ہو وہاںکسي پر رحم کرتي ہيں؟!
سياسي طور پر سزادينا:
پ ملاحظہ کرسکتے ہيں کہ جچچ امريکہ جن
ممالک کے لئے سزا تجويز کررہا ہے جيسے چين، روس، ترکي کيا يہ ممالک
امريکہ سے مرتبط نہيں ہيں؟! کيا يہ ممالک امريکہ کے ساتھ مذاکرات
نہيں کرتے؟ تمام وہ ممالک جن کا امريکہ سے اقتصادي اور سياسي رابطہ
ہے امريکہ سے مذاکرات کرنے اور رابطہ برقرار کرنے کے بعدبھي امريکہ
اپني دشمني سے باز جائے گا۔ ابھي ايسے ممالک موجود ہيں جن کا
امريکہ سے سفارتي رابطہ ہے اور امريکي سفارتخانے ان ممالک کے
درالخلافہ ميں موجود ہيں اور کام کررہے ہيں سياسي اور حکومتي
نمائندے ايک دوسرے سے رابطہ ميںہيں ليکن پھر بھي امريکہ ان ممالک
کو دنيا کے سامنے دہشت گردوں کي فہرست ميںشامل کئے ہوئے ہے! ميں ان
ممالک کے نام لينا نہيں چاہتابہتر ہے کہ وزارت خارجہ ميں موجود
ہمارے بھائي لوگوں کو بتائيں اورانکے لئے مطلب کو واضح کريں۔
سياسي واقتصادي بحران ايجاد کرنا:
وہ اپني تبليغات ميں پروپيگنڈہ کررہے
ہيں کہ ايران کا امريکہ سے قطع رابطہ کرنے پر خود ايران کا نقصان
ہے! نہيں بلکہ سو فيصد ہمارے فائدے ميں ہے، ان کا يہ حربہ اب بے
تاثير ہے يہ چاہتے ہيں کہ اقوام عالم کے درميان يہ بات پھيلائيںکہ
اگر کوئي قوم امريکہ سے رابطے ميں رہے گي تو اس کي تمام اقتصادي
ومادي مشکلات حل ہو جائيں گي، نہيں ايسا نہيںہے کبھي کچھ سادہ لوح
حکومتيں ايسا سوچتي ہوں گي ليکن يہ حقيقت نہيں ہے ہمارے ملک ميں
بھي انقلاب کے اوائل ميںکچھ افراد جوقدرت وطاقت تک پہنچ گئے تھے
اور حکمران طبقہ سے ان کا تعلق تھا وہ بھي يہي سوچا کرتے تھے دنيا
کے مختلف مقامات پر اس کے برعکس تجربہ ديکھنے ميںيا الجزائر ميں
لوگ اقتصادي مشکلات کا شکار تھے انھيں يہ سمجھايا گياکہ امريکہ سے
رابطہ تمھاري مشکلات کو ختم کردے گا انھوں نے اس سمت قدم بڑھائے
ليکن ان کا يہ اقدام بے نتيجہ ثابت ہوا ج پ الجزائر کے حالات سے
واقف ہيں.... امام خمینی نے روس کے رہبر کے نام جو خط لکھا تھا
کہ پ جو اپنے ملک ميںنئي بساط بچھارہے ہيں ہوشيار رہيں کہيں پ مغرب
اور امريکہ کي جانب تمايل پيدانہ کرليں کہ وہ پ کے مسائل ومعاملات
پر مسلط ہوجائيں۔ اس درخواست پر توجہ نہيں دي گئي ج پ ان کي حالت
ديکھ رہے ہيں ۔ اقتصادي لحاظ سے امريکہ سے رابطہ بيکار ہے اس کا
نتيجہ پ روس ميںمشاہدہ کرسکتے ہيں، بہت سے ايسے ممالک ہيں جن کے
ميں نام لينا نہيں چاہتا ، ان ممالک کي اقتصادي لحاظ سے امريکہ سے
بہترين تعلق ہے ليکن اقتصادي لحاظ سے ان کي حالت صفر سے بھي نيچے
ہے ان کے ملک کي رائج کرنسي کي بہت کم قيمت ہے يہ سب ايران کے لئے
ايک تجربہ ہے۲
مضبوط رہبري:
استعمار،(امريکہ وغير امريکہ) کي کوشش
کے درميان جب عالي استکبار کي کاميابي نکتہ عروج پر پہنچي اس وقت
دنيا کے نہايت حساس علاقے ميں ايک عظيم ، بے نظيراور غير معمولي
قيادت اور عوام کي طاقت ،شجاعت، اخلاص وگاہي وسچائي کي بدولت ايک
عظيم اسلامي انقلاب رونما ہوا جس نے اس قوم کے دلوں کو منقلب کرديا
اور وہ ہر قسم کے ڈرو خوف سے مبرا ہوگئے اس انقلاب نے استکبار کي
تمام سازشوں کو ناکام کرديا۔
انقلاب کاميابي سے ہمکنار ہوا اس کي کشتي متلاطم موجوں اور حوادث
کي زد ميں تھي اس وقت يہ کشتي باحکمت اور توکل کرنے والي طاقت کي
بدولت ساحل نجات تک پہنچي تھي۔ انقلا ب کے مضبوط ہاتھ نے استکبار
کي گردن کو اپني گرفت ميں لے ليا اور وہ جو اپني جھوٹي تبليغات کو
وجہ سے دنيا بھر ميںناقابل شکست طاقت سمجھے جاتے تھے انھيں سرنگون
کيا، عالمي استکبار امريکہ کي تحقير کي بدولت دنيا کي حقير شدہ
قوموں کے دلوں کو خوشحال کيا۔
پکي استقامت، مضبوط ارادے اور حقانيت
نے دنيا بھر کے مسلمانوں کو نئي زندگي بخشي، استکبار اس کا معالجہ
نہيں کرسکتا۔ ہم نے عالمي استکبارامريکہ کو ايک دھچکہ پہنچايا اور
بدترين شکست سے ہمکنار کيا۔ امام خمینی نے اس کا بيج بويا ہے۔
امام خمینی کي بزرگوارشخصيت نے اس
کا بيج بويا ،امريکہ چاہے يا نہ اسلام کا پودا، اور اسلامي انقلاب
ترقي کي جانب گامزن ہے اور رہے گا امريکہ سے وابستہ افراد چاہيں يا
نہ چاہيں يہ راہ ہميشہ جاري وساري رہے گي۔
ايران اسلامي کي نجات:
يہ وہي مملکت ہے کہ امريکي صدر نے
ايراني حکومت کي چند لاکھ ڈالر کي مدد کے ذريعہ اس ميں اپني مرضي
کے مطابق افراد کا تعين کرواياتھا، يہ وہي ملک ہے جس ميں عالمي
غنڈہ امريکہ اپني بدمعاشي کي بدولت اس ملک کے حکمران کو اپني رعايا
تصور کرتاتھا، يہ وہي ملک ہے جس ميں عوام اپني خواہش ، اپنے ايما،
اپني سياسي واقتصادي پوزيشن (حالت) ميں کوئي تاثير نہيں رکھتے تھے۔
انقلاب کے معمار کے طاقتور ہاتھوں،اوراسلامي جمہوريہ کے باپ نے اس
ملک وملت کو ايسي حالت ميں تبديل کرديا جس نے ان دس سالوں کے دروان
عالمي بدمعاش اور غنڈہ گردي کرنے والے ملک کي بھرپور انداز ميں
تحقير کي کہ ج تک کوئي قوم ہماري قوم کي طرح اس استکباري طاقت، اور
بدمعاش کي تحقير نہيں کرسکي ہے۔ تمام دنيا اس بات کا اعتراف کرتي
ہے۔
ہماري عظيم قوم امام خمینی کي عظيم
الشان قيادت کے ہمراہ ايک بڑا کارنامہ انام دے چکي ہے حقيقت ميں يہ
ايک ناقابل قبول افسانہ تھا ايران کي بڑ سرزمين عظيم طبيعي ذخائز
جيسے تيل وغيرہ اور حساس وام جغرافيائي حالات کے باوجود امريکہ کے
ہاتھوں سے نکل گئي۔ اور امريکہ سے وابستہ حکمران جو کہ اس کے اطاعت
گذرا اور مريد ومخلص تھے وہ ہٹا ديئے گئے۔
امريکہ جو کام چھوٹے ممالک کي حفاظت
کے لئے انجام دے چکا ہے (پانامہ،کويت) اس سے يہ بات واضح ہو جاتي
ہے کہ ايران کو امريکي تسلط سے زاد کرانا، اسلامي فوجوں کا تعين،
وغيرہ ايک افسانہ سے زيادہ نہيں لگتا۔
فوجي اور سياسي شکست:
گذشتہ زمانے ميں نيز اس صدي کے اواخر
ميں امريکہ اور يورپ کي استعماري طاقتيں مختلف قوموں کے ساتھ نبرد
زما رہي ہيں اورجہاں پر يہ طاقتيں نبرد زما ہوئيں وہ قومين مبجور
ہوگئي کہ ان کے مقابلے سے کنارہ کشي کرليں۔ امريکہ اس وقت تک
امريکہ تھا جب تک وہ ويتنام کي ملت سے نہيں الجھا تھا جب يہ ظاہري
قدرت رکھنے والا ملک ويتنام سے برسرپيکار ہوا تو ايک شکست خوردہ
(ہارا ہوا) ملک ميں تبديل ہوگيا اور مجبور ہوگيا کہ چند ماہ بعد ہي
اپني فوج قوت (پانچ ہزار) کو ميدان کارزار سے واپس بلائے!
ايران ميں نفوذ کا خاتمہ:
ہماري يہ قوم اسلام کي برکت سے اس
لائق ہے کہ جس نے ناقابل شکست طاقت کے طلسم کوتوڑ ديا ہے۔ بيگانوں
کا تسلط يعني امريکہ، بعض ممالک امريکي طاقت سے نالہ ہيں ليکن اس
کو شکست دينے کي صلاحيت نہيںرکھتے۔ پ يہ نہ سوچيں کہ يہ ممالک
جوامريکي طاقت کے زير تسلط ہيں وہاں کي حکومت اور عوام اس صورتحات
پر خوش ہے۔ البتہ بعض خوش بھي ہيں کيونکہ ان کے منافع اس سے منسلک
ہيں رشوت ليتے ہيں۔ ليکن اکثر ممالک اس صورتحات پر ناراحت ہيں ليکن
اتني توانائي نہيں رکھتے کہ اپنے جسم وجان پر مسلط اس لاشے کو شکست
دے سکيں، ليکن اس قوم نے يہ کام کردکھايا اور مکمل طور پر امريکي
طلسم کو توڑ کر دشمن کي طاقت کو شکست فاش کرديا۔
غلط تفسيريں:
امريکہ اور صہيونيست مبصرين تبصرہ
کرنے والوں نے کس قوم کونہيںديکھا اور وہ ايراني قوم سے متعلق بھي
غلط فہمي کا شکار ہوئے ہيں چند پست وزبان دراز افراد کو نظر ميں
رکھ کر کہتے ہيں کہ يہ ہماري (ايراني) قوم ہے حالانکہ ہماري قوم وہ
عظيم قوم ہے جس نے امريکي نفوذ کو شکست دي فاسد وفاجر پہلوي خاندان
کو ملک سے نکال پھينکا يہ ملت يہ ہماري قوم ہے۔
امريکہ اپني غلط تبليغات کي بدولت يہ
سمجھتا ہے کہ ايراني قوم کي استقامت ، اس کے مقابلے ميں اس کے
زبردستي مسلط کئے ہوئے قوانين، اس کي دھمکي اس کي نرمي اور برا
بھلا کہنے کے باوجود قائم ہے اس کي وجہ يہ ہے کہ ايران کي پشت
پريورپ کا ہاتھ ہے پھر امريکہ نے يہ کوشش شروع کردي کي ايران اور
يورپ کے درميان اختلاف ارو فاصلہ پيدا کردے... ميں يہاں پر اپني
قوم سے کہنا چاہتا ہوں کہ امريکي غلطي کا شکار ہيں اور ان کي يہ
تفسير غلط ہے وہ سمجھتے ہيں کہ اگر اقتصادي مرحلے سے جاپان اور
يورپ کو ايران سے جدا کرديا جائے تو وہ ايران قوم کوسرتسليم خم
کرنے پر مجبور کرديں گے،يہ کيسي غلطي ہے؟! کيوں يہ لوگ غلط فہمي کا
شکار ہيں؟
يقيني طور پر دنيا کے مبصرين نے
انقلاب کے دسويں اور گيارہويں سال ميں بھي ايسي حالت کي ہمارے لئے
پيشين گوئي نہيں کي تھي بلکہ برعکس امريکي اور يورپي سياست داں اس
وقت ہمارے لئے بدبختي کا تصور لئے بيٹھے تھے۔ وہ سوچ بھي نہيں سکتے
تھے کہ اس دن ہمارے درميان زبردست اتحاد تھا اور ہے اور ہم نے والي
مشکلات کے سامنے سيسہ پلائي ہوئي ديوار ہيں۔
سياسي تزلزل:
امام بزگوار کي پيشين گوئي کے مطابق ج
کميونسٹ دفن ہو چکا ہے عوامي طاقت کي بدولت قابض کميونسٹ حکومت کا
خاتمہ ہوگيا ہے اور دنيا کي دو بڑي طاقتوں ميں سے ايک طاقت عالمي
سياسي منظر سے غائب ہوچکي ہے اور دوسرے درجہ کي طاقت ميں تبديل
ہوگئي ہے۔دوسري طاقت بڑے پيمانے پر ہونے والي عوامي بغوت، دنيا کے
مختلف مقامات جيسے شمالي وجنوبي افريقہ ....فلسطين و....پر قابض
ہے۔ امريکہ کے سرکردہ افراد اپنے معاشرے ميں ہونے والے فساد، بے
ايماني، غير اخلاقي زادي، معنوي خلائ اور کميونسٹ کي شکست کے بعد
چاہتے تھے کہ اس خلائ کو پر کرنے کے لئے ايک وحدت بخشنے والاعقيدہ
اپني قوم کے درميان رائج کريں تاکہ يہ خلائ پر ہو سکے نيز دوسري
جانب امريکہ اور يوروپ کے درميان بھي معاملات درہم برہم ہوگئے جس
کے نيتجہ ميں يورپي ممالک پر پيداہونے والا امريکي نفوذ ختم ہوگيا
اس صورتحات پر امريکہ شدت سے خطرے کا احساس کررہا ہے اور دنيا ميں
اپني پوزيشن (حالت) کو متزلزل ديکھ رہا ہے۔
اقتصادي بائيکاٹ ميں ناکامي:
بڑي طاقتيں خاص طور پر امريکہ تين
مسائل ميں ہم سے روبرو ہوا ہے اور سياسي لحاظ سے اس نے ہر محاذ پر
شکست کھائي ۔ پہلا مسئلہ روس سے ہمارا ايٹمي معاہدہ، دوسرا اقتصادي
بائيکاٹ اور خر ميں ہماري قرارداد جنوبي افريقہ سے امريکہ اپني
تمام طاقت کے ساتھ ہمارے خلاف ميدان ميں وارد ہوا ليکن عملي طور پر
پيچھے ہٹنے پر مجبور ہوگيا تينوں مسئلوں ميں خدا نے مدد کي بڑي
طاقت ہونے کا دعويدار امريکہ سياسي وتبليغاتي تمام وسائل کو بروئے
کار لاتے ہوئے جمہوري اسلامي کے خلاف دنيا بھر جنجال برپا کرتا رہا
اور جمہوري اسلامي کے نظام کے سامنے ڈٹ گيا ليکن تينوںموارد ميں
اپنا من پسندنتيجہ نہ پاسکا۔
امريکہ نے نہايت شوروغل برپا کيا اور
ان حکومتوں کے خلاف قانون پاس کيا جو ايران کے ساتھ اقتصادي تعاون
کرتي ہيں ليکن خر کار خود مجبور ہو کر يہ قانون لغو کرديا تاکہ اس
کي مزيد بے عزتي نہ ہو۔
ج امريکہ سياسي، اقتصادي، تبليغاتي تمام وسائل ايران کے خلاف
استعمال کررہا ہے ليکن اس کي تمام کوشش کے باوجود اسلامي ايران کا
فني، اقتصادي لحاظ سے دنيا سے رابطہ برقرار ہے اور يہ رابطہ مزيد
مستحکم ہوگا۔
علاقے کے ممالک پر امريکہ کادبا:
ج امريکہ اور اس کے ممالک کے لئے حتي
ان سے وابستہ کمزور ملکوں کے لئے بھي واضح ہوگيا ہے کہ نہ امريکہ
اور نہ ہي کوئي اورطاقت يہ صلاحيت رکھتي ہے کہ دوسري قوموں پر مسلط
ہوسکے کيونکہ کوئي بھي قوم ان کے زير تسلط ان کے ظلم وجود ک برداشت
نہيں کرسکتي۔ يورپ ،افريقہ اور فلسطين کے حوادث نے مزيد روشن کرديا
کہ اہل مغرب خاص طو پر امريکہ دنيا کا سردار نہيںبن سکتا ۔
بغض کا احساس جو پ کے اندر امريکہ سے
متعلق تھا جس کي بنائ پر پ امريکہ مردہ باد کا نعرہ بارہ سال سے
لگار ہے ہيں يہي بغض کا احساس امريکہ سے متعلق عرب اور مسلمانوں
ميں ہے وہ چاہتے تھے کہ اس نعرے کے ذريعہ اپني قوم کو بيدار کريں
اور کھٹن مراحل کے لئے تيار کريں ليکن اس کے برعکس ہوا۔
امريکي حکمرانوں کي ناتواني:
ج امريکہ کے سياسي مبصرين اپنے مخصوص
جلسات اور سيمينار ميں ايک جملہ ادا کرتے ہيں کہ ج ہماري سب سے بڑي
مشکل ’’اسلامي انقلاب‘‘ ہے۔ کيوںيہ سب سے بڑي مشکل ہے؟ حداکثر يہ
ہے کہ ايک قوم نے اپني راہ اس کي ڈکٹيٹر شپ سے جدا کرلي ہے۔
امريکہ اصول پسند مسلمانوں سے وحشت
زدہ ہے کيونکہ جانتا ہے کہ جہاد اور شہات کي طلب مسلمين کے ايک
مذہبي اصولوں ميںسے ايک اصول ہے ج امريکہ ہم سے ڈرتا ہے اور اسے
لازمي طور پرڈرنا چاہئے۔
سال ٧٦ کے خر ميں بار بار امريکيوں نے عالمي سطح پر اپني گفتگو ميں
اس بات کا اظہار کيا ہے کہ ہم جمہوري اسلامي ايران کے مقابلے ميں
کوئي کاميابي حاصل نہيں کرسکے اور ايران تمام ميدانوں ،چاہے وہ
سياسي ہو ں يا اقتصادي ،چاہے دوستوں سے رابطہ کا مسئلہ ہو يا
دشمنوں کا سامنا ہر مرحلے ميں اپني عزت قدرت اور عظمت کو برقرار
رکھے ہوئے ہے۔
ہمارا دشمن يہ سمجھ لے کہ ايران کو
نظر انداز نہيں کيا جاسکتا اور غير سنجيدہ نہيں ليا جاسکتا۔ پ دشمن
سے کيوںڈرتے ہيں؟ دشمن ضعيف و ناتوان ہے ج امريکہ جب ايران پر دبا
ڈالنا چاہتا ہے تو يورپ کي خوش مد کرتا ہے اس ملک اور اس ملک ميں
جاتا ہے کہ و متحد ہوجائيں اور ايران پر دبا ڈاليں کيا يہ خود اس
بات کي دليل نہيںہے کہ امريکہ خود دبا ڈالنے ميںناکام ہے ؟!
امريکہ کے سرکردہ افراد نے اپنے
درميان مقابلے کي کيفيت پيدا کرلي ہے کہ اسلامي جمہوري ايران اور
اس کے نظام کے خلاف بولين پروگرام بنائيں اور فيصلے کريںيہ خود بڑي
طاقت کي اسلامي انقلاب کے مقابلے ميں شکست ہے اور بات کي نشاني ہے
کہ ايران قوم کامياب ہے نيز استقامت کے ساتھ سترہ سال سے اب تک جمي
ہوئي ہے۔
امريکہ صہيونيست سرمايہ داروں سے
وابستگي امريکہ خود بھي زادي استقلال نہيں رکھتا شايد بعض کے لئے
تعجب ور ہو ليکن تعجب نہ کريں کيونکہ يہ حقيقت ہے کہ امريکہ کي
حکومت سرمايہ دار بين الاقوامي صہيونيست سے وابستہ ہے اگرچہ ممکن
ہے کہ قوميت کے لحاظ سے وہ سرمايہ درا امريکائي ہوں ليکن حکومت
وابستہ ہے جہاں سرمايہ داروں کے خلاف صدر مملکت نے قدم اٹھايا جيسے
کینڈ ي اور ديگر افراد تو اسے جڑ سے اکھاڑ پھينکتے ہيں۔
انساني تمدن ميں تضاد:
ج حقيقت ميںامريکہ اور يورپ مادي تمدن
کے لحاظ سے زبردست تضاد رکھتے ہيںوہ نازيوں کا يہودي سے نسلي تعصب
برا شمار کرتے ہيں ليکن صہيونيست جو نازيوں کي شبيہ اور مشترک جہت
رکھتے ہيں ان کي حمايت کرتے ہيں۔
صہيونيستوں کي حمايت کي قباحت جاپان
کي نازي اور ہٹلر کي حمايت سے کم نہيں ہے اسي وجہ سے يورپ اور
امريکہ کا مادي تمدن زبردست تضاد کا شکار ہے &
|