|
بہر حال خودي کے معني وجودي سے مختلف ہيں ۔وہ اول خودي کے مفہوم کي عموميت کے
بارے ميں عرفا ئ کي زبان ميں اور عرفائ کي مانند تعبيرات ميں گفتگو کرتے ہيں
۔عالم ہستي کو جلوہ گري خودي کے اثرات ميں سے ہے ۔عينيات عالم ميں سے ہر ايک
خودي کے مفہوم کے ايک جلوے کي نشان دہي کرتي ہے (البتہ ان چيزوں کو اقبال نے
اکثر نظموں کے عنوانات ميں ذکر کيا ہے جس کو ميں نے دوسرے الفاظ ميں بيان کيا
ہے۔بعض تعبيرات ايسي ہيں کہ جن کو خود انہوں نے اپنے کلا م ميں استعمال کيا ہے
اور ان کا کلام ان تعبيرات سے بہت بہتر ہے )افکار کا سر چشمہ بھي خودي سے مختلف
جلووں ميں خود آگہي ہے ۔ہر مخلوق ميں خودي کا اثبات اس کے علاوہ کا بھي اثبات
ہے۔جب کسي انسان ميں خودي کا اثبات ہوتا ہے ،يہ خودبخود غير کا بھي اثبات ہے
لہذا خودي موجود ہے اور اس کا غير بھي گويا کہ ساري دنيا ميں شامل ہے اور ممکن
ہے)خودي دشمني کا بھي سبب بنتي ہے اور در حقيقت خودي اپني ضد سے
برسر پيکار ہوتي
ہے ۔يہ کشمکش دنيا ميں دائمي پيکار کو جنم ديتي ہے ۔خودي زيادہ تر صالح کے
انتخاب اور زيادہ شائستہ کي بقائ کي حامل بھي ہے اور اکثر ايک والا تر و برتر
خود کیلئے ہزاروں خود فدا ہوجاتے ہيں ۔خودي کا مفہوم ايک مشکوک مفہوم ہے ۔ اس
ميں قوت اور ضعف ہے خودي کي قوت اور ضعف دنيا کي ہر مخلوق ميں اس مخلوق کے
استحکام کے اندازے کا تعين کرتي ہے اور اس طرح وہ قطرہ ،می،جام،ساقي،کوہ،صحرا،موج،دريا،نور،چشم،سبزہ،شمع
خاموش،شمع گدازاں ،نگيں،زمين ،چاند،خورشيد اور درخت کو مثال کے طور پر ذکر کرتے
ہيں اور ان ميں سے ہر ايک ميں خود ي کي مقدار کا اندازہ لگاتے ہيں ۔مثال کے طور
پر ايک قطرے ميں خودي کي ايک خاص مقدار ہے ،نہر ميں ايک مقدار اور اس نگينے ميں
جس پر نقوش بنائے جاتے سکتے ہيں ايک خاص مقدار موجود ہے ۔يہ ايک مشکوک مفہوم ہے
جو قابل رشک ہے اور انساني افراد اور اشيائے عالم ميں مختلف مقدار ميں موجود ہے
۔وہ بعد ميں نتيجہ اخذ کرتے ہيں ۔
چون خودي آرد بہم نيروي زيست
مي گشايد قلزمي از جوي زيست
ّبعد ميں وہ آرزومند ہونے اور مدعا رکھنے کے مسئلے کو پيش کرتے ہيں اور يہ بالکل
وہي چيز ہے جو اس زمانے کي اسلامي دنيا ميں نہيں تھي يعني مسلمانوں کو کسي چيز
کا دعوي نہيں تھا ،ان کي کوئي بڑي آرزو نہيں تھي اور ان کي آرزو زندگي کي
معمولي اور حقير آرزوئیں تھيں )وہ کہتے ہيں ايک انسان کي زندگي کا دارومدار آرزو پر ہے ايک شخص کي خودي يہ ہے
کہ وہ آرزومند ہو اور اس آرزو کي جستجو ميں بڑھے (اور مجھے يہ جملہ ياد آگيا
،انما الحيوۃ عقيدہ و جہاد)۔
وہ اسي مضمون اور اسي مفہوم کي بہت وسيع اور گہرے نيز لطيف انداز ميں بيان کرتے
ہيں اور کہتے ہيں :کسي چيز کا چاہنا اور اس کا حاصل کرنے کیلئے کوشش کرنا ہي
مدعا ہے ورنہ زندگي موت ميں تبديل ہو جائے گي ۔آرزو ،جان، جہان اور صدف فطرت کا
گوہر ہے ،وہ دل جو آرزو پيدا نہ کرسکے پر شکستہ اور بے پرواز ہے اور يہ آرزو ہے
جو خودي کو استحکام عطا کرتي ہے اور طوفاني سمندر کي مانند موجود کو جنم ديتي
ہے ۔لذت ديدار ہے جو ديدارِ دوست کو صورت عطا کرتي ہے ،شوخي رفتار ہے جو کبک کو
پاوں عطا کرتي ہے ،نوا کي سعي و کوشش ہے جو بلبل کو منقار عطا کرتي ہے ۔بانسر ي
نواز کے ہاتھ اور ہونٹوں ميں بانسري ہے جو زندگي پاتي ہے ورنہ نيستاں ميں کوئي
چيز بھي عملي طور پر نہيں تھي ۔علم و تمدن ،نظم و آداب اور رسومات نيز اصول
سبھي ان آرزوں سے وجود ميں آئے ہيں جن کیلئے کوشش کي گئي ہے اور وہ بعد ميں يہ
نتيجہ اخذ کرتے ہيں :
مازتخليق مقاصد زندہ ايم
از شعاع آرزو تابندہ ايم
(مدعا سازي،آرزو سازي اور ہدف سازي )
يا ايک اور شعر ميں اس موضوع کے بارے ميں کہتے ہيں :
گرم خون آدم ز داغ آرزو
آتش،اين خاک اين از چراغ آرزو
اور بعد ميں انساني معاشرے ،انسان اور خودي کے استحکام کیلئے عشق و محبت کو
ضروري سجمھتے ہيں اور کہتے ہيں ،محبت کے بغير فرد اور معاشرے ميں خودي کا
استحکام نہيں حاصل ہوسکتا اور ضروري ہے کہ ملت مسلمان اور وہ انسان جو چاہتے
ہيں اپني خودي کو مضبوط بنائیں ،محبت اور عشق رکھتے ہوں اور ان کا دل اس آگ ميں
پگھلے۔اس کے بعد دلچسپ ہے کہ خود ہي امت اسلاميہ کے عشق کے لئے ايک نقطہ پاتے
ہيں اور وہ ہے پيغمبر اکرم محمد مصطفي صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم کا عشق ۔يہي وجہ
ہے کہ انسان محسوس کرتا ہے کہ بيدار اور ہوشيار شخصيت اسلامي دنيا کے اتحاد اور
اسلامي دنيا کو تحريک ميں لانے کے مسئلے کو جس قدر اچھي طرح سمجھتے ہيں :
نقطہ نوري کہ نام او خودي است
زير خاک ما شرار زندگي است
از محبت مي شود پايندہ تر
زندہ تر،سو زندہ تر،تابندہ تر
از محبت اشتعال جو ہرش
ارتقاي ممکنات مضمرش
فطرت او آتش اندوز ز عشق
عالم افروزي بياموز ز عشق
در جہاں ہم صلح و ہم پيکار عشق
آبِ حيوان ،تيغ جوہر دار عشق
عاشقي آموز و محبوبي طلب
چشم نوحي ،قلب ايوابي طلب
کيميا پيدا کن از مشت گلي
بوسہ زن بر آستان کاملي
اس کے بعد کہتے ہيں اب وہ معشوق و محبوب جس سے مسلمان کو لگاو رکھنا چاہیے اور
جس کا عاشق ہونا چاہیے ،کون سي ہستي ہے !
بست معشوقي نہان اندر دلت
چشم اگر داري بيا بنمايمت
عاشقان او ز خوبان خوب تر
خوشتر و زيبا تر و محبوب تر
دل ز عشق او توانا مي شود
خاک،بمدوش ثريا مي شود
خاک نجد از فيض او چالاک شد
آمد اندر وجد و بر افلاک شد
دل دل مسلم مقام مصطفي است
آبروي ما ز نام مصطفي است
طور موجي از غبار خانہ اش
کعبہ را بيت الحرام کا شانہ اش
بوريا ممنون خواب راحتش
تاج کسري زير پا امتش
در شبستان حرا ،خلوت گزيد
قوم و آئین و حکومت آفريد
ماند شبہا چشم او محروم توم
تا بہ تخت خسروي خوابيد قوم
اس کے بعد پيغمبر اکرم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم کے بارے ميں کچھ تشريح کرتے ہيں
اور ان کے اوصاف کو بيان کرتے ہيں ۔البتہ اقبال کے پورے ديوان ميں اور ان کے
سارے کلام ميں انسان پيغمبر سے عشق کو ديکھتا ہے اور صرف اسي جگہ کیلئے مخصوص
نہيں ہے اور اس بات کا ذکر مناسب ہوگا کہ ايک کتاب جسے پاکستان کے ايک ہم عصر
محقق نے اقبال کے بارے ميں لکھا ہے اور اس متين و موقر کتاب کا نام ’’اقبال در
راہ مولوي ‘‘ہے يہ کتاب مجھے اپنے حاليہ دور ميں ملي اور ميں نے اس سے استفادہ
کيا ہے ،ميں نے ديکھا ہے کہ اس ميں لکھا ہے :
’’جب بھي کوئي نظم يا شعر جس ميں پيامبر اکرم
۰
کا نام ہوتا اور اقبال کو سنايا جاتا تو اقبال کي آنکھوں سے بے اختيار آنسو ں
جاري ہوجاتے در حقيقت وہ خود پيغمبر کے عاشق اکبر تھے ‘‘ |