يہ پيغام آپ نے ١٤٠٤ھ ميں تہران مين منعقدہ فکر اسلامي کا نفرنس کے شرکائ کے نام ديا،

 جب کہ آپ کادوسرا خطاب اسي برس تہران ميں منعقدہ بين الاقوامي مقابلہ حسن قرآت کے افتتاحي اجالاس سے تھا۔

 

نشر ولایت پاکستان

مرکزحفظ ونشر آثار ولایت

www.wilayat.com

 

قرآن مجيد ذريعہ نجات :

جب کوئي قوم قرن مجيد کي عزت و تعريف و تمجيد کرتي ہے تو در حقيقت وہ خود اپني تعريف و تمجيد کرتي ہے ايسي قوم اس انسان کے مانند ہے جوفتات عالمتاب کي مدح و ثنا کرتا ہے، کيونکہ قرن کتاب ہدايت ہے، قرن انسان کے لئے قيمتي الٰہي يتوں کا مجموعہ ہے۔ قرن کتاب ارتقائے انساني ہے۔ جوشخص واقعي طور پر اس کتاب کا احترام کرے درحقيقت اس نے اپني ذات، اپنے ادراک اور اپنے عمل کو قدروقيمت عطا کي ہے۔

مسلمانوں کو قرن سے جدا کرنے کے لئے برسہا برس سعي و کوشش کي گئي اور افسوس ہے کہ يہ کوشش کرنے والے اپنے مقصد ميں کامياب بھي ہوگئے۔ اس طويل عرصہ ميں اسلامي معاشرے ميں قرن مجيد کي ظاہري شکل و صورت کے سواکچھ باقي نہ رہا۔ جوکتاب ہر دور کي نسل انساني کي ہدايت کے لئے نازل ہوئي تھي وہ،اسلامي معاشرے ميں ظاہري تکلفات اور رسوم و رواج کا ذريعہ بنادي گئي۔ قرن مجيد کو اس کي اصل حيثيت سے دور کرديا گيا، التبہ خدا کا شکر ہے کہ مسلم قوموں کا ايمان قرن سے ہرگز نہ اٹھا اور يہ خود قرن کا ايک معجزہ ہے۔ ليکن قرن کے ساتھ مسلمانوں کا سلوک اس کے نزول کے اہداف و مقاصد کے مطابق نہ تھا۔قرن ، جو انسانوں کو تاريکي وظلمات سے نکال کر نور و روشني کي جانب ہدايت کرنے يا تھا، جس کتاب ميںہر چيز موجود تھي، انسانوں کے تمام سوالوں کے جواب موجود تھے۔ جو کتاب انسان کي پوري زندگي کے لئے کافي تھي وہ رسومات و تکلفات کا ذريعہ بن گئي۔

اس جرم کا حقيقي مجرم کون ہے؟

قوميں مجرم نہيں ہيں، انھيں اس جرم کا ذمہ دار نہيں ٹھہرايا جا سکتا۔ سب سے پہلے ذمہ دار وہ سياست باز و منصوبہ ساز توسيع پسند ہيں جو اسلامي قوموں کے درميان قرن مجيد کو اپنے مفادات کي راہ ميں رکاوٹ سمجھتے تھے۔ لہٰذا انھوں نے عوام سے قرن مجيد کو چھيننے کے لئے کمر باندھ لي تھي۔ اس کے بعد وہ لوگ گناہگار ہيں جنھوں نے انسانيت سے دور اور اسلامي مصالح و مفادات سے بے گانہ اغيار کي سازشوںاور ان کي شيطاني ومنحوس تدبيروں کو قبول کيا اور اپنے معاشرے ميں انھيں مدد پہنچائي۔

قوميں قرن کي محتاج ہيں:

خود ہمارے معاشرے ميں انقلاب سے قبل،اسلام و قرن کي نشاۃ ثانيہ سے پہلے کلام ا کي حالت افسوس ناک تھي۔ مقصد يہ نہيں ہے کہ کوئي شخص تلاوت قرن نہيں کرتا تھا، قرن تھامگر صرف ظاہر داري کي حد تک، تلاوت قرن کو ايک اضافي اور دوسرے درجے کي چيز سمجھا جاتا تھا، معاشرہ، توحيدي حاکميت اورقرني تعليمات پر عمل پيرا نہ تھا۔

جب کسي معاشرے ميں يہ چيزيں نہ ہوں تو درحقيقت اس معاشرے ميں قرن کا وجود ہي نہيں۔ ج مسلمان قوميں اپنے معاشرے ميں بازگشت قرن کي محتاج ہيں اور يہ قرن مجيد پر عمل کئے بغير ناممکن ہے۔

ہميں يہ بات جان لينا چاہئے کہ بڑي طاقتيں قرن مجيد کو اپنا سب سے بڑا دشمن تصور کرتي ہيں۔ وہ نہيں چاہتيں کہ حيات انساني کي قيادت وہدايت قرن مجيد کے ذريعہ انجام پائے۔ اسلاميان عالم کا فريضہ ہے کہ احيائ قرن اور انساني معاشرے ميں قرن مجيد حاکم کرنے کے لئے عظيم جہاد کريں، اس کے لئے جہاد کرنا مسلمانوں کا حق ہے۔اگر قرن مسلمانوں کي زندگي ميںواپس جائے تو اسلامي قوموں پر بڑي طاقتوں کا اقتدار و تسلط ختم ہوجائے گا، امت اسلامي اورمسلم معاشرہ قرن پسند شکل اختيار کرلے گا۔

ہم نے اپنے ملک ميں صحيح معنوں ميں قرن سے دوري کا احساس کيا ہے ’’ا ن قومي اتخذوا ہذا القرن مہجوراً‘‘ يہ ہماري زندگي کي ايک حقيقت تھي، قرن مہجور تھا، اسے بھلايا جا چکا تھا۔

حتي کہ معارف اسلامي اور حقائق اسلام کے ادراک کے لئے بھي قرن مجيدکو بطور سند و مصدر کم ہي پيش کياجاتا تھا۔ تفسير قرن کے سلسلے ميں کم کوشش ہوتي تھي۔ حتي کہ ان تعبيرات کے مفاہيم کے ادراک پر جو قرں مجيد ميں موجود ہيں،بہت کم توجہ دي جاتي تھي، قرں کي زبان اکثر لوگوں کے لئے ناشنا اور نسل جوان قرن سے بيزار تھي۔رفتہ رفتہ گھروں، مدرسوں اور جلسوں وغيرہ ميں تلاوت قرن بھي متروک ہوتي جارہي تھي۔ ايک ايسي حالت ہمارے معاشرے پر طاري تھي۔ البتہ يہ حالت پيدا کي گئي تھي ، دشمنوں نیزبردستي ہمارے عوام مسلط کي تھي، ہماري نئي نسل قرن سے نامانوس تھي۔

رفتہ رفتہ قرن مجيد سے دوري کي پاليسي بنانے والے اپنے مقصد سے نزديک ہوتے جارہے تھے۔ ان کا ئيڈيل مسقتبل قريب رہا تھا، وہ ايسے دور کے چکر ميں تھے جب مسلمان صرف نام کے مسلمان ہوں، انھيں دين کے بنيادي ستون، دين کے اصل ماخذ، دين کے بارے ميں کلام الٰہي يعني قرن مجيد سے کوئي واقفيت نہ ہو۔ ہم ايک ايسے بھيانک مستقبل کي طرف بڑھ رہے تھے اور افسوس ہے کہ ج کچھ مسلمان قوميں اس حالت کو پنہچ چکي ہيں يا اس سے بھي بہت قريب ہيں۔
قرن زبان کي ترويج موقوف تھي۔ جب کسي معاشرے ميں قرن سے بے گانگي کا يہ عالم ہو مشکلات اور مسائل کے حل کے لئے قرن نظريات سے بے توجہي برتي جائے تو ايسے معاشرے ميںزندگي بسر کرنے والے عوام ضلالت و گمراہي کے دلدل ميں غرق ہو جائيں گے۔ اسلام کے نام پر حقيقت سے کوسوں دور غلط افکار معاشرے ميں رائج ہو جائيں گے۔ ہمارے معاشرے ميں يہ ساري چيزيں ہو چکي تھيں۔ مختلف ثقافتوں سے متاثر ہو کر پيدا ہونے والے افکار اسلامي نظريات کے طور پر ذہنوں ميں جاگزيں ہو چکے تھے۔ قرن مجيد کي حقيقي وجود جو سورج کي طرح تاريکيوں کا سينہ چير کي دنيا کو منور کرتا ہے، شبہات کو دور اور مسائل کا حل پيش کرتا ہے، معاشرے سے مٹ چکا تھا۔

ليکن ہمارے انقلاب نے قرن کو مرکز قرار ديا۔ لہٰذا فطري بات تھي،انقلاب نے ہم لوگوں کو بھي قرن سے وابستہ کرديا، قرں کي واپسي کا اثر، تلاوت ، تفسير اور تجويد جيسے قرن مسائل سے ہمار عوام کا لگا پيدا کرنا ہے، يہ دلچسپي صحيح اوربجاہے۔
خوشي کا مقام ہے کہ اب ہمارے معاشرے کو تحريک کا مرکز قرن مجيد کے بنيادي اصول ہيں۔ ہم يہي چاہتے تھي تھے، ہمارے ذمہ داروں نے قرن تعليمات پر عمل کرنے کا عزم کيا ہے۔ ہر چند ابھي ہميں مکمل کاميابي حاصل نہيں ہوئي ہے ليکن کامياب کوششيں ضرور ہوئي ہيں۔

ہمارے معاشرے ميں تلاوت و قرآت قرن کا رواج اس بات کي علامت ہیکہ قرن معاشرے ميں واپس گيا ہے۔ ہميں اعتراف ہے کہ اس سے پہلے ہمارے عوام قرن س زياد مانوس نہ تھے۔ لہٰذا ضروري ہے کہ ہمارے عوام مناسب اور موزوں طور پر قرن سے انسيت پيدا کريں۔ ممکن نہيں کہ ہم کسي قوم کي دنيا و خرت کو قرن کے ذريعہ سنوارنا چاہيں اور وہاں نظام حکومت کي اساس وبنياد عوام ہوں۔ ليکن خود عوام قرن سے انسيت نہ رکھتے ہوں، يہ ناممکن ہے۔

عوام قرن سے سبق حاصل کريں:

معاشرے ميںقرن کا رواج ضروري ہے۔ ابھي تک جو کچھ انجام پايا ہے وہ صرف ايک قدم ہے۔ ابھي اس کے بعد سوقدم اٹھانے باقي ہيں۔ ہمارے عوام قرن سيکھيں، حفظ قرن کا رواج ہونا چاہئے، ہمارے گھروں ميں ہميشہ تلاوت قرن ہوني چاہئے۔ پ کو معلوم ہے کہ اسلام قرآت قرن کے سلسلے ميںکيا کہتا ہے؟

’’اشرف امتي اصحاب الليل وحملہ القرن‘‘

ميري امت کے معززين شب زندہ دار اور حاملات قرن افراد ہيں۔

حمل قرن کا مطلب صرف يہ نہيں ہے کہ ہم قرني تعليمات و قوانين پر عمل کرتے ہيں بلکہ قرن سے انسيت ضروري ہے۔ قرن کي تلاوت کي جائے، قرن کو حفظ کيا جائے، گھروں سے تلاوت قرن کي دلنواز صدائيں بلند ہوں، نسل جوان قرن پڑھے، بچے قرن سيکھيں۔

مائيں اپنے بچوں کو حتمي طورپر تلاوت قرن کي تعليم ديں۔ باپ اپنے بچوںک تلاوت قرن کي نصيحت کرنا ايک فريضہ سمجھيں۔ذکر قرن سے معاشرے کو معمور کرديجئے، ہماري زندگي کو قرن سے معطر ہونا چاہئے، اس کے بغير نجات ناممکن ہے۔ صدر اسلام ميں قرن عوام کے درميان رائج تھا، جو شخص قرن لکھتا تھا،ياد کرتا تھا، اس کي تلاوت کرتا تھااسے معاشرے ميں عزت و قدر کي نگاہ سے ديکھا جاتا تھا، وہ پيغمبر۰ کي نگاہوں ميں محبوب سمجھا جاتا تھا۔

پيغمبر۰ اسلام نے عظمت قرن کا جو سکہ بٹھايا تھا، عوام کے درميان الفت قرن کي جو موج ايجاد کي تھي وہ ايک عرصہ تک باقي رہي، عوام قرن سے وابستہ رہے۔ اور قرن زندہ تھا۔ اسلامي حکومت اس وقت اپني حقيقت کھو بيٹھي جب قرن معاشرے سے رخصت کرديا گيا۔

جب تک عوام ميں قرن سے اس باقي تھي عياش وشہوت پرست بادشاہوں کے لئے ممکن نہ تھا کہ علانيہ فسق و فجور کے بھي مرتکب ہوں اور عوام پر حکومت بھي کرتے رہيں۔ تاريخ ميں ايسے واقعات ملتے ہيں کہ عوام نے خليفہ کے مقابلے ميں قرن کے ذريعہ مبارزہ و مجادلہ کرکے اسے عاجز و لاجواب کرديا۔ يہ سلسلہ خلفائے بني اميہ اور کسي حد تک خلفائے بني عباس کے دور تک باقي رہا۔ قرن مجيد معيار و فرقان سمجھاجاتا تھا۔ عوا اس کے معتقد تھے۔ جب خليفہ کے رفتار وکردار اس معيارو فرقان سے ميل نہ کھاتے تو عوام ان سے جواب طلب کرتے تھے۔ لہٰذا قرن مجيد کو عوامي زندگي سے دور کرنے کوششيں شروع کرديں۔ حتي کہ اموي خلفائ نے قرن مجيد کو تيروںسے چھلني کرديا۔ ہماري تاريخ ايسے حوادث سے دوچار ہوئي ہے۔

معاشرے ميں تلاوت قرن کے اثرات:

ج اگرہم معاشرے کي قرني تحريک کو زندہ رکھنا چاہتے ہيں تو لازم اور ضروري ہے کہ عوام کے درميان قرن مجيد بھي بشکل تلاوت زندہ رہے۔ يہ کافي نہيں ہے کہ مجلس شوريٰ اسلامي حکومت اسلامي اور ان سب سے بڑھ کر حضرت امام امت کے بيان و سخن ميں قرن مجيد زندہ متجلي رہے اس کے ساتھ ساتھ خود عوام کے درميان بھي قرن کا زندہ رہنا ضروري ہے۔ ہمارے معاشرے ميں قرني تحريک اس وقت گزند سے محفوظ ہوگي جب عوام مکمل طور پر قرن سے شنا ہو جائيں گے۔ لہٰذا ضروري ہے کہ معاشرے ميں درس قرن، تلاوت قرن، معارف قرن اور علوم قرن کي نشرو اشاعت کاسلسلہ اسي طرح جاري رہے۔

قرن کي مجلسوں ميں اضافہ ہو، مختلف ميدانوں ميں اس قسم کے مقابلے متعقد ہوتے رہيں۔ يہ پسنديدہ عمل ہے، عوام کو اس کي قدر کرني چاہئے اور اس قسم کے کاموں ميں بڑھ چڑھ کر حصہ لينا چاہئے۔ جو حضرات تعليم قرن کي صلاحيت رکھتے ہيں وہ اسے فريضہ سمجھيں۔ مدرسوں اور اسکولوں ميں تعليم قرن کي بنياد و اساسي درس کي حيثيت ملني چاہئے۔ ہم اپنے ئين ميں عربي زبان کي تعليم کو حکومت جمہوري اسلامي پر فر ض قرارديا ہے۔ اس کاکيا مقصد تھا؟ پ کو پتہ ہے کہ دنيا ميں کسي اسلامي ملک ميں ميٹرک تک عربي زبان کي تعليم لازمي نہيں ہے۔ يہ صرف ہمارے قانون کا امتياز ہے۔

کيوں، اس کا مقصد کيا تھا؟

ہميں قرن کے بغير عربي زبان کي کيا ضرورت ہے؟ عربي اس لئے کہ معزز و محترم ہے کہ وہ زبان قرن ہے۔ميںنوجوانوں سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ اپنے سن و سال کي قدر جانيں جو حفظ قرن کے لئے نہايت مناسب ہے۔ قرن کو حفظ کريں۔ اگر ميرے پاس کوئي معنوي دولت و ثروت ہوتي تو ميں اس کے بدلے حفظ قرن ک حاصل کرنے کے لئے تيا تھا۔ حفظ قرن ايک عظيم نعم الٰہي ہے۔ قرں جس شخص کے ذہن ميںموجود ہے وہ ہميشہ قرن کے ہمراہ ہے، اسے چاہئے کہ خدا کي عطا کردہ اس عظيم نعمت کے بدلہ ميں خدا کا شکر ادا کرے۔

ج ہمارے نوجوانوں اور بچوں کے لئے ميدان ہموار ہے، حفظ قرن کے لئے کسي قسم کي رکاوٹ نہيں۔ قرن کو خود حفظ کيجئے اور اپنے بچوں کو حفظ قرن پر مادہ کيجئے۔
حاکميت قرن

کتاب انزلناہ اليک لتخرج الناس من الظلمات الي النور باذن ربہم الي صراط العزيز الحميد ( سورہ ابراہيم١)

يہ کتاب ہے جسے ہم نے پ کي طرف نازل کيا ہے، تاکہ پ لوگوں کو حکم خدا سے تاريکيوں سے نکال کر نور کي طرف لے ئيں اور خدائے عزيز و حميد کے راستے پر لگاديں۔
رسول ا صلي ا عليہ ولہ وسلم نے فرمايا:’’اذا لتبست عليکم الفتن کقطع الليل المظلمۃ فعليکم بالقرن فانہ شافع مشفع وما حل مصدق من جعلہ امامہ قارہ اليٰ الجنۃ ومن جعلہ فاقہ اليٰ النار .... اليٰ خر الحديث‘‘

جب فتنے اندھيري رات کے تاريک حصوں کي طرح تمھارے لئے الجھنيںپيدا کرديںتو تمھيں قرن ہي سے وابستہ رہنا چاہئے۔ اس لئے کہ قرن شفاعت، کرنے والا ہے، اس کي شفاعت مقبول ہے۔ قرن تصديق شدہ مدبر ہے۔ جس نے اسے اپنے سامنے رکھا قرن اسے جنت ميں لے جائے گا اور جس نے قرن کو پس پشت ڈال ديا وہ ايسے شخص کو جہنم ميں پہنچا دے گا۔ وہ بہترين راستے کا رہنما ہے۔
’’وہ ايسي کتاب ہے جس ميں تفصيل و تشريح اور نتيجہ خيزي ہے۔ و حتمي وقطعي فيصلہ کن کتاب ہے، غير سنجیدہ چيز نہيں۔ اس کا ظاہر ہے، اس کا باطن ہے۔ اس کا ظاہر حکم (فيصلہ) ہے اس ا باطن علم ہے، اس کا ظاہر خوش نمااور اس کا باطن بہت ہي عميق ہے۔ اس کے عجائبات بے حساب ہيں اور اس کے غرائب اور ندرتوں پر کہنگي اپنا اثر دکھاتي ۔ اس ميں ہدايت کے چراغ اور حکمتوں کے مينار ہيں۔‘‘
’’نظر دوڑانے والے کو اسے ديکھنا چاہئے اور نگاہ کو اس کي صفات تک رسائي حاصل کرنا ضروري ہے۔ قرن متلائے ہلاکت کو نجات اور مشکلوں ميں پھنسے ہوئے کو خلاصي دلاتا ہے۔‘‘

حضرت علي عليہ السلام نے فرمايا:’’ واعلموا ان ہذا القرن ہو الناصح الذي لا يغش والہادي الذي لايضل........(اليٰ خرہ)

’’ياد رکھو!يہ قرن (مجيد) وہ خير خواہ ناصح ہے جو کبھي دھوکا نيہں ديتا۔ وہ رہنما ہے جو کبھي گمراہ نہيں کرتا، وہ سخن گوہے جو کبھي جھوٹ نہيں بولتا۔ جو بھي قرن کا ہم نشين ہوا وہ ہدايت کو بڑھا کر اور گمراہي کوگھٹا کر جاتا ہے۔‘‘
پيغمبر اسلام
۰ نے قرن مجيد کا جس طرح تعارف فرمايا وہ ج امت اسلاميہ کے لئے خاص طور پر قابل توجہ ہے۔جس قسم کي تہہ در تہہ تاريکياں اور سياہ بادل ج مسلمانوں کي زندگي پرچھائے ہوئے ہيں اس سے پہلے کبھي نہ تھے۔ يہ درست ہے کہ اس صورتحال کي ابتدائ اس وقت ہوئي جب اسلامي خلافت کي جگہ، طاغوتي سلطنت نے ل لي۔ قرن کريم سے رشتہ ايک تکلف اور رسم کي حيثيت سے باقي رہ گيا، وہ مسلمانوں کي زندگي سے باہر ہوگيا۔ ليکن ج بيسويں صدي کے عہد جاہليت ميں سياسي پيچ و خم اور پروپيگنڈے کے ايسے مرحلے ميں داخل کرديا گيا ہے جو پہلے سے کہيں زيادہ خطرناک اور کہيں زيادہ فکرمند کردينے والي بات ہے۔
سب سے بڑا ذريعہ اور موثر ترين حيلہ جس سے اسلام کو ايک گوشے ميں دھکيلا جا سکتا تھا يہي تھا کہ مسلمان عوام کے دل و دماغ سے قرن کو نکال ديا جائے۔ اسلامي ممالک ميں استعماري طاقتوں کے تے ہي اس کام کو نقطہ مرکزي بناليا گيا اور بيروني اقتدار طلب لوگوں کا ايک اہم کام بن گيا، اور اس کے لئے طرح طرح کے طور طريقے اختيار کئے گئے۔قرن کريم، جسے خود اسي کتاب مقدس ميں نور، ہدايت حق کو باطل سے جدا کرنے والا، زندگي، ميزان، شفا اور ذکر جيسے نام ديئے گئے ہيں اسي وقت ان خصوصيات کا مظہر ہو سکے گا جب پہلے مرحلے ميں مرکز فکر و فہم اوردوسرے مرحلے ميں محور عمل قرارپائے۔

ابتدائے اسلام ميں، اسلامي حکومت کے دور ميں قرن ہي حرف خر اور فيصلہ کن حکم تھا۔ حد يہ ہے کہ خود کلام پيغمبر۰ اکرم کو اسي کي بنياد پر پرکھا جاتا تھا۔ معاشرے ميں علمائے قرن صحيح قدرومنزلت کے حامل تھے۔ حضور۰ نے لوگوں کو سمجھايا تھا۔’’اشرف امتي اصحاب الليل وحملۃ القرن‘‘ميري امت کے معزز لوگ شب بيداري اور حاملين قرن ہيں۔

حمل قرن کريم کو سيکھنا، اسے سمجھنا اس پر عمل کرنا ہے۔ ان دنوں يہ صفت معاشرے ميں ايک فضيلت سمجھي جاتي تھي۔ زندگي کي ہر مشکل ميں قرن کي طرف رجوع کيا جاتاتھا۔ ہر بات کو ماننے نہ ماننے، ہر دعوے کو پرکھنے اور ہرروش کو قبول کرنے نہ کرنے کا معيار قرن کريم تھا۔ وہ لوگ حق و باطل کو قرن کے ذريعے پہچانتے تھے۔ اس کے بعد زندگي کے ميدان ميں اس کے نمونے ديکھتے اور معين کرتے تھے۔

جب سے اسلامي معاشروں پر مسلط ہونے والي قوتيں اسلامي اقدار سے محروم اور دور ہونے لگيں اسي وقت سے انھوں نے قرن کو جو حق و باطل ميں تميز کا پيمانہ ہے، اپنے لئے رکاوٹ سمجھنا شروع کرديا۔ پھر اس مہم کا غاز ہوا کہ کالم الٰہي کو زندگي کے ميدان سے نکال ديا جائے۔

اس کا نتيجہ يہ ہوا کہ دين معاشرتي زندگي سے جدا اوردنيا، خرت سے الگ ہوگئي اور حقيقي دينداروں اور دنيا طلب قدرت مندوں ميں ٹھن گئي۔ زندگي کے ميدانوں اور مسلمانوں کے معاشرے سے اسلام کوانتظامي منصب سے ہٹادياگيا، اسلام کا تعلق صرف عبادت گاہوں، مسجدوں اور گوشہ ہائے دل سے سمجھ ليا گيا۔يوں حيات اجتماعي اوردين کے درميان ايک طويل جدائي رونمائي ہوئي۔

مغربي تسلط اور صليبي وصہيوني ہمہ جہت حملوں سے پہلے اگرچہ حقيقي معنوں ميں قرن زندگي کے ميدان سے غائب تھا مگر يہ ضرور ہے کہ مسلمانوں کے دل و دماغ پر کم و بيش اس کا ايک اثر باقي تھا اور صليبي اور صہيوني حملہ ور اسے بھي برداشت نہ کرسکے۔جس قرن کا واضح حکم يہ ہے کہ ان کے مقابلے کے لئے جتني قوت اور جتنے رہو اروں کي طاقت تم سے جمع ہوسکے جمع کرو۔(سورہ انفال:٦٠) جو قرن فرماتا ہے کہ ا ہر گز کافروں کو مومنوں پر غلبہ نہيں دے گا(سورہ نسائ:١٤١) اور جو قرن مومنوں کو ايک دوسرے کا بھائي، دشمنوں پر سخت گراں اور غضبناک ديکھنا پسند کرتا ہے( ماخوذ از سورہ فتح:١) وہ قرن ايسے لوگوں کے لئے ناقابل برداشت تھا جو مسلمانوں کے معاملات کي باگ ڈور اپنے ہاتھ ميں لے کر۔ان پر تسلط حاصل کرکے ان کا سب سے کچھ بتاہ کرنا چاہتے تھے۔يہ اقتدار حاصل کرنے والے اچھي طرح سمجھ چکے تھے کہ عوام کي اپني زندگي ميں قرن سے تھوڑي سي بھي وابستگي ان کے اقتدار اور اثرو نفوز کے راستے کو ناہموار بنادے گي۔ لہٰذا انھوں نے قرن کو يکسر مٹا دينے کا منصوبہ بنايا۔ ليکن يہ منصوبہ کسي صورت عملي جامہ نہ پہن سکے گا۔ خدا نے امت اسلاميہ سے قرن کي دائمي حفاظت کا وعدہ فرمايا ہے۔ اس کے باوجود دشمنوں کے اس مقصد کو انجام تک پہنچانے کے ارادے اور اس کے نتائج واثرات کو نظرانداز نہيں کرنا چاہئے۔
ج مسلمانوں کي زندگي پر ايک نظر ڈالئے، قرن کہاں نظر تاہے؟ کيا سرکاري اداروں ميں ہے؟ کيا اقتصادي نظام ميں ہے کيا روابط کے نظم و نسق اور عوام کے باہمي تعلقات ميں ہے؟ اسکولوں اور يونيورسٹيوں ميں ہے؟ خارجہ سياست يا حکومتوں سے تعلقات ميں ہے؟ قومي سرمائے کي تقسيم ميں ہے؟ اسلامي معاشرے کے سربراہوں کے عادت و خصائل ميں، اقوام و ملل کے مختلف طبقات ميں جن کے کم و بيش اثرات ہيں، کہيں قرن نظر تا ہے۔

مسلمان عوام کي انفرادي رفتار ميں، زن ومرد کے روابط ميں،خوراک ولباس ميںکہيں قرني تعليمات کي کوئي جھلک نظر تي ہے؟ اقتدار کے ايوانوں ميں، امانتوں اور بينک ڈاپازٹ ميں، انسانوں کي عوامي اور سماجي تحريکات ميں قرن کريم کہا ہے؟

زندگي کے اتنے ميدان ہيں۔ مسجدوں اور ميناروں، عوام فريبي اور رياکاري کے لئے ريڈيو کے چند پروگراموں ميں البتہ قرن دکھائي ديتا ہے۔مگر کيا قرن فقط اسي لئے ہے؟سيد جمال الدين سو برس پہلے اس بات پر روئے تھے، انھوں نے رلايا تھا کہ قرن ہديہ دينے اور رائش وزينت،قبرستان ميںتلاوت کرنے، طاقوں ميں رکھنے کے لئے رہ گيا ہے۔

بتائے کيا ان سوسالوں ميںکوئي فرق پڑا ہے؟ کيا امت قرن کي حالت پريشان کن نہيں ہے؟

بات يہ ہے کہ قرن انساني زندگي کي کتاب ہے اور انسان کي کوئي حد تک ہے۔ انسان مسلسل ترقي کي حالت ميں ہے۔ انسان کي بہت سي جہتيں ہيں۔ وہ انسان جس کي ترقي پذيري کي حد اور سرحد نہيں، ہز رمانے ميں قرن اس کا رہنما، معلم اور دستگير ہے۔ انسان کو ايک مہذب اور مطلوب زندگي فقط قرن ہي کے ذريعے سکھائي جا سکتي ہے۔ ظلم، نسلي امتياز، فتنہ وفساد، جھگڑے، سرکشي، ناروائي، رسوائي، خيانت جو انساني تاريخ کے طويل درو ميں ہوئي اور انسان کي نشونما اور ترقي ميں رکاوٹ بني ہے، اسے قرن ہي کے ذريعہ دور کيا جاسکتا ہے۔ قرني ہدايت اور رہنماہي انساني زندگي کا منشور بناتي ہے۔

قرن کي طرف رجوع انسان کي مطلوب اور پسنديدہ زندگي کي طرف رجوع ہے۔ اس عمل کي ذمہ داري قرن پرايمان رکھنے والوں پر عموماً اور قرن شناس حضرات پر بالخصوص عائد ہوتي ہے۔ يہ علمائ اور خطبائ کي ذمہ داري ہے۔

قرن کي طرف رجوع ايک نعرہ ہے، يہ نعرہ اگر حقيقت کا روپ اختيار کرلے تو يہ حقيقت حق و باطل کو جدا کردے۔ جو قوتيں قرن کي طرف بازگشت کو برداشت نہيں کرسکتيں، مسلمانوں کو چاہئے کہ ايسي قوتوں کو بر داشت نہ کريں۔
عزيز مسلمان بھائيو اور بہنو!

ہم بھي قرن سے دور ، قرن دشمن عالمي منصوبے کا شکار تھے قرن کي طرف بازگشت کي لذت اور لطف سے ناشنا تھے۔ ايران کا پرشکوہ اسلامي انقلاب اور نظام جمہوري اسلامي کا قيام اس بازگشت کيايک برکت کا اثر ہے۔ ج يہ قوم اپني حيات اجتماعي، معاشرتي تعلقات،حکومت کي تشکيل وہيئت، اپنے رہنماں کے اخلاق وعادات ،سياست خارجہ، نظام تعليم وتربيت ميں قرني تعليمات کے کچھ شرارے ديکھ رہي ہے۔ اب تک بہشت قرن کي ايک نسيم کا جھونکا ہم تک تا ہے ليکن اس حقيقي جنت کے اندر جانے کا راستہ کھلا ہے۔

ہميں فخر ہے کہ ہم نے اپنے گوش ہوش صدائے قرن کے حوالے کرديئے ہيں۔ تمام اقوام کي ذمہ داري بھي يہي ہے،خصوصاً علمائ دين، دانشوروں، خطيبوں، مصنفوں اور محققين پر يہ سب سے بڑا فريضہ ہے۔

اس کانفرنس نے اگر قرن معارف پيش کئے اور معرفت قرن کے موضوع کي طرف نئے قدم بڑھائے تو اس کا مطلب يہ ہوگا کہ اس نے اپنا مقصد حاصل کرليا۔ اس کانفرنس کے پروگرام ميںجو موضوع زير بحث ئيں وہ ذہنوں کو مطمئن کريں کہ زندہ انساني معاشرے کي گردش وحرکت کے لئے ہر چيز قرن ميں موجود ہے۔ ذہني معلومات سے عملي اندازوں اور حرکت فريں رہنماں اورنظام بخش عقيدے سے لے کر اجتماعي ومعاشرتي زندگي کے رنگارنگ نظام تشکيل نظام دينے والے معاملات تک اور گزشتہ تاريخ بشر کي تحليل و تجزئے سے مستقبل کي پيشين گوئيوں تک ج تمام فلسفے، تمام نظريات، مادي ئيڈيالوجي کے رنگارنگ پہلو، ذہني وعملي بھول بھليوں کي حيثيت اختيار کرچکے ہيں، وہ انساني قوتوں کو سميٹنے اور ايک دوسرے کو جذب کرنے سے عاجز ہو چکے ہيں۔

اب قرن کي حاکميت کا دور ہے اب قرں ہي انسان کے ذہني وعملي خلائ کو پر کرے گا، وہ ل’’يظہرہ علي الدين کلہ‘‘ کي بشارت دے رہا ہے۔

بھائيو اور بہنو! علم سے عمل، تلاوت سے تفسير، قبول ذہني سے وجود خارجي تک اپني کوششوں کا محور قرن کو قرارديجئے۔ اسي کا اتباع کيجئے۔ قرن کي طرف رجوع وبازگشت کا نعرہ اپنے ملکوں اور اپنے عوام ميں لے جايئے اور اس نصب العين کو عملي بنانے کے لئے عوام کو قريب لائيے اور ان کي ہمت بڑھائيے۔
اس مبارک کوشش ميں مجھے اميد ہے کہ روح قرن پ کي مدد اور رہنمائي کرے گي۔

                                      والسلام عليکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ