|
ولي امر مسلمین حضرت آیت اللہ سید علي خامنہ اي
ایک اہم گفتگوجو انہوں نے نوجوانوں کے درمیان بیان فر مائي
نشر ولایت پاکستان
مرکزحفظ ونشر آثار ولایت
www.wilayat.com
بسم اللہ الرحمٰن الرحيم
٭دين اور جوان
معاشرہ کا نوجوان طبقہ ، اس طرف مائل ہے کہ اس کے لئے مذہبي مسائل و
مفاہيم کو بيان اور واضح کيا جائے۔ يہ طبقہ دين کو استدلال ، منطق،
معرفت اور وسعت نظري کے ذريعہ حاصل کرنا چاہتا ہے ۔یہ ايک خوش ئند بات
ہے ، ايک مناسب اور صحيح مطالبہ ہے اور ايسا مطالبہ کہ جسے خود دين نے
ہم کو سکھايا ہے۔ قرن کريم ہم سے يہي تو فرماتا ہے کہ تفکر ،تعمق اور
فہم و ادراک کے ساتھ معارف اسلامي کو سمجھيں اور قبول کريں۔ وہ افراد
جو عہدیدار ہيں، اگر اس وسعت نظري کو اس طبقہ ميں مزيد رائج کريں تو
ملاحظہ کريں گے کہ يہ نسل مکمل طو رپر باعمل اور ديندار ہے۔
٭دنيا کے بہترين نوجوان:
دوسري
جانب بعض ايسے افراد جو شايد دين و مذہب سے بہت زيادہ خوش و راضي نہيں
ہيں، انپے احساسات اور جوانوں ميں دين سے روگرداني کو اسي جوا ن طبقہ
سے منسوب کرتے ہيں۔ اس سلسلے ميں ان کا دعويٰ يہ ہوتا ہے کہ جوان طبقہ
دين و مذہب کا طالب نہيں ہے۔ان افراد ميں بھي ايسے ہوتے ہيں کہ جن کے
اس دعويٰ ميںافسوس بھي شامل ہوتا ہے جبکہ بات کو جانبداري کے ساتھ بيان
کرتے ہيں۔ ان کے بقول ج کے نوجوان کي خواہش ہي يہي ہے کہ وہ دين و مذہب
کي پابنديوں اور چار ديواريوں سے زاد ہو جائے۔ يہ دونوں دعوے اور اقوال
سرے سے بے بنيا د ہيں البتہ يہ صحيح ہے کہ نوجوانوں کے درميان مختلف
افکار ، نظريات ، احساسات اور عادات و اطوار پائے جاتے ہيں ۔ ليکن وہ
حقيقت جو قابل ترديد نہيں ہے يہ ہے کہ ہمارے ملک کے نو جوانوں کا شمار
دنیا کے بہترين جوانوں ميں ہوتا ہے۔
٭جوانوں کے مسائل:
منصوبہ
ساز حضرات کو چاہئے کہ جوانوں کے مسائل کي جانب توجہ ديں ۔ميں ان مسائل
کو مختصرا بيان کررہا ہوں۔ درحقيقت ميں ان لوگوں سے مخاطب ہوں جو
نوجوان طبقے کے ارتقائ کے لئے منصوبہ بندي کرتے ہيں۔ البتہ اپنے اس
خطاب کے دوران ميں پ(جوان حضرات) کے لئے يہ بھي واضح کرنا چاہوں گا کہ
ان مسائل ميں سے کن مسائل پر اعتماد وتکيہ کيا جا سکتا ہے اورکس طرح ان
مسائل کے ذريعے راہ سعادت حاصل کي جاسکتي ہے۔
٭مسائل و مشکلات
يہ
مسائل دو طرح کے ہيں، ان ميں سے بعض مسائل و مشکلات کا تعلق نوجوانوںکي
ذاتي زندگي سے ہوتاہے اور يہ تعلق اس طرح کا ہے کہ جس کو ان سے جدا بھي
نہيں کيا جاسکتا ۔ ايک نوجوان زندگي کے پہلے مرحلہ ميں تحصيل علم، کسب
معاش اورمستقبل وغيرہ کے بارے ميں فکر مند رہتا ہے۔ اس کا مستقبل کيسا
رہے گا، کس طرح گذرے گا؟ وغيرہ وغيرہ۔ روشن مستقبل کا ہونا اس کے لئے
نہايت اہم ہوتا ہے۔اس کے لئے بہترين ازدواجي زندگي اہميت کي حامل ہوتي
ہے، اپني استطاعت کے مطابق وہ علم کے اعليٰ مدارج حاصل کرنا چاہتا ہے،
خوشياں ،سودگياں اس کو اپني طرف مائل کرتي ہيں۔ جمالياتي حسن ايک
نوجوان کے اندر بقيہ اوصاف کے مقابل زيادہ قوي ہوتي ہے اور اس کے اندر
جذبات و احساسات کا مادہ زيادہ پايا جاتا ہے۔ يہ ايسے مسائل و امور ہيں
جو فقط نوجوانوںکي ذاتي زندگي سے مربوط ہو تے ہيں۔
٭ اجتماعي اور سماجي مسائل:
نوجوانوںکے
مسائل و امور فقط مندرجہ بالاامور ہي تک محدود نہيںرہتے ہيں بلکہ ايک
نوجوان اپني ذاتي زندگي سے باہر نکل کر سماجي زندگي سے بھي تعلق رکھتا
ہے۔اگر وہ معاشرے يعني اسکول،کالج اور گھر وغيرہ میں برتري، جانبداري
اورشخصيت پرستي کا مشاہدہ کرتا ہے تو اسکو نہايت تکليف پہنچتي ہے۔
معاشرے ميں ايسے افراد بھي پائے جاتے ہين جو ان سماجي اور معاشرتي
مسائل کے حوالے سے قطعاً بے حس ہوتے ہيں يا اپني گھريلو زندگي ہي ميں
مشغول رہتے ہيں يا پھر ان مسائل ميں اس حد تک الجھے رہتے ہيں کہ ان
مسائل کے عادي ہو جاتے ہيں ليکن ايک نوجوان کا مزاج ان افراد سے مختلف
ہوتا ہے۔ اس کے اندر اميديں ،جوش اور ولولہ پايا جاتا ہے۔ اگر عدالت
ميں اس کو عدل و انصاف کي جگہ ظلم نظر تا ہے تو وہ رنجيدہ ہوجاتا ہے۔
اگر اس کو معاشرے ميں تخريب کارياں نظرتي ہيں تو اس کا دل کڑ ھتا ہے
کيونکہ اس کي نگاہ ميں ملک کي عزت و مقام اہمیت کا حامل ہوتي ہے۔ اگر
کہيں انقلاب اور حب الوطني وغيرہ نظرئے تو سمجھ لينا چاہئے کہ نوجوان
وہاں يقينا موجود ہے۔
نوجوانوںکا يہ مزاج کسي ايک معاشرے ہي ميں نہيں پايا جاتاہے بلکہ تمام
معاشرے اسي طرح کے ہوتے ہيں۔ بس فرق اتنا ہے کہ ايسا معاشرہ جن ميں
ايمان اورمعنويبنیادیں زيادہ مضبوط ہوتي ہيں، يہ کيفيات زيادہ پائي
جاتي ہيں۔ جہاں بھي ملک و ملت پر حرف تا ہے نوجوان رضا کارانہ طورپر
خود بخود گے بڑھتے ہيں اور خود کوملک ،قوم و ملت کے حوالے کرديتے ہيں۔
يہ بھي نہيں سوچتے کہ ان کي ذاتي زندگي کي سودگيوں اور خوشيوں کا کيا
ہوگا؟ وہ( بے خطر کود پڑا آتش نمرود ميں عشق ۔۔۔کا مصداق بنکر۔مترجم
)خطرات ميں کود پڑتے ہيں۔اور اس کي جانب ہمارے منصوبہ ساز افراد کو
توجہ کرني چاہئے۔
٭روح معنویت:
يہ بھي مشاہدہ کيا گيا ہے کہ عام طور پرنوجوانوںميں ايک روح عرفاني
ومذہبي پائي جاتي ہے۔نوجوان يہ چاہتے ہيں کہ خدا اور حقيقت سے قريب
ہوں۔ يہي وجہ ہے کہ مذہبي تقاريب ميں ان کي شرکت کثير تعداد ميں ہوتي
ہے۔ جہاں کہيں بھي مذہب ترو تازہ اور پررونق نظر تا ہے،نوجوان طبقہ
وہاں پہنچ جاتا ہے چنانچہ اسي بنا پر دنيا ميںجہاں جہاں مذہب فرسودہ
اور بے روح ہو تا ہے تو اسکا مطلب یہ ہے کہ نوجوان طبقہ دین سے دور اور
بے اعتنا ہے۔ تاريخ ميں ہميشہ ايسا ہي ہوتا يا ہے ،يہ فقط دور حاضر کا
خاصہ نہيں ہے ۔مذہب اگر زندہ اور ترو تازہ ہے تونوجوانوں سے قريب ہے
ااور اگربے جان و فرسودہ ہے تونوجوان طبقہ اس سے بيزارہے ۔
٭ازدواج کیلئے مناسب سن و سال:
نوجوانوںکے درميان ايک مسئلہ جنسي جذبات اور احساسات سے متعلق بھي پايا
جاتا ہے اور اس کا تدارک جلدي اور صحيح موقع پر ازدواج کے ذريعہ ہي سے
ممکن ہے۔ شادي کے بارے ميں ميرا اپنا نظريہ يہ ہے کہ اگر شادي سے متعلق
خرافات (افسوسناک بات يہ ہے کہ تکلفات و اخراجات ہمارے معاشرہ ميں ہستہ
ہستہ اپني جڑيں گہري کررہے ہيں)سے اجتناب کيا جائے تو ايک نوجوان مناسب
وقت اور موقع پر اپني شادي کرسکتا ہے۔ يہي عمر ہے کہ جو ازدواجي زندگي
کے غاز کے لئے بہت مناسب ہے ۔افسوس کا مقام ہے کہ کچھ عرصہ سے مغربي
کلچر ، ثقافت و مزاج کي پیروي کرتے ہوئے بعض افراد نے ہمارے معاشرے ميں
بھي ديرسے شادي کرنے کي رسم ڈال دي ہے ،جب کہ اسلام اس نظریہ کا سراسر
مخالف ہے۔ اسلامي اعتبار سے شادي جس قدرنوجواني کے زمانے سے قريب ہو،
اتنا ہي بہتر ہے۔ ظاہر سي بات ہے کہ جب بے جا اخراجات مثلا باقاعدہ ايک
عليحدہ گھر ہو، مستقل طور پر کوئي نوکري يا کاروبار ہو يا ديگر ہزارہا
مسائل ازدواجي زندگي سے منسلک کر دئیے جائيں گي تو لا محالہ شادي ميں
تاخير کا مسئلہ پيش آئے گا۔ جبکہ ان ميں سے ايک بھي شرط ازدواجي زندگي
شروع کرنے کے لئے ضروري نہيں ہے۔اگر مذکورہ بے جا اخرجات ميں حقيقي طور
پر کمي کر لي جائے تو يقينا شادياں اپنے صحيح اور مناسب وقت پر انجام
پذير ہونے لگيں گي اور شريعت اسلامي ميں بھي اس بات کي بہت تاکيد کي
گئي ہے۔ بہر حال يہ مسئلہ بھي نوجوانوںکي پریشانیوں ميں اضافہ کا باعث
ہے۔
٭اسلام
بعض لوگوں نے حقیقت کوکچھ اس طرح بیان کيا ہے اور افسوس کہ کچھ نے اس
پر یقین بھي کر لیا ہے کہ اسلام يعني ايک محدود دائرہ اورپابنديوں کا
سلسلہ۔۔۔ يہ کرو، يہ نہ کرو، يہ مت کہو، اس کو مت ديکھو وغيرہ وغيرہ
۔واضح سي بات ہے کہ اگر کسي انسان کو ان پابنديوں اور شرائط کے دائرہ
ميںمقيد کرديا جائے تو وہ کسي بھي قيمت پر ان کو قبول نہيں کرے گا بلکہ
اس کي سعي و کوشش يہ ہوگي کہ اس حصار سے باہر نکل ئے۔ کيا يہي اسلام ہے
؟ قطعاً ايسا نہيں ہے، يہ اسلام کے بارے ميں غلط تصور ہے، اگر کوئي شخص
اسلام کو اس حد تک محدود شمار کرے تو يقينا اسلام کے بارے ميں اس کا
نظريہ اور اعتقاد حقيقت سے عاري اور خالي ہے۔ يہ اسلام نہيں ہے بلکہ
اسلام نام ہے ايک ايسي حقيقت کاکہ جس کي بنياد ايمان و معرفت پر مبني
ہے۔ اسلام يعني ايک ايسا نظام حيات کہ جو زندگي کے ہر پہلو پرمحیط ہے۔
ايسا ضابطہ حيات کہ اگر اس پر عمل کیا جائے تو زندگي کو اس کے اصل ہدف
تک پہنچايا جا سکتاہے۔
٭عقيدہ اور جہاد:
اسلام سے متعلق اس شناخت و معرفت کے بعد مرحلہ تاہے اس سعي و کوشش کا
کہ جس کے ذريعے زندگي کے اس مذکورہ بلند مقصد کو حاصل کيا جا سکتا ہے ،
مشہور ومعروف جملہ جو امام حسين عليہ السلام سے نقل کيا گيا ہے ’’ انما
الحياۃ عقيدۃ و جہاد‘‘ يعني زندگي نام ہے عقيدہ اورجہاد کا ۔اس جملے کو
اس طرح بھي کہا جا سکتا ہے کہ اسلام نام ہے عقيدہ اور جہادکا ۔ عقيدہ
يعني کيا؟ يعني کائنات ،انسان اور مستقبل وغيرہ کے بارے ميں وسعت اور
روشن نظري رکھنا، علاوہ از ایں وہ بلند و اعليٰ اہداف ومقاصد بھي کہ جن
کو حاصل کرنے کے لئے انسان کو حتي الامکان کوشش کرني چاہئے، اسي زمرے
ميں تے ہيں۔اس مرحلہ کے بعد نوبت تي ہے اس راہ ميں نے والي مشکلات اور
رکاوٹوں کو دور کرنے کي۔ اسلام کي نظر ميں غير متحرک، بے حس اور ساکت
وجامد زندگي کي کوئي وقعت نہيں ہے۔ اسي طرح معرفت و شناخت کے بغير
زندگي کي بھي اسلام ميںکوئي حيثيت نہيں ہے۔ساتھ ہي وہ زندگي جس ميں سعي
و کوشش نہ ہو اسلامي نقطہ نظر سے بے ثمر ہے ۔ بغير معرفت کي زندگي کا
انجام گمراہي ہے ۔ ايسي زندگي جس ميں سعي و کوشش کا عنصر موجود نہ
ہو،تو نہ اس ميں ارتقائ ہو تي ہے اور نہ پيشرفت ، پيغمبر اسلام۰
کي دس سالہ دوران حکومت اور اس وقت کے اسلامي معاشرہ پر اگر توجہ کي
جائے تو حيرت ہوتي ہے کہ پ۰
نے اتنے قليل عرصے ميں معاشرہ کے اندر نہ جانے کون سي روح پھونک دي تھي
کہ سارا معاشرہ ايک سيدھے راستے کي جانب بغیرکسي شک و شبہ کے تيزي سے
آگے بڑھ رہا تھا، يہ ہے اسلامي زندگي ۔
٭مغربي طرز حيات:
مغربي طرز حيات ميں ساري کدو کاوش فردي مفادات کي خاطر کي جاتي ہے
۔البتہ کبھي ایسابھي ہوجاتا ہے کہ يہي ذاتي مفادات ملک و قوم کے مفادات
کے باعث بھي بن جاتے ہيں۔ سرمايہ دارانہ نظام رکھنے والے مغربي ممالک
کا نکتہ اشتراک ہي یہ ہے کہ وہاں ہر شخص اپني ذاتي زندگي کي جستجو ميں
رہتا ہے، اس کے لئے اس کے اپنے ذاتي مفادات قو م و ملت کے مفادات سے
زيادہ اہميت کے حامل ہوتے ہيں۔ ايسا نہيں ہے کہ مغرب ميں اخلاق نہيں
پايا جاتا بلکہ يوں کہنا چاہئے کہ معاشرتي نظام اورسياست ميں اخلاق کا
کوئي دخل نہيں ہے۔ ممکن ہے افراد بااخلاق ہوں، ان کے اندر درگذشت
اورفداکاري جيسي اخلاقي اقدار بھي پائي جاتي ہوں ليکن وہاںکا سياسي
نظام اور سياست ، اخلاق اور اخلاقيت سے کوسوں دور ہے۔مغربي سرمايہ
دارانہ نظام کي اتباع کرنے والے ہر ملک ميں ساري کدوکاوش ذاتي مفادات
کے حصول کے لئے کي جاتي ہے۔ سرمايہ دارانہ نظام ميں سر فہرست امریکہ کہ
جسکي بنیاد ہي، افراد کے ذاتي مفادات کے حصول کے لئے رکھي گئي تھي،
يعني امريکہ ميں موجود نظريہ (سرمايہ داري) ج کي پيداوار نہيں ہے بلکہ
اس کي جڑيں دو سو، تين سو سا ل قبل حتي امريکہ کے موجودہ نظام حکومت کے
وجود ميں نے سے بھي پہلیپائي جاتي تھيں۔چنانچہ افراد جس قدر بد اخلاق ،
چالاک اور زيرک ہوا کرتے تھے اسي قدر زندگي کي رعنائيوں سے بھي لطف
اندوز ہوا کرتے تھے۔ امريکي شاعري ،ناول اور فلموںميں باقاعدہ ان کا
مشاہد کيا جا سکتا ہے۔
٭مشرقي طرز حيات:
مغربي سرمايہ دارانہ نظام کے مقابلے ميں جس نظام حکومت نے نکھ کھولي وہ
اشتراکيت (سوشلزم) تھي۔ سوشلزم کي غرض و غايت يہ تھي کہ يہ اپنے مد
مقابل نظام حکومت سے نکھيں چا رکرے اور وہ اس طرح کہ ’’ سماجي مفادات
کے مقابلہ ميں ذاتي مفادات کي کوئي حيثيت نہيں ہے‘‘ جيسے نعرہ کو بلند
کرے۔ يہاں کر کميونسٹ طبقہ بھي ناکام ہوگيا۔ اشتراکيت کي ناکامي کي اصل
وجہ بھي يہي ہے کہ اس نے انسان کي ذاتي زندگي کویکسر مسترد کر دياتھا۔
مختصر يہ کہ سرمايہ دارانہ نظام نے افراط کي حد تک ذاتي زندگي اور
مفادات کو ترجيح دي جبکہ نظام اشتراکيت نے تفريط کي حد تک ذاتي زندگي
اور مفادات کي مخالفت کي ۔ دونوں کانتيجہ ہمارے سامنے ہے۔
٭نظام اسلامي :
اسلامي نظام ايک ايسا ضابطہ حيات ہے جس ميں ذاتي اور فردي زندگي کو
احترام کي نگاہ سے ديکھا گيا ہے ليکن اس کے ساتھ ہي ساتھ معاشرتي زندگي
پر بھي خاطر خواہ توجہ دي گئي ہے ۔يعني ايک اسلامي معاشرہ ميںجس طرح
ايک شخص اپني سائش و سودگيوں کا خيال رکھتا ہے اور ان کا خواہاں ہوتا
ہے اسي طرح اسے معاشرہ کے دوسرے افراد کے رام و سائش کا بھي خيال رکھنا
چاہئے۔دعاں، اسلامي کتب، اسلامي تعليمات اور اسلامي اخلاق وغيرہ سے با
ساني اس کا مشاہدہ کيا جاسکتا ہے کہ وہ کس طرح انسان کے اخلاق کي تعمير
کرتے ہيں، ايسا نہيں ہے کہ اسلامي معاشرہ اس سلسلے ميں مجبور ہو۔
نہيںبلکہ يہ ايک ایسي ثقافت ہے کہ جو خدا اور اس کے دين پر ايمان کي
وجہ سے وجود ميں آتي ہے اور ایک ایسا معاشرہ تشکیل پاتا ہے جس کي اساس
اخلاقیات ہوتي ہيں او ر ا سکے علاوہ ذاتي اور سماجي زندگي اسلامي نظام
کے دو بنیادي ستون ہيں ۔
٭اسلامي حکومت کي ضرورت :
اسلام کا سياسي نظام اخلاقيات پر مبني ہے ، يعني تمام صفات مثلاًفردي
برائیوں اور کوتاہیوں سے چشم پوشي،ایک دوسرے سے تعاون اور دیگر ایسي
صفات جو انسان کو انسان کامل بنانے ميں معاون ہوتي ہيں، باقاعدہ اسلامي
سياست ميں دخيل ہيں۔ اسي وجہ سے اسلام ميں الہي حکومت اور حکومت بشر
ميں امتزاج پايا جاتا ہے۔ اسلامي اعتبارسے کسي شخص کو بھي يہ حق حاصل
نہيں ہے کہ دوسرے شخص يا اشخاص پر حکومت کرے۔ ان الحکم الا للہ اسي طرح
ايک فرد دوسرے افراد کي زندگيوںپر اپنے شخصي فیصلوں کو تھونپے کا حق
نہيں رکھتا ۔کیونکہ کرامت و بزرگي اور آزادي انسانوںکا طرہ ّامتیاز ہے
، وہ خود اپنے فیصلے اور اختیار کے مطابق آزاد زندگي بسر کرنے کا حق
رکھتے ہيںاور صرف اور صرف حکم خدا کي اطاعت کریں ،خدا وند متعال ہي ہے
جو ان کا حاکم اور ولي ہے اورانساني زندگي کے بہترین فارمولے اور ان کي
فلاح و سعادت کے احکامات کو معین فرماتا ہے لہذا تمام انسان ان دستورات
پر عمل کرکے اپني نجات کا سامان کرتے ہيں،یہ ہيں اسلامي حکومت کي صفات
۔
ميں پ نوجوان حضرات سے يہ بھي کہنا چاہوں گاکہ اپني نوجوان توانائي ،
قدرت اور معرفت اسلامي کے ساتھ باقاعدہ اس ميدان ميں قدم رکھےئے، اسکو
اپني ذمہ داري اور فريضہ سمجھئے اور اپنے اندرتحرک پيدا کيجئے۔ اسلام
ميں سعي و جدو جہد کے بغير زندگي کوئي معني نہيں رکھتي ۔ جس زندگي کا
کوئي ہدف نہ ہو، جس ميں کوئي عزم نہ پايا جاتا ہو، کوئي اچھي زندگي
نہيں ہے۔ ايسي زندگي انسان کو بلند و بالا مقامات تک نہيں پہنچاسکتي۔
يہ مبارزہ جسے ميں نے بيان کيا ہے ايک ايسا صحيح مبارزہ ہے جس ميں تمام
جہات کا خيال رکھا جاتا ہے۔ مبارزہ کا معني انسانوں کاپس ميںدست و
گريباں ہونا نہيں ہے او ر نہ ہي مذہبي بداخلاقي اور چھوٹي چھوٹي باتوں
پر جھگڑنے سے اس کا خلاصہ کيا جا سکتا ہے ۔ يہ ايک حقيقي جنگ ہے ، ايسي
جنگ جو ہميشہ انسان کے عزم و ارادے سے تعلق رکھتي ہے۔ہرنوجوان کو چاہئے
کہ وہ خود کو اس قسم کي جنگ کیلئے مادہ کرے ، کس چيز سے جنگ؟روکاوٹوں
سے۔۔۔، ايسي روکاٹيں جو خود انسان کے اندر جنم ليتي ہيں۔
٭آپ کا دشمن:
انسان کا سب سے بڑا دشمن اس کے اندروني احساسات و جذبات ہيں جو اس کو
پستيوں اور گناہوںکي طرف لے جاتے ہيں ۔پ حضرات کے لئے مختصر طور پر
ميںان صفات ،احساسات و جذبات کو بيان کررہا ہوں۔
٭کاہلي ، سستي اوروقت کا ضياع:
انسان کي يہ ايسي صفات ہيں جوخود اس کے اندر ہي سے جنم ليتي ہے ۔ وقت
کي بربادي ، بے کاري، کام اور ذمہ داريوں سے کنارہ کشي ايسے دشمن ہيں
جن سے ہر قيمت پر جنگ کرني چاہئے۔ اگر پ نے اپنے داخلي دشمن پر قابو پا
ليا تب پ اپنے خارجي دشمن کا مقابلہ کرسکتے ہيں حتي اگر کوئي دشمن پ کے
ملک پر حملہ ور ہو ،پ اس کو بھي مغلوب کرسکتے ہيں اور اپنے اُس دشمن پر
فاتح ہو سکتے ہيں جو پ کي قوم و ملت کو تباہ و برباد اورنيست و نابود
کرنا چاہتا ہے اور اگر يہ صفات انسان پر حاوي ہوجائيں تو انسان بے کار
ہو کر رہ جاتا ہے، وہ اپني ذمہ داريوں اور فرائض سے فرار اختيا رکرتا
ہے ۔ لہٰذاپ کا پہلا دشمن وقت کاضایع کرنا اور سائش و راحت طلبي ہے ۔
اگرکوئي شخص اپني تعليم ،کام کاج، عبادت اور اپني گھريلو اور اجتماعي
وظائف و ذمہ داريوں کو انجام نہ دے تو اس کو قطعا ًيہ دعويٰ کرنے کا حق
نہيں ہے کہ ميں اپنے دشمن پر غالب جا ں گا۔ خر وہ کس طرح غالب ئے گا؟
ميں نے کسي موقع پر شہرہ فاق کتاب’’ گلستان سعدي‘‘ سے ايک حکايت نقل کي
تھي کہ جس ميں سعدي شيرازي فرماتے ہيں کہ :’’ کسي مقام پر کچھ چور چھپ
گئے تھے اور چند دوسرے افراد ان کو گرفتار کرنا چاہتے تھے ليکن ہرممکنہ
کوشش کے باوجود بھي انھيں گرفتا رکرنے سے عاجز تھے۔ خر کار وہ چور سو
گئے تو ان لوگوں نے با ساني انھیں گرفتار کرليا‘‘ يہاں بقول سعدي ان کا
پہلا دشمن جو ان پر حاوي ہوا وہ ان کا سو جانا تھا ، خواب غفلت او
رسستي ۔البتہ ممکن ہے کوئي شخص کہے ميں تو کا م کرنا چاہتا ہوں مگر
دوسرے افراد ہي مجھ سے کام نہيں ليتے، ہميں متوجہ رہنا چاہئے کہ ايسا
نہ ہو کہ يہ بہانہ اندروني مذکورہ صفات کا نيتجہ ہو !
٭ پست ہمتي و ارادے کا کمزو رہونا:
دوسري صفت جو انسان کو ناکارہ بنا کر رکھ ديتي ہے ، پست ہمتي اور عزم و
ارادہ کا نہ ہونا ہے۔ قرن مجيد فرماتا ہے’’ ولن نجد لہ عزما‘‘ لہٰذا پ
کے دشمنوں ميں سے ايک دشمن پ کاعزم و ارادہ سے خالي ہونا ہے۔ يہاں ايک
سوال پيدا ہوتا ہے کہ خر ہميں کن مقامات پر عزم ِمصمم کا حامل ہونا
چاہئے؟ اس کا جواب يقينا يہي ہے کہ ہر اس شي کے خلاف جو انسان کي شخصيت
، ارتقائ اور کمال و غيرہ کے لئے مضر ہو۔ ہميں عز مِ مصمم کا مالک ہونا
چاہئے، ارادہ قوي ہو اور ہم بلند ہمتي کے مالک ہوں، البتہ اس کے لئے
مشق کي ضرورت ہے اور محنت درکار ہے ۔ زندگي کے ہر شعبہ ميں کاميابي اسي
وقت ہمارے قدم چوم سکتي ہے جب ہمارا ارادہ قوي اور عزم مصمم ہو۔ جہاں
تک اس عزم وارادہ کي بات ہے کہ جو کھلاڑيوں، ورزش کرنے والوں اور
چیمپینوں ميں پايا جاتا ہے اس کا دائرہ نہايت محدود ہے، بہتر ہے ليکن
کافي نہيں ہے۔
٭گناہ سے جنگ
ميں آ پ نوجوانوں کي خدمت ميں عرض کرتا ہوں :میرے فرزندوں ،انسان کو
خدا کي عطا کردہ صحیح و سالم فطرت ،خدا وند عالم کے تحفوں ميں سے ایک
تحفہ ہے ،اپني اس پاک فطرت سے استفادہ کریں اور گناہوں کے مقابلہ ميں
استقامت کے مالک بنیں ۔بہت سے لوگ یہ خیال کرتے ہيں کہ انسان گناہوں کے
مقابلہ ميں استقامت نہيں کرسکتا ،ہر گز نہيں ،اس طرح نہيں ہے کہ یہ کا
م ہر گز انجام نہ پائے،اس کیلئے مشق کي ضرورت ہے ۔ہم نے اپنے دور جواني
ميں بہت سے ایسے نوجونوں کا مشاہدہ کیا ہے کہ جو مصمم ارادہ کرتے تھے
کہ اپنے ارادہ و اختیار کومستحکم کریں گے، ،لیکن کس طرح ؟ اپني نفساني
خواہشات سے مقابلہ کریں، اسلام ميں روزہ کہ جو فریضہ کي حیثیت رکھتا ہے
،تمام انسانوں کیلئے اس راہ ميں معاون و مدد گار ہے ۔کبھي کبھي انسان
کو گناہوں کي طرف کھینچ لیا جاتا ہے ۔کیا جب انسان کو گناہ کي طرف
کھینچا جائے تو وہ بے اختیا ر ہوتا ہے ؟کیا گناہوں کي آلودگي ميں غرق
ہونے کے سوا کوئي اورچارہ کار نہيں؟اکثر ایسا ہوتا ہے کہ انسان کسي کام
کا ارادہ کرتا ہے کہ اسے انجام دے گالیکن نفساني خواہشات اور وسوسے اس
کو اس کام سے باز رکھتي ہيں اور کبھي انسان اپني زندگي کو ان وسوسوں
اور خواہشات کے مقابلہ ميں بغیر کسي استقامت کے گزار دیتا ہے ،چنانچہ
وہ اپنے بڑہاپے ميں عزم مصمم کا مالک نہيں بن سکتا اور اس منزل کا حصول
اس کیلئے بہت سخت ہوجاتا ہے ،لیکن ایک نوجوان اس منزل کو باآساني حاصل
کرسکتا ہے ۔بہت سے لوگ اس خام خیالي ميں ہيں کہ گناہوں سے اجتناب اور
دوري ،صرف بو ڑھے افراد کا کام ہے جبکہ بوڑھے افراد کہ جواپني جواني
کھو چکے ہيں اوران کي روحاني طاقت بھي ضعف کا شکار ہیجبکہ ایک نوجوان
ہمیشہ ارادہ مصمم اور استقامت کي قدرت و توانائي سے سر شارہوتا ہے ۔یہ
ایک قابل توجہ اور اہم بات ہے اور اس کي جانب توجہ کرني چاہئے ۔
٭ ہماري عبادات کا اصلي دشمن شیطان:
انسان کا مقابلہ شيطان سے اس وقت ہوتا ہے جب شيطان اس کو عبادات سے
منحرف کرنا چاہتا ہے ، عبادت دل کو صاف و شفاف اور روح کو پاک کرتي ہے۔
عبادت نہايت قيمتي و ارزشمندشي ہے۔ جو افراد سر بسجود نہيں ہو سکتے وہ
معنويات کي لذت بھي حاصل نہيں کرسکتے ۔ خدا سے محبت ،خدا سے راز و نياز
،خدا سے استجابت دعا، خدا سے مدد مانگنا، خدا کہ جو غني مطلق ہے، اس سے
استدعا کرنا ، يہ سب کچھ عبادت کے ذريعے ہي حاصل کيا جا سکتا ہے۔
بہترين عبادت گزار وہ افراد ہيں جونوجوان ہيں۔ ايک نوجوا ن کي عبادت
،معنويات سے پرُ، باخضوع و خشوع اور اس کي دعائيں مستجاب ہوتي ہيں۔
٭غور و فکر اور تحصيل علم سے انحراف:
ميں پ نوجوان حضرات سے يہ بھي کہنا چاہوں گا کہ اگر پ لوگ بلند وبالا
مقام تک رسائي حاصل کرنا چاہتے ہيں تو پ کے لئے لازم و ضروري ہے کہ حتي
الامکان علم و دانش سے انس و رغبت پيدا کريں۔ تحصيل علم پ کي ضرورت
اوليہ ميں سے ہے۔ جس قدر ممکن ہو خودکو تعلیم اور مطالعہ ميں مشغول
رکھئے۔ ج اس سلسلے ميں ذرائع ووسائل کي بھي قلت نہيں ہے لہٰذا کوئي شخص
یہ بہانہ نہيں بنا سکتا ہے کہ ميرے پاس وسائل ہي نہيں ہيں، علم کيونکر
حاصل کروں؟
٭مايوسي و نااميدي:
پ کا دوسرا دشمن کہ جس کے خلاف پ کوجہاد کرنا ہے، مايوسي اور نااميدي
ہے۔ کائنات ميں ايسي کوئي شي نہيں ہوني چاہئے جو پ کو مايوس و نااميد
کرسکے۔ ايک زمانہ تھا ہمارے اسي ملک ايران ميں اس طرح کا ماحول وجود
ميں گيا تھا کہ لوگ دين و دينداري کے لحاظ سے ايران کے متعلق تقريبا نا
اميد سے ہو نے لگے تھے۔ مجھے ابھي تک بخوبي ياد ہے کہ ميں نے انقلاب سے
قبل ايک سفر مشہد مقدس سے تہران کا کيا تھا۔ اس وقت کي فاسد حکومت کے
کارندے نوجوانوںکا انتخاب کرکے انھيں براہ راست يا کسي اور ذريعہ سے
شہوت پرستي کا شکار بنانے پرمامور تھے کيونکہ اس وقت کي حکومت کي سياست
ہي اس نکتہ پر مرکوز تھي کہ نوجوانوںکو غور وفکر اور عقل استعمال کرنے
سے باز رکھا جائے تاکہ وہ کسي بھي قيمت پر سياسي امور ميں مداخلت نہ
کريں ۔غور و فکر کے موانع ميں سے ایک، ذہنوںکا فاسد ہونا ہے لہذا اسي
وجہ سے وہ نوجوانوںکے ذہنوں کو فاسد کرنے پر تلے ہوئے تھے۔
٭ما يوسي کو دلوں سے دور کرنا:
تہران ميں ايک ادارہ مخصوصاً اسي لئے قائم کيا گيا تھا کہ نوجوانوںکو
گمراہ اور منحرف کرے۔ ايک روز ميں اپنے ايک قريبي عزيز کے ساتھ گزر رہا
تھا اور اتفاقاً اسي وقت مذکورہ ادارہ ميں کسي پروگرام کا اختتام ہوا
تھا۔ سڑک نوجوانوںسے بھر گئي تھي۔ اس وقت ميں ايک دیني طالب علم تھا
اور ميرے ہمراہ جو شخص تھا وہ بھي ايک دیني طالب علم تھا ليکن مجھ سے
سات يا ٹھ سال بڑا۔ ہم دونوں افراد دين و مذہب سیبیزارنوجوانوںکے
درميان بري طرح پھنس گئے ۔وہ طالب علم جو ميرے ساتھ تھا، نوجوانوں کي
یہ حالت دیکھ کر پریشان ہورہا تھا ، بہر حال کسي نہ کسي طرح ہم دونوں
اس جم غفير سے باہرنکلے اور اپني منزل کي جانب روانہ ہوگئے۔ راستے ميں
اس نے ميري طرف رخ کيا اور کہا: ’’ ابھي جو کچھ ہم مشاہدہ کرکے رہے ہيں
اس کے مقابلہ ميں ہماري تحريک خر کس حدتک منزل مقصود تک پہنچ پائے گي‘‘
( اس وقت کے ظاہري حالات کو ديکھنے کے بعد ايک عام انسان کا مستقبل سے
مايو س ہوجانا فطري بات تھي) ميں نے اس طالب علم کو تسلي دي اور
اطمينان دلايا کہ جو کچھ تم نے ديکھا وہ يقينا ايک حقيقت تھي ليکن يہ
بھي ايک حقيقت ہے کہ ئندہ چند ہي
دنوں ميں ہماري مخلصانہ اور خدا پرستانہ تحريک لوگوں کے دلوں ميں گھر
کر لے گي حتي يہي نوجوان جن کو ابھي تم نے ظاہري اعتبار سے غير مناسب
وضع و قطع ميں ديکھا تھا، اس تحريک کے زير سايہ جائيں گے۔
اور يہي ہوا ، اس مذکورہ واقع کو چند ہي برس گزرے تھے کہ نوجوان ہماري
اسلامي تحريک کے شانہ بشانہ چل رہے تھے۔ وہي افراد جو نہ حجاب کے پابند
تھے نہ دين کے ، نہ واجبات پر عمل کرتے تھے اور نہحرام کاموں سے پرہيز
، جن کے اذہان اسلامي افکار سے يکسر خالي تھے ، ابلمحہ بہ لمحہ اسلام
کے نام پر ہمارے ساتھ تھے۔
لہٰذا مايوسي و نااميدي کوئي اچھي چيز نہيں ہے ۔ اس کو اپنے اذہان و
افکار سے نکال ديجئے ۔ ممکن ہے ج کوئي شخص جمہوري اسلامي ايران اور اس
کے مقابلہ ميں دنيا کي استکباري قوتوں کي طرف نگاہ کرے اور لرز جائے
يعني مايوس ہو جائے۔ ليکن ميں پ حضرات مخصوصاًنوجوانوںسے ايک بار پھر
تاکيد کروں گا کہ جمہوري اسلامي ايران ،اُن ايماني، روحاني، فکري اور
اسلامي قوتوں کا حامل ہے کہ اگر امريکہ اور اس جیسي دوسري استکباري
قوتيں بھي ايران کے مد مقابل ہوں تب بھي يیقینا ايران اپني روحاني ،
ايماني اور مجاہدانہ قوتوں کي بنا پر ان
استکبار
ي طاقتوں کو مغلوب کردے گا۔
٭غور وفکر کي عادت:
جوانان عزیز! اپنے اندر تدبر و غور و فکر کي عادت پيد اکيجئے ۔ يہ ايک
رياضت ہے، ايک جہاد ہے، ہر انسان مخصوصاًنوجوانوںکے لئے خطرناک ترين
چيزوں ميں سے ايک ،معاشرہ ميں رونما ہونے والے واقعات و حادثات کے
متعلق بے خبري اور بے فکري ہے۔
نوجوانوںکے فکري رشدو ارتقائ کا مسئلہ ايک اہم ذمہ داري ہے او رمعاشرہ
ميں ايسے افراد موجود ہيں جو ان ذمہ داريوں کوبخوبي انجام دے رہے ہيں
ليکن دوسري جانب نوجوانوںکي بھي کچھ ذمہ دارياں اور وظائف ہيں اور ان
ميں سے ايک يہ ہے کہ رونما ہونے والے مسائل ،واقعات کا صحيح طور پر
تجزيہ و تحليل کرنے کي کوشش کريں۔ کوئي واقعہ ہو يا حادثہ ، خواہ بڑا
ہو يا چھوٹا، اس کي تہہ تک پہنچنے کي سعي کيجئے۔ اگر کسي کے اندر يہ
عمدہ عادت پيدا ہوگئي تو وہ دوسروں کے مشوروں سے بھي استفادہ کرسکتا
ہے۔
٭بلند نگاہي :
خود کو فقط اپنے ملک وقوم کي حد تک محدودنہ کيجئے بلکہ اس چار ديواري
سے باہر نکل کر مسائل و حوادث کوعالمي نقطہ نظر سے ديکھئے۔ دنيا
ميںايسے واقعات بھي رونما ہوتے ہيں کہ بظاہر ہمارے ملک سے ان کا کوئي
رابطہ نہيں ہوتا ليکن اگر عميق نگاہ سے ديکھا جائے تووہ براہ راست ہم
اور ہمارے ملک سے مربوط ہوتے ہيں۔ ايک مومن اور روشن نگاہ رکھنے
والانوجوان قطعا ًان مسائل سے غافل نہيں رہ سکتا ۔ ج فلسطين کامسئلہ
ظاہري طور پر ہم سے کوئي تعلق نہيں رکھتا، ليکن ايسا نہيں ہے ،بلکہ اس
کے برعکس ہے ۔ ج فلسطين ،اسرائيل کے لئے موت و حيات کا مسئلہ ہے کہ اگر
خدا نخواستہ اسرائيل اس علاقہ ميں قدم مستحکم کرلے تو اپنے پڑوسي ممالک
،مشرق وسطي مخصوصا ًان ممالک کے لئے جہاں اسلامي حکومت برقرار ہے،
ايکبڑا خطرہ بن جائے گا۔ مسئلہ فلسطين ايسا مسئلہ نہيں ہے کہ جس سے با
ساني گزرا جائے ۔ فلسطین کي آزادي ايک ايسا مسئلہ ہے کہ جس پرآنے والے
کل ميں اسلام اور اسلامي ممالک کا مستقبل وابستہ ہے۔ امريکہ بلا وجہ
اسرائيل کي حمايت نہيں کررہا ہے بلکہ اس کا تو ہدف يہي ہے کہ اس طریقہ
سے علاقہ پر کامل طورپراپنا تسلط و قبضہ قائم کرلے۔ ج امريکہ کي مجبوري
اور ضرورت ہے کہ وہ عربي ممالک اوراسرائيل کے مابين جنگ کے حالات پيدا
کرے۔ اگر اسرائيل اس ميدان سے کنارہ کشي اختیار کربھي لے تب بھي امريکہ
دوسرے ممالک پر اپنا ارادہ اورخواہشمسلط کرنا چاہے گا اور اس علاقہ ميں
عام انساني زندگي کو تہس نہس کرڈالے گا۔
لہٰذا ان مسائل کو سرسري نگاہ سے نہيں ديکھناچاہئے ۔ اگر موجودہ دنيا
ميں ايسے واقعات و مسائل جنم لے رہے ہوں جو کسي نہ کسي جہت سے ہمارے
ملک و قوم وملت اور معاشرے پر اپنے اثرات مرتب کرتے ہوں توايک روشن اور
وسيع النظر شخص کسي بھي قيمت پربا ساني ان مسائل کو نظر اندزنہيں کر
سکتا
بہر حال، ہرنوجوان کي يہ ذمہ داري اور وظيفہ ہے کہ ہر مسئلہ پر اپني
توجہات مرکوز کرے ،نہ کہ فقط اپنے مسائل ہي تک خود کو محدود کرلے ۔
٭مرکزي نقطہ:
پ حضرات کے لئے ميري آخري
نصيحت يہ ہے کہ ملک ميں ايک مرکزي نقطہ موجود ہے اور وہ ہے اسلام اور
قرن کے سائے ميں ايراني عوام کا انپے مستقبل کے فيصلہ ميں زاد ہونا ۔ ج
بہت سے ايسے افراد موجود ہيں جو اسي نقطہ کے اردگرد موجود ہيں ليکن پھر
بھي سياسي پارٹيوں کي شکل ميں ايک دوسرے کے ساتھ مقابلہ رائي ميں مصروف
ہيں اور غير اہم اور چھوٹے چھوٹے مسائل کو بڑا بناکر پیش کرتے رہتے ہيں
۔کبھي کبھي مجھ سے خطوط وغيرہ کے ذريعہ بعض نوجوان سوال کرتے ہيں کہ خر
اس سياسي ميدان کي جنگ اورمقابلہ رائيوں کي حقيقت اور وجہ کياہے؟
ميں پ کي خدمت ميں عرض کرتا ہوں کہ ہر حقيقت کے کچھ اصول اور معيارہوتے
ہيں، ہر وہ شخص کہ جو اپنے ملک کے استحکام کا قائل ہے، استکباري طاقتوں
مخصوصاً امريکہ کے ايران ميں اثرو نفوذ کو قبول نہيں کرتا ، اسلام کي
حاکميت کو اور ايراني سماج و ملت کي خير خواہي اورزادي کو بادل و جان
قبول کرتا ہے، معاشرہ کو چھوٹے بڑے مسائل کي چپقلش ميں نہيں الجھا تا،
وہ واقعا ًعوام کا خيرخواہ ہے اور اس کي تمام تر کوشش يہ ہوتي ہے کہ
معاشرہ کے مسائل و مشکلات کا راہ حل پيش کرے۔وہ حقيقي مسائل و مشکلات
کو بيان کرنے کے بجائے غير اہم مسائل کو بيا ن نہيں کرتا ، جمہوري
اسلامي ايران کہ جوہزاروں افراد کي فداکاريوں اور جافشانيوںکا نتیجہ
ہے،کے حکومتي نظام کا احترام کرتا ہے اور ہر اس چيز سے احتراز کرتا ہے
جو اس نظام کے لئے خطرہ ہے ،ایسا شخص اصول ومعياراور حقيقت کا حامل ہے۔
موجودہ تمام سياسي رقابت اور مقابلہ آرائي، تعلقات ، رشتہ درايوں اور
اقربائ پروري کي وجہ سے ہے۔نوجوانوںکي ذمہ داري ہے کہ اين اختلافات سے
خود کو محفوظ رکھيں۔ ہمارا مرکزي نقطہ اور منزل ِواحد، اسلام اور
جمہوري اسلامي ہے کہ جس کو امام خميني
نے
ہمارے لئے واضح کيا تھا۔
راہ و ياد امام خميني
ہميشہ زندہ و تابندہ رہے گي۔ ہمارے یہاں بہت سے افراد گڑھے مردے نکال
کر اُن کے مردہ نام سے ان کي بے اساس منطق وفکر کو رائج کرنا چاہتے ہيں
۔ ان کي خواہش فقط يہ ہے کہ کسي نہ کسي طرح امام خميني
کا نام محو ہو جائے جبکہ خميني
اس
شخصيت کا نام ہے جو نہ فقط ہمارے درميان بلکہ غیروں کے درميان بھي
محترم و مقدس ہے۔ دوسري اقوام و ملل بھي اس نام سے سربلند ہوئي ہيں۔
ان افراد کا خيال اور دعويٰ يہ ہے کہ امام خميني
کا شمار اب ’’ياد رفتگاں‘‘ ميں کيا جانا چاہئے ،يعني امام خميني
کل
تک يقينا مفيد تھے مگر ج اُن کے افکارسے کوئي فائدہ حاصل نہيں کیا
جاسکتا ، ان کو فراموش کردينا چاہئے کيونکہ وہ اب گزشتہ کل کا حصہ بن
چکے ہيں۔
نہيں !امام خميني
اتني ساني اور اتني جلدي فراموش کي جانے والي شخصيت نہيں ہيں ، اور نہ
ان کي شخصیت سے منہ پھیراجاسکتا ہے ، وہ ایسي شخصيت نہيں ہيں کہ لمحوں
ميں ئے اور لحظوں ميں چليجائے۔
امام خميني
اس شخصيت کا نام ہے جو کبھي فنا نہيں ہو سکتي ہے کيونکہ اس شخصت کي
ساري زندگي اسلام کو سربلند کرنے اور الہٰي اہداف کے نفاذميں گزري ہے۔
امام خميني
اس شخصيت کا نام ہے کہ جو ساري دنيا کے لاکھوں افراد کے جذبات و
احساسات کا ايک جزئ لاینفک بن گہے۔ميرا ايسا کوئي ارادہ نہيں تھا کہ
اپني تقرير کو طولاني کروں، بہر حال طويل ہوگئي اور شايد آذان بھي
ہوچکي ہے۔ ميں قطعاً نہيں چاہتا ہوں کہ اگر نمازکا وقت ہوجائے تو جلسہ
يا تقرير، خواہ اہم ہویا غير اہم ، اسے جاري رکھا جائے بلکہ ميرا نظريہ
ہے کہ اگر نماز کا وقت ہوجائے تو اولين اور اہم ترين فعل نماز ہے نہ کہ
بقيہ امور ۔
بہر کيف ،پ حضرات کے نوراني قلوب اور چہروں نے مجھے مسحور کرديا اور
تقرير کسي حد تک طولاني ہوگئي۔ پرودگارا! محمد۰
ول محمد۰
کے صدقے ميں ہمارے نوجوانوںکے قلوب کو منور و روشن فرما۔
الٰہي ! اس مملکت کے عہدیداروں کو قوم و ملت کي مشکلات و مسائل کو حل
کرنے کي توفيق عطا فرما۔
خدايا! ہميں ہمارے وظائف او رذمہ داريوں سے گاہ فرما۔
پروردگارا! ہماري نوجوان نسل کو روز بروز سربلند ي عطا فرما۔
پروردگارا! امام عصر عليہ السلام کي توجہات اور ہمارے لئے ان کي دعاں
کو لحظہ بہ لحظہ مقررد فرما۔
والسلام عليکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
|