|
منشو ر ولایت
حوزہ علمیہ قم سے تاریخي خطاب
نشر ولایت پاکستان
مرکزحفظ ونشر آثار ولایت
www.wilayat.com
بسم اللہ الرحٰن الرحيم
والحمد للہ رب العالمين والصلاۃ والسلام علي سيد الانبيائ والمرسلين ،
سيدن و نبينا ابي القاسم محمد و لہ الاطيبين الاطھرين المنتجبين سيما
بقيۃ اللہ في الارضين ۔
يہ نہایت عظيم و اہم نيز يادگاري نشست ہے ، شيعہ حوزہ علميہ کي بڑي
شخصيتيں اور اراکين جمع ہوئے ہيں ۔ اس حوزہ ميں مشغول رہنے والے افاضل
اور منتخب و بر جستہ افراد تشريف لائے ہوئے ہيں تاکہ ميں جس کو يہ فخر
حاصل ہے کہ اس حوزہ کا طالبعلم اور اسي عظيم الشان مدرسہ ہي کا ايک فرد
ہوں ، اپني گذارشات کو جوزيادہ تر اس حوزہ مبارکہ سے متعلق ہیں پيش
کروں ۔
مطلب کے انتخاب ميں کسي دشواري کا
سامنا نہیں ہے ۔ ميرے لئے کہنے کو تو بہت باتيں ہیں مگر ميں اس وقت جس
چيز کو پيش کرنا ضروري سمجھ رہا ہوں اور اس سہانے موقع سے فائدہ اٹھانا
چاہتا ہوں ايسي بات ہے جو ميرے عقيدے کے مطابق اہم ترين و مقدم نيز
ايسي نشستوں ميں پيش کي جانے والي ہر گفتگو سے بہتر گفتگو ہے اور وہ
بات حوزہ علميہ و جامعہ روحانيت اور ايسے عظيم علمي ، ديني ، تبليغي ،
ہدايتي محاذ سے متعلق ہے جس کي بنياد اس مرکز کے بزرگ اور نيک لوگوں کے
ہاتھوں پڑي ہے ۔ لہذا ميري گفتگو کا محور ’’ حوزہ علميہ کا حال اور
مستقبل ‘‘ ہے ۔
قم کا حوزہ علميہ جس کا نام ج ہم فخر
سے تعظيم و تجليل کے ساتھ ليا کرتے ہیں ۔ در حقيقت حوزوي تاريخ ميں
تمام تر شيعي حوزوں کي جد و جہد اور انتخاب ہے ۔ يعني دوسري صدي کے
آواخر يا کم سے کم قرن سوم کے بالکل ابتدائي زمانے ميں چند مرکز حوزہ
علميہ کے عنوان سے وجود ميں ئے ہیں ۔ قم کا يہ حوزہ تين خري ئمہ کرام
ٴکے زمانے سے ( حضرت نقيٴ ، حضرت تقيٴ اور حضرت عسکري ٴ) جو قميوں کا
زمانہ ہے اپنے کلمہ کے اعتبار سے واقعي معني ميں ايک حوزہ علميہ ہے کہ
جس ميں درس و بحث ، جمع وري ، تدوين ، نشر و اشاعت و استادي و شاگردي
کا مشاہدہ کيا جا رہا ہے ۔ جب کہ اس وقت ئمہ ٴکے ارد گرد ہم صحابہ و
محدثين اور اہل علم کے اجتماع سے جو مدينہ اور کوفہ جيسے شہروں ميں ہوا
کرتا تھا صرف نظر کرتے ہوئے ان پر حوزہ علميہ کا اطلاق نہیں کرنا چاہتے
ہیں ۔
چنانچہ شايد ہمارے قديمي ترين علمي
حوزوں ميں سے يہي قميوں کا قم ہے کہ جس ميں بزرگوں کے ثار جيسے اشعريوں
کے ل بابويہ کے اور بھي دوسرے لوگوں کے ، ج تک پائے جاتے ہیں ۔ البتہ
بعد ميں يہ حوزہ علميہ اپنے اسي ب و تاب سے باقي نہ رہ سکا اور دنيا کے
دوسرے خطوں ميں مثلاً مشرقي اسلامي دنيا اور دريا پار اور مشرقي خراسان
وغيرہ ميں منتقل ہو گيا ۔ شيخ عياشي ، شيخ کشي جيسے رجالي اور سمر
قنديوں ، تصاحبوں نيز ديگر بہت سے اسمائ کہ جن کو محدثوں ، راويوں اور
مولفوں کے زمرے ميں ہم پہچانا کرتے ہیں ان مذکورہ جگہوں پر زندگي
گذارتے تھے ۔ اسي طرح بغداد کا حوزہ جو شيخ مفيداور ان کے بعد سے سيد
مرتضيٰ و شيخ طوسي
۱
کا حوزہ رہا ہے پھر نجف کا حوزہ جو شيخ طوسي کے اس شہر ميں سن ٤٥٠ ھ يا
٤٤٩ھ ميں ہجرت کرنے کے بعد حوزہ علميہ کے نام سے فقاہت و حديث و ديگر
علوم اسلامي کا مرکز ايک اہم حيثيت کا حامل بن کر وجود ميں يا ۔
بعد ميں شيعوں کا حوزہ علميہ شام ،
طرابلس ، حلب اس کے بعد حلہ ميں تشکيل پاتا ہے کہ ہمارے حلہ کے رہنے
والے عظيم فقہائ کے نام تاريخوں ميں اور ان کے ثار شيعہ فقہي کتب خانوں
ميں محفوظ اور موجود ہیں اور يہ سلسلہ يونہي جاري رہا ۔ يہاں تک کہ
ايران ميں صفويہ سلطنت کا دور جاتا ہے اور ايک عظيم باب کھل جاتا ہے ۔
بر خلاف ان کے کہ جن کي حکومت صفويہ
کو شيعوں کے مخالف نيز اسلام اور مفاہيم معنوي و ديني کے خلاف ثابت
کرنے کي کوشش رہي ہے ۔ صفوي شہنشاہوں نے اپني تمام تر ان برائيوں کے با
وجود بھي کہ جو وہ اپني حکومت و شخصيت ميں رکھتے تھے بڑے بڑے يادگار
اور نا قابل فراموش کارنامے انجام دئے جس ميں سے ايک شيعوں کے علمي
حوزوں کو وسعت دينا کہ اس دور ميں اصفہان و خراسان و قم و نجف اور ديگر
شہروں کے علمي حوزے انہیں کي برکتوں سے باد ہوئے ہیں ۔ اور اگر کوئي
مطالعہ کرے تو قابل حيرت چيزيں مشاہد ہ کرے گا ۔ اگر پ صفويہ دور سے
پہلے کے شيعہ فقہائ کو ديکھيں تو ان ميں ايرانيوں کي تعداد انگليوں پر
گني جا سکتي ہے ليکن صفوي دور کے بعد جس قدر بھي علمائ کبار کو پائيے
گا تقريباً ان ميں ٩٠ ايراني لوگ ہیں ۔
اس عہد صفويہ کے بعد نجف کربلا کے
حوزوں کا عروج اور مرحوم وحيد بہبہاني کے شاگردوں کي جمعيت نيز شيخ اور
صاحب جواہر کے شاگردوں کا زمانہ ہے جو يونہي خري دور تک کا ہے ۔ پھر
بعد ميں فقاہت کے حوزہ کي عظيم ہستيوں کي مرکزيت مرحوم يۃ اللہ حائري
اور ان کے بعد مرحوم يۃ اللہ بروجردي کے ذريعہ سے دوبارہ پھر قم کي طرف
منتقل ہوئي اور ج تک يہ حيثيت اس کو حاصل ہے ۔ يہ حوزہ اسي تاريخي مسير
کي تلاش اور اس کا نتيجہ ہے نيز ان تمام عظيم علمي تحريکوں کا نچوڑ اور
ماحصل ہے جو علم و تحقيق اور مہاجرت کي معيت ميں ہميشہ چلا رہا ہے اور
پ کے اختيار ميں ہے ۔
يہ سارے علمي حوزے ایک اہم ترين علمي
اور تاريخي بحث کا موضوع ہیں بجا بھي يہي ہے کہ جو حوزہ کے بڑے اور
بزرگ صاحبان نظر اور افاضل کرام ہیں ۔ وہ اس مسئلہ پر ايک دقيق اور
تحقيق شکل ميں بحث کريں جيسا کہ بحمدہ تعاليٰ ہم ديکھ رہے ہیں کہ اس کي
طرف لوگ متوجہ بھي ہیں ۔
ہم ج ايسے حوزہ کے مقابل ہیں جو ہماري
بارہ صدي کي ميراث ہے ۔ کچھ ذمہ دارياں ہم پر عائد ہوتي ہیں کہ ميں تين
وظائف کي جانب يکے بعد ديگرے اشارہ کروں گا جو نہايت واضح و روشن ہیں
اور جن کے اثبات کے لئے دليل کي ضرورت نہیں ہے ۔
اول : حفاظت دوم : ترميم ( تھوڑي سے
تبديلي ) سوم : حوزہ علميہ کي ترقي و عروج اور اس کے زيادہ سے زيادہ
پيشرفت اور نشو نما کي کوشش
جہاں تک حوزہ کي حفاظت کے مسئلے کا
تعلق ہے بحمد اللہ وہ پہلے کي بہ نسبت ج کچھ زيادہ ہي کميت اور کيفيت
کے اعتبار سے انجام پا رہا ہے ۔ مجموعي طور پر اس ميں کوئي شبہ ہے ہي
نہیں ۔ ليکن ترميم کا مسئلہ يہ ذرا کچھ مشکل اور دشوار ہے اور اس سے
بھي سخت اور کٹھن مسئلہ رشد و ارتقائ اور اس کو پيشرفت دينے کا ہے ۔
صرف اتنا کافي نہیں ہے کہ پ سابقہ اور گذشتہ افراد کي ميراث کي حفاظت
کرکے اس کو ئندہ کے افراد تک پہونچا ديں ۔
ترميم يعني کيا ؟ يعني بہت سے ( علمائ کے ) فقدان کي وجہ سے حاصل ہونے
والے خلائ کے بعد حوزہ ، کچھ ايسے عناصر کي تربيت کرے جو موجودہ حالات
ميں ان کے خلائ کو پر کر سکيں ۔ نيز نسخ شدہ مفاہيم کو جلا دينے کے بعد
ان سے کچھ نئے مفاہيم پيدا کريں تاکہ ان پرانے مفاہيم کي جگہ لے سکيں ۔
مفاہيم پرانے ہوتے رہتے ہیں ، دھيرے دھيرے وہ اپني شادابي اور نشاط کو
کھو ديتے ہیں ۔ متواتر افکار اور گوناگون وقت والے نظريوں سے پيہم
گذرتے گذرتے ضرر و خدشہ سے رو برو ہو جاتے ہیں اور پہلے والي مضبوطي
اور استحکام کي سرحد سے نکل جايا کرتے ہیں لہذا نئے مفاہيم کو ان کا
قائم مقام ہونا ضروري ہے ۔
يہي تنہا کافي نہیں ہے کہ فرض کيجئے
کہ ہم علم اصول ميں کتاب فصول يا قوانين کو ديکھيں اور اس کي بہت سي
بحثوں کو ج تک کے دور میں بے فائدہ اور بیکار سمجھيں جيساکہ حقيقت بھي
ہے ۔ اس وقت کو ن فاضل اور کون ملا اور اصولي بحث کرنے والا ايسا ہے کہ
جو اپني اصولي رائے ميں کہیں پر فضول يا قوانين کے بہت سے ابواب کي
ضرورت محسوس کرتا ہو ؟ وہ پراني ہو چکي ہیں اور ان کي بہت سي باتيں
اپني ب و تاب کھو چکي ہیں اور اس وقت ان سے بہتر دنيا ميں اصولي چيزيں
پائي جا رہي ہیں ۔
لہذا مفاہيم منسوخ ہوا کرتے ہیں ۔ ہر
علم ميں اس قسم کي چيزيں ہیں نسخ شدہ مسائل و مباحث اور باتوں کے خلائ
کو پر کرنے کے لئے نئي بحثيں پيش ہوني چاہيے ۔ ہر علم کي ذہني فضا کو
ذہن کے لازمي مفاہيم کے حجم کے اعتبار سے کمال کي منزلوں ميں نا چاہيے
کہ اسي کا نام ترميم ہے جو بہت زيادہ محنت اور فعاليت کي طالب ہے ۔
اس سے بھي اہم تر مسئلہ حوزہ کي ترقي
و نشو نما کا ہے ۔ ترقي ، پيشرفت و ارتقائ کے معني ميں ہے ايک قدم اور
گے بڑھ کر نئي دنيا کو کشف کر لينا ہے ۔ ترقي کا انحصار اسي ميں نہیں
ہے کہ ہم ايک بحث ميں کچھ اور دقت سے کام ليں ۔ فرض کيجئے چھٹي صدي کا
کوئي دانشمند کسي خاص طريقہ سے کسي مسئلے کو دليلوں سے پيش کيا کرتا
تھا تو ہم اب کچھ اور غور کر کے اس کے بعض استدلال کو مستحکم کر ديں
اور بعض کو رد کر ديں اور مسئلہ کو نئي صورت سے حل کر کے پيش کر ديں ۔
کام فقط اتنا ہي کافي نہیں ہے بلکہ مسئلہ نئے فاق کي گرہ گشائي کا ہے
خود علم ميں بھي يعني فقاہت ميں اور نتيجہ علم ميں بھي يعني مباحث فقہي
ميں بھي ، اسي طرح سے علم و کلام و ديگر بحثيں بھي علم کي ہیں ان سب کو
ترقي کرنے کي ضرورت ہے ۔
تمام حوزہ ہاي علميہ اسي وقت خود ميں تبديلي پيدا کر سکتے ہیں اور رشد
و ارتقائ کي منزل تک پہنچ سکتے ہیں جب وہ زندہ رہیں ۔ مردہ حوزے اس چيز
پر قدرت نہیں رکھتے ۔ انسان حقيقتيں اور واقعات بھي خود انسان ہي کي
طرح ہیں اور حيات و موت ، قوت و ضعف اور صحت و بيماري سے روبرو ہیں ۔
حوزہ علميہ کي بھي يہي صورت حال ہے يہ بھي مريض و سالم ، کمزور و توانا
اور زندہ و مردہ ہر طرح کا پايا جاتا ہے ۔ حوزہ کے لئے ضروري ہے کہ وہ
زندہ رہے ، سالم رہے ، قوي رہے تاکہ رشدو نمو حاصل کر کے نئے فاق اجاگر
کر سکے اور اس سے فائدہ اٹھانے والوں کو نئے خطے فراہم کر سکے ۔
جب ہم قم کے حوزہ علميہ کا ماضي بيان
کر رہے ہیں تو ہمارا مقصد فقط يہ نہیں ہے کہ ہم زمانے اور تاريخ کے
اعتبار سے يہ کہنا چاہ رہے ہوں کہ يہ لوگ اس حوزے کے ماسلف ہیں ۔ بلکہ
مفہوم ومحتوي کے اعتبار سے بھي ايسا ہي ہے ۔ شيخ طوسي۲
کي تحقيقات اور اس کے بعد ابن ادريس
۲ محقق حلي کي ايجادات اور پھر علامہ
کي وسيع پيمانے پر وہ فقہي فعاليت نيز ديگر امور جو دوسرے لوگوں نے
انجام دئیے ہیں ۔ ج يہ ساري چيزيں اس حوزے ميں منعنہ ظہور ہیں ۔ جس شخص
نے بھي ان بارہ صديوں ميں فقہ اور اصول کے موضوع پر جو بھي فعاليت کي
ہے اور جتنا بھي فن استعمال کيا ہے وہ سب ج اس حوزہ کي کتاب ، تاليفات
، درس و بحث کي زينت بني ہوئي ہیں ۔
وہ حوزہ کہ جس کا ماضي اور جس کي اصل
اور علمي نسب و شجرہ ايسي شان کا رہا ہو ، ج اس کي کيا حالت ہے ؟ يہ
سوال ايسا ہے کہ ہم کو اس کے سلسلہ ميں ہر لمحہ ، فکر ہوني چاہيے ۔ اگر
کوئي واقعي طور پر اسلام و مسلمين کي تقدير سے دلچسپي رکھتا ہے تو اس
کے لئے ضروري ہے کہ وہ اس مسئلے کے در پے رہے ۔ يہ مسائل ايسے نہیں ہیں
کہ جن ميں سستي کا شکار رہا جائے اور کہا جائے کہ اس وقت اس کي کيا
ضرورت ہے ؟ ! نہیں ! ہرگز نہیں ! ہر گز يہ ان مسئلوں ميںسے نہیں ہے کہ
جس کے لئے کہا جا سکے کہ اس وقت کيا کيا پڑي ہے ؟ خود پ حضرات بھي کہ
جو خود بھي اس جگہ کے اعاظم اور بزرگ افاضل و طلاب ہیں نيز ہر وہ طالب
علم بھي کہ جو اتني بڑي دنيا ميں کہیں پر بھي ہے اور خود کو اسي جگہ کا
مديوں سمجھتا ہے اور اپنے کاندھوں پر اس عظيم حوزہ کے احسانات کے بوجھ
کا احساس کرتا ہے اور ہر وہ مسلمان بھي جو اس حوزہ کي برکتوں سے فيضياب
ہو رہا ہے يا ئندہ فيض اٹھانا چاہتا ہے ۔ سب کے لئے ضروري ہے کہ اس
مسئلہ ميں غور و فکر سے کام ليں ۔
ظاہر ہے کہ اگر عام انسان اس بارے ميں
سوچے بھي تو بھي کسي منزل تک وہ نہ پہنچے گا جس طرح سے کارخانے کا کام
اگر انجام دينا ہو تو اسي جگہ کام انجام پانے کي ضرورت ہے ۔ سب سے بڑا
بنيادي اور اساسي اور کاميابي سے ہمکنار کام وہ ہے جو پ اس حوزے ميں
انجام دے سکتے ہیں ، يہ بھي ممکن ہے کہ پ کے کچھ طرفدار ہماري طرح سے
حوزے کے باہر بھي مل جائيں جو پ کے لئے پشت پناہ بنيں اور پ کے کام ميں
معاون ثابت ہوں مگر پھر بھي کام تو حوزہ ہي ميں انجام پانا چاہيے ۔ اسي
لئے ہم اپني غاز گفتگو سے اب تک اور اب سے خر تک مسلسل حوزے کي تبديلي
اور تعمير کے سلسلہ ميں خود اسي حوزے پر بھروسہ کئے ہوئے ہیں کوئي
دوسرا شخص کہیں باہر سے کر اس کام کو انجام نہیں دے سکتا ہے ۔
ج حوزے کا کيا حال ہے ؟ نے والے کل
ميں کيسا ہوگا يا اسے کيسا ہونا چاہيے ؟ ج تو گذشتہ دور کي بہ نسبت
حوزہ علميہ نے بہت زيادہ پيشرفت کي ہے کسي ميں دم بھي نہیں ہے جو اس
حقيقت کا انکا ر کر ے يعني اگر ہم بطور مطلق محاسبہ کريں تو ج سابقہ
زمانے سے قابل قياس نہیں ہے جيسا کہ حضرت يت اللہ مشکيني نے فرمايا ہے
:
يہ حوزہ کيفيت و کميت کے اعتبار سے
بہت گے جا چکا ہے ۔ اس دن چار سو طالب علم ہوا کرتے تھے ، ج ہزاروں
طالب علم اس کے دامن ميں تحصيل علم کر رہے ہیں ۔ ج کے افاضل اس دن کے
افاضل حضرات سے کم نہیں ہیں ۔ ج کے بعض طلاب اس زمانے کے طلاب سے کچھ
کم شوق نہیں رکھتے ۔ جو کام ج کے فضلائ و طلاب انجام دے رہے ہیں کبھي
کبھي تو اس زمانے کے فضلائ و طلاب کے کئے ہوئے کاموں سے دس گنا زيادہ
علمي اور عملي اہميت کا حامل ہوتا ہے ۔
يہ کوئي نہیں کہہ سکتا کہ حوزہ پستي کي طرف جا رہا ہے ۔ نہیں ! جس لحاظ
سے بھي چھان بين کي ہے حوزہ ترقي کي طرف گامزن ہے ۔ سابقہ لوگوں کے
نظرئے بھي ج کے علمائ کے پاس ہیں ۔ ج مکاسب کي کتاب جو پ پڑھ رہے ہیں ۔
شيخ کا درس خارج ہے ، شيخ کي عالي ترين تحقيقات بھي يہي ہیں ۔ يہ کفايہ
جو پ پڑھ رہے ہیں محقق خراساني کے اصولي افکار کي معراج ہے ۔ اگر ج
پڑھنے والا ہمارا طالب علم جس کفايہ کو پڑھ رہا ہے اس کو سمجھ لے تو اس
نے خوند کے ان بڑے بڑے شاگردوں کي طرح اس کو سمجھ ليا ہے جو اس وقت ان
عالي افکار سے شنا ہو رہے تھے ليکن ضروري ہے کہ وہ يہ بھي ياد رکھے کہ
يہي خري سيڑھي نہیں ہے ۔ اگر چہ کل يہي خري زينہ محسوب ہوتا تھا ۔ بنا
بر ايں فقہ و اصول ميں ، اور حوزوي کميت کے امور نيز اپنے پھيلاو اور
تبليغات نيز عالم کے گوشے گوشے ميں جگہ بنانے کے لئے جس مسؤليت کو اپنے
ذمہ ليا ہے اس ميں گذشتہ زمانے سے زيادہ فرق ہے اور بہت زيادہ پيشرفت
کر چکا ہے ۔
ليکن ايک اور لحاظ سے حوزہ ميں دو
بنيادي اشکال ہیں جن ميں سے ايک سابقہ دور ميں سرے سے نہیں تھا اور ج
سے متعلق ہے اور دوسرا اشکال بھي زيادہ احتمال کي بنا پر اسي طرح کا ہے
۔ ليکن وہ اشکال کہ جو کل ہمارے حوزہ ميں نہیں تھا اور ج ہے وہ يہ ہے
کہ کل کا حوزہ اپنے زمانے کي دنيا سے نہ يہ کہ صرف پيچھے نہیں تھا بلکہ
بہت گے بھي تھا ۔
آپ
ملاحظہ کريں کہ اس زمانے کے ہمارے علمائ اپنے عہد والوں کے لئے علمي ،
کلامي اور فقہي معلومات کس قدر رکھتے تھے وہي تھوڑے سے لوگ جوسابقہ دور
ميں تھے کتنے بڑے بڑے کام انجام دئے گئے ہیں ۔ اگر نيشاپور يا بلخ يا
ہرات يا طوس ( جو اس وقت کے بغداد کي نسبت دور ترين نقطہ تھے ) ميں چند
شيعہ زندگي گذار رہے تھے اور وہ فقہي يا کلامي سوالات سے روبرو ہوتے
تھے ۔ شيخ مفيد بغداد سے ان کي رہنمائي فرمايا کرتے تھے ۔ يعني شيخ
مفيد اپنے زمانے سے پيچھے نہیں تھے ۔
يا شيخ طوسي
۲
کے زمانے ميں اگر کوئي مکتب اہلبيت کا دشمن يہ کہتا تھا کہ ’’ لا مصنف
لکم ‘‘ تمہارے پاس کوئي کتاب و تصنيف نہیں پائي جاتي ہے تو شيخ طوسي
۲
بذاتہ ميدان ميں اتر ئے تھے اور علم رجال کے سب سے بڑي کتا ب کي تلخيص
پيش کر کے جداگانہ ايک کتاب اور علم رجال کي فہرست تصنيف فرماتے تھے ۔
يعني کسي تاخير کے بغير رجال کشي کا خلاصہ بھي کيا اور اپني طرف سے بھي
رجال سے متعلق فہرست اور الگ سے ايک کتاب پيش کر دي ۔
ابھي کہنے والا يہ بات کہ ’’ تمہارے يہاں فقہ نہیں ہے ‘‘ اپنے گھر سے
باہر بھي نہیں پہنچ پائي تھي کہ اچانک ہي ايک عظيم کتاب تحقيقات پر
مبني فروعات سے بھري ہوئي ( اس زمانے کي تحقيق کے مطابق ) مبسوط پيش ہو
گئي ۔ اگر محمد بن زکريا رازي اپنے زبان پر چار کلمے الحاد سے متعلق لے
يا تو فوراً ہي سيد مرتضيٰ رازي نے اس کي رد ميں ايک کتاب لکھ ڈالي اور
اس کي باتوں کو لا جواب نہ رہنے ديا ۔ اگر فلاں دشمن اہلبيت ايسي کتاب
لکھتا ہے جس ميں شيعوں کے حقائق اور ان کے اعمال کا مذاق اڑايا گيا ہے
تو بلا فاصلہ فوراً ہي عبد الجليل رازي قزويني اس کا حق اس کو پلٹاتے
ہوئے ايک کتاب ’’ النقص ‘‘ نام کي تحرير کر ديتے ہیں ۔ لہذا جس شخص نے
بھي فقہي اور کلامي سلسلے ميں اور بالخصوس شيعوں سے پوري قوت و طاقت کے
ساتھ جواب ، علمي زبان ميں پاتا رہا ہے اور اس طرح دشمن ، رقيبوں اور
حريفوں کي تلخ باتيں کسي نتيجے تک نہیں پہنچ سکيں ۔
خر تک يہي کيفيت رہي ہے ۔ ہندوستان
ميں ايک شخص اٹھا جس نے تحفہ اثنا عشريہ نامي کتاب تحرير کي جو شيعوں
کي مخالفت ومذمت اور بظاہر اہلبيت کي ستايش ميں لکھي تو حامد حسين نے
’’ عبقات ‘‘ نامي کتاب اس عظمت کے ساتھ اس کے جواب ميں رقم کي اور جہاں
تک ميري نظر ميں ہے تحفہ اثنا عشريہ کي رد ميں تقريباً دس کتابيں لکھي
گئي ہیں ۔
ميں ايک فہرست ديکھ رہا تھا کہ جو ہندوستان کے شيعہ علمائ کي کتابوں سے
متعلق تھي يقينا جن ميں چوٹي کے علمائ اور صف اول کي بزرگ ہستياں بھي
ہیں ۔ ميري نظر ميں دس جواب يا شايد اس سے بھي زائد تو فقط اسي ايک
کتاب ( تحفہ اثنا عشريہ ) کے لئے لکھے گئے ہیں ۔ لہذا حوزہ ہاي علميہ
اپنے زمانے سے ہرگز پيچھے نہیں رہے ہیں کوئي شخص جب سامنے جاتا تھا اور
ايک کتاب تحرير کر کے اپني باتيں بيان کرتا تھا تو وہ ايک نسخہ تحرير
کر ديتا تھا دوسرا اس کو منتشر کرتا تھا اور کچھ دوسرے لوگ پڑھا کرتے
تھے جب چار دمي کچھ دنوں ميں با خبر ہوا کرتے تھے تو کوئي شيعہ عالم
بھي بعينہ اسي انداز ميں جواب دے دیا کرتا تھا اور کبھي تو اس سلسلہ
ميں ان لوگوں سے بہتر اور تند و تيز اقدام انجام ديتا تھا اور کبھي ان
سے پيچھے نہیں رہا کرتا تھا ۔
شہيد اول کے زمانے تک ہماري فقہي کتب
جيسے علامہ کي کتاب يا فخر المحققين کي کتاب زيادہ تر فقہائ اہل سنت کے
نظريات پر بھي ہوا کرتي تھيں ۔ مگر اس زمانے کے بعد سے زيادہ تر شيعوں
کي کتابوں ميں اہل سنت کے نظريات ذکر نہیں کئے جاتے ہیں ۔ پ جب غور
کريں گے تو ديکھيں گے کہ ان کتابوں ميں فقہائ اہل تسنن کے نظريوں کا
جواب متعدد دليلوں سے ديا گيا ہے ۔ صرف کتاب ’’ خلافت ‘‘ کو مت ديکھئے
کہ شيخ طوسي
۲
نے اس ميں تنہا اجماع سے تمسک کيا ہے ۔ زيادہ تر محکم استدلال علامہ کي
، يا دوسروں کي کتابوں ميں ہیں بلکہ خود شيخ کي کتاب ’’ مبسوط ‘‘ ميں
بھي ہے ۔
ليکن اج ايسا نہیں ہے ج حوزہ علميہ
اپنے دور سے بہت پيچھے ہے ذرہ ذرہ کي بات نہیں ہے ۔
اس کي مثال يونہي ہے کہ دو گھوڑے سوار
ہوں اور کسي وادي ميں ايک دوسرے کے ساتھ جائيں اور ايک کا گھوڑا دوسرے
گھوڑے سے تيز دوڑ رہا ہو اور وہ کہ جس کا گھوڑا بہت سست رفتار ہے بعد
ميں کسي گاڑي کو حاصل کر لے تو فطري طور پر ظاہر ہے کہ وہ شخص جس کا
گھوڑا بہت تيز رفتار ہے وہ اس ( گاڑي والے ) کي گرد تک بھي نہیں پہنچ
سکے گا ۔ اس وقت کي صورت حال بالکل ايسي ہي ہے موجودہ دور ميں فقہ اور
فلسفہ اور کلام و حقوق کي امواج دنيا پر چھا چکي ہے اور ہم جب اپني طرف
ديکھتے ہیں تو خود کو اس زمانے سے بہت زيادہ فاصلہ پر پاتے ہیں ۔
حتيٰ کہ موضوع اخلاقي سے متعلق بھي
ايسا ہي ہے ۔ حوزہ کے بزرگ علمائ ميں سے ايک صاحب نے جو اس وقت يہاں پر
تشريف فرما ہیں ، ج سے چند سال قبل انگلينڈ کا ايک سفر کيا تھا ۔ وہاں
پر ايک کتاب خانہ ديکھا تھا مجھ سے وہ فرما رہے تھے کہ اس کتاب خانہ کا
ايک طبقہ اخلاقي کتابوں سے مخصوص تھا جو چند سال کے اندر انگريزوں نے
لکھي ہیں ، ان چند سال ميں حوزہ علميہ قم سے کتني کتابيں اخلاق سے
متعلق لکھي گئي ہیں ؟ ان لکھي ہوئي کتابوں کا ہزارواں حصہ يا دس
ہزارواں حصہ بلکہ ميں سمجھتا ہوں کہ اس سے کچھ کم ہي ہوں گي ۔ عمدہ بات
يہ ہے کہ يہ اس اخلاق کي صورت حال ہے جس کے بارے ميں پ جانتے ہیں کہ
مغرب والے اس سے بہت زيادہ مانوس نہیں ہیں ۔ اگر چہ ان کي اخلاقي
کتابيں زيادہ تر فلسفہ اخلاق اور اخلاق کي ترديد نيز غير معنوي اخلاقي
يا مادي اخلاق کے بيان پر مشتمل ہے ۔ ہمارے حوزہ ميں معراج السعادۃ اور
جامع السعادات کے بعد کون سي کتاب لکھي گئي ہے ؟ ہاں ادھر بعد ميں چند
اخلاقي کتابيں لکھي گئي ہیں مگر جو چيز ممکن ہو کہ علمي کتاب کے عنوان
سے پيش کي جا سکے وہ کہاں ہیں ؟
بعينہ يہي باتيں حقوق سے متعلق ہي
مشاہدے ميں تي ہیں ۔ پ خود ہي ديکھ ليں کہ مدني حقوق نيز سزا کے متعلق
حقوق اور ديگرحقوق کے مباحث کي انواع و اقسام سے متعلق قسم قسم کي جو
تحقيقيں پيش ہو چکي ہیں يہ کام مغربي دنيا يا پھر شيعوں کے علاوہ دوسري
اسلامي دنيا ميں انجام پايا ہے ۔ ہميں اس ميدان سے انصافاً اعتراف کرنا
چاہيے کہ ہم بہت پيچھے رہ گئے ہیں ۔ جب کہ يہ ہمارا ہي خصوصي موضوع ہے
اور زيادہ تر حوزہ کا موضوع تقريباً فقہ ہے ۔
ديکھئے کہ دوسروں نے کيا کيا کام
فلسفہ اور کلام نيز کلام جديد کے بارے ميں کيا اور فلسفہ دين و مباحث
دين شناسي کے عنوان سے کيا کيا مطالب تحرير کئے ہیں ۔ اور کس قدر زيادہ
کام انجام دیا ہے ۔ ممکن ہے کہ يہ سب غلط بھي ہو ليکن تب بھي ايک فکري
سرمايہ اور فکري موج تو ہے کہ جس نے معاشرت کي ذہني فضا کا کچھ حصہ
مشغول کر رکھا ہے يا کرنے والا ہے ۔ پ اس وقت کہاں ہیں ؟ کس طرح سے ان
کا مقابلہ کرنا چاہتے ہیں ؟ کہاں ہے وہ عبدالجليل رازي قزويني جو اس
دور کي مناسبت سے بھي النقل لکھ سکے ۔ نہ صرف يہ کہ ايک کتاب کي حاجت
ہے بلکہ ضروري ہے کہ دسيوں ہزار کتابيں اس ميدان کے لئے لکھي جائيں ۔
ج کي دنيا امواج کي دنيا ہے ۔ شعاعوں اور کمپيوٹر کے ذريعہ سارے مفاہيم
دنيا کے اس سرے سے اس سرے تک منتقل کئے جا رہے ہیں ۔ ج ( دنيا کي ) دور
ترين لائبريري پانچ منٹ کے اندر اس کتاب کے مطالب کو جو امريکہ کي
عمومي لائبريري ميں ہیں ، خود اپنے کاغذ پر چھاپ سکتي ہے اس عنوان سے
مطالب منتقل ہو رہے ہیں ہم اس دنيا ميں پيچھے رہ گئے ہیں پھر کيوں اس
کا انکار کريں کہ يہ ايک عيب واقعاً ہمارے ج کے حوزہ ميں موجود ہے ۔
دوسرا عيب جو ميرے خيال ميں ہم سے ہي مخصوص ہے اور سابق ميں يہ عيب ہم
ميں نہیں تھا ۔ وہ يہ ہے کہ ہم اس وقت کے حوزہ ميں موجود انسانوں سے
کما حقہ استفادہ نہیں کر رہے ہیں ابھي اس وقت بھي حوزہ علميہ قم ميں
ہزاروں ذي استعداد فاضل طلاب اور بہترين نوجوان پائے جاتے ہیں کہ اگر
ذرا سي ان پر توجہ دي جائے تو وہ اپني جگہ اور منزل سے ہمکنار ہو جائيں
اور ايسے لوگوں سے جو کام ہو سکتا ہے وہ انہیں سے کروايا جائے اور ان
کو دوسرے امور ميں تلف کرنے سے مانع ہوا جائے تو ان ميں سے ہر شخص اس
کمي اور خلائ کو کسي حد تک پر کر سکتا ہے ۔
ظاہر ہے کہ يہي عيب ہمارے دور ميں بھي
تھا جس زمانے ميں ساکن حوزہ تھا اس وقت بھي يہي عيب تھا ليکن ميں
سمجھتا ہوں کہ سابق ميں ايسا نہیں تھا جيسے کہ علامہ حلي
۲
نے چلتا پھرتا مدرسہ بنا رکھا تھا او وہ ’’ الجايتوي خدا بندہ ‘‘ کے
ہمراہ مختلف علاقوں ميں جايا کرتے تھے اور اپنے ساتھ مدرسہ ( کے
لوازمات ) اور طلاب کو بھي لے جايا کرتے تھے ۔ کچھ تاريخي داستانيں ہیں
جو انسان کو اس شک ميں مبتلا کرتي ہیں کہ شايد اس وقت کا حوزہ واقعي
طور پر انسان جيسي ہستي سے صحیح استفادہ کرتا تھا ۔
حوزہ ميں کچھ فاش کمياں ايسي ہیں جو
اپنے دامن ميں موجودہ عيوب کي کہاني سنا رہي ہیں پہلے ہم ان کميوں کي
طرف متوجہ ہوں پھر ديکھيں کہ يا وہ ہميں قبول بھي ہیں يا نہیں ! ان
کميوں ميں سے ايک ’’ روحانيت کي کمي اور متناسب وسعت کا نہ ہونا ہے ‘‘
صحیح ہے کہ اس وقت اس دور کے اعتبار سے روحانيت دس گنا يا ايک لحاظ سے
سو گنا بڑھ چکي ہے ۔ اس کے باوجود بھي ابھي ہم ضرورت کے مطابق ، وسعت و
اضافہ نہیں کر سکے ہیں ۔ يعني مسجديں ، يونيورسٹياں ، ديہات ، کارخانے
اور چھاونياں ابھي بھي ايسي پائي جاتي ہیں جن ميں مسلمان ہیں اور عالم
کي فيوض سے محروم ہیں ۔ بنا بر ايں يہ عظيم نعمت ( روحانيوں کي ) جو پ
مشاہدہ کر رہے ہیں اپني تعداد کے اعتبار سے ابھي بھي ناکامي ہے اور يہ
ايسي واضح کمي ہے کہ جن کا کوئي بھي شخص انکار نہیں کر سکتا ہے ۔
گذشتہ دور ميں بعض بڑے بڑے شہروں ميں
دس مجتہد ہوا کرتے تھے جو ايسے ہوتے تھے کہ ان ميں سے ہر ايک دو سو
اچھے شاگرد تيار کرنے کے لئے کافي تھے ۔ ليکن ج ان جيسا ايک دمي بھي ان
شہروں ميں نہیں پايا جاتا ہے ۔ بعض جگہ تو ايسے عالم ہیں جو عملي اور
فکري توانائي بھي نہیں رکھتے يا پھر وہ زيادہ تر کام ميں جي نہیں لگاتے
۔ البتہ بعض ايسے بھي ہیں جو بہت اچھے ہیں ليکن بعض مقامات پر يہ
مشکليں موجود ہیں ۔
ايک دوسري کمي حوزہ کي جو واضح ہے ’’
حوزہ ميں مواد و مفاہيم کا زيادہ نہ ہونا ہے ‘‘ ہم فقہ و کلام کے بہت
سے حل نشدہ مسائل رکھتے ہیں ۔ ضروري معارف کا مجموعہ بھي جو ايک عالم
دين کے پاس ہونا چاہيے وہ بھي بہت کم ہے ۔ مختلف جگہوں پر ايسے بھي
عالم بھي موجود ہیں جن کو ج کي ضرورت کے مطابق جتنا جاننا چاہيے اتنا
نہیں جانتے ہیں ۔ اس چيز کو بھي ہم حوزہ کي کافي وسعت کے نہ ہونے کے
دائرہ ميں رکھتے ہیں ۔ يعني اس کو حوزہ ميں مواد و
matter
کے کم ہونے کي دليل جانتے ہیں ۔
تبليغ و نشر و اشاعت کا وافر مقدار
ميں نہ ہونا يہ بھي حوزہ کي کميوں ميں سے ايک کمي ہے ۔ فرہنگي و ثقافتي
موجيں من جملہ ان ميں سے کتابيں ، اخبارات و رسالے حوزہ سے بہت زيادہ
نہیں نکل رہے ہیں ۔ مبلغين بھي ضرورت کے مطابق حوزے سے نہیں بھيجے جا
رہے ہیں ۔ ج عالمي پيمانے پر ( افريقہ ، يورپ ، اور ايشيا ) ہم سے بار
بار علمائ کے لئے مطالبہ ہو رہا ہے ۔ ميں نے ١٣٧٠ش ( ١٩٩١ئ ) ميں ايسي
ہي نشست ميں پ کي خدمت ميں عرض کيا تھا کہ بعض شخصيتيں کہ جو کسي کام
کے تحت ملک سے باہر کا سفر کرتي ہیں جب پلٹ کر تي ہیں تو کہتي ہیں کہ
فلاں جگہ کي يونيورسٹي کے طلبائ کو ديکھا کہ وہ کس قدر علمائ کے محتاج
ہیں وہاں کسي کو کيوں نہیں بھيجتے ؟ تو ہم ان سے کہتے ہیں کہ بہت اچھا
ہوا کہ پ ان کے علاج کے لئے وہاں تشريف لے گئے اور وہاں اس حقيقت کو
اپني نکھوں سے دیکھ ئے ۔
ج دنيا کے ہر خطہ ميں بہت سي
درخواستيں موجود ہیں ۔ يہ جو کمياں پائي جا تي ہیں جن کا انکار بھي
نہیں کيا جا سکتا ۔ يہي وہ موارد ہیں جو اس با عظمت حوزہ کي عظيم فضا
ميں موجود اندروني عيب کي رہنمائي کر تے ہیں ۔ بہر حال يہ وہ عيب ہیں
جو ان خوبيوں نيز ان محققوں اور فضلائ کي شخصيتوں اور ان کي بہترين
تلاش کے ہمراہ پائي جاتي ہیں ۔
البتہ اس حوزہ ميں کئي افراد ايسے بھي ہیں جو ان امور کو انجام بھي
ديتے ہیں اور واقعي بيٹھ کر کتابيں لکھتے ہیں اگر انہیں فرصت ملي تو
سفر پر جاتے ہیں ۔ بھوک و پياس کي منزلت طے کرتے ہیں ، اگر جنگ کا محاذ
کھل جائے تو محاذ جنگ پر جاتے ہیں ۔ اگر تبليغي محاذ کے لئے ضرورت ہو
تو وہاں جاتے ہیں ، اگر ان کو ملک سے باہر سفر کي دعوت دي جاتي ہے تو
وہ قبول کرتے ہیں ۔ اگر ديہات جانے کي دعوت دي جاتي ہے تو وہاں جاتے
ہیں ۔ اس طرح کے افراد بھي ہیں ۔ ليکن يہ سب فردي کارنامے ہیں جو
ناکافي ہیں ۔ يہ سب ايسي کمياں ہیں جو پائي جاتي ہیں اور ان کميوں کے
اسباب بھي داخلي ہیں جنہیں ڈھونڈ نکالنا بے حد ضروري ہے ۔
پہلا سبب يہ ہے کہ فقہ جو ہمارا اصلي کام ہے اس کو ابھي نئے ميدانوں
ميں وسيع پيمانے پر اجاگر کرنے کا موقع نہیں ملا ہے ۔ ج بھي بہت سے
ايسے مسائل ہیں کہ فقہ کو جن کا فريضہ معلوم کرنا بہت ضروري ہے مگر
ابھي تک معلوم نہیں کر سکي ہے ۔ فقہ کے اندر ايسي توانائي ہے ليکن
طريقہ کار کچھ ايسا ہے کہ کسي بھي کار مد محقق اور فاضل نے ابھي تک اس
سلسلہ ميں کوئي قدم نہیں اٹھايا ۔ جيسا کہ پيسوں کو ہي لے ليجئے واقعاً
يہ پيسے ہیں کيا ؟ درہم و دينار جو اس قدر کثرت سے مختلف فقہي ابواب
مثلاً زکات ، ديات اور مضاربہ وغيرہ ميں ان کا ذکر ہوا ہے ۔ وہ ہیں کيا
؟ کيا ضروري ہے کہ درہم و دينار کي صورت ميں ادائيگي اور ان کے موضوع
پر بحث کي جائے اور ان کے مسائل کو روشن ہو نا چاہيے ۔ بہت سان ہے کہ
ہم بينک کے نظام کو ( پيسے اور امانتوں سے ہٹ کر ) قرض کے تحت اور وہ
بھي سودي قرض کے دائرے ميں رکھ کر اس کے اطراف کراس ( ) بناديں مگر کيا
وہ جگہ نہیں ہے کہ جس ميں گہرائي ميں اتراجائے اور ديکھا جائے کہ يا
واقعي طور پر قرض ہے بھي کہ نہیں ؟ ہم بينک کو جو پيسہ ديتے ہیں وہ
بينک کو قرض ديتے ہیں يا بينک ہم سے قرض ليتا ہے يہ کس نے قبول کيا ہے
؟ پ تو بينک ميں امانت رکھتے ہیں اس کو تو قرض نہیں ديتے ۔
اس طرح کے بہت سارے مسائل ہیں ۔ پيسوں
کي وقعت کي بحث اور وہ سمانوں سے باتيں کرنے والي اور شديد گراني ميں
کيا ، کيا جانا چاہيے ؟ وہ گراني نہیں جو ہر معاشرے کي روز مرہ کي
زندگي ميں قہري طور پر پيدا ہوتي ہے اور جو معاشرے کے رشد و کمال کي
موجب ہوتي ہے ۔ اگر اتني مہنگائي نہ ہو تو معاشرتي زندگي ميں ٹھہراو
جائے گا ۔ ہم ان موارد کي بات نہیں کر رہے ہیں ، ہمارا مقصود يہ بيس ،
تيس ، پچاس ، فيصد مہنگائي ہے اور يہ تين عددي مہنگائي ہے جو ايک ہفتہ
سے دوسرے ہفتہ کے اندر پيسے کي وقعت ختم ہو جاتي ہے ۔ اس صورت حال ميں
پيسوں کا قضيہ کا کيا ہوگا ۔ پيسوں کي ادائيگي اور قرض جو ايک دوسرے سے
ليا جاتا ہے اس کي کيا نوعيت ہو گي ؟ اگر چھ ماہ پہلے پ سے قرض کے طور
پر ايک سو روپئے لئے تھے اور اب ہم واپس کرنا چاہتے ہیں تو کيا وہ سو
روپئے اس وقت کے سو روپئے کے مساوي ہیں ؟ بالخر اس مسئلہ کي نوعيت فقہ
ميں واضح ہونا چاہيے ۔ ان کاموں کے لئے کوئي ميزان و مدرک درست ہونا
چاہيے ۔ اگر چہ انسان اپنے امور کو اطلاقات اور عمومات کے دامن ميں
پناہ لے کر سان کر سکتا ہے ليکن اس طريقہ سے مسائل حل نہیں ہو سکتے ہیں
۔
بہت سے حکومتي مسائل ہیں ، ديتوں کي بحثيں ہیں ، حدود کي بحثيں ہیں او
بھي عدالتي امور کے مسئلے ، ہماري با عظمت عدالتوں کے محکمے کے ايسے
مسائل ہیں کہ جن کا فقہي حل ابھي بھي نہیں ہے اور ان کے احکام نا معلوم
ہیں ۔ ظاہر ہے کہ يہ گذشتہ افراد کي کوتاہي نہیں ہے ۔ کيونکہ انصاف ،
ديات اور حدود وغيرہ در پيش نہیں تھے مگر ج يہ ہماري کوتاہي ہے ، ہمارا
قصور ہے ۔ مرحوم محقق اردبيلي جب جہاد کي بحث ميں وارد ہوئے تو فرماتے
ہیں کہ يہ بحث ہماري ضرورت کي نہیں ہے ۔ وہ بزرگوار ہیں ہم سے زيادہ
واقف ہیں وہ خود جانتے ہیں کہ کس طرح سے جہاد کرنا چاہيے ليکن چونکہ
حقيقت ميں اس مسئلہ کي ان کو ضرورت نہ تھي اور مبتلا بہ بھي نہیں تھا ۔
پھر بھي مہرباني کرتے ہیں ۔ ج تو يہ جہاد ہماري ضرورت ہے خود يہي جہاد
کا مسئلہ ہي ہماري فقہ ميں صحيح طور سے واضح نہیں ہے ۔ بہت سے امر
بالمعروف و نہي عن المنکر نيز حکومت اور انسان کي روز مرہ کي زندگي سے
مربوط مسئلے ، ازدواج کے مسئلے ، تشريح کے مسائل ايسے ہیں کہ فقيہ کو
ان ميدانوں ميں ورود ہونا ضروري ہے ، ايک سرسري نظر ميں ان کو نہیں
ديکھا جا سکتا صرف اسي خيال ميں کہ ہم ان کو حل کر سکتے ہیں ۔ نہیں !
بلکہ يہ بھي فقہ کے باقي ابواب کي ہي طرح ہیں ۔
پ ملاحظہ فرمائيں عبادات و طہارات و
صلاۃ کے باب ميں ہماري فقہ نے کتني دقتيں کي ہیں ۔ يہ فکري جولاني کي
دليل ہے ۔ يہ برائي بھي نہیں ہے ۔ لوگ سوال کرتے ہیں کہ خر اتني دقت کي
کيا ضرورت ہے ؟ اس کا جواب يہ ہے کہ ذہن ميں جولاني پائي جاتي ہے وہ
کام کرتا ہے ، البتہ يہ ممکن ہے کہ ج کي اوليت اور تقدم سابق کي اوليت
سے الگ ہو ۔ ج دوسري چيزوں کو تقدم حاصل ہے جن کے لئے ذہن کو استعمال
ميں لانا اور کام کرنا اور ان موارد کو عمومي بحثوں ميں شامل کرنا بہت
ضروري ہے ۔
تغيير نہ دينا ، يعني مواد فقہ کے
فقاہت کے مسئلہ ميں غور و فکر کا انجام نہ دينا ہے ۔ فقاہت اس چيز کے
استنباط کرنے کي ايک روش اور سليقے کو کہتے ہیں جس کا نام ہم فقہ رکھتے
ہیں ۔ يہ ايک ايسي چيز ہے کہ جب تک اس درس کو پڑھا نہ جائے يہ نہیں
جانا جا سکتا ہے کہ کس طرح قرن اور سنت سے استنباط کيا جائے ۔ فقاہت
يعني جد و جہد کا طريقہ ، خود اس مسئلہ ميں بھي پيشرفت کي ضرورت ہے ۔
يہ جتنا ابھي ہے وہ کامل نہیں بلکہ صرف شکلاً کامل ہے ۔ يہ دعويٰ ابھي
نہیں کيا جا سکتا ہے کہ ہم فقاہت کي عالي ترين چوٹي پر کھڑے ہیں اور اس
انداز اور طريقہ سے عمدہ اب اور کوئي طريقہ نہیں مل سکتا ۔ نہیں ايسا
کيسے ممکن ہو سکتا ہے ؟ شيخ طوسي
۲ جيسے عظيم ملا کے پاس بھي فقاہت تھي
۔ ان کے فقہي سلسلہ کا ايک فتويٰ اٹھائيے اور بتائيے کہ ج کون مجتہد ان
کي طرح سے بحث کرنے پر راضي ہے ؟ وہ فتوے سادے اور سطحي ہیں ۔ ج کا
مجتہد ہرگز ان کي نہج پر کام کرنے اور ان کي طرح سے استنباط کرنے پر
راضي نہ ہو سکے گا ۔
فقاہت نے متعدد زمانوں ميں مکمل
مسيرطے کيا ہے۔ انسان اگر يونہي نگاہ اٹھاکر بھي اگر تاريخ فقاہت کو
ديکھئے تو بھي مختلف نہج کر درک کرے گا ۔ ظاہر ہے کہ نظرئے الگ الگ ہوا
کرتے ہیں ۔ ميں سمجھتا ہوں کہ شيخ طوسي
۲ کا الگ انداز ہے ۔ اور علامہ کے
زمانے کا الگ شيوہ ہے ۔ پ کو علامہ کہتے ہیں محقق نہیں کہتے جب کہ
قاعدۃً يہ دونوں لوگ ايک ہي طرح کے ہیں ۔ وجہ يہ ہے کہ علامہ
۲
کي کاوشوں ميں استدلالي بحث زيادہ ہے اور انسان بہت حد تک سمجھ سکتا ہے
کہ اس مسئلہ ميں کس طرح سے انہوں نے کام ليا ہے ليکن محقق کے رويہ ميں
اس کو اتني وضاحت سے نہیں سمجھا جا سکتا ہے ۔
اس کے بعد تقريباً ڈھائي سو سال کا
ايک زمانہ گذرتا ہے پھر محقق کرکي
کے زمانے ميں ايک نيا باب
کھلتا ہے اور واضح طور پر انسان کے لئے روشن ہو جاتا ہے کہ محقق کرکي
کے استنباط کي کيفيت علامہ
کے
استنباط کي روش سے جداگانہ ہے ۔ وہي فقاہت ہے ، مگر مکمل طور پر ہے ۔
پھر بعد ميں ايک نيا سلسلہ ہے جو وحيد بہبہاني کے تلامذہ کا ہے ۔ يہ
زمانہ اصولي فقاہت کے پھلنے پھولنے کا ہے ۔ صاحب رياض ، صاحب قوانين
اور شيخ جعفر کاشف الغطائ اور سيد بحر العلوم اسي سلسلے کي کڑياں ہیں ۔
ان کے بعد شيخ انصاري
اور
صاحب جواہر کا زمانہ جاتا ہے البتہ اس سلسلے ميں فقاہت کے طريقے اور
انداز ميں تحول يا ہے وہ شيخ کے يہاں صاحب جواہر کي بہ نسبت زيادہ نظر
تا ہے ۔ ہر چند خود صاحب جواہر کا طريقہ بھي نيا ہي ہے ۔ ليکن شيخ
انصاري
کے
بعد اگر ہم نئے سلسلے کو ڈھونڈيں تو ميري قاصر نظروں ميں وہ زمانہ يت
اللہ بروجردي
کا ہے جس ميں فقاہت کي دنيا
ميں کچھ تبديلي رونما ہوئي ہے ، يہ نيا سلسلہ اور نيا باب پ جيسے
بزرگوار کے سبب سے قائم ہو سکا ہے ۔
کسي دليل کي بنا پر خر ہمارے ان
بزرگواروں اور افاضل حضرات نيز محققوں ميں يہ جرآت نہیں ہے کہ وہ اس
شيوہ کو گے بڑھا کر اس کو پايہ تکميل تک نہ پہونچا سکيں ؟ ممکن ہے بہت
سے مسئلے دوسرے مسائل کي گتھي کو سلجھاديں اور نتائج بدل جائيں ، روش
ميں تبديلي جانے ، طريقہ کار جب بدلے گا تو بہت سے مسئلوں کے جواب بھي
شکل بدل کر دوسرے پہلو سے ئيں گے ۔ يہ تمام وہ امور ہیں جن کو انجام
پانا ضروري ہے ۔
آج کے محقق کو اسي دائرے ميں محدود
نہیں رہنا چاہيے جس ميں کام مثلاً شيخ انصاري کر گئے ہیں ۔ اس دائرے
ميں اور وہ بھي عميق ہوجانا کافي نہیں ہے ۔ ايک محقق کو نئي دنيا کشف
کرنا چاہيے يہ کام تو گذشتہ لوگوں نے بھي کيا مثلاً شيخ انصاري نے دو
دليلوں کي پس ميں نسبت سے حکومت کو کشف کيا ہے اور ايک نئي دنيا ،
حکومت کي ايجاد کي ۔ اس کے بعد والوں نے کر اسي پر سر دھنا اور گہري
نظرسے فکرکي وادي ميں اتر کر اس کو وسيع سے وسيع تر بنا گئے اور سب کي
فکر کا مرکز قرار دے ديا ۔
فقاہت ميں نئي دنيا کا باب قائم کرنا
اور اس کو پھيلاوا دينا ضروري ہے خر کيا وجہ ہے کہ ہمارے بزرگوں اور
فقيہوں نيز محققوں سے يہ کام سر انجام نہ ہو سکے ؟ حقيقت تو يہ ہے کہ
اس زمانے کے بعض بزرگ اور ہمارے زمانے بعض بزرگ ہي ہیں جو علمي قوت اور
دقت نظر کي بہ نسبت اس دور کے اسلاف سے ہرگز کمتر نہیں ہے مگر اس ارادہ
کو حوزہ ميں کام ميں لايا جائے ۔ اتني جرات و جسارت پيدا ہو اور حوزہ
اس کو قبول کرے ۔ با وجود اس کے کہ حوزہ ميں نئي بات کو جو بات قابل
قبول بھي ہو انکار نہیں قرار پانا چاہيے ۔
دوسرا عيب علم کلام کا لازم اور ضروري
مقدار ميں وسعت نہ پانا ہے کہ در حقيقت يہ ايک بہت درد ناک مصيبت ہے ۔
اس درد ناک اور تلخ ترين حادثہ کا کام طاق نسياں ميں قرار پانا ہے ۔
اسلام اور اہلبيت کا علمي ادارہ پہلي منزل ميں کلام کا حوزہ تھا پھر
فقاہت کا اور ہمارے بڑے بڑے فقيہ ، متکلم ہوا کرتے تھے ۔ پ غور فرمائيں
ہمارے حوزہ ميں اس وقت کلام منسوخ قرار پا چکا ہے ۔ جب کہ ج زيادہ تر
حملہ ہم پر کلامي بحثوں سے ہي ہو رہا ہے ۔
جيسا کہ ہم نے کہا کہ سابق ميں ہم کسي
سے پيچھے نہیں تھے اور جو کچھ بھي کہا کرتے تھے فوراً ہي اس کا جواب
حاضر تھا ۔ مگر ج دنيا ميں جس کثرت سے کلام کي بحثيں چھيڑي جا رہي ہیں
ابھي حوزہ کو اس کي خبر بھي نہیں ہے ۔ پ جانتے ہیں کہ ج دنيا ميں دين
شناسي اور فلسفہ دين سے متعلق کس قدر بحثيں چھڑي ہوئي ہیں اور کون لوگ
تصنيف ، تحقيق اور بيان کر رہے ہیں اور ہم کو خبر بھي نہیں ہے ؟ يہ بڑا
عيب ہے ۔
البتہ ايک دو حوزہ ہي ميں رہنے والے
لوگ ايسے ہیں کہ جنہوں نے قيمتي فرائض انجام دئے مگر يہ کام کسي منظم
حوزہ کا کام نہیں ہے ۔ فردي کام منظم کام سے الگ ہوا کرتا ہے ۔ حوزہ کے
نظام کو چاہيے کہ وہ اس کا جواب دے ۔ چنانچہ اگر کوئي شخص سامنے يا اور
اس نے کسي شہر ميں کوئي نتيجہ خيز کام کيا تو اس کو حوزہ کي زمرے ميں
نہیں رکھا جا سکتا ہے ۔ انصاف کي بات يہ ہے کہ خود حوزہ نے اس سلسلہ
ميں کوئي اقدام نہیں کيا ہے ۔
اگر ہم علم کلام کے بارے ميں کام سے
متعلق کچھ گفتگو کر رہے ہیں تو فوراً ہي ذہن کو چار عدد علم کلام سے
متعلق کتابوں کي طرف نہ منتقل ہونے ديں ۔ حوزہ کا کام زندہ کتابيں ہي
نشر کرنا نہیں ہے بلکہ فکري رشد کو بڑھانا بھي حوزہ کا ہي کام ہے ۔ جب
افکار ميں رشد کي قوت بڑھے گي تو نشر کي نوبت خود ہي ئے گي ۔ نشر
واشاعت ثانوي حيثيت کا درجہ رکھتے ہیں ۔ ايسا ہم کو خيال نہیں کرنا
چاہيے کہ دس کتابيں کسي مسئلہ سے متعلق لکھ دي گئيں تو بات ختم ہے ۔
نہیں حوزہ کے لئے ضروري ہے کہ وہ علم کلام کے ميدان ميں اترنے کے لئے
نئي افکار پيدا کرے ۔
ميرے عزيزو ! ج نئے اور خطرناک شبہات
پائے جا رہے ہیں ۔ وہ پرانے شکوک ختم ہو چکے ہیں ۔ ج ’’ ابن کمونہ ‘‘
کے شبہ کو کوئي پيش نہیں کر تا ہے ۔ ج تو بڑے بڑے شک علم کلام کے ميدان
ميں اٹھ رہے ہیں ۔ توحيد کي بنياد سے لے کر ضروريات دين تک وجود صانع ،
نبوت عامہ ، نبوت خاصہ اور مسند ولايت نيز بھانت بھانت کے مسائل جو
اسلامي اور ديني ميدانوں ميں وارد کئے جا رہے ہیں ۔ ان کو ديکھئے یہ سب
مورد بحث ہیں ۔ ج ان سب ميں شبہات کھڑے کئے جا رہے ہیں ۔ اب شبہات کا
جواب دينا کس کا فرض ہے ؟ کيا علمائ ، عقائد کے محاذ کے نگراں نہیں ہیں
؟ کيا عقيدوں کے محاذ پر اپنا پاسباں نہیں رکھتے ، سنسان پڑے ہیں ؟ خر
يہ يتيمان ل محمد ٴ جو ان خطرناک شبہوں کي موج ميں اسلحہ کے بغير ہي
پھنسے ہوئے ہیں ۔ ان کا پرسان حال کون ہے ؟ ان کا جواب خدا کو کون دے
گا ؟
صورت حال يہ ہے کہ جب ہمارے معاشرے
ميں کسي نے گستاخي کرتے ہوئے بلند واز سے کوئي شبہ وارد کيا تو بجائے
اس کے کہ ايک ساتھ دس وازيں اٹھيں اور وہ بھي بغير غم و غصہ کا اظہار
کئے ہوئے شبہ کا جواب ديں کہ ہم غصہ ميں جاتے ہیں اور وبال کھڑا کر
ديتے ہیں اور جھگڑا شروع کر ديتے ہیں ۔ حالانکہ جب ہم تہي دامن ہي نہ
ہوتے تو جھگڑا کيوں کرتے ؟ کوئي ايک شخص کوئي مقالہ لکھتا ہے غير منطقي
باتيں کسي استدلال کو بيان کرتا ہے يا غلط استدلال اور مغالطہ سے کام
ليتا ہے ( جيسے کہ مشہور واقعہ ہے کہ سانپ لکھنے کے بجائے سانپ کي
تصوير بنا دي ) اسي وقت دس بيس يا سو مقالہ حوزہ علميہ قم سے نکل تے
اور ہر اخبار ، ہر رسالے کي زينت بن جاتے تو بات ہي ختم ہو جاتي ۔
ہر شخص غصہ ميں تا ہے اس کے لئے بھي
کوئي جگہ نہیں رہ جاتي ہے ، خر کيوں غصہ کريں ؟ افسوس کي بات نہیں ہے
کہ اس حوزہ اسلام اور اس استدلالي اور منطقي دين پر الزام لگايا جائے
کہ يہ استدلالي نہیں ہے اور پ جھگڑالو لوگ ہیں ، علاوہ اس کے ايک جھوٹ
بھي اس پر گڑھ ديں اور کہیں کہ پ لوگ سب کو کافر بناتے ہیں ۔ ہم نے اب
تک کس کو کفر کا فتويٰ ديا ہے ؟ کس قدر کافر ہیں جن کي تکفير تک ہم نے
نہیں کي ہے ، ج حوزہ کسي کو کافر نہیں بناتا ہے ۔ لہذا پہلا عيب تو فقہ
سے مربوط تھا اور دوسرا عيب جو ميري نظر ميں سب سے پہلے عيب سے بڑھ کر
ہے اور حقيقت ميں ايک عظيم درد ہے وہ علم کلام سے مربوط ہے کہ جس کي
مدد کو جلد سے جلد پہنچنا ضروري ہے ۔ پ کو بھي اسي طرح کرنا چاہيے ۔
تيسرا عيب جو پايا جاتا ہے وہ تبليغي
امور سے صحيح فائدہ نہ اٹھانا ہے ۔ اس حوزہ کا ايک بنيادي عيب تبليغ کا
مسئلہ ہے اور وہ يہ ہے کہ تبليغ حوزہ سے الگ ہو کر رہ گئي ہے ۔ البتہ
کچھ لوگ حوزہ ميں ايسے ہیں کہ جو اپني بعض وجوہات اور ضرورتوں کے مطابق
گرميوں ميں يا محرم اور رمضان المبارک ميں تبليغات کے لئے جانے پر
مجبور ہوتے ہیں ۔ پھر بھي حقيقت يہي ہے کہ حوزہ کے پاس تبليغ اور تبليغ
سے مربوط درس بھي نہیں ہے ۔ تبليغ ايک کام اور ايک فن ہے جو خود اپني
جگہ علم بھي ہو سکتا ہے بلکہ ہے اس کو بھي پڑھايا جانا چاہيے ۔ کوئي
اچھا ہوا کرتا ہے کوئي برا ، کوئي ايک بات کہنا چاہتا ہے دوسرا اس کے
خلاف کچھ کہنا چاہتا ہے اکثر ايسا ہوتا رہتا ہے کہ صحيح نہج سے تبليغ
سے شنا نہ ہونے کي بنياد پر کوئي ايک بات کہتا ہے اور خود اس کے ڈر کي
وجہ سے جس چيز کا نتيجہ اخذ کيا گيا ہے وہ اس کہنے والے کي مراد سے
جداگانہ ہے بلکہ وہ خود اس کي طرف متوجہ بھي نہیں ہے ۔ يا مثلاً وہ
تبليغ کرنے جا رہا ہے مگر تبليغي مزاج سے شنا نہ ہونے کي بنا پر لوگوں
سے ايسي باتيں کہتا ہے کہ جو ان سے کہنے کي نہیں ہے ۔ جس بات کو
يونيورسٹي ميں کہنا چاہيے وہ ديہات ميں کہہ رہا ہے اور ديہات ميں کہنے
والي باتيں کارخانے ميں کہتا ہے ۔ يہي وجہ ہے کہ تعليم اور علمي سطحوں
سے شنائي نيز تبليغ کرنے کے لئے علمي اقدامات فراہم کرنے کي ضرورت ہے
جيسے ماحول شناسي ، جامعہ شناسي کہ جو حوزہ ميں ہے ہي نہیں ۔
تبليغي مواد کي صحيح فراہمي جيسے
مباحث کو مرتب اور مشخص کرنا نيز اس سلسلہ سے مربوط کلام پيش کرنے کا
سليقہ مختلف سامعين کو پيش کرنے والي باتيں يہ سب ہیں ہي نہیں مثلاً
فلاں ملک ميں اگر جانا ہے تو يہ مطالب ضروري ہیں ، فلاں ملک کے لئے
دوسرے مطلب کي ضرورت ہے ، فلاں مطالب مفيد واقع نہیں ہو سکتے ہیں ،
اندرون ملک اور ديہات کا الگ سليقہ ہے ، بڑے شہروں کا دوسرا انداز ہے ۔
تہران ميں يوں ہے ، يونيورسٹي اور طلاب کے مجمع کي الگ روش ہے ، زنانہ
مجلس خطاب کرنے کا الگ انداز ہے ۔ يہ سارے سليقے ابھي حوزہ ميں انجام
نہیں پائے ہیں ۔ واز اور تصوير کے ذريعہ تبليغ کرنے کے طریقے ، يہ سب
يہاں سے انجام پانے چاہئيں ۔
ميں ان افراد ميں سے نہیں ہوں کہ جو
چيز بھي پيش ئے اس کو غيروں کے ساتھ قياس کروں اور اپنوں کو سرکوب کروں
، يہ بات پ کے علم ميں ہوني چاہيے ۔ ميں ان حقائق کو عزيز و گرامي
سمجھتا ہوں کہ جو ہمارے معاشرے ميں موجود ہیں ۔ ميں کبھي اس بات کا
قائل نہیں ہوں کہ دوسروں نے ترقي کي ہے ليکن بعض ايسي چيزيں ہیں کہ
انسان ديکھتا ہے کہ دنيا اس کے بارے ميں کيسے کام کرتي ہیں ۔
کليسا علم دين کے لحاظ سے صفر ہے ۔
البتہ بادريوں کے درميان بعض ايسے بھي ہیں کہ جو پروفيسر ہیں اور مختلف
موضوعات مثلاً (
Biology
) اور ( Botany)
کے بارے ميں درس پڑھ چکے ہیں ۔ يہ ايسے علوم نہیں ہیں کہ جن کا روحانيت
اور علمائ سے کوئي سروکار ہو ليکن بہر حال مسيحي علمائ ميں سے کچھ لوگ
اس ( علم دين ) کے پيچھے گئے ہیں ۔ معروف اکتشاف کرنے والوں ميں سے کچھ
لوگ پادري بھي ہیں اور انہوں نے رياضيات اور تاريخ پڑھي ہے ۔ ليکن
کليسا کے پاس مدون ، عميق اور استدلالي صورت ميں علم دين نہیں ہے ۔ اس
کے باوجود بھي وہ تبليغي لحاظ سے گے ہیں ۔
ان لوگوں نے بہت ساري فلميں بنائي ہیں
کہ جس کے ظاہر سے معلوم نہیں ہوتا ليکن وہ مسيحيت کي تبليغ ہے ۔ يہاں
تک کہ ( اسلامي جمہوري ايران کے ) ٹي وي ميں ہمارے دوست ، جنوري اور
کرسمس کے دنوں ميں ، اس لحاظ سے کہ ہمارے کچھ ہم وطن مسيحي ہیں ، ان سے
نرمي اور اچھے برتاو کے لئے چند مسيحي اور کليسائي فلميں دکھاتے ہیں ۔
يہ فلميں ميں نے ديکھي ہیں ۔ ميں نے ديکھا ہے کہ اکثر يہ کليسا کہ
تبليغ کرتي ہیں ۔ جس نے يہ فلميں دکھائي ہیں اس کي سمجھ ميں نہیں ئي ہے
، ليکن جو بھي اس فلم کو ديکھے گا متاثر ضرور ہوگا ۔ اس فلم ميں پادري
کو ايک نوراني چہرے کے ساتھ دکھايا جاتا ہے کہ جو فلاں کام کرتا ہے ۔
البتہ پادري ہر قسم کے ہوتے ہیں اور ميں ان سے گاہ ہوں ۔ اچھے پادري
بھي ہیں اور برے پادري بھي ليکن ميرا مقصد تبليغات ہیں کہ جو ہم نہیں
کرتے ۔
يہ کام ايسے نہیں ہیں کہ ايک رات ميں
ان کو انجام ديا جائے ۔ ج اگر پ لوگوں نے اس بارے ميں کام شروع کيا اور
صوتي اور تصويري امواج اور خاص کر تصويري امواج کو بنانا شروع کيا تو
شايد ئندہ دس برس تک يہ توانائي حوزہ علميہ کے لئے پيدا ہو ۔ ليکن في
الحال يہ صلاحيت ہم ميں نہیں ہے ۔ ہم رٹ سے فائدہ نہیں اٹھارہے ۔ کتاب
مقالے اور رسالے بھي ہمارے پاس نہیں ہیں ۔ وہ چيزيں تو (
Modern
) جديد اور ہماري پہنچ سے باہر تھيں ۔ ليکن کتاب اور مقالہ تو ہماري
دسترس سے دور نہیں ہے ۔ کيا يہ چيزيں بھي ہمارے پاس نہیں ہیں ؟ حوزہ
علميہ قم کي ، حوزہ ہونے کے اعتبار سے تبليغ دين کے سلسلے ميں کوئي
کتاب ، مطبوعات يا رسالے نہیں ہیں ۔ تبليغ کے بارے ميں نارسائي پائي
جاتي ہے ليکن امر تبليغ اس عنوان سے کہ نظام ( اسلامي ) سے مربوط ہے
حوزہ علميہ ميں کوئي اہتمام نہیں ہے ۔
حوزہ کے بارے ميں کہنے کو تو بہت سي
باتيں تھيں ليکن ميں خري فصل ميں کہ جو ان کميوں کا علاج ہے کے بارے
ميں گفتگو کرتا ہوں ۔
عزيزان من ! ج يہ مشکلات قابل علاج
ہیں ۔ ممکن ہے کل تک قابل علاج نہ تھيں اور نستجير باللہ ئندہ بھي ممکن
ہے کہ قابل علاج نہ ہوں ’’ قم فاغتنم الفرصۃ بين العدمين ‘‘ چار سال
پہلے جب ميں يہاں ( قم ) يا تھا ميں نے گفتگو کي تھي اور کہا تھا کہ
جواني کے دور ميں جب ہم نے تازہ تازہ ان افکار کو سيکھا و پڑھا تھا اور
حوزہ ہائے علميہ کے نئے افکار سے شنا ہوئے تھے تو اس وقت نئے منصوبوں
کو اجرائ کرنے کے لئے مناسب موقع نہیں تھا ۔ اس زمانے ميں بھي يہ افکار
موجود تھے ۔ يہ کوئي نئي باتيں نہیں ہیں ۔ ہماري مصيبتوں اور دردوں ميں
سے ايک يہي ہے کہ کئي برسوں سے انگيزہ اور مقاصد موجود ہیں ليکن ان
اہداف و مقاصد کي بہ نسبت بہت کم کام ہوا ہے ۔
مرحوم يت اللہ بروجردي
کے
زمانے ميں کہ جب امام خميني
مرحوم
يت اللہ محقق داماد
اور مرحوم يت اللہ حاج قاي مرتضيٰ
حائري
اس
دور ميں حوزہ علميہ کے پر نشاط جوان فضلائ ميں سے تھے ۔ وہ بھي انہیں
اہداف و مقاصد کے ساتھ قاي بروجردي
کے
ارد گرد جمع ہو گئے تھے ليکن بعد ميں بعض وجوہات کي بنا پر کامياب نہیں
ہو سکے ، اس کام کو چھوڑ ديا اور الگ ہو گئے ۔ اس زمانے ميں بھي يہ
باتيں زير غور تھیں اور مرحوم يت اللہ اميني
خود
ميرے لئے نقل کر رہے تھے کہ قا سيد ابو الحسن کے زمانے ميں نجف اشرف
ميں بھي يہي افکار ہوتے تھے ۔ مرحوم يت اللہ خوئي
اور
بعض ديگر حضرات بھي اس دور کے پر نشاط جوانوں ميں شامل تھے جو اس قسم
کي باتيں کرتے تھے ۔
ہم جو چيز کہہ سکتے ہیں وہ يہ ہے کہ
اس دور ميں يہ لوگ کچھ بھي نہیں کر سکتے تھے چونکہ ايک ظالم حکومت بر
سر کار تھي ۔ پيسے اور وسائل بھي ہمارے پاس نہ تھے اور نہ ہي ہميں (
حکومت کي طرف سے ) کام کرنے کي اجازت ملتي تھي ۔ اگر کوئي عالم بھي
ايسے کاموں کے بارے ميں کوئي اقدام کرنا چاہتا تھا تو اس کو منہ پر
پڑتي تھي ۔ حوزہ علميہ کے بزرگان بھي ڈرتے تھے کہ کہیں خود حوزہ بھي
نابود نہ ہو جائے ۔ اگر بعض لوگ کہتے تھے کہ ئيں ( حوزہ علميہ کي )
اصلاح کريں تو کہتے تھے کہ اصل حوزہ خطرے ميں ہے اور ظالم لوگ جو
اقتدار ميں ہیں حوزہ علميہ کو نگل جائيں گے ، لیکن ج ايسي باتيں نہیں
ہیں ۔
البتہ يہ بات بھي ميں عرض کر چکا ہوں
کہ ج بھي جب ہم کوئي بات کرتے ہیں تو بدخواہ لوگ کہتے ہیں کہ يہ لوگ
حوزہ کو حکومتي بنانا چاہتے ہیں ! نہیں ، ميں شدت کے ساتھ اس دعويٰ کي
ترديد کرتا ہوں ۔ البتہ حکومت اسلامي حکومت ہے ۔ اس حکومت کا صدر بھي
ايک فاضل فرد اور خود اسي حوزہ کا طالب علم ہے ۔ ہمارا صدر خود اسي
حوزہ سے ہے بيگانہ نہیں ہے ۔ ليکن ميرا خيال يہ ہے کہ حوزہ علميہ قم
کسي اور ادارے سے وابستہ ہوجائے ۔ ميرا يہ عقيدہ اب سے متعلق نہیں ہے ۔
قبل اس کے ۔ انقلاب سے قبل اور اکثر انقلاب کے بعد ۔ کہ يہ قضيہ پيش تا
تھا کہ اگر حکومت اسلامي ہو تو کيا پھر حوزہ کو الگ ادارہ ( تشکيلات )
رکھني چاہيے يا نہیں ؟ ميں ان افراد ميں سے تھا کہ جو مستدل اور مستحکم
ادلہ کے ساتھ اعتقاد رکھتے تھے کہ حوزہ کو مستقل ہونا چاہيے ۔ اب بھي
ميرا عقيدہ يہي ہے ۔ ميں کسي سے تقيہ بھي نہیں کرنا چاہتا اور ميں کسي
کا لحاظ بھي نہیں کرتا ۔
اصلاحي پہلو رکھنے والي باتوں کے
مقابلے ميں وسوسہ ايجاد کرنے والوں کے منہ پر دے ماريں ۔ دشمن قطعي اور
واضح طور پر ہر چيز کو اپنے مفاد ميں حل و فصل کرے گا ۔ شايد ہر اصلاحي
فرياد اور ہر درد مند واز کہ جو درد مند کے دل سے بھي نکلے ، فوراً اس
پر کوئي الزام لگا ديتے ہیں ۔ ليکن اس مسئلہ کا علاج ہے ۔ ج يہ علاج
کيا جا سکتا ہے ۔ ج ہمارے پاس ايک الہي ، اسلامي حکومت موجود ہے جو
حوزہ علميہ کي معتقد ، اس کي قدر دان اور حامي ہے ۔ ميں مادہ ہوں کہ اس
بارے ميں ہر اچھي فعاليت کي حمايت کروں ۔ لہذا ج علاج کا دن ہے ۔ ہميں
علاج کرنا چاہيے ۔ اگر علاج نہ کيا تو خدا وند متعال ہمارا مواخذہ کرے
گا ۔ ميرا عقيدہ يہ ہے کہ :
ان چيزوں کا علاج جو ميري نظر ميں ہے وہ فہرست کي صورت ميں پيش کرتا
ہوں ۔
اولاً :درد کا قبول کرنا ہے ( کہ يہ درد پايا جاتا ہے ) بعض لوگ کر يہ
نہ کہیں کہ يہ کيا باتيں کر رہے ہیں اور کر يہ کہیں کہ شيخ انصاري مرزا
نائيني خوند امام خميني
اور
ديگر بزرگان نے بھي تو اسي حوزہ ميں پرورش پائي ہے ۔ اور پ تازہ باتيں
کر رہے ہیں ! اگر درد کو قبول نہ کيا تو علاج صحیح نہ ہوگا ۔ يہ کام پ
لوگوں ، خاص کر جوان فضلائ کے ہاتھوں ہونا چاہيے ۔ کہیں ، تکرار کريں ،
لکھيں اور استدلال کے ساتھ بيا ن کریں ۔ جو لوگ ان موارد کو قبول نہیں
کرتے ان کے ساتھ بحث کريں ، حقيقي مجادلہ کريں اور ان کے لئے ثابت کريں
کہ يہ بيمار واقعاً بيمار ہے اوراس زندہ موجود ميں درد پايا جاتا ہے ۔
اگر درد کو نہ سمجھا تو اس بيمار کا علاج نہ ہو سکے گا ۔
ثانياً : علاج کے لئے ہمت پيدا کرنا
ہے ۔ ايسا نہ کہیں : جي ہاں ، درد تو ہے ليکن اب کيا کريں ؟ تقريباً
تيس برس پہلے ، بزرگان حوزہ ميں سے ايک صاحب نے کہ جن کو خدا غريق رحمت
کرے ، اور ميں دل و جان سے ان سے محبت رکھتا تھا ، ايک مسند کے بارے
ميں فرمايا کرتے تھے : جي ہاں ، ايک گناہ يا عظيم جرم ( ان کے صحیح
الفاظ اب مجھے ياد نہیں ہیں ) واقع ہوا ہے ليکن اب ہم کيا کر سکتے ہیں
؟ اسے کہتے ہیں ( درد ) کو ديکھنا ، مشکل کو ديکھنا ۔ ليکن اسے حل کرنے
کے لئے ہمت پیدا نہ کرنا ۔ اس کا راستہ يہ ہے کہ بعض لوگ خاص کر جوان
درد کا احساس کريں ،ا س درد کو پھيلائيں ، منتشر کريں ۔ دوسروں تک
پہونچائيں ۔ حوزہ علميہ کے کار مد اور اثر نفوذ رکھنے والوں سے بات چيت
کريں اور انہیں وادار کريں کہ کام انجام ديں ۔ ثالثاً : حوزہ علميہ کے
جوانوں ميں کام کرنے کي روح کا بيدار ہونا ، جب ہم کہتے ہیں کہ جوان تو
اس سے مراد يہ نہیں ہے کہ ہر تازہ نے والا خام نوجوان ، درد کا علاج
کرنے والا ہے ، ميري مراد وہ جوان فضلائ ہیں کہ الحمد للہ حوزہ ميں اب
ايک عظيم طبقہ موجود ہے اور ان کي عمر چاليس کے لگ بھگ ہے اور کفايہ ،
مکاسب اور درس خارج تدريس کرتے ہیںاور کئي سالوں سے فقہ اصول کے درس
ميں شرکت کر چکے ہیں اور انہوں نے بعض ديگر ديگر دروس و مباحثہ بھي
رکھے ہوئے ہیں ۔ ان کے اندر کام کرنے کا جذبہ بيدار ہونا چاہيے۔ جو
ہمارے مخاطبين ہیں ان کو چاہيے کہ ان لوگوں ميں کام کرنے کا جذبہ زندہ
کريں ۔ اگر زندہ نہ کيا تو خود ان لوگوں کو فعاليت اور جد و جہد کرني
چاہيے ۔
رابعاً : ايک معين مرکز ان کاموں کا
متولي ہونا چاہيے ۔ چار سال پہلے ہماري بحث اس مرکز کو تاسيس کرنے کے
بارے ميں تھي کہ الحمد للہ جو ج تاسيس ہو چکا ہے ۔ ج حوزہ علميہ کي
شورائے عالي اور اس کا ايک مدير موجود ہے ، اور ميں اسي فرصت سے فائدہ
اٹھاتے ہوئے ، قاي مومن ادام اللہ بقائہ الشريف کي مديريت حوزہ علميہ
قم کے منصب پر چند سالہ زحمات کا شکريہ ادا کرتا ہوں اور اسي طرح جناب
قاي استادي دامت برکاتہ کو جو ہمارے عزيز ہیں اور ان گران قدر مسؤليت
کو اپنے دوش پر لے رکھا ہے ۔ ميں واقعي طور پر صميم قلب سے ان سے عقیدت
رکھتا ہوں ۔ ميں انہیں خوش مديد عرض کرتا ہوں ۔ حوزہ علميہ کي مديريت
دو قسم کے کام کرسکتي ہے ۔ ايک تو قانوني اور ئين نامہ کے کام ہیں
مثلاً امتحانات ، طلاب کا انتخاب اور شہريہ کس طرح ہونا چاہيے ۔ دوسرے
وہ عظيم و بزرگ کام ہیں کہ شايد جو کسي ئين نامے اور نظام نامے کے تحت
نہ ئيں ۔ بلکہ ايک جہادي حرکت اور رضاکارانہ فعاليت کے ذريعے مختلف
افراد سے فائدہ اٹھانا اور کاموں کا چلانا ہے ۔ بہر حال ايک ايسا مرکز
ہونا چاہيے جسے ان امور پر مستقيم اور مشخص نظر رکھني چاہيے اور ميري
نظر ميں ج يہ مرکز ، حوزہ علميہ کي مديريت ہے ۔
خامساً : افکار کي پرورش کے لئے کھلي
فضا ايجاد کرنا ہے ، يہ کام حوزہ ميں ہونا چاہيے ۔ يہ ايسے کاموں ميں
سے ہے کہ جو حوزہ علميہ کو زندہ کردے گا اور نتائج بر مد ہوں گے ۔ فقہ
، کلام اور علوم عقلي کے لئے کچھ مجمع بنانے چاہيے ، مثلاً فقہ کے جديد
مباحث کي تحقيق کے لئے ايک مجمع بنائيں جس ميں سات ، ٹھ ، دس فاضل طالب
علم موجود ہوں ۔ ان لوگوں کے پاس ايک مرکز ہونا چاہيے جس ميں اجلاس
تشکيل دے سکیں ۔ فقہي تقريريں برگزار کر سکيں تاکہ جو بھي کسي فقہي
مسئلہ کے بارے ميں طہارت سے لے کر ديات تک چاہے چھوٹا ہو يا بڑا ، جس
طرح کا خطاب ، مطلب اور جديد فکر رکھتا ہو وہاں پہ ئے اور وہ اسے
ديکھيں اگر انہوں نے ديکھا کہ اس کے ارکان صحیح ہیں ( ايسا نہیں کہ خود
اس کي بات درست ہو ) وہ طلبائ والے استدلال و بحث پر موقوف ہے اور
عالمانہ طريقے سے پيش ہوئے ہیں تو اسے فہرست ميں لکھيں اور اس کو نمبر
ميں رکھيں تاکہ وہ ايک فرد ايک روز ئے اور کچھ لوگوں کي موجود گي ميں
کہ پہلے سے اعلان ہوگا وہ ئيں گے ۔ وہ تقرير کرے اور اس مسئلہ کي
زادانہ تشريح کرے اور کچھ لوگ وہاں پر اشکال کریں ۔
ممکن ہے کہ اس اجلاس ميں ايسے لوگ بھي
ہوں کہ جو خود اس شخص سے فاضل تر ہوں ليکن اس ميں کوئي مضائقہ نہیں ہے
۔ جب ايک مسئلہ پر بحث ہوگي تو فکر پھيلے گي ۔ ايسا نہ ہو کہ جو نہي
کسي نے ايک فکر يا جديد فقہي فتويٰ ديا اگر غلط بھي ہوں تو اس کے ساتھ
ابتدائ ہي سے غلط سلوک نہ کيا جائے اور کہاجائے کہ فلاں صاحب نے فلاں
مسئلے ميں کتنا بيہودہ فتويٰ ديا ہے ! بہر حال ايک فقہي نظر کو پيش کيا
جانا چاہيے اور اس پر بحث کي جاني چاہيے ۔ اور نئے افکار کو ايجاد کرنے
کے لئے ميدان کھلا ہونا چاہيے ۔ البتہ يہ کام قانون اور ضابطے کے ساتھ
ہونا چاہيے ۔ ايسا نہ ہو کہ ہر کوئي ئے اور اپني باتيں کرتا رہے ۔
اس مجمع کي طرح کلام کے لئے بھي ايک
مجمع ہونا چاہيے جس ميں کلامي افکار اور باتيں پيش کي جاني چاہيے اور
طلاب اسے پيش کرنے کے لئے ايک دوسرے کو خبر کريں ۔ حوزہ علميہ کي فضا ،
باتيں بيان کرنے کے قابل ہوني چاہيے اور جن لوگوں کے پاس نئي باتيں ہیں
، ئيں اور بيان کريں ’’ رب حامل فقہ اليٰ من ہو افقہ منہ ‘‘ ممکن ہے کہ
ايک فقہي بات جسے بيان کرتے ہیں کوئي سن لے اور اس سے منتقل ہو جو بعد
ميں ايک اچھے موضوع تک پہنچ جائے ۔ ممکن ہے وہ بات جو بيان ہوئي ہے وہ
اصل سے غلط اور بے ربط بات ہو ۔ ليکن وہ شخص مجلس ميں بيٹھا ہے ممکن ہے
ايک نئے موضوع تک پہنچ سکے اور يہي بات جديد افکار کے لئے پيش خدمت
ثابت ہو سکے ۔ علوم عقلي کے بارے ميں بھي اسي طرح ہے ۔
سادساً : درسي کتب ميں واقعي تبديلي
کا مسئلہ ہے ۔ درسي کتابوں کے مسئلہ پر زياد ہ توجہ کي ضرورت ہے ۔ درس
کتابوں کو تبديل کرنا چاہيے اور تبديل کرنے کا مقصد بھي طلاب علم کے
وقت ميں صرفہ جوئي ہوني چاہيے ۔ ہمارا طالب علم ’’ مغني ‘‘ پڑھتا ہے ،
حالانکہ وہي باتيں جو مغني ميں ہیں اس سے نچلي سطح کي کتابوں ميں کافي
حد تک موجود ہیں کہ جو عام فہم زبان ميں لکھي گئي ہیں اور اسے ہمارے
ايک ہم عصر مصنف نے لکھا ہے : کيا ضرورت ہے کہ ہم ابن ہشام کي باتيں
پڑھيں ؟ اس کام کي کيا خصوصيت ہے ؟ مغني تو نحو کا درس خارج ہے ۔ پ
ديکھتے ہیں کہ اس ميں استدلال کرتے ہیں کہ واو فلاں معني کے لئے
استعمال ہوتي ہے يا نہیں ؟ فلاں نے کہا کہ ( واو فلاں معني کے لئے ) تي
ہے ۔ اس کي دليل يہ ہے ، فلاں شخص نے اس کا جواب ديا ہے ۔ يہ تو درس
خارج ہے ۔ کيا ہم نحو کا خارج پڑھنا چاہتے ہیں ؟ ہم تو چاہتے ہیں کہ
ديکھيں واو کس معني ميں استعمال ہوتي ہے اور اس نکتے کے بارے ميں اس
سادہ کتاب ميں بھي لکھا ہے ۔
ہم کيوں بغير وجہ کے مغني يا مطول ميں
اس قدر اپنا وقت تلف کريں ؟ وہ چيزيں جو مطول سے سيکھي جا سکتي ہیں
تقريباً اس کے دسويں حصے جتني کتاب ميں پڑھيں کيا ضرورت ہے کہ ہم کتاب
معالم پڑھيں کہ جو پہلي اصولي کتاب ہونے کے لحاظ سے کئي صديوں پہلے کي
ہے ؟ حالانکہ کتاب معالم اگر چہ اس کے مطالب اصولي ہیں اور بہر حال
متعلم کے لئے نئے ہیں ، ليکن اس کي عبارتيں مشکل ہیں ہم کيوں طالب علم
کو عبارت ميں پھنسائے رکھيں ؟
ج دنيا ميں تمرين کي جارہي ہے کہ مشکل ترين مطالب کو سان ترين زبانوں
ميں بيان کيا جائے ۔ کوڈ رکھتے ہیں تاکہ ايک کہنے سے مخاطب دس لفظ سمجھ
سکے ليکن ہم ئيں اور ايک مطلب کو بيان کرنے کے لئے مشکل سے مشکل ترين
عبارت کا انتخاب کريں ۔ يہي مطلب جو مرحوم صاحب معالم
نے
ايک اور شخص اصولي کتاب ميں بيان کيا ہے جو معالم سے چھوٹي اور جديد
بھي ہے اور معالم کے چار سو سال بعد لکھي گئي ہے اور معالم ميں موجود
ضروري سب مطالب کو سادہ زبان ميں بيان کيا ہے اور يہ اس سے کہیں بہتر
ہے ۔ کونسا استدلال اس عقيدے کے پيچھے موجود ہے کہ ہم کتابوں کو تبديل
نہ کريں ؟
حوزہ علميہ کے بزرگ فضلائ کا ايک گروہ
بيٹھے اور طہار سے لے کر ديات تک فقہ کا ايک دور سادہ زبان ميں لکھے جو
شرح لمعہ کا کام کرے اور استدلال کي کيفيت بيان کرے ۔ شرح لمعہ نسبتاً
مشکل کتاب ہے ۔ ہم سخت عبارتوں کے لئے طالب علم کا وقت ضائع کيوں کريں
۔ باقي درسي کتابوں کا بھي
يہي حال ہے ۔ يہ کتابيں سمان سے نازل
نہیں ہوئيں ۔ ايک دور ميں درسي کتابيں اورتھيں ۔ کيا ’’ رياض ‘‘ بھي
بري کتاب ہے ؟ کہتے ہیں شيخ انصاري
کي
مکاسب بہت ہي اچھي کتاب ہے ۔ درست ہے کہ اچھي کتاب ہے ليکن رياض بھي
بري کتاب نہیں ہے ؟ کسي دور ميں حوزہائے علميہ ميں رياض پڑھائي جاتي
تھي کہ جو ہمارے زمانے ميں نہیں تھي بلکہ ہمارے بائ و اجداد کے زمانے
ميں تھي ۔ ان عام کتابوں ميں سے رياض کي دو جلديں تھيں جو طلبائ کو
پڑھاتے تھے ۔ کيا اس وقت بھي ہم رياض پڑھيں ؟ وہ قوانين اور فصول پڑھتے
تھے ليکن اب نہیں پڑھتے اور وہ منسوخ ہو چکي ہین ،۔ اس کام ميں کيا
رکاوٹ ہے ؟
ايک کميٹي اور ہيئت بيٹھ جائے اور وہ
مباحث جو پ مکاسب ميں پڑھنا چاہتے ايک ايسي کتاب ميں لکھيں جو مکاسب کي
طرح مشکل نہ ہو اور اس ميں وہ مطالب و استدلال بھي موجود ہوں اور يہ
کتاب حوزہائے علميہ ميں پڑھائي جائے ۔ ہم چاہتے ہیں کہ ايک ايسا کام
انجام ديا جائے کہ جب طالب علم درس خارج کہ جو سخت کام کا غاز ہے وگرنہ
سب ، درس خارج کے مقدمات ہیں ۔ استاد نے اگر درس خارج ميں ايک لفظ کہہ
ديا يا اشارہ کر ديا تو وہ مطلب کو کھو نہ بيٹھے اور اس کے پلے پڑے ۔
اصولي مسئلے کو جانتا ہو ۔ اصولي کتابوں کو پڑھ چکا ہو ، فقہ جانتا ہو
، اس کا ذہن استدلالوں کے ساتھ شنا ہو اور شيخ اور خوند کے مباني کو
جانتا ہو ۔ يہ اس طالب علم کا ہدف ہے کہ جو سطوح مقدماتي اور عاليہ کو
پڑھے ۔ اگر وہ ان سب کو چار سال کے اندر اندر پڑھ سکے تو اس ميں کيا
عيب ہے ؟ ہم طالب علم کو ( ايف اے ) کے بعد قبول کريں ۔ پانچ سال ميں
مقدمات ، ادبيات اور سطوح کے درس پڑھے اور پھر درس خارج شروع کر دے اور
اصلي کام شروع کر ے ۔ ہم اگر مدت کو کم کريں تو وہ اس دوران اور چيزيں
بھي سيکھے گا ۔
اس وقت اگر کہا جائے کہ طالب علم کو
غير ملکي زبانيں سيکھني چاہيے ، ج کي دنيا ميں کہ جو پس ميں ملي ہوئي
ہے اگر کوئي مکمل طور پر مفيد بننا چاہتا ہے تو اسے غير ملکي زبانيں
سيکھني چاہيے ۔ کہتے ہیں کہ طالب علم کے پاس وقت نہیں ہے ۔ صحیح کہتے
ہیں ۔ واقعي طور پر ايسي صورت حال ميں طالب علم کے پاس وقت نہیں ہے
ليکن اگر وقت ميں صرفہ جوئي کريں تو طالب علم غير ملکي زبانيں سيکھ
سکتے ہیں ۔ لہذا درسي کتب ميں واقعي طور پر تبديلي لاني چاہيے چونکہ
تحول بنياد سے شروع ہونا چاہيے ۔ خود درسي کتب پر کام ہونا چاہيے اور
درس خارج فقہ ميں بھي کار مد اور قابل استفادہ مباحث پر بحث کي جاني
چاہيے ۔ بعض ايسے مباحث ہیں خصوصاً اصول و فقہ ميں کہ جن کي کوئي ضرورت
نہیں ہے ليکن اصول و فقہ ميں يہ مباحث پڑھتے ہیں ۔ پورے بيس سال کے
استنباط کے دوران ممکن ہے ايک بار ايسي بحث يا معاني حروف يا حقيقت و
مجاز يا دوسرے مباني کي ضرورت پڑے تو کيا ضرورت ہے کہ ہم اتنا وقت اصول
کے غير ضروري بحث ميں صرف کريں ؟ اس زمانے ميں شہيد صدر
نے
بہت اچھا کام کيا ہے ۔ انہوں نے اصول کے باب ميں جو کام کيا ہے اور درس
و تعليم کے بارے ميں جو تجويز دي ہے ، اچھي تجويز ہے ۔
سابعاً : علاحدہ مضمونوں کا ايجاد
کرنا مثلاً فقہ و کلام ، فقہ حوزہائے علميہ ميں ايک اصلي مضمون ہے ،
کلام کا بھي ايک مضمون ہونا چاہيے ۔ ايسا نہ کہیں کہ ہم چند گھنٹے کلام
کا درس پڑھاتے ہیں ۔ نہیں طالب علم کو کسي حد تک پڑھنا چاہيے ، پھر فقہ
يا کلام کي طرف جائے ۔ حوزہ ميں کلام کے اصلي مضمون ہونے کے لحاظ سے
ہمارے پاس کلام ميں مجتہد ہونے چاہيئيں ۔
ثامناً : حوزہ کے لازمي دروس ميں غير ملکي زبانوں کو بھي شامل کرنا ہے
کہ جسے ميں پہلے بيان کر چکا ہوں ۔
تاسعاً : اہداف کے مطابق ہستہ ہستہ
طلاب کو تقسيم کرنا ہے ۔ مجھے طلبائ کي جو تعداد بتائي گئي ہے وہ
تقريباً ٢٣٠٠٠ يا ٢٤٠٠٠ ہے کہ جو اس وقت حوزہ علميہ ميں موجود ہیں ۔
اگر اسي تعداد کو حساب کا محور بنائيں تو اس ميں تقريباً سات يا ٹھ
ہزار افراد ، فضلائے بزرگ اور علمائ کي ہے کہ جو اس وقت تقسيم ميں شامل
نہیں ہے ۔ يہ ايسے افراد ہیں کہ جنہوں نے بعض مراحل گزارے ہیں اور علم
کے عالي مدارج تک پہنچ چکے ہیں ۔ بعض ايسے افراد ہیں کہ جواني ميں درس
پڑھنے کے لائق نہ تھے اور اب بھي ان کے پاس وقت نہیں ہے ۔
فرض کريں کہ اگر قم ميں پندرہ ہزار طلبائ موجود ہوں تو سابقہ ضابطے کے
مطابق ان ميں سے ايک ہزار افراد کو منتخب کريں تاکہ وہ فقيہ اور عظيم
مجتہد بنيں ، البتہ يہ کام اپني مدت اور وقت ميں انجام ہونا چاہيے
مثلاً بيس سال کا ايک دورہ اپنے مد نظر رکھيں کہ طبيعي طور سے ہر سال
اس ميں کچھ لوگ اضافہ ہوں
گے اور کچھ لوگ خارج ہوں گے ۔ ليکن
اوسطاً تقريباً بيس سال ہیں ۔ يہ افراد مستعد افراد ہونے چاہيے کہ جن
ميں فقاہت کي استعداد اور اس کا شوق ہونا چاہيے اور فقاہت سے منصرف
ہونے والے نہ ہوں ۔ ايسے لوگوں کو انتخاب کرنا چاہيے اور ان پر خاص
فقاہتي کام کرنا چاہيے ۔ انہیں ميں سے فقہ کے عظيم مدرس اور مولف اور
مراجع تقليد پيدا ہوں گے ۔ ايک ہزار فقيہ کم نہیں ہیں کہ يہ حوزہ بيس
سال کے اندر اندر بنا سکے ۔ يہ بہت ہي زيادہ ہیں ۔
اگر پ بيس يا چاليس سال پہلے سے اب تک کے دوران پر نظر ڈاليں تو متوجہ
ہوں گے کہ ايک ہزار زبدہ اور برجستہ عظيم فقيہ جو دنيا ئے اسلام کو
فقاہت علمي کے لحاظ سے ڈھانپ ليں اور کلام ميں ايک ہزار مجتہد متکلمين
جو جہان اسلام کي ضرورتوں کو پورا کر سکيں تو يہ کم نہیں ہیں ۔ جن
لوگوں کو شوق ہے ان کو پيدا کريں اور ان کو مخصوص درس ديا جائے ۔ اگر
ضرورت پڑے تو بيرون ملک ميں ريسرچ کريں يا يونيورسٹيوں ميں داخلہ ليں
اور اس سے فائدہ اٹھائيں ۔
اس تعداد کے بعد اگلے مرحلے ميں پانچ
ہزار شہري علمائ کا تا ہے کہ جنہیں متوسط حدود تک تربيت کريں ۔ ايسے
افراد کے درميان مجتہد ، قريب الاجتہاد اور متجزي مجتہد ہیں اور ان کو
جس چيز کي ضرورت پڑے گي پوري کي جائے گي ، البتہ اس کا بھي ايک معين
دورہ ہوگا ۔ ممکن ہے مثلاً بيس سال کے ايک دورے کي ضرورت پڑے ۔ اگر
پہلے والے دو گروہ کے لئے بيس سال کا عرصہ درکار ہے تو اس گروہ کا عرصہ
کمتر ہوگا ۔ يہ سب چيزيں پلاننگ کے قابل ہیں ۔ پانچ ہزار افراد مبلغ ،
واعظ ، مصنف اور عالم و فاضل مقررين کے عنوان سے انتخاب ہونے چاہئيں
اور تين ہزار افراد بيرون ملک ميں تبليغات کرنے کے لئے چنے جانے چاہئيں
۔ يہ سب کے سب پندرہ ہزار افراد بنتے ہیں ۔ البتہ کل ( ئندہ ) يہ کام
نہ ہو سکے گا ۔ اگر ہم ج شروع کريں گے تو ممکن ہے کہ ئندہ پانچ سال تک
اس قسم کي تقسيم بندي کر سکيں ۔ ليکن حوزہ علميہ کو اس منزل تک پہنچنا
چاہيے ۔ بہر حال يہ کام جتنا ليٹ ہوگا اتني دير ہے ۔ مجھے معلوم ہے کہ
يہ کام پيچيدہ اور دشوار ہے ليکن اگر حوزہ فيصلہ کر لے نہ يہ کہ ايک
دمي يا دو دمي تو يہ کام ہو سکے گا ۔
ميرے مخاطبين تين قسم کے لوگ ہیں :
١ ) حوزہ کے وہ بزرگان ہیں کہ الحمد
للہ حضرات کي کافي تعداد يہاں پر تشريف فرما ہیں ۔ ميں قديم سے ہي ان
اکثر حضرات سے عقيدت رکھتا ہوں اور بعض حضرات تو ، جب ميں جوان طالب
علم تھا تو اس وقت حوزہ ميں بزرگان اور فضلائ ميں سے تھے ۔ ہم نے ان کو
ہميشہ بزرگي ، عظمت ، تقويٰ اور علم کے ساتھ جانا ہے ۔ يہ لوگ چونکہ
حوزہ علميہ ميں نفوذ رکھتے ہیں اس لئے ميرے مخاطب اول ہیں ۔
٢ ) حوزہ علميہ کے جوان فضلائ ہیں ، پ
مستقل طور پر ميرے مخاطب ہیں ۔ پ کو اس بارے ميں کمر ہمت باندھني چاہيے
۔
٣ ) ادارہ مديريت ، حوزہ علميہ کا
عزيز و محترم ، شخص مدير اور حوزہ علميہ کي شوراي عالي ہے کہ مسؤليت کا
سب سے زيادہ بوجھ انہیں کے ذمہ ہوگا اور اس کام کو گے بڑھانے کے لئے
علمي اجتماعات تشکيل دينے چاہئيں ۔
ميں نے اپنے پہلے سفر کے دوران بھي
عرض کيا تھا کہ جو مسئلہ بھي پ حل کرنا چاہتے ہیں ايک سيمينار واقعي
انداز ميں بلائيں ۔ ايسا سيمينار نہ ہو کہ دو تين افراد ئيں اور
تقريريں کريں اور چلے جائيں ۔ يہ تو سيمينار نہ ہوا يہ تقريروں کا جلسہ
ہے ۔ سيمينار يعني ايک موضوع جو عقلي طور پر تامل کا محتاج ہے کا
انتخاب کيا جائے اور صاحب نظر افراد جائيں اور اس پر فکر و مطالعہ کريں
نيز اس کا حساب و کتاب لگائيں اور پھر يہاں کر بحث کريں اور اپنے
نظريات بيان کريں پھر سيمينار کروانے والے افراد ان نظريات کي جمع بندي
کريں تاکہ ايک قابل اعتبار چيز حاصل ہو سکے ۔
البتہ اس دفعہ ايک سيمينار ہوا تھا کہ
جس کے نتائج بھي الحمد للہ اچھے تھے ، ليکن وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ اس
کو جاري نہيں رکھا گيا ۔ پ اس کام کے لئے مناسب افراد کا انتخاب کريں ،
مختلف طريقوں کا جائزہ ليں ، انتخاب کريں اور مشکل کا علاج ڈھونڈيں ۔
ايک سو يا پچاس صاحب نظر افراد کا انتخاب کريں ۔ جو اس کام کي ذمہ داري
سنبھاليں گے ان کو دعوت ديں تاکہ دو تين دن پس ميں بيٹھيں اور تفکر ،
بحث اور استدلال کريں ، حوزہ علميہ استدلال کا حوزہ ہے ۔ طلبائ کے
طريقے سے بحث کريں تاکہ اس کے نتائج سے فائدہ حاصل کيا جا سکے ۔
پروردگارا ! محمد ول محمد کے واسطے سے ہميں اپني مرضي کي ميں راہ ميں
موفق فرما ۔
خدايا ! ہميں بخش دے ، ہماري نيتوں کو خالص فرما ، اس مجلس سے ہميں اجر
عظيم عطا فرما ۔
پروردگارا ! حوزہ علميہ قم کو پائيدار فرما اور اسے ہميشہ مبارک اور
حضرت بقيۃ اللہ ارواحنا فداہ کي نظر خاص ميں رکھ
پروردگارا ! اس خير و برکت کے شہر (
قم ) سے ہميں عظيم اجر عنايت فرما ۔
( اللہم اقسم لنا شہرنا ہذا خير ما
قسمت واقسم لنا قضائک خير ما ختمت و اقسم لنا بالسعادۃ فيمن ختمت و
احينا ما احيتنا موفور اًو امتنا مسروراً اور مغفورا)ً
والسلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
|