مشفقانہ گفتگو

نشر ولایت پاکستان

مرکزحفظ ونشر آثار ولایت

www.wilayat.com

 


موسم بہار کي ايک خوبصورت شام، نوجوان طلبہ و طالبات ، کھلاڑيوں اور فنکاروں کي ايک مختصر سي ٹيم نے رہبر معظم انقلاب حضرت آيت اللہ العظميٰ سيد علي خا منہ ا ي مدظلہ العالي سے ملاقات کي۔يہ ملاقات نوجوانوں کے ہفتے کي مناسبت سے طے پائي تھي جس کے لئے جوانوں کي مرکزي کونسل نے تعاون کيا تھا۔ اس ملاقات ميں ہدايت کي دلنشين آواز نے نوجوانوں کے سوالات کے جوابات بھي دئيے جن ميں سے چند آپ کي خدمت ميں پيش کئے جارہے ہيں ۔


٭آپ نوجوانوں سے ملتے ہوئے کيسا محسوس کرتے ہيں ؟ ان کے لئے آپ کي پہلي نصيحت کيا ہوتي ہے؟

جب ميں نوجوانوں سے ملتا ہوں يا ان کا ماحول ملتا ہے تو ميري کيفيت اس انسان کي سي ہوتي ہے جو صبح کي تازہ ہوا ميں سانس ليتا ہے ، فرحت و تازگي محسوس کرتا ہوں، جوانوں سے ملتے ہوئے پہلي چيز جو اکثر ذہن ميں آتي ہے يہ ہے کہ کيا ان جوانوں کو خود بھي معلوم ہے کہ ان کي پيشاني پر کيسا ستارہ جگمگارہا ہے ؟ ميں اس ستارے کو ديکھ رہا ہوں ، ليکن کيا خود انہيں بھي معلوم ہے کہ يہ ستارہ کيسا ہے؟ جواني کا ستارہ بہت زيادہ روشن اور خوش قسمتي ہے۔ اگر جوان اس قيمتي اور بے نظير چيز کا اپنے وجود کے اندر احساس کريں تو ميرا خيال ہے انشائ اللہ وہ اس سے بہت فائدہ اٹھائيں گے۔

٭آپ کا جواني کا دور کيسا گزرا؟

وہ زمانہ آج کے دور کي طرح نہيں تھا، بہت بري حالت تھي۔ اس وقت جواني کا دور کوئي اچھا نہيں تھا۔ صرف ميرے لئے ہي نہيں (کہ ايک ديني طالب علم تھا) بلکہ سب ہي جوانوں کے لئے وہ کوئي اچھا دور نہيں تھا۔ کيونکہ نوجوانوں پر توجہ نہيں دي جاتي تھي۔ بہت سي صلاحيتيں نوجوانوں کے اندر ہي دفن ہوجاتي تھيں۔ يہ سب کچھ ہمارا آنکھوں ديکھا حال ہے۔ ديني مدارس کے ماحول ميں بھي اور اس کے علاوہ يونيورسٹيوں ميں بھي۔ عرصہ دراز سے ميرا تعلق يونيورسٹي سے بھي رہا ہے، وہاں بھي ويسا ہي ماحول تھا۔ ممکن ہے ان طالب علموں کي صلاحيتيں اپنے مضامين ميں اس قدر زيادہ نہ ہوں ليکن دوسري بہت سي صلاحيتيں ان ميں موجود تھيں ليکن کوئي ان پر توجہ نہيں ديتا تھا۔

انقلاب سے پہلے ميري جواني کا زيادہ تر حصہ نوجوانوں کے ساتھ گذرا ہے۔ انقلاب جب آيا تو ميري عمر تقريباً انتاليس برس تھي۔ سترہ ، اٹھارہ سال کي عمر سے لے کر اس وقت تک مير ااٹھنا بيٹھنا جوانوں کے ساتھ تھا، خواہ ان کا تعلق حوزہ سے ہو يا يونيورسٹي سے ۔ جس چيز کا اس وقت شدت سے احساس ہوتا تھا يہ تھي کہ رضا شاہ پہلوي کي سياست کچھ ايسي تھي کہ جوان پستي ميں گرتے جارہے تھے ، صرف اخلاقي پستي ہي نہيں بلکہ شخصيت اور انفراديت بھي پستي کا شکار تھي۔

ميں يہ دعويٰ نہيں کرتا کہ شاہي حکومت نے جان بوجھ کر ايسي حکمت عملي وضع کي تھي کہ ملک کے نوجوان پستي کا شکار ہوجائيں۔ ممکن ہے ايسا ہي ہو اور ممکن ہے ايسا نہ ہو۔ ليکن ايک بات بہر حال مسلم ہے وہ يہ کہ ان کي ايک حکمت عملي تھي اور حکومت کو کچھ اس انداز ميں چلا رہے تھے کہ جس کے نتيجہ ميں نوجوان پستي کا شکار ہوجائيں اور سياسي مسائل سے دور رہيں۔

آپ اس بات کا يقين کريں کہ ميرے ہم عمر تقريباً بيس سال کي عمر کے جونواں کو حکمرانوں کے نام تک معلوم نہ ہوتے تھے کہ کون کون حکومت کررہا ہے ؟ آج آپ ميں سے کوئي ايسا ہے جسے وزير تعليم کا نہ پتا ہو ؟ جو وزير خزانہ کو نہ جانتا ہو يا اسے صدر کا علم نہ ہو ؟ آج ملک کے دور دراز علاقوں ميں بھي سب کو يہ باتيں معلوم ہيں۔ ليکن اس وقت سب ہي طبقات جن ميں نوجوانوں کا طبقہ بھي شامل ہے ، سياسي امور سے مکمل طور پر غافل تھے ۔ جوانوں کا سب سے بڑ امسئلہ روز مرہ کي زندگي تھا۔ کچھ روٹي کے چکر ميں تھے۔ کچھ روزي کمانے کے لئے سخت محنت کرنے پر مجبور تھے۔ ليکن ساري کمائي صرف کھانے پينے پر ہي خرچ نہيں ہوتي تھي، ادھر ادھر کي اور بہت سي چيزيں بھي ہوتي تھيں۔

اگر آپ لاتيني امريکہ اور افريقہ کے بارے ميں لکھي گئي کتابوں پر ايک نظر دوڑائيں تو معلوم ہوگا کہ ہمارا بھي حال وہي تھا ليکن يہ کہ ايران کے بارے ميں لکھنے کي کسي ميں جرآت نہيں تھي۔ ليکن افريقہ ، شيلي يا ميکسيکو کے بارے ميں بہت کچھ لکھا گيا ہے۔ ميں جب ان کتابوں کو پڑھتا ہوں تو ديکھتا ہوں کہ ہماري حالت بھي ويسي ہي تھي۔ يعني ايک جوان مزدور جب سخت محنت کے بعد ايک شاہي (دھيلا) کماتا تو آدھا پيسہ عياشي اور آوارہ گردي ميں خرچ ہوجاتا تھا۔ ان باتوں کو ہم ان کتابوں ميں پڑھتے تھے اور حقيقت ميں اپنے معاشرے ميں موجود پاتے تھے ۔ واقعي اس زمانے ميں بہت بري صورتحال تھي۔ اس وقت جواني کا دور بہت برا دور تھا۔ ہاں کچھ جوانوں کے دلوں کے اندر ايک دوسري صورتحال بھي تھي۔ کيونکہ نوجوان بہر حال بنيادي طور پر پاک، پاکيزہ ، نيک اميدوں اور جوش و جذبہ کي حالت ہوتا ہے۔
ميں خود بھي ايک جوشيلا جوان تھا۔ انقلاب شروع ہونے سے پہلے بھي، ادبي اور فنکارانہ صلاحيتوں کي وجہ سے ميري زندگي ميں جوش و خروش تھا۔ 1341 ھ۔ش (1962) ميں جب انقلابي جہاد شروع ہوا تو بھي ويسا ہي جوش تھا۔ اس وقت ميري عمر 23 سال تھي۔ 1342 (1962) ميں دو مرتبہ مجھے گرفتار کيا گيا۔ گرفتاري ، تفتيش اور پوچھ گچھ، يہ سب کچھ انسان کے جوش و جذبہ ميں اور اضافہ کا باعث ہوتے ہيں۔ پھر جب انسان آزاد ہوتا ہے اور اپني عوام کو ديکھتا ہے جو کہ اس طرح کے مسائل ميں دلچسپي رکھتي ہے اور امام خميني
۲ جيسي شخصيت کو ديکھتا ہے جو ان کي قيادت کررہي ہے اور قدم قدم پر ان کے افکار کي اصلاح کررہي ہے تو يہ جوش اور زيادہ بڑھ جاتا ہے۔ يہ تھي مجھ جيسے ان لوگوں کي زندگي جو ان حالات ميں زندہ رہتے اور غور و فکر کرتے تھے ۔ ان ميں بہت زيادہ جوش و خروش تھا۔ ليکن باقي سب لوگوں کو يہ جوش و جذبہ نصيب نہ تھا۔

جوان کي فطرت ميں ، چونکہ جوشيلا پن موجود ہے۔ يعني ايک زندہ دلي اور سرشاري کي کيفيت اس ميں موجود ہے، اس لئے ہر ايک چيز ميں اسے مزا آتا ہے۔ ايک جوان جب کھانا کھاتا ہے تو لذت محسوس کرتا ہے ، گفتگو کرتا ہے تو لذت محسوس کرتا ہے، آئينہ ديکھتا ہے تو لذت محسوس کرتا ہے، سير و تفريح سے لذت محسوس کرتا ہے ۔ شايد آپ يقين نہيں کريں گے کہ انسان جب اپني جواني کے دن گزار چکتا ہے تو وہ مزہ ، جو آپ آج محسوس کرتے ہيں ، وہ ہرگز محسوس نہيں کرتا ۔ اس جواني کے دور ميں ہمارے بزرگ کبھي کبھي کوئي بات کرتے تو ہميں حيرت ہوئي تھي کہ يہ ايسا کيوں سوچتے ہيں؟ آج ہم ديکھتے ہيں کہ، نہيں، ان کي بات درست ہوتي تھي۔ ليکن ميں نے مکمل طور پر ابھي تک اپنے آپ کو جواني سے الگ نہيں کيا ہے ۔ آج بھي اپنے اندر جواني کي ان کيفيات کو محسوس کرتا ہوں اور کوشش کروں گا اسے قائم رکھوں ۔ الحمد للہ اب تک قائم رکھا ہے اور آئندہ بھي قائم رکھوں گا۔ وہ لوگ جنہوں نے اپنے آپ کو بڑھاپے کے حوالے کرديا ہے، وہ اپني زندگي کے مختلف حالات ميں شوق کے ساتھ کام انجام نہيں دے سکتے ۔ شاہ کے دور ميں کچھ ايسي ہي فضا تھي۔ ايسا نہيں کہ ہر جگہ افسردگي کا ماحول تھا بلکہ اس دور ميں غفلت اور بے خبري کا دور دورہ تھا اور عزت نفس نام کي کوئي چيز موجود نہيں تھي۔

اس زمانے ميں جبکہ ہم انقلابي جہاد جيسے مسائل ميں پوري طرح ڈوبے ہوئے تھے، اس بات سے غافل تھے کہ کس طرح جوانوں کو شاہي حکومت کے ثقافتي حملوں سے محفوظ رکھا جائے۔ ميں خود بھي مسجد جايا کرتا تھا اور تفسير کا درس ديتا تھا۔ نماز کے بعد تقرير کرتا تھا ، کبھي کبھي چھوٹے شہروں اور ديہاتوں کي طرف نکل جاتا اور وہاں تقريريں کرتا۔ ہماري توجہ کا اصل مرکز يہ تھا کہ نوجوانوں کو شہنشاہي حکومت کے ثقافتي چنگل سے رہائي دلوائي جائے۔ اس وقت ہم اس کو نظر نہ آنے والا ايسا جال کہا کرتے تھے ، جو کہ سب کو ايک طرف کھينچے چلا جارہا ہے۔ ہماري کوشش يہ تھي کہ جہاں تک ہوسکے اس جال کي رسياں کاٹي جائيں اور جوانوں کو اس سے نجات دلائي جائے۔ جو شخص بھي اس فکري جال سے باہر نکلنے ميں کامياب ہوجاتا، اس کي پہچان يہ تھي کہ اول تو وہ دين کا پابند ہوجاتا اور دوسرے امام خميني۲ کے افکار سے نزديک ہوجاتا تھا۔ يہ دو چيزيں اب اس کے لئے ايک طرح سے برائيوں کے خلاف ڈھال بن جاتيں اور انہي لوگوں کے ذريعہ سے بعد ميں انقلاب کامياب ہوا۔ آج بھي ہم ان لوگوں کو پہچانتے ہيں، کون کس کے ساتھ تھا اور کن افکار کا حامل تھا۔
بہر حال، آج کے دور ميں آپ کو بہتر فضا ميسر ہے۔ ميرے کہنے کا يہ مطلب ہرگز نہيں ہے کہ آج تمام سہوليات ميسر ہيں اور تمام چيزيں جيسي ہوني چاہئيں ويسي ہي ہيں۔ ليکن اس زمانے کے مقابلے ميں آج حالات بہت بہتر ہيں۔ اگر ايک نوجوان اچھي زندگي گزارنا چاہے اور اپني شخصيت اور عزت نفس کو پہچاننا چاہے تو ميرے خيال ميں اس کے لئے آج يہ سب ممکن ہے۔
٭آپ کے نزديک ايک مسلمان نوجوان کي کيا تعريف ہے؟ اس ميں کيا خصوصيات ہوني چاہئيں ؟ ايک نوجوان کو اپني زندگي کا راستہ کيسے طے کرنا چاہئيے ؟ اور اپنے مقصد تک کيسے پہنچنا چاہئيے؟

يہ راستہ طے کرنا کوئي آسان کام نہيں ہے، يہ جو آپ نے سوال ميں شرط لگادي ہے، اس نے ميرے لئے جواب کو قدرے مشکل بناديا ہے۔ کسي بھي سنجيدہ کام کو انجام دينا، آسان نہيں ہوتا۔ اگر انسان چاہتا ہے کہ کسي قيمتي چيز کو حاصل کرے تو زحمت اور کوشش تو کرنا ہي پڑے گي جہاں تک نوجوانوں کے خصوصيات کا تعلق ہے تو ميرے نزديک تين خصوصيات ايسي ہيں کہ اگر ان پر توجہ ہو اور انہيں صحيح سمت دي جائے تو ميرا خيال ہے کہ آپ کے سوال کا جواب ڈھونڈھنا آسان ہوجائے گا۔ وہ تين خصوصيات يہ ہيں: توانائي ، اچھي اميد ، اختراع يا ايجاد ۔ يہ جوان کے نماياں خصوصيات ہيں۔ اگر ذرائع ابلاغ خواہ وہ ٹي وي کي صورت ميں ہوں يا تعليمي اداورں کي صورت ميں ۔ خواہ مذہبي مقررين کي صورت ميں ہوں يا علمي اور ثقافتي مفکرين کي صورت ميں، يہ سب اگر ان تين خصوصيات کو صحيح طريقے سے سمت ديں تو ميرا خيال ہے کہ جوان بڑے آرام سے اسلامي رسم و راہ کا پابند ہوجائے گا۔ کيونکہ اسلام بھي ہم سے جس چيز کا تقاضا کرتا ہے وہ يہ ہے کہ ہم اپني صلاحيتوں کو بروئے کار لائيں۔
قرآن ميں بھي ايک بنيادي نکتہ بيان ہوا ہے اور وہ تقويٰ پر توجہ دينا ہے۔ جب لوگ تقويٰ کا تصور کرتے ہيں تو ان کے ذہن ميں نماز ، روزہ ، عبادت ، ذکر ، دعا وغيرہ آتے ہيں۔ ممکن ہے يہ سب چيزيں تقويٰ ميں شامل ہوں ليکن ان ميں سے کوئي بھي تقويٰ کا مفہوم ادا نہيں کرتي۔ کيونکہ تقويٰ يعني اپنا خيال رکھنا۔ تقويٰ يعني ايک انسان کو يہ معلوم ہونا چاہئيے کہ وہ کيا کررہا ہے۔ اپنے ہر فعل کا ارادہ ، فکر اور فيصلہ کے ساتھ انتخاب کرے اس شخص کي طرح جو ايک گھوڑے پر بيٹھا ہے ، گھوڑے کي لگام اس کے ہاتھ ميں ہے اور اسے معلوم ہے کہ مجھے کہاں جانا ہے۔ يہ تقويٰٰ ہے جس شخص کے پاس تقويٰ نہيں ہے اس کے افعال، اس کے فيصلے اور اس کا مستقبل اس کے ہاتھ ميں نہيں ہے، نہج البلاغہ کے مطابق اس کي مثال اس شخص کي سي ہے جسے ايک سرکش گھوڑے پر بٹھا ديا گيا ہو نہ کہ خود سے اس پر بيٹھا ہو اور اگر خود سے بھي بيٹھا ہو تو اسے گھڑ سواري نہيں آتي۔ لگام اس کے ہاتھ ميں ہے ليکن معلوم نہيں کہ کيا کرنا ہے، معلوم نہيں کہ کہاں جانا ہے، جہاں گھوڑا لے جائے گا يہ بھي وہيں جائے گا اور کسي طرح بھي نجات ممکن نہيں ہے۔

اگر ہم تقويٰ کے اس مفہوم کو ملحوظ رکھيں توميرا خيال ہے راستہ آساني سے طے ہوجائے گا۔ پھر بھي بالکل آساني کے ساتھ نہيں۔ بہر حال آساني سے طے ہوگا۔ يہ ايک عملي راستہ ہے۔ نوجوان اسلامي زندگي بسر کرنے کا راستہ اختيار کرے ، دين کو پہچانے ، ديکھے کہ اسے کيا کرنا ہے۔ يہ عمل ، يہ بات ، يہ دوستي ، يہ فکر ٹھيک ہے يا ٹھيک نہيں؟اس کا ہر قدم پر سوچنا کہ عمل ٹھيک ہے يا ٹھيک نہيں۔ يہي تقويٰ ہے اگر وہ ديندار نہ بھي ہو تو اس طرح سے سوچنا اسے دين تک پہنچا دے گا۔ قرآن کريم ميں ہے: ’’ ھدي للمتقين ‘‘ يہ نہيں کيا : ’’ ھدي للمومنين ‘‘ کيونکہ اگر مومن کے پاس تقويٰ نہ ہو تو شايد يہ ايمان پائيدار نہ ہو، اور آگے اس کي قسمت ہوگي ۔ اگر اچھا ماحول ميسر آگيا تو ايمان پر باقي رہے گا اور اگر اچھا ماحول نہ ملا تو چونکہ اس کے پاس تقويٰ نہيں ہے، اس لئے وہ اپنے ايمان کو بھي کھو دے گا۔
پس اگر ہم ان تين خصوصيات کو تقويٰ کے ساتھ استعمال کريں اور انہيں صحيح سمت ديں تو ميرے خيال ميں جوان آساني سے ويسي ہي زندگي گزار سکتا ہے جيسي اسلام پسند کرتا ہے۔ خصوصاً اب جبکہ ہمارا ملک بھي اسلامي ملک ہے، يہ بہت اہم چيز ہے، حکومت ، يعني اس قوم کي اقتدائ ۔ اسلام کے ہاتھ ميں ہے ۔ جن لوگوں کے پاس ذمہ دارياں ہيں، اسلام پر تہہ دل سے اعتقاد رکھتے ہيں۔ عوام کے دلوں ميں بھي ايمان راسخ ہے۔ لہذا مسلمان بننے اور مسلمان رہنے کے لئے فضا بالکل ہموار ہے۔

ايک اور چھوٹي سي مثال دے کر آپ کے سوال کے جواب کو ختم کرتا ہوں۔ افسوس کہ آپ نے جنگ کے عروج کا زمانہ نہيں ديکھا، آپ نے جنگ نہيں ديکھي ہے، اس پر افسوس نہيں ہے بلکہ اس بات پر افسوس ہے کہ آپ زمانہ جنگ کي چند بہترين خصوصيات کو نہيں ديکھ پائے۔ اس وقت آپ ہي کي عمر کے اٹھارہ بيس سالہ لڑکے، لطافت اور معنوي پاکيزگي کے لحاظ سے ايک چاليس سالہ عارف کے مقام کو حاصل کرليتے تھے۔ اس طرح کي کئي مثاليں زمانہ جنگ ميں ديکھنے کو ملتي تھيں۔ اس زمانے ميں جب اس طرح کے نوجوانوں سے ہمارا سامنا ہوتا تو ميں پوري عاجزي و انکساري کے ساتھ ان سے ملتا تھا۔ يہ انکساري و فروتني ايک سچے جذبہ کے ساتھ ہوتي تھي کيونکہ آپ نے ديکھا ہوگا کہ ايک آدمي جب کسي بڑے کے سامنے جاتا ہے اور اس کے کمالات کا مشاہدہ کرتا ہے تو تب اپني کمزوريوں کا بھي اندازہ کرسکتاہے، اسي طرح کا ايک احساس مجھے بھي ان بسيجي اور مجاہد جوانوں سے ملتے ہوئے ہوتا تھا۔ اس زمانہ کا ماحول ہي کچھ ايسا تھا کہ ايک عام جوان اپنے آپ کو اس حد تک بدل سکتا تھا۔
آپ جانتے ہيں کہ آج کي دنيا ميں جوان طبقے کي جو حالت ہے : ريپ گروپ ، فلاں گروپ ، فلاں گروپ ، ہزاروں قسم کے اخلاقي و فکري برائيوں سے لبريز ۔ آج کے دور ميں ان جوانوں کو ہزاروں قسم کي مشکلات کا سامناہے۔ اگرچہ ہمارے زمانے ميں بھي اس قسم کي چيزيں موجود تھيں مثلاً اس دور ميں ’’ بيتل ‘‘ نامي ايک گروپ تھا۔ ميں نے سنا ہے کہ اس کے ممبر اب بڑھاپے ميں پہنچ گئے ہيں۔ کچھ عرصہ پہلے ايک غير ملکي رسالے ميں ان کا قصہ چھپا تھا کہ ’’ بيتل گروپ ‘‘ کے لوگ آج کہاں ہيں اور کيا کررہے ہيں ۔ روحاني مشکلات اور نفسياتي پيچيدگيوں نے آج انہيں گھير رکھا ہے۔ جن لوگوں نے پس ماندہ ممالک ميں ان کي ديکھا ديکھي اندھي تقليد شروع کردي تھي، نہيں جانتے کہ وہ لوگ خود کن مشکلات ميں گرفتار ہيں۔ وہ سمجھتے ہيں کہ ان کي پيروي کرنے سے ترقي کرجائيں گے ، يہ ترقي نہيں تنزلي ہے۔ جس دور ميں دنيا اس طرح کے مسائل ميں پھنسي ہوئي تھي ہمارے نوجوان جواني سے سرشار ، سربلندي اور حقيقي سعادت کو اپنے دل کي گہرائيوں ميں سموئے ، واضح اہداف لئے اپني ذمہ داريوں کي بجا آوري ميں کوشاں نظر آتے تھے۔ انہيں معلوم تھا کہ وہ کيا کررہے ہيں اور کس کي خاطر کررہے ہيں۔ الحمد للہ اس دور ميں جوان اس حقيقي اور معنوي بلندي سے سرشار تھے جو خدائے متعال نے انہيں عطا کي تھي۔

٭يونيورسٹي کي طالبات کے لحاظ سے ہم حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ عليہا کي زندگي کو اپنے لئے کيسے عملي نمونہ بناسکتے ہيں ؟ آپ کي جواني ميں آپ کے آئيڈيل کون تھے ؟
اچھا سوال ہے ۔ سب سے پہلے تو ميں يہ عرض کردوں کہ آئيڈيل خود ڈھونڈنا چاہئيے ، کسي دوسرے کا بنايا ہوا آئيڈيل سب کے لئے آئيڈيل نہيں بن سکتا۔ يعني ہميں چاہئيے کہ اپنے نظريات کے افق پر نظر ڈاليں اور ديکھيں کہ وہاں موجود چہروں ميں سے کون ہميں زيادہ اچھا لگتا ہے ، وہي ہمارا آئيڈيل بن جائے گا۔ ميرا عقيدہ ہے کہ مسلمان جوان کے لئے ، خاص طور پر اس جوان کے لئے جو آئمہ عليہم السلام ، اہل بيت اور آغاز اسلام کے مسلمانوں سے پوري طرح آشناہے، آئيڈيل تلاش کرنا کوئي مشکل کام نہيںہے اور اس کے لئے آئيڈيل شخصيت کي کمي بھي نہيں ہے۔ جيسا کہ آپ نے حضرت فاطمہ زہرا عليہا السلام کا ذکر کيا، تو ميں چند جملے آپ کي شخصيت کے سلسلہ ميں عرض کرتا ہوں، شايد دوسرے آئمہٴ اور بزرگوں کے حوالے سے بھي يہ آپ کو سوچنے ميں مدد دے سکيں۔

آپ ايک ايسي لڑکي ہيں جو سائينس ، صنعت ، ٹکنالوجي اور مادي تمدن کے ايک عظيم دور ميں زندگي گزار رہي ہيں۔ آپ چودہ سو سال پہلے گزرنے والي ايک شخصيت سے توقع رکھتي ہيں کہ اپنے جيسي زندگي ميں اس شخصيت کي تقليد کريں ؟ مثلاً ديکھيں کہ وہ يونيورسٹي کيسے جاتي تھيں ؟ يا جب عالمي سياسي مسائل کے بارے ميں سوچتي تھي تو کيسے سوچتي تھيں ، ہرگز ايسا نہيں ہے۔

ہر انسان کي شخصيت ميں کچھ اصلي خصوصيات ہوتے ہيں، ان کي شناخت ضروري ہے اور اپنے آئيڈيل ميں انہي خصوصيات کو تلاش کرنا چاہئيے ، مثلاً آپ فرض کريں کہ آپ کو سمجھنا ہے کہ ارد گرد پيدا ہونے والے واقعات سے آپ کو کيسے نمٹنا ہے۔ اب يا تو يہ واقعات اس دور کے ہيں جب کہ کمپيوٹر، جيٹ جہاز ، ٹرين اور ميٹرو کا دور اور يا پھر اس دور کے ہيں جب يہ تمام چيزيں موجود نہيں ہيں۔ ليکن بہر حال ارد گرد واقعات تو موجود ہيں۔ اب اس جگہ پر انسان دو طرح سے حالات سے نمٹنا ہے۔ ايک ذمہ دارانہ طريقہ ہے اور دوسرا غير ذمہ دارانہ طريقے کي بھي کئي قسميں ہيں ، کس طرح کا محرک ہے؟ کس نقطہ نظر سے کام کو انجام دينا ہے؟وغيرہ وغيرہ ۔ تو انسان کو چاہئيے کہ اس لحاظ سے ’’ ان اصلي خصوصيات ‘‘ميں اپنے آئيڈيل کو تلاش کرے اور اس کي پيروي کرے۔

حضرت فاطمہ زہرا عليہا السلام کي عمر اس وقت چھ يا سات سال تھي جب شعب ابي طالب کا واقعہ پيش آيا۔ اسلام کے آغاز ميں يہ انتہائي مشکل دور تھا۔ پيغمبر۰ نے کھلم کھلا اسلام کي دعوت دينا شروع کردي تھي۔ مکہ کے لوگ ، خاص طورپر جوان اور غلام حضور ۰ سے متصل ہورہے تھے ۔ عرب کے ابليس صفت بزرگ مثلاً ابو لہب ، ابوجہل اور کچھ دوسرے حضرات ديکھتے ہيں کہ اس کے سوا کوئي چارہ نہيں کہ آپ ۰ اور آپ ۰ کے ساتھيوں کو مکہ سے نکال ديں۔ اور انہوں نے ايسا ہي کيا۔ يہ دسيوں خاندان تھے جس ميں پيغمبر ۰ آپ۰ کے رشتہ دار اور حضرت ابو طالب شامل تھے۔ باوجود اس کے کہ حضرت ابو طالب ايک بڑي شخصيت تھے ، آپ ٴ کو باہر نکال ديا گيا۔ اب جبکہ مکہ سے نکالے گئے تو کہاں جائيں؟ حضرت ابو طالب کي مکہ کے نزديک ، فرض کيجئے چند کيلو ميٹر کے فاصلے پر ايک تھوڑي سي زمين ہے۔

اس کا نام شعب ابي طالب ہے، يعني حضرت ابو طالب کي ملکيت کي ايک گھاٹي ۔ آپ ٴ نے سوچا کہ وہاں پر چلا جائے۔ اب آپ خود سوچئے کہ مکہ ميں جہاں دن کو موسم بہت ہي گرم اور رات کو بے حد سرد ہوجاتاہے، يہ لوگ تين سال تک اس بنجر جگہ پر زندگي گزارتے ہيں۔ کس قدر بھوک ، رنج اور مشکلات کا سامنا کيا ہوگا ، خدا ہي جانتاہے۔ پيغمبر ۰ کي زندگي کا ايک سخت ترين دور وہاں گزرا۔ اس زمانے ميں آپ ٴ کي قيادت کا مطلب صرف چند لوگوں کي ضروريات کا خيال رکھنا نہيں تھا بلکہ يہ لوگ جو مصيبت ميں گرفتار ہوئے ہيں ان کي دفاع کرنا بھي تھا۔

آپ جانتے ہيں کہ جب حالات اچھے ہوں تو ايک راہنما کے گرد جمع ہونے والے سب لوگ اس سے خوش ہوتے ہيں، اسے دل سے دعائيں ديتے ہيں کہ اس کي وجہ سے آج ہم اتني اچھي زندگي گزار رہے ہيں۔ ليکن جب حالات بدل جائيں اور برے دن آجائيں تو سب لوگ شکوک و شبہات کا شکار ہوجاتے ہيں اور سوچنے لگتے ہيں کہ اس کي وجہ سے آج ہماري يہ حالت ہوگئي ہے۔ اگرچہ مضبوط ايمان والے لوگ ثابت قدم رہتے ہيں تاہم ان تمام مشکلات کا بوجھ رسول ۰ کے کاندھوں پر تھا۔ اسي اثنا ميں حضرت ابوطالب ٴ بھي وفات پاجاتے ہيں۔ حضرت ابوطالب ٴ نبي   کے بہت بڑے حامي تھے دوسري طرف حضرت خديجہ عليہا السلام جو نبي   کے لئے ايک بڑي دلاسا دينے والي تھيں۔ ايک ہفتے کے اندر دنيا سے چل بسيں۔ اس سانحہ کے بعد نبي   تنہا رہ گئے۔

مجھے نہيں معلوم کہ آپ کے کندھوں پر کبھي کچھ لوگوں کي ذمہ داري رہي ہے يا نہيں کہ آپ کو اندازہ ہوا ہو کہ ذمہ داري اور مسؤليت کيا چيز ہوتي ہے۔ واقعي ايسے وقت ميں انسان پريشان ہو کر رہ جاتاہے ۔ اب ان حالات ميں حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ عليہا کا کردار ملاحظہ کيجئے ۔ جب انسان تاريخ کا مطالعہ کرے تو اس طرح کي ضمني چيزوں پر بھي توجہ رکھني چاہئيے ۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ تاريخ ميں عام طور پر ان چيزوں کو نظر انداز کيا گيا ہے۔
حضرت فاطمہ سلام اللہ عليہا ايک ماں کي طرح نبي
  کے ہمراہ رہيں۔ رسول   کے لئے ايک مشير اور تيمادار کي طرح تھيں۔ اسي لئے پيغمبر   نے فرمايا تھا ’’ فاطمہ ام ابيھا ہيں ‘‘ ۔ ’’ ام ابيھا ‘‘ يعني اس وقت کہ جب آپ کي عمر صرف چھ سات سال تھي۔ اگرچہ عرب کے ماحول ميں اور گرم علاقوں ميں لڑکياں جسماني اور روحاني طور پر جلدي بڑي ہوجاتي ہيں، تقريباً ہمارے ہاں کي دس بارہ سالہ لڑکي کي طرح۔

تو يہ جو احساس ذمہ داري ہميں اس واقعہ ميں نظر آتا ہے، کيا ايک جوان کے لئے عملي نمونہ اور آئيڈيل نہيں بن سکتا؟ تاکہ يہ نوجوان بھي اپنے ارد گرد کے واقعات ميں اپني ذمہ داري کا احساس کرسکے ۔ ايک نوجوان کے اندر فرحت و تازگي کي کيفيات کا عظيم سرمايہ جنم ليتا ہے، اگر وہ اس کا صحيح استعمال کرے تو اپنے بوڑھے والدين کے دل سے تمام رنج و غم کو دور کرسکتا ہے۔ کيا يہ چيزيں ايک نوجوان کے لئے آئيڈيل نہيں بن سکتيں؟

دوسري مثال ، خانہ داري کي ہے۔ شايد کچھ لوگ سمجھيں کہ خانہ داري اور اچھي بيوي ہونے کا مطلب يہ ہے کہ خاتون گھر ميں اچھا کھانا پکائے اور گھر کو صاف ستھرا رکھے۔ نہيں، خانہ داري کا صرف يہ مطلب نہيں ہے۔ آپ ديکھئے حضرت فاطمہ سلام اللہ عليہا کي خانہ داري کيسي تھي، نبي   نے تقريباً ١٠ سال مدينے ميں گزارے ہيں۔ اس زمانے ميں تقريباً ٩ سال حضرت علي ٴ اور حضرت فاطمہ عليہا السلام مياں بيوي تھے۔ اس دوران چھوٹي بڑي کئي جنگيں بھي پيش آئيں۔ تقريباً ساٹھ جنگيں لڑي گئيں اور تقريباً سب ہي جنگوں ميں حضرت علي ٴ شريک رہے۔ اب ديکھئے حضرت فاطمہ ايک ايسي بيوي ہيں جن کے شوہر اکثر ميدان جنگ ميں ہيں۔ اگر آپ ٴ ميدان جنگ ميں نہ ہوں تو ميدان جنگ خالي رہ جائے۔ ميدان جنگ کو اس قدر آپ کي ضرورت ہے۔ ادھر مادي لحاظ سے گھر کي وہ حالت ہے کہ جو آپ’’ و يطعمون الطعام علي حبہ مسکينا و يتيما و اسيراً انما نطعمکم لوجہ اللہ ‘‘ والي آيت ميں سن چکے ہيں۔ يعني محض مفلسي کي زندگي ہے جبکہ آپ ٴ ايک پيغمبر کي بيٹي ، ايک راہنما کي بيٹي ہيں، گويا اپني ذمہ داريوں کا پورا احساس ہے۔غور کيجئے کہ اس کام کے لئے کتنے مضبوط اعصاب اور حوصلہ کي ضرورت ہے کہ ايک خاتون شوہر کو جہاد کے لئے بھيج سکے کہ اس کے دل کو گھر بار اور بچوں کي طرف سے بالکل مطمئن کردے ۔اس کا حوصلہ بڑھائے، بچوں کي اتني شاندار تربيت کرے۔ اگرچہ اب آپ کہہ سکتے ہيں کہ امام حسن اور امام حسين عليہما السلام دونوں امام تھے۔ ان کے مزاج ميں امامت کے صفات تھے ليکن حضرت زينب عليہا السلام تو امام نہ تھيں۔ ليکن حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ عليہا نے ٩سال کي اسي مدت ميں ان کي تربيت کي تھي۔ کيونکہ پيغمبر   کي وفات کے بعد آپ کي عمر نے بھي زيادہ عرصہ وفا نہ کي۔
اس طرح کي خانہ داري اور سليقہ مندي کي تاريخ ميں آپ ايک خاندان کي محور قرار پائيں۔ کيا يہ سب چيزيں ايک نوجوان لڑکي کے لئے ، ايک خانہ دارخاتون کے لئے يا اس کے لئے جو جلد ہي خانہ داري کے امور سبھالنے والي ہے، آئيڈيل نہيں بن سکتيں؟!

پيغمبر   کي وفات کے بعد ، آپ ٴ کا مسجد ميں آنا ، وہ بے مثال خطبہ دينا،کہ يہ سب حيران کن ہيں۔ ہم لوگ ، جو کہ في البديہہ مقرر ہيں، اس خطبہ کي عظمت کو بہت اچھي طرح سمجھ سکتے ہيں۔ ايک اٹھارہ بيس يا زيادہ سے زيادہ چوبيس سال کي لڑکي ان تمام مشکلات اور مصائب کے باوجود مسجد ميں تشريف لاتي ہے۔ لوگوں کے بہت بڑے مجمع کے سامنے پردے ميں رہتے ہوئے تقرير کرتي ہے کہ آج بھي اس تقرير کا ايک ايک لفظ تاريخ ميں باقي ہے۔
عرب حافظہ ميں مشہور تھے۔ ايک شخص آتا ہے ۔ اسي شعروں پر مشتمل قصيدہ پڑھتا ہے۔ محفل ختم ہونے پر دس آدمي اسي قصيدے کو اپنے حافظے سے دوبارہ لکھتے ہيں۔ يہ جو عربي کے قصيدے باقي رہ گئے ہيں۔ ان ميں سے اکثر اسي طرح سے رہے ہيں۔ يہ خطبے اور حديثيں بھي اس طرح باقي بچي ہيں يعني لوگوں نے انہيں اپنے حافظہ کے بل پر لکھ ليا اور محفوظ کرليا۔ خواہ مخواہ کي باتيں تاريخ ميں رقم نہيں ہوجاتيں۔ ہر ايک بات کو تاريخ نہيں لکھتي۔ کئي اشعار کہے گئے، کئي تقريريں ہوئيں ليکن سب کي سب باقي نہ رہيں، وہ چيز جو تاريخ ميں باقي رہي اور چودہ سو سال بعد بھي اس کي عظمت کے سامنے انسان سجدہ ريز ہے، يہ خطبہ ہے۔ ميرے خيال ميں ايک نوجوان لڑکي کے لئے يہ چيزيں آئيڈيل ہونا چاہئيں۔
آپ بھي اپني جگہ حق بجانب ہيں کيونکہ قصور ہم ذمہ دار افراد کا ہے۔ ديني اور معنوي امور ميں ابھي تک يہ چيزيں کما حقہ، نسل جوان تک نہيں پہنچيں۔ تاہم آپ لوگ خود بھي اس سلسلہ ميں کام کرسکتے ہيں۔ آئمہ عليہم السلام کي تمام زندگي ميں اسي قسم کي چيزيں موجود ہيں۔

امام محمد تقي عليہ السلام کي زندگي بھي آئيڈيل ہے۔ اتني عظمت والے امام کا انتقال صرف ٢٥ برس کي عمر ميں ہوگيا۔ يہ ہم نہيں کہتے بلکہ تاريخ کہتي ہے ۔ وہ تاريخ جسے غير شيعہ لوگوں نے لکھا ہے ۔ ’’ آپ ٴ نے اپنے بچپن اور نوجواني ہي سے لوگوں اور بادشاہ وقت مامون کي آنکھوں ميں ايک خاص عظمت حاصل کرلي تھي۔‘‘ يہ چيز ہمارے لئے آئيڈيل بن سکتي ہے۔
تاہم اپنے زمانے ميں بھي ہميں آئيڈيل مل سکتے ہيں ۔ امام خميني
۲ ايک آئيڈيل تھے ، ہمارے يہ بسيجي نوجوان آئيڈيل ہيں ، جو شہيد ہوگئے وہ بھي اور جو زندہ ہيں وہ بھي۔ اگرچہ انسان کي فطرت اس طرح ہے کہ گزر جانے والے لوگوں اور شہيدوں کے بارے ميں آساني سے گفتگو کرسکتاہے۔ آپ ديکھئے کہ کس طرح کے آئيڈيل آپ کو مل سکتے ہيں، جنگ کے زمانے ميں ہم نے ديکھا کہ يہ نوجوان بسيجي اپنے شہر يا گاوں سے اٹھ کر آتے، ظاہراً عام آدمي نظر آتے تھے (جيسا کہ ميں نے پہلے اشارہ کيا کہ شہنشاہي حکومت نے صلاحيتوں کي پرورش کا دروازہ بند کررکھا تھا، يہ لوگ شہنشاہي حکومت کے تحت ايک عام آدمي نظر آتے تھے)ليکن جب موجودہ حکومت کے تحت ميدان جنگ ميں آتے تو ايک دم ان کي مخفي صلاحيتيں اجاگر ہوتيں۔ ايک بڑے کمانڈر بن جاتے اور پھر شہادت کا اعزاز پا کر رخصت ہوجاتے۔ اس طرح کي بہت سي مثاليں ہمارے پاس موجود ہيں۔

چند سال پہلے ان کي زندگي کے واقعات پر مشتمل کچھ کتابچے شائع ہوئے تھے ، ’’ ميرا کمانڈر ‘‘ کے نام سے نوجوانوں کي يادداشت پر مشتمل کچھ واقعات لکھے گئے تھے جس ميں انہوں نے اپنے کمانڈر کا ذکر کيا تھا۔ يہ واقعات ان کمانڈروں کي عظمت بيان کرتے ہيں اور ايک انسان کے لئے آئيڈيل بن سکتے ہيں۔ اس کے علاوہ ہماري عملي شخصيات ، ہماري ادبي شخصيات، ہمارے کھلاڑي ، ہمارے فنکار اور ديگر ممتاز شخصيتيں بھي ايک لحاظ سے آئيڈيل بن سکتي ہيں۔
انسان اپنے آئيڈيل کو اپنے معيار کے مطابق انتخاب کرتا ہے۔ آپ سے ميري گزارش ہے کہ آپ جب بھي آئيڈيل کا انتخاب کرنا چاہيں تو معيار اس ’’ تقويٰ‘‘ کو قرار ديں جس کي ہم نے ابھي مفصل تعريف کي ہے۔ اس چيز پر ضرور غور کريں۔يہ ’’ تقويٰ ‘‘ کوئي ايسي چيز نہيں ہے جسے نظر انداز کيا جاسکے۔ دينوي زندگي کے لئے بھي اس ’’ تقويٰ ‘‘ کي ضرورت ہے اور اخروي زندگي کے لئے بھي يہ تقويٰ ضروري ہے۔

اب يہ سوال کہ وہ کونسي شخصيات تھيں جنہوں نے مجھے متاثر کيا تو جواب يہ ہے کہ بہت سي شخصيات تھيں۔ جواني ميں جس شخصيت نے مجھے متاثر کيا ان ميں سب سے پہلے شہيد نواب صفوي ہيں۔ جب نواب صفوي مشہد آئے تو ميري عمر پندرہ سال تھي۔ مشہد سے ان کے چلے جانے کے چند ماہ بعد انہيں بہت بري طرح سے شہيد کرديا گيا۔اس چيز نے بھي ہميں بہت زيادہ متاثر کيا۔ اس کے بعد امام خميني ۲ کي شخصيت ہے جس نے مجھے متاثر کيا۔ قم آنے سے پہلے اور جہادي کاروائيوں سے پہلے ہي ميں نے امام خميني ۲ کا نام سن رکھا تھا اور آپ کي زيارت کرنے سے پہلے ہي ميں آپ کا ارادتمند تھا۔ حوزہ علميہ قم ميں تمام نوجوان آپ کے درس کو بہت پسند کرتے تھے ۔ ميں بھي جب قم گيا تو بلا ترديد آپ کے دروس ميں شريک ہونے لگا۔ شروع سے آخر تک۔ جب قم ميں رہا ۔ آپ کے درس ميںہميشہ شامل ہوتا رہا۔ امام خميني ۲ کي شخصيت نے مجھے بے حد متاثر کيا۔ اس کے علاوہ ميرے والد محترم اور ميري والدہ محترمہ نے بھي مجھے کافي متاثر کيا۔ جن شخصيات نے مجھ پر گہرے اثرات چھوڑے ان ميں سے ايک ميري والدہ محترمہ بھي ہيں جو کہ ايک بہت ہي موثر خاتون تھيں۔
٭اپنے اجتماعي اور سياسي امور ميں ہميں کہيں کہيں افراط اور تفريط سے لبريز نظريات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس کا يقيناً آئندہ نقصان ہوگا تو اس سلسلہ ميں آپ کي نوجوانوں کو کيا نصيحت ہے؟

کسي کام کو انجام دينے کے انداز مختلف ہوسکتے ہيں، اس سے گھبرانا نہيں چاہئيے اور نہ ہي کوئي بري چيزبري ہے۔ مثال کے طور پر اگر سياست ميں دو مختلف انداز ہوں۔ ايک نوجوان ايک انداز کو پسند کرتا ہے اور دوسرا نوجوان ايک دوسرے کو تو اس ميں کوئي برائي نہيں ہے۔ نقصان دہ بات يہ ہے کہ ايک کام کو بغير سوچے سمجھے اور جلد بازي کے ساتھ انجام ديا جائے۔ ميں نوجوانوں کو اس بات سے پرہيز کرنے کي تلقين کرتا ہوں۔ جواني کا مطلب يہ نہيں ہے کہ ايک دم سے کوئي فيصلہ کرليا جائے۔ اگرچہ جواني کا مطلب عمل ميں بے باک ہونا ضرور ہے، يعني ايک طرف يہ کہ ايک کام ميں حد سے زيادہ پيچ و خم ڈالنے سے پرہيز کرے اور دوسري طرف بالکل ہي بغير سوچے سمجھے بھي کوئي اقدام نہ کرے۔ ايک نوجوان سوچ کر بھي کام کرسکتاہے اور بغير سوچے بھي جوان اگر چاہے تو انتہائي دانشمندي کے ساتھ حق کو مد نظر رکھتے ہوئے خوب سمجھ کر اپنے امور کو انجام دے۔ يہ تمام خصوصيات ايک نوجوان ميں موجود ہيں۔ اور خاص طور پر حق کو مد نظر رکھنے والي خصوصيت تو ايک نوجوان کي شخصيت کا حصہ ہوتي ہے۔ اب اگر انداز مختلف ہوں تو اس ميں کوئي برائي نہيں ہے کم ازکم اس کا کوئي بڑا نقصان نہيں ہے۔

دوسروں کي سرے سے نفي کرنا صحيح نہيںہے۔ ايک انسان معاشرتي مسائل ميں ايک نظريہ کا قائل ہوجائے اور کہے کہ حقيقت صرف يہي ہے اور اس کے علاوہ سب غلط ہيں ، تو يہ کوئي اچھي بات نہيں۔ اگرچہ اصول و عقائد ميں ايسا ہي ہونا چاہئيے۔ بااين معني کہ ان مسائل ميں اتنا غور کرنا چاہئيے کہ انسان کو ايک مضبوط نقطے تک پہنچا دے جہاں پر جا کر وہ کہہ سکے کہ حقيقت يہي ہے اور اس کے علاوہ کچھ نہيں۔ ليکن سياسي اور معاشرتي امور ميں ’’ حقيقت يہي ہے اور اس کے علاوہ کچھ نہيں ‘‘ کا اعلان کرنا اچھي بات نہيں ہے۔ انسان کو چاہئيے دوسروں کے نظريات کو برداشت کرے۔ اپني فکر اور نظريات سے نتائج اخذ کرنے ميں سنجيدگي کو معيار قرار دے۔ اگر ايسا ہو تو ميرے خيال ميں کوئي مسئلہ پيش نہيں آئے گا۔
٭اب تک کي انقلابي جدوجہد ميں آپ نے نوجوانوں کو کس قدر ذمہ دارياں سونپي ہيں؟ اور اس سے آپ کو کيسے تجربات ہوئے؟

انقلاب کے شروع ہي سے جن امور ميں ميرا اختيار تھا، ميں نے نوجوانوں کو ذمہ داري سونپي : مسلح افواج کي ذمہ دارياں، حکومتي امور کي ذمہ دارياں، اور اسي طرح اپنے صدارتي دور ميں، ميں نے نوجوانوں کو مختلف ذمہ دارياں ديں۔ مير اتجربہ يہ ہے کہ اگر ہم نوجوانوں پر اعتماد کريں تو جوان دوسروں کي نسبت زيادہ بہتر اور زيادہ ذمہ داري سے کام انجام ديتے ہيں۔ ليکن شرط يہ ہے کہ ان نوجوانوں کو ذمہ داري دي جائے جو اس قابل ہوں اور اسے قبول کرنے کي صلاحيت رکھتے ہوں۔ با صلاحيت نوجوان کام جلدي بھي انجام ديتا ہے اور اس ميں جدت بھي پيدا کرکے دکھاتا ہے۔ اس طرح سے کام ميں ارتقائ کا راستہ کھلا رہتا ہے۔ اس کے برعکس دوسرے لوگ ممکن ہے کام کو اچھا کردکھائيں ليکن کام ميں ارتقائ کا دروازہ بند کرديتے ہيں اور اکثر ايسا ہي ہوتا ہے۔

جس وقت ہم انقلابي شوريٰ ميں تھے تو اس سلسلے ميں ہم اور ديگر دوستوں پر اعتراض کيا جاتا تھا، کيونکہ اسي شوريٰ ميں ساٹھ ستر سالہ افراد بھي تھے جو کہ جوانوں کہ صلاحيتوں پر زيادہ اعتماد نہيں کرتے تھے۔ اعتراض ہوتا تھا کہ آپ جوانوں کو اتنا اوپر کيوں لارہے ہيں؟ اتنے اہم کام نوجوان لڑکوں کے سپرد کيوں کررہے ہيں؟ يہ لوگ نوجوانوں کي اتني حوصلہ افزائي کو اچھا نہيں سمجھتے تھے۔ ہاں اس بات پر انہيں کوئي اعتراض نہ تھا کہ نوجوان ان کي راہنمائي ميں ان کے پيچھے چليں ان کا خيال تھا کہ ہم بڑے ہيں اور يہ نوجوان!انہيں ہمارے پيچھے چلنا چاہئيے ، اسي وجہ سے وہ نوجوانوں پر اعتماد تھا اور عملي طور پر ہم نے انہيں اس کاجواب ديا اور دکھايا کہ نوجوانوں کي وجہ سے کام اچھا بھي ہورہا ہے اور اس سے جدت اور ارتقائ بھي موجود ہے۔

نوجواني کا دور توانائي کا دور ہے، اس توانائي کو کس چيز ميں استعمال ہونا چاہئيے ؟ ميرا خيال ہے خاص طور پر اس کا استعمال علم حاصل کرنے ميں نفس کي اصلاح اور تقويٰ کي روح پيدا کرنے ميں اور جسماني توانائي حاصل کرنے ميں ہونا چاہئيے ۔ يہ تين اہم چيزيں ہيں ، اگر ايک مختصر جملے ميں مجھ سے پوچھا جائے کہ آپ ايک نوجوان سے کيا توقع رکھتے ہيں تو ميں کہوں گا، حصول علم ، تہذيب نفس اور ورزش ۔ ميرا خيال ہے کہ نواجوان ميں تينوں خصوصيات ہونے چاہئيں۔

حصول علم ميں تحقيق اور علمي کام بھي شامل ہيں۔ نوجوان ميں ، کيونکہ اس چيز کا جذبہ ہے، اس لئے انہيں حصول علم کے لئے سخت محنت کرني چاہئيے۔ ميں نے سنا ہے کہ آج کل ہماري يونيورسٹيوں ميں نوجوان زيادہ مشکل علمي کام انجام دينے سے گريز کرتے ہيں ۔ يہ کوئي اچھي چيز نہيں ہے۔ ايک لڑکا جب اسکول کي تعليم کے بعد تعليم چھوڑ ديتاہے اور کالج نہيں جاتا تو ہم اسے کتني نصيحت کرتے ہيں کہ جائے اور پڑھائي کرے ليکن وہ کالج اور يونيورسٹي ميں جاکر مشکل علمي کام انجام نہيں ديتا۔ اسے نصيحت نہيں کرتے کہ علمي کام انجام دو ! تو اس کے کالج اور يونيورسٹي ميںپڑھنے کا فائدہ کيا ہوا؟ يونيورسٹي ميں اس لئے آيا جاتا ہے کہ علم کو ترقي حاصل ہو۔ اسي لئے ميري نوجوانوں کو نصيحت ہے کہ علم حاصل کرنے کے لئے جوانيوں کو خرچ کريں۔

ايک سوال يہ ہے کہ ’’ کيا ہمارے اور ترقي يافتہ ممالک کے درميان موجود فاصلہ ختم ہوسکتا ہے ؟‘‘ ميرا عقيدہ يہ ہے کہ ہاں، ايسا ممکن ہے ۔ ليکن شرط يہ ہے کہ جس طرح انہوں نے اس راستہ کو طے کيا ہے۔ ہم لوگ اس طرح اس راستہ کوطے نہ کريں ، کيونکہ دنيا ميں ہزاروں درمياني راستہ (SHORT CUT) بھي موجود ہيں۔ خدا نے خلقت ميں جو ايک طبيعت کو پنہاں رکھا ہے، ہم اسے ٹھيک طريقہ سے نہيں پہچان سکے، جبکہ ترقي کے ہزاروں راستے موجود ہيں۔ ايک راستہ وہي ہے جس کو آج کے صنعتي تمدن نے طے کيا ہے۔ ہر قدم کے بعد اس سے اگلا قدم سامنے آتا ہے۔ ہم کيوں نا اميد ہو کر بيٹھے ہيں کہ اس کے بعد کوئي نيا دريچہ نہيں کھلے گا اور کوئي نئي ايجاد نہيں ہوسکے گي۔ آج کل تو روز بروز نئي چيزيں دريافت ہورہي ہيںہم لوگوں کو بھي دريافت کے لئے محنت کرنا چاہئيے اور اس راستے تک پہنچنا چاہئيے جو ہميں تيزي کے ساتھ ترقي سے ہمکنار کردے اور اس کا واحد حل يہ ہے کہ نوجوان اور خاص طور پر وہ نوجوان جو حصول علم اور تحقيقات ميں مشغول ہيں ۔ سخت جدو جہد کريں۔
آپ جو کام بھي کرنا چاہيں۔ نوجواني ميں کرسکتے ہيں۔ تينوں خصوصيات کے حوالے سے آپ کو کام کرنا چاہئيے۔ علم بھي حاصل کريں ، اپنے نفس کي بھي اصلاح کريں اور ورزش بھي کريں۔ کون نہيں جانتا کہ بڑھاپے کہ ورزش کي وہ تاثير نہيں جو جواني کي ورزش کي ہے۔ ليکن نفس کي اصلاح کے بارے ميں لوگ سمجھتے ہيں کہ انسان کو اسي کے لئے بڑھاپے کا انتظار کرنا چاہئيے۔’’ جب بوڑھے ہوجائيں گے تو عبادت اور نفس کي اصلاح بھي کرليں گے۔‘‘ جبکہ اس وقت تہذيب نفس انتہائي مشکل اور کبھي تو ناممکن ہوجاتي ہے۔ بڑھاپے ميں نفس کي اصلاح کرنا مشکل کام ہے ليکن آپ کي عمر ميں ۔ نوجواني ميں۔ تہذيب نفس بہت آسان ہے۔ نوجوانوں کو چاہئيے کہ ان تينوں خصوصيات پر سنجيدگي کے ساتھ توجہ ديں۔
٭انسان کے اہم خصوصيات ميں سے ايک جدت پسندي ہے، جس کا وہ بناو سنگھار اور لباس وغيرہ کے ذريعہ سے اظہار بھي کرتا ہے۔ اس اہم خصوصيت کا استعمال کيسے ہونا چاہئيے ؟ حکومت نے اس سلسلے ميں ابھي تک کيا کيا ہے؟ کيا اس سلسلے ميں کئے جانے والے اقدامات کامياب تھے؟

اس سوال کے جواب ميں يہي عرض کرنا چاہوں گا کہ حسن کا رجحان، حسن پسندي اور حسين بنانا ، يہ سب فطري چيزيں ہيں۔ يہ جدت پسندي سے ذرا مختلف ہے۔ جدت ايک کلي چيز ہے جبکہ حسن و خوبصورتي سے محبت اس کا ايک جزو ہے جس کي وجہ سے انسان، خاص طور پر نوجوان حسن و حسين بننے کو پسند کرتا ہے۔ وہ خود بھي خوبصورت بننا چاہتا ہے اور يہ کوئي بري بات نہيں ہے۔ ايک طبيعي اور لازمي چيز ہے۔ اسلام ميں بھي اس کي کوئي ممانعت نہيں ہے۔ جس چيز سے منع کيا گيا ہے وہ بدکاري اور فسق و فجور ہے۔

اس حسن و حسين بننے کي حس کو معاشرے کي بدکاري کا باعث نہيں بننا چاہئيے ۔ اس کي وجہ سے کہيں اخلاقي برائياں جنم نہ لينے لگيں ۔ اب يہ کيسے ممکن ہے؟ اس کے مختلف طريقے ہيں۔ اگر عورتوں اور مردوں کا بلا روک ٹوک ميل جول شروع ہوجائے تو برائياں جنم لينے لگيں گي۔ اگر يہ حسن کي حس انتہا پسندي کو پہنچ جائے تو فيشن زدگي جنم لے لے گي۔ اسي طرح اگر حس زيبائي اور اپنے بالوں اور کپڑوں کے خيال رکھنے کو اپني زندگي کا اصل مشغلہ بناليا جائے تو بھي کجروي اور تنزل پيد اہوجائے گا جبکہ شہنشاہي دور ميں بعض اعليٰ عہديداروں کي خواتين سنگھار ميز پر گھنٹوں بيٹھي رہتي تھيں ! اندازاً کتنے گھنٹے ؟ چھ ، چھ گھنٹے ۔ يہ ايک حقيقت ہے۔، ايک انسان اتنا وقت صرف بناو سنگھار پر خرچ کر ڈالے؟ وہ بھي اس خاطر کہ اسے فلاں شادي ميں جانا ہے اور زلف اور چہرے کي سجاوٹ ايسي ہوني چاہئيے! اگر حس زيبائي اس حالت کو پہنچ جائے تو سراسر تنزل ہے۔ ليکن اپنے بالوں اور اپنے لباس وغيرہ کا خيال رکھنا کوئي بري بات نہيں اور خود نمائي اور بناو سنگھار کے بغير ہوتو اس ميں ہرگز کوئي حرج نہيں ہے۔

اسلام ميں ’’ تبرج ‘‘ ہے۔ ’’ تبرج ‘‘ يعني خواتين کا مردوں کے لئے سنگھار کرنا اور سج دھج سے رہنا تاکہ انہيں اپني طرف کھينچ سکيں تو يہ چيز فسق و فجور کا باعث ہے اور اس کے کئي نقصان ہيں۔ اس کا ايک يہي نقصان نہيں کہ ايک نوجوان لڑکي يا لڑکا گناہ ميں مبتلا ہوجاتا ہے ۔ يہ تو ابتدائي نقصان ہے۔ شايد اسے سب سے چھوٹا نقصان بھي کہا جاسکے۔ اس سے اگلا نقصان خاندان کو پہنچتا ہے۔ اس طرح کا لا محدود ميل ملاپ خاندان کي بنيادوں کے لئے بہت بڑا خطرہ ہے۔ کيونکہ خاندان کي زندگي محبت سے قائم ہے۔ حسن و خوبصورتي سے محبت، جنس مخالف سے محبت يہ سب اس محبت کا حصہ ہے۔ اگر اس کي فراہمي غلط جگہوں سے ہونے لگے تو خاندان کا يہ اہم ستون جس کا نام محبت ہے ، کمزور پڑجائے گا اور آہستہ آہستہ خاندان کو ہي نابود کردے گا۔ پھر اس کي حالت وہي ہوجائے گي جو کہ مغربي ممالک اور خاص طور پر شمالي يورپ اور امريکہ کي ہے۔

آج کل امريکہ کو شدت کے ساتھ اس مشکل کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ خاندان کا شيرازہ بکھر رہا ہے۔ ان کے لئے سب سے بڑي مصيبت يہي ہے ۔ اور سب سے پہلے اس مصيبت کا جو شکار ہوتا ہے وہ خواتين ہيں۔ اگرچہ مردوں کو بھي اس سے نقصان پہنچتا ہے ليکن خواتين کا نقصان ان کي نسبت کہيں زيادہ ہے۔ پھر اس کا نقصان اس نسل کو پہنچتا ہے جو اس طرح کے خاندان ميں جنم ليتي ہے۔ آپ آج امريکہ کي گناہگار اور موجودہ مجرم نسل کو ديکھيں تو پتا چلے گا کہ اس کا اصل سوتا وہيں سے پھوٹتا ہے۔ يعني ’’ تبرج‘‘ ہي برائيوں کي کليد تھي اور جتني برائياں آئيں سب اس کے پيچھے پيچھے آتي چلي گئيں۔

اسلام ميں حسن و جمال کو بہت اہميت دي گئي ہے۔ آپ نے سنا ہوگا۔ ’’ ان اللہ جميل و يحب الجمال ‘‘ خدا جميل ہے اور جمال کو پسند کرتا ہے۔ ہماري احاديث کي کتابوں ميں بننے سورنے کے بارے ميں کئي احاديث آئي ہيں۔ نکاح کے باب ميں تفصيلي طور پر بحث ہوئي ہے کہ مردوں اور خواتين کو اپني حالت کا خيال رکھنا چاہئيے ۔ کچھ لوگ سمجھتے ہيں کہ مردوں کو سر کے بال منڈوانے چاہئيں۔ نہيں، شريعت ميں نوجوانوں کے لئے مستحب ہے کہ سر کے بال رکھيں۔ ايک روايت ہے کہ ’’ الشعر الحسن من کرامۃ اللہ فاکرموہ‘‘ يعني اچھے بال خدا تعاليٰ کي عطا ہيں، ان کا خيال رکھنا چاہئيے۔ يا ايک اور روايت ميں ہے کہ جب رسول اکرم   اپنے دوستوں سے ملاقات کے لئے جانا چاہتے تھے توپاني کے برتن کو ديکھتے تھے اور اپني زلف مبارک وغيرہ درست کرتے تھے ۔ اس زمانے ميں آج کل کي طرح آئينے زيادہ نہيں ہوا کرتے تھے اور خاص طور پر مدينے ميں غربت کا عالم تھا۔ نبي   دوستوں کي طرف جاتے ہوئے اپنا چہرہ ديکھتے تھے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بالوں وغيرہ کا خيال رکھنا، اچھا لباس پہننا اور حسن و جمال کو پسند کرنا اسلامي شريعت ميں، پسنديدہ نظروں سے ديکھا گيا ہے۔ ليکن جس چيز کو برا سمجھا گيا ہے، وہ چيز ہے جس کے ذريعہ سے معاشرے ميں بدکاري ، فسق و فجور اور تبرج پھيلتا ہے ۔ کيونکہ اس کا نقصان ۔ جيسا کہ پہلے بھي عرض کرچکا ہوں۔ خاندان اور بعد ميں آنے والي نسلوں کو پہنچتا ہے۔

کچھ دنوں پہلے ايک امريکي رسالے ميں ايک چيز ديکھنے کا اتفاق ہوا، جسے بعد ميں ہمارے اخبارات نے بھي چھپايا۔ لکھا تھا کہ دو دس بارہ سالہ بچوں نے اسکول ميں مورچہ بندي کرکے دوسرے بچوں اور اساتذہ پر گوليوں کي بوچھاڑ کردي۔ پہلے خطرے کا الارم بجايا تاکہ سب اکھٹے ہوجائيں، پھر ان پر اندھا دھند فائرنگ شروع کردي۔ ملاحظہ کيجےئے ايک معاشرے ميں اس قسم کے واقعات کس قدر درد ناک ہيں۔ بري تربيت اور بے توجہي کي وجہ سے اس طرح کے بے رحم مجرم جنم ليتے ہيں۔ اور يہ سب لا ابالي پن کے نتيجے ميں ہوتا ہے۔

٭ايک نوجوان کو اپنے جوش و جذبہ کي حس کو کيسے استعمال کرنا چاہئيے؟

اچھا سوال ہے، ليکن ذرا مشکل بھي ہے۔ آپ ديکھئے کہ جوش کچھ خاص جگہوں پر ظاہر ہوتاہے، مثلاً کھيل۔ خاص طور پر فٹبال جيسے کھيل۔ ميں جو کہ ايک جوشيلا گيم ہے۔ فٹبال کي يہ خاصيت ہے، والي بال اور ٹينس جيسے کھيلوں کي نسبت اس ميں زيادہ جوش پيدا ہوتا ہے۔ فني امور بھي اگر ولولہ انگيز ہيں ليکن ان ميں اتنا ظاہر نہيں ہوتا۔

پس جوش ايک دائرے کے اندر محدود نہيں ہے، اگر ايک نوجوان اپنے پسنديدہ ميدان ميں۔ خواہ وہ جو بھي ہو۔ جوش پيدا کرلے تو اس کا بہترين استعمال وہيں پر کرسکتا ہے ۔ اپنے جواني کے دنوں ميں، ميں علمائ والا لباس پہنا کرتا تھا جس کي وجہ سے ماحول کچھ محدود نظر آتا تھا، ليکن اس کے باوجود ميں اپني جوش و جذبے کي حس کا استعمال کيا کرتا تھا۔ وہ کس طرح؟ مجھے شاعري کا شوق تھاشايد آپ کے لئے يہ تصور کرنا مشکل ہو کہ ہماري چار پانچ افراد پر مشتمل ايک محفل ہوتي تھي جس ميں شاعري سے شغف رکھنے والے دوست دو تين گھنٹے شعر و شاعري کے بارے ميں گفتگو کرتے اور اشعار سنايا کرتے تھے۔ جس شخص کو اس طرح کي چيزوں سے دلچسپي ہو، اپني جوش و جذبہ کي حس کا يہاں پر استعمال کرسکتا ہے۔ بالکل ويسے ہي جيسے فٹبال کا کھلاڑي ، فٹبال کے ميدان ميں يا ايک تماشائي، فٹبال کا ميچ ديکھتے ہوئے اس حس کا استعمال کرتا ہے، اس سلسلہ ميں کوئي محدوديت نہيں ہے۔

ايک دوسري مثال جو کہ انجينئرنگ کے طالب علم کي دي جاسکتي ہے۔ آپ کہتے ہيں کہ وہ پڑھائي کرتاہے ليکن بغير جوش و جذبہ کے ۔ ہم جب پڑھائي کي بات کرتے ہيں تو سمجھتے ہيں کہ پڑھائي ميںجوش و جذبہ نہيں ہوتا يہ بات اگرچہ صحيح ہے کہ کلاس ميں اس حس کے استعمال کا موقع نہيں ہوتا۔ ليکن اگر کلاس کے ساتھ ليبارٹري ميں عملي کام ہو اور نوجوان اس ليبارٹري ميں اپني تخليقي صلاحيت کو استعمال بھي کرسکے تو آپ کا کيا خيال ہے کہ کچھ کم جوش و جذبہ استعمال ہوگا؟

يہ جو ميں اپنے بھائيوں سے عرض کررہا تھا کہ تحقيقي کام انجام ديجئے، تحقيقي کام شوق اور عشق کے ساتھ ہونا چاہئيے۔ جس تحقيق کے لئے انسان کو مجبور کيا جائے، خشک اور بغير جوش و جذبہ کے ہوگي، جس کا کوئي فائدہ نہ ہوگا۔ اس کے مقابلے ميں جو مضمون آپ کو پسند ہے، جس کے لئے آپ يونيورسٹي ميں پڑھنے آئے ہيں، آپ کو اچھے استاد ملے ہيں، ساتھ ہي ليبارٹري بھي موجود ہے جہاں آپ اپني جدت پسندي اور تخليقي صلاحيتوں کو استعمال کرسکتے ہيں۔ اس ميں آپ کي تحقيق بہت اچھي ہوگي۔

ميں يہ کہنا چاہتا ہوں کہ جوش وجذبہ کا استعمال کوئي ايسي چيز نہيں جس کے لئے ہميں پريشان ہونا پڑے۔ اگر مختلف شعبوں ميں بہتر مواقع فراہم کئے جائيں تو نوجوان خود ہي اپني پسند کے مطابق ان شعبوں ميں جا کر جوش و جذبہ کي حس کے جوہر کو آشکار کرسکتا ہے۔
ملک کے ذمہ دار حکام کے طور پر ہم اور وہ تمام لوگ جنہيں اس ملک سے محبت ہے، خواہ وہ حکومتي ادارے ہوں يا غير حکومتي ادارے يا جن کا تعلق نوجوانوں کے امور سے ہو، واحد کام يہ کرسکتے ہيں کہ نوجوانوں کے لئے ميدان کھلا چھوڑ ديں تاکہ وہ صحيح اور مناسب امور انجام دے سکيں۔ اب ايک نوجوان جسے اقتصادي امور سے دلچسپي ہے، ظاہر ہے اقتصاد کي ليبارٹري تو نہيں ہوتي، ليکن اچانک سننے ميں آتا ہے کہ فلاں اقتصاد داں اپنے ہي ملک يا کسي باہر کے ملک سے آرہا ہے اور فلاں جگہ ليکچر دے گا، تو اس نوجوان کے لئے کتنا اہم ہوگا کہ وہ اس کا دعوت نامہ حاصل کرے، اس جگہ پر پہنچے، اس سے سوالات پوچھے۔يہ سب حقيقت وہ جوش و جذبہ کي حس کے تحت انجام دے گا۔

فن کي زبان رساہے اور اس صفت ميں کوئي دوسري زبان اس کا مقابلہ نہيں کرسکتي۔ نہ سائينس، نہ وعظ و نصيحت کي زبان اور نہ ہي عام زبان، کوئي بھي فن کا مقابلہ نہيں کرسکتي۔ قرآن کي کاميابي کا ايک راز يہ بھي ہے کہ اس ميں فن نہفتہ ہے۔ قرآن فن کے عروج پر جا کر بات کرتا ہے۔ اس زمانے کے لوگ قرآن سن کر مسحور ہوجايا کرتے تھے۔ اگر پيغمبر   فن کي زبان کے بغير لوگوں سے گفتگو کرتے تو اگرچہ کچھ لوگوں پر اس کا اثر ہوتا ليکن طوفان اور بجلي کا سا اثر ہرگز نہ ہوتا۔ يہ فن ہے جو اس طرح سے کلام کرسکتا ہے۔ آج جب آپ حافظ کي شاعري پڑھتے ہيں تو اس کي تاثير اور عظمت کو محسوس کرتے ہيں۔ ليکن اسٹيج پروگرامز کا اثر
شاعري اور ادب سے بھي تيز ہے۔ نہيں معلوم کہ يہ اثر لازوال بھي ہے يا نہيں ليکن زود اثر اور قاطع ضرور ہے۔

پھر آپ لوگ بہت اچھي طرح اثر انداز ہوسکتے ہيں۔ جو لوگ ڈراموں وغيرہ کي کہاني تحرير کرتے ہيں، پروڈيوسر ہيں، اسٹيج تيار کرتے ہيں يا لباس ڈيزائن کرتے ہيں، ان سب سے ميري اپيل ہے کہ آپ کے فن ميں ايک نہايت اہم چيز جس کي طرف کم ہي توجہ کي جاتي ہے، لباس ہے۔ جو لباس آپ پہنتے ہيں ، کچھ لوگوں کا آئيڈيل بن جاتا ہے۔ کيونکہ اس ميں ايک طرح کي کشش ہے۔ لباس ڈيزائن کرتے ہوئے آپ اس پر غور کريں اور اس کے اثرات کا جائزہ ليں۔ خدا وند تعاليٰ سے آپ کي ہر ميدان ميں کاميابي کے دعاگو ہوں۔

٭ہماري اہم حکمت عملي ميں کھيلوں کو کيوں شامل نہيں کيا گيا ؟ اور کھيل کو ثقافتي يلغار کے خلاف ڈھال کے طور پر کيوں استعمال نہيں کيا جاتا؟

آپ نے ملاحظہ کيا کہ ہماري فلميں جب بين الاقوامي فلمي مقابلہ ميں جاتي ہيں تو تماشائيوں اور ججوں کے لئے سب سے زيادہ پرکشش بات يہي عفت ہوتي ہے کہ جو آج کل کي ايراني فلموں ميں پائي جاتي ہے۔ بعض فلمساز اور پروڈيوسر حضرات خود بخود اس بات کا خيال رکھتے ہيں اور بعض سے اس بات کا خيال رکھوايا جاتا ہے کہ عفت کا لحاظ کريں اور مرد و عورت اور گھريلو زندگي کو اس طرح سے پيش کريں جيسا کہ اسلامي جمہوريہ ايران کا ماحول پسند کرتا ہے۔ يہي وجہ ہے کہ آج دنيا بھر ميں ہميں ايک خاص برتري حاصل ہے۔

بہت سے لوگوں کے نظرئے کے برعکس ، آج دنيا اس بے ہودہ پن بدکاري اور بيکاري سے تنگ آچکي ہے اور اسے اچھي نظروں سے نہيں ديکھتي ہميں چاہئيے کہ اس عفت، نجابت، تندرستي اور حيائ کو ، جس کا اسلام نے بھي ہميں حکم ديا ہے، کھيل کے ميدان ميں بھي رواج ديں۔ اس طرح سے ہم کھيل ميں روحاني اور ثقافتي ماحول کي ترويج کرکے اس ہدف تک پہنچ سکتے ہيں جس کا آپ نے ذکر کيا۔ يعني ثقافتي يلغار کا مقابلہ کرنے کے لئے ہميں اپني ثقافت کا ہر ميدان ميں خيال رکھنا ہوگا۔

جوانوں سے ميري گزارش يہ بھي ہے کہ وہ يہ بات سوچ کر کھيل سے دست کش نہ ہوں کہ جب کھيل پر اتني توجہ دي جائے گي اور فلاں فلاں کام ہوجائيں گے تب ہم کھيليں گے، نہيں! جوانوں کو ہر حال ميں کھيلنا اور ورزش کرنا چاہئيے۔ اس کا مطلب يہ نہيں کہ صرف نوجوانوں کو ورزش کرنا چاہئيے ، اور غير نوجوانوں کے لئے ورزش منع ہے، نہيں! دوسروں کو بھي کھيل اور ورزش ميں حصہ لينا چاہئيے۔ تاہم نوجوان کو اس سے زيادہ فائدہ حاصل ہوتا ہے۔ بوڑھوں پر ورزش واجب ہے، وہ لوگ جو جواني کي حدود عبور کرکے چاليس پچاس سال کي عمر کو پہنچ گئے ہيں، ان پر بھي ورزش واجب ہے اور انہيں ورزش کرنا چاہئيے۔

٭نوجوانوں کے امور ميں حکمت عملي وضع کرنے کے لئے ايک مرکز کيوں نہيں قائم کيا جاتا؟ اور جوانوں کے مسائل۔ جيسے شادي کا مسئلہ ۔ کے حل کے لئے مختلف اداروں کا آپس ميں تعاون اور رابطہ قائم کيوں نہيں ہے؟

شادي ايک بالکل انفرادي مسئلہ ہے ۔ خود خاندان کو چاہئيے کہ اس مسئلہ پر غور کريں حکومتي اور نجي اداروں کو بھي اس سلسلہ ميں پبلسٹي کرني چاہئيے۔ ميري اپني لوگوں سے گزارش ہے کہ شادي ميں زيادہ جھنجھٹ نہ کريں۔ مہر زيادہ نہ رکھيں، جہيز زيادہ نہ ديں، وليمہ وغيرہ کي دعوتوں ميں زيادہ اسراف نہ کريں۔ ان چيزوں ميں ہميں ابھي کافي محنت کي ضرورت ہے۔ کيا ہي اچھا ہو کہ ثقافتي حوالے سے پبلسٹي کي جائے تاکہ لوگوں کو يہ چيزيں ذہن نشين کرائي جائيں۔ ميرا خيال ہے کہ لوگ اگر ان چيزوں کو سمجھ ليں تو شادي کا مسئلہ کافي حد تک آسان ہوجائے گا۔

شادي کي عمر نہ تو اتني کم ہوني چاہئيے کہ بعض لوگ سمجھتے ہيںکہ جوان ہوتے ہي شادي کرديني چاہئيے۔ ميں اس چيز کي نفي نہيں کرتا۔ اگرچہ اس ميں کوئي حرج نہيں جلدي شادي کردي جائے ليکن اس پر بہت اصرار کرنا بھي درست نہيں اور نہ ہي شادي کي عمر اتني زيادہ ہوني چاہئيے کہ جيسے يورپي لوگ کرتے ہيں۔ چاليس سال کي عمر ميں۔ خود غرضي اتني آگئي ہے کہ اگر مرد تيس چاليس کا بھي ہو تو کوئي حرج نہيں سمجھا جاتا کہ ايک نوجوان لڑکي سے شادي کرے۔ اتني عمر گزرنے کے بعد بھي مرد کي خواہش ہوتي ہے کہ کم سے کم عمر کي جوان لڑکي سے شادي کرے جبکہ اس کي اور اس کي عمر ميں کافي فاصلہ ہوتا ہے۔ يورپي معاشرے کي ان اقدار نے شادي کي بنيادوں کو متزلزل کرديا ہے، يہي وجہ ہے کہ يورپ ميں غير شادي شدہ لوگوں کي تعداد بہت زيادہ ہے بہت سے لوگ ايسے ہيں جو پوري زندگي تنہا گزار ديتے ہيں، خوش قسمتي سے ايران اور دوسرے تمام اسلامي ممالک ميں ايسے لوگوں کي تعداد بہت ہي کم ہے۔

آخر ميں پھر عرض کروں گا کہ شادي کے مراسم ميں آساني پيدا کرني چاہئيے، زيادہ دھوم دھام سے پرہيز کرنا چاہئيے تاکہ نوجوان کو شادي کے مرحلہ سے زيادہ نزديک کيا جاسکے۔ خاندان، خود نوجوانوں، لڑکوں اور لڑکيوں ميں ہمت پيدا ہوسکے اور شادي کے راستے ميں آنے والي مشکلات دور ہوسکيں۔ اگر حکومت بھي اس سلسلے ميں کوئي تعاون کرسکے تو بہت ہي اچھا ہے۔ ميري ہميشہ يہي خواہش رہي ہے اور ذمہ داروں سے بھي ہميشہ يہي گزارش کي ہے کہ گھر ، قرض الحسنہ اور ديگر ضروريات زندگي فراہم کرنے کے لئے نوجوانوں کي مدد کريں۔ في الحال يہ سب فرضيات ہيں۔ ليکن سب سے پہلے اس کام کي ذمہ داري گھر والوں اور خود اس شخص پر ہے۔

٭آپ کے خيال ميں زمانہ جنگ کے دور کي اقدار اور روحاني فضائ آج کے نوجوانوں ميں کيسے منتقل ہوسکتي ہے؟

اس ميں کوئي شک نہيں کہ ہميں اقتصادي معاملات ميں تکاليف اور صعوبتوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ليکن ايک روز يہ مشکلات ختم ہوجائيں گي۔ اور جو چيز ان مشکلات کا خاتمہ کرے گي۔انشائ اللہ آپ کا يہي روحاني جذبہ اور اسلام اور انقلاب سے رابطہ ہوگا۔ يہي نوجوان لڑکے اور لڑکياں ہيں جو ملک کو نجات دلائيں گے۔ ميں پہلے بھي کئي بار کہہ چکا ہوں کہ نوجوان نسل صعوبتوں کے دور ميں گرہ کشا ثابت ہوگي۔ جب يہ ميدان ميں اتر آئي ہے تو چھوٹي بڑي سب گرہيں کھل جائيں گي اور مشکلات ختم ہوجائيں گي۔

ہمارے جوان مومن، ديانت دار ہيں اور اپنے ملک اور اسلام سے محبت کرتے ہيں اور امريکہ اور دوسرے ممالک کے تسلط کے مخالف ہيں۔ يہي چيز آئيندہ کام آئے گي۔ يہ سازشيں اور حملے جو آج ہمارے خلاف ہورہے ہيں، ان شائ اللہ ناکام رہيں گے۔ انشائ اللہ خدا بھي ہماري مدد کرے گااور امام زمانہٴ(ارواحنا فداہ) اس ملک ، اس عمل اور ان جوانوں کے پشت پناہ ہيں۔
آخر ميں ايک بات کا ذکر کرنا چاہتا ہوں، وہ يہ کہ نوجوان، آج کل جو کام بھي انجام دے رہے ہيں۔ کوئي چھوٹا کام نہيں ہے۔ يہ تعليم حاصل کرنا، يہ تحقيقات کرنا ، يہ فنکارانہ کام يا يہ کھيل اور ورزش يہ سب چھوٹے کام نہيں ہيں۔ ميري گزارش ہے کہ اپنے کسي کام کو بھي چھوٹا نہ سمجھئے۔ آپ کے يہي کام پورے ملک کي مجموعي فعاليت کے ذيل ميں ايک سرنوشت ساز حيثيت کے حامل ہيں۔ مثلاً ايک فنکار اکيلا فيصلہ کرتاہے کہ کوئي پروگرام کرے۔ ايک اچھا پروگرام پيش کرنے کے لئے وہ جتني محنت کرتا ہے يہ نہيں کہہ سکتا کہ مجھ اکيلے نے ايک چھوٹا سا کام انجام ديا ہے۔ آپ اکيلے اگر ايک کام کو اچھي طرح انجام ديتے ہيں اور دوسرے سو آدمي بھي آپ ہي کي طرح کام کرتے ہيں تو يہ مل کر ايک بڑا کام بن جائے گا۔ ورزش بھي اسي طرح سے ہے۔ پڑھائي اور تحقيق بھي اسي طرح سے ہے اور جوانوں کے تمام ديگر کاموں کي بھي يہي مثال ہے۔ يہ بالکل گيارہ فروري کے عظيم الشان جلوس کي طرح سے ہے کہ اگر سب ہي لوگ يہ کہنے لگيں کہ جناب مجھ ايک آدمي کے جانے يا نہ جانے سے کيا ہوگا؟ تو کبھي بھي دس لاکھ افراد کا جلوس نہ نکل سکے گا اور نہ ہي يوم القدس منايا جاسکے گا، ليکن يہاں ہر شخص کو احساس ہے کہ وہ اپني شرعي ذمہ داري ادا کررہا ہے۔ ميں ايک بار پھر اس بات کي تاکيد کرتا ہوں کہ ايک ايک نوجوان جہاں بھي اور جو کام بھي کررہا ہے، خواہ وہ قرآن کے سلسلے ميں ہو، معلومات عامہ کے سلسلے ميں ہو، يونيورسٹي ميں ہو، کتاب لکھنے کے سلسلے ميں ہو يا کسي بھي دوسرے سلسلے ميں، سب کا سب اہم کام ہے اور يہ تمام کام انشائ اللہ ملک کو اعليٰ درجہ تک پہنچائيں گے۔