اقبال مشرق کا بلند ستارہ

ولي ا مر مسلمين جہان حضرت آيت اللہ العظميٰ سید علي خامنہ اي حفظہ اللہ

کی نگاہ میں

کہنے کو تو یہ ایک تقریر ہے لیکن علامہ اقبال کی شخصیت ،افکار،احساسات،زندگی غرز یہ کہ اس ایک تقریر میں آپ سے متعلق وہ سب کچھ ہے کہ جس سے علامہ اقبال کا مشرق کا بلند ستارہ ہونا ثابت ہے۔

   تقریر کا مکمل متن

   تکمیلی پیغام

انہوں نے علامہ اقبال بين الا قوامي کانفرنس بتاريخ ١٩٨٦ئ کو تہران يونيورسٹي ميں خطاب فرمايا:

 

بسم اللہ الرحمن الرحيم

 

ميں خلوص دل سے عرض کررہا ہوں کہ آج حضرت اقبال کي عظمت ميں جلسہ منعقد کيا جارہا ہے تو يہ ميري زندگي کے پر جوش اور انتہائي يادگاردنوں ميں سے ہے۔

وہ درخشاں ستارہ جس کي ياد ،جس کا شعر ،جس کي نصيحت اور سبق گٹھن کے تاريک ترين ايام ميں ايک روشن مستقبل کو ہماري نگاہوں کے سامنے مجسم کررہا تھا،آج خوش قسمتي سے ايک مشعل فروزاں کي طرح ہماري قوم کي توجہ کو اپني طرف مبذول کيے ہوئے ہے۔

ہماري عوام جو دنیا ميں اقبال کے پہلے مخاطب تھے،افسوس کہ وہ کافی بعد میں اس سے آگاہ ہوئے ،ہمارے ملک کي خاص صورت حال ،خصوصاً اقبال کي زندگي کے آخري ايام ميں ان کے محبوب ملک ايران ميں منحوس استعماري سياست کا غلبہ اس امر کا باعث بنا کہ وہ کبھي ايران نہ آئے۔
فارسي کے اس عظيم شاعر جس نے اپنے زيادہ تر اشعار اپني مادري زبان ميں نہيں بلکہ فارسي ميں کہے ،کبھي اپني پسنديدہ اور مطلوب فضا،ايران ميں قدم نہيں رکھا ،اور نہ صرف يہ کہ وہ ايران نہ آئے بلکہ سياست نے،جس کے خلاف اقبال عرصہ درازتک برسرِ پيکار رہے ،اس بات کي اجازت نہ دي کہ اقبال کے نظريات و افکار کا بتايا ہوا راستہ اور درس ايراني عوام کے کانوں تک پہنچے جسے سننے کیلئے وہ سب سے زيادہ بے تاب تھے۔اس سوال کا جواب کہ کيوں اقبال ايران نہيں آئے ،ميرے پاس ہے۔
جب اقبال کي عزت و شہرت عروج پر تھي اور جب بر صغير کے گوشہ و کنار ميں اور دنيا کي مشہور يونيورسٹيوں ميں انہيں ايک عظيم مفکر،فلسفي ،دانشور ،انسان شناس اور ماہر عمرانيات کے طور پر ياد کيا جاتا تھا،ہمارے ملک ميں ايک ايسي سياست نافذ تھي کہ ايران آنے کي دعوت نہ دي گئي اور ان کے ايران آنے کے امکانات فراہم نہ کئے گئے۔سالہا سال تک ان کي کتابيں ايران شائع نہ ہوئیں ۔حالانکہ يہ وہ زمانہ تھا جب اس ملک ميں ايراني اور مسلمان کے تشخص کو نابود کرنے کیلئے غير ملکي ادب و ثقافت کا تباہ کن سيلاب رواں تھا۔اقبال کا کوئي شعر اور کوئي تصنيف مجالس و محافل ميں عوام کے سامنے نہ لائي گئي۔
آج اقبال کي آرزو يعني اسلامي جمہوريت نے ہمارے ملکي ميں جامہ عمل پہن ليا ہے ۔اقبال لوگوں کي انساني اور اسلامي شخصيت کے فقدان سے غمگين رہتے تھے اور اسلامي معاشروں کي معنوي ذلت اور نااميدي کو سب سے بڑے خطرے کي نگاہ سے ديکھتے تھے ،لہذا انہوں نے اپني تمام تر توانائیوں کے ساتھ مشرقي انسان اورخصوصاً مسلمان کي ذات اوروجود کیلیے کام کیا۔فارسی زبان جس نے اپنے اقبال کے ذہن  کے ساتھ زندگي گذاري ہے ،بات کروں تاکہ اس عظيم اجتماع مين اپنے اوپر ان کے عظيم احسان اور اپنے عزيز لوگوں کے ذہن پر ان کے اثرا ت کے عظيم حق کو کسي حد تک ادا کرسکيں ۔
اقبال تاريخ اسلام کے نماياں ،عميق اوراعلي شخصيتوں ميں سے ہيں کہ ان کي خصوصيات اور زندگي کے صرف ايک پہلو کو مد نظر رکھا جاسکتا اور ان کے صرف اس پہلو اور اس خصوصيت کے لحاظ سے تعريف نہيں جاسکتي ۔اگر ہم صرف اسي پر اکتفا کريں اور کہيں کہ اقبال ايک فلسفي ہيں اور ايک عالم ہيں تو ہم نے حق ادا نہيں کيا ۔اقبال بلاشک ايک عظيم شاعر ہيں اور ان کا بڑے شعرائ ميں شمار ہوتا ہے ۔اقبال کے اردو کلام کے بارے ميں اردو زبان و ادب کے ماہرين کہتے ہيں کہ بہترين ہے،شايد يہ تعريف، اقبال کي بڑي تعريف نہ ہو کيونکہ اردو زبان کي ثقافت اور نظم کا سابقہ زيادہ نہيں ہے ليکن اس بات ميں کوئي شک نہيں کہ اقبال کے اردو کلام نے بيسويں صدي کے ابتدائي برسوں ميں بر صغير کے افراد پر(خواہ ہندو ہوں یا مسلمان )گہرا اثر ڈالا ہے اور ان کو اس جد وجہد ميں اس وقت تدريجي طور پر بڑھ رہي تھي ،زيادہ سے زيادہ جوش دلايا ہے۔خود اقبال بھي مثنوي اسرار خودي ميں کہتے ہيں :
 

باغبان زور کلامم آزمود
مصرعي کاريد و شمشير ي درود

 

اور ميرا استنباط يہ ہے کہ وہ يہاں پر اپنے اردو کلام کے بارے ميں کہتے ہيں جو اس وقت بر صغير کے تمام لوگوں کے لئے جانا پہچانا تھا۔
اقبال کا فارسي کلام بھي ميرے نزديک شعري معجزات ميں سے ہے ۔ہمارے ادب کي تاریخ ميں فارسي ميں شعر کہنے والے غير ايراني بہت زيادہ ہيں ليکن کسي کي بھي نشان دہي نہيں کی جاسکتي جو فارسي ميں شعر کہنے ميں اقبال کي خصو صيات کا حامل ہو۔
اقبال فارسي بات چيت اور محاورے سے ناواقف تھے اور اپنے گھر ميں اور اپنے دوستوں سے اردو يا انگريزي ميں بات کرتے تھے ۔اقبا ل کو فارسي مضمون نگاري اور فارسي نثر سے واقفيت نہيں تھي اور اقبال کي فارسي نثر وہي تعبيرات ہيں جو انہوں نے ،اسرا رخودي ،اور رموز بے خودي کي ابتدائ ميں تحرير کي ہيں اور آپ ديکھتے ہيں کہ ان کا سمجھنا فارسي زبان والوں کے لئے مشکل ہے۔
اقبال نے ايام طفلي اور جواني ميں کسي بھي مدرسے ميں فارسي نہيں پڑھي تھي اور اپنے والد کے گھر ميں اردو بولتے تھے لہذا انہوں نے فارسي کا انتخاب صرف اس لئے کيا کہ وہ محسوس کرتے تھے کہ ان کے افکار اور مضامين اردو کے سانچے ميں نہيں سما تے تھے اور اس طرح انہوں نے فارسي سے انسيت حاصل کي۔
انہوں نے سعدي اور حافظ کے ديوان اور مثنوي مولانا اور سبک ہندي کے شعرا ئ مثلاً عرفي،نظيري اور غالب دہلوي نيز ديگر شعرائ کے کلام کو پڑھ کر فارسي سيکھي۔اگر چہ وہ فارسي ماحول ميں نہيں رہے او ر انہوں نے فارسي کي پرورش گاہ ميں کبھي زندگي نہيں گزاري تھي ليکن انہوں نے لطيف ترين ،دقيق ترين اور ناياب ترين ذہيني مضامين کو اپني طويل (بعض نہايت اعليٰ)نظموں کے سانچے ميں ڈھال کر پيش کيا اور يہ چيز  ميري رائے ميں اعليٰ شعري استعداد اور صلاحيت ہے۔اگر آپ ان لوگوں کے اشعار کو ديکھيں جو ايراني نہيں تھے ليکن انہوں نے فارسي کلام کہا تھااور ان کا اقبال سے موازنہ کريں تو آپ سامنے اقبال کي عظمت واضح تر ہوجائیگي۔

اقبال کے بعض مضامين جن کو انہوں ايک شعر ميں بيان کرديا ايسے ہيں کہ اگر انسان چاہے کہ نثر ميں بيان کرے تو نہيں کر سکتا اور ہميں ايک مدت تک زحمت اٹھاني پڑے گي کہ ايک شعر کو جس کو انہوں نے آساني کے ساتھ بيان کرديا ہے ،فارسي نثرميں جو ہماري اپني زبان بھي ہے ،بيان کريں۔
ميں جناب ڈاکٹر مجبتوي کا ان اشعار کیلئے جو انہوں نے پڑھے ہيں ممنون ہوں اور درخواست کرتا ہوں کہ آپ اقبال کے کلام کو زندہ کيجئے کيونکہ اقبال کو متعارف کرانے کا بہترين ذريعہ ان کا کلام ہے اور اقبال کو کو ئي بھي بيان متعارف نہيں کراسکتا۔
اقبال مانند آفتاب شاعر ہيں اور ان کے بعض فارسي اشعار اپنے عروج ر پہنچے ہوئے ہيں ۔اقبال نے مختلف طرزوں مثلاً ہندي طرز،عراقي طرز اور حتي کہ خراساني طرز ميں بھي شعر کہے ہيں اور نہ صرف يہ کہ صرف شعر کہے بلکہ اچھے شعر کہے ہيں انہوں نے مختلف شعري قالبوں یعني مثنوي،غزل،قطعہ،دوبيتي اور رباعي کا استعمال کيا ہے۔اور جيسا کہ ميں نے عرض کيا کہ قابل تعريف اشعار ہيں اور اعليٰ مضامين کو باندھا ہے ۔بعض اوقات تو ان کا کلام ساتويں آسمان پر پہنچا ہوا ہے اور نماياں حيثيت رکھتا ہے جب کہ اس شخص کو مروجہ فارسي بولنے کي مشق نہيں ہے اور فارسي گھرانے ميں پيدا نہيں ہوا اور فارسي کے مرکز ميں بھي زندگي نہيں گزاري ۔يہ استعداد ہے لہذا اقبال کي ايک صرف ايک شاعر کي حيثيت سے تعريف ان کے حق ميں کوتاہي ہے۔
اقبال ايک عظيم مصلح اور حريت پسند شخص ہيں اگرچہ حريت پسندي اور سماجي اصلاح ميں اقبال کا رتبہ بہت زيادہ اہم ہے ليکن اقبال کو صرف سماجي مصلح نہيں کہا جا سکتا کيونکہ اسي بر صغير ميں اقبال کے ہم عصروں ميں کچھ ہندو اور مسلمان لوگ ہندوستان کے سماجي مصلح مانے جاتے ہيں جن ميں سے اکثر کو ہم پہچانتے ہيں اور ان کي تصنيفات موجود ہيں اور ان کي جدوجہد واضح ہے ۔
خود مسلمانوں ميں مولانا ابوالکلام آزاد،مولانا محمدعلي ،مولانا شوکت علي،مرحوم قائد اعظم (محمد علي جناح)جيسي نماياں شخصيتيں موجود تھيں جن کي زندگي کے ايام بھي اقبال کي حيات کے مانند تھے۔اور وہ لوگ ايک ہي نسل سے اور ايک ہي عہد سے تعلق رکھتے تھے اورحریت پسندوں و مجاہدوں ميں شامل تھے ليکن اقبال ان سب سے بڑے اور اعلي مقام ہيں ،اقبال کے کام کي عظمت کا ان ميں سے کسي سے بھي موازنہ نہيں کيا جاسکتا ۔يعني زيادہ سے زيادہ اہميت اور قدر جو مولانا ابوالکلام کے لئے قائل ہيں جو ايک نماياشخصيت رکھتے ہيں اور حقيقتاً ان کي اہميت کو کم نہيں سمجھنا چاہئے ،يا مولانا محمد علي يا مولانا شوکت علي کے سلسلے ميں ہم جس اہميت کے قائل ہيں ،يہ ہے کہ يہ لوگ انتھک مسلمان مجاہد تھے جنہوں نے اپنے ملک سے برطانيہ کو نکالنے کیلئے سال ہا سال کوشش کي اور اس سلسلے ميں بہت زيادہ جدوجہد کي۔ليکن اقبال کا مسئلہ صرف ہندوستان کا مسئلہ نہيں ہے بلکہ اسلامي دنيا اور مشرق کا مسئلہ ہے ۔وہ اپني مثنوي (پس چہ بايد کرد اے اقوام شرق )اس بات کي نشان دہي کرتے ہيں کہ اقبال کي تيز نگاہيں کس طرح اس دنيا کي طرف متوجہ ہيں جو ظلم و ستم کا شکار ہے اور ان کي توجہ اسلامي دنيا کے تمام شعبوں کي جانب ہے۔اقبال کیلئے مسئلہ صرف مسئلہ ہند نہيں ہے لہذا اگر اقبال کوايک اجتماعي مصلح بھي پکاريں تو حقيقت ميں ہم اقبال کي پوري شخصيت کو بيان نہيں کرتے اور مجھے وہ لفط اور عبارت نہيں ملتي جس سے ہم اقبال کي تعريف کر سکيں۔
لہذا آپ ديکھئے کہ يہ شخصيت ،يہ عظمت اور اس عظيم انسان کي ذات اور اس کے ذہن ميں معاني کي گہرائي کہاں اور ہمارے لوگوں کي ان کے متعلق واقفيت کہاں اور حق تو يہ ہے کہ ہم اقبال کي شناخت کے مسئلے سے دور ہيں ۔
بہرحال يہ سيمينار بہرترين کاموں ميں سے ہے جو انجام پائے ليکن اس پر بھي اکتفا نہيں کرنا چاہئے اور ميں ثقافت و تعليمات کے محترم وزير اور يونيورسٹي سے منسلک بھائیوں سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ ملک ميں اقبال کے نام پر فاونڈيشن کے قيام اور يونيورسٹيوں ،ہالوں اور ثقافتي اداروں کے ناموں کو اقبال کے نام پر رکھنے کي فکر ميں رہيں ۔اقبال کا تعلق ہم سے ،اس قوم سے اور اس ملک سے ہے جس
طرح کہ اس غزل ميں جو جناب ڈاکٹر مجتبوي نے پڑھي اور آپ نے سني ۔اقبال ايراني عوام سے اپنے لگاو کو بيان کرتے ہيں اور کہتے ہيں :
 

چون چراغ لالہ سوزم در خيابان شما
اے جوانان عجم جان من و جان شما


اور آخر ميں کہتے ہيں :
 

مي رسد مردي کہ زنجير غلامان بشکند
ديدہ ام از روزن ديوار زندان شما


اور يہ ميري اس بات کي تائید ہے جو اقبال کے ايران نہ آنے کي وجہ کے بيان ميں ،پہلے عرض کرچکا ہوں ۔وہ اس جگہ کو زنداں سمجھتے ہيں اور قيديوں سے مخاطب ہو کر بولتے ہيں ۔اقبال کے ديوان ميں بہت سي مثاليں ہيں جو اس بات کي نشان دہي کرتي ہيں کہ وہ ہندوستان سے نا اميد ہوچکے ہيں (کم ازکم اپنے زمانے کے ہندوستان سے) اور ايران کي جانب متوجہ ہيں ۔وہ چاہتے ہيں کہ وہ مشعل جس کو انہوں نے جلارکھا ہے ايران ميں مزيد روشن ہو اور انہيں اس بات کي اميد ہے کہ يہاں پر کوئي معجزہ رونما ہو ۔يہ اقبال کا ہم پر حق ہے اور ہميں چاہئے کہ اس حق کا احترام کريں ۔
اب رہي بات اقبال کي شخصيت کي تو اگر ہم اقبال کي شناخت کرنا چاہيں اور اقبال کے پيغام کي عظمت کو جانيں تو ہميں خواہ مخواہ اقبال کے دور کے برصغير کو اور اس دور کو پہچاننا پڑے گا جو اقبال کے دور پر ختم ہوتا ہے کيونکہ اس شنا خت کے بغير اقبال کے پيغام کا مفہوم سمجھا نہیں جا سکتا ہے ۔اقبال کے دور ميں برصغير اپنے سخت ترين ايام گزار رہا تھا ۔جيسا کہ آپ کو معلوم ہے اقبال ١٨٧٧ ئ ميں پيد ہوئے يعني مسلمانوں کے انقلاب کي انگريزوں کے  ہاتھ شکست کے بيس سال بعد ۔
١٨٥٧ئ ميں انگريزوں نے ہندوستان اسلامي حکومت اور برصغير ميں اسلام کي حکم فرمائي پر آخري ضرب لگائي ۔ہندوستان ميں عظيم بغاوت رونما ہوئي اور شايد يہ بغاوت تقريباً دو تين سال تک جاري رہي ۔اس کا عروج ١٨٥٧ئ کے اوسط ميں تھا،انگريزوں نے موقع سے فائدہ اٹھايا اور اس ضرب کو جو تقريباً ستّر اسّي سال سے ہندوستان پر لگارہے تھے اچانک فيصلہ کن طور پر لگایا اور اپنے خيال ميں وہاں سے اسلام کي جڑوں کو کاٹ ديا ۔يعني اسلامي حکومت اور مسلمانوں کي حکومت تھي جس کو انہوں نے طويل عرصے سے ادھر اُدھر سے کمزور بناديا تھا۔اس کے بہادر سرداروں اور عظيم شخصيتوں کو ختم کرديا تاکہ ہندوستان ميں اسلامي تہذيب کي مضبوط جڑوں کو کمزور کرسکيں ۔اس کے بعد يکباريگي اس تناور اور قديمي درخت کو جس کي جڑ يں پہلے ہي کمزور کرچکے تھے اور جس کے محافظوں کو ختم کر چکے تھے اور وہ اکيلا رہ گيا تھا کاٹ کر ختم کرديا اور ہندوستان کو برطانوي سلطنت کا جزو بنا ليا۔

١٨٥٧ئ ہندوستان ميں انگريزوں کي مکمل کاميابي کا سا ل تھا اور اس کے بعد کہ انگريزوں نے ہندوستان کوبا ضابطہ طور پر برطانيہ سے الحاق کرديا۔اور اس ملک کا نام سلطنت برطانيہ ہندوستان رکھ ليا ،ہندوستان کے کالوني ہونے کا مسئلہ نہيں رہا ،بلکہ ہندوستان برطانيہ کے صوبوں ميں سے ايک صوبہ بن گيا ۔لہذا وہ اپنے مستقبل کي فکر ميں پڑ گئے تاکہ اس ملک ميں ہر قسم کي بغاوت اور قومي يا مذہبي عظمت کي ترويج کے امکانات کو ختم کرديں ۔اس کا راستہ يہي تھا کہ مسلمانوں کا مکمل طور پر قلع قمع کريں کيونکہ انہيں معلوم تھا کہ ہندوستان ميں ان سے مقابلہ کرنے والے ہيں اور انہوں نے اس کا تجربہ بھي کرليا تھا۔
مسلمانوں نے انيسويں صدي کي ابتدائ بلکہ اس سے بھي پہلے سے ہندوستان ميں انگريزوں کا مقابلہ کيا ۔اٹھارويں صدي کے آخري حصے ميں ٹيپوسلطان انگريزوں کے ہاتھوں قتل يا شہيد ہوئے ليکن عوام ،علمائ اور مسلمان قبائل نے انيسوں صدي کي ابتدائ سے انگريزوں اورہندوستان ميں ان پٹھووں سے جو اس وقت سکھ تھے ،جنگ لڑي او ر اس بات سے انگريز بخوبي واقف تھے ۔انگريزوں ميں سے ان لوگوں نے جو ہندوستان کے مسائل سے واقف تھے کہا تھا کہ ہندوستان ميں ہمارے دشمن مسلمان ہيں اور ہميں ان کا قلع قمع کرنا چاہيے لہذا انگريزوں کے کاميابي کے سال يعني ١٨٥٧ئ سے ہي ہندوستان ميں مسلمانوں کي سرکوبي کیلئے ايک نہايت ظالمانہ اور سنگدلانہ پروگرام شروع کيا گيا جس کا ذکر ہر جگہ آيا ہے اور يہاں اس کا ذکر طوالت کا سبب بنے گا۔
مختصر يہ کہ مالي اور ثقافتي لحاظ سے ان پر دباو ڈالا جاتا تھا اور اجتماعي شعبوں ميں ان کي بہت تحقيرکي جاتي تھي ۔انگريزاعلان کرتے تھے کہ وہ لوگ جو چاہتے ہيں ملازمت حاصل کريں ان کو مسلمان نہيں ہونا چاہيے ۔جب ايک معمولي سي تنخواہ پر کچھ لوگوں کو ملازم رکھتے تھے ،اس وقت مسلمانوں کو ملازم رکھنے سے دریغ کرتے تھے ،انہوں نے ہندوستان ميں مسجدوں اور اسلامي مدرسوں کو چلانے والے تمام موقوفات کو جو بہت زيادہ تھے ،اپنے ہاتھ ميں لے ليا تھا۔ہندوتاجروں کو ورغلا يا کہ مسکمانوں کو بھاري بھاري قرضے ديں تاکہ دئیے جانے والے قرضے کے عوض ان کي جائدادوں کو ضبط کر سکيں اوران کے زمين سے تعلق اور صاحب خانہ ہونے کے احساس کو بالکل ختم کرديں ۔سالہا سال تک يہ کام جاري رہا اور مزے کي بات تو يہ ہے کہ يہ مسلمانوں کے ساتھ ان کے اچھے سلوک کا حصہ تھااور اس سے بدتر يہ تھا کہ ان کو بے دريغ قتل کرتے تھے اوربےدريغ ،بلا ثبوت جيل ميں ڈال ديتے تھے ۔تمام ان لوگوں کي جن پر انگريزوں کے خلاف اقدامات کرنے کا ذرا سا بھي شک ہوتا سرکوبي کرتے تھے اور ان کو نابود کر ديتے تھے ۔يہ سلسلہ سالہا سال تک جاري رہا ۔ان سخت تکليف دہ حالات کو دس بيس سال گزرجانے کے بعد (کہ جس کي مثال در حقيقت کسي بھي اسلامي ملک ميں مجھے نظر نہيں آئي۔اگر چہ ممکن ہے کہ ہو، ليکن ميں نے دنيا کے اُن ممالک کے مختلف علاقوں ميں جہاں استعمار موجود رہا ہے مثلاً الجزائر اور افريقي ممالک ميں ،جہاں بھي نظر ڈالي ہے مجھے ياد نہيں کہ مسلمانوں پر اتنا دباو ديکھا ہو جتنا ہندوستان ميں ڈالا گيا ہے)کس طرح لوگوں نے چارہ جوئي کي فکر کي اور انگريزوں سے مقابلے کا سلسلہ مسلمانوں ميں ختم نہيں ہوا تھا ،اور يہ ايک ايسي چيز ہے جسے ہندوستان کو ہر گز فراموش نہيں کرنا چاہيے کہ ہندوستان ميں مسلمان ،انگريزوں سے مقابلے ميں نماياں ترين اور بنيادي عنصر تھے ۔اور واقعاً نا شکري ہو گي اگر ہندوستان اپنے اوپر مسلمانوں کے احسانات کو فراموش کردے کيونکہ وہاں پر وجود ميں آنے والے عظيم انقلاب اور ہندوستا ن کي آزادي کي وجہ بننے والي جدوجہد ميں مسلمان اپني حريت پسندي کي خاطر کبھي بھي خاموش نہيں بيٹھے۔
١٨٥٧ئ کے بعد کے برسوں ميں ہر جگہ خاموشي تھي مجاہد مسلمان عناصر مختلف جگہوں پر اپنے کام ميں مصروف تھے ليکن ان ميں دو قسم کي تحريکيں تھيں ،يا تو ثقافتي ، سياسي تھي يا صرف ثقافتي تحريکيں تھيں ،مسلمانوں کي يہ دوتحريکيں چارہ جوئي کیلئے جاري تھيں ۔ان دونوں تحريکوں ميں سے ايک علمائ کي تحريک تھي اور دوسري سر سيد احمد خان کي تحريک اور يہ دونوں ايک دوسرے کے بالمقابل تھيں ۔يہاں پر تفصيل بحث کا موقع نہيں ليکن مختصر طور پر کہا جاسکتا ہے کہ علمائ کي تحريک انگريزوں سے کسي بھي قسم کي مدد لينے کي طرفدار نہ تھي اور سرسيد احمد خان کي تحريک اس کے بر خلاف انگريزوں سے مصالحت کرنے،ان کے ذرائع سے فائدہ اٹھانے ،انگريزوں سے مسکرا کر پيش آنے اور ان سے سمجھوتا کرنے کے حامي تھے۔
يہ دو تحريکيں ايک دوسرے کے مد مقابل تھيں اور افسوس کہ آخر کار دونوں تحريکيں مسلمانوں کے لئے نقصان دہ ثابت ہوئيں ۔پہلي تحريک جو علمائ کے ہاتھ ميں تھي جو تاريخ ہند کي نماياں شخصيتيں ہيں ،يہ مقابلہ کرتے تھے اور ان کي جد وجہد درست تھي ليکن ان ابتدائي چيزوں سے فائدہ اٹھانے سے پرہيز کرتے تھے جو ہندوستان ميں اسلامي معاشرے کو جديد ترقيات کے حصول ميں مدد کرتي تھيں اور مثال کے طور پر وہ اپنے مدرسوں ميں انگريزي زبان کو ہر گز بھي داخل نہيں ہونے ديتے تھے اور شايد اُس وقت ان کو اس کا حق پہنچتا تھا کہ ايسا سو چيں کيونکہ انگريزي زبان کو فارسي زبان کا جو مسلمانوں کي محبوب زبان تھي اور صديوں تک برصغير ميں سرکاري زبان رہي،جانشين بناديا تھا اور يہ لوگ انگريزي زبان کو حملہ آور کي زبان سمجھتے تھے ۔ليکن بہر حال انگريزي کا نہ سيکھنا اور نئي ثقافت کي جانب جو آخر کار لوگوں کي زندگي کے شعبوں ميں داخل ہورہي تھي، توجہ نہ دينا اس بات کا باعث بنا کہ امت اسلامي اور ملت مسلمان ثقافت ،معلومات،عصري قوتوں اور عصري علوم ميں جو تمام معاشروں کے لئے (جو جديد بننے کي جانب بڑھ رہے تھے)موثر اور مفيد ہيں پيچھے رہ گئے اور وہ مسلمانوں کو ان علوم سے دور رکھتے تھے۔
ليکن سر سيد احمد خان کي تحريک زيادہ خطر ناک تھي اور ميں چاہتا ہوں کہ يہاں پر سر سيد احمد خان کے بارے ميں اپنے حتمي فيصلے کو بياں کروں ۔ممکن ہے کہ يہاں پرموجود بھائیوں ميں سے بعض اس بات کے قائل نہ ہوں ۔سر سيد احمد خان نے يقيني طور پر ہندوستان ميں اسلام اور مسلمانوں کے مفاد ميں کوئي اقدام نہيں کيا اور ميرا نظريہ ہے کہ اقبال کي تحريک ہندوستان ميں ،اس کام کے خلاف فرياد تھي جس کا پرچم سر سيد احمد خان نے اٹھايا تھا۔سر سيد احمدخان نے انگريزوں سے مصالحت کو بنياد بنايا اور ان کا بہانہ يہ تھا کہ آخر کار ہميں مسلمان نسل کو جديد ثقافت ميں داخل کرنا چاہيے کيونکہ ہم ان کو ہميشہ کیلئے جديد تہذيب سے نا واقف اور دور نہيں رکھ سکتے لہذا نگريزوں سے مصالحت کرني چاہيے تاکہ ہم پر سختي نہ کريں اور ہماري عورتيں ،بچے اور مرد انگريزوں سے دشمني کي خاطر اس قدر تکليف نہ اٹھائيں ۔

وہ سادہ لوحي کے ساتھ خيال کرتے تھے کہ انگريزوں سے تواضع ،مصالحت اور اظہار عقيدت کے ذريعے ان تجربہ کار خبيث سياستدانوں کي توجہ کو مبذول کراسکتے ہيں اور ان کے ايذرسانيوں کو کم کرسکتے ہيں جبکہ يہ ايک بڑي غلطي تھي۔نتيجہ يہ ہوا کہ خود سر سيد احمد خان اور ان کے قريبي لوگ نيز وہ روشن خيال لوگ جو ان کے ارد گرد تھے ،انگريزو ں کے نقصانات سے محفوظ رہے ليکن مسلمانوں کو ہندوستان کے آزاد ہونے يعني ١٩٤٧ئ تک انگريزوں سے ہميشہ ہي نقصان پہنچا اور انگريزوں نے اس نوے سال کي مدت ميں (١٨٥٧ئ سے ہندوستان کي آزدي کے سال ١٩٤٧ئ تک)مسلمانوں کے ساتھ جو کچھ کرسکتے تھے ،کيا۔لہذا انگريزوں کو رام کر نے کیلئے سر سيد احمد خان کا حيلہ مسلمانوں کو ذليل کرنے کا سبب بنا اور اس کے علاوہ اور مسئلہ بھي پيدا ہوا ،جو اقبال کي شناخت اور اقبال کے پيغام کے مضمون کو سمجھنے ميں موثر ہے اور وہ يہ ہے کہ عام مسلمانوں ،روشن خيال اور تعليم يافتہ مسلمانوں کیلئے جو معاشرتي ميدان ميں داخل ہوتے تھے آگاہي ،علم و معرفت ،تعليم اور عہدہ اہميت رکھتا تھاليکن اسلامي تشخص کو ہر گز اہميت حاصل نہيں تھي اور تدريجي طور پر ہندوستان کے عظيم مسلم معاشرے ميں جو دنيا کے عظیم ترين مسلمان معاشروں ميں سے تھا (اور اس وقت بھي ايسا کوئي ملک نہيں جس کے مسلمانوں کي تعداد اس زمانے ميں بر صغير کے مسلمانوں کے برابر ہو)وہ اسلامي تشخص کا احساس نہيں رکھتے تھے اور اپنے لئے اسلامي شخصيت کے قائل نہيں تھے اور بنيادي طور پر ہندوستان کے مسلمانوں کي کوئي اميد نہیں تھي ۔چونکہ انہوں نے بہت تکليفيں برادشت کي تھيں اور ان کي تحقير کي گئي تھي عام حادثات اور وقعات ان کي نااميدي ،تلخ کلامي اور بد فرجامي کي نشان دہي کرتے تھے اور اب حقارت ہندوستاني مسلمان کي ذات کا جز بن گئي تھي اور ذلت و ناتواني کا احساس ہندوستاني مسلمان کي شخصيت کے اجزائ ميں شما ر ہوتا تھا۔
اس زمانے ميں جب اقبال احتمالاً ١٩٠٨ يا ١٩٠٩ ئ ميں يورپ سے جديد تہذيب سے جھولي بھر کے لوٹے تھے ،اس وقت اقبال کے ہم عصر روشن خيال اور ہم نو(خود ان کے قول کے مطابق)مغربي تہذيب پر نظريں جمائے ہوئے تھے اور ان شخصيتوں کي مانند جن کي طرف جناب مجتبوي نے ميرے حوالے سے اشارہ کيا ہے،ايران ميں تھيں اپنا اعتبار اس چيز ميں ديکھتي تھي کہ اپنے آپ کو مغربي تہذيب سے کچھ زيادہ ملائیں اور مغربي اقدار کے نظام کو اپنے عمل ،اپني روش،لباس،بات چيت اور حتي کہ اپنے افکار اور نظريات ميں جلوہ گر کريں ۔
اس برطانوي حکومتي مشينري کي نوکري ،جو اس وقت ہندوستان پر طاقت کے ساتھ حکومت کر رہي تھي ،مسلمانوں کے لئے فخر تھي اور ہندو،جو مسلمانوں سے چند سال پہلے اسي تہذيب اورانہي آداب و رسومات ميں داخل ہوگئے تھے اور جنہوں نے انگريزوں سے ميل جول کو بہت پہلے ہي اختیار کر ليا تھا اور اسي وجہ سے صنعت ،ثقافت اور انتظامي امور ميں کچھ پہلے شامل ہوگئے تھے ،ان کا اعتبار تھا۔مسلمانوں کو ہندووں سے بھي ذلت اور زحمت اٹھاني پڑي تھي،حتي کہ سکھ بھي بہت کم اقليت رکھتے تھے اور وہ قابل فخر چيز جو ہندووں کو اپينشدوں اور اپنے تاريخي اور تہذيبي ماضي سے حاصل تھيں ،سکھوں کي زندگي ميں نہيں تھيں اور آپ کو معلوم ہے کہ يہ ايک نيا قائم ہونے والا مذہب ہے جس ميں اسلام اور ہندو ازم نيز دوسري چيزوں کي آميزش ہے،يہ سکھ بھي مسلمانوں کي تحقير کرتے تھے اور ان کي توہين کرتے تھے ۔يہ تھي اقبال کے زمانے ميں برصغير ہندوستان ميں مسلمانوں کے معاشرے کي صورت حال ۔اسي لاہور کي یونيورسٹي ميں جہاں پر اقبال نے تعليم حاصل کي اور بي۔اے کيا اب ہم وہاں اميد بخش اسلامي افکار کے ظہور کي کوئي علامت نہيں ديکھتے۔وہاں پر سب سے بڑي اسلامي کتاب ،سر تھامس آرنولڈ کي کتاب ہے يہي ’’الدعوۃ الي الاسلام ‘‘نامي کتاب جو عربي زبان ميں ہے اور حال ہي ميں اس کا فارسي ترجمہ بھي شائع ہوگيا ہے ۔يہ سر تھامس آرنولڈ کے اس دور کے کاموں ميں سے ہے جب وہ لاہور کي يونيورسٹي ميں پڑھاتے تھے ۔البتہ يہ ايک اچھي کتاب ہے اور ميں اس کو مسترد نہيں کرنا چاہتا ليکن ان کا سب سے بڑا فن يہ ہے کہ وہ چاہتے ہيں کہ اسلامي جہاد کو تدريجي طور پر ايک دوسرے درجے کي چيز بتائیں لہذا اس کتاب ميں يہ نظريہ پيش کيا گيا ہے کہ اسلام ،دعوت سے پھيلا ہے نہ تلوار سے اور ايک اچھي بات ہے ليکن وہ اس خيال ميں اس قدر آگے بڑھ جاتے ہيں کہ اسلامي جہاد اس کتاب ميں تقريباً ايک ثانوي چيز اور بے فائدہ اور زائد چيز نظر آتا ہے۔
اس کتاب کے اسلامي کام کا ماحصل يہي ہے ۔اس کے علاوہ وہ صاحبان اور خواتين جنہوں نے سرتھامس آرنولڈ کي کتابوں کا مطالعہ کيا ہے،جانتے ہيں کہ وہ ان لوگوں ميں سے ہيں جن کو اسلام کا زبردست حامي سمجھا گيا ہے اور وہ اقبال کے استاد ہيں اور اقبال ان کے شاگرد وں ميں شامل ہيں ۔بہتر ہے کہ ميں يہاں اس بات کا ذکر کروں کہ اس عظيم انسان کي ہوشياري سے علامہ اقبال باوجود اس کے کہ سرتھامس آرنولڈ سے سخت محبت کرتے تھے ،ان کے کاموں ميں سياسي افکارسے غفلت نہيں برتتے تھے ۔اس بات کو جناب جاويد اقبال نے اپنے والد کي زندگي ميں لکھا ہے ،اس کي ايک جلد فارسي ميں ترجمہ ہو چکي ہے اور ميں نے اسے پڑھا ہے ۔اقبال خود اپنے دوست نذير نيازي کو جو سرتھامس آرنولڈ کو ايک اسلام شناس جانتے ہيں ،خبردار کرتے  ہيں اور کہتے ہيں کہ کونسي اسلام شناسي ؟تم ان کي کتاب ’’الدعوۃ الي الاسلام ‘‘کي بات کرتے ہو؟

وہ حکومت برطانيہ کیلئے کام کرتے ہيں اور بعد ميں اقبال اپنے دوست سے کہتے ہيں :
جب ميں برطانيہ ميں تھا تو آرنولڈ نے مجھ سے کہا کہ ايڈورڈبراون کي تاريخ ادبيات کا ترجمہ کروں اور ميں نے يہ کام نہيں کرنا چاہا کيونکہ ميں نے ديکھاکہ اس کتاب ميں سياسي مقاصد کي آميزش ہے۔
اب آپ ديکھئے کہ ايڈورڈبراون کي کتاب کے بارے ميں اقبال کا نظريہ يہ ہے اور ہمارے اديبوں کا نظريہ ايڈورڈبراون کے دوستوں اور ان لوگوں کو جو ايڈورڈبراون کي دوستي پر فخر کرتے تھے ،ديکھنا چاہیے کہ ان کا نظريہ کيا ہے ؟ميں اس وقت ان شخصيتوں کا نام لينا نہيں چاہتا کيونکہ بہرحال ادبي اور ثقافتي شخصيتيں ہيں ليکن سادہ دل ،ناآگاہ اور ان سياسي مقاصد سے بے خبر ہيں مگر اقبال وہ ہوشيار مرد اور ’’المومن کيس‘‘کے مصداق خبيث استعماري سياست کي ريشہ دوانيوں کو تھامس آرنولڈ اور ايڈوربراون کے کاموں ميں پہچانتے ہيں اور ديکھتے ہيں اور يہ بات اقبال کي عظمت کي کاملاً نشاندہي کرتي ہے ۔اس زمانے ميں برصغير ہندوستان کے مسلمانوں کي حالت ايسي تھي کہ حکومت برطانيہ ،حکومت برطانيہ کے اصل ايجنٹ اور دوسرے درجے کے ايجنٹ (يا اہميت کے لحاظ سے زيادہ اعلي درجہ نہ رکھنے والے )زيادہ تر ہندو تھے اور ہندوستان کي جد وجہد جس کي مشعل کو ابتدائ ميں مسلمانوں نے روش کيا کانگريس پارٹي کے ہاتھوں ميں چلي گئي اور وہ بھي متعصب کانگريس پارٹي کے ہاتھوں ۔انڈين کانگريس جس نے آخر کار جد و جہد کے ميدان ميں عظيم کارنامے انجام بھي ديئے ليکن ان برسوں ميں اس پر اسلام سے مخالفت کا تعصب ،ہندوں کے جانب جھکاو اور مسلمانوں کي مخالفت کا تعصب حکم فرما تھا اور مسلمانوں ميں روشن خيال لوگ مغرب پرست اور مغربي نظام کے والہ و شيدا تھے اور عام معمولي لوگ خوف ناک غربت اور سخت تکليف دہ زندگي کا شکار تھے اور اپني معمولي روٹي کو بھي مشکل سے حاصل کرتے تھے ۔اس کے علاوہ اس ماحول اور فضا ميں کھوئے ہوئے تھے جس کو انگريز زيادہ سے زيادہ مغربيت کي جانب لے جارہے تھے ۔ہندوستان کے اس زمانے کے مسلمان علمائ ان ابتدائي شکستوں کے بعد زيادہ تر الگ تھلگ اور حريت پسندي اور تحريک کے نا قابل فہم افکار اور جلووں ميں کھوئے ہوئے تھے (سوائے ان علمائ کے جو آگے تھے مثلاً مولانا محمدعلي جوہر اور ہندوستان کے ديگر نماياں حيثيت رکھنے والے علمائ )۔عام مسلمان عوام اس کي سخت تکليف دہ حالت ميں زندگي گزار رہے تھے ،اسلام سياسي عليحدگي اور اقتصادی غربت ميں تھا اور مسلمان عوام ہندوستاني معاشرے ميں ايک طفلي اور زائد کن کي حيثيت رکھتے تھے۔
اس تاريک کن رات ميں جس کا کوئي بھي ستارہ نہ تھا ،اقبال نے خودي کي مشعل روشن کي۔البتہ ہندوستان کي يہ حالت جو ميں نے بيان کي صرف ہندوستان کیلئے مخصوص نہيں تھي بلکہ تمام اسلامي دنيا ميں ايسي ہي حالت تھي ۔يہي وجہ تھي کہ اقبال نے ساري دنيا کي فکر کي۔اس زمانے کے لاہور اور بدبخت برصغير ميں اقبال کي روزمرّزندگي نے ان کیلئے ہر چيز کو قابل لمس بناديا تھا۔يہ ايسي حالت ميں تھا کہ اقبال نے ترکي ،ايران اور مثلاًحجاز کا سفر نہيں کيا تھا اور بہت سي دوسري جگہوں کو قريب سے نہيں ديکھا تھا ليکن وہ اپنے ملک کي صورت حال کو قريب سے ديکھ رہے تھے اور يہي وجہ تھي کہ انہوں نے ثقافتي ،انقلابي اور سياسي ،انقلاب برپا کيا ۔پہلا کام جو اقبال کیلئے انجام دينا ضروري تھا يہ کہ ہندوستاني معاشرے کو اسلامي تشخص ،اسلامي میں اور اسلامي شخصيت بلکہ اس کي انساني شخصيت کي جانب متوجہ کريں اور کہيں کہ تو ہے کيوں اس قدر غرق ہے؟کيوں اس قدر مجذوب ہے؟تو نے کيوں اپنے آپ کو اس قدر کھوديا ؟تو اپنے آپ کو پہچان۔
يہ اقبال کا پہلا مشن ہے ۔آخر وہ اس کے علاوہ کيا کر سکتے تھے ؟کرڑوں افراد کي ايک قوم سے جو سالہا سال تک استعمار کے شکنجوں کے سخت دباوميں تھي اورجہاں تک ممکن تھا،اس کي ناک کو رگڑا گيااور اس سے سمجھنے ،جاننے اور اميد رکھنے کے امکانات کو چھين ليا گيا تھا،يکبارگي کہا جا سکتا ہے کہ توہے اور وہ بھي ہونے کا احساس کرلے؟کيا ايسا ممکن ہے؟بہت دشوار کام ہے اور ميرا خيال ہے کہ کوئي بھي شخص اقبال کي حد تک اور جس طرح کہ اقبال نے بيان کيا اس بات کو اتني خوبي کے ساتھ بيان نہيں کر سکتا تھا۔
اقبال نے ايک فلسفہ کي بنياد رکھي ،خودي کا فلسفہ ۔ہمارے ذہن کے مد نظر فلسفوں کي قسم کا نہيں ،خودي کا ايک معاشرتي اور انساني مفہوم ہے جو فلسفيانہ تعبيرات کے لباس ميں اور ايک فلسفيانہ بيان کے لحن ميں بيان ہوا ہے ۔اقبال کو اپني نظم ،اپني غزل اور اپني مثنوي ميں خودي پر ايک اصول اور ايک مفہوم کي حيثيت سے زور دينے کیلئے اس چيز کي ضرورت تھی کہ اس خودي کو فلسفيانہ طور پر بيان کريں ۔اقبال کے مد نظر مفہوم ميں خودي کا مطلب شخصيت کا احساس ،شخصيت کا سمجھنا ،خودنگري،خود انديشي،خود شناسي اور خود کاادراک ہے۔البتہ وہ اس کو ايک فلسفيانہ بيان اور فلسفيانہ مفہوم کي شکل ميں پيش کرتے ہيں ۔ميں بہت سارے نورٹس لايا ہوں تاکہ اگر ممکن ہو تو ان ميں سے بعض کو پڑھوں۔اگر چہ يہ جلسہ طويل ہوگيا ہے ليکن ميري درخواست ہے کہ آپ تحمل سے کام ليں ۔
ميرے خيال ميں خودي کا مسئلہ اقبال کے ذہن ميں پہلے ايک انقلابي فکر کي شکل ميں آتا ہے اور بعد ميں انہوں نے اس فکر کو فلسفيانہ بنانے کي کوشش کي ہے اور خودي وہي چيز ہے جس کي ہندوستان ميں ضرورت تھي اور مجموعي نقطہ نگاہ سے اسلامي دنيا ميں اس کي ضرورت تھي يعني ملل اسلامي اگر چہ اسلامي نظام کي حامل تھيں ليکن انہوں نے اس چيز کو بالکل فراموش کرديا تھا اور مکمل طور پر فريب کھا کر اقدار کے ايک غير ملکي نظام کے والہ و شيد اور معتقد ہوگئے تھے اور ضروري تھا کہ وہ اپني جانب لوٹيں يعني اسلامي اقدار کے نظام کي جانب لوٹيں ،يہ وہي مفہوم ہے جس کے لئے اقبال کو شش کرتے ہيں ۔ليکن ايسے سماجي مفہوم کا ايک ايسي شکل ميں بيان کرنا کہ ذہنوں ميں جا گزيں ہو سکے فلسفيانہ بيان کے بغير ممکن نہيں ہے۔لہذا وہ اس مفہوم کو فلسفيانہ بيان کي شکل ديتے ہيں ۔مجھے اجازت ديجئے کہ ميں ان عبارتوں کو پڑھوں جو ميں نے نوٹ کي ہيں ۔
اقبال کے ذہن ميں ’’خودي‘‘ کا خيال ابتدائ ميں ايک معاشرتي اور انقلابي فکر کي شکل ميں آيا اور تدريجاً اقوام مشرق(خصوصاً مسلمانوں )ميں شخصيت کے انحطاط اور زوال اور مصيبت کي عظمت کا مشاہدہ اور ان کے علل و اسباب اورعلاج کي شناخت نے اس فکر کو ان کے وجود ميں مستحکم اور نا قابل خلل بناديا اور اس کے بعد ان کي اس فکر کو پيش کرنے کے طريقے کي جستجو ميں ايک فلسفيانہ اورذہني بنيادملي۔يہ بنياد خود ي کے مفہوم کا تصور ہے عام شکل ميں (اس چيز کي مانند جس کو ہمارے فلسفي وجود کي مفہوم کي حيثيت سے پيش کرتے ہيں يعني وہ عام مفہوم جو سبھي ميں ہے اور اس کو فلسفيانہ طور پر بيان کيا جاسکتا ہے )البتہ وجود’’خودي‘‘سے مختلف چيز ہے اور خود ي کا مطلب وجود بتانا(ميں نے ديکھا ہے اقبال کے اشعار پر حاشيہ لکھنے والوں ميں سے بعض نے لکھا ہے )ميرے خيال ميں ايک بڑي غلطي ہے اور وہ وحدت در کثرت اور کثرت در وحدت جس کي اقبال رموز بے خودي ميں کئي بار تکرار کرتے ہيں ،ملا صدرا اور ديگر فلسفيوں کے وحدت در کثرت اور کثرت در وحدت کے نظرئیے سے مختلف ہے۔يہ کچھ اور چيز ہے اور مجموعي طور پر اقبال کے مد نظر مفاہيم سو فيصد انساني اور اجتماعي مفاہيم ہيں (البتہ ميں جو عرض کررہا ہوں اجتماعي ،اس کا مطلب فرد کے بارے ميں بحث نہ کرنا نہيں ہے کيونکہ خودي کي بنياد فرد ميں مستحکم ہوتي ہے ليکن خود فرد ميں خودي کي خوديت اور فرد ميں خودي کي شخصيت کا استحکام بھي اسلام کے اجتماعي مفاہيم ميں سے ايک ہے اور جب تک خودي کي وہ شخصيت مستحکم نہ ہو ،حقيقي اور مستحکم شکل ميں اجتماع اور معاشرہ وجود ميں نہيں آتا)۔

بہر حال خودي کے معني وجودي سے مختلف ہيں ۔وہ اول خودي کے مفہوم کي عموميت کے بارے ميں عرفا ئ کي زبان ميں اور عرفائ کي مانند تعبيرات ميں گفتگو کرتے ہيں ۔عالم ہستي کو جلوہ گري خودي کے اثرات ميں سے ہے ۔عينيات عالم ميں سے ہر ايک خودي کے مفہوم کے ايک جلوے کي نشان دہي کرتي ہے (البتہ ان چيزوں کو اقبال نے اکثر نظموں کے عنوانات ميں ذکر کيا ہے جس کو ميں نے دوسرے الفاظ ميں بيان کيا ہے۔بعض تعبيرات ايسي ہيں کہ جن کو خود انہوں نے اپنے کلا م ميں استعمال کيا ہے اور ان کا کلام ان تعبيرات سے بہت بہتر ہے )افکار کا سر چشمہ بھي خودي سے مختلف جلووں ميں خود آگہي ہے ۔ہر مخلوق ميں خودي کا اثبات اس کے علاوہ کا بھي اثبات ہے۔جب کسي انسان ميں خودي کا اثبات ہوتا ہے ،يہ خودبخود غير کا بھي اثبات ہے لہذا خودي موجود ہے اور اس کا غير بھي گويا کہ ساري دنيا ميں شامل ہے اور ممکن ہے)خودي دشمني کا بھي سبب بنتي ہے اور در حقيقت خودي اپني ضد سے برسر پيکار ہوتي ہے ۔يہ کشمکش دنيا ميں دائمي پيکار کو جنم ديتي ہے ۔خودي زيادہ تر صالح کے انتخاب اور زيادہ شائستہ کي بقائ کي حامل بھي ہے اور اکثر ايک والا تر و برتر خود کیلئے ہزاروں خود فدا ہوجاتے ہيں ۔خودي کا مفہوم ايک مشکوک مفہوم ہے ۔ اس ميں قوت اور ضعف ہے خودي کي قوت اور ضعف دنيا کي ہر مخلوق ميں اس مخلوق کے استحکام کے اندازے کا تعين کرتي ہے اور اس طرح وہ قطرہ ،می،جام،ساقي،کوہ،صحرا،موج،دريا،نور،چشم،سبزہ،شمع خاموش،شمع گدازاں ،نگيں،زمين ،چاند،خورشيد اور درخت کو مثال کے طور پر ذکر کرتے ہيں اور ان ميں سے ہر ايک ميں خود ي کي مقدار کا اندازہ لگاتے ہيں ۔مثال کے طور پر ايک قطرے ميں خودي کي ايک خاص مقدار ہے ،نہر ميں ايک مقدار اور اس نگينے ميں جس پر نقوش بنائے جاتے سکتے ہيں ايک خاص مقدار موجود ہے ۔يہ ايک مشکوک مفہوم ہے جو قابل رشک ہے اور انساني افراد اور اشيائے عالم ميں مختلف مقدار ميں موجود ہے ۔وہ بعد ميں نتيجہ اخذ کرتے ہيں ۔


چون خودي آرد بہم نيروي زيست
مي گشايد قلزمي از جوي زيست


ّبعد ميں وہ آرزومند ہونے اور مدعا رکھنے کے مسئلے کو پيش کرتے ہيں اور يہ بالکل وہي چيز ہے جو اس زمانے کي اسلامي دنيا ميں نہيں تھي يعني مسلمانوں کو کسي چيز کا دعوي نہيں تھا ،ان کي کوئي بڑي آرزو نہيں تھي اور ان کي آرزو زندگي کي معمولي اور حقير آرزوئیں تھيں )وہ کہتے ہيں ايک انسان کي زندگي کا دارومدار آرزو پر ہے ايک شخص کي خودي يہ ہے کہ وہ آرزومند ہو اور اس آرزو کي جستجو ميں بڑھے (اور مجھے يہ جملہ ياد آگيا ،انما الحيوۃ عقيدہ و جہاد)۔
وہ اسي مضمون اور اسي مفہوم کي بہت وسيع اور گہرے نيز لطيف انداز ميں بيان کرتے ہيں اور کہتے ہيں :کسي چيز کا چاہنا اور اس کا حاصل کرنے کیلئے کوشش کرنا ہي مدعا ہے ورنہ زندگي موت ميں تبديل ہو جائے گي ۔آرزو ،جان، جہان اور صدف فطرت کا گوہر ہے ،وہ دل جو آرزو پيدا نہ کرسکے پر شکستہ اور بے پرواز ہے اور يہ آرزو ہے جو خودي کو استحکام عطا کرتي ہے اور طوفاني سمندر کي مانند موجود کو جنم ديتي ہے ۔لذت ديدار ہے جو ديدارِ دوست کو صورت عطا کرتي ہے ،شوخي رفتار ہے جو کبک کو پاوں عطا کرتي ہے ،نوا کي سعي و کوشش ہے جو بلبل کو منقار عطا کرتي ہے ۔بانسر ي نواز کے ہاتھ اور ہونٹوں ميں بانسري ہے جو زندگي پاتي ہے ورنہ نيستاں ميں کوئي چيز بھي عملي طور پر نہيں تھي ۔علم و تمدن ،نظم و آداب اور رسومات نيز اصول سبھي ان آرزوں سے وجود ميں آئے ہيں جن کیلئے کوشش کي گئي ہے اور وہ بعد ميں يہ نتيجہ اخذ کرتے ہيں :
 

مازتخليق مقاصد زندہ ايم
از شعاع آرزو تابندہ ايم
(مدعا سازي،آرزو سازي اور ہدف سازي )


يا ايک اور شعر ميں اس موضوع کے بارے ميں کہتے ہيں :
 

گرم خون آدم ز داغ آرزو
آتش،اين خاک اين از چراغ آرزو


اور بعد ميں انساني معاشرے ،انسان اور خودي کے استحکام کیلئے عشق و محبت کو ضروري سجمھتے ہيں اور کہتے ہيں ،محبت کے بغير فرد اور معاشرے ميں خودي کا استحکام نہيں حاصل ہوسکتا اور ضروري ہے کہ ملت مسلمان اور وہ انسان جو چاہتے ہيں اپني خودي کو مضبوط بنائیں ،محبت اور عشق رکھتے ہوں اور ان کا دل اس آگ ميں پگھلے۔اس کے بعد دلچسپ ہے کہ خود ہي امت اسلاميہ کے عشق کے لئے ايک نقطہ پاتے ہيں اور وہ ہے پيغمبر اکرم محمد مصطفي صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم کا عشق ۔يہي وجہ ہے کہ انسان محسوس کرتا ہے کہ بيدار اور ہوشيار شخصيت اسلامي دنيا کے اتحاد اور اسلامي دنيا کو تحريک ميں لانے کے مسئلے کو جس قدر اچھي طرح سمجھتے ہيں :
 

نقطہ نوري کہ نام او خودي است
زير خاک ما شرار زندگي است
از محبت مي شود پايندہ تر
زندہ تر،سو زندہ تر،تابندہ تر
از محبت اشتعال جو ہرش
ارتقاي ممکنات مضمرش
فطرت او آتش اندوز ز عشق
عالم افروزي بياموز ز عشق
در جہاں ہم صلح و ہم پيکار عشق
آبِ حيوان ،تيغ جوہر دار عشق
عاشقي آموز و محبوبي طلب
چشم نوحي ،قلب ايوابي طلب
کيميا پيدا کن از مشت گلي
بوسہ زن بر آستان کاملي


اس کے بعد کہتے ہيں اب وہ معشوق و محبوب جس سے مسلمان کو لگاو رکھنا چاہیے اور جس کا عاشق ہونا چاہیے ،کون سي ہستي ہے !
 

بست معشوقي نہان اندر دلت
چشم اگر داري بيا بنمايمت
عاشقان او ز خوبان خوب تر
خوشتر و زيبا تر و محبوب تر
دل ز عشق او توانا مي شود
خاک،بمدوش ثريا مي شود
خاک نجد از فيض او چالاک شد
آمد اندر وجد و بر افلاک شد
دل دل مسلم مقام مصطفي است
آبروي ما ز نام مصطفي است
طور موجي از غبار خانہ اش
کعبہ را بيت الحرام کا شانہ اش
بوريا ممنون خواب راحتش
تاج کسري زير پا امتش
در شبستان حرا ،خلوت گزيد
قوم و آئین و حکومت آفريد
ماند شبہا چشم او محروم توم
تا بہ تخت خسروي خوابيد قوم


اس کے بعد پيغمبر اکرم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم کے بارے ميں کچھ تشريح کرتے ہيں اور ان کے اوصاف کو بيان کرتے ہيں ۔البتہ اقبال کے پورے ديوان ميں اور ان کے سارے کلام ميں انسان پيغمبر سے عشق کو ديکھتا ہے اور صرف اسي جگہ کیلئے مخصوص نہيں ہے اور اس بات کا ذکر مناسب ہوگا کہ ايک کتاب جسے پاکستان کے ايک ہم عصر محقق نے اقبال کے بارے ميں لکھا ہے اور اس متين و موقر کتاب کا نام ’’اقبال در راہ مولوي ‘‘ہے يہ کتاب مجھے اپنے حاليہ دور ميں ملي اور ميں نے اس سے استفادہ کيا ہے ،ميں نے ديکھا ہے کہ اس ميں لکھا ہے :
’’جب بھي کوئي نظم يا شعر جس ميں پيامبر اکرم ۰ کا نام ہوتا اور اقبال کو سنايا جاتا تو اقبال کي آنکھوں سے بے اختيار آنسو ں جاري ہوجاتے در حقيقت وہ خود پيغمبر کے عاشق اکبر تھے ‘‘

حقيقت ميں اقبال نے ايک اچھے نکتہ پر انگلي رکھي ہے۔دنیائے اسلام پيغمبر سے زيادہ محبوب اور مقبول عام کون سي ہستي کو تلاش کرسکتي ہے ؟اور يہ چيز دنیائے اسلام کي تمام محبتوں کو مرکزيت عطا کرتي ہے اور اس سلسلے ميں کچھ گفتگو کے بعد حاتم طائي کي بيٹي کي کہاني کا ذکر کرتے ہيں کہ ايک جنگ ميں حاتم طائي کي بيٹي قيد ہو کر آئي اور پيغمبر اکرم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم کي خدمت ميں لايا گيا ،پيغمبر اکرم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم نے جب اس لڑکي کے سر  کو عرياں ديکھا تو پيغمبر اکرم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم نے اسے بڑے اور اچھے خاندان کي عريانيت کو پسند نہيں کيا اور اپني عبا اٹھا کر اس لڑکي پر ڈال دي تاکہ وہ سر نگوں اور شرمسار نہ ہو اور اس کے بعد کہتے ہيں :
 

ما از آن خاتون طي عريان تريم
پيش اقوام جہان بي چادريم
روز محشر اعتبار ماست او
در جہان ہم پردہ دار ما است او
ما کہ از قيد وطن بيگانہ ايم
چون نگہ نور دو چشميم و يکيم
از حجاز و مصر و ايرانيم ما
شبنم يک صبح خندانيم ما
مست چشم ساقي بطحا ستيم
در جہان مثل مي و مينا ستيم
چون گل صد برگ ما را بو يکي است
اوست جان اين نظام و او يکي است


وہ ’’اسرار خودي‘‘ميں کوشش کرتے ہيں کہ احساس خودي ي
عني انساني تشخص کے احساس کو مسلمان فرد اور معاشرے ميں زندہ کريں ۔اسرار خودي کا ايک اور باب يہ ہے کہ خودي سوال سے کمزور پڑجاتي ہے يعني جب ايک فرد يا ايک قوم نياز مندي کاہاتھ پھيلاتي ہے تو اس فرد يا قوم کي خودي کمزور ہو جاتي ہے اور اپنے استحکام کو کھو بيٹھتي ہے اس سلسلے ميں دلچسپ اور پر مغز بحثيں اور بھي ہيں ۔خودي کے بعد ،بے خودي کا فلسفہ ہے یعني جب ہم ’’خود‘‘اورايک انسان کي شخصيت کي تقويت کے بارے ميں بحث کرتے ہيں تو اس کا مطلب يہ نہيں ہو نا چاہیے کہ انسان ايک دوسرے سے جدا ہو کر اپنے ارد گرد ديوار کھڑي کر ليں اور خود زندگي گزاريں بلکہ ان تمام خود کو چاہیے کہ ايک معاشرے کے مجموعے ميں خود ہو جائیں يعني فرد کو معاشرے سے ارتباط حاصل کرنا چاہیے۔يہ رموز بے خودي ہے اور رموز بے خودي نامي کتاب اقبال کي دوسري کتاب ہے اور اسرار خودي کے بعد کہي گئي اور شائع ہوئي ہے خود اسلامي نظام کے بارے ميں اقبال کے خيال کي نشاندہي کرتي ہے اور ايک اسلامي نظام کے قيام کیلئے اقبال کے افکار ہر جگہ موجود ہيں ليکن رموز بے خودي ،ميں ہر جگہ سے زيادہ نظر آتے ہيں اور مجموعي طور پر وہ مسائل جن کا ذکر رموزبے خودي ميں موجودہے اہم اور دلچسپ موضوعات ہيں اور ايک اسلامي معاشرے کي تشکيل کیلئے ان پر توجہ ضروري ہے۔
آج جب اقبال کے افکار کو رموز بے خودي کے مضامين ميں ديکھتے ہيں تو محسوس ہوتا ہے کہ ہمارے اسلامي معاشرے پر حکم فرما ہے۔اسلام کي ترويج ميں امت توحيدي کي ذمہ داري اقبال کے پر جوش ترين نظريات ميں سے ايک ہے اور ان کے خيال ميں مسلمانوں اور امت اسلاميہ کو جنہيں اسلام کي ترويج کرني چاہیے ،چين سے نہيں بيٹھنا چاہیے تاکہ اس کام کو انجام دے سکيں۔مناسب ہوگا کہ اس سلسلے ميں اس کے چند اشعار جو بہت دلچسپ ہيں آپ کو پڑھ کر سناوں:
وہ کہتے ہيں اسلامي معاشرے کي تشکيل اور دنيا کیلئے اسلامي امت کا وجود ميں آنا ايک آسان کام نہيں تھا۔دنيا بہت تکليفيں اٹھانے اور تاريخ بہت سے تجربات کرنے کے بعد امت توحيدي کو پاسکي ہے اور توحيدي نظريہ اور اسلامي فکر کي حامل امت وجود ميں آسکي ہے :


اين کہن پيکر کہ عالم نام اوست
ز امتزاج امہات اندام اوست
صد نيستان کاشت تا ياک نالہ رست
صد چمن خون کرد تا یک لالہ رست
نقشہا آورد و افکند و شکست
تا بہ لوح زندگي نقش تو بست
نالہ ھا در کشت جان کا ريدہ است
تا نواي يک اذان باليدہ است
مدتي پيکار با احرار داشت
با خداوندان باطل کار داشت
تخم ايمان آخر اندر گل نشاند
با زبانت کلمہ ي توحيد خواند
نقطہ ادوار عالم لا الہ
انتہاي کار عالم لا الہ
چرخ را از زور او گردندگي
مہر را تابندگي رخشندگي
بحر گوہر آفريد از تاب او
موج در دريا طپيد از تاب او
شعلہ در رگہاي تاک از سوز او
خاک مينا تابناک از سوز او
نغمہ ہايش خفتہ در ساز وجود
جويديت اي زخمہ ور ساز وجود
صدنواداري چو خون در تن روان
خيز و مضرابي بہ تار او رسان
زاں کہ در تکبير راز بود توست
حفظ و نشر لا الہ مقصودتست
تا نخيزد بانگ حق از عالمي
گر مسلمان نيا سايي دمي
مي نداني آيہ ام الکتاب
امت عادل ترا آمد خطاب
آب و تاب چہرہ ي ايام تو
در جہان شاہد علي الاقوام تو
نکتہ سنجان را صداي عام دہ
از علوم امي اي پيغام دہ
امي اي ،پاک از ہوا گفتار او
شرح رمز ’’ماغوي ‘‘گفتار او
از قباي لالہ ھاي ايں چمن
پاک شست آلودگيہاي کہن

اس کے بعد جب وہ اسلامي نظرئیے کي آفاقيت کو بيان کرتے ہيں تو بلا شبہ ان کي کتاب ميں شايد سو بار سے زيادہ اسلام اور مسلمان کي آفا قيت اور اس کے عالمي وطن کا ذکر آيا ہے ۔تو يہاں پر بھي کہتے ہيں :اے امتِ توحيد پرچم تيرے ہاتھ ميں ہے ،تجھے حرکت کرني چاہیے اور اسے دنيا تک پہنچانا چاہیے ۔بعد ميں وہ کہتے ہيں کہ يہ دلفريب جديد بت جسے فرنگيوں نے پيدا کيا ہے ،اس جديد بت کو توڑ دو اور خود ہي بتاتے ہيں کہ يہ جديد بت کيا ہيں :
 

اي کہ ميداري کتابس در بغل
تيز تر نہ پا بميدان عمل
فکر انسان بت پرستي،بت گري
ہر زمان در جستجوي پيکري
باز طرح آزري انداختہ است
تازہ تر ،پروردگاري ساختہ است
کايد از خون ريختن اندر طرب
نام او،رنگ است و ہم ملک و نسب

 آدميت کشتہ شد چون گوسفند
پيش پاي اين بت نا ارجمند
اي کہ خوردستي زميناي خليل
گرمي خونت زصبحہا ي خليل
بر سر اين باطل حق پيرہن
تيغ لا موجود لا ھو بزن
جلوہ در تاريکي ايام کن
آنچہ بر تو کامل آمد،عام کن


يہ ہے اسلام کي نشرو اشاعت اور قوميت اور وطن کي سرحدوں کو ختم کرنے کے سلسلے ميں اقبال کا نظريہ ۔رموز بے خودي ميں ايک مضمون جس پر وہ زور ديتے ہيں فرد کے اجتماع سے متصل ہونے اور فرد کے اجتماع ميں حل اور جذب ہوجانے کي ضرورت ہے۔
وہ نبوت کو امت کي تشکيل کي اصل بنياد جانتے ہيں اور کہتے ہيں ايسا نہيں کہ جب افراد ايک جگہ جمع ہوجائیں تو ايک قوم يا ملت وجود ميں آجاتي ہے بلکہ ايک فکر کي ضرورت ہے جو ملت یا قوميت کے تانے بانے کو يکجا کرے چنانچہ بہترين اور بنيادي ترين فکر نبوت کي فکر ہے جس کو خدا کے پيغمبروں نے آکر پيش کيا ۔تشکيل ملت کیلئے يہ بہترين طريقہ ہے کيونکہ يہ اجتماع کو فکر عطا کرتي ہے ،ايمان عطا کرتي ہے اور اتحاد عطا کرتي ہے نيز تربيت و کمال بخشتي ہے ۔
ايک اور مضمون جس پر زور ديتے ہيں خداوندان تخت و محراب کي بندگي کي نفي ہے ۔اس سلسلے ميں ان کے اشعار کا ايک حصہ بہت دلچسپ ہے ،آپ بھي سنیے:
 

بود انسان در جہان انسان پرست
ناقص و نابود مند و زير دست
سطوت کسري و قيصر رہزنش
بندہا در دست و پا و گردنش
کاہن و پاپا و سلطان وامير
بہر يک نخچير صد نخچير گير
صاحب اورنگ و ہم پير کنشت
باج برکشت خراب او نوشت
در کليسا اسقف رضوان فروش
بہر اين صيد زبون دامي بدوش
برہمن گل از خيابانش ببرد
خرمنش مغ زادہ با آتش سپرد
از غلامي فطرت اور دون شدہ
نغمہ ھا اندر نئے او خود شدہ
تا اميني حو بہ حق داران سپرد
بندگان را مسند خاقان سپرد
 

يہ اشعار پيغمبر اکرم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم کي رسالت کي تشکيل ،انسانوں کے مابين مساوات قائم کرنے اور ’’انّ اکرمکم عند اللہ اتقکم ‘‘اور اخوت اسلامي کے بارے ميں ہيں ۔خود انہوں نے جس طرح موضوعات اور عنوانات کا ذکر کيا ہے ،بہت زيادہ ہيں ،اور چونکہ ميري گفتگو تفصيلي ہوگئي ہے،مناسب نہيں ہوگا کہ اس سے زيادہ تفصيلي گفتگو کروں اور ميري سمجھ ميں نہيں آتا کہ در حقيقت کونسے حصے کا انتخاب کروں اوراس کے بارے ميں گفتگو کروں کيونکہ انہوں نے اس قدر زيادہ دلچسپ اور اچھے موضوعات پر گفتگو کي ہے کہ انسان کي سمجھ میں نہيں آتا کہ کس کو فوقيت دي جائے اور بيان کيا جائے اور ان سب باتوں کے بيان کیلئے ،ہمارے ملک ميں اقبال کے کلام کے شائع کرنے کے سوا ،يہ کام کسي اور طريقے سے ممکن نہيں ۔يہ کام ايسا ہے کہ جسے يہاں ،پاکستان اور افغانستان ميں بھي ہونا چاہیے نيز ہر اس جگہ پر جہاں لوگ فارسي سمجھتے ہيں يا ممکن ہے سمجھ سکيں اقبال کے کلام کو جس ميں فارسي کا کلام ہے شائع ہونا چاہیے۔
البتہ جيساکہ آپ کو معلوم ہے کہ اقبال کے پندرہ ہزار شعروں ميں سے نو ہزار فارسي ميں ہيں اور ان کا اردوکلام فارسي سے بہت کم ہے ۔ان بہترین اشعار اور کم از کم معني کے لحاظ سے ان کا اہم ترين کلام وہي ہے جو انہوں نے فارسي ميں کہا ہے ۔ان کليات جو شايد بيس سال قبل يہاں پر شائع ہوئي اس پر مزيد کام اور محنت کي ضرورت ہے۔
ميں جب سے اقبال کے کلام سے آشنا ہواہوں ،ديکھتا تھا کہ اس کلام کي اچھی طرح وضاحت کي ضرورت ہے اور اس کے ساتھ کافي وضاحت نہيں ہے اور مجھے اس بات کا دکھ ہوتا تھا ۔حقيقت ميں اس بات کي ضرورت ہے کہ يہ کام انجام پائے اور کچھ لوگ ان لوگوں کے لئے جن کي زبان فارسي ہے علامہ اقبال کے مد نظر مضامين اور مفاہيم کي تشريح کريں ۔

آج علامہ اقبال کے بہت سے پيغامات ہم سے تعلق رکھتے ہيں اور ان ميں سے بعض اس دنيا والوں کیلئے ہيں جو ابھي تک ہمارے راستے پر نہيں آئے اور اس پيغام کو جس کو ہم سمجھ گئے ہيں انہوں نے نہيں سمجھا ہے۔
اقبال کے ’’خودي ‘‘کے پيغام کو ہماري قوم نے ميدان عمل ميں اور حقيقت کي دنيا ميں عملي جامہ پہنايا لہذا ہماری قوم کیلئے ضرورت نہيں کہ اسے خودي کا مشورہ ديا جائے ۔ہم ايراني عوام آج مکمل طور پر محسوس کرتے ہيں کہ اپنے پيروں پر کھڑے ہيں ،اپني ثقافت اور اپني چيزوں پر بھروسہ کرتے ہيں اور اس تمدن پر جس کو آئيڈيالوجي اور فکر کي بنياد پر استوار کرسکتے ہيں ۔البتہ ماضي ميں مادي زندگي اور زندگي گزارنے کے لحاظ سے ہماري تربيت دوسروں کے سہارے پر کی گئي ،ليکن ہم تدريجي طور پر اپنے خيموں سے ان غير ملکي رسيوں کو بھي کاٹ پھينکيں گے اور اپني ہي رسيوں کا استعمال کريں گے اور ہميں اميد ہے کہ اس کام ميں کامياب ہونگے۔
مسلمان اقوام کو اس ’’خودي‘‘کو سمجھنے کي ضرورت ہے،خاص طور پر مسلمان شخصيتوں کو خواہ وہ سياسي شخصيتيں ہو ں يا ثقافتي ۔انہيں ضرورت ہے کہ اقبال کے پيغام کو سمجھيں اور جان ليں کہ اسلام اپني ذات ميں اور اپني اصليت ميں انساني معاشروں کو چلانے کي اعلي ترين بنيادوں کا حامل ہے اور دوسروں کا محتاج نہيں ہے۔
ہم يہ نہيں کہتے کہ دوسري ثقافتوں کیلئے دروازہ بندکرديں اور ان کو اپني طرف جذب نہ کريں ۔جي ہاں ہميں جذب کرنا چاہیے ليکن ايک زندہ جسم کي مانند جو ضروري عناصر کو اپنے لیے جذب کرتا ہے نہ کہ اس بت ہوش اور مردہ جسم کي مانند جس ميں جو چاہتے ہيں داخل کر ديتے ہيں ۔
ہم ميں جذب کرنے کي توانائي ہے اور دوسري ثقافتوں اور دوسروں کے افکار سے خواہ غير ملکي ہوں اس چيز کو جو ہم سے تناسب رکھتي ہو،اور ہمارے لیے مفيد ہو اخذ کرتے ہيں اور جذب کرتے ہيں ليکن جس طرح کہ اقبال باربار کہتے ہيں علم و فکر کو مغرب سے سيکھا جا سکتا ہے ليکن سوز و زندگي کو نہيں ۔
 

خرد آموختم از درس حکيمان فرنگ
سوز اندوختم از صحبت صاحب نظراں


ايسي کوئي چيز (يعني سوز و زندگي)مغرب کي تعليم اور مغربي مدنيت کے تمدن ميں نہيں ہے ۔يہ وہ چيز ہے جس کا اقبال نے سب سے پہلے ايک علمبردار کي شکل ميں احساس اور اعلان کيا ہے۔
مغربي تمد ن اور مادي مذہب (مادي شہري زندگي)انسان کیلئے ضروري روح اور معني سے خالي ہے لہذا ہم مغربي ثقافت سے اس چيز کو ليتے ہيں جو ہمارے لیے ضروري ہے۔
خوشي کي بات ہے کہ ہمارے ملک ميں اور ہماري عوام ميں خودي اور اسلامي شخصيت کا احساس کمال کي حد تک موجود ہے اور ہماري نہ شرقي اور نہ غربي ولا شرقيہ ولا غربيہ کي پاليسي بالکل وہي چيز ہے کہ جس کي بات اقبال کرتے تھے۔ہمارا پيغمبر اکرم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم اور قرآن سے عشق اور قرآن سيکھنے کے لیے ہماري نصيحت اور يہ بات کہ انقلابوں اور مقاصد کي بنياد اسلامي اور قرآني ہوني چاہیے بالکل وہي چيز ہے کہ جس کا مشورہ اقبال دیتے تھے ليکن اُس وقت اُن باتوں کو سننے والا کوئي نہيں تھا۔
اُن دنوں اقبال کي زبان اور اقبال کے پيغام کو بہت سے لوگ نہيں سمجھتے تھے۔اقبال کي کتابيں اور نظميں اس شکايت سے بھري ہوئي ہیں کہ ميري بات کو نہيں سمجھتے اور نہيں جانتے اور نگاہيں دوسري جگہوں اور مغرب کي جانب ہيں ۔شايد اس رموز بے خودي کے مقدمے ميں ہے کہ وہ يہ شکايت کرتے ہيں اور امت اسلام کو مخاطب کرکے اور بقول خود ان کے پيش نہ حضور ملت اسلاميہ کہتے ہيں :
 

اي ترا حق خاتم اقوام کرد
بر تو ہر آغاز را انجام کرد
اي مثال انبيائ پاکان تو
بمگر دلہا جگر چاکان تو
اي نظر بر حسن ترسا زادہ اي
اي ز راہ کعبہ دور افتادہ اہ
اي فلک مشت غبارک کوي تو
اي تماشا گاہ عالم روي تو
ہمچو موج ،آتش نہ پامي روي
تو کجا بہر تماشا مي روي
رمز سوز آموز از پروانہ اي
در شرر تمعير کن کاشانہ اي
طرح عشق انداز اندر جان خويش
تازي کن با مصطفي پيمان خويش
خاطرم از صحبت ترسا گرفت
تا نقاب روي تو بالا گرفت
ہم نوا از جلوہ اغيار گفت
داستان گيسو و رخسار گفت
بر در ساقي جبين فرسود او
قصہ ي مغ زادگان پيمود او
من شہيد تيغ ابروي تو ام
خاکم و آسودہ ي کوي توام
از ستايش گستري بالا ترم
پيش ہر ديوي فرونايد سرم


يعني اے امت اسلام !ميں جو اس عاشقانہ طور پر تيري مدح سرائي کررہا ہوں ،اس لیے نہيں ہے کہ ميں مداح ہوں :
 

از سخن آئينہ سازم کردہ اند
از سکندر بي نيازم کردہ اند
بار احسان بر نتابد گردنم
در گلستان غنچہ گردد دامنم
سخت کوشم مثل خنجر در جہان
آب خود مي گيرم از سنگ گران


يہاں پر وہ اپني بے نيازي کي بات کرتے ہيں اور اس وقت اقبال اس بے نيازي کے ساتھ کہ وہ دنيا کے سامنے سر نہيں جھکاتے امت اسلاميہ کے سامنے دو زانو بيٹھ کر التماس کرتے ہيں کہ اپنے آپ کو پہچان ،اپنے آپ کي جانب لوٹ اور قرآن کي بات سن:
 

بر درت جانم نياز آوردہ است
ہديہ ي سوز و گداز آوردہ است
ز آسمان آبگون يم مي چکد
بردل گرمم دما دم مي چکد
من ز جو باريک تر مي سازمش
تا بصحن گلشت اندازمش


اگر ہم آخر تک ان کي بحثوں اور اشعار کو پڑھنا چاہيں تو بحث کي شکل ہي بدل جائے گي اور کافي زيادہ وقت لگے گا ۔اور يہ تو ہمارے اس عظيم اقبال کي شخصيت کا ايک خلاصہ ہے جو بلا شک مشرق کا بلند ستارہ ہے اور بے جا نہ ہوگا اگر ہم اقبال کو اس لفظ کے حتمي معني ميں مشرق کا بلند ستارہ پکاريں ۔بہر حال ہميں اميد ہے کہ ہم اقبال کا حق ادا کرسکيں اور گزشتہ چاليس پچاس برس کے دوران اقبال کي شناخت ميں اپني قوم کي تاخير کا ازالہ کر
سکيں ۔

اقبال کي وفات گويا ١٣١٨ہجري شمسي مطابق ١٩٣٨ ئ ميں ہوئي اور ميرے خيال ميں اس وقت سے اب تک يعني اقبال کي وفات کے بعد سے آج تک کا جو ايک طويل عرصہ ہے ،اگر چہ اقبال کے نام سے سيمينار ہوئے ،کتابيں لکھي گئيں اور تقرريں ہو ئيں ليکن سب بيگانہ وار اور دور سے تھيں اور ہماري قوم اقبال کي حقيقت ،اقبال کي روح اور قبال کے عشق سے بے خبر رہي ہے اور اس عيب کي ان شائ اللہ تلافي ہوني چاہیے اور وہ لوگ جو اس کام سے تعلق رکھتے ہيں مثلاً شعرائ ،مقررين ،مصنفين ،جرائد اور متعلقہ سرکاري ادارے وزارت مثلاً ثقافت و اعلي تعليم ،وزارت تعليم و تربيت اور وزارت ارشاد اسلامي ،ہر ايک ان شائ اللہ اپني اپني باري سے کوشش کريں کہ اقبال کو اس طرح جيساکہ ان کا حق ہے ،زندہ کريں اور انکے کلام کو کورس کي کتابوں اور ديگر کتابوں ميں شامل کريں اور پيش کريں ۔ان کي کتابوں اور اشعار کو الگ الگ شائع کريں ،اسرار خودي کو علیحدہ ،رموز بے خودي کو عليحدہ ،گلشن راز جديد کو عليحدہ ،جاويد نامہ کو الگ اس قسم کے کام کسي حد تک پاکستان ميں ہوئے ہيں ليکن افسوس کہ پاکستان کي عوام ان تعبيرات سے صحيح طور پر فائدہ نہيں اٹھاسکتے کيونکہ وہاں پر فارسي پہلے کي طرح رائج نہيں ہے ہمارے پاکستاني بھائي جو يہاں موجود ہيں اور اسي طرح بر صغير ہندوستان کے تمام اديب اپنا فرض جانيں کہ فارسي زبان کے سلسلے ميں خيانت آميز سياست کا مقابلہ کريں اور فارسي زبان کو جو عظيم اسلامي ثقافت کا ذريعہ ہے اور خود اسلامي ثقافت کا بڑا حصہ فارسي زبان ميں اور فارسي زبان پر منحصر ہے بر صغير ہندوستان ميں جہاں پر مسلمان اصلي عنصر ہيں رواج ديں اور ہمارے خيال ميں خاص طور پر پاکستان ميں يہ کام تيزي کے ساتھ ہونا چاہیے اور خود ہمارے ملک ميں بھي مختلف اشاعتي امور جو انجام نہيں پائے ،انجام پانے چاہئیں اور ہنر مند حضرات اقبال کے کام پر فنکاري دکھائیں ،پڑھنے والے ان شعروں کو پڑھيں ،ان پر دھنيں تيار کريں اور ان شائ اللہ ان کو رواج دے کر ہمارے جوان اور بوڑھے عوام کي زبان اور دل ميں لائيں ۔
ہميں اميد ہے کہ خداوند تعاليٰ ہميں توفيق عطا کرے گا کہ ہم اپني حد تک امت اسلاميہ پر اقبال کے عظيم حق کو ادا کرسکيں ۔
                                                                                                          والسلام عليکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ

تکميلي پيغام


  جناب ڈاکٹر مجتبوي صاحب
     صدر ،تجليل اقبال کميٹي
اگر چہ آج کي تقریر ميں علامہ اقبال کي شخصيت کے پہلوں پر صرف مختصر روشني ڈالي گئي اور قرن حاضر کي اس عظيم شخصيت کے بارے ميں کچھ زيادہ بيان نہيں ہوسکا ليکن دو نکتوں کا بيا ن جس کا ذکر نہ کرنا در حقيقت اقبال پر ظلم ہوگا ،ضروري سمجھتا ہوں :
پہلا نکتہ قيام پاکستان کے سلسلے ميں ہے جو يقيني طور پر اقبال کي زندگي اور شخصيت کے نماياں ترين نکات ميں سے ہے ۔
حقيقتاً يہ کہنا ضروري ہے کہ پاکستان کے بانيوں اور ان میں سر فہرست قائد اعظم محمد علي جناح مر حوم نے اقبال کي اس جاويداني نصيحت پر جو وہ مسلمان انسان کو مخاطب کرکے کرتے ہيں کہ:
 

تو شمشيري ز کام خود برون آ
برون آ از نيام خود برون آ
شب خود روشن از نور يقين کن
يد بيضا برون از آستين کن


عمل کيا اور اپني انتھک محنت کوششوں اور جدوجہد کے ذريعے اس فکر کو جس کو علامہ اقبال نے ١٩٣٠ئ ميں الہ آباد ميں ہونے والي مسلم ليگ کانفرنس ميں پيش کيا تھا ،سترہ سال بعد عملي جامہ پہنايا۔
پاکستان کا قيام جو ہندوستاني مسلمان کي شخصيت کے تحفظ اور احيائ کا واحد ذريعہ تھا يقينا اقبال کے عظيم فخريہ کاموں ميں سے ايک ہے ۔مسلمانوں کے ہندوستان سے الگ ہونے کے سلسلے ميں جواہر لعل نہرو سے قائد اعظم کي بحثوں ميں جو دليليں نظر آتي ہيں اور جن کي بنياد ہندوستاني مسلمانوں کا ايک خود مختار قوم بننا ہے ،يقينا رموز بے خودي او ر اقبال کے دوسرے کلام ميں موجود اقبال کے نظريات پر مبني ہے لہذا جيسا کہ خود پاکستاني بھائیوں نے کہا ہے اور اس بات کي تکرار ہے بلاشک اقبال پاکستان کے معمار اور پاکستان کا منصوبہ بنانے والے بر صغير ميں مسلمانوں کو ايک خود مختار قوم کي شکل دينے والے ہيں ۔
دوسرا نکتہ جو ہمارے ملک کے مسلمان اور عبادت گزار عوام کیلئے يقينا دلنشين اور لذت بخش ہے ،اقبال کي ذاتي خصو صيات کے بارے ميں ہے۔ہماري عوام کیلئے يہ جاننا ضروري ہوگا کہ اقبال جنہوں نے مغربي ثقافت اور تمدن کو اچھي طرح پہچانا اور اپني عمر کے ايک اہم حصے کو مغربي افکار کي تعليم حاصل کرنے ميں صرف کيا ،اپنے روئیے اور طرز زندگي ميں زاہدوں اور عابدوں ميں سے ايک تھي اور وہ ميل جول ان کے اسلامي اعمال اور آداب نيز ان کي ذاتي زندگي پر ہر گز اثر انداز نہيں ہوا۔
وہ عبادت گزار ،قرآن سے مانوس ،اہل تہجد اور ممنوعہ چيزوں سے پرہيز کرنے والے تھے اور حتي يورپ ميں اپنے طالب علمي ميں اپنے طالب علمي کے زمانے ميں بھي انہوں نے اس روش کو ہرگز ترک نہيں کيا۔قرآن پر انکا اعتقاد اس حد تک زيادہ تھا کہ ان کے فرزند جاويد اقبال کے بقول قرآن کي آيتوں کو درخت کے پتوں پر لکھ کر بيماروں کو شفا يابي کیلئے ديا کرتے تھے ۔رسول اکرم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم ، بيت اللہ اور حتي حجاز سے جو وحي کا مرکز تھا عشق کرتے تھے ۔اسلامي علوم ميں ان کي دلچسپي اس قدر زيادہ تھي کہ عمر کے آخري ايام ميں چاہتے تھے کہ اپني تمام کتابوں کو فروخت کرکے فقہ اور حديث کي کتابيں خريديں ۔وہ عارفانہ سوز و گذار رکھنے والے ،تہجد کي نماز پڑھنے والے ،زندگي کي پارسائي اور قناعت سے کام لينے والے نيز اسي قسم کي دوسري نماياں خصو صيات کے حامل تھے۔
يہ وہ نکتے تھے جن کو ميں اپني تقرير کے تکملے کے طور پر اپنے ہم وطنوں کي اطلاع کے لئے عرض کرنا ضروري سمجھتا تھا ۔
 

سيد علي خامنہ اي
والسلام عليکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ