|
کلام رہبر
ولي امر مسلمین جہان آیت اللہ
سید علي خامنہ اي کا عوام سے خطاب
نشر ولایت پاکستان
مرکزحفظ ونشر آثار ولایت
www.wilayat.com
بسم اللہ الرحمن الرحيم
تقويٰ کيا ہے؟
تمام عزيز برادران اور خواہران کو ان با غنيمت اور پر
برکت لمحات، ايام اور راتوں ميں نصيحت کرتا ہوں کہ ان برکات سے استفادہ
کريں جو اس ماہ کے ايام اور راتوں ميں وافر مقدار ميں مومنين کو عطا کي
جاتي ہيں۔ سب کو اور خود کو تقويٰ الہي کي رعايت اور خدا کو سامنے
رکھتے ہوئے اپنے کردار اور گفتار کي حفاظت کي تاکيد کرتا ہوں لغزشوں
اور ايسے راستوں کو طے کرنے ميں کہ جو بہت دشوار ہيں اور انساني نفس کي
قدرت کے سامنے اس پر ثابت قدمي سے اور متزلزل ہوئے بغير چلنا مشکل ہے،
ان کو طے کرنے ميں احتياط اور ايسے وسائل سے استفادہ کرنے کي تاکيد
کرتا ہوں جو خداوند تعاليٰ نے انسان کي فردي اور اجتماعي زندگي ميں ان
مشکل راستوں کو طے کرنے کے لئے وسيلہ قرار دئے ہيں تاکہ انسان خود کو
محفوظ رکھتے ہوئے اپنے آپ کو مقصد سے نزديک کرسکے، وہ وسائل جو خداوند
متعال نے منزل مقصود تک پہنچنے کے لئے مومنين کے اختيار ميں دئے ہيں ان
سے استفادہ کرے۔ ان امور کي حفاظت ہي تقويٰ ہے اور جيسا کہ ہم سنتے چلے
آئے ہيں کہ ماہ رمضان کے روزوں کا ايک اہم ہدف يہ ہے کہ ہم تقويٰ پيدا
کريں ’’ لعلکم تتقون‘‘۔
استغفار کي ضرورت
ميں جب ان اعمال کا جو شارع مقدس کي جانب سے ماہ رمضان
کے لئے وارد ہوئے ہيں مشاہدہ کرتا ہوں يعني ماہ رمضان کے روزے، تلاوت ،
کلام اللہ مجيد ، ماثور دعاو ں کا پڑھنا، وہ توسل جو کہ حضرت باري
تعاليٰ کي عنايات کے ذيل ميں انجام دئيے جاتے ہيں اور استغفار ، تو ان
چاروں اعمال ميں ماہ رمضان کے روزوں کے دوران ہمارے لئے بہت ضروري ہے
اور ميں سمجھتا ہوں کہ ہمارے لئے جو عمل بہت اہميت رکھتا ہے وہ استغفار
ہے۔ جو کچھ ہم سے جہالت يا خدا نہ کرے غلطي کي بنياد پر انجام پا چکا
ہے اس سے طلب مغفرت اور طلب درگزر کريں۔
ميں نے گذشتہ سال ماہ مبارک رمضان ميں تفصيل سے توبہ اور استغفار کے
بارے ميں گزارشات کي تھيں آج دوبارہ استغفار کے بارے ميں فکري، قرآني
يا حديثي حوالے سے بحث نہيں کرنا چاہتا بلکہ شبہائي مبارکہ قدر کي
مناسبت سے جو کہ بہت اہميت کي حامل ہيں ان شبوں ميں استغفار کے بارے
ميں کچھ ياد آوري کرنا چاہتا ہوں۔
ميرے عزيزو ، بھائيوں اور بہنوں! خدا وند تعاليٰ سے
مغفرت اس کي جانب بازگشت کا پہلا قدم ہے توبہ يعني خدا کي جانب پلٹنا
آپ کسي بھي مقام پر ہوں، کمال کے کسي بھي مرتبہ پر فائز ہوں يہاں تک کہ
اميرالمومنين ٴ کي حد تک بھي اگر کوئي ہو تو اسے استغفار کي ضرورت
ہے۔خدا وند تعاليٰ اپنے پيامبر سے ارشاد فرماتا ہے:
’’ استغفر لذنبک فسبح بحمد ربک واستغفرہ ‘‘خدا وند تعاليٰ نے کئي جگہ
قرآن ميں اس کے باوجود کہ پيغمبر
۰
معصوم ہيں فرمايا ہے استغفار کرو۔ اب يہ ايک الگ بحث ہے کہ اوليائ اور
بزرگان کي استغفار کس چيز سے ہے۔ ان کي استغفار ہماري طرح گناہوں سے
نہيں کيونکہ وہ گناہ نہيں کرتے، ان کا مقام بلند ہے۔ ليکن مقام الوہيت
و حضرت ربوبيت سے قرب بھي اعليٰ مقام پر ہے۔وہ چيزيں جو ہمارے لئے مباح
ہيں يہاں تک کہ مستحب ہيں شايد ان کے لئے مانع اور اس قرب کي شان کے
مطابق نہ ہوں لہذا استغفار کرتے ہيں، استغفار حقيقي نہ ظاہري استغفار ،
دعائے کميل کو ديکھ ليجئے جو روايات کي رو سے ان شائ کے لحاظ سے آپ ٴ
سے صادر ہوئي ہے۔ دعا کا آغاز استغفار سے ہورہا ہے، پہلے خدا کو اس کے
نام ، اس کي قدرت، عظمت اور اس کي صفات جلال اور جمال کي قسم دينے کے
بعد استغفار کرنا شروع کرتے ہيں۔
اللھم اغفر لي الذنوب التي تھتک الاثم سے لے کر آخر تک،
دعا ابو حمزہ ثمالي اور ديگر دوسري دعائيں۔ يہ بزرگ شخصيات ، ميں اور
آپ استغفار کرنے کے محتاج ہيں۔ کہيں مومنين عزيز ، پاک اور صاف دل
افراد کا شکار نہ ہوجائيں اور يہ کہنے لگيں کہ ہم نے تو گناہ ہي نہيں
کيا پھر کيوں قصور اور تقصير ميں غرق ہوجائيں وما قدر اعمالنا في جنب
نعمک وہ کام جو ہم اپنے زعم ميں اچھے انجام ديتے ہيں خدا کي نعمات کے
مقابلے ميں ان کي کيا حيثيت ہے، شکر الہي کے حق کے مقابلے ميں وہ اعمال
کتنے قابل ذکر ہيں کہ ہم تو اس حق کا شکر بھي ادا نہيں کرسکتے۔ للذي
احسن استغني عن عونک کيا انسان تفصيل الہي اور لطف الہي سے مبرا
ہوسکتاہے۔ ہر آن ، ہر لحظہ ، ہم لطف پروردگار کے محتاج ہيں اور ہميشہ
لطف پروردگار ہمارے شامل حال رہتا ہے۔ خير ک الينا نازل
شب قدر اور طلب مغفرت:
اور ہم بھي اس کے ادائے شکر سے عاجز ہيں يہ قصور ہو يا
تقصير ہر حال ميں مغفرت کا طلبگار ہے۔ شب قدر طلب مغفرت اور عذر خواہي
کے لئے ايک فرصت ہے۔ خداوند تعاليٰ سے معذرت طلب کرو۔ اب جب کہ خداوند
تعاليٰ نے مجھے اور آپ کو ايک موقع ديا ہے کہ اس کي جانب پلٹ جائيں۔
طلب مغفرت کريں، طلب معذرت کريں تو پھر ايسا کريں ورنہ ايسا دن آئے گا
کہ جس دن خدائے متعال مجرمين سے کہے گا ’’ لا يوذن لھم فيعتذرون ‘‘عذر
خواہي کي اجازت ہم کو نہيں دي جائے گي يہاں اجازت ہے يہاں عذر خواہي آپ
کے درجات بناتي ہے، گناہوں کو دھو ڈالتي ہے، آپ کو پاک کرتي ہے، نوراني
کرتي ہے تو خدا وند متعال سے عذر خواہي کريں۔ يہاں فرصت ہے کہ آپ اس کو
متوجہ کرکے اس کے لطف کو اپنے شامل کرسکتے ہيں، محبت الہي کو اپني جانب
متوجہ کرسکتے ہيں ’’ فاذکروني اذکرکم ‘‘ مجھے ياد کرو تاکہ ميں تمہيں
ياد کرتا رہوں يعني جس لمحہ آپ اپنے دل کو خداوند متعال کي جانب متوجہ
کرتے ہيں اور خدا کو اپنے قلب ميں حاضر کرتے ہيں، اس کو ياد کرتے ہيں
اسي لمحہ خدا وند متعال کا لطف، محبت اور عطوفت آپ کے شامل حال ہوجاتي
ہے۔ اس کي جودو بخشش کے خزانے آپ کے لئے کھل جاتے ہيں۔ خدا کو ياد کرتے
رہيں ورنہ ايک ايسا دن آئے گا جس دن گناہگاروں سے خطاب الہي ہوگا کہ ’’
انا نسيناکم ‘‘ ہم نے تم کو فراموش کرديا ہم نے تمہيں بھلا ديا ہے، چلے
جاو قيامت کا دن ايسا ہي ہوگا۔ آج خداوند متعال نے آپ کو اجازت دي ہے
کہ روئيں، تضرع کريں ، گريہ کريں ، اپنے خلوص کو اسکے لئے ظاہر کريں،
اظہار محبت کريں، صفا و محبت کے آنسو بہائيں، يہ شب قدر جو کہ ’’ خير
من الف شہر ‘‘ يہ ايک شب ہزار ماہ سے بہتر ہے۔ يہ بہت اہميت رکھتي ہے ۔
وہ شب ہے جس ميں ملائکہ نازل ہوتے ہيں، روح نازل ہوتے ہيں وہ شب کہ جس
کو خداوند متعال سلام کے عنوان کے ساتھ ذکر کيا، سلام درود و نصيحت
الہي کے معني ميں بھي ہے اور لوگوں کے دل ، جان، جسم ، اجتماعات اور سب
کے لئے سلامتي، صلح ، سکون اور صفا کے معني ميں بھي استعمال ہوا ہے
لہذا معنوي لحاظ سے پر اہميت سب ہے جس کي قدر کريں اور دعا کريں اپنے
ملک کے مسائل کے لئے، اپنے مسائل کے لئے ، مسلمين کے مسائل اور اسلامي
ممالک کے مسائل کے لئے، اسلامي ممالک کتني مشکلات سے دوچار ہيں ان کے
حل کے لئے خدا سے دعا کريں، انسانوں کي ہدايت اور اپني ہدايت کے لئے
دعا کريں، اپني زندگي کے لئے، اپنے ملک کے لئے، حکومتي عہديداروں کے
لئے، اپنے مرحومين کے لئے جو آپ چاہتے ہيں خداوند متعال آپ کو عطا کرے
گا۔ ان لمحات کي قدر کريں ميں بھي آپ تمام عزيز بھائيوں اور بہنوں سے
دعا کا متمني ہوں۔
عالمي معاملات
خطبہ دوم
تمام نماز گزار عزيزوں کو کردار ، گفتار ، فکر يہاں تک
احساسات ميں جو کہ انسان کے اختيار ميں ہيں۔ تقويٰ کي رعايت کي نصيحت
کرتا ہوں۔
اس سے قبل کہ اپنا اصلي مطلب بيان کروں دو، تين مختصر مطالب کي جانب
اشارہ کرنا چاہتا ہوں۔
پاکستان کا خوني سانحہ :
ايک مطلب مربوط ہے پاکستان کے افسوسناک خوني حادثہ سے
کہ جس ميں معاند اور مغرض گروہ کے ہاتھوں مسلمان اور مومنين کو شہيد
کيا گيا ايک تلخ حادثہ ہے۔ البتہ پاکستاني حکومتي عہديداروں نے بارھا
ہم سے کہا ہے، وعدہ کيا ہے کہ گذشتہ حادثات کي تحقيقات کريں گے اور ہم
بھي يہ چاہتے ہيں کہ انشائ اللہ اپنے اعتماد کو ان کے وعدوں پر قائم
رکھيں اور اپنے پاکستاني دوستوں سے اميد کرتے ہيں کہ سنجيدگي سے اس کام
کو آگے بڑھائيں گے۔ ميں اس ميں شک نہيں رکھتا کہ يہ مسئلہ ايک حد تک
پاکستان اور ايران کے تعلقات سے مربوط ہے اور ان تعلقات کے دشمن
درحقيقت ان واقعات کے ذمہ دار ہيں جن کے ساتھ سختي سے نمٹنا چاہئيے اور
اگر خدا نہ کرے اس ميں کوئي سستي کي گئي تو مذاہب مختلف ہيں اس طرف
والے بھي سوچيں کہ کس طرح اپنا دفاع کرنا چاہئيے اور مسلح ہوجائيں اور
شروع کرديں تو يہ مسئلہ بہت خطرناک صورت اختيار کرجائے گا۔ ايسي
صورتحال ميں حکومتوں کو چاہئيے کہ ميدان ميں آئيں اور بغير کسي رعايت
کے مجرم کو سزا ديں اور اس طرح اپني حکومتي قدرت کو ثابت کريں۔
الجزائر ميں قتل عام :
دوسرا مسئلہ بھي بہت تلخ اور غم انگيز ہے يعني الجزائر
کا مسئلہ ۔ البتہ دنيا ميں ايسے لوگ ہيں جو ان واقعات کا ذمہ دار حکومت
کو ٹھہرا رہے ہيں ہم نہيں چاہتے کہ اس مسئلہ ميں کوئي حتمي دعويٰ کريں۔
ليکن اس ميں کوئي شک نہيں کہ ايک حکومت اپنے لوگوں کي
جانوں کي ذمہ دار ہے بہت عجيب حادثہ ہے، کم نظير واقعہ ہے اس زمانے ميں
جب تک ہميں ياد ہے اس قسم کا سانحہ کسي ملک ميں نظر نہيں آتا کہ کچھ
لوگ کہ جن کے بارے ميں حکومت دعويٰ کرتي ہے کہ ان کو نہيں پہچانتي ،
مختصر عرصے ميں سينکڑوں بے گناہ افراد کو قتل کرديں جن ميں اکثر ايک
خاص پارٹي سے تعلق رکھتے ہوں يا ان کے طرفدار ہوں، مرد ، خواتين اور
بچوں کو انتہائي قساوت قلبي کے ساتھ ذبح کرديا جائے۔
ايک عجيب حادثہ ہے بہت زيادہ ہے، البتہ بين الاقوامي محافل پر بھي تعجب
ہے کہ وہ لوگ جو ہميشہ انساني حقوق کے علمبردار رہتے ہيں اور کوئي ايک
مغربي شخص دنيا کے کسي گوشہ ميں بھي کسي مسئلہ سے دوچار ہوجائے بالخصوص
وہ لوگ جو ان سے وابستہ ہيں تو فقط اس وقت ہي فرياد کرتے ہيں جب کہ ان
واقعات پر اپني سرد مہري کا ثبوت دے رہے ہيں کيونکہ وہ جس پر ظلم کيا
جارہا ہے ان کے گروہ سے نہيں اس واقعہ سے مشابہہ واقعہ ہم نے دو تين
سال قبل بوسنيا ميں مشاہدہ کيا جو کہ خود ايک عجيب داستان ہے کہ دنيا
ميں کہيں کسي پر ظلم کيا جائے جو کہ ان کے گروہ سے ہو، استکبار سے تعلق
رکھتا ہو، ان کا طرفدار ہو تو ايک کے چاليس اور سو لگاتے ہيں، ايک عجيب
تبليغات کا جنجال بپا کرديتے ہيں۔
امريکي تبليغاتي مشينرياں اور ان کا کام :
جيسا کہ ميں نے اس سے قبل خطبات ميں اشارہ کرچکا ہوں کہ
خالص امريکي اور ان سے وابستہ (تبليغاتي) مشينرياں بنائي گئي ہيں تاکہ
اپنے ذاتي اغراض و مقاصد کے لئے ايک سراپا جھوٹ کو ايک حقيقت کي صورت
ميں پيش کريں يا ايک حقيقت کو پوشيدہ کرديں آج ميں چاہتا ہوں کہ اس
بارے ميں کچھ بيان کروں، اگرچہ ان تبليغاتي مشينريوں کا تعلق خارج از
ايران سے ہے بالآخرہ ملک پر بھي کچھ اثرات ہوتے ہيں بعض وہ لوگ جو
انقلابي اصولوں کے اتنے زيادہ پابند نہيں کہ جس کي ہم توقع کرتے ہيں
اور (بعض) جرائد کے ذمہ دار افراد بعض جريدوں ميں اس طرح بيان کرتے ہيں
کہ جس طرح دشمنان انقلاب ، ملت ايران کے دشمن يعني استکبار مثلاً
امريکہ سے وابستہ لوگ بيان کرتے ہيں جو کہ قابل افسوسناک ہے۔
تازہ ترين جنجال (پروپيگينڈہ):
وہ مسئلہ جو کہ ان کے (موجودہ) جنجال کا موضوع بنا ہوا
ہے يہ ہے کہ ايران، جمہوري اسلامي چاہتا ہے کہ حکومت امريکہ سے اپنے
تعلقات کے بارے ميں تجديد نظر کرے اس کو ايک تازہ خبر کے عنوان سے ايک
بالکل بے اساس اور جھوٹ کو بڑھانا چاہتے ہيں ايک جنجال برپا کيا ہوا ہے
، شور شرابا ہے کہ جس کے پيچھے مقاصد ہيں، ملت ايران کے لئے خطرناک
مقاصد رکھتے ہيں کہ درحقيقت خطرناک ہيں۔
ہمارا وظيفہ :
ليکن وہ اپنے کام کو انجام دے رہے ہيں۔ ہميں ان کو اور
دشمن کے کاموں کي شناخت کرني چاہئيے ۔ اگرچہ اس کے مقابلے ميں کوئي قدم
نہ اٹھائيں، معلوم ہونا چاہئيے کہ دشمن کيا کررہا ہے۔ دشمن کو اجازت
نہيں ديني چاہئيے کہ وہ ملت ايران، ملک ايران اور ايراني حکومت افراد
کے بارے ميں جو چاہے تبليغات کرے اور ہم خاموش رہيں يہ نہيں ہوسکتا۔
ضروري ہے کہ دشمن کے مقاصد ، دشمن کے اہداف کو پہچانا جائے۔
ميں (اس بارے ميں) کچھ عرض کرنا چاہتا ہوں البتہ بعض
حکومتي افراد کي جانب سے واقعتاً اچھي باتيں کي گئي ہيں کل رات ٹيلي
ويژن (T.V)
پر وزير خارجہ کا انٹرويو نشر کيا جارہا تھا جو اچھي باتوں پر مشتمل
تھا۔ اچھي باتيں کي جاتي ہيں يہ نہيں کہ نہيں ہوتيں ۔ يہاں ميں اپنا
وظيفہ سمجھتا ہوں کہ جو چيز ہے اور مطلب کي حقيقت ہے اپني عزيز ملت کے
سامنے بيان کروں کہ انشا ئ اللہ عرض کرتا ہوں البتہ يہ بھي عرض کروں کہ
يہ پہلي بار نہيں بلکہ اس سے قبل بھي ايسے واقعات پيش آچکے ہيں۔
بالخصوص امام کي رحلت کے بعد (جو تبليغات کي گئيں) وہ ايک حد تک آج (کي
تبليغات) سے قابل مقايسہ ہيں۔ امام کي رحلت کے بعد ايک جنجال برپا
کرديا تھا۔ يہاں تک کہ ہمارے اخبارات ميں مقالے لکھے گئے بعض دشمنان
انقلاب نے بہت کچھ لکھا ، دعوے کيے، دوران امام ٴ کي صراحت کے ساتھ ختم
قرار ديا ليکن الحمد للہ عوام کے صحيح رد عمل کي وجہ سے جاري نہ رکھ
سکے۔ البتہ اس دفعہ جنجال کچھ وسيع ہے اور اس کي نوعيت دوسري ہے کيونکہ
اس جنجال کا سرا ملک سے باہر ہے اس ليے اپنا کردار ادا کررہے ہيں۔
صورتحال کچھ اور ہے اس وقت بھي تھي ليکن اتني وسيع اور سمتوں کي حامل
نہ تھي۔
آقائي خاتمي کا انٹرويو:
اس جنجال کے لئے جو بہانہ بنايا ہے وہ ہمارے محترم صدر
کا چند روز قبل ليا جانے والا انٹرويو ہے۔ اس کو بہانہ قرار ديا ہے
واقعتا ايک عظيم ظلم ہے ملت ايران پر جمہوري اسلامي کے صدر پر يہ حقيقت
کا چھپانا اور اس چيز کا پوشيدہ رکھنا جس کو وہ نہ چاہتے ہوں کہ لوگوں
تک پہنچتے، ايک واقعتا عجيب چيز ہے۔
نوجوان بالخصوص تعليم يافتہ نوجوان ، جامعات (Universities
) اور ديني مدارس کے طلبائ صحيح طرح دقت کريں اور فکر کريں کيونکہ يہ
اہم ترين مسائل ہيں يہي وہ مقامات ہيں جو شايد ظاہري طور پر چھوٹے ہوں
ليکن ايک قوم کي تقدير سے تعلق رکھتے ہيں بالخصوص اس طرح کے مقام پر
اگر عوام ، نوجوان ، حکومت عہديدار وغيرہ مسئلہ کي حقيقت کو سمجھ نہ
پائيں تو ان کو ايسے زاويے تک لے جائے گا جو خدا نہ کرے ان کي نابودي
پر جاکر ختم ہوگا اور عام طور پر ايسا ہوتا ہے۔ لہذا بہت ضروري ہے کہ
صحيح وقت کي جائے کہ ان کا ہدف کيا ہے امريکي حکومت اور اس سے وابستہ
اخباري حلقوں کا اس سے کيا مقصد ہے کہ يہ بات کہہ رہے ہيں کہ ايران
مذاکرہ کرنا چاہتا ہے،؟
امريکي اہداف:
ان کا ہدف چند چيزوں کو حاصل کرنا ہے۔
پہلا ہدف :
پہلا ہدف يہ ہے کہ وہ چيزيں جو کہ آج تک ملت ايران کي
وحدت کا سبب بني ہوئي تھي اسي کو ملت ايران کے اختلاف کا ذريعہ بناديں۔
آج تک ملت ايران کيونکہ جانتي تھي کہ امريکي حکومت ان کي دشمني ہے اس
لئے اگر جزئي اختلافات موجود بھي ہوتے تو دشمن سے مقابلہ کے لئے ان کو
چھوڑ کر آپس ميں متحد ہوجاتے۔ امريکہ سے مقابلے اس ملت کے اتحاد کا ايک
وسيلہ رہا ہے يہ چاہتے ہيں کہ اس وحدت کے وسيلہ کو ان مسائل کے ذريعہ
اختلافات کا ذريعہ بناديں۔ يہ اس کے خلاف اور وہ اس کے خلاف ، يہ کہے
مذاکرہ اور وہ کہے مذاکرہ کيا فائدہ رکھتا ہے؟ کوئي کہے کہ کيا نقصان
ہے ؟ ايک گروہ اس طرف اور دوسرا اس طرف بحث کرے۔ يہ ايک عظيم ملي وحدت
ہے جو ملت ايران دشمن کے مقابلے ميں رکھتي ہے۔ اس کو چاہتے ہيں کہ
اختلاف کي صورت ميں تبديل کرديں۔ يہ پہلا ہدف ہے۔ توجہ اور وقت کي
ضرورت ہے۔
دوسرا ہدف:
يہ چاہتے ہيں کہ امريکہ سے مذاکرہ ، امريکہ سے رابطہ کي
تکرارکرکے يہ مسئلہ جو کہ ملت ايران کے لئے منطقي دلائل کي بنياد پر
ايک بدترين اور قبيح ترين چيز ہے اس کے بدي اور قبح کو ختم کرديں۔ ميں
اس کے منطقي دلائل کو بعد ميں بيان کروں گا کہ جس حد تک نماز جمعہ ميں
بيان کيا جاسکتا ہے اس مسئلہ کي برائي اور قبح کو دور کرنا چاہتے ہيں
وہي کام جو عربوں کے ساتھ اسرائيل کے مسئلہ پر کيا۔ ايک وہ وقت تھا جب
يہ عرب حکومتيں اسرائيل سے بات کرنا کيا اس کا نام سننا بھي پسند نہيں
کرتي تھيں انہوں نے ايسا کام کيا کہ اس مسئلہ کو بيان کرتے رہے۔ کسي کو
آگے کيا، کسي کو ملت عرب کي صف سے خارج کيا اور بوجھ کو اس کي گردن پر
ڈال ديا، ايساکام کيا کہ آہستہ آہستہ اس مسئلہ کي برائي ختم ہوگئي اور
اب وہ حکومتيں بھي جن کي حدود اسرائيل کي سرحدوں سے نہيں ملتيں اور ان
کو اسرائيل سے کوئي خطرہ نہيں وہ بھي آج اپنے ملک ميں بيٹھ کر اسرائيل
سے مذاکرات کررہے ہيں۔ضرورت نہيں ليکن پھر بھي بات چيت کررہے ہيں
کيونکہ اس کي برائي ختم ہوچکي ہے۔
ملت ايران محکم دلائل اور منطقي استدلال کي بنياد پر
امريکي حکومت کو اپنا دشمن سمجھتي ہے کہ جس کي طرف ميں بعد ميں اشارہ
کروں گا۔ دنيا کي تمام اقوام نے اس کو ملت ايران سے سيکھا ہے اور اس
(امريکہ دشمني) کو تعظيم اور تجليل کي نگاہ سے ديکھتے ہيں، چاہتے ہيں
اس برائي کو دور کرکے اس کو ايک معمولي کام قرار ديں۔
تيسرا ہدف :
يہ کہ ايران سے تعلقات سپر پاور (Super
Power)
ہونے کے لحاظ سے اہم ہيں۔ ممکن ہے بعض لوگ تعجب کريں کہ امريکہ ايک سپر
پاور ہے۔ ايران کيا حيثيت رکھتا ہے کہ ايک سپر پاور اس کے ساتھ مذاکرات
کرنا چاہے۔ جي ہاں بہت اہم ہے اتفاقاً اس لئے کہ سپر پاور ہے اس کے لئے
بہت اہم ہے۔ سپر پاور يعني ايک ايسي قدرت جو دنيا کي تمام سياسي قوتوں
سے بالاتر ہو اور اپنے ارادوں کو ان پر ٹھونس سکے۔ اس دنيا ميں دو
قوتيں تھيں امريکہ اور روس، ان ميں سے ہر ايک کا ايک خاص علاقے ميں
نفوذ تھا۔ جو کام بھي چاہتے کرسکتے تھے۔ يہاں تک کہ امريکہ نے يورپي
ممالک ميں روس سے مقابلے کے لئے اپنے امريکي ميزائل نصب کيے ہوئے تھے
بيچارے يورپي ممالک ميں روس سے کہہ سکتے تھے کيونکہ يہ سب کچھ روس سے
دفاع کرنے کے لئے تھا۔ روس بھي اپنے بانفوذ علاقوں ميں يہي کرتا تھا اب
جب روس ختم ہوچکا ہے امريکہ دعويدار ہے اور شدت سے چاہتا ہے کہ دنيا
ميں ايک قطبي نظام قائم ہو ايک سپر پاور ہو کہ جس کي قيادت اس کے ہاتھ
ميں ہو۔ يہ جو کچھ ميں عرض کررہا ہوں وہ باتيں ہيں جن کو امريکہ کے
صاحب نظر افراد کہتے ہوئے نہيں جھجکتے۔ امريکي جرائد ميں اسي مضمون پر
مشتمل سياسي، فکري، مقالات چھپتے ہيں۔ تقريباً ڈيڑھ مہينہ پہلے ميں نے
امريکہ جريدے ميں ايک مضمون پڑھا کہ جس کا لکھنے والا ايک معروف امريکي
سياسي شخص ہے۔ دنيا کو خطاب کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ کيا نقصان ہے کہ
امريکہ کے زير سايہ ايک جہاني نظام دنيا ميں قائم ہو؟ امريکہ آج يہ ہے
اور وہ ہے ۔
۔۔۔ اپنے اس دعوے کو ثابت کرنا چاہتے ہيں ۔ اب ديکھيں
کہ ايک سپر پاور اپنے ان تمام دعووں کے ساتھ ايک طرف موجود ہے اور
دوسري طرف اس کي حيثيت اور احترام کا لحاظ نہ کيا جائے۔ جمہوري اسلامي
ايران اور ملت ايران امريکي سپر پاور کے لئے ہيبت شکن ہوچکے ہيں۔ ميں
بارہا عرض کرچکا ہوں کہ ان قدرتوں کي قدرت ان کي ہيبت ميں ہے، ان کي
ہيبت ہے کہ جس سے وہ جو چاہيں کرسکيں اور اگر ايسا نہ ہو تو وہ ہر جگہ
ميدان ميں نہيں آسکتے، اسلحہ اور گولي نہيں چلا سکتے، ان کا عرب ، ہيبت
اور باتيں يہي ہيں جو حکومتوں ، حکومتوں کے ضعيف افراد اور کمزور
پارٹيوں کو مجبور کرديتي ہيں کہ ان کے سامنے ان کے ہاتھ لرزيں اور وہ
گھٹنے ٹيک ديں۔ اب ايک ايسي جگہ ہے جہاں ان کي قدرت کو توڑ ديا گيا ہے
امريکہ کے لئے بہت اہم ہے کہ ايران اسلامي جو پہلے دن سے واضح دلائل کي
بنياد پر امريکہ کے مد مقابل ڈٹا ہوا ہے اور اس کے سامنے سر تسليم خم
نہيں کرتا اور ہميشہ امريکہ سے مذاکرات کا مخالف رہا ہے اب يہ کہے کہ
ٹھيک ہے، ہم مذاکرات کے لئے تيار ہيں۔
يہ کہيں گے، ديکھا اب سپر پاور کامل ہوگئي، يہ علاقہ جو
کسي کا حکم نہيں مانتا تھا اب يہ بھي تسليم ہوچکا ہے۔فقط مذاکرات ان کے
لئے بہت اہم ہيں۔ البتہ رابطہ اس قسم کا نہيں ہوگا جو کہ بعد ميں بتاو
ں گا کہ امريکي کس قسم کا رابطہ چاہتے ہيں۔ ان کے لئے جو چيز بہت اہميت
رکھتي ہے وہ مذاکرات ہيں چاہتے ہيں کہ ايران مذاکرات کي ميز پر آکر
بيٹھ جائے۔ بعد ميں جب مذاکرات شروع ہوجائيں تو اس وقت داستانيں اور
حکايتيں بيان کريں گے۔
انقلاب کے جہاني اثرات :
دوسرا نکتہ اس بارے ميں کہ کيوں امريکہ کے لئے ايران سے
مذاکرات اہميت رکھتے ہيں، يہ ہے۔ ايران اسلامي ، جمہوري اسلامي اور ملت
ايران کا تحرک باعث بنا ہے کہ دنيا بھر ميں اسلامي احساسات بيدار ہوں،
دنيا کے ہر گوشہ ايشيائ ، افريقہ يہاں تک يورپ ميں مسلمان اسلام کے نام
پر اپنے اسلامي احساسات کو اپنے ہاتھ ميں لے رہے ہيں اور ہر ايک نے ايک
خاص انداز سے جہاد شروع کيا ہے، بعض سياسي مبارزات ہيں۔ بعض حکومتيں جن
کي سياسي حکمت عملياں امريکہ کے تابع ہيں، فلاں سے رابطہ منقطع کرو،
فلاں سے تعلق رکھو، فلاں سے تعلق نہ رکھو ، تيل کا يہ کرو اور چاندي کا
وہ کرو (سب) امريکہ کے تابع ، آہستہ آہستہ يہ حکومتيں بھي جو امريکہ کے
تابع ہيں يہ سوچنے لگي ہيں کہ ايک حکومت جمہوري اسلامي ايران ہے جو
امريکہ کي بالکل پرواہ نہيں کرتي اور امريکہ بھي اس کو کوئي بڑا نقصان
نہيں پہنچا سکا تو ہمارے امريکہ سے ڈرنے کا سبب کيا ہے؟ يہ سوال بہت سے
اسلامي ممالک اور ان کي اصطلاح ميں تيسري دنيا کے غير اسلامي ممالک کے
ذمہ داروں کے ذہن ميں ابھرا ہے اور امريکي حکومتي مشينريوں کے لئے سخت
زحمت کا باعث بنا ہے۔ جمہوري اسلامي کے وجود کي وجہ سے اپني اتباع اور
تسليم کي حالت سے خارج ہوگئے کہ جناب جمہوري اسلامي امريکہ کي کوئي
پرواہ نہيں کرتا اور امريکہ بھي اس کا کچھ نہ بگاڑ سکا تو پھر اتنا شور
کيوں کرتا ہے۔ کبھي کبھي مثلاً ايک قانون جيسے قانون ڈاما ٹو بناتے ہيں
ليکن کچھ عرصہ بعد يہ قانون خود بخود منسوخ ہوجاتا ہے، کوئي اساسي کام
بھي اس سلسلے ميں نہ ہوسکا۔ پس ہم نے کيوں خود کو معطل کيا ہوا ہے اور
کيوں امريکہ کے اسير ہوگئے ہيں۔ يہ فکر امريکہ کے لئے بہت خطرناک ہے کہ
اس کے دوستوں اور اسکي بيروزگار حکومتوں ميں يہ فکر راسخ ہوتي جارہي
ہے۔ امريکہ اس کے جواب کي تلاش ميں ہے ، چاہتا ہے ايسا کام کرے کہ ان
کو سمجھا سکے کہ ديکھا يہ اقتصادي محاصرہ اور جمہوري اسلامي پر جو دباو
ہم نے ڈالا، اس نے آخرکار جمہوري اسلامي کو خستہ حال کرکے مجبور کرديا
کہ ہمارے سامنے گھٹنے ٹيک دے، اس کي قوت اور سر بلندي ختم ہوگي يعني
امريکہ اس بات کي قدرت رکھتا ہے۔ اس بات کو اپني تابع حکومتوں کو
سمجھانا چاہتا ہے کہ ايسا نہيں ہے جيسا تم خيال کرتے ہو کہ کوئي ہمارے
ساتھ نہ ہو اور اس کو نقصان نہ پہنچ سکے، نہيں ايسا نہيں جمہوري اسلامي
ايران بھي آخرکار مجبور ہوگيا۔
اسلام اور استکبار کي جنگ :
يہاں ايک اور نکتہ ہے کہ جس کي وجہ سے مذاکرات امريکہ
کي نظر ميں حقيقتاً اہميت کے حامل ہيںوہ يہ کہ جہادي دو مبارز قطب جو
کہ تقريباً ١٩۔٢٠ سال سے دنيا کے سياسي ميدان ميں آپس ميں جہاد کررہے
ہيں ايک طرف سے قطب استکبار اور دوسري طرف سے قطب اسلام۔ قطب استکبار
امريکہ کي سربراہي ميں، قطب اسلام، نظام جمہوري اسلامي کي مرکزيت کے
ساتھ برسر پيکار ہيں۔ اب تک ان ١٩ سالوں ميں اگر دنيا کا مشاہدہ کيا
جائے تو نظر آئے گا کہ وہ ممالک جہاں اسلامي تحريک کي بو بھي نہيں
سونگھي جاسکتي تھي ايسے حالات پيش آئے کہ اس ملک کے تناسب سے وہاں
اسلامي حکومتيں برسرکار آئيں، ترکي ، الجزائر اور ديگر ممالک۔ البتہ ان
کے ساتھ ايک سخت رويہ رکھا گيا ليکن لوگوں کے احساسات کا مقابلہ تو
نہيں کرسکتے، جس طرح ترکي ميں رفاہ حکومت کے ساتھ رويہ اختيار کيا گيا۔
اسي طرح لوگوں کے احساسات سے تو نہيں کھيل سکتے يا ديگر حکومتوں کے
ساتھ۔ لوگوں کے احساسات اپني جگہ پر باقي ہيں۔ ان دو قطب ميں جن ميں
جہاد جاري ہے ايک طرف امريکي استکبار اور دوسري طرف اسلام ہے کاميابي
اسلامي قطب کے حق ميں رہي ہے، اس نے ہميشہ رفعت کي ہے جبکہ استکباري
قطب پيش رفت نہ کرسکا ہے۔
يہ چاہتے ہيں کہ جمہوري اسلامي کے مذاکرہ کي افواہ کے
ذريعہ يہ ظاہر کريں کہ جمہوري اسلامي تسليم ہوگيا ہے ، ہماري طرف آگيا
ہے ، وہ بھي دوستي کرنے پر مجبور ہوگيا اور مذاکرات کرنا چاہتا ہوں اور
پھر اس طرح يہ ثابت کرنا چاہتے ہيں کہ آخر کار اس جنگ ميں اسلامي قطب
کوشکست ہوچکي ہے ، وہ عقب نشيني پر مجبور ہوگيا ہے اور استکباري قطب کو
کاميابي ہوگئي ہے۔يہ سمجھانا چاہتے ہيں کہ دشمن جيت چکا ہے۔ اسلام عقب
نشيني پر مجبور ہوگيا ہے۔ان انيس (١٩) سالوں ميں پہلے دس سال جو امام ٴ
نے کہا تھا اور امام کے بعد جو کچھ مسؤلين اور ملت نے کہا تھا وہ سب
ختم ہوچکا ہے کيونکہ امام ٴ بارہا فرماچکے تھے کہ ’’ ہم دشمن سے صلح
نہيں کريں گے ہم دشمن کے سامنے گھٹنے نہيں ٹيکيں گے۔‘‘
يہ افواہيں اس ہدف کو حاصل کرنے کے لئے ہيں۔ آخرکار امريکہ اس لئے کہ
يہ بات مشہور ہوجائے کہ جمہوري اسلامي نے قبول کرليا ہے کہ امريکہ سے
مذاکرات کرے، مذاکرات کي ميز پر بيٹھے يعني اپنے دعوو ں سے جو استکبار
کے مقابلے کے لئے کئے جاتے تھے ان سے ہاتھ اٹھاليا ہے۔ امريکہ اس سے
زيادہ سے زيادہ فائدہ اٹھانا چاہتا ہے۔ يہ تبليغاتي جنجال اسي لئے برپا
کيا ہوا ہے۔لہذا اس کے باوجود کہ صدر محترم (ايران) نے اپنے انٹرويو
ميں يہ کہا کہ ’’ ہم مذاکرات نہيں کريں گے اور نہ مذاکرات کي ضرورت
محسوس کرتے ہيں۔‘‘ انہوں نے کہا کہ يہ مذاکرات کا مقدمہ ہے چاہتے ہيں
مذاکرات کريں، مذاکرات کررہے ہيں۔ ہر شخص نے کچھ نہ کچھ کيا ۔ ايک
جنجال دنيا ميں برپا کرديا۔
پس اس لئے امريکہ اور اس سے وابستہ اخباري حلقوں نے يہ
جنجال برپا کرديا۔ اب ہمارا موقف کيا ہے؟
مذاکرات کے سلسلے ميں ہمارا موقف :
ہمارا موقف وہ ہے جو کئي بار بيان ہوچکي ہے ايسا نہيں
ہے کہ ميں ابھي اس کو بيان کررہا ہوں۔ کئي مرتبہ امام نے فرمايا امام
کے بعد حکومتي عہديداروں نے خارجہ پاليسي بنانے والوں نے اور ان افراد
نے جو اس بارے ميں اظہار رائے کرتے ہيں اورکام کرتے ہيں کہا ہے اور يہ
وہي ہے جو وہ کرچکے ہيں۔ يہ اظہارات بہت مضبوط ہيں ايسا نہيں ہے کہ ان
کو آج بيان کيا جارہا ہو اور کل ان سے انکار کرديا جائے۔ اس کے باوجود
ميں مختصر توضيح ديتا چلوں۔ ہمارے انقلاب يا اپنے انقلاب کے اصولي موقف
کے لئے کرتے ہيں اس کو دليل کا تابع ہونا چاہئيے ، ہم منطق چاہتے ہيں،
ہماري حکومت استدلالي حکومت ہے، ہمارے قوانين بھي دليل کي بنياد پر
ہيں، ہمارے اسلامي معارف بھي استدلال پر قائم ہيں، ہمارا سياسي موقف
بھي دليل کے ساتھ ہے ممکن ہے کہ کبھي کوئي اس موقف کي نسبت کوئي نعرہ
لگائے کہ کوئي بات نہيں ليکن اس نعرے کے پيچھے ايک دليل ہے، برہان ہے،
منطق ہے۔ اس منطقي دين کي اساس ميں ملکي مفادات ، ايران کے تيل کے
ذخائر اور ملکي مصلحتيں شامل ہيں۔
جبکہ دوسرا مسئلہ اصول اور عقائد اور وہ يقينيات ہيں کہ
جس کے لئے ايراني عوام نے مبارزہ کيا ہے۔ جہاد کيا ہے۔ شہيد دئيے،
مجروح دئيے ہيں ، ڈٹ کر مقابلہ کيا ہے اور دنيا کے لوگوں کو اپني طرف
متوجہ کيا ہے ہمارے موقف ان چيزوں کے زير اثر ہے۔
امريکہ سے تعلقات :
اب ميں تين مختصر عنوانات ميں اپنے مطالب کو خلاصہ کروں
گا۔ سب سے پہلے تازہ ترين صورتحال يعني امريکہ سے روابط کے ٹوٹنے کو
پہلے بيان کروں گا جس کي وجہ امريکہ کا برتاو ہے، جو امريکہ کي
استکباري طبيعت کي وجہ سے ہے اور حقيقت ميں ايران کي ملت مظلوميت کي
وجہ سے ہے۔
دوسري بات يہ ہے کہ امريکہ سے مذاکرے يا رابطے ميں ملت ايران کا کوئي
فائدہ نہيں ہے۔ تيسري بات يہ ہے کہ امريکہ سے روابط يا مذاکرہ ايران کي
ملت کے لئے نقصان دہ ہے۔
امريکيوں کا رويہ :
عنوان اول ہم نے کہا کہ يہ روابط کا ٹوٹنا امريکہ کي
وجہ سے ہے ۔ ميرے عزيزوں ديکھئے امريکي حکومت اور سياست ١٩٤١ ئ کي
دھائي سے ہمارے ملک ميں داخل ہوئي، نفوذ کيا اور آہستہ آہستہ انگريزوں
کي جگہ لے لي۔ ان ٣٧ يا ٣٨ سالوں کے دوران جب امريکہ پوري قوت سے اس
ملک پر قابض تھا تمام اہانتيں، برائياں، ستم کہ جو ايک مستکبر حکومت،
ايک مظلوم قوم کے ساتھ انجام دے سکتي تھي ان ٣٧ ، ٣٨ سالوں ميں ہماري
قوم کے ساتھ انجام ديں۔ استبدادي پھلوي (شہنشاہي) حکومت کو مضبوط کيا
اور ہمارے ذمہ دار افراد کي توہين کي، ہمارے لوگوں کي توہين کي يہاں تک
کہ اپنے سياسي لوگوں کو لے کر آئے، قومي حکومتوں کو سرنگوں کرديا وغيرہ
وغيرہ۔بہت ساري جنايات کي گئيں کہ اگر کوئي شخص انقلاب سے ٣٧ ، ٣٨ سال
پہلے کي جنايات کو لکھنے کے لئے بيٹھے تو يقينا وہ ايک ضخيم کتاب بن
جائے گي۔ انقلاب کامياب ہوگيا جب انقلاب کامياب ہوگيا تو لوگوں کے
کاموں ميں سے ايک کام جو لوگوں نے کيا وہ يہ کہ ان ہي شروع کے دنوں ميں
٢٢ يا ٢١ بھمن کو امريکي سفارتخانہ پر قبضہ کرکے اور امريکيوں کو پکڑ
ليا ميں خود وہاں پر موجود تھا جہاں پر انقلاب کے دنوں ميں امريکيوں کو
اور سفارتخانوں کے عملے کو آنکھيں باندھ کر وہاں لے کر آئے مجھے يقين
تھا کہ امام حکم ديں گے کہ ان کو پھانسي دے دو يا کوئي اور سزا دے دو
ليکن تمام لوگوں کے تصور کے بر خلاف يہاں تک کہ امريکيوں کے خيالات کے
برخلاف امام نے حکم ديا کہ ان کو آزاد کردو اور وہ سفارتخانے چلے
گئے۔ان ميں سے کچھ ايران ہي ميں رک گئے۔ ہمارا رابطہ امريکہ سے انقلاب
کي کاميابي کے بعد ہماري طرف سے نہيں توڑا گيا۔ اس کا کيا مطلب ہے؟
يعني يہ کہ ايران کي ملت نے اقتدار حاصل کرنے کے بعد اپني ماضي کي
مظلوميتوں سے نتيجہ نکالا اور امريکي حکومت سے ناراضگي کا اظہار کيا۔
اس سے بڑھ کر کوئي بزرگواري ہوگي ہم ٣٠ سال تک امريکي مظالم کا شکار
رہے ليکن ہم ان کا مقابلہ نہيں کرسکتے تھے، ہم رد عمل کا اظہار نہيں
کرسکتے تھے۔ يہ دور ختم ہوا اب جبکہ انقلاب کامياب ہوگيا اور ايران کي
ملت نے حکومت اپنے ہاتھ ميں لے لي تو رد عمل کا اظہار کرسکتي تھي۔ اس
بات کي توقع کرنا قدرتي بات تھي ليکن کسي قسم کا کوئي رد عمل نہيں ہوا۔
امام نے حکم ديا کہ ان کو چھوڑو کچھ لوگ چلے گئے اور کچھ لوگ رک گئے
اور ہمارا امريکہ سے سياسي رابطہ بھي برقرار رہا۔ ليکن امريکہ کي حکومت
نے انقلاب اور ايران کي ملت کي اس بزرگواري کو نہيں سمجھا اور ابتدائ
ہي سے اطمينان کرلينے کے بعد اس سفارتخانہ کو اسلامي جمہوريہ کے نظام
کے خلاف سازشوں کے گڑھ ميں تبديل کرديا۔ خود امريکہ ميں بھي ايران کے
خلاف اقدامات شروع کردئيے گئے اس وقت کي امريکي سينيٹ نے ايک بہت ہي
پست حرکت کي جس کے خلاف يہاں پر لوگوں کا غم و غصہ بڑھ گيا اور تہران
کے ايک ميدان ميں عظيم الشان اجتماع تشکيل پايا اور لوگوں نے امريکہ کے
خلاف وہاں پر اپنے غم و غصہ کا اظہار کيا۔ انہوں نے پہلے دن سے سازشيں
کرنا شروع کرديں۔جمہوري اسلامي کے دشمنوں کو ديکھا اور کام کرنے پر
مجبور کيا، بغاوت کے مقدمات کئے۔ يعني ماضي سے سبق نہيں سيکھا ان تمام
باتوں کا لازمي نتيجہ بھي يہي تھا کہ خط امام پر چلنے والے طلبائ نے
سفارتخانہ پر حملہ کرکے اس پر قبضہ کرليا اور سفارتخانہ کے افراد کو
يرغمال بناليا يہ کام درحقيقت امريکيوں کے لئے ايک طرح کي سزا تھي۔ اب
جب امريکہ والے چاہتے تھے کہ امريکي اور ايراني حکومت کي دشمني کي
تاريخ کو بيان کریں تو سفارتخانہ کے مسئلہ سے شروع کرتے ہيں۔ اس سال جب
ميں اقوام متحدہ کے اجلاس ميں اپنے صدارتي دور ميں نيو يارک گيا تھا
مجھ سے بھي جب انٹرويو کيا۔ پہلا سوال جو کہ خبرنگار نے مجھ سے پوچھا
سفارتخانہ کے بارے ميں کہ جناب آپ نے ہماري سفيروں کو کيوں پکڑا تھا؟
جبکہ تاريخ وہاں سے شروع نہيں ہورہي اس سے پہلے بھي واقعات ہيں اگر
پہلے کے واقعات کو کہيں تو کہتے ہيں کہ جناب يہ تو ماضي کے مسائل ہيں
ماضي کو بھول جائيے اگر ماضي ہے تو کيا سفارتخانہ کا مسئلہ ماضي کا
نہيں ہے؟ اس کو ہميشہ بيان کرتے ہيں جبکہ يہ حقيقت ميں ايک رد عمل تھا
جو کہ ايران کي ملت کے انقلابي غم و غصہ سے وجود ميں آيا تھا۔ انہوںنے
اپني نجابت کا ثبوت ديا کہ ان (امريکيوں) کو قتل نہيں کيا ورنہ اگر
ہمارے جوان چاہتے اور پرہيزگاري نہ کرتے تو وہيں پر ان کو نابود
کرديتے۔ اس کام کو نہيں کيا ان کي جانوں کي حفاظت کي اور کچھ مدت کے
بعد جب امام کے حکم پر پارليمنٹ کے ذمہ يہ کام ہوا تو وہ آزاد ہوگئے
اور چلے گئے۔ پس امريکي حملے، کمر ميں خنجر مارنا، مسائل ميں خيانت
کرنا، بغاوت کروانا، شہيد نوژہ کي چھاو ني کا قصہ اور بہت سے دوسرے
مسائل پے درپے اسلامي جمہوريہ کے خلاف انجام پائے اور جاري ہے۔يہاں تک
کہ جنگ تحميلي شروع ہوگئي۔ جنگ ميں ايران کي ملت کے دشمن کو اسلحہ ديا
حملہ کروايا۔ ايک چيز جو کہ دنیا کے عرف ميں تمام قو مو ں اور حکو متوں
ميں موجود ہے۔ وہ يہ کہ دو ملک جو کہ حالت جنگ ميں ہيں تيسرا آئے اور
ايک ملک کو اسلحہ دے دے، فوجي امکانات فراہم کرے يا فوجي مشورے دے۔ يہ
حقيقت ميں جنگ ميں داخل ہونا ہے۔ہمارے ساتھ جنگ ميں شامل ہوگئے۔ ان
چيزوں کو پس پشت نہيں ڈالا جاسکتا۔
ايراني قوم ان کاموں کي وجہ سے ، اس ظلم کي وجہ سے جو
ان پر ہوا اس طرح امريکہ کے مقابل کھڑي ہوگئي ۔ ميں نے پچھلے سال کہا
تھا ہماري قوم امير المومنين ٴکي طرح ہے۔ اميرالمومنين ٴ دنيا کے مظلوم
ترين صاحب اقتدار انسان تھے ۔ اميرالمومنين ٴ کي قدرت و شجاعت کا مالک
کوئي انسان نظر نہيں آتا ليکن اميرالمومنين ٴ سے زيادہ مظلوم بھي ہميں
کوئي نظر نہيں آتا ۔ ايران کي قوم اپنے امام ٴکي طرح ہے کوئي بھي قوم
اس نشاط و قدرت کي حامل نہيںجتني ايران کي قوم دو عشروں ميں ظاہر ہوئي
ہے ليکن مظلوم ترين قوم بھي ايراني قوم ہے ۔ کس نے اس پر سب سے زيادہ
ظلم کئے ہيں؟ بڑے شيطان نے ! بڑے شيطان نے ہاں، بڑے شيطان نے۔ کہتے ہيں
کيوں ہم کو بڑے شيطان کہتے ہو؟ شيطان کے کيا معني ہيں ۔ شيطنت کرتے ہو
۔ شيطنت نہ کرو تاکہ تم کو بڑا شيطان نہ کہيں۔ شيطنت کرتے ہيں، خيانت
کرتے ہيں، ضرب لگاتے ہيں، تکبر کرتے ہيں، اور بڑائي چاہتے ہيں۔ ايران
کي قوم ايک زندہ ہے دوسري قوموں کے ساتھ ايراني قوم کا مقابلہ مت کرو ۔
ايران کي قوم اس طرح کي ايک حکومت کے مد مقابل ہے۔ مقابلہ کرے گي،
مقاومت کرے گي، بے اعتنائي کرے گي ، رابطے کو منقطع کرے گي۔ اس سے دنيا
کے مسائل پر بات چيت نہيں کرے گي، باطل رائے کے مقابل موقف اپنائے گي۔
يہ ايک جہت ہے۔
اسرائيل نواز امريکي پاليسي:
ايک اور جہت امريکہ کي دنيا کے بارے ميں پاليسي ہے ۔ آج
امريکي غاصب صہيوني حکومت کا سب سے بڑا حامي ہے کہ يہ صہيوني حکومت ،
دنيا کا بدترين سياسي مجموعہ ہے۔ چونکہ صہيوني حکومت ايک ايسي حکومت ہے
کہ جس نے ايک ملت کو اس کے ملک سے باہر کرديا۔ کيا اس قسم کي دنيا ميں
کوئي دوسري مثال ہے؟ کيا تاريخ ميں ہے؟ ايک گھر کو ، ايک خاندان کو ،
ايک شہر کو ، ايک ملين افراد کو، ايک ملت کو کوئي آئے اور اپنے ملک سے
باہر نکال دے اور جو لوگ ملک ميں ہيں ان پر نہايت ظلم اور دباو کا شکار
کرکے خود ان پر حکومت کرے۔ کيا کوئي حکومت اس سے بھي بدتر اور خراب تر
ہوسکتي ہے؟ اس کے بعد اس ملت سے بہت ہي گھناو نہ رويہ رکھا جا تا ہے۔
اسي انٹرويو ميں جيسا کہ کہا گيا اور جو کہ بہت صحيح بات ہے کہ حکومتي
دہشت گردي کا مظہر آج کي دنيا ميں غاصب صہيوني حکومت ہے ۔ يہ بات
صہيونيوں کو بہت بري لگتي ہے حالانکہ يہ بالکل صحيح بات ہے۔ آپ نے
ديکھا ہے کہ يہ لوگ اپنے لوگوں کے ساتھ کيا کررہے ہيں، فلسطينيوں کے
ساتھ کيا کيا جارہا ہے، لبنانيوں کے ساتھ کيا ہورہا ہے ۔ ہيلي کاپٹر ،
لبنان کے گاو ں ميں جاتے ہيں وہاں کے لوگوں کو اغوائ کرتے ہيں اور لے
جاتے ہيں۔ دنيا ميں کہاں ايسي مثال ملتي ہے؟
امريکہ والے صہيونيوں کے سب سے بڑے اور سب سے سنجيدہ حامي ہيں۔ کيايہ
بڑا جرم نہيں ہے؟ يہ جرم کافي نہيں ہے؟ کيا يہ کافي نہيں ہے کہ ايک حق
طلب ملت ، ملت ايران کي طرح کہے ہم تم سے کوئي معاملہ نہيں چاہتے، تم
کو رد کرتے ہيں، تمہارے کردار کو محکوم کرتے ہيں يہي چيز ايران کي ملت
امريکہ کو کہہ رہي ہے۔
امريکہ سے تعلقات ايران کي ملت کے لئے فائدہ مند نہيں :
عنوان دوم يہ ہے کہ رابطہ يا مذاکرہ ايران کي ملت کے
لئے کوئي فائدہ نہيں رکھتا۔ خوب توجہ کريں، آج کے عجائب روزگار ميں سے
ہے۔ امريکي ہاتھ اور امريکي تبليغات آج کل اس طرح سے تبليغ کے ذريعے
دنيا ميں پھيلا رہے ہيں کہ ايراني قوم کو مشکلات ہيں ان مشکلات کا حل
اور ان کي چابي يہ ہے کہ ايران آگے بڑھے اور امريکہ سے مذاکرات کرے تم
نے کہا اور ميں نے يقين کرليا۔ کوئي فائدہ نہں ہے کوئي قابل ذکر فائدہ
ايراني قوم کے لئے ان مذاکرات ميں نہيں ہے۔ البتہ نقصانات ہيں جو کہ
بعد ميں عرض کروں گا ليکن فائدہ کوئي نہيں ہے۔
غلط ہے اگر کوئي يہ سوچتا ہي کہ اگر چنانچہ ہم نے مذاکرات کرلئے تو
اقتصادي ناکہ بندي اور ڈاماٹو کا قانون وغيرہ وغيرہ ختم ہوجائيں
گے۔اولاً يہ کہ امريکہ کا ہر حربہ ايران کے ساتھ کچھ عرصہ کے بعد خود
ہي شکست کھا جاتا ہے اور خودبخود باطل ہوجاتا ہے مگر کيا پہلي دفعہ ہے
کہ جو يہ ہم سے اس طرح سے برتاو کررہے ہيں مگر کيا پہلي دفعہ ہے کہ ہم
کو دھمکي دے رہے ہيں، کيا پہلي مرتبہ اقتصادي محاصرہ کررہے ہيں ، کيا
پہلي مرتبہ اس ملک سے ملک جارہے ہيں اور کہہ رہے ہيں کہ آپ ايران کے
ساتھ فلاں قرار داد نہيں کيجئے يا فلاں معاملہ نہ کيجئے۔ پہلي مرتبہ تو
نہيں ہے ہميشہ يہ کام کرتے آئے ہيں۔ ہم نے ان ١٨ ، ١٩ سالوں ميں جو بھي
ترقي کي ہے تمام برجستہ کام جو کہ ہماري حکومتوں نے ان چند سالوں ميں
انجام دئيے اسي حال ميں انجام پائے ہيں کہ امريکہ نہيں چاہتا تھا۔ اگر
چاہتا تو ہماري گيس کي کمپني کے ساتھ معاہدہ ختم نہ کرتا جو کہ گزشتہ
سال ختم کرديا۔ اولاً يہ کہ اسي کمپني نے ہمارے عہديداروں کو پيغام
بھيجا کہ ہم خود راضي نہيں ہيں اور پہلي فرصت جو ملے گي اس ميں دوبارہ
معاہدہ کرليں گے اور اب امريکہ کي مشکلات ميں سے ايک مشکل يہي کمپنياں
ہيں جو کہ ہمارے خليج فارس کے تيل کے مسائل اور کاموں ميں سرمايہ کاري
نہيں کرسکتيں۔ امريکي تيل کي کمپنياں سخت ناراض ہيں اور يہ ابھي کا
مسئلہ نہيں بلکہ ايک سال پہلے کي بات ہے، حکومت پر دباو ڈال رہے ہيں۔
اجلاس اس قابل ہوئے ہيں کہ ڈاماٹو کے قانون کو کسي حد تک کمزور کريں۔
پس ان کو زيادہ ضرورت ہے۔ ثانياً جيسے ہي اس امريکي کمپني نے ہماري گيس
کي کمپني کے ساتھ معاہدہ توڑا تھوڑے ہي عرصہ ميں فرانس کي کمپني آگئي
اور قرارداد کے لئے پيشکش کي۔ امريکيوں نے شور مچانا شروع کرديا کہ
کيوں ايران کے ساتھ قرار داد باندھ رہے ہو فرانس کي حکومت، بلکہ بعد
ميں تو پورا يورپي اتحاد کھڑا ہوگيا اور کہا کہ حتماً يہ قرار داد
ايران کے ساتھ طے ہوني چاہئيے اور امريکہ يہاں پر اپني بات نہيں
منواسکتا۔ اس طرح نہيں ہے کہ ايراني قوم کي مشکلات امريکہ کے پاس ہيں
اور وہ کوئي سنجيدہ مشکل پيدا کرے اگرچہ کوشش کرتا ہے ايسا نہيں ہے کہ
بيٹھا رہتا ہو اپني خباثت کو انجام ديتا رہتا ہے ليکن سارے امور تو ان
کے ہاتھ ميں نہيں ہيں۔
دوسري طرف ملاحظہ کيجئے وہ حکومتيں جن کو امريکہ کي
وزارت خارجہ نے سزادي ہے چين کو سزا دينے کي دھمکي دي ہے، روس کو کسي
اور طريقہ سے، ترکي کو رفاہ پارٹي کے زمانے ميں ايک اور طريقہ سے وغيرہ
مگر کيا ان کا امريکہ سے رابطہ نہيں ہے اور مذاکرات نہيں کرتے ہيں ، وہ
تمام حکومتيں جن سے امريکہ سخت برتاو کرتا ہے سياسي اور اقتصادي ميدان
ميں امريکہ سے روابط رکھتي ہے اس طرح نہيں ہے کہ امريکہ سے رابطہ يا
مذاکرات اس کي دشمني ميں حائل ہو جائے حال حاضر ميں ايسي ممالک ہيں کہ
جن کے سفارتخانے امريکہ ميں يا امريکہ کا سفارتخانہ ان ممالک ميں ہے
کام کررہے ہيں ايک دوسرے سے بہت گرم سياسي تعلقات ہيں ليکن امريکہ ان
کو دنيا ميں دہشت گردوں کي فہرست ميں شمار کرتا ہے۔ ان کے نام نہيں
لينا چاہتا اچھا ہے کہ ان چيزوں کو ہمارے بھائي وزارتوں ميں يا ريڈيو ،
ٹيلي ويژن پر لوگوں کو بتائيں اور واضح کريں يہ نہ سمجھيں کہ اگر
چنانچہ امريکہ سے روابط برقرار ہوگئے يا مذاکرات ہوگئے تو امريکہ کي
طرف سے پھول سے بھي نازک کوئي بات جمہوري اسلامي کے لئے نہيں کہے گا۔
نہيں جناب بہت سے ايسے ممالک ہيں جن کے امريکہ سے روابط ہيں اور يہ
روابط علي الظاہر دنيا کي سطح پر بہت اچھے اور دوستانہ ہيں ليکن اسي
حال ميں بھي امريکہ کو جہاں ضروري سمجھتا ہے اپني ضرب لگاديتا ہے۔
اقتصادي محاصرہ کرتا ہے اور دھمکي ديتاہے۔
امريکہ والے مستکبر ہيں۔ مستکبر انسان مستکبر کو فقط اپني بات منوانے
کے پيچھے ہيں۔ اس بنا پر اس طرح نہيں ہے کہ يہ رابطہ ہمارے ملک کے لئے
کوئي فائدہ رکھتا ہو کہ اگر رابطہ نہ ہو اور مذاکرات نہ ہو يہ مشکلات
وجود ميں آجائيں گي اور اگر ايسے ہوجائے تو مشکلات ختم ہوجائيں گي،
نہيں ، نہيں ، امريکہ کا ہاتھ مشکلات ايجاد کرنے کے لئے کھلا ہوا ہے،
اور يہ مذاکرات اور روابط بھي بہت سے ملکوں کے لئے کوئي معجزہ نہيں
دکھاتے۔ ان ميں سے کچھ بھي حقيقت نہيں رکھتا۔ يہ قوم کي قوت سے وابستہ
ہے حکومتوں کي صلاحيتوں سے مربوط ہے ، ہمارے اقتدار اور عزت سے منسلک
ہے کہ ہم امريکہ کے مقابلہ ميں کھڑے ہوجائيں اور اپنے ارادہ کے مطابق
اور ملک کے مفادات کے مطابق عمل کريں۔
جو چيز مسئلہ ہے وہ يہ ہے کہ يہ تبليغات اس حال ميں
ہورہي ہيں جبکہ امريکہ کي حکومت کے مقابل ميں ايک وقت ايسي حکومت تھي
جو جنگ کي حالت ميں تھي۔ ہم ايک وقت حالت جنگ ميں تھے اس سے پہلے وہ
وقت تھا کہ ہماري حکومت، حکومتي امکانات کے لحاظ سے بہت کمزور تھي اس
کے باوجود يہ کچھ نہ کرسکے، اس روز کوئي بنيادي نقصان نہ پہنچا سکے۔ آج
بحمدللہ ايراني حکومت ہر دل عزيز حکومت ہے ، عظيم ہے دنيا ميں اسے ايک
صاحب اقتدار اور عزيز ملک کي حيثيت سے پہچانا جاتا ہے، اسلامي کانفرس
کي صدارت اس کے پاس ہے ، بہت سي دنيا کي کانفرنسوں ميں ايک محترم رکن
کي حيثيت حاصل ہے، حکومتيں اس کا احترام کرتي ہے، قوميں اس کا احترام
کرتي ہيں۔ آج ہم کسي سے کيوں ڈريں، کيوں يہ سوچيں کہ جن حالات سے ١٨ ،
١٩ سال گزرے ہيں باقي رہے تو يہ اور وہ ہوجائے گا۔ وہ (امريکہ ) محتاج
ہے، امريکہ کو ضرورت ہے، امريکہ کے پاس وہ ١٥ سال پہلي والي قوت اور
قدرت بھي نہيں ہے۔ ايک زمانہ تھا جب امريکہ کي بات يورپ اور دوسري
جگہوں ميں احترام کے ساتھ سني جاتي تھي اور اس سے محترمانہ سلوک کيا
جاتا تھا۔ آج اس طرح بھي نہيں ہے آج امريکہ کي ڈپلو ميسي اور بيروني
سياست ضعيف ہے اور ان کو قدرت حاصل نہيں ہے اور چاہتے تھے کہ اسي
سپرپاور کي ہيبت کو اس بدحالي ميں بھي ہمارے اوپر اور ايراني قوم کے
مقابلہ ميں استعمال کريں۔
امريکہ سے تعلقات نقصان دہ ہيں:
تيسرا عنوان يہ کہ مذاکرہ يا رابطہ ايران کي ملت اور
جہاني تحريک کے لئے نقصان دہ ہے۔ پہلا نقصان يہ ہے امريکي اس ميدان ميں
داخل ہوتے ہيں اس طرح تفہيم کريں گے کہ جمہوري اسلامي امام کے زمانے
اور جنگ اور دفاع مقدس اور انقلاب کے دوران تمام باتوں سے صرف نظر کرتا
ہے۔ يہ پہلي چيز جس کا امريکہ والے دعويٰ کريں گے۔ پہلي بات جس کو دنيا
ميں پھيلائيں گے يہ ہے کہ انقلاب ختم ہوگيا۔ انقلاب اسلامي اختتام کو
پہنچ گيا جيسا کہ ابھي کچھ نہيںہوا تو اسي بات کي سرگوشياں کررہے ہيں۔
کچھ دن پہلے ايک ٹيلکس ديکھا کہ ايک افريقي ملک کي حکومت کي سربراہ سے
انٹرويو کيا اس نے کہا کہ ہاں ايران ايک عرصہ تک يہ دعويٰ کرتا تھا کہ
امريکہ کا مخالف ہے ليکن اب مقدمات فراہم کررہا ہے تاکہ امريکہ سےئ
دوستي برقرار کرلے اور امريکہ کي طرف دوستي کا ہاتھ بڑھائے۔ ابھي کچھ
نہيں ہوا تو يہ باتيں کرتے ہيں تبليغات اور افواہيں ايراني قوم اور
جمہوري اسلامي ايران کے خلاف اور حکومت کے خلاف فضائ پر کر دے گي کہ يہ
لوگ انقلاب سے پلٹ گئے ہيں يہ انقلاب کي آبرو دنيا اور مستضعفين کے
سامنے لٹاديں گے اور دلوں کو ترديد ميں مبتلا کرديں گے۔ ايراني ملت کے
استقلال کو اس کے ہاتھ سے چھين ليں گے۔
يہ ملت طويل عرصہ سے تقريباً ١٥٠ سال سے يعني ناصر
الدين قاچار کي درمياني زمانے سے لے کر انقلاب تک ہميشہ کسي قدرت کے
زير سايہ اور بيروني قوتوں کے زير اثر رہي ہے۔ اگر پہلے والے سلاطين
مستبد، ظالم ، خراب اور ملعون تھے اور جو کچھ بھي تھے کم از کم انہوں
نے ملت ايران اور ايران کي عزت کو محفوظ رکھا تھا بيگانوں کے زير اثر
نہيں تھے۔ ناصر الدين شاہ کے دور ميں اواسط اور اواخر سے غير ملکيوں کا
نفوذ اور دخالت ايران کے امور ميں شروع اور زيادہ ہوئي ۔ يہاں تک کہ
پھلوي دوران حکومت آيا جس ميں ايران پوري طرح غير ملکيوں کے ہاتھ ميں
چلا گيا۔ رضا خان کو انگريز برسر اقتدار لائے اور وہ انگريزوں کے
ہاتھوں ميں تھا اس کے بعد جب رضا خان کو لے گئي اور محمد رضا کو اقتدار
پر لے آئے تو وہ بھي ان کے ہاتھ ميں تھا۔ اور اس کے کچھ سالوں کے بعد
امريکي ميدان ميں داخل ہوئے پھر سے ايران کي دولت، وسائل اور اس کي
تقدير غير ملکيوں کے ہاتھ ميں تھي۔ ملت ايران نے اس حقيقت ، اہانت اور
جسارت کا جواب انقلاب ميں دے ديا۔ ميرے عزيزوں کا ايک اہم اثر وہ ُمکّا
تھا کہ جو وطن فروشوں ، وابستہ لوگوں اور بيروني مزدوروں اور غير ملکي
دشمنوں کے منہ پرلگا ۔ انقلاب درحقيقت غير ملکي نفوذ کے مقابل ايراني
قوم کا غصہ تھا۔ اب اتنا خون استقلال کے راستے ميں بہنے کے بعد اس ملک
پر آقائي کے دعويدار ، اس ملک کي مالکيت کے دعويدار کيا امريکائي
ہوسکتے ہيںيعني وہ اپنے آپ کو اس ملک کا مالک جانتے ہيں کہ اب وہ اس
ملک ميں واپس پلٹ آئيں احکام کا چلانا، کاموں ميں دخالت، مختلف اداروں
ميں نفوذ اور انقلاب دشمنوں کو جمع کرنا کيا ايران کي ملت اس بات کي
اجازت دے گي مگر کيا ملت ايران نے انقلاب سے ، امام سے، عظمت سے اور
اپني شوکت سے ہاتھ اٹھاليا ہے کہ اجازت ديں امريکيوں کو کہ دوبارہ ان
کے قدم اس سر زمين پر آئيں۔ البتہ کئي بار کہا ہے اور تکرار ہوئي ہے
ميں نے بھي کہا دوسرے بھائيوں نے اور عہديداروں نے بھي کہا ہے کہ ہمارا
مسئلہ امريکہ کي حکومت سے ہے ہماري کوئي بحث امريکي عوام سے نہيں ہے
ہمارے مقابل ملت امريکہ نہيں ہے امريکہ کي ملت بھي دوسري ملتوں کي طرح
کچھ خوبياں رکھتي ہے اور کچھ خامياں کہ جو خود ان سے مربوط ہے جبکہ
مسئلہ حکومت اور نظام امريکہ ہے کہ جو نظام جمہوري اسلامي ، انقلاب اور
ملت ايران کا دشمن ہے۔ اس بات کي کئي بار تکرار ہوچکي ہے ليکن وہ مصلحت
نہيں سمجھتے کہ اس حقيقت کو اپني زبان پر لائيں ليکن اصل بات يہ ہے ،
آپ کے استقلال کے دشمن ہيں، آپ کے اسلام کے دشمن ہيں، آپ کي عزت کے
دشمن ہيں۔ بہت کوشش کرتے ہيں کہ ان چيزوں کو ختم کرديں۔ البتہ الہي
قانون ان کے اس ارادے کے برخلاف ہے۔ قانون الہي يہ ہے کہ آپ قائم رہيں،
قوي ہوںاور کامياب ہوں ان شائ اللہ کامياب ہوں گے۔ ہم بھي امريکيوں سے
رابطے کي کوئي ضرورت محسوس نہيں کرتے جبکہ ہمارے صدر محترم نے اس
انٹرويو ميں بھي اشارہ کيا اور دوسروں نے بھي کہا ہے۔ لہذا امريکہ سے
کسي قسم کے مذاکرات يا رابطے کے محتاج نہيں اور ان شائ اللہ دشمن کے
ارادوں کے برخلاف ملت ايران روز بروز ترقي اور پيش رفت کي منازل طے
کرتي رہے گي۔
والسلام عليکم ورحمۃ اللہ وبرکاۃ
|