سُخن عِشق

ولي امر مسلمين جہان
حضرت آیت اللہ العظميٰ سےّد علي خامنہ اي (مدظلہ العالي)
کے منتخب کلمات کامجموعہ
 

نشر ولایت پاکستان

مرکزحفظ ونشر آثار ولایت

www.wilayat.com


فہرست

٭ یوم القدس اور فلسطین 

٭ روزِمعلم اور شہادت استاد شہید مطہري  

٭ وفات حضرت امام خمیني

٭ محرومین کي خدمت

٭ ہفتہ حج ،برائت ازمشرکین اور حکومت آل سعود

٭ محرم اور عاشورا

٭ ہفتہ دفاع مقدس

٭ ہفتہ وحدت

٭ عالمي استکبار سے مقابلے کا قومي دن

٭ ثقافتي انقلاب

٭ ایام فاطمیہ (س)

٭ یوم خواتین اور میلاد حضرت فاطمہ زہرا(س)

٭ عشرہ صبح انقلاب٭ بعثت رسول اکرم   

٭ ولادت باسعادت امام امانہ(عج)٭ آئمہ معصومینٴ

٭ تبلیغ اور پروپیگنڈہ

٭ ہنراور فن

٭ قرآن کریم

٭ ایمان ، تقويٰ اور معنویت

٭ خالص اسلام محمدي  

 ٭ امریکي اسلام

٭ اسلام

٭ نماز ،نماز جماعت،نماز جمعہ اور مسجد

٭ استقلال

٭ ثقافت ، تفکر اور ثقافتي یلغار

٭ علم و دانش ،مفکرین اور کتابي مطالعہ

٭ جہاد اکبر، خود سازي اور جہاد بالنفس

٭ انقلاب اسلامي

٭ دعا اور ذکرِ خدا

٭ ورزش اور کھیل

٭ ظلم ،ظالم اور مظلوم کا دفاع

٭ سیاسي جماعتیں اور پارٹي بازي

٭ جوان اور جواني

٭ نوجوان اور بچے

٭ آزادي

٭ تعلیم بالغان اور جہالت کے خلاف جنگ

٭ امر بالمعروف ونہي از منکر

٭ نظم و ضبط اور قانون

٭ حجاب و عفت

٭ برائیاں ، فساد ، منکرات اور گناہ

٭ محکمہ عدليہ

٭ اسراف و فضول خرچي اور بیت المال کي حفاظت

٭ استکبار ،مستکبرین

٭ معاشرے کے محروم افراد،مستضعفین اور فقرائ

٭ صبر ،استقامت اور جہاد

٭ حق و باطل

٭ عوام اور ملت

٭ اعليٰ حکام

٭ ایران

٭ سیاست اور سیاسي مسائل

٭ اقتصادي مسائل اسلامي تنظیمیں

٭ حزب اللہ (خدائي گروہ)

٭ رسائل و جرائد،ٹیلي ویژ ن ،خبر رسان ایجنسي اور صحافي

٭ انتخابات
 

روز قدس ۔فلسطين

٭قبلہ اول بيت المقدس کي اسيري مسلمانوں کے سامنے تلخ حقائق ميں سے ايک ہے ۔
٭ايک ديني ذمہ داري کے عنوان سے فلسطیني عوام کي حمایت کرنا دنیا کے تمام مسلمانوں پر واجب ہے ۔
٭فلسطيني عوام کي عظيم انقلابي تحريک (انتفاضہ)جاري رہے گي ۔
٭آج کا فلسطين ايک غريب اور مظلوم عوام کا میدان شجاعت ہے ۔
٭فلسطين ، اسلامي بلاک کا ايک دل ہے ۔
٭روز قدس کا احترام کريں اور اسے سال کا اہم ترین دن سمجھیں ۔
٭عالمي یو م القدس کي جلوسوں ميں مسلمانوں کي زیادہ سے زیادہ شرکت فلسطيني مجاہدين کو قوت و حوصلہ بخشے گي۔
٭امام خميني
  کے عقیدتمند ہميشہ فلسطينوں کے حامي اور ان کے دشمنوں کي دشمن رہے ہیں ۔
٭ ہماري با ايمان اور شہادت طلب قوم اسرائيل کے ظلم وستم کو تحمل نہيں کرے گي۔
٭یوم القدس فلسطیني قوم کے مقدس اور اسلامي اہداف و ارمان کا دن ہے ۔
٭اگر امريکا اسرائيل کا پشت پنا ہ نہ ہوتا تو اسرائيل لمحوں ميں نابود ہو جاتا ۔
٭دنيا ميں اسرائيل سے زيادہ پست اور اس سے زيادہ غیر انساني نظام کوئي نہيں۔
٭فلسطين کامسئلہ کسي ایک مظلوم اور اپنے ہي وطن ميں جلاوطن ہونے والي قوم کا مسئلہ ہے ۔
٭یوم القدس کو آزادي بیت المقدس کیلئے آمادگي کا دن ہونا چاہئیے ۔
٭آج(یوم القدس)’’ امريکا اور اسرائيل مردہ باد‘‘ کے نعروںسے اسلامي ممالک کي فضا کو گونج اٹھنا چاہئيے ۔
٭روز قدس کو ہر مسلمان غنيمت سمجھے اور مسئلہ فلسطين کو زندہ رکھے ۔
٭ صيہونيوںاور صہیوني طاقتوں سے جہاد واجب ہے ۔
٭آج فلسطين کي نئي نسل خدا پر بھروسہ اور اسلامي ايمان کے ساتھ لڑ رہي ہے ۔
٭فلسطيني جوانوں کي مقاومت بہت مخلص اور پر امید ہے ۔
٭ آزادي فلسطین کے سلسلے ميں فلسطینیوں کي مدد کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے ۔
٭ہر حکومت اور ہر قوم پر واجب ہے کہ وہ صدق دل کے ساتھ مسئلہ فلسطين کو اپنے اہم وبنیادي مسائل کا حصہ سمجھے ۔
٭امام امت خمیني
  بت شکن زمان نے رمضان کے آخري جمعہ کو ’’روز قدس‘‘قرار ديا ہے ۔
٭امت اسلامي پر واجب ہے کہ وہ ملت فلسطين کي صبح آزادي تک ايک لمحے کے لئے بھي کوشش وجدوجہد سے اپنے ہاتھ نہ ا ٹھائیں ۔
٭روز قدس دراصل حق و باطل کے امتياز کا دن ہے ۔
٭ميں امت مسلمہ سے یوم القدس کو بھر پور طریقے سے منانے کي گزارش کرتا ہوں ۔
٭یوم القدس عالم اسلام کے لئے نہايت اہم او ر قيمتي ثابت ہوگا ۔
٭ملت مسلمہ یوم القدس کي ريلي ميں شرکت کرکے اس دن کو زندہ رکھے گي ۔
٭یوم القدس عالم اسلام کا ايک انتہائي اہم دن ہے ۔
٭مسئلہ فلسطين عالم اسلام کا سب سے پہلا بين الاقوامي مسئلہ ہے ۔
٭اسرائيل کے سرطاني پھوڑے کا علاج صرف يہي مقاوت اورجنگ ہے ۔

ماہ مبارک رمضان ۔۔۔شب قدر۔۔۔عيد الفطر

٭ روزہ ايک الہي نعمت ہے جسے خدا وند متعال نے امت اسلامي کو بطور تحفہ عطا کيا ہے ۔
٭رمضان المبارک ميں اپني خواہشات نفساني کے ساتھ جہاد کرنا واجب ہے ۔
٭ماہ رمضان در اصل روزے داروں کے لئے ايک امتحان ہے ۔
٭رمضان کا مبارک مہينہ ، خود سازي ،پرہیزگاري ، اور قرب خدا حاصل کرنے کي بہار ہے ۔
٭رمضان کا آغاز ہي درحقيقت مسلمانوں کے لئے ايک بہت بڑي عيد ہے ۔
٭ماہ رمضان کو غنيمت سمجھيں ۔
٭رمضان کے دنوں کو روزے اور رات کو ذکر وعبادات و دعا ميں گزاريں ۔
٭انسان کوچاہيئے کے ہميشہ دعا کے ذريعے خدا سے متصل رہے ۔
٭ماہ رمضان قران کي بہار ہے ۔
٭قران سے لگاؤہمارے ذہن ميں معرفت اسلامي کو مضبوط اور گہرا بنا دیتاہے ۔
٭مجھے اميد ہے کہ ہماري امت مسلمہ روز بروز قرآن اور قرآني حقائق سے نزديک ہوتي جائے گي ۔
٭عيد اُن با ايمان حضرات کے لئے مبارک ہے جنہوں نے رمضان ميں اپنے تقوي اور پرہيز گاري ميں اضافہ کيا ۔
٭تاريخ ميں ’’عيد الفطر‘‘ انبيائ الہي کا ذخيرہ رہي ہے ۔
٭(عيد الفطررسول خد
   ا کي )شرافت و کرامت کا سبب ہے ۔
٭عيد الفطر رسول خدا
  کي دعوت اور آپ کے نام کے عام ہونے کا سبب ہے ۔

روز معلم ۔۔۔۔۔شہادت استاد آيت اللہ مطہري
 

٭اُستادشہيد مطہري کے آثار ہمارے اس جمہوري نظام کي فکري بنيادیں ہيں ۔
٭اُستادشہيد مطہري ايک ممتاز ، متدین ، روشن دل ، اور متکي انسان تھے ۔
٭اُستادشہيد مطہري ايک عارف ، اہل ذکر ، اہل سلوک اور عبادت گزار انسان تھے ۔
٭اُستادوں کو اپنے روحاني کام ( ٹیچنگ)سے عشق ہونا چاہئيے ۔
٭اُستاد معاشرے ميں سب سے زيادہ عزيز ، سب سے زيادہ زحمت کش ، سب سے زيادہ موئثر اور سب سے زيادہ مفيد طبقہ ہے ۔
٭اُستاد انساني قوت کا خلاق ہے ۔
٭اُستاد شہيد مطہري کي سب سے زیادہ خاص بات يہ تھي کہ آپ کبھي بھي اپنے تعليمي فرض سے غافل نہيں ہوئے ۔
٭اُستاد ہماري آنے والي نسل کو بناتے ہيں اور اس مملکت کے چراغ ہيں ۔
٭سب سے زيادہ موئثر اور سب سے زيادہ بلند مشغلہ تعليم ہے ۔
٭جديد اور راہنما موضوعات کا پانا استاد شہيد مطہري کا ہنر تھا اور اس قافلے کو جاري و ساري رہنا چاہيئے ۔
٭ معلم ملک کي بڑھتي ہوئي شخصيتوں اور صلاحيتوں کي پرورش کرنے والا ہوتا ہے۔
٭معلمين کو بھي اپني قدر منزلت سمجھنا چاہئيے ۔
٭مقام استاد کي تکريم کے سلسلے ميں ہما را ملک اسلامي اصولوں کي طرف پلٹ رہا ہے ۔
٭اُستادشہيد مطہري ايک فياض اورعلم کا ابلتا ہو ا چشمہ تھے ۔
٭ دشمنوں کي سازشوں اور بد خواہوں کے وسوسے سے استاد شہيد مطہري کي کتابوں کے لوگوں ميں عام ہونے پر کوئي اثر پڑنا نہيں چاہیے ۔

وفات حسرت آيات حضرت امام خميني
 

٭امام خمیني
  کي ياد ہمارے ليے اعتقادي ، ايماني ، انقلابي ، جذباتي اور قومي حيثيت رکھتي ہے ۔
٭امام خمیني
  کے غم فرقت کي تسلي کے لئے ہمارے پاس کوئي مدوا نہيں ۔
٭امام خمیني
  کے روز تولد پر ان کي شخصيت اور ان کي عظمت کو بيان ہونا چاہیے ۔
٭امام خمیني
  خود ولايت فقيہ کے اصلي حامي اور مجسم مدافع تھے ۔
٭اصل ولايت فقيہ امام خميني
 کي ايک با عظمت يادگارہے ۔
٭اگر امام خمیني
  نہيں ہيں،لیکن ان کا خدا ، ان کا راستہ اور ان کي نصیحتیں تو موجود ہيں ۔
٭اہم بات يہ ہے کہ ہم امام خميني
 کے عظيم کام اور ان کي عظمت کو پہچانيں ۔
٭امام خمیني
  کا کردار،اخلاق اورافکار ہميشہ کي تاريخ کے لئے ايک روشن ، واضح اور معيار ہے ۔
٭امام خمیني
  کي راہ پر چلنا صرف اور صرف وحدت کے ساتھ ہي ممکن ہے ۔
٭ملت ابراہيمي و سنت محمدي
   کي راہ ميں مجاہدت کو امام خميني  نے آخري منزل تک پہنچايا ۔
٭جب تک پرچم اسلام سربلندہے امام خميني
 زندہ ہيں ۔
٭امام خميني
 زندہ ہيں جب تک اميد زندہ ہے ، جب تک ضمیرزندہ ہیں، جب تک جہاد ومقابلہ ہے ۔
٭ہم نے خدا سے عہد کيا ہے کہ راہ امام خميني
 پر گامزن رہيں گے جو کہ اسلام وقرآن اور عزت مسلمين کي راہ ہے ۔
٭امام خميني
 زندہ ہيں کیونکہ ان کي فکر زندہ ہے ۔
٭امام خميني
 کي دس سالہ رہبريت ملت اسلاميہ اوردوسري حکومتوں کے لئے نہ بھولنے والي ایک يادگار اورايک قيمتي سرمايہ ہے ۔
٭امام خميني
 ،امانت خدا ، حجت خدا اور عظمت خدا کي نشاني تھے ۔
٭ہم امام خميني
 کي عظيم ميراث اور ان کي تمام قدروں اور اصولوں کي محافظت کريں گے ۔
٭انقلاب کے دوستوں اوردشمنوں کي معلوم ہونا چاہیے کہ ہماراراستہ ، امام خميني
 کا راستہ ہے۔
٭امام خمیني
    کے راستہ کو باقي رکھنے کے لئے ضروري ہے کہ سب ہوشيار ، بيدار ، اور ميدان عمل ميں حاضر رہيں ۔
٭امام
  زندہ ہيں جب تک اسلام ناب محمدي   زندہ ہے ۔
٭امام خميني
 کي فرقت کي مصيبت آپکي عظمت کے لحاظ سے تھي ۔
٭امام خميني
 ،یعني اس انقلاب کي مشعل فروزاں کرنے والے نے اپني رحلت کے ذريعے ايک بار پھر انقلاب کے شعلے کو برافروختہ کرديا ۔
٭٣جون کي طرح کوئي دن ایسا نہ تھا جس ميں اس ملت پر غم واندوہ کے طوفان اور تازيانے برسائے۔
٭٣ جون کو ايک ايسي روح نے عروج پايا جس نے اپنے روح اللہي نفس کے ذريعے پوري قوم ميں جان بخش دي ۔
٭٣ جون کو وہ سورج غروب ہوا ،جس کے طلوع سے ايران کي زندگي ميں ہزاروں نوراني چشموں کا اضافہ ہوا تھا ۔
٭٣ جون (رحلت امام خمیني
 )عالم اسلام کے لئے عظيم عزاداري کا دن ہے ۔
٭امام خميني
 کا راستہ ہمارا راستہ ، اُن کا ہدف ہمارا ہدف اور ان کي وصیتیں ہمارے لئے چراغ راہ ہيں ۔
٭امام خميني
 کا دور چل رہا ہے اور چلتا رہے گا۔
٭امام خميني
 کا نام اس انقلاب کا پرچم اور آپ کے اہداف اس انقلاب کے اہداف ہيں ۔
٭اس عصر کا نا م عصر امام خميني
 رکھا جانا چاہئيے۔
٭عالم اسلام کي بے نظير شخصيت ، امام خميني
 کا وصيت نامہ اور آپ کے پيغامات نظام اسلامي کے عہد يدران اور امت اسلاميہ کے لئے زندہ و جاويد دروس ہيں ۔
٭امام خميني
 ملکوت اعلي ميں اس جہان کے حوادث اور ہمارے اعمال کو ديکھ رہے ہيں ۔
٭امام خميني
 نے ثابت کر ديا کہ اسلام زندہ ہے ۔
٭امام خميني
 (اپنے کردار،افکار،اخلاق اور عمل ميں )وہ پہلے تھے کہ جس کا کوئي ثاني نہيں ۔
٭امام خميني
 نے اس سخت راستہ کو اپني حکمت ، خلوص ،محبت ، معنويت ، اور ثابت قدمي کے ساتھ طے کيا ۔
٭امام خميني
 ايک عارف شخص تھے جو ہميشہ خدا سے متصل تھے ۔
٭خدا سے رابطے کے سبب الہي فضل و کرم امام خميني
 کے شامل حال ہوا ۔
٭امام خميني
 نے دس سال تک طوفانوں اور حادثات کے درميان مقتدرانہ انداز ميں جمہوري اسلامي کے نظام کو چلايا اور ايک اطمينان بخش منزل تک پہنچادیا۔
٭امام خميني
 نے ہماري ملت کو ذلت سے نجات دلائي، استقلال ، اعتماد بنفس اور خداپر بھروسہ کرنا سکھايا ۔
٭امام خميني
 اپنے پورے وجو دکے ساتھ اس جانثار قوم سے محبت کرتے تھے ۔
٭امام خميني
 نے اخلاق ومعنويت اور ديني اصولوں پر ايک نظام اسلامي کو وجود بخشا ۔
٭امام خميني
 نے اسلام و مسلمين کو قوت و عزت بخشي ۔
٭وہ بصيرت اور صبر ہي تھا کہ جس نے امام خمیني
  کو دشمن اسلام کے مقابلے ميں کامياب کيا ۔
٭امام خميني نے انقلاب کے ذريعہ اسلام کو زندہ اورمسلمانوں کو ہمت و حوصلہ بخشا ۔
٭اما م خميني
 نے اپني فکر اور اپنے زندہ جاويد وصيتنامہ کي صورت ميں ہمارے درميان زندہ ہيں ۔ہمارے عظيم الشان امام  انقلاب کے تمام مناظر ميں حاضر و ناضر اور آفتاب کي طرح نورافشاں ہيں ۔
٭٣جون روز عزا ، روز امتحان ، بڑي محروميت اور ابدي شاق کا دن ہے ۔
٭راہ امام خمیني
 پر گامزن رہنا صرف صبر و بصيرت کے ساتھ ممکن ہے ۔
٭ہماراراستہ امام خميني
 کا راستہ ہے ۔
٭امام خميني
 کے دشمن بھي آپ کي عظمت کے معترف ہيں ۔
٭امام خمیني
 کي شخصيت حتي دشمنوں کے لئے بھي نوراني تھي۔
٭اگرچہ ہمارے پاس امام خمیني
 کي ميراث ہے اور لیکن کي غیر موجودگي ہمارے لئے تلخ ہے ۔
٭اما م خميني
 کے اہداف اور آرزوں کو نظر انداز نہيں کيا جاسکتا۔
٭ميں امام خمیني
 کي راہ کو وقت کے ساتھ جاري رکھوں گا۔
٭امام خمیني
 ايک عظيم نعمت تھے اور افسوس کہ اب وہ ہمارے درميان نہيں ۔
٭امام خميني
 ايک عظيم انقلاب کے باني معلم اور رہبر تھے ۔
٭امام خمیني
  نے کبھي بھي انقلاب اسلامي کي کاميابي کو اپني طرف منسوب نہيں کیا ۔
٭امام
 ايک قيمتي گوہر اور درخشندہ جوہر تھے جو اب امت اسلامي کے درميان نہيں رہے ۔

محرومين کي خدمت

٭محرومين اور فقرائ کي خدمت کرناايک خدائي توفيق ہے ۔
٭اسلام ناب محمدي
  وہ اسلام ہے جو محروم اور مستضعف طبقوں کي فکر و فلاح ميں سب سے زیادہ متحرک ہے ۔
٭اسلامي نظام اور اسلامي ماحول قائم کرنے کي کوشش کرنا ايک مومن کااصلي ترين واجب ہے ۔
٭محروم و مستضعف افراد جس اسلام سے دل نہ جوڑيں وہ اسلام نہيں ہے ۔

ہفتہ حج ۔۔۔۔جمعہ خونين مکہ ۔۔۔۔حکومت آل سعود

٭حج اسلام کے جہاني اور اس کي بين الاقوامي روح کا مظہر ہے ۔
٭حج توحيد مسلمین اور شيطان اور شیطاني طاقتوں سے نفرت کا مظہر ہے ۔
٭حج معارف اسلامي کا مرکز اور انسان کي زندگي کے لئے اسلام کي بنيادي سياست کا بيان کرنے والاہے ۔
٭حج ميں عالم اسلام کے مسائل پر غورخوض ہونا چاہئيے ۔
٭برائت کے بغير وحدت کے بغير اور قيام و حرکت کے بغير حج ، حج بیت اللہ نہيں ہو سکتا۔
٭دنيا کي حکومت طلب طاقتيں ما ضي ميں بھي اور حال ميں بھي حج کے مثبت کردار سے ہميشہ ہراساں رہي ہيں اور اس کے مقابلے کے لئے اٹھي ہيں ۔
٭جوبھي حج کو اس کي سياسي شناخت سے جداکرے وہ ياتو جاہل ہے يا سازش کار۔
٭اس سے بڑھ کر کوئي غم نہيں ہو سکتا کہ حرمين شريفين کي خدمت گزاري کے مدعي اور خانہ خدا کے کليددار، امريکاکي خدمت پر کمر بستہ ہوں ۔
٭حج ابراہيمي کے ذريعے وحدت اور مستکبرين سے مقابلے کي راہ مسلمانوں کو بتائي جاني چاہئيے۔

عيد قربان ۔۔۔عيدغدير

٭عيد قربان تاريخ کي ایک بے نظير قرباني کي يادگارہے ۔
٭عيد غدير تاريخ کادوسرا اہم واقعہ ہے ۔
٭عيد غديرعظيم واقعہ کہ جس ميں پيغمبراکرم
  نے حضرت علي ٴکو مسلمانوں کے سامنے اپنے ہاتھوں پر بلند کرکے پہچنوايا۔
٭غدير خم ، روزامامت، روز کمال دين ، روز اتمام نعمت اور کفارکي مايوسي کا دن ہے ۔

محرم و عاشورائ

٭حسين بن علي ٴسے لوگوں کي محبت ، بقائے اسلام کي ضامن ہے ۔
٭يہ عاشورا ہي ہے کہ جس نے اسلام کو زندہ رکھا ہوا ہے ۔
٭واقعہ عاشورکو ہمیشہ زندہ رہنا چاہئيے ۔
٭عاشوراکے دروس کو اچھي طرح سمجھنے کے بعد یک بعد دیگرپر عمل کرنا چاہئيے ۔
٭حسيني ٴ انقلاب کي روح شہادت ہے
٭عاشوراانسان کي اسلامي زندگي کا ايک مکمل صفحہ ہے ۔
٭کربلاميں حملہ ہے ، طيش ہے ، عشق ہے ،خطاب ہے اور تبليغ و نصيحت ہے ۔
٭کربلاايک حادثہ نہيں بلکہ ايک تہذيب ہے ۔
٭امام حسين ٴشہادت کے ايک عظيم استاد ہيں ۔
٭خون ميں ڈوبا ہوا محرم آتا ہے اور شہيدان عالم کے سردار کي ياد وں کي خوشبو فضا ميںمہک اٹھتي ہے ۔
٭روز عاشورامام حسين ٴکي کاميابي شہادت تھي ۔
٭کربلاميں ايثار و يکجہتي ہے ،جہادوشہادت ہے، رسالت و توحيدہے، الغرض سب کچھ کربلاميں ہے۔
٭حسين بن علي ٴنے اپنے خون کو اسلام ناب محمدي
  
پر ايثارکيا۔
٭عاشوراايک سياسي اور تاريخي اعلان ہے جسے انقلاب اسلامي نے زندہ رکھاہے ۔
٭عاشوراحقیقتاً خون ميں ڈوبي ہوئي عيد کا نام ہے ۔
٭حریت پسندوں کے سردار امام حسين ٴاور آپکے مکتب ِسرخ کے ٧٢ افرادکي ياد کو زندہ و پائندہ رہنا چاہئيے۔
٭امام حسين ٴ کے خون کا نتيجہ انقلاب اسلامي کي صورت ميں ہمارے سامنے آچکا ہے ۔
٭دعاہر انسان کے منہ سے اچھي لگتي ہے ۔خصوصاامام حسين ٴجيسي عظمتوں والے انسان کے منہ سے ۔
٭عاشوراايک ايسي لوح ہے جس پر عشق کے بلندمعني شعر کو خون سے لکھا گياہے ۔
٭انقلا ب اسلامي کے پرورش يافتہ افراد نے شمشير پر خون کي فتح کو ،شہادت کے عظيم اُستا د امام حسين ٴ سے سيکھا ہے۔
٭ واقعہ کربلاايک تحريک کا پشت پنا ہ ہے لہٰذا اسي طرح پر جوش ، مستحکم اور آبرومندباقي رہنا چاہئيے۔
٭عاشور کا عظيم واقعہ ،انقلاب اسلامي کي بنياد ہے۔
٭ واقعہ کربلا تاريخ کا ايک زرين صفحہ ہے ۔
٭ انقلاب اسلامي کي فکر ، واقعہ کربلا سے ماخوذتھي جس نے پورے عالم کا احاطہ کيا ۔
٭واقعہ کربلا، انقلاب اسلامي کے تحرک کا سبب رہا ہے ۔
٭سيدالشہدائ امام حسین ٴاسلام وقرآن کے سب سے بڑے سپاہي ہيں۔

 

ہفتہ دفاع مقدس

٭جہاد في سبيل اللہ ہميشہ ميدان جنگ ميں نہيں ہے ۔
٭ہميشہ اپنے دفاع کي فکرميں رہنااپنے زندہ اور ہوشياررہنے کا ثبوت ہے ۔
٭جو قوم اپنے دفاع کي فکر ميں نہ ہو وہ زندہ نہيں ۔
٭آج آپ اسلام کے صالح فرزند الہي وعدے کے پورا ہونے کا نظارہ کر رہے ہيں يعني اسلام سارے کفر پر فتح پا رہا ہے ۔
٭ اسلام کا دفاع، اسلامي ملک کے دفاع پر ختم نہيں ہوتابلکہ ہم اسلام کي تمام سرحدوں سے دفاع کرنے کے لئے آمادہ ہيں ۔
٭ہم کبھي بھي جنگ طلب نہيں تھے اور نہ ہيں ليکن اپنے دفاع کیلئے آمادہ ہيں چونکہ زندہ اور ہوشيار ہيں ۔
٭اگر انسان اپنے ایمان اور اخلاص کي حفاظت کرلے تو یقینا اپنے دشمن پر بھي غلبہ پالیگا۔

ہفتہ وحدت

٭لوگوں کا آپس ميں اتحاد ، سماج کے بلند ترين اصولوں ميں سے ہے۔
٭عوام اور عوام کے رہنما افراد کے درميان کے رابطہ کو برقرار رکھنا ايک اہم فريضہ ہے۔
٭لوگوں کو چاہئيے کہ دیني محافل ميں حاضرہوں تاکہ اپني وحدت کي حفاظت کرسکيں۔
٭اگر اتحاد نہ ہوتا تو انقلاب بھي نہ ہوتا۔
٭پيغمبر عظيم الشان ختمي مرتبت
  کي ولادت باسعادت کي مناسبت سے ہفتہ وحدت دراصل اسلام کے بنياد ي اصول (وحدت)کي ياد اور قدرداني ہے۔
٭وحدت کلمہ يعني کاميابي لہٰذا کامیابي کے اس راز کو ہمیشہ زندہ رہنا چاہئيے ۔
٭آپ مسلمین کي يہ وحدت و يکجہتي ہميشہ باقي رہنا چاہئيے۔
٭وحدت کلمہ جو کاميابي کا راز ہے اور امام خميني
 کي برکت سے جمہوري اسلامي ميں پائندہ ہے اسے زندہ رہنا چاہئيے۔
٭انقلاب اسلامي کے بنیادي نعرے کے عنوان سے اس ہفتہ وحدت کو ہميشہ باقي رکھئے ۔
٭خدا کي لعنت ہو ان لوگوں پر جو اسلام ومسلمین کے درميان پھوٹ ڈالتے ہيں۔
٭ہفتہ وحدت کو معني و مفہوم سے بھر پور ہفتہ بنائيے۔
٭پيغمبر اسلام
  کي ولادت کي مناسبت سے 12ربيع الاول سے 17ربيع الاول تک کے ہفتہ وحدت کا سب کو احترام کرنا چاہئيے۔
٭دشمن اصل اسلام يعني وحدت مسلمین کا مخالف ہے ۔
٭ انقلاب اسلامي کا پيغام ، اتحاد بین المسلمين ہے۔
٭يہ وحدت ، پيام انقلاب اور پيام اسلام ہے اس وحدت کو اہميت دينا چاہئيے۔
٭مسلمانان عالم وحدت کے پشت پناہ ہيں اور اسي وحدت کے سائے ميں استکبار کي سازشوں کو ناکام بنا سکتے ہيں ۔
٭شيعہ اور سني بھائيوں کے درميان اتحادکو قائم کرنا ہمارا فرض ہے ۔
٭ولايت فقيہ کي محوريت کے ساتھ اتحاد کے ذريعے ہر خطرے کا مقابلہ کر سکتے ہيں۔
٭ہفتہ وحدت منانے سے عہد و پيمان مستحکم اور استوار ہو جاتے ہيں ۔
٭اتحاد بین المسلمین سے اسلام کو عزت و وقار اور دوام ملتا ہے۔
٭دشمن ، مسلمانوں کے درميان اتحادوہمدلي سے ہراساں اور وحشت زدہ ہے ۔
٭ہفتہ وحدت ، انقلاب اسلامي کي جانب سے تمام مسلمین جہان کیلئے ایک تحفہ ہے ۔
٭بعض مخالف ممالک ہفتہ وحدت کے نام سے خوف کھاتے ہيں ۔
٭اتحاد کے پرچم کو مضبوطي تھام لیں کیونکہ يہي کامیابي کا راز ہے۔
٭تقوے کو اپنا شعار بنائيے اور آواز و حدت پر لبيک کہئے۔
٭رسول اللہ
   کے نام اور خداکے اس بے نظير بندے کي ولادت سے الہام ليتے ہوئے ہم نے وحدت کے راستوں کو ہموار کيا ہے ۔
٭جو لوگ اسلام کي سربلند ي خواہاںہيں اُن پر فرض ہے کہ ا قوام عالم کي صفوں ميں اتحادکي فضائ کو قائم کريں ۔
٭کتاب خدا ،سنت نبي
  اور شریعت اسلامي کو معیار قرار دے کر ،مسلمان آئیں اور آپس ميں متحد ہوجائیں ۔
٭آج عالم اسلام کو يکسوئي کي ضرورت ہے۔

عالمي استکبار سے مقابلے کا قومي دن

٭دنیا ميں امريکي زيادتيوں کا مقابلہ جہاد في سبيل اللہ ہے۔
٭امريکااور دوسري بڑي طاقتيں انساني حقوق کي جھوٹي دعویدار ہيں ۔
٭ميں امريکا کے ساتھ مذاکرات کامخالف ہوں اور حکومت جمہوري اسلامي ميري اجازت کے بغير يہ کام نہيں کرسکتي۔
٭خليج فارس اسلام کا مورچہ ہے لہٰذا اس خطے ميں امریکي وجود نامنظور ۔
٭ہم ايک لمحہ بھي امريکا کے ساتھ نہيں ہو سکتے ۔
٭امريکا سے ہماري دشمني مقدس ہے۔
٭امريکا کے ساتھ دوستي نا کرنا، ہماري سياست ہے ۔
٭ہم ظالم کے دشمن اور مظلوم کے حامي ہيں۔
٭کبھي بھي شيطاني طاقتيں کمزور وں پر رحم نہيں کرتيں ۔
٭شيطاني طاقتوں کے سائے تلے ضعف و ذلت کے ساتھ نہيں رہا جاسکتا۔
٭امريکا کي پوري عسکري قوت بھي اسلام کا مقابلہ نہيں کرسکتي۔
٭جو بھي بڑي طاقتوں (استکبار)کے سامنے جُھکا وہ ذليل و خوار ہو گيا ۔

ثقافتي انقلاب

٭تہذيب و ثقافت کي حفاظت (تہذیبي جنگ) بندوق و تلوار کي جنگ سے کہيں زيادہ سخت ہے۔
٭تہذيبي حملے اور ثقافتي حملے ميں شور شرابہ نہيں ہوتاليکن اس ميں سب سے زيادہ ہوشياري کي ضرورت ہوتي ہے۔

ایام فاطمیہ (س)

٭کسي بھي معاشرے کا اصلاح و فساد اُس معاشرے کي خواتین کے اصلاح و فساد پر منحصر ہوتا ہے۔
٭حضرت فاطمہ زہرا (س)ايک ایسي بے مثل خاتون تھیں کہ ہم سب کو اُ ن کي اقتدائ کرني چاہئیے۔
٭عورت اگر چاہے تو معنوي کمالات کو حاصل کرکے اولیائے خدا کے مقام کو بھي حاصل کرسکتي ہے۔
٭ولادت حضرت فاطمہ زہرا (س)کو یوم خواتین کے عنوان سے منانا در اصل خواتین کیلئے ایک زیباترین اور مقدس ترین آئیڈیل کا انتخاب ہے۔
٭جب ایک عورت اپنے ایمان اور اسلام کي خاطر اپني جان تک دینے کو تیار ہوجائے تو يہ اُس کي آزادي کا عروج ہے۔
٭ایک با ایمان عورت کا فقط اپنے زر و زیور کي فکر ميں رہنا کسي عیب سے کم نہيں ۔
٭حضرت فاطمہ (س) کي ذات مقدس خواتین کیلئے کائنات کا سب سے بہترین نمونہ ہے۔
٭اگر ہماري مائیں چاہتي ہيں کہ حضرت فاطمہ(س) کي سیرت پر عمل کریں تو لازم ہے کہ اپني آغوش ميں حسن ٴ وحسین ٴ اور زینب ٴ جیسي ہستیوں مثل افراد کو تربیت دیں ۔
٭ہميں شہزادي کونين کي محبت کے احساس کو اپني زندگي ميں عملي کرنا چاہئيے ۔
٭کوشش کیجئے کہ حضرت زہرا کے سچے پيرو بن سکيں۔
٭تاريخ ميں اسلام کے نقوش ، اولادزہرا(س) کے ذريعہ باقي رہے۔
٭بقائے اسلام کا اصلي راز فاطمہ زہرا(س) کے ذریعہ ہے۔
٭سيدہ کونين کا احترام دراصل ايمان ، تقوي ، ادب ، شجاعت ،ايثار ، جہاد ، شہادت اور ايک لفظ ميں مکارم اخلاق کا احترام ہے۔
٭رسول اکرم
  ،فاطمہ زہرا، کو اپنے لخت جگر کے عنوان سے پہچنواتے ہيں ۔
٭دختر پيغمبر اکرم
   انساني عقل و علوم کے لئے ايک ناشناختہ حقيقت ہیں اور آپ کا صرف اور صرف رسول اکرم    اور اميرالمومنين ٴسے مقايسہ کيا جاسکتاہے۔

روز خواتين ۔۔۔ميلاد معصومہ کونين

٭مرد وںاور خواتين کو دفاعي آمادگي رکھنا چاہئيے۔
٭انقلاب اسلامي کي خواتين کو خيال رکھنا چاہئيے کہ انقلاب کي مبارک راہ کو گم نہ کريں۔
٭انقلاب اسلامي کي دوران ہماري خواتين لشکر کي اگلي صفوں ميں رہي ہيں۔
٭انقلاب ميں خواتين کے حضور کے سبب دشمن کي کمر ٹوٹ گئي۔
٭سماج کي اچھائي اور برائي خواتين کي اچھائي اور برائي سے وابستہ ہوتي ہے۔
٭معصومہ کونين ايک بے بدل اور بے نظير خاتون تھيں جن کي ہم سب کو اقتداکرنا چاہئيے۔
٭معنوي کمالات ميں عورت اس جگہ پہنچ سکتي ہے کہ جہاں اوليائ الہي تھے۔
٭عورت مرد ايک طرح سے معنوي درجات کو طے کرسکتے ہيں ۔
٭يہ خواتين تھيں جنہوں نے جنگي ترانے پڑھے اور اسے ايک اصول کے عنوان سے اپنے گھرانوں ميں پھيلايا ۔
٭آج جمہوي اسلامي کي عورتيں گہري سياسي فکر کي حامل ہيں ۔
٭سماج کي عورت کے ايثار کو بيان کرنے سے زبان ناتواں ہے۔
٭روز خواتين کے عنوان سے اس دن کا انتخاب يعني مسلمان عورت بلکہ تمام عالم کي عورتوں کے لئے ايک مقدس ترين ، بلندترين اور بہترين نمونہ کا انتخاب۔
٭خواتين عالم کوسيدہ و سردار دختر رسول اکرم
  کي ولادت پر مبارک باد پيش کرتے ہيں۔
٭دختر پيغمبر اکرم
  کي زندگي پر توجہ دينا ايک خاص اہميت کا حامل ہے۔
٭ولادت معصومہ دوعالم حضرت فاطمہ (س)کے ذريعہ اسلام نے دوام پايا۔
٭تاریخ بشریت ميں خواتين کسي بھي ميدان ميں پيچھے نہيں رہي ہيں۔
٭رضاکار خواتين ، ايمان کے نقطہ عروج کا مظہر ہيں ۔
٭ايک خاتون کا رضاکارہونا ايک گھرانے کے رضاکا ر ہونے کے مترادف ہے۔
٭جو خاتون اپنے ايمان و انقلاب کیلئے فداکاري کرنے کو تيار ہے وہ قلہ آزادي تک پہنچ چکي ہے۔
٭ایک عورت کا زروزيور اور زيبائش ميں سرگرم ہوجانا کوئي معمولي عیب نہيں ۔
٭انقلاب و جنگ کے نصف افتخارات ملک کي مسلمان خواتين سے متعلق ہيں۔
٭حضرت زہراخواتين کے لئے بہترين نمونہ ہيں۔
٭آج کے دن امام خميني
 
کي ولادت حضرت فاطمہ زہرا(س) کي ولادت کي طرح انتہائي موئثر ہے۔
٭ہماري مائيں جانتي ہيں کہ اگرحضرت زہراکي سچي پيروبنناچاہتي ہيںتو ضروري ہے کہ اپني گودميں حسين ٴو زينب ٴ کے مددگار پيداکرنا ہونگے۔
٭حضرت زہرا(س) اپنے زمانے کي شخصيتوں ميں ايک عظيم شخصيت تھيں ۔
٭ایک باایمان عورت کو زينب ٴ صفت ہونا چاہئيے۔
٭حضرت فاطمہ زہرا کا احترام ، مکارم اخلاق کا احترام ہے۔
٭مسلمان عورت کو چاہئيے کہ اپنے آپ کو سيدہ کونين کے دريائے معرفت و کرامت سے بہرہ مند کريں۔

 

عشرہ صبح انقلاب

٭انقلاب کي حفاظت دراصل عزت اسلام و مسلمين اور دفاع مظلومين و مستضعفين کا راستہ ہے۔
٭اصول اسلام کي پابندي ، انقلاب کي قوت و استحکام کا راز ہے۔
٭آج اسلام کے دشمن ، اسلام کي درخشندگي سے ڈرے ہوئے ہيں۔
٭انقلاب اسلامي نے ہميں جو سبق ديا وہ يہ ہے کہ بڑي طاقتوں کي کھوکھلي ہيبت سے مرعوب نہ ہوں۔

بعثت رسول اکرم
  

٭یوم بعثت ايک الہي واقعہ ہے اور خدا کي کائي بھي لطف و فضل ، بعثت رسول اکرم
   کے برابر عظمت و اثرنہيں رکھتا۔
٭انسانيت ،دينداري اور بعثت پيغمبر کے معاني و مفاہيم کي طرف گامزن ہے۔
٭قرآن کي نظر ميں بعثت انبيائ کا مقصد ، عدل و انصاف کا قيام ہے۔
٭حضرت ختمي مرتبت رسول اللہ محمد مصطفي
   ’’کلمہ توحيد‘‘اور ’’توحيد کلمہ ‘‘کے پرچم دار تھے ۔
٭ مسلمانوں کو چاہئيے کہ روز بعثت نبي اکرم
  کو اسلام کي بلند تعليمات کے سر آغاز کے عنوان سے منائیں۔
٭جس اسلام سے طاغوتي اور شيطاني طاقتيں خوف کھاتي ہيں وہ خالص محمدي
  اسلام ہے۔
٭اسلام محمدي
   کمزور اور محروموں کي عزت و حمايت کرنے والا اسلام ہے۔
٭اسلام محمدي
   مظلوم اور ستم کھائے ہوؤں کے حقوق کا دفاع کرنے والا مذہب ہے۔
٭یوم بعثت دامن ِتاريخ ميں فضل و رحمت پرودگار کا اُبلتا ہواچشمہ ہے۔
٭جو اسلام جاہل اور طاغو تي طاقت کو ڈراتا ہے وہ خالص اسلام محمدي
   ہے۔

ولادت باسعادت امام زمانہ ٴ

٭آج ساري ديندار دنيا ، مصلح کي منتظر ہے اور سارے مسلمان امام مہدي ٴ کے منتظر ہيں۔
٭الہي عدل و انصاف کي حکومت کے پاسبان مہدي موعود ٴ کي ولادت باسعادت مبارک ہو۔
٭امام زمانہ ٴ پر عقيدہ ، تحرک کا ايک وسيلہ اور مسلمانوں کے شورو نشاط کا باعث ہے۔
٭جب خود امام زمانہ ٴ عدل وانصاف کے لئے زحمت اٹھاتے ہيں اور اُٹھائیں گے، تو پھر ہم کہ جو ان کے خادم ہيں عدل و انصاف کي ترويج کیلئے سعي کوشش کیوں نہيں کرتے؟
٭امام زمانہ ٴ اپنے ظہورکے ذريعہ دنيا کو عدل و انصاف سے بھر ديں گے ۔
٭15شعبان روز مستضعفين اور امام زمانہ پر ايمان رکھنے والے دلوں کي اميد کا دن ہے۔
٭ظہور امام زمانہ ٴ ارواحنا فداہ اسلام کے اہم مسائل ميں سے ايک ہے۔
٭ظہور امام زمانہ ٴ کا مسئلہ ہميں اس بات کي ترغيب دلاتا ہے کہ ہم حضرت کے ظہور کیلئے مقدمات فراہم کريں ۔
٭ہمارے معاشرے کو ولي عصر ٴ سے توسل کو اپنا فريضہ سمجھنا اور حضرت کے لئے دعا کرنا چاہئیے۔
٭عالمي استکبار اور طاغوت سے مقابلے کے لئے امام زمانہ ٴ کے ظہور پر اعتقاد ، مسلمانوں کا سب سے بڑا عتقادي منبع ہے۔

ائمہ معصومين ٴ

٭ائمہ اطہار ٴ کي زندگي ايک پر معني درس اور راہگشا معرفت ہے۔
٭ہم سب امام رضا ٴ کي ملکوتي بارگاہ کے فقيرااور محتاج ہے۔
٭ہمارے ائمہ ٴ اطہار ہميشہ استقامت اور مظلوميت کے مظہر رہے ہيں ۔
٭اہلبيت ٴ سے تما م تشيع کي محبت اسلام کي بقائ و حيات کي ضامن ہے۔
٭مذہب تشيع ،محبت کا آئين ہے۔
٭اہلبيت ٴ کے لئے شعروخواني کي روايت ، فساد ظالمين کے مقابل غم و غصہ سے مرکب ہے۔
٭ہميں چاہيے کہ امير المومنين ٴ اور ديگر ائمہ معصومين ٴ کي طرح وحدت و ہمدلي سے رہيں۔
٭ائمہ معصومين ٴظلم کي مخالفت کے لئے نمونہ اور وحدت ، ہمدلي ميں پيش پيش تھے۔
٭ہم پيروان اہلبيت ٴ اپنے مکمل و جود کے ساتھ اعلان کرتے ہيں کہ ہم وحدت عالم اسلام کے قائل ہيں۔
٭مدح و ثنائے آل محمد
  کا شيوہ ائمہ کے زمانے سے جاري و ساري ہے۔
٭مسلمانوں کو اخلاص عمل ، مولائے متقيان حضرت علي ٴ سے لينا چاہئيے ۔
٭ائمہ معصومين ٴ نے واقعہ عاشور کے ذريعہ بني نو ع بشر کو بيداري ،استقامت اور مردانگي کا درس ديا ہے۔

تبليغ اور پروپيگنڈہ

٭اپنے اہداف تک پہنچنے کے لئے اور انسانوں کے ارادں کو کو کنٹرول کرنے کے لئے تبليغ ايک موثر ترين وسيلہ ہے ۔
٭وحدت کے حفاظت اور دشمن کے پروپيگنڈے کا دھوکہ نہ کھانا کاميابي کي شرط ہے۔
٭تمام لکھنے والوں اور بولنے والوں کو لکھتے اور بولتے وقت تقوي ، مصالح اسلامي اور دوسروں کے حقوق کي رعايت کرنے کي نصیحت کرتا ہوں۔
٭آج تبليغ کو جديد دور کے تقاضوں کے مطابق ہونا چاہئيے۔
٭تبليغ ميں اسلام کے اصلي مسائل اور اخلاق کي تشريح کرنا چاہئيے۔
٭تبليغ و تشہير کا مسئلہ ہر ملک اور انقلاب اسلامي کے اہم مسائل ميں سے ہے۔
٭تبليغ کا موضوع ايک باشرف اور بااہمیت موضوع ہے۔
٭تبليغ کے مسؤلين ايسے افراد ہوناچاہئيں جو اسلامي مسائل سے آگاہ ہوں اور مختلف نکات اور نزاکتوں کو سمجھ سکيں ۔
٭تبليغ کے سلسلے ميں ہميں خستگي نا پذير ہونا چاہئيے۔
٭اگر تبليغ ميں اتفاق نظر نہ ہو تو امت اپني يکجہتي سے ہاتھ دھو بيٹھے گي ۔
٭تبليغ لوگوں کے ذريعہ ہونا چاہئيے اور اس سلسلے ميں لوگوںسے مدد لينا چاہئيے۔
٭اگر لوگ اپنے آپ کو تبليغ ميں حصہ دار سمجھيں گے ،تو وہ تبلیغي پیغام کو زیادہ قبول کريں گے۔
٭حوزہ، عالم دين اور مبلغ کي پرورش گاہ ہے۔
٭فرض شناسي يعني تبليغ اور لوگوں کو اسلام کي طرف جذب کرنا ۔
٭تبليغ کے سلسلے ميں ہمارے کام انتہائي قليل ہيں ۔
٭انقلاب کي توسيع کا مطلب ثقافت انقلاب کي توسيع ہے۔
٭سچ اور حقيقت کو لوگوں کے ا ذھان تک پہنچانا ہماري تبليغ ہے۔
٭اسلام ميں تبليغ کے معني يہ ہيں کہ حقائق اسلام کو دنيا تک پہنچایا جائے۔
٭ہم اپني تبليغ کے ذريعہ خد اکے پيغام اور اللہ کي بات کو پہنچاتے ہيں ۔
٭اسلامي انقلاب پر دباؤ ڈالنے کا سب سے بڑا وسيلہ يہي پروپيگنڈاہے۔
٭آج ہمارے خلاف سب سے بڑي سازش ،منفي پروپيگنڈے کي سازش ہے۔
٭تبليغ کے دوام کے ٹوٹنے سے انقلاب اسلامي کا درخت خشک ہوجائے گا۔
٭اخبارات و رسائل کي سلامتي اس انقلاب کي سلامتي ہے۔
٭ملک کے اخبارات و رسائل ، قوم کي ہدايت و رہنمائي کے ذمہ دار ہيں۔
٭اخبارات کا کردار يہ ہے کہ فکروں کي رہنمائي کريں ،فکر وں کو رشد ديں اور لوگوں کو آگاہ کريں۔
٭اخبارات و رسائل ،عمومي اسٹيج ہيں ۔
٭تبليغ کي اصلي شرط، اخلاص ہے۔
٭ہم تبليغي کا رکردگي کي کيفيت کو اس وقت ترقي دے سکتے ہيں جب تبليغ خدا اور راہ خدا کے لئے ہو۔
٭تبليغي فعاليت ان افراد کے ذريعے انجام پائے جن پرلوگوں کو اعتماد ہے۔
٭روحاني حضرات کواپنے کردار کے ذريعہ اتحاد کي تبليغ کرنا چاہیے ۔

ہنر

٭مسؤ لين حضرات ہنر و ادبيات کے مسئلہ خصوصا نمائش ہنر کي طرف توجہ ديں ۔
٭ انقلاب اسلامي کا ہنر ، تشنہ دلوں کو سيراب کرکے انھیں آلودہ پاني سے بے نياز کرنا ہے ۔
٭ہنر اور ادبيات اپنے زمانے کے آئينے ہيں ۔ ہمارے ہنر مند اور اديب حضرات ان آئينوں کو جتنا ہو سکے صيقل کريں ۔
٭انقلاب ، ہنر و ادبيات کا قالب ہے،لہذا اس کے ذریعے دوسرے ہر قالب کے مقابل زيادہ آساني سے اور زيادہ سچائي کے ساتھ دوسروں تک اپنا پیغام پہنچايا جاسکتاہے۔
٭تاريخ ہنر ، خلقت انسان کي تاريخ سے قرين ہے۔
٭اسلامي ہنر کي سب سے پہلي شرط يہ ہے کہ باہدف ہو۔
٭ہنر کا اصلي پيغام ، انسان کے اند رروح تقوي و طہارت پيدا کرنا ہونا چاہیے ۔
٭جو ہنر ہميں خدا اور اسلامي آرمانوں سے دور کرے وہ قابل قدر نہيں ہے ۔
٭جو ہنر ہم کو خدا سے غافل کرے وہ خطرناک اور جان ليوازہر ہے جس سے پرہيز کرنا چاہئيے ۔
٭اس ميں شک نہيں کہ انقلاب اسلامي کو ہنر کي ضرورت ہے۔
٭ انقلاب اسلامي کے ہنرکو ممتا ز ، قابل فخر اور مترقي ہونا چاہئيے۔
٭کيسے ہوسکتاہے کہ ایک آدمي شاعر یا فنکار ہو اور حق و باطل کے درمیان نور ظلمت کي خونين جنگ ديکھے ، حسن ديکھے اور اس کے سلسلے ميں لب بستہ رہے۔
٭اس بڑي اسلامي يونيورسٹي ميں(ريڈيو، ٹيلي ويژن )کا کام انتہائي نازک ہے۔
٭ہنر سے دشمني سورج سے دشمني ہے۔
٭جمہوري اسلامي کا تھيٹر اپني حقيقت اور سچائي کو، قيد ميں بند انسانيت کي داستانِ مظلوميت اور اس کے دردوں کے بيان کرنے ميں پاتا ہے۔
٭آج کا ہنر ، استقامت کا ہنر ہے نہ کہ تسليم و عقب نشيني کا ۔
٭قرآني آہنگ ايک اسلامي ہنر اور ايک مکمل مو سيقي ہے۔
٭اس انقلاب کو ہر چيز سے زيادہ قوي ادبيات اور بے نياز تہذيب کي ضرورت ہے۔
٭ميں ہر اس شخص کے سامنے اظہار احترام و ادب وستائش کر تا ہوں جس نے اپنے ہنر کو انقلاب کي خدمت کے لئے پيش کيا ہے۔
٭جو فکر ، ہنر کے قالب ميں نہ ڈھلے وہ دوام آور نہيں ہو سکتي ۔
٭بدقسمتي سے ہم فنکار ي اور ہنر مند ي کے سلسلے ميں بہت پيچھے ہيں اور ہميں اس زمينہ پر بہت کام کي ضرورت ہے۔
٭کتاب نويسي اور لوگوں کي فکر و ں کو بلند کرنا ايک اسلامي ، قومي اور وجداني فريضہ ہے۔
٭ہنر کي ظرافت کو جہاد في سبيل اللہ کي صلابت کے ساتھ ملانا انسان کے لئے خوبصورت سنگم ہے۔
٭جس ہنر نے’’ دفاع مقدس‘‘کي خدمت کي ہے وہ ہماري تاريخ کا اصلي ترين ہنر ہے۔
٭فکروں کي منتقلي کے لئے ہنر بہترين راستہ ہے ۔
٭امام خميني
 کي ہنر مندانہ شخصيت آپ کي رحلت کے بعد سب کے لئے اور زیادہ نماياں ہوگئي ۔
٭ہنر مند ہونے کے بہانے، اپنے آپ کو تردداور دودلي ميں نہيں رکھنا چاہئيے۔
٭بعض ہنر مندوں کے انحرافات اور نقائص کو ہنر کا انحراف اور اس کا نقص نہيں سمجھنا چاہئيے ۔
٭سننے اور ديکھنے کي عادت ڈالئے تاکہ حقيقي ہنر کي تلاش باقي رہے۔
٭آپ رضا کار حضرات نے تاريخ کے بہترين اشعار کہے ہيں اورفدا کاري کے اعلي ترين مناظر خلق کئے ہيں ۔
٭ايک تھيڑدس تقرير و ں کے برابر کام انجام دیتا ہے ۔
قرآن کريم

٭عام لوگوں کي قرآن کي طرف توجہ ہونا انتہائي ضروري ہے۔
٭آج قرآن اور تلاوت قرآن سے لگاو کو قابل قدر سمجھنا چاہیے۔
٭قرآن کريم کي تلاوت دراصل اُس آسماني کتاب سے لگاؤاور اس کے سمجھنے کا مقدمہ ہے۔
٭جب تک ہم متن قرآن کو اچھي طرح ياد نہ کر ليں تب تک ہمارے سماج ميں قرآن پر عمل کرنے کي ضمانت نہيں دي جاسکتي ۔
٭جب تک قرآن سے تمسک کے ساتھ لوگ ہر ميدان ميں حاضر ہيں تب تک دشمن ناکامي کے سوا کسي چيز کا مزہ نہيں چکھ سکتے ۔
٭تجويد قرآن کے پروگراموں ميں تمام مسلمین کو شرکت کرنا چاہئيے۔
٭ماہ رمضان ،بہار قرآن ہے قرآن سے لگاؤ، معرفت اسلامي کو ہمارے ذہنوں ميں قوي اور عميق کرتا ہے۔
٭اگر آيات قرآني ميں غور کريں تو ہما را ارادہ و استقامت ميں بھي اضافہ ہوگا ۔
٭مجھے اميد ہے کہ مسلمین روز بروز قرآن اور حقائق قرآني سے نزديک ہونگے ۔
٭ہمارا سب کچھ قرآن ہے ،ہميں اپني عقب ماندگي کو قرآن کے ذريعہ تلافي کرنا چاہئيے۔
٭قرآن کي آہنگ ايک اسلامي ہنر اور ايک مکمل موسيقي ۔
٭جس ملک کا نظام اسلامي اساس پر ہو اُس ملک کے تمام لوگوں کو قرآن کے صحیح پڑھنے پر قادر ہونا چاہئيے۔
٭تلاوت قرآن ، اسلامي معاشرہ ميں ايک بنيادي اصول ہے۔
٭يہ ہمارا فريضہ ہے کہ قرآن کے چہرے پر ڈالے گئے پردوں کو ہٹائيں ۔
٭نظام جمہوري اسلامي اپنا سب سے بڑا ہدف ، اہداف قرآن تک پہنچنے کو سمجھتا ہے۔
٭قرآن کے سر چشمہ ہدايت کي طرف بازگشت ايک ضروري اور حتمي امر ہے۔

ايمان تقويٰ و معنويت

٭ ہمارا نظام ، نظام عشق و ايمان ہے
٭ تقويٰ الہي پيغمبروں کي سب سے بڑي وصيت ہے
٭ متقي شخص اور متقي معاشرہ رحمت الہي اور نصرت پرور دگار سے مالامال ہے ۔
٭ خدايا ! ہميں تقويٰ کي حقيقت کو سمجھنے اور عملاً تقويٰ اختیار کرنے ميں کاميابي عطا فرما۔
٭ اگر آپ ايمان اور اخلاص کي اپنے پورے وجود کے ساتھ حفاظت کریں تو يقينا آپ کو دشمنان اسلام کے مقابلے ميں کاميابي نصيب ہو گي ۔
٭ ہم تقويٰ ، گناہوں سے دوري اور دنيا سے بے توجہي کے سبب لوگوں کي نظر ميں محبوب قرار پائے اور انہي چيزوں کي حفاظت کے ذريعہ سے ہي دلوں ميں ہماري محبوبيت باقي رہ سکتي ہے ۔
٭ايک معاشرہ کے لئے سب سے بڑا درد خدا سے غفلت ہے ۔
٭ اگر ہم ہار جائيں تو يہ تقويٰ نہ ہونے کي وجہ سے ہے ۔
٭ معاشرے ميں انفاق اور خيرات کرنا لوگوں کے ايمان کا جزئ ہے ۔
٭ وہ ايام گذر چکے ہيں کہ جب دين اور معنويت کو انساني قدروں کے مخالف سمجھا جاتا تھا ۔
٭ جو چيزيں معاشرے ميں برائيوں کے رائج ہونے کا باعث ہیں وہ شہوتوں ميں غرق ہو جانا اور تقويٰ ، فدا کاري کي روح کو کھو دينا ہے
٭ طاقت و قدرت اور عزت کا حاصل کرنا صرف تقويٰ الہي، قرآن مجيد سے تمسّک اور غير خدا سے نہ ڈرنے کے ذریعہ ہي ممکن ہے ۔
٭ ہماري قوم کو چاہيے کہ اپنے اندر معنويت ، صبر و يقين ، ا? کي عبادت اور اس کے ذکر کے نور کو روشن کرے ۔
٭ ايک با تقويٰ قوم کا نيک عمل، اس کي عزت اور استقلال کي حفاظت کرتا ہے ۔
٭ انسان ہميشہ امتحان اور آزمائش کي منزل ميں ہے اور صرف تقويٰ کي رعايت کے ذريعہ سے ہي وہ اپني حفاظت کر سکتا ہے ۔
٭ نظام اسلامي کي طاقت حزب ا? (خدائي گروہ)کے افراد کے ايمان کي طاقت ہے ۔

محمدي (ص)اسلام

٭ اسلامي ممالک کي نجات کا راستہ يہ ہے کہ وہ خالص محمدي اسلام کي طرف پلٹ آئيں اور حقيقي دشمنوں کي مکمل بصيرت رکھیں ۔
٭ حسين ابن علي ٴ نے حضرت محمد مصطفي
   کے لائے ہوئے خالص اسلام کي خاطر اپني جان کو نثار کر ديا ۔
٭جمہوري اسلامي خالص محمدي اسلام اور انقلابي اسلام کا مرکز ہے ۔
٭ خالص محمدي اسلام ہي ايک مستحکم محاذ ، حق کے متلاشي افراد کے لئے واحد اميد اور محلِ اعتماد ہے ۔
٭ جب تک خالص محمدي اسلام کي راہ پر چلتے رہيں گے دشمن ہماري تاک ميں ہے اور منافقانہ ہاتھ بھي موجود رہیگا۔
٭ امام خميني
 اس وقت تک زندہ ہيں جب تک خالص محمدي اسلام زندہ ہے ۔
٭ خالص محمدي اسلام ، اسلام عدل و انصاف ہے ، اسلام عزت ہے کہ جو کمزوروں ، محروموں اور پا برہنہ افراد کي حمايت کرتا ہے ۔
٭ خالص محمدي اسلام مظلوموں اور کمزوروں کے حقوق کا مدافع ہے ۔
٭ خالص محمدي اسلام اخلاق ، فضيلت اور معنويت کا درس ديتا ہے ۔
٭ خالص محمدي اسلام دشمنوں سے جہاد کا حکم ديتا ہے اور زورو زبردستي اور فتنہ و فساد پھيلا نے والے افراد کے ساتھ کسي قسم کي سازش کو قبول نہيں کرتا ہے ۔
٭ خالص اسلام اور قرآن کي حفاظت کا اصلي راستہ وہي انقلاب اسلامي کا راستہ ہے اور در حقيقت امام خمیني
 کا راستہ ہے ۔
٭ خالص محمدي اسلام ، ظلم و فساد اور انساني زندگي کے ماحول ميں اخلاقي پستي کو برداشت نہيں کرتا ۔
٭ خالص محمدي اسلام اُن نظاموں کے لئے کہ جن کي بنياد صرف اور صرف ظلم و فساد پر رکھي گئي ہو حقيقي خطرہ ہے ۔
٭ انقلاب اسلامي کے ذريعہ سے خالص محمدي اسلام نے امريکي اسلام کي جگہ لے لي ۔
٭ خالص محمدي اسلام سياست کو دين کا ايک ايسا جزئ سمجھتا ہے کہ جو اس سے جدا نہيں ہو سکتا ۔

امريکي اسلام

٭ امريکي اسلام کے سربراہوں اور بنياد پرست افراد کو خالص محمدي اسلام سے پريشاني لاحق ہے ۔
٭ امريکي اسلام کے سر براہوں سے ہوشيار رہيے خواہ وہ عالم دين کے لباس ميں ہوں يا ايک سياست دان کے روپ ميں ۔
٭ آج امريکي اسلام کي طرف سے لاحق خطرہ امريکہ کے فوجي اور سياسي وسائل سے کم نہيں ہے ۔
٭ امريکي اسلام ايسے انسانوں کا اسلام ہے کہ جن کے دل ميں نہ کسي کا درد ہے اور نہ کسي کا غم اور جو صرف اپني اور اپني حيواني آسائش کي فکر ميں رہتے ہيں ۔
٭ امريکي اسلام ،اسلام کے نام کي نقاب لگائے ہوئے ایک ایسي چیز ہے کہ جو اسکتباري طاقتوں کے مفاد ميں خدمت اور ان کے اعمال کي توجيہ کرتا ہے ۔
٭ امريکي اسلام اُن سرمايہ دار افراد کا اسلام ہے کہ جو اپنے فائدے کے حصول کے لئے تمام فضيلتوں اورانساني اقدار کو پاوں تلے روند ڈالتے ہيں ۔

اسلام

٭ دشمن اصل اسلام کا مخالف ہے ۔
٭ لوگوں کے مختلف گروہوں کو چاہيے کہ وہ صرف انقلاب اور اسلام کے پرچم پر نظريں جمائيں اور اُسي کے پيچھے چليں ۔
٭ آج اسلام دلوں پر حکومت کر رہا ہے ۔
٭ ہميں چاہيے کہ ہم امريکہ کے مقابلے ميں اسلام کا دفاع کريں ۔
٭ خليج فارس اسلام کا مرکز ہے ۔
٭ اسلام اور اسلامي انقلاب کے ساتھ امريکہ کي گہري دشمني کبھي ختم ہونے والي نہيں ہے ۔
٭ اسلام سرمايہ دارانہ نظام کا مخالف ہے ۔
٭ محمدي
   اسلام اور انقلاب کو زندہ رکھنا ضروري ہے ۔
٭ اسلام استکبار کے ساتھ جنگ اور ناسازگار رويہ رکھتا ہے ۔
٭ آج دشمنان اسلام ، اسلام کے ظہور اوراُس کي تجلي سے خوفزدہ ہيں ۔
٭ اسلام عزيز ہے، عزت دينے والا ہے اور عزت صرف اُسي کے لئے ہے کہ جو اسلام سے آشنا ہو جائے ۔
٭ کوئي بھي شخص مسلمان اور انقلابي ہونے کي وجہ سے اسلام اور انقلاب پر کسي قسم کا کوئي احسان نہيں رکھتا ۔
٭ کاميابي صرف پرچم اسلام اور ا? تعاليٰ کے دین کے لئے ہے ۔
٭ اسلام بشريت کو دنیا کے ظالم نظاموںسے نجات دلانے والا ہے ۔
٭ اسلام مستقبل ميں مغرب کي شيطاني حکومتوں کے شیرازہ کو بکھير دے گا ۔
٭ ہمارا اسلام ، جہاد اور شہادت کا اسلام ہے ۔
٭ دنيا ميں کميونيزم کي موت کو مد نظر رکھتے ہوئے اب مغرب کو جس چيز سے ڈرنا چاہيے وہ اسلام کي تجديد حيات ہے ۔
٭ہمارا فريضہ ہے کہ ہم اسلامي معارف کو دوسري قوموں تک منتقل کرنے کي کوشش کريں ۔
٭ آج جو چيز استکباري طاقتوں کے لوٹ مار کرنے اور دوسروں پر تسلط حاصل کرنے کي راہ ميں رکاوٹ ہے وہ صرف اسلام ہے ۔
٭ صرف اسلام ہي لوگوں کو بيوقوف بنانے کي راہ ميں مانع ہے ۔
٭ آج پوري دنيا ميں اسلام کي بہت زيادہ قدرو قيمت ہے اور مسلمان اس پر فخر کرتے ہيں ۔
٭ حقوق بشر کے ادارے اسلام کے دشمن ہيں اور وہ اسلام سے خوف کھاتے ہيں ۔
٭ ہم نے اس بات کي کوشش کي ہے کہ بيسويں صدي کي جاہليت کي تاريکيوں ميںاسلام کے نور سے اُجالا کریں ۔
٭ اسلام انسان کے تمام شعبہ جائے حیات پر حاکم ہے ۔
٭ ہم اسلام کي طرف دعوت ديتے ہيں اور اسلام ہي کا دفاع کرتے ہيں ۔
٭ ہمارا اسلام کمزوروں اور پا برہنہ لوگوں کا اسلام ہے کہ جو لوگوں کے مستحکم ارادے کے ساتھ تمام مشکلات پر غلبہ حاصل کرے گا ۔
٭ آج اسلام کا پرچم آپ (مسلمین)کے ہاتھ ميں ہے۔
٭ صاحبان زر اور ارباب اقتداريہ تصور نہ کريں کہ وہ اسلام کو صفحہ ہستي سے مٹاے دینگے ۔
٭ جمہوري اسلامي نے اسلام سے دفاع کرنے کا محکم ارادہ کر ليا ہے ۔
٭ دشمن اس وقت تک مسلمانوں سے راضي نہيں ہوگا، جب تک مسلمان معاشرہ اسلام کو ترک نہيں کرتا ۔

نماز ، نماز جماعت ، نماز جمعہ ، مسجد

٭ جمہوري اسلامي ایران ميں نماز جمعہ کا منعقد ہونا امام خميني
 
 کي حکيمانہ تدبيروں اور انقلاب کي عظيم بر کتوں کا نتیجہ ہے ۔
٭ نماز جمعہ عوامي تحريک کا معنوي محور ہے ۔
٭ نماز جمعہ ،عبادت اور عظمت خدا کے مقابلے ميں اپني پيشاني کو خاک پر رکھنے کا اجتماعي مظہر ہے ۔
٭ نماز جمعہ اتحاد کا مرکز ہے ۔
٭ اگر ہم معاشرہ ميں نماز جمعہ کي اہميت کو باقي رکھیں تو ہم انقلاب کو درپیش تمام مشکلات سے چھٹکارا پا سکتیں ہيں ۔
٭ نماز جمعہ کا مسئلہ ہمارے بنيادي مسائل ميں سے ايک ہے ۔
٭ نماز جمعہ تمام لوگوں کے جمع ہونے کا مرکز ہے ۔
٭ ايک نماز گزار کو در حقيقت انقلاب کي تہذيب اور اس کے نظريہ کا مظہر ہونا چاہيے ۔
٭ نماز جمعہ جمہور ي اسلامي کے نظام کا ايک رکن ہے ۔
٭ نماز جماعت کا برپا کرنا صالحين کي حکومت کا پہلا ثمرہ اور نشاني ہے ۔
٭ مسلمان معاشرے ميں نماز کے ستون کو قائم رہناضروري ہے ۔
٭ انسان کو چاہیے کہ اپني روح اور جسم کے ساتھ نماز کو ادا کریں اور اس کي پناہ ميں استحکام اور اطمينان حاصل کريں ۔
٭ نماز دين کا بنیادي رکن ہے لہذا ضروري ہے کہ اسے لوگوں کي زندگي ميں سب سے اعليٰ مقام حاصل ہو ۔
٭ در حقيقت نماز ايک مستحکم پشت پناہ اور انسان کے اپنے نفس ميں پوشيدہ شيطان کے ساتھ جنگ کرنے کي راہ ميں ايسا ذخيرہ ہے کہ جو کبھي ختم نہيں ہو سکتا ۔
٭ انسان اور خدا کے درميان رابطہ بر قرار کرنے کے لئے کوئي بھي وسيلہ نماز سے زيادہ مستحکم اور دائمي نہيں ہے ۔
٭ ملت جمہوري اسلامي کہ جن کے دوش پر امانت کا سنگين بوجھ ہے کے لئے ضروري ہے کہ فساد اور برائيوں کے مقابلے ميں کہ جو آج بشريت کو دھمکياں دے رہي ہيں نماز اور ياد خدا کے ذريعہ سے قوت حاصل کريں ۔
٭ ظہر کے وقت نماز قائم کرنا کسي ادارے کے اسلامي ہونے اور اس کي سلامتي کي علامت ہے ۔
٭ نماز خدا پر اعتماد اور اس سے اميد کا اُبلتا ہوا چشمہ ہے ۔
٭ انسان ہميشہ نماز کا محتاج ہے بالخصوص خطرناک موقعوں پر ۔
٭ نماز ابھي تک اپنے مناسب مقام کو يہاں تک کہ نظام اسلامي ميں بھي حاصل نہيں کر سکي ہے ۔
٭ مساجد اسلام اور عوامي تحريک کے اہم مراکز ہيں ۔
٭ تمام عمومي مراکز پر نماز کے لئے مناسب مقام کي فکر کرني چاہئیے ۔
٭ نماز فضيلت کے وقت ميں (اول وقت)اور با جماعت ادا کي جاني چاہیے ۔
٭ مسجديں اور نماز خانے پاکيزہ مرتب اورجاذب نگاہ ہونے چاہئيں۔
٭ لوگوں کو چاہيے کہ نماز کو لازوال قدرت کا منبع سمجھيں ۔
٭ ہر ماحول ميں بزرگ اور شائستہ افراد کو چاہيے کہ وہ دوسروں پر سبقت حاصل کريں اور اپنے عمل کے ذريعہ دوسروں کو نماز کي طرف اہمیت دلائیں اور اہمیت دلانا بھي سکھائیں ۔
٭ نماز قائم کرنے کا يہ مطلب ہرگز نہيں ہے کہ فقط صالح افراد ہي نماز ادا کريں ۔
٭ ديني دروس ، اسکولوں اور يونيورسٹيوں ميں ضروري ہے کہ نماز کے متعلق درس کو ايک خاص جگہ دي جائے ۔
٭ ذکر خدا اور نماز کا خزانہ کبھي ختم ہونے والا نہيں ہے ۔
٭ نماز کا ہر ذکر اور کلمہ ايک ايسا خلاصہ ہے کہ جو بعض ديني معارف کي طرف اشارہ کرتا ہے ۔
٭ ريڈيو ، ٹيلي ويژ ن پر نماز سے متعلق امور کو فوقیت دي جائے تاکہ لوگوں کے دلوں ميں ياد خدا کي پياس ،ايمان اور شوق پيدا ہو ۔

استقلال

٭ ہم اس وقت تک جنگ کرتے رہيں گے جب تک کہ استقلال ، عدل اور عدالت حاصل نہ کر ليں ۔
٭ تمام افراد کہ جن کے دل اسلام ، استقلال اور ملک کي سر بلندي کے لئے دھڑکتے ہيں ان کے لئے ضروري ہے کہ قوم کي صفوں ميں اتحاد کي حفاظت کريں ۔
ثقافت ۔تفکر ۔ تہذيبي یلغار

٭حوزہ ہائے علميہ ، علمائ ، طلاب اور غيرت دار جوان مسلمانوں کو چاہيئے کہ وہ اٹھ کھڑے ہوں اور مسلمانوں کے درميان گمراہ کن مغربي تہذيب کے حملے کي روک تھام کريں ۔
٭اقتصادي کام کي مثال ايک ایسے جسم کي طرح ہے کہ جس کي روح ثقافتي کام ہے ۔
٭اس انقلاب کو تمام چيزوں سے زيادہ ايک قوي ادب اور ايک ايسي تہذيب کي ضرورت ہے کہ جو دوسروں سے بے نياز ہو۔
٭اسلامي تہذيب ہمارے معاشرے کي بنياد کو تشکيل ديتي ہے اور اقتصاد معیشت کے پھیلاو کا ايک وسیلہ شمارہوتا ہے
٭ايک معاشرے کا سب کچھ اس کي تہذيب ہے ۔
٭حکومت اسلامي کا ايک فريضہ يہ بھي ہے کہ وہ معاشرے کي تہذيب کو رُشد و نموعطا کرے ۔
٭ ثقافتي استحکام اور ثقافتي جنگ، محاذ پر لڑي جانے والي جنگ سے زيادہ مشکل ہے ۔
٭ثقافت پر ہونے والے حملے ميں واز نہيں ہوتي لہٰذا اس راہ ميں زيادہ ہوشياري کي ضرورت ہے۔
٭ثقافتي انقلاب صرف يونيورسٹيوں سے مخصوص نہيں ہوتا بلکہ پورے معاشرے کو اپني لپيٹ ميںلے ليتا ہے ۔
٭ثقافتي اور تبليغي ذرائع ابلاغ کو چاہيئے، کہ انقلاب کي ثقافتي اقدار پر جامع منصوبہ بندي کے ساتھ ہونے والے حملوں کا مقابلہ کريں ۔
٭ج دشمنان اسلام نے اپني پوري طاقت کے ساتھ جمہوري اسلامي کے خلاف ثقافتي جنگ کا آغاز کیا ہوا ہے۔
٭ج ہمارے خلاف سب سے بڑي سازش ہمارے خلاف ہونے والا منفي پروپیگنڈہ ہے ۔
٭دشمن ايک منظم اور تربيت يافتہ طريقہ سے جمہوري اسلامي کے خلاف ثقافتي حملہ کر رہا ہے ۔
٭انقلاب کي وسعت کا مطلب ،يعني انقلاب کي تہذيب وثقافت کووسعت دي جائے ۔
٭ج ہمارا انقلاب دشمن کے ثقافتي حملوں کا نشانہ بنا ہواہے ۔ ٭دشمن کاکام ثقافتي لوٹ مار ، شبخون اور قتل عام کرنا۔
٭ہمارے انقلابي اور اسلامي معاشرے ميں مغرب کي بُري اور پست ثقافت کا واپس نا محال اورقابل مذمت ہے۔
٭اگر کسي قوم ميں دشمنوں کي تہذيب ،اُنکے اخلاق ،انکے عقائد رائج ہوں تو وہ قوم اپنے سياسي اور اقتصادي امور ميں مستقل ہونے کے باوجود استقلال کا دعوي نہيں کر سکتي ۔
٭دشمن اپني غیر انساني اور فحش تہذيب کے راستے سے يہ کوشش کررہا ہے کہ ہمارے نو جوانوں کو ہم سے چھين لے ۔
٭ثقافتي حملوں کے مقابلے ميں مومن اور عزم و حوصلے والے افراد کو چاہيئے کہ قيام کريں اور يہ افراد جہاں کہیں بھي ہوں ان کا احترام کرنا ضروري ہے ۔
٭ثقافتي حملہ ثقافتي افکار کے تبادلے سے مختلف ہے لہٰذا صحیح ثقافت کا تبادلہ دوسري قوموں تک ضروري ہے ۔
٭اگر پ قوم کے ذمہ دار اور ثقافتي کاموں سے مربوط افراد بيدار نہيں ہونگے تو خدا نخواستہ معنوي اقدار کے گرنے کي واز ايسے وقت ميں سنائي دے کہ جب پاني سر سے گزرچکا ہو ۔
٭ثقافت پر حملوں کا ايک راستہ يہ ہے کہ دشمن ہمارے مومن جوانوں سے ايمان کي وابستگي اور دلي لگاو کو دور کردے ۔
٭ ثقافت پر حملہ خود ثقافتي کام کي طرح ايک خاموش اور بے واز کام کي مانند ہے ۔

 

علم ودانش ۔ مفکرین ۔ مطالعہ

٭مفکرین اور یونیورسٹي کے اساتید اورپرفیسروں کو با نشاط اور طالب علموں کو ان کے مستقبل سے پُر امید بنانے والا ، مصنفین اور ہنر مند افراد کو پرُ جوش اور فیض بخش ہونا چاہیے۔
٭طلاب علموں کو چاہيئے کہ وہ کسي کواس بات کي اجازت نہ ديں کہ وہ اور انکي علمي مہارت استعماري تہذيب کے لئے راہ ہموار کرنے کا ايک وسيلہ بن جائے ۔
٭ ہمدرد ، سچے اور روشن فکر افراد يہ جان ليں کہ ج کا دور عظيم امتحان کا دور ہے اور تاريخ ان کے بارے ميں ان کي جزئیات اور حقيقت کو شکار کرنے والے کرے گي ۔
٭ہم ايک ملک کے عنوان سے عالمي دانش اور ٹيکنالوجي کي سطح سے نيچے ہيں کیونکہ ہم کو علوم سے دور رکھا گياہے ۔
٭تمام وہ مصيبتيں کہ جو استکباري طاقتوں کي جنايتوں کے نتيجہ ميں پيدا ہوئي ہيں ان کا سر چشمہ دين اور دنیاوي علوم ميں جدائي ہے ۔
٭کتاب نويسي اور لوگوں کي فکر کو بلند ي عطا کرنا ايک اسلامي ، قومي اوروجداني فريضہ ہے ۔
٭بے شک کسي بھي ملک کي ثقافتي اور فکري سطح کو اوپر ليجانے کي راہ ميں کتاب ايک بنیادي عنصر ہے۔
٭ضروري ہے کہ کھانے پينے سونے اور روز مرہ کے دوسرے کاموں کي طرح کتابي مطالعہ بھي لوگوں کي زندگي ميں جگہ بنائے ۔
٭ہمیںاپنے تمام فراغ اوقات ميں کتابوں کے مطالعہ کو اولیت دیني چاہیے ۔
٭کتابوں کي نمائش گاہ، کتاب پڑھنے والے افراد کے لئے بہت مناسب موقع ہے کہ وہ جديد تصنيفات اور نشريات سے باخبر ہوں اور ان سے فائدہ اٹھائيں ۔
٭لوگوں کو چاہيئے ،کہ وہ اس وقت کتاب سے جتنا انس اور لگاو رکھتے ہيں، اس ميں مزيد اضافہ کريں ۔
٭کتاب پڑھنا کسي قوم کے لئے ايک فريضہ اور واجب کي حيثيت سے کم نہيں ہے ۔
٭جو لوگ کتابيں پڑھتے ہيں ان کي معلومات ،ذہانت اور ہوشياري ان لوگوں کے مقابلے ميں کہ جو کتابوں سے لگاو نہيں رکھتے ، بہت زيادہ مختلف ہوتي ہے ۔
٭جمہوري اسلامي ميں شايع ہونے والي اکثر مطبوعات مفيد اور تمام لوگوں کے پڑھنے کے قابل ہيں ۔
٭کتابي مطالعہ کو ايک اجتماعي روش اورمعاشرتي کردار کي حیثیت ميں تبديل ہونا چاہيئے ۔
٭کتابخواني کي ترويج اوراُسے وسعت دینے توجہ کے ساتھ ساتھ يہ توجہ رکھنا بھي ضروري ہے کہ ايسے مطالب کو شايع کرنے سے پر ہيز کيا جائے کہ جن کا لوگوں کے لئے مضر ہونا واضح ہو ۔

مصنفین،مقررین اورخطبائ

٭خطبائ ، مقررين اور فاضل افراد کو چاہيئے کہ وہ کربلا کے عظيم واقعہ، کہ جو انقلاب اسلامي کا اصلي ستون ہے سے مربوط حقائق کو خرافات اور اضافي چیزوں سے جدا کرکے لوگوں کیلئے بيان کريں۔

جمہوري اسلامي

٭آج جمہوري اسلامي کي بنیادي بہت مستحکم اور مضبوط ہيں ۔
٭ہر شخص کو جو شيطان کا مخالف ہے اُسے چاہيئے کہ جمہوري اسلامي ايران کا دفاع کرے ۔
٭ جمہوري اسلامي ايران کا نظام ديندار علمائ کا محتاج ہے
٭جمہوري اسلامي ایران دنيا بھر کے مسلمانوں کے مسائل اور مشکلات سے ہرگز بے فکر نہيں رہ سکتا ۔
٭جمہوري اسلامي ایران اور اس ملت کو نہ صرف امريکہ ، بلکہ تمام استکباري طاقتوں پر کاميابي حاصل ہوگي ۔
٭جمہوري اسلامي کا آئین دنيا کے سب سے زيادہ ترقي يافتہ آئینوں ميں سے ايک ہيں ۔
٭نظام جمہوري اسلامي کو ايک ارزشمند نظام کي شکل ميں باقي رہناچاہيئے ۔
٭جمہوري اسلامي ایران اپنے دشمنان کے آگے اسي طرح سے قوي ،مستحکم اور پائيدا ر باقي رہے گا۔
٭ولايت فقيہ کي مخالفت جمہوري اسلامي اور اس کے اسلامي نظام کے سب سے زيادہ اہم اوربنیادي رکن کي مخالفت ہے ۔
٭جمہوري اسلامي ايران مسلمان اقوام کي اميد وںکا واحد دريچہ ہے ۔
٭انقلاب اور نظام جمہوري اسلامي کا نظام روز بروز مستحکم ہو رہا ہے ۔
٭ہم قرن مجيد کے احکام کا نفاذ ، لاالہ الا اللہ کے پرچم کي سر بلندي ، کعبہ کي عظمت اور اسلامي معارف کے نشر کو جمہوري اسلامي ایران کے قيام کا اصل مقصد سمجھتے ہيں ۔
٭لوگوں کا ووٹ دينے کے لئے حاضر ہونا نظام جمہوري اسلامي کي مضبوطي اور استقرار کا باعث ہے ۔
٭جمہوري اسلامي کا سب سے بڑا فريضہ يہ ہے کہ لوگوں کي زندگي ميں اسلام کو عملي کرے اور معاشرے کو ايک مثالي معاشرہ بنادے، کہ جودیگر اسلامي ممالک کے لئے نمونہ عمل ہو۔
٭جمہوري اسلامي کا فريضہ ہے کہ وہ استکباري طاقتوں کے ساتھ قدرت مندانہ برتاو اور کمزور حکومتوں کي حمايت و طرف داري کرے ۔
٭جمہوري اسلامي ميں اگر ہم يا پ براکام کريں تو اس کا گناہ دوگنا ہے چونکہ اولاً يہ کہ ايک برا کام انجام دیا اور ثانياً يہ کہ جمہوري اسلامي کے چہرے کو مسخ کيا ہے۔
٭جمہوري اسلامي ایران اسلام کے دشمن امريکہ کے مقابلے ميں سیسہ پلائي ہوئي دیوار کي مانند کھڑا ہے ۔
٭ہم جتنے زيادہ قوي طريقہ سے اپنے نظام ميں ’’خُمینيت‘‘ کا اظہار کريں گے، جمہوري اسلامي کي عزت اور رعب ميں اتنا ہي زیادہ اضافہ ہوگا ۔
٭ج جمہوري اسلامي کا نظام ، اسلام کے قوانين اور اقدار سے ايک قدم بھي پيچھے ہٹنے پر راضي نہيں ہے ۔

جہاد اکبر ۔ خود سازي ۔ جہان بالنفس

٭نفس امارہ سب سے بڑااور خطرناک دشمن ہے ، جوکہ ہمارے وجود ميں چھپا ہوا ہے ۔
٭سب سے بڑا اور خطرناک بت ،نفس کا بت ہے ۔
٭يہ جہاد اکبر کا وقت ہے لہٰذااس ميں راہ ميں کوشاں رہیے۔
٭ميں خود کو اس قابل نہيں سمجھتا کہ کسي کو نصيحت يا موعظہ کروں۔
٭ہمارے لئے ضروري ہے کہ اپنے تمام اعمال ، حرکات اور گفتار ميں خدا کو مد نظر رکھيں ۔
٭ہماري کاميابي خدا وند عالم کي طرف سے عائد شدہ فرائض کي انجام دہي ميں پوشيدہ ہے ۔
٭ہميں خدا کے لئے عمل کرنا اور اپنے فرائض کو اُس کے لئے انجام دينا چاہيئے ۔
٭ميں اور مجھ جیسے اُن تمام افراد کہ جن کے کاندھوں پر ذمہ داري کا سنگین بوجھ ہے ،کو چاہیے کہ اپنے باطن کي طرف رجوع کریں ،اپنے افکار اور نیتوں کا جائزہ ليں اور حاکمیت و ہوا ہوس کو اپنے اندر سے ختم کردیں ۔
٭ماہ مبارک رمضان خود سازي ، نئي شخصیت کي تعمیر ، اورخدا کے ساتھ انسان کے انس اور لگاو کي بہار ہے ۔
٭اگر ہمارا دل اچھا نہ ہو تو ہم اچھي دنيا بھي نہيں بنا سکتے۔
٭اگر ہمارے اندر عيوب پائے جاتے ہوں تو ہم معاشرے اور دنيا کے عيوب کو بر طرف نہيں کر سکتے ۔
٭ہم ميںسے ہر ايک کو تہذيب نفس کي کوشش ميں رہنا چاہيے۔
٭پيغمبر اکرم
   جب ايک سخت جنگ کے ميدان سے پلٹے تو پ نے فرمايا:’’ يہ جہاد اصغر تھا اب اس کے بعد جہاد اکبر کي باري ہے ، جہاد اکبر يعني نفس کے ساتھ جہاد‘‘ ۔
٭خواہشات نفساني ، لذت طلبي ، ہمیشہ عافیت اور آرام کي آرزو ،مادیت کے پیچھے لگے رہنااور غير مناسب اخلاقیات کے ساتھ جنگ کرنا ہي جہاد بالنفس ہے۔
٭معاشرے اور اجتماع ميںبھي جہاد بالنفس مطلوب ہے اور وہ اس طرح سے کہ ہم اپنے عزم و حوصلے کي حفاظت کريں کہ جوکاميابي کا باعث ہيں ۔
٭دنيا سے دل لگانا اور مادي لذتوں کو راہ خدا پر ترجيح دينا اسلامي اقدار کے خلا ف ہے ۔

انقلاب اسلامي

٭اصلي انقلاب يہي اسلامي انقلاب ہے۔
٭انقلاب ا سلامي نے انساني ہنر کو بھي ظلم و ستم کي زنجيروں سے زاد کرايا ہے ۔
٭انقلا ب کے ہنر کو چاہيئے کہ وہ انقلاب کے پيغام کو لوگوں تک پہنچائے۔
٭تاريخ اسلام ميں ہماري ملت کي سب سے عظيم کامیابي یہي انقلاب اسلامي ہے۔
٭انقلاب ا سلامي کے شہدائ کا خون رائگاں نہيں ہوا ہے ۔
٭انقلاب ا سلامي کا بنيادي پيغام دو جملوں ميں پوشيدہ ہے ١) اسلام کي طرف پلٹنا ٢) دنيا پر تسلط حاصل کرنے والي طاقتوں کي طرف مائل نہ ہونا۔
٭ہمار ا اسلامي ا نقلاب طولاني مدت اور نہ ختم ہونیو الا ہے ۔
٭ہميں چاہيے کہ انقلاب اور فرزندان انقلاب کي روح کو معاشرے ميں ختم نہ ہونے ديں ۔
٭حال حاضر ميں اسلامي انقلاب امريکہ سے جنگ کي حالت ميں ہے۔
٭اسلامي انقلاب طاقت اور قدرت کي حکومت کے مقابلہ ميں سیسہ پلائي دیوار کي مانند کھڑا ہے۔
٭ايران کے اسلامي انقلا ب کي طرح دنیا کے کسي بھي انقلاب کو اس حد تک دشمني کا نشانہ نہيں بنايا گيا ۔
٭تاجروں اور دکانداروں نے جو خدمت انقلاب کے لئے انجام دي ہے وہ انقلاب کے لئے کي جانے والي سب سے عظيم خدمتوں ميں سے ہے ۔
٭فارسي زبان دين اور انقلاب کي زبان ہے ۔
٭اسلامي انقلاب کو ايک ميراث کے عنوان سے ملک کي نے والي نسلوں کے لئے باقي رہنا چاہیے۔
٭ظہور اسلام کے بعد سے دنيا کي تاريخ کا سب سے درخشان واقعہ ايران کا اسلامي انقلاب ہے ۔
٭انقلاب اسلامي تش فشان کے مانند ختم ہونے والا نہيں ۔
٭انقلاب اسلامي کے دوران خواتین انقلاب کے اگلے مورچوں کي سپاہي رہي ہيں۔
٭اسلامي انقلاب نے استکباري طاقتوں کو ذلت اور خواري کے ساتھ خاموش کر ديا ہے ۔
٭اسلامي انقلاب نے ہماري قوم کو زندہ اور ہوشيارکیا ،ہماري قوم کو عزت و قدرت اور شجاعت بخشي۔
٭انقلاب کے اصول اور ميعاروں کي حفاظت کرنا ہمار ا فريضہ ہے ۔
٭اگر کوئي شخص انقلابي نہ ہو اور انقلاب کو قبول نہ رکھتا ہو تو وہ جتنا بھي پڑھا لکھا ہي کيوں نہ ہو، ايک کھوٹے سکہ کے برابر بھي ارزش نہيں رکھتا اور اس کے وجود کاکوئي فائدہ نہيں ۔ خود پيغمبر اکرم
   ايک انقلابي تھے اور اگر انقلابي نہ ہوتے تو ابو جہل اور ابو لہب ان سے کوئي سرو کار نہيں ہوتا۔
٭اسلامي انقلاب کي پہچان امام خميني  کے نام کے بغير دنيا کے کسي حصہ ميں ممکن نہيں ۔
٭امام خمیني کے پیغامات کا مجموعہ صحیفہ انقلاب ہے ۔
٭اسلامي انقلاب نے مارکسيزم کي ٧٠ سالہ اسلام کے ساتھ جنگ کا خاتمہ کر ديا ہے۔
٭ج اسلامي انقلاب کي برکت سے دنيا ميٹريا ليزم (
Materialism ) کے زوال کي شاہد ہے ۔
٭اس انقلاب کي برکت سے اقوام کے دلوں ميںجوش،ولولہ اور اميد پيدا ہوئي ہے۔
٭اسلامي انقلاب کا بين الاقوامي اور عالمي چہرہ اس کے سب سے اہم پہلووں ميں سے ہے۔
٭جمہوري اسلامي ايران کے خلاف زہر يلي تبليغات کے ذريعے سے عالمي استکبار کا مقصد يہ ہے کہ دوسروي قوموں کو اسلامي انقلاب کے متعلق مايوس کرديا جائے ۔
٭انقلاب کي ارزشيں ہمارے تمام لوگوں کي ناموس ہيں لہٰذا ہميں اپني پوري طاقت اور غيرت کے ساتھ ان کا دفاع کرنا چاہیے۔
٭انقلاب ايک ايسا اکسير ہے ، جو بے قدرو قیمت کو قيمتي عناصر ميں تبديل کر سکتا ہے ۔
٭انقلاب اسلامي ايران کا سب سے بڑا پیغام اتحاد بین المسلمین ہے۔

دعا و ذکرِ خدا

٭دعا کرنا کمزوري کي علامت نہيں بلکہ قوت کي نشاني ہے ۔
٭اگر انسان کاميابي اور قدرت کي خري منزل پر بھي مگر پھر بھي دعا کا محتاج ہے ۔
٭تمام انسانوں کي دعائيں خوبصورت ہيں بالخصوص امام حسين ٴ جيسي شخصيت کي دعائيں ۔
٭استغفار اور توبہ کا مطلب ہے خدا کي طرف پلٹنا ،برائيوں سے منھ موڑنا اور اپنے اندر تبديلي پيدا کرنا ۔
٭استغفار کرنا ، خداکي طرف پلٹنا اور اپني اصلاح کرنا اس بات کا سبب ہوگا کہ خدا وند متعال اپني رحمت ،برکت، فضل اورطاقت و عزت کو پہلے سے زيادہ عطاکرے ۔
٭اللہ پر بھروسہ کيجئے اُسي کي بارگاہ ميں فرياد کيجئے اور اُسي کے ساتھ راز و نياز کيجئے کیونکہ وہي دعا قبول کرنے والاہے۔
٭اپنے باطن ميں پائے جانے والے موانع کو پروردگارکي بارگاہ ميں گريہ و زاري ، دعا، تربيت نفس ، تقويت اخلاق ، عبادت اور ائمہ اطہارٴ سے توسل کے ذريعہ بر طرف کریں اور اپنے باطن کو پاک کریں۔
٭توجہ کے ساتھ نماز پڑھيں ، قرن کریم کے ساتھ اُنس پیدا کریں ، توسل اور گريہ و زاري کے ساتھ دعا کرنے اور نصف شب ميں عبادت کي کوشش کیجئے ۔
٭جو نعمتيں پروردگار نے انسان کو عطا کي ہيں ان ميں سے ايک دعا ہے ۔
٭اگر يہ دعا کي نعمت نہ ہوتي تو تمام انسان ايک گھٹن سے بھرے ہوئے قيد خانہ ميں اپنے اپنے وجود کو محسوس کرتے۔
٭افسوس اس شخص کے حال پر کہ جو اس ( دعا کے ) دروازے کو اپنے اوپر بند کر لے۔
٭پ جوان حضرات ! خدا سے دعاکریں، خدا سے باتيں کریں اور اُسي سے طلب کریں۔
٭ہميں چاہيے، کہ خدا سے طلب مغفرت کريں ، خدا سے اس کا فضل چاہيں ،اُسي سے نے اپني دنيا و خرت کے لئے سوال کريں اور اپني مشکلات کو اس کي بارگاہ ميں بيان کريں ۔
٭يہ دعائيں پ کو خدا سے نزديک کرتي ہيں ، لہٰذاجتنا ہو سکے دعا کريں اور جب بھي انشائ اللہ اگر دعا کريں تو ہمارے لئے بھي دعا کريں ۔
٭گمراہي کے دو اصل سبب ہيں پہلا سبب : ذ کرخدا سے دوري جس کا مظہر نماز ہے اور دعا ، ذکر، توسل اور خدا کي طرف توجہ کو فراموش کرنا ۔ دوسرا سبب : اپني خواہشات اورہوا و ہوس کي پيروي کرنا ۔
٭ميرے نزديک يہ بات روشن ہے کہ امام خمیني  کي زندگي کے آخري چند سال ميں آپکي حیات صرف لوگوں کي دعاوں کا نتیجہ تھي ۔
٭مستحب دعائيں بالخصوص نماز کے بعد کي دعائيں پروردگار سے ارتباط کا اہم وسيلہ ہیں ۔
٭پ کو چاہيیے کہ اپنے اندر توکل اور پروردگار سے لگاو کي روح کو قوي بنائيں ۔
٭خود دعا کرنے کي قدرو قیمت ،انسان کیلئے اُ سکي دعا کے قبول ہنے سے زیادہ ہے۔

ورزش ۔ تربيت ۔کھیل

٭ورزش ميں ضروري ہے کہ اسلامي اقدار کا مکمل طور پر خیال رکھا جائے۔
٭ورزش ميں جسماني پہلووں کے ساتھ ساتھ روحاني جہات کا شانہ بہ شانہ مد نظر رکھنا ضروري ہے ۔
٭جو چيز ورزش کو تقدس عطا کرتي ہے وہ اُستاد کے اندر اسلامي اخلا کا پايا جانا اور ورزش کرنے والے کے اندر ايثار اور عفو کا وجود ہے ۔
٭ورزش(کھیل) اسلام کي بلند اقدار کو دنيا کے تمام ملکوں ميں پھيلانے کا سنہرہ دروازہ ہے ۔
٭ہماري ورزشوں (کھیلوں)ميں اسلامي قدروں کا سہارا لينا اور اخلاقي پيمانوں کي پابندي کرنا ضروري ہے ۔
٭طاقت ، نشاط اورسلامتي کو خدا وند عالم نے انسان کے وجود ميں بطور امانت رکھاہے تاکہ وہ کمال تک پہنچ سکے ۔
٭ورزشي مشقوں کے ذريعہ سے قوي ارادے کا مالک بناجا سکتاہے ۔
٭ورزش کریں اورروح کي ورزش کہ جو عبادت ہے زيادہ انجام ديجئے کہ جس کا ثمر اور فائدہ آخرت اور دنیا دونوں ميں ہے ۔
٭جسم کي ورزش کرنا گويا جسم کي قوتوں کي قدر کرنا ہے ۔
٭ورزش کے ذريعہ سے پ جسم کي قدر کرسکتے ہيں ، اپنے جسم اور صحت و سلامتي کے لئے ورزش سے فائدہ اٹھائيے ۔
٭دنيا کا سب سے بڑا پہلوان اور سب سے بڑا فاتح بھي خدا کا محتاج ہوتا ہے ۔
٭جوانوں کو چاہيیے کہ ورزش کو زيادہ اہميت ديں چونکہ دوسروں کو مقابلہ ميں ان کے اندر رشد اور ترقي کي استعداد زيادہ ہوتي ہے ۔
٭ورزش صر ف ايک فن نہيں بلکہ زندگي کے امور ميں شامل ایک اہم باب ہے ۔
٭ہمارے اچھے نوجوان دنيا کے تمام نبرد زما جوانوں سے زيادہ شجاع ہيں ۔
٭تمام لوگوں کو ورزش کرنا چاہيیے اور کسي ایک کو بھي ورزش سے غفلت نہيں کرني چاہيیے،کیونکہ ورزش سب کي ضرورت ہے۔
٭چیمپین ، وہ شخص ہے کہ جو قوي جسم کا مالک ہونے سے زيادہ قوي ہمت اور ارادے کا مالک ہو ۔

ظلم ، ظالم اور مظلوم کا دفاع

٭ہم ہر ظالم کے دشمن اور مظلوم کے طرفدار ہيں ۔
٭ ہمیں طبقاتي نظام ،نا انصافي ،تعلقات اوروسائل سوئ فائدہ حاصل کرنے سے سخت پرہیز کي ضرورت کرني چاہیے۔
٭حضرت علي ٴ ظالم اور ظلم کے خلاف ایک سیسہ پلائي دیوارتھے ۔
٭تھيٹر ميں کام کرنے والے ادا کاروں کا اصلي ہنر ظلم سے مقابلہ اور ظالم کے مقابلہ ميں مظلوم کي حمايت کرنا ہے ۔
٭ اگر مسلمین حضرت علي ٴ کي راہ و روش پر چلیں تو ظلم و جور کو اکھاڑ پھيکنے پر قادر ہوجائیں گے ۔
٭جمہوري اسلامي ظلم کے خلاف جنگ کے پرچم کي حفاظت کرے گا اور ظالم امريکہ سے کسي بھي بڑے مقابلے کیلئے آمادہ ہے ۔
٭يہ جمہوري اسلامي ہے جو ظلم کے خلاف جنگ کے پرچم کي حفاظت کر ے گا۔
٭وہ چيز جس کي ناک زمين پر رگڑي جائے گي وہ ظالم اوراستکباري طاقتیں ہيں ۔
٭ظالم وہ نہيں ہے کہ جسکا ظاہر ايک بدمعاش کي طرح ہو ، بلکہ ممکن ہے کہ ايک شخص بظاہر صحيح ہو ليکن حقيقت ميں ظالم ہو ۔
٭دنيا عدل و انصاف کي طرف گامزن ہے اور خر کار ظلم وستم کے خلاف قيام کو کاميابي نصیب ہوگي ۔
٭عوام اور حکومتي عہدید داروں کے درميان محکم اعتماد اور رابطہ، دشمنان اسلام بالخصوص شيطان بزرگ امريکہ کے منھ پر ايک زبردست طمانچہ ہوگا ۔
٭چونکہ نظام اسلامي کي طبعيت ميں ظلم سے جنگ کرنا ہے لہٰذ ا اسے ہميشہ دنيا کے ظالموں اور مستکبروں کا سامنا ہے ۔
٭صربوں کے دل ہلا دینے والے جرائم کے مقابلے ميں مغربي حکومتوں کي خاموشي عالمي استبداد کي اسلام کے ساتھ دشمني کا ثبوت ہے
٭يورپ ميں مسلمانوں کي نسل کشي موجود ہ مغربي طاقتوں کے ہاتھوں انجام پا رہي ہے خواہ وہ يورپي ہوں يا امريکي ۔

سياسي جماعتیں اور پارٹي بازي

٭سياسي تحريک اگر اخلاق سے جدا ہو جائے تو صرف سياسي کھيل بن کر رہ جائے گي ۔
٭ ملک اور انقلابي لوگوں کي پاک اور صاف ستھري فضا کے درميان سب سے بري چيز جو وجود ميں آئي ہے انہيں ميں سے ايک سياسي گروہ بندي اور پارٹي بازي کا پيدا ہونا ہے ۔
٭ ايک سپاہي کو کبھي بھي سياسي پارٹيوں ميں داخل نہيں ہونا چاہيے ۔
٭ سياست ايک مقدس کام ہے اور يہ انحراف، اختلاف پيدا کرنے سے بالکل الگ ہے ۔
٭ مسلح طاقتوں کا گروہ بندي اور پارٹي بازي ميں وارد ہونا حرام ہے ۔
٭ مسلح طاقتوں کے اندر مسائل کو درک کرنے ، صحیح فيصلے اور تشخيص اور سياسي تحليل کي قدر ت ہونا چاہيے ۔
٭ عوام کو اختلافات ، گروہ بندي اور سياست بازي ميں مبتلا نہيں ہونا چاہيے ۔
٭ سياسي پارٹيوں کو چاہيے کہ وہ اپنے مشترکہ نکات پر جمع ہونے کي کوشش کریں ۔
٭ سياسي مسائل ميں مسلح طاقتوں کي دخالت اُس کي تباہي کا سبب بنتي ہے ۔
٭ مسلح طاقتوں کا گروہ بندي اور سياسي کاموں ميں دخل دينا ممنوع ہے ۔
٭پارٹي بازي يعني کسي خاص پارٹي سے وابستہ ہونے کي بنياد پر متعصب ہونا اندر سے کھوکھلا کر دينے والا ہے ، لہذا معنويت اخلا ق اور نصيحت کے اسلحہ کے ذريعہ ان بري اور تباہ کن حالت کا خاتمہ ضروري ہے ۔
٭ ايک سالم ، خالص ، اور کار آمدادارے، مثلاً فوج کو سياسي اور گروہي مقاصد سے فائدہ نہيں اٹھانا چاہيے ۔
٭ سپاہي کي ايک گھنٹہ کي خدمت سیاستدانوں کي گھنٹوں گپ بازي (بے فائدہ میٹنگز) سے کہ جو سياسي لوگوں کي نظر ميں دنياوي امور کو تہہ و بالا کر سکتي ہيں کئي گنا بہتر ہے ۔
٭ ايسا نہيں ہونا چاہيے کہ کسي خاص گروہ ميں جا کر سياسي جوڑ توڑ ميں مصروف رہيں اور صبح اٹھ کر فوجي لباس پہن ليں ، يہ خلاف شرع ہے ۔
٭ انقلاب کے ميدان ميں سياسي آگاہي اورہمیشہ میدان ميں حاضر رہنا، اچھي چيز ہے سياسي ٹکراو اور سياسي پارٹي بازيوں ميں دخل دينا اور ان ميں سے ايک کے فائدے اور دوسرے کے ضرر ميں کام کرنا يہي وہ بہت خطر ناک اور بري چيز ہے کہ جس کے بارے ميں امام خمیني  نے ايک ٹيم کو اس کام کے لئے حکم ديا اور کہا ’’ دیکھو کون ايسا کر تا ہے جو ايسا کر ے اُسے فوج سے باہر کر دو ‘‘
٭ اے محافظ عزیزو ! حفاظت کے کام کي حساسيت کو مد نظر رکھتے ہوئے ضروري ہے کہ اچھي طرح سے کام انجام دیں اور اچھي طرح سے حفاظت کيجيے ايسا نہ ہو کہ آپ سیاسي مسائل ميں پھنس جائیں اور اپنے اصل فریضہ (محافظت)کو بھول جائیں ۔

جوان ، جوانان اور جواني

ايمان کا نہ ہونا جوانوں کے لئے سب سے بڑي بلا ہے ۔
ہم جوانوں کے لئے معنوي اور اخلاقي اقدار کو اتنا زيادہ ضروري سمجھتے ہيں کہ اس کي اہميت علم سے بھي زيادہ ہے ۔
جوان طبقے کو چاہيے کہ آگاہي کے ساتھ ملک کے مستقبل کو اپنے ہاتھوں ميں لے ۔
آج اسلامي دنيا کے تمام جوانوں کو چاہيے کہ استکبار سے جنگ کرنے کے لئے اپني کمر کو مضبوطي سے باندھے رکھیں ۔
دشمن اس بات کي کوشش کرتا ہے کہ ان جوانوں کو کہ جن کي تربيت امام خمیني  نے پھول کي طرح کي ہے، اُنھیں انقلاب اسلامي جداکردیں ۔
اسلام کے دشمن اس بات کي کوشش کرتے ہيں ،کہ جوانوں کے ا ذہان اور ان کي فکري طاقت کو مختلف پرو پيگنڈوں کے ذريعہ سے متآثر کريں ۔
دشمن اسي کوشش ميں ہے کہ مسلمان جوانوں کي اسلامي حقائق سے دلچسپي کو ختم کر دے ۔
اسلام کي نوراني شريعت ميں نوجوانوں اور جوانوں کے حقوق کو دور حاضر ميں انہيں دئیے جانے والے حقوق سے زيادہ اہميت دي گئي ہے ۔
تمام مسلمين ، بالخصوص جوانوں اور نوجوانوں کے لئے ضروري ہے کہ خود کو قرآن کریم سے نزديک کريں ۔
ميں جوانوں سے گذارش کرتا ہوں کہ اپنے علم و عمل ميں اضافہ کريں تاکہ مکتب تشيع کي سر بلندي کا سبب بنيں ۔
دشمن کي کوشش يہ ہے کہ مسلمان جوانوں کو گمراہ کرکے انہيں لھو و لعب ميں سر گرم کر دے ۔
ہمارے جوانوں کو اپنے ايمان کي پشت پناہي حا صل کہ جو دشمن کي سازشوں کے مقابلے سیسہ پلائي ہوئي دیوار کي مانند ہے ۔
ايک ايسا جوان کہ جس کا دل لہو و لعب اور مستي ميں مشغول ہو اور وہ برائيوں ، گمراہيوں اور شہوتوں ميں سر گرم ہو ، کيا اس کے پاس جہاد کرنے اور سنجيدہ بات کرنے کا موقع فراہم ہو سکتا ہے ۔
آپ جوانوں سے ميري میري دست بستہ درخواست ہے کہ ہوشيار رہيں ، اپني حفاظت کریں اور اپنے محاذ کو مضبوط کريں تاکہ دشمن آپ کے مورچہ ميںنفوذ نہ کر سکے ۔
ايک جوان کے لئے معنوي اور اخلاقي اقدار کي اہميت علم سے زيادہ ہے ۔
آپ جوان ہيں، اپني جواني کي قدر کيجئے ،جواني ايک انساني طاقت کي توانائي کا مرکز ہے ۔
آپ جيسے مومن جوانوں کے ہوتے ہوئے ہم پر حجت تمام ہے ۔
دشمنان اسلام جان لو! کہ مسلمان جوان ابھي زندہ اور بیدار ہیں ۔
جوانوں کو چاہيے کہ اپنے معاشرے ميں امر بالمعروف اور نہي عن المنکر کريں ۔
آپ جوانوں کو چاہيے کہ اپنے اسي انقلابي جوش و جذبہ کي کہ جو جنگ کے درميان تھا، اپني پوري توانائي کے ساتھ حفاظت کريں ۔
دشمن اسکولوں ،کالجوں اور یونیورسٹیوںميں کام کر رہا ہے مختلف خباثتوں اور شہوت ابھارنے والے کاموں کے ذريعہ سے ان پاک جوانوں اور نوجوانوں کو گمراہي کي طرف کھينچ رہا ہے لہذا اس کے مقابلے ميں سخت مقاومت کي ضرورت ہے۔
يہ ( دشمن ) اس بات کي کوشش کرتے ہيں کہ مسلمانوں کي جوان نسل کو ضائع اور نابود کر ديں ۔

نو جوان اور بچے

تمام لوگوں سے گذارش کرتا ہوں کہ وہ بچوں کے مسئلہ کو اہميت ديں ۔
بچے کے متعلق دو اہم مسئلے ہيں ، ايک ان کي تعليم اور دوسرا انکے لئے صحت کے اصولوں کي پابندي کرنا ۔


ا
ٓزادي

آزادي کا مطلب بے لگام ہو جانا يا اپني من ماني کرنا نہيں ۔
آج جو جمہوريت ،جمہوري اسلامي ميں بر قرار ہے اس کي مثال پوري دنيا ميں نہيں ۔
جمہوري اسلامي ایران ميں لوگ آج صحیح معنوں ميں آزادي محسوس کر رہيں ہے ۔
جمہوري اسلامي ايران ميں آزادي اور جمہوريت کي مثال کرہ ارض کے کسي ملک ميں نہيں ہے ۔
اسلامي نظام ايسي آزادي کو کہ جس کا پرچم اسلامي اور قرآن کے ہاتھوں ميں ہے مغربي نظاموں ميں موجود آزادي کے جھوٹے دعويداروں سے سيکھنا نہيں چاہتا ۔
ہم گمراہي اور بے لگامي کي آزادي ، جھوٹ ، فريب ، ظلم اوردوسروں کي حقوق پر تجاوز کي آزادي کو کہ جس کا پرچم مغرب کے ہاتھوں ميں ہے اور وہ اس سلسے ميں شدید جرائم کے مرتکب بھي ہوئے ہيں ،کي سر سخت اور واضح الفاظ ميں مذمت کرتے ہيں ۔
آج مغرب ميں جس چیز کو خواتين کي آزادي کا نام ديا جا رہا ہے وہ عورتوں کي آزادي نہيں ہے بلکہ وہ بے لگام مردوں کي آزادي ہے کہ جن کے ذریعے وہ عورتوں سے اپني شہوت کي حوس کو پورا کرتے ہيں ۔

تعلیم بالغان اور جہالت کے خلاف جنگ

ہميں چاہيے کہ جہالت کو جڑ سے ختم کر ديں ۔
غير تعليم يافتہ افراد کو پڑھانا اور انہيں علم و دانش سے آشنا کرانا بہت بڑي نيکي ہے ۔

امر بالمعروف و نہي عن المنکر

جوانوں کو چاہيے کہ اپنے معاشرے ميں امر بالمعروف اور نہي عن المنکر کريں ۔
تمام لوگوں کے لئے ضروري ہے کہ وہ امر بالمعروف اور نہي عن المنکر کو اپنا فريضہ سمجھيں ۔
امر بالمعروف کي مہم کو عمل کے مر حلے ميں انجام دينے کے لئے حکومت کي اجازت ضروري ہے ۔
ہر حکومت کو چاہيے کہ وہ امر بالمعروف اور نہي عن المنکر کرنے والوں کا دفاع کرے ۔
حکومتي اہل کاروں کو ،خواہ وہ پولیس سے مربوط ہوں يا عدالت سے، مجرم کے دفاع کرنے کا کوئي حق نہيں ۔
سب کو چاہئے کہ امر بالمعروف اور نہي عن المنکر کريں ۔
نہي عن المنکرکيجئے ، يہ ايک واجب امر ہے اور پ کي ذمہ داري ہے ۔
امر بالمعروف بھي نماز کي طرح واجب ہے ،اسے بھي انجام دینا چاہیے،کیونکہ اس کي انجام دہي بھي سب کا فریضہ ہے۔
امر بالمعروف اور نہي عن النکر کا مرتبہ جہاد سے بھي بلند ہے ، امربالمعروف و نہي عن المنکر ہي ہے جو جہاد کي بنياد کو استحکام بخشتا ہے۔
امر بالمعروف اور نہي عن المنکر دين کي بنياد کو مضبوطي عطا کرتا ہے ۔
امر بالمعروف اور نہي عن النکر زبان سے انجام ديا جانے والا فريضہ ہے اور اگر ٹکراو (عملي کرانے )کي نوبت جائے تو تو يہ ذمہ داري عام افراد کي نہيں بلکہ علمائ دین اور صاحب نظر افراد کي ہے۔
نہي عن المنکر معاشرے کي اصلاح کرتا ہے۔
مومن اور مخلص رضا کار جوانوں کو چاہيے کہ وہ امر بامعروف اور نہي عن المنکر کے ذريعہ سے اپني شرعي ، انقلابي اور سياسي ذمہ داري کو انجام ديں ۔
امر بالمعروف اور نہي عن المنکر کو بھي نماز کي طرح پابندي سے انجام دینا واجب ہے۔
امر بالمعروف و نہي عن المنکر ہميشہ باقي رہنے والا فريضہ ہے ۔
اسلامي معاشرہ امر بالمعروف اور نہي عن المنکر کے ذريعہ زندہ رہتا ہے
حکومت اسلامي کے وجود کي بقائ امر بالمعروف و نہي عن المنکر کے ذريعہ سے ہي ممکن ہے ۔
سب کے لئے ضروري ہے کہ وہ اچھائيوں اور برائيوں کو پہچانيں ۔
کوئي جگہ ایسي نہيں کہ جہاں امر بالمعروف و نہي از منکر نہ کيا جاسکتا ہو ۔
مختلف شعبہ ہائے زندگي ميں علمائ دين امر بالمعروف اور نہي عن المنکر کرنے کے لئے سب سے زيادہ اہم عامل ہيں۔
اللہ کي طرف سے واجب ہونے والے اس( امر بالمعروف و نہي از منکر ) عظيم فريضے کو مختصر مقامات ميں محدود نہيں کيا جا سکتا ۔
لوگوں کے مختلف طبقوں کو چاہيئے کہ وہ امر بالمعروف اور نہي عن المنکر کرنے کے لئے اپنے مقام باعزت بنائیں ۔
علمائ دين کو چاہيئے کہ لوگوں کي ہدايت اور رہنمائي کريں اور انہيں نہي عن المنکر کرنے کے طريقہ سے شنا کريں ۔
امر بالمعروف کي راہ ميں سب سے اہم فريضہ مومن اور حزب اللہ(خدائي گروہ) طاقتوں کا ميدان عمل ميں حاضررہنا ہے ۔
امر بالمعروف کا مطلب اچھے کاموں کا حکم دينا ہے ۔
ہمارے پاس ايک ا يسا اسلحہ موجود ہے کہ جس کا اثر بندوق کي گولي سے زيادہ ہے اور وہ زبان ہے ۔
زبان کا اثربندوق کي گولي سے بہت زيادہ ہے زبان بہت زيادہ موثر اور کار مد ہے ۔
امر بالمعروف اور نہي عن المنکرکيجئے اور اجازت نہ ديں کہ جوانوں کے معاشرے ميں برائياں پھيليں خواہ وہ اسکول ہوں يا یونيورسٹي ۔
اگر پ کسي کو غیر شرعي کام کرتے ہوئے ديکھيں تو اس سے نرم لہجے ميں بوليں’’ پ کا يہ کام غیر شرعي ہے لہٰذاايسا نہ کيجئے‘‘۔
اسلامي معاشرہ ميں شریعت کا ايک اہم واجب (امر بالمعروف اور نہي عن المنکر ) کيوں ابھي تک صحيح طريقہ سے انجام نہيں پايا ؟ ۔
اگر مجھے اس بات کا يقين ہوجائے کہ امر بالمعروف اور نہي عن المنکر کرنے والے شخص پر پوليس يا کسي حکومتي اہلکار کي طرف سے ظلم کیا گیا ہے تو ميں خود براہ راست اس مسئلے کي جانچ پڑتا ل کروں گا۔
امر بالمعروف اور نہي عن المنکر یعني ایک اہم خدائي فريضہ کو قائم رکھيئے۔
جوانوں ميں امر بالمعروف اور نہي عن المنکرکرنے کي رغبت موجود ہے لہٰذا ذمہ دارافراد کا فريضہ ہے کہ ان کے لئے اس راہ کو ہموارکريں ۔
ايسا نہ ہو کہ کوئي شخص امر بالمعروف اور نہي عن المنکر کرے اورلوگ اس کي حمايت نہ کريں ۔
امر بالمعروف اور نہي عن المنکرايک واجب امر ہے لہٰذا اس کي انجام دہي ميں کوئي شرمندگي بات نہيں ۔
اگر پ ديکھيں کہ کوئي شخص جرم کرر ہا ہے تو پ اسے نيکي کا حکم ديں اور برائي سے روکيں ، يعني پ اس سے زبان سے کہيں يعني زبان سے کہنا کافي ہے۔ ہم نے يہ نہيں کہا کہ پ اُس پر زور وزبردستي کریں۔
ايک گنہگار کے سامنے صرف کہنا اور بار بار بُرے کام سے منع کرنا ہي سب سے بڑي مار اور گنہگار کیلئے شرمندگي کا باعث ہے ۔
صرف صحیح طرح سے حجاب کرنے والے ہي گنہگار نہيں ہيں۔ بعض لوگ صرف مسئلہ حجاب کے ہي پيچھے پڑے ہوئے ہيں ۔ صحیح طریقہ سے حجاب نہ کرنا صرف ایک گناہ ہے اور بہت سے گناہوں سے چھوٹا ہے ۔
نہي عن المنکر کرنے کے لئے محکم ارادے اور شجاعت کي ضرورت ہوتي ہے ۔
خود عوام کو چاہيئے کہ وہ اپني ہوشياري اور قوت نفس کے ذريعہ معاشرے ميں ہونے والے سياسي ، اقتصادي اور ثقافتي دفاتر ميں ہونے والے جرائم کي روک تھام کريں ۔
ہر شخص کو بالخصوص مومن جوانون کے چاہيے کہ معاشرہ ميں امر بالمعروف اور نہي عن المنکرکو عام کريں۔
ثقافتي جہاد ايک واجب سے بھي زيادہ ضروري اور واجب جہاد ہے ۔
ج ہمارے مختلف ثقافتي محاذوں پر دشمن حملے کررہا ہے ۔
دشمن کے ثقافتي حملوں سے دشمن کا مقصد يہ ہے کہ ہمارے ذہن کو جہاد اور اسلام کي راہ سے منحرف کر دے ۔
مسلمان جوانوں نے اپني خواہشات اور رام کو دور رکھ کر، دشمن کو گھٹنے ٹيکنے پر مجبور کر ديا ہے اور اب دشمن ہمارے جوانوں سے انتقام لینے کي کوشش کررہا ہے ۔
اللہ جانتا ہے کہ آج دشمن مسلمین کے خون سے ثقافتي شبخون کي حولي کھیل رہاہے۔
استقلال کے لئے جد وجہد کرنا سب سے زيادہ سخت جنگ ہے ۔
نظم و ضبط و قانون

فوج ميں مکمل نظم و ضبط برقرار کرنے کي کوشش کيجيئے
پ لوگوں سے ميري ايک گذارش يہ ہے کہ منظم رہيں ۔
نظم و ضبط ايک اسلامي خصلت ہے اور ايک مسلح ادارہ بغير نظم و ضبط کے ضروري فائدہ نہيں پہنچا سکتا ۔
نظم پيدا کرنے کي روش ترقي یافتہ روش ہے ۔
مسلح طاقتوں کے درميان تعميري کاموں سے مراد انہيں استحکام اور مضبوطي عطا کرنا ، ان کے اندر نظم و ضبط پيدا کرنا اور اپنے اہداف سے دفاع کرنے کي راہ ميں ان کے اندربلند ہمت اور ارادہ کا پيدا کرنا ہے ۔
نظم و ضبط کے لئے درجہ بندي ضروري ہے جو چيز يں نظم و ضبط کے لئے ضروري ہيں ان سے غفلت نہ کيجئے۔
نظم و ضبط ،تواضع اور برادري کي روح کے ساتھ نہيں ٹکراتا۔

حجاب و عفت

مسلمان خواتین کو يہ جان لينا چاہيے کہ وہ اس وقت مغربي دنيا کي جاہلانہ وضیعت کے مقابلہ ميں اسلامي اقدار کے محاذ کي محافظ ہيں ۔
جب يہ طے پاچکا ہے کہ قرآن کو ميدان عمل ميں لايا جائے تو ضروري ہے کہ حجاب اسلامي کي پابندي کي جائے ۔
مارڈن اور حسين بننے کي کوشش کرنا ، فيشن کرنا ، حد سے زيادہ سنورنا ، عورتوں کا مردوں کے مقابلہ ميں نمايش کرنا ہر معاشرے کي گمراہي کے سب سے بڑے اسباب ہيں ۔
عورت کا پردہ صرف چادر تک ہي محدود نہيں ہے ليکن چادر حجاب کي بہترين قسم ہے ،جمہوري اسلامي کي پہچان ہے اور مسلمان عورتوں کے سياسي ، اجتماعي اور ثقافتي مسائل ميں کام کرنے کي راہ ميں رکاوٹ بھي نہيں ہے ۔
اگر کوئي حجاب اسلامي کے متعلق بے احترامي کرے تو آپ اسے اس بات کي اجازت نہ ديں کہ وہ اپنے غلط اور گمراہ کن افکار کو لوگوں کے درميان پھيلائے ۔
آج جمہوري اسلامي ميں ہماري عورتيں اپني عفت اور عصمت کو بھي محفوظ رکھتي ہيں اور اپني زنانہ پاکيزگي کو بھي ۔
ايک مسلمان عورت کي منزلت اس سے بہتر ہے کہ وہ زر و زيور اور سونے چاندي وغيرہ کي اسير ہو جائے ۔
اسلام جنسي گمراہيوں ، فحشائ اور ہر طرح کي قید و بند سے آزاد ہونے کا سخت مخالف ہے ۔
مغربي زندگي ايسي گندي اور بري زندگي ہے کہ جس ميں مردو عورت کي شخصيت اور گھریلو نظام کي اصلي بنياديں سالم نہيں ۔

برائیاں ، منکرات ، گناہ

اخلاقي برائياں ايسے جراثيم ہيں کہ جو اسلامي معاشرے کو اندر سے دھمکيوں کا نشانہ بناتے ہيں ۔
برائيوں کو رواج دينا ايسا راستہ ہے کہ جسے دشمن نے ہمارے انقلاب ميں نفوذ پانے کے لئے اپنے کاموں کي فہرست ميں قرار ديا ہے ۔
اس ملک کے جوانوں کے درميان برائيوں کو پھيلانے کے لئے دشمن پروگرام تيار کرتے ہيں ۔
آج دشمن ان ہاتھوں کو ڈھونڈتا ہے کہ جو غير محسوس طريقہ سے جوانوں کے درميان برائيوں کو رواج ديں ۔
سب سے بڑے جرائم وہ ہيں کہ جو کسي نظام کے ستونوں کو کمزور کرتے ہيں ۔
اميدوار دلوں کو مايوس کرنا ، سيدھے راستے کو ٹيڑھا راستہ دکھانا ، مومن اور مخلص انسانوں کو گمراہ کرنا ، اسلامي معاشرے کے حالات سے غلط فائدہ اٹھانا ، اسلامي احکام کي مخالفت کر کے دشمنوں کي مدد کرنا ، دلچسپي ختم کرنے کي کوشش کرنا اور مومن نسل کو برائيوں کي طرف لے جانا ہمارے معاشرے کے بعض منکرات ميں سے ہے ۔
ايسے افراد سے محتاط رہنا ضروري ہے کہ جو اسکولوں ،کالجوںاور یونیورسٹيوںميں گمراہي اور فساد کے انجکشنوں کو رائج کرتے ہيں ۔

محکمہ عدليہ

محکمہ عدليہ کا اصل فريضہ عدل و انصاف قائم کرنا ہے ۔
شہيد بہشتي ملک ميں اسلامي نظام عدالت کے معمار تھے ۔
ہمارا عقيدہ ہے کہ حقوق بشر صرف اسلامي عدل اور اسلامي احکام کے زير سايہ ہي محقق ہو سکتے ہيں ۔

اسراف،فضول خرچي،دکھاوا اور بیت المال کي حفاظت

ملک کے اعليٰ حکام کو چاہيے کہ وہ اضافي اخراجات اور چمک دھمک سے بے رغبتي پیدا کریں يا ايک جملہ ميں کہا جائے کہ اپنے کاموں سے دنياسے بے توجہي کو دوسروں کو سکھائيں ۔
جمہوري اسلامي نظام کے ذمہ دارافراد کو چاہيے کہ وہ قناعت ، زہد اور دنيا کي آرائشوں سے بے رغبتي کے لحاظ سے دوسروں کے لئے نمونہ عمل بنيں ۔
حکومت کے عہدہ داروں کو چاہيے کہ وہ رفاہ اور آسائش کے جال ميں پھنسنے سے اپنے کو بچائيں ۔
دنيا وي لذتوں ، مادي فوائد اور منافع کو حقير سمجھئے۔
جو شخص دولتمندوں کي طرح شادي کرتا ہے اُن کي طرح گھر بناتا ہے اُن کي طرح سڑکوں پر اکڑ کر چلتا ہے وہ شریف ہے ۔
بے شک زرق برق کے بے قيمت دنیاوي جلوے خدائي بندوں کو اپنے جال نہيں پھنسا سکتے ۔
آج ايک مسلمان اور انقلابي عورت کا زر و زيور کي فکر ميں سر گرم ہو جانا عيب ہے ۔
ايسا نہيں ہو سکتا کہ ہم مادي زندگي ميں ڈوب جائيں اور يہ بھي چاہيں کہ لوگ ہماري طرف ايک مثالي نمونہ کي شکل ميں نگاہ کريں ۔
لوگوں ميں بہت سے ايسے بھي ہيں کہ جو بہت سي ابتدائي ضروريات سے محروم ہيں لہذا اس راہ ميں بہت سي چيزوں سے صرف نظر کرنا ہوگا اور صرف حرام خواہشات سے نہيں بلکہ بہت سي حلال خواہشات سے بھي بچنا ہوگا ۔
قناعت کو اہميت ديجئے، فضول خرچي و اسراف نہ کريں اور پروردگار کي دي ہوئي نعمتوں کو ضائع نہ کریں۔
اسراف کرنا حرام ہے ،ايک گناہ ہے اور ايک خلاف شريعت کام ہے ۔
امير المومنين ٴ بيت المال ميں اسراف کرنے سے روکتے تھے ۔
آج جن لوگوں کا بھي مسلمین کے بيت المال سے سر و کار ہے، انہيں چاہيے کہ بيت المال کو عمومي اور عوامي جگہوں کے علاوہ خرچ کرنے سے پرہيز کريں ۔

استکبار ، مستکبرين اور ایوانوں ميں رہنے والے افراد

جمہوري اسلامي کي ملت نے بہت بڑے بڑے بتوں کو توڑا ہے اور بت شکني کا يہ سلسلہ ابھي جاري ہے ۔
ہم دنيا کے تمام مستکبروں ،ا قوم عالم کو غارت کرنے والوں کے دشمن ہيں ۔
بہت سے مالدار ، عيش و عشرت ميں مبتلا بے حس اور بے درد افراد ايسے ہيں کہ ٨ سال تک جنگ جاري رہي اور ختم ہو گئي اور انہيں احساس تک نہ ہوا ۔
مستکبروں اور شيطان صفت دھوکہ بازوں کي انقلاب سے دشمني کا ختم ہونا نا ممکن ہے ۔
جمہوري اسلامي جہان استکبار کے شکنجوں سے نہيں ڈرتي ہے ۔
جمہوري اسلامي کي ملت امريکہ سے نہيں ڈرتي ہے وہ اپنے مقاصد کو حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ دشمن کو گھٹنے ٹيکنے پر مجبور کر دے گي ۔
عالمي خونخواروں کو جس چيز کا ڈر ہے وہ ايراني قوم کے اتحاد، ان کي شجاعت اور ايمان ہے ۔
ميں اورجمہوري اسلامي کا ہر فرد ذرہ برابر بھي امريکہ سے نہيں ڈرتا اور نہ کسي اور دوسري عالمي طاقت سے ۔
انقلاب اسلامي نے جو درس ہميں ديا ہے وہ يہ کہ سپر پاور طاقتوں کے رعب و دبدبہ سے نہ ڈريں ۔

معاشرے کے محروم افراد ، مستضعفين اور فقر و استضعاف

محروموں اور فقيروں کي خدمت کرنا ا? کي طرف سے ديا ہوا ہديہ ہے ۔
ابتدائ تاريخ سے علمائ اور فقہائ حضرات کمزروں کي پناہ گاہ تھے ۔
صندوق قرض الحسنہ کے کام کو محروموں کي مدد کي راہ ميں جاري رکھناچاہيے ۔
خدائي راہ ميں خرچ کرنا ايک واجب اور ضروري عمل کے ساتھ ساتھ ايک عمومي فريضہ بھي ہے ۔
جو شخص راہ خدا ميں خرچ نہيں کرتا ہے ا? اس کے دل ميں نفاق ڈال ديتا ہے ۔
حکومت کو چاہيے کہ وہ مظلوموں اور کمزوروں کے حقوق کو پائمال نہ ہونے دے ۔
انقلاب کي راہ ،اسلام اور مسلمين کي عظمت اور مظلوموں اور کمزوروں کے دفاع کي راہ ہے ۔
محروم طبقوں کا دفاع کرنا ملک کے تمام پروگراموں ميں سر فہرست ہوناچاہيے ۔
محروم طبقے انقلاب کے حقيقي مالک ہيں ۔
ہمارا مقصد محروم کي محرومي کو دور کرنا ہے ۔
ہمارے معاشرے کے محروم طبقے کي طرف ہميشہ خاص توجہ رکھنا ضروري ہے چونکہ ان کي ضروريات بھي زيادہ ہيں اور وہي وہ افراد تھے جنہوں نے ہميشہ اسلامي نظام کي حفاظت کي ۔
معاشرے ميں محروميت کا پايا جانا انقلاب کے اہداف و مقاصد کے بر خلاف ہے ۔
ا? کي راہ ميں بطور مستحب خرچ کرنا اور محتاجوں کي کفالت کرنا اسلامي فريضہ ہے ۔
ايسا اسلام کہ جس سے کمزور اور محروم طبقے اميد نہ رکھيں اور دل نہ لگائيں وہ اسلام نہيں ہے ۔
محروم فقير اور کم آمدني والے افراد کو حکومت کے تحت کفالت اور حمايت ہوناچاہيے ۔

صبر ، استقامت اور جہاد

صبر اور استقامت کے نتيجہ ميں ہر چيز ايران کي مسلمان قوم کي صلاح و بہبودي کي راہ ميں آگے بڑھے گي ۔
جمہوري اسلامي زحمتوں کو برداشت کرنے ، اپنے تمام دشمنوں کے مقابلہ ميں قيام اور صبر کرنے کے بعد کامياب ہوئي ہے۔
ہم اسي طرح سے اپنے مقاصد اور اپنے الہي اور انقلابي اصول پر قائم رہيں گے ۔
انقلاب کي کاميابياں استقامت ہي کے ذريعہ سے حاصل ہوتي ہيں نہ حوادث کے سامنے تسليم خم ہونے سے ۔
ا? کي راہ ميں پيش آنے والي سختياں ، رکاوٹيں ، مشکلات اور مايوس کرنے والے مسائل اس بات پر قادر نہيں کہ مومن انسانوں کے ثبات قدم ميں لغزش پيدا کر سکيں ۔
خدايا ! ہميں جہاد اور استقامت کے ميدان ميں ہميشہ سر بلند رکھ ۔
اتحاد کي حفاظت کرنا ا? کي راہ ميں جہاد ہے ۔
ہم نے بہت سي سختياں برداشت کي ہيں اور ابھي بھي برداشت کرتے ہيں ليکن خدا کے فضل سے اپني پائیداري کے ذريعہ سے دشمن کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر ديں گے ۔
ايک ايسا ملک بنانے کے لئے کہ جو دوسروں کے لئے نمونہ ہو ، جد و جہد ، کوشش اور کام کرنے کي ضرورت ہے ۔

حق و باطل

يقينا کاميابي قوموں کے ساتھ ہے اور آخري کاميابي حق کے طرفداروں کے لئے ہے ۔
جو چیز دنیا کے مستکبرین کو خوف زدہ کرتي ہے وہ میزائیل یا ایٹم بم نہيں بلکہ صحیح اور حق بات ہے کہ جو ہمارے پاس ہے۔

عوام ، ملت اور امت

ميں خود کو لوگوں کا خادم سمجھتا ہوں اور اس لقب پر فخر کرتا ہوں ۔
جو قوم اپنا دفاع نہ کر سکے وہ مردہ ہے ۔
يہ انقلاب لوگوں کے کاندھوں پر قائم ہے ۔
ان منصبوں پر ہمارے وجود کا واحد فلسفہ صرف اور صرف لوگوں کي خدمت کرنا ہے ۔
ہم نے امام خمیني  سے جو سب سے عظيم درس ليا ہے وہ يہ کہ لوگوں پر اعتماد کيا جائے اور ان کے بارے ميں حسن ظن رکھا جائے ۔
عام لوگ حکومتي عہدے داروں کے اعمال کو بھي اسلام ہي سمجھتے ہيں اور ہماري غلطيوں کو بھي اسلام ہي کے زمرے ميں شمار کرتے ہيں لہٰذا بہت احتیاط کي ضرورت ہے ۔


صدر مملکت اور اعليٰ حکام

حکومت کے اہل کاروں کو لوگوں کے ساتھ متکبرانہ رويہ نہيں رکھناچاہيے ،کہ ہم لوگوں کے خدمت گزار ہيں۔
يہ عہدے اور يہ نام کسي کے لئے فخر کا سبب نہيں ہے اور اس بات کي کوئي اہميت نہيں ہے کہ ميں کہوں کہ ميں رہبر ہوں ، ميں صدر مملکت ہوں ، ميں فلاں چيز کا سر براہ ہوں ، ميں وزير ہوں بلکہ اصل معيار لوگوں کي خدمت کرنا ہے ۔
اجتماعي ذمہ دارياں خدا کي دي ہوئي سب سے عظيم نعمتوں ميں سے ايک ہيں ۔
ايسا نہ ہو کہ نفس آپ کو دھوکہ دے دے اور آپ کے اندر يہ غلط فہمي پيدا کر دے کہ آپ کا رتبہ لوگوں سے بالا ترہے ۔آپ سب کے محور اور مرکز ہيں اور دوسروں کو چاہيے کہ وہ آپ کے مطابق عمل کريں ۔
اعتراض کرنا آسان کام ہے ليکن عمل کرنا مشکل کام ہے لہذا جو شخص ميدان عمل ميں ہے اس کي حمايت کي جاني چاہيے ۔
سب ہي جوابدہ ہيں ، جوابدہ ہونے سے مراد يہ نہيں کہ سربراہ ہيں بلکہ کلکم راع وکلکم مسؤل عن سوال رعيتہ کے تحت سب ہي ذمہ دار ہيں ۔
سادي زندگي گذارنے اور عام لوگوں کے ساتھ مانوس رہيے اور ان کي چاہتوں کو اہميت ديجيے ۔
لوگوں کي طرف توجہ دینا اوردکھاوے سے دوري کرنا تمام عہدہ داروں کا فريضہ ہے اور حکومت کي تقويت کا سبب ہے ۔
جب تک کوچہ اور بازار کے لوگ انقلاب اور نظام کے ساتھ ہيں اس وقت تک انقلاب اسلامي امريکہ کے جديد نظام، يورپ کے اتحاد، خطے کے سادہ لوح حکام اور اسرائيل کے مقابلے ميں يہاں تک کہ ايٹم بم کے مقابلے ميں بھي اپني جگہ پر کھڑا رہے گا ۔
اسلامي نظام کے تمام عہدہ داروں کو چاہيے کہ وہ اپني پوري کوشش اور طاقت کو عوام اور حکومت کے درميان روابط کو تقويت اور مضبوطي عطا کرنے کي راہ ميں استعمال کريں ۔
ان شہروں اور علاقوں کو وقتي طور پر خوبصورت بنا کر پيش کرنا کہ جہاں حکومت کے اعليٰ حکام سفر کرتے ہيں، لوگوں کي حکومت اوراسلامي نظام کے ساتھ نفرت کا سبب ہے ۔
لوگوں کے ساتھ برا سلوک کرناا ، کم کام کرنا ، کسي کا برا چاہنا ، سستي ، رشوت لينا اور برائيوں کا پيدا کرنااسلامي نظام کي شکل اور مقاصد کے ساتھ ساز گار نہيں ہے ۔

ايران

آج پوري دنيا اس بات کي گواہي ديتي ہے کہ ايران کامياب ہے ۔
ايران کي طاقت کا مظہر شہدائ ہيں ۔
ايران کو چاہيے کہ ايک آباد ، سر بلند اور ترقي يافتہ معاشرے کے طور پر مکمل نمونہ بن جائے ۔
شيطان بزرگ ( امريکہ ) ايران کو کوئي نقصان نہيں پہنچا سکتا ۔
ايران ظالم اور عالمي مستکبرقدرتوں کے مقابلے ميں قيام اور آزادي کا علم بردار ہے ۔
ملک اور انقلاب کي مصلحت تمام چيزوں پر مقدم ہے ۔
آج تمام لوگوں کو چاہيے کہ وہ ملک کي تقدير اور تعمير نو کے متعلق اپنا فريضہ ادا کريں ۔
ميں اس بات کا عہد کرتا ہوں کہ ايران کو امام خميني   کے متعين کئے ہوئے راستہ کي طرف رہبري کروں گا ۔
تمام دشمنيوں کے با وجود ايراني قوم انقلاب اور جمہوري اسلامي ابھي تک باقي ہے اور پر ور دگار کے فضل سے ہميشہ باقي رہے گا ۔
آج صحیح معنوں ميں ايراني قوم کے درميان مکمل اتحاد پايا جاتا ہے ۔
ايراني قوم ايک طاقتور ، تجربہ کار اور فولادي قوم ہے ۔
صرف وہي شخص اسلامي تہذيب اور اس قوم کي حيثيت اور اس کے وجود کا دفاع کرتا اور دشمن کے حملوں کے مقابلے ميں کھڑا ہوتا ہے کہ جس کا دل اسلام کے لئے دھڑکتا ہو اور ايران اور اسلام کو پسند کرتا ہو ۔

سياست اور سياسي مسائل

دين کي سياست سے جدا ئي کہ جو دشمنوں کي اسلام اور قرآن کے خاتمہ کرنے کے لئے ديرينہ سازش ہے،کي سختي کے ساتھ مخالفت کرني چاہيے ۔
تمام اسلامي ممالک ميں استعماري سياست کے مقابلے ميں دين کا ميدان عمل ميں آنا تمام مسلم ا قوام کے لئے ايک عمومي درس ہونا چاہيے ۔
يہ امريکي اسلام ہے کہ جو لوگوں کو سمجھ بوجھ ، سياست ، سياسي کاموں اور بحثوں سے دور رکھنے کي دعوت ديتا ہے ۔
ہم نے عزت ، حکمت اور مصلحت کو اپني خارجي سياست کا محور قرار ديا ہے ۔
جمہوري اسلامي کي سياست لوگوں کي پسند کي تابع نہيں ہے ۔
نشہ آور چیزوں کي اسمگلنگ ايک قوم کے خلاف پست حرکت ہے ۔

اقتصادي مسائل

آزاد معیشت مغربي ممالک کانعرہ ہے اور ہم مغرب کے تابع نہيں ہیں بلکہ اپنے معاشرے اور نظام کے تقاضے کے مطابق صحیح اسلامي راہ پر چليں گے ۔
استکبار نے اپني تمام سياسي ، فوجي ، ثقافتي اور اقتصادي کمين گاہوں سے ہم پر حملہ کيا ہے ۔
اقتصادي استقلال ، سياسي استقلال سے زيادہ مشکل ہے ۔
جن افراد کے پاس مال و دولت اور سہولتيں موجود ہيں ان کے لئے ضروري ہے کہ ديني وجدان کے مالک ہوں اور اپني ذمہ داري کو محسوس کريں ۔

اسلامي تنظیمیں

اسلامي تنظیمیں، اسلامي تعليمات اور مفاہيم کو زندہ کرنے کي راہ ميں اسلامي نظام کے لئے چشم اور زبان کي حيثيت رکھتي ہے ۔
اس بات کي دقت ضروري ہے کہ غير مناسب ، فرصت طلب ، سوئ استفادہ کرنے والے اور بد خواہ افراد اسلامي انجمنوں ميں نفوذ پيدا نہ کرسکيں ۔
اسلامي انجمنوں کے اراکين کے لئے اسلاامي مسائل اور مفاہيم سے واقفيت ضروري ہے ۔
اسلامي انجمنوں کو فکري سطح اور اسلامي فکر کے لحاظ سے نيز عمل کے ميدان ميں اپنا درخشاں چہرہ لوگوں کے سامنے پيش کرنا چاہيے ۔
اسلامي انجمنوں کو ( دوسري تمام اسلامي انجمنوں ) کي حيثيت اور شخصيت کو بلند عطا کرنے کے لئے ہمدرد اور عقلمند ہونا چاہيے ۔

حزب اللہ(خدائي گروہ)

وہ شخص حزب اللہي ہے کہ جس نے خود کو احکام الہيہ کو اجرائ کرنے اور اسلام و انقلاب کے اہداف و مقاصد کے حصول کے لئے وقف کرديا ہو ۔
ہميں اپني تمام کوششوں کو حزب ا?(خدائي گروہ) کي قوتوں ميں اضافہ اور رشد عطا کرنے کي راہ ميں صرف کرنا چاہيے ۔
دفتر کے کار کنوں کو چاہيے کہ کہ تمام لوگوں کے کاموں کو بالخصوص حزب اللہي افراد کے کاموں کو تيزي سے انجام ديں ۔
حزب اللہي ہونا يعني الہي فرائض کي ادائيگي کے لئے تيار رہناا ايک انقلابي قدر ہے ۔
اسلامي نظام ميں اس شخص کو کہ جو حزب اللہي جذبہ رکھتا ہو ،اس شخص پر کہ جو جذبہحزب اللہي نہيں رکھتا، ترجيح حاصل ہے ۔
جمہوري اسلامي کے نظام ميں ايک ايسے مدير ، استاد ، عہدہ دار ، کمانڈر ، ہنر مند ، يا منصف کہ جوحزب اللہي ہو دوسروں پر برتري حاصل ہے ۔
يہ خیال نہ کريں کہحزب اللہي سے مراد ايک شور و غل مچانے والا ايسا جوان شخص ہے کہ جس کے پاس صحیح تعليم اور معلومات نہ ہوں ۔
حزب اللہي افرادکا مختلف مقامات اپنے پورے وجود کے ساتھ حاضر رہنا ضروري ہے ۔
ہمارا ايک دفتري شعبہ اس وقت صحیح و سالم رہ سکتا ہے کہ جب اس ميں مومن، مخلص اور صحیح معنوں ميں حزب اللہي افراد صاحب اثرو نفوذ ہوں ۔
اپنے افراد(حزب اللہي ) کو گوشہ نشین نہ ہونے ديں، اگر دشمن کبھي ايک ملک پر حملہ کرے تو دشمن کے مقابلے ميں کھڑے ہونے کے لئے کون جاتا ہے ؟
خدائي گروہ کے جوان کو ہوشيار رہنا چاہيے ۔اس کي آنکھيں کھلي ہوں اس طرح سے کہ وہ کسي کو اپني صفوں ميں رخنہ اندازي نہ کرنے دے اور امر بالمعروف و نہي عن المنکر کے نام پر کسي کو فساد پيدا کرنے کي اجازت نہ دے کہ جس کے ذريعہ سے خدائي گروہ کا چہرہ مخدوش ہو جائے ، لہذا اسے ہوشيار رہنا چاہيے ۔
حزب اللہي افراد اسلام کے محافظت اور امريکہ کے دشمن ہيں ۔
ان ( حزب اللہي ) طاقتوں کو اہميت دي جاني چاہيے اور جو عناصر ان کے مقابلے ميں ہوں ان کا خاتمہ ضروري ہے ۔
يہ حزب اللہي اوررضاکار قوتیں ہيں کہ جب بھي انہيں دشمن کي طرف سے تجاوزاور حملے کا احساس ہوتا ہے توان کي آنکھوں ميں چين کي نيند ختم ہو جاتي ہے ۔
وہ افرادحزب اللہي ہيں کہ جنہوں نے جب يہ دیکھا کہ اسلام کو مشکل کا سامنا در پیش ہے اور دشمن نے حملہ کر ديا ہے تو انہوں نے اس بات کي پرواہ نہيں کي کہ کھيتي باڑي ہے ، دکان ہے ، آفس کے کام ہيں ، امتحان دينا ہے ، کمپٹيشن ميں شرکت کرني ہے ، کالج کا سيمسٹر چھوٹ جائے گا بلکہ ان تمام چيزوں کو چھوڑ کر محاذ پر چلے جاتے ہيں ۔
حزب    اللہ  کي طاقتوں کو باقي رکھیں يہ انقلاب کي حفاظت کرتي ہیں اور دشمن اسلام امريکہ کو ذليل و خوار کرتي ہيں ۔
حزب اللہي طاقتوں کے مقابلے ميں وہ افراد ہيں کہ جو ملک اور انقلاب کي اصلي طاقتوں کا مذاق اڑاتے ہيں ۔
جو لوگ ہماري اصلي طاقتوں (خدائي گروہ)کا مذاق اڑاتے ہيں ان کے ساتھ صحیح تعلقات بحال نہ رکھیں۔
جتنا ممکن ہو ایماندار افراد کا خیال رکھےئے اور جو افراد ان (بسیجي)کا مذاق اڑاتے ہيں ، نہ جنگ کو قبول رکھتے ہيں نہ انہوں نے مردہ باد امريکہ کو کبھي تسليم کیا ہے ان کے ساتھ گرمجوشي سے ملنا صحیح نہيں ۔
آج خود حکومت کے افراد ہي حزب اللہ  ميں پيش پيش رہنے والے افراد کا حصہ ہيں ۔
استکباري طاقتوں کي گمراہيوں سے مقابلہ کرنے کا واحد راستہ اپنے اصول پر پابند رہنا ،امر بالمعروف اور نہي عن المنکرکرنا اور حزب اللہي تحريکيں ہيں ۔

رسائل و جرائد ، ٹیلي ویژن سینٹر ، خبر رساں ایجنسي اور صحافي

دیکھنے اور سننے والوں کو اس بات کا عادي بنائيے کہ وہ ايک حقيقي ہنر کي تلاش ميں رہيں ۔
اس عظيم اسلامي يونيورسٹي ( ٹیلي ویژن سینٹر) کا کام بہت حساس ہے ۔
ہمارے نمائش ناموں ، فلموں ، سنيما ، ٹيلي ويژن اور ريڈيو ميں اسلامي تہذيب و ثقافت کا منعکس ہو ناہے ۔
ملک ميں اشاعت ہونے والے اخبارات اور رسائل ،در اصل لوگوں کي ہدايت اور راہنمائي کرتے ہے ۔
مطبوعات کا ہر قسم کي آلودگي سے پاک ہونا ايک قوم کي سلامتي ہے ۔
مطبوعات اس تيز تلوار کے مانند ہیں کہ جو اگر نا اہل انسانوں کے ہاتھ لگ جائے تو نقصان پہنچائے گي اور اگر يہي تلوار آگاہ ، ذمہ دار، ہوشيار اور دين کے پابند افراد کے ہاتھ ميں آ جائے تو وہ ايک بہترين اور تعميري کرداربن جائے گي ۔
اخباروں کا کردار يہ ہونا چاہيے کہ وہ افکارکي ہدایت کریںاور لوگوں کو آگاہي ديں ۔
اگر ريڈيواور ٹيلي ویژن کا شعبہ صحیح طريقے سے کام نہ کر سکے تو اس کے وسيع اور گہرے نقصانات ظاہر ہوں گے ۔
ريڈيو اور ٹيلي ويژن کے شعبے کا سب سے پہلا مقصد جمہوري اسلامي نظام ميں اسلام کي تعليم دينا اور اسے نشر کرنا ہے ۔
ريڈيو اور ٹيلي ويژن کے شعبے کو چاہيے کہ وہ اغيار کي جبري تہذيب کواپنے حملو کا نشانہ بنائے ۔
مطبوعات کي جتني آزادي ايران ميں ہے اتني دوسري جگہوں پر نہيں ہے ۔
مطبوعات عمومي پليٹ فارم ہيں ۔

انتخابات

قومي اسمبلي کے انتخابات کو پہلے سے زيادہ جوش و خروش ، علم و آگاہي اور لوگوں کي بڑي تعداد ميں شرکت کے ساتھ انجام پانا چاہيے ۔
لوگوں کو چاہيے کہ آگاہي رکھتے ہوئے سوچ سمجھ کر اپنے نمائندوں کا انتخاب کريں اور انتخابات کے دوران مغرب ميں رائج طريقہ کار کہ جورقم، تبليغات اور ضعيف النفس افراد کو اپنے يا اپني پارٹي کے لئے يا کسي خاص پارٹي کے لئے خريد کر ووٹ حاصل کرتے ہيں، کا شکار نہ ہوں ۔
ايسا نہ ہو کہ بعض افراد اپني زبان اور قلم کے ذريعہ سے دشمن کي خواہشات کے مطابق کام کريں اور لوگوں کو انتخابات کے متعلق شک و شبہ ميں مبتلاکر ديں ۔
دشمن نے ہميشہ يہ کوشش کي ہے کہ ہر وہ چيز کہ جو لوگوں کي سیاسي مسائل ميں بھر پور شرکت کي عکاس ہے ،اسے چھپائيں اور ہم استکباري ذرائع ابلاغ کي تفرقہ پيدا کرنے والي پروپیگنڈہ مشینري اور پار ليمينٹ کے انتخابات کے متعلق امريکہ کي حساسيت کو اچھي طرح سمجھتے ہيں ۔
لوگوں کے ارادے اور ان کي شرکت کے ذريعہ سے انتخابات کا منعقد ہونا ، لوگوں کا مکمل آزاد ہونا اور ساتھ ہي ان کا لائق ، صالح اور ايسے افراد کا انتخاب کرنا کہ جو لوگوں کي نمائندگي کي اہليت رکھتے ہوں، اسلامي نظام کو اپنے مقاصد اور آرزووں کي طرف چلنے کي راہ ميں مطمئن بنا دے گا ۔
اتنخابات کے سلسلے ميں کسي بھي جرم سے چشم پوشي نہيں کرني چاہيے ۔
ہميں چاہيے کہ انتخابات ميں شرکت کے ذريعہ سے امريکہ ، استکبار اور اسلام و مسلمين اور جمہوري اسلامي کے مخالف گروہوں کے منھ پر محکم گھونسہ رسيد کريں ۔
پہلے مرحلے ميں جو چيز انتخابات کے لئے سب سے زيادہ اہميت رکھتي ہے وہ صحیح اور منصفانہ انتخابات کا منعقد ہونا ہے ۔
دشمن نے اپني تمام تبليغي طاقتوں کو جمع کيا ہے تاکہ ايسا کام کر سکے کہ لوگ ان انتخابات کا استقبال نہ کريں ۔
انقلاب کے بعد سے اب تک ہونے والے ہمارے تمام انتخابات پوري دنيا ميں ہونے والے انتخابات سے زيادہ صحیح و سالم اور حقيقي تھے ۔