|
بسم اللہ الرحمن الرحیم
امام زین العابدین ٴ
امام زين العابدين عليہ السلام کي ذات اقدس کو موضوع سخن قرار دينا اور
آپ کي سيرت
طيبہ پر قلم اٹھانا نہايت ہي دشوار امر ہے اس کي وجہ يہ ہے کہ اس عظيم
امام کي
معرفت و آشنائي سے متعلق مآخذ و مصادر بہت ہي ناقص اور نامساعد ہيں۔
اکثر محققوں اور سيرت نگاروں کے ذہن ميں يہ بات بيٹھي ہوئي ہے کہ يہ
عظيم ہستي محض
ايک گوشہ نشين عابد و زاہد جيسي زندگي گزارتي رہي جس کو سياست ميں ذرہ
برابر دلچسپي
اور دخل نہ تھا۔ بعض تاريخ نويسوں اور سيرت نگاروں نے تو اس چيز کو بڑي
صراحت کے
ساتھ بيان کيا ہے اور وہ حضرات جنہوں نے صاف صاف وضاحت کے ساتھ يہ بات
نہيں کہي
انہوں نے بھي امام عليہ السلام کي زندگي سے جو نتائج اخذ کئے ہيں اس سے
مختلف نہيں
ہيں چنانچہ حضرت کو دئے جانے والے القاب اور حضرت کے سلسلہ ميں استعمال
کي جانے
والي تعبيرات سے يہ بات بہ آساني درک کي جاسکتي ہے۔
بعض لوگوں نے اس عظيم ہستي کو ’’ بيمار ‘‘ کے لقب سے ياد کيا ہے جبکہ
آپ کي بيماري
واقعہ عاشورہ کے ان ہي چند دنوں تک محدود تھي اس کے اس کا سلسلہ باقي
نہ رہا۔ ،
تقريباً سب ہي لوگ اپني عمر کے ايک حصہ ميں بيمار پڑ ہي جاتے ہيں،
اگرچہ امام زين
العابدين عليہ السلام کي اس بيماري ميں الہي حکمت و مصلحت بھي کار فرما
تھي دراصل
پروردگار عالم کو ان دنوں خدا کي راہ ميںجہاد و دفاع کي ذمہ داري ، آپ
پر سے
اٹھالينا مقصود تھا تاکہ آئندہ ( شہادت امام حسين کے بعد) امانت و
امامت کا عظيم
بار اپنے کاندھوں پر لے سکيں اور اپنے پدر بزرگوار کے بعد چونتيس يا
پينتيس تک زندہ
رہ کر نہايت ہي سخت اور پر آشوب دور طے کرسکيں۔
اگر آپ امام زين العابدين کي سوانح حيات کا مطالعہ کريں تو ہمارے ديگر
آئمہ کي طرح
يہاں بھي ايک سے ايک نئے نئے قابل توجہ حادثات کا ايک سلسلہ نظر آئے گا
ليکن ، يہ
بھي ايک حقيقت ہے کہ آپ ان تمام واقعات کو اگر يکجا کر بھي ليں تب بھي
امام عليہ
السلام کي سيرت طيبہ کا سمجھ لينا آپ کے لئے آسان نہ ہوگا۔
کسي کي سيرت کو صحيح معنوں ميں سمجھانا اسي وقت ممکن ہے جب اس شخصيت کے
اصول اور
بنيادي موقف کو اچھي طرح درک کرليا جائے اور پھر اس کي روشني ميں اس کي
جزئيات
زندگي سمجھنے کي کوشش کي جائے۔ اصل ميں جب بنيادي موقف کي وضاحت ہوجاتي
ہے۔ جزئيات
بھي لبے زبان نہيں رہتے خود بخود معني پيدا کرليتے ہيں۔ اس کے برخلاف
اگر اصولي
موقف ہم پر واضح نہيں ہوسکے ہيں يا کچھ کا کچھ سمجھ بيٹھے ہيں تو جزئي
واقعات بھي
يا تو بے معني ہو کر رہ جاتے ہيں يا پھر ان کو غلط معني پہنانے کي کوشش
کرنے لگتے
ہيں اور يہ صرف امام زين العابدين عليہ السلام يا ہمارے ديگر آئمہ
طاہرين سے مخصوص
نہيں ہے بلکہ يہ اصول ہر شخص کي زندگي کے تجزيہ کے وقت پيش آسکتا ہے۔
امام سجاد کے سلسلہ ميں نمونہ کے طور پر ، محمد بن شہاب زہري کے نام
حضرت کا خط پيش
کيا جاسکتا ہے جو آپ کي زندگي کا ايک حادثہ ہے يہ وہ خط ہے جو خاندان
نبوت و رسالت
کي ايک عظيم فرد کي طرف سے اس دور کے مشہور و معروف دانشور کو لکھا گيا
ہے اب اس
سلسلہ ميں مختلف انداز سے اظہار رائے کي گنجائش ہے ممکن ہے کہ يہ خط
کسي اساسي
نوعيت کے حا مل وسيع سياسي مبارزہ کا ايک حصہ ہو اور يہ بھي ممکن ہے
برے کاموں سے
روکنے کي ايک سيدھي سادي نصيحت يا محض ايک شخصيت کا دوسري شخصيت پر کيا
جانے والا
اسي قسم کا ايک اعتراض ہو جس قسم کے اعتراضات دو شخصيتوں يا کئي
شخصيتوں کے مابين
تاريخ ميں کثرت سے نظر آتے ہيں ، ظاہر ہے ديگر حادثات و واقعات سے چشم
پوشي کرکے
صرف اس واقعہ سے کسي صحيح نتيجہ تک کبھي بھي نہيں پہنچا جا سکتا۔ ميں
اس نکتہ پر
زور دينا چاہتا ہوں کہ اگر ہم ان جزئي واقعات کو امام کے اصولي و
بنيادي موقف سے
عليحدہ کرکے مطالعہ کرنا چاہئيں تو امام سجاد کي سوانح زندگي ہم پر
روشن نہيں
ہوسکتي۔ لہذا ہمارے لئے ضروري ہے کہ سب سے پہلے ہم امام کے اصولي اور
اساسي موقف سے
آگاہي حاصل کريں۔
چنانچہ ہماري سب سے پہلي بحث امام زين العابدين عليہ السلام کے بنيادي
موقف سے
متعلق ہے اور اس کے لئے خود امام عليہ السلام کي زندگي ، آپ کے کلمات
نيز ديگر آئمہ
طاہرين کي پاکيزہ سيرت و زندگي سے خوشہ چيني کرتے ہوئے بڑي ہي باريک
بيني کے ساتھ
نکات درک کرکے بحث کرنا ہوگي۔
حادثات زندگي ميں آئمہ کا بنيادي موقف:جہاں تک ميں سمجھ سکا ہوں ٤٠
ہجري ميں امام
حسن عليہ الصلوٰۃ والسلام کي صلح کے بعد سے کبھي پيغمبر اسلام کے
اہليبيت اس بات پر
راضي نہ ہوئے کہ فقط گھر ميں بيٹھے اور اپنے ادراک کے مطابق احکامات
الہيہ کي تشريح
و تفسير کرتے رہيں بلکہ صلح کے آغاز ہي سے تمام آئمہ طاہرين کا بنيادي
موقف اور
منصوبہ يہ رہا ہے کہ وہ اپنے طرز فکر کے مطابق حکومت اسلامي کے لئے
راہيں ہموار
کريں چنانچہ يہ فکر خود امام حسن مجتبيٰ کي زندگي اور کلام ميں بطور
احسن ملاحظہ کي
جاسکتي ہے ۔
امام حسن نے معاويہ سے صلح کرلي تو بہت سے ناعاقبت انديش کم فہم افراد
نے حضرت کو
مختلف عنوان سے ہدف بناليا اور اس سلسلہ ميں آپ کو مورد الزام قرار
دينے کي کوشش کي
گئي کبھي تو آپ کو مومنين کي ذلت و رسوائي کا باعث کروايا گيا اور کبھي
يہ کہا گيا
کہ : آپ نے معاويہ کے مقابلہ پر آماد جوش و خروش سے معمور مومنين کي
جماعت کو ذليل
و خوار کرديا معاويہ کے سامنے ان کا سر جھک گيا۔ بعض اوقات احترام
ملحوظ خاطر رکھتے
ہوئے ذرا نرم و شائستہ انداز ميں بھي يہي بات دہرائي گئي۔
امام ان تمام اعتراضوں اور زبان درازيوں کے جواب ميں انہيں مخاطب کرکے
ايک ايسا
جامع و مانع جملہ ارشاد فرماتے تھے جو شايد حضرت کے کلام ميں سب سے
زيادہ فصيح و
بليغ اور بہتر ہو۔ آپ کہا کرتے تھے کہ : ما تدري لعلہ فتنۃ لکم و متاع
الي حين۔
تمہيں کيا خبر ، شايد يہ تمہارے لئے ايک آزمائش اور معاويہ کے لئے ايک
عارضي سرمايہ
ہو۔ اصل ميں يہ جملہ قرآن کريم سے اقتباس کيا گيا ہے۔
اس جملہ سے صاف پتہ چلتا ہے کہ حضرت کو مستقبل کا انتظار ہے اور وہ
مستقبل اس کے
علاوہ کچھ اور نہيں ہوسکتا کہ امام کے نظريہ کے مطابق حق سے منحرف
موجودہ ناقابل
قبول حکومت برطرف کي جائے اور اس کي جگہ آپ کي پسنديدہ حکومت قائم کي
جائے جب ہي تو
آپ ان لوگوں سے فرماتے ہيں کہ تم فلسفہ صلح سے واقفيت نہيں رکھتے تمہيں
کيا معلوم
کہ اسي ميں مصلحت مضمر ہے۔
آغاز صلح ميں ہي عمائدين شيعہ ميں دو شخصيتيں ، مسيب بن نجيہ اور
سليمان بن صرد
خزاعي چند مسلمانوں کے ہمراہ امام حسن مجتبيٰ کي خدمت ميں شرفياب ہوئيں
اور عرض کيا :
ہمارے پاس خراسان و عراق وغيرہ کي خاصي طاقت موجود ہے اور ہم اسے آپ کے
اختيار
ميں دينے کے لئے تيار ہيں اور معاويہ کا شام تک تعاقب کرنے کے لئے حاضر
ہيں ۔ حضرت
نے ان کو تنہائي ميں گفتگو کے لئے طلب کيا اور کچھ بات چيت کي ، جب وہ
وہاں سے باہر
نکلے تو ان کے چہرے پر طمانيت کے آثارنمودارتھے۔ انہوں نے اپنے فوجي
دستوں کو رخصت
کرديا حتيٰ کہ ساتھ آنے والے کو بھي کوئي واضح جواب نہ ديا۔
طحہٰ حسين کا خيال ہے کہ ’’ دراصل اسي ملاقات ميں شيعوں کي تحريک جہاد
کا سنگ بنياد
رکھ ديا گيا تھا۔‘‘
يعني وہ يہ کہنا چاہتے ہيں کہ امام حسن مجتبيٰ ، ان کے ساتھ تنہائي ميں
بيٹھے ،
مشورے ہوئے اور اسي وقت شيعوں کي ايک عظيم تنظيم کي بنائ رکھ دي گئي۔
چنانچہ خود امام کے حالات زندگي اور مقدس ارشادات سے بھي واضح طور پر
يہي مفہوم
نکلتا ہے۔ اگرچہ يہ زمانہ اس قسم کي تحريک اور سياسي جدوجہد کے لئے
سازگار نہ تھا۔
لوگوں ميں سياسي شعور بے حد کم اور دشمن کے ، پروپيگينڈے نيز مالي داد
و دہش کا
بازار گرم تھا۔ دشمن جن طريقوں سے فائدہ اٹھا رہا تھا ، امام اختيار
نہيں کرسکتے
تھے ۔ مثال کے طور پر بے حساب پيسہ خرچ کرنا اور معاشرہ کے چھٹے ہوئے
بدقماش افراد
کو اپنے گرد اکھٹا کرلينا امام کے لئے ممکن نہ تھا۔ ظاہر ہے دشمن کا
ہاتھ کھلا ہوا
تھا اور امام کے ہاتھ بندھے ہوئے تھے ۔ آپ اخلاق و شريعت کے خلاف کوئي
کام انجام نہ
دے سکتے تھے۔
يہي وجہ ہے کہ امام حسن کا کام نہايت ہي عميق ، ديرپا اور بنيادي قسم
کا تھا۔ دس
برس تک حضرت اسي ماحول ميں زندگي بسر کرتے رہے۔ لوگوں کو اپنے قرب کيا
اور انہيں
تربيت دي۔ کچھ لوگوں نے منتخب گوشہ و کنار ميں جام شہادت نوش کرکے
معاويہ کي حکومت
سے کھل کر مقابلہ کيا اور نتيجہ کے طور پر اس کي مشينري کو کافي کمزور
بنايا ۔
اس کے بعد امام
حسين کا زمانہ آيا تو آپ نے بھي اسي روش پر کام کرتے ہوئے مدينہ ،
مکہ نيز ديگر مقامات پر اس تحريک کو آگے بڑھايا۔ يہاں تک کہ معاويہ
دنيا سے رخصت
ہوا اور کربلا کا حادثہ رونما ہوا۔ اگرچہ اس حقيقت سے انکار نہيں کيا
جاسکتا کہ
کربلا کا حادثہ اسلام کے مستقبل کے لئے نہايت ہي مفيد اور ثمر آور ثابت
ہوا ليکن
وقتي طور پر ، وہ مقصد جس کے لئے امام حسن اور امام حسين کوشاں تھے کچھ
دنوں کے لئے
اس ميں تاخير ہوگئي کيونکہ اس حادثہ نے دنيائے اسلام کو رعب و وحشت ميں
مبتلا
کرديا۔ امام حسن و حسين کے قريبي رفقائ کو تہہ تيغ کرديا گيا اور دشمن
کو تسلط و
غلبہ حاصل ہوگيا۔ اگر اقدام امام حسين اس شکل ميں رونما نہ ہوتا اور يہ
تحريک طبيعي
طور پر جاري رہتي تو بات بعيد از امکان نہيں کہ مستقبل قريب ميں جدوجہد
کچھ ايسا رخ
اختيار کرليتي کہ حکومت کي باگ ڈور شيعوں کے ہاتھ ميں آجاتي۔ البتہ
يہاں اس گفتگو
کا يہ مقصد ہرگز نہيں کہ (معاذ اللہ ) امام حسن کو انقلاب برپا نہيں
کرنا چاہئيے
تھا بلکہ اس وقت حالات نے کروٹ ہي کچھ ايي بدلي تھي کہ حسيني انقلاب
ناگزير ہوگيا
تھا، اس ميں کوئي شک و شبہ کي گنجائش نہيں کہ اسلام کي بقا کے لئے
حسيني انقلاب بے
حد ضروري تھا، ليکن اگر يکايک حالات يہ رخ اختيار نہ کرلئے ہوتے اور
امام حسين اس
حادثہ ميں شہيد نہ ہوئے ہوتے تو شايد جلد ہي مستقبل سے متعلق امام حسن
کا منصوبہ
بار آور ہوجاتا۔ چنانچہ يہاں ميں ايک روايت نقل کررہا ہوں جس سے اس
بيان کي واضح
تائيد ہوتي ہے۔ اصول کافي ميں ابو حمزہ ثمالي کي ايک روايت امام محمد
باقر سے يوں
نقل کي گئي ہے :
سمعت ابا جعفر عليہ السلام يقول : يا ثابت ، ان اللہ تبارک و تعاليٰ قد
کان وقت ھذا
الامرا في السبعين۔
’’
خدا الامر ‘‘ سے مراد حکومت و ولايت اہليبيت ہے کيونکہ روايات ہيں، اگر
تمام
مقامات پر نہ کہا جائے تو اکثر و بيشتر مقامات پر جہاں جہاں بھي خدا
الامر ، کي
تعبير استعمال ہوئي ہے اس سے مقصود اہلہبيت کي حکومت و ولايت ہي ہے
اگرچہ بعض موارد
ميں يہ کلمہ ، تحريک اور اقدام کے معنوں ميں بھي استعمال ہوا ہے اور
وہاں حکومت
مراد نہيں ہے۔ بہرحال ہذا الامر ، يہ موضوع۔ کونسا موضوع ؟ وہي جو
شيعيان آل محمد
کے درميان رائج و مرسوم رہا ہے اور جس کے بارہ ميں برسوں گفتگو ہوتي
رہي ہے جس کي
تکميل کي آرزو اور منصوبہ سازي کي جاتي رہي ہے۔
امام محمد باقر اس روايت ميں فرماتے ہيں : خدا وند عالم اس امر ( يعني
حکومت
اہلہبيت ) کے لئے ٧٠ ہجري معين کرچکا تھا ‘‘ اور يہ شہادت امام حسين کے
دس سال بعد
کي تاريخ ہے۔
امام اس کے بعد فرماتے ہيں:
فلما ان قتل الحسين صلوات اللہ عليہ اشتد غصب اللہ تعاليٰ عليٰ اھل
الارض فاخرہ
اليٰ اربعين و مائۃ
جب امام حسين عليہ الصلوٰۃ والسلام کو شہيد کرديا گيا ، اہل زمين پر
خداوند عالم کے
غضب ميں شدت پيدا ہوگئي اور وہ ( تاسيس حکومت کا) وقت ١٤٠ ہجري تک کے
لئے آگے بڑھا
ديا گيا۔
يہ تاريخ ١٤٠ ہجري امام جعفر صادق کي شہادت سے آٹھ سال قبل کي ہے
چنانچہ امام جعفر
صادق کي سوانح حيات کے ذيل ميں ہم ٤٠ ہجري کي اہميت کے بارے ميں تفصيلي
بحث کريں گے
۔ اس سلسلہ ميں ميرا خيال يہي ہے کہ وہ ولي امر جس کے ذريعہ ايک
انقلابي اقدام کے
تحت اہليبيت کا حق واپس ملتا تھا امام جعفر صادق کي ہي ذات مبارک ہوني
چاہئيے تھي
مگر اس وقت بنو عباس نے خود ہي عجلت پسندي ، دنيا پرستي اور ہوائے نفس
کي پيروي
کرتے ہوئے ہر جائز و ناجائز حربہ استعمال کيا اور يہ فرصت بھي اہليبيت
کے ہاتھ سے
چھين لي گئي اور وعدہ الہي پھر کسي اور وقت کے لئے مل گيا۔
روايت کے آخري فقرے يہ ہيں:
نحدثناکم فاضعتم الحديث و کشفتم حجاب الستر ( ايک دوسرے نسخہ ميں قناع
الستر ہے)
ولم يجعل اللہ لہ بعد ذالک وقتاً عندنا ، ويمحوا اللہ ما يشائ و يثبت و
عندہ ام
الکتاب۔
يعني ہم نے تم لوگوں کو اس واقعہ سے مطلع کيا اور تم نے اس کو نشر
کرديا بات پر وہ
راز ميں نہ رکھ سکے ۔ عوام ميں نہ کہا جانے والا راز افشا کرديا۔ لہذا
اب خداوند
عالم نے اس امر کے لئے کوئي دوسرا وقت معين طور پر قرار نہيں ديا ہے،
خداوند عالم
اوقات کو محو کرديا کرتا ہے جس چيز کي چاہتا ہے نفي کرديتا ہے اور جس
چيز کو چاہتا
ہے ثابت کردکھاتا ہے اور يہ بات ناقابل ترديد ، مسلمات اسلام ميں سے ہے
کہ مستقبل
کے سلسلہ ميں جو بات خد اکي جانب سے حتمي قرار دي جاچکي ہے وہ نظر قدرت
الہي ميں
تغيير پذير نہيں ہے۔
ابو حمزہ ثمالي کہتے ہيں :
حدثت بذالک ابا عبد اللہ کان کذالک
ميں نے يہ روايت امام جعفر صادق کي خدمت ميں بيان کي جس کو امام نے
فرمايا : ہاں
واقعہ اسي طرح ہے۔
اس قسم کي روايتيں بہت ہيں ليکن مذکورہ روايت ان سب ميں واضح اور روشن
ہے۔
حکومت اسلامي کي تشکيل کا بنيادي ہدف رہا ہے۔
اسلام حکومت کي تشکيل تمام آئمہ کا مقصد و ہدف رہا ہے ، وہ ہميشہ اسي
راہ پر گامزن
رہے ہر ايک نے وقت اور حالات کے تحت اس راہ ميں اپني کوششيں جاري رکھيں
۔ چنانچہ جب
کربلا کا حادثہ رونما ہوا اور سيد الشہدائ امام حسين شہيد کردئے گئے
نيز بيماري کي
حالت ميں ہي امام سجاد کو اسير بناليا گيا تو حقيقتاً اسي وقت سے امام
سجاد کي ذمہ
داريوں کا آغاز ہوگيا۔اب تک مستقبل ( يعني حکومت اسلامي کي تشکيل) کي
جو ذمہ داري
امام حسن اور پھر امام حسين کے کاندھوں پر تھي ، وہ امر زين العابدين
کے سپرد کرديا
گيا اب آپ کي ذمہ داري تھي کہ اس مہم کو آگے بڑھائيں اور پھر آپ کے بعد
دوسرے آئمہ
طاہرين اپنے اپنے دور ميں اس مہم کو پايہ تکميل تک پہنچائيں۔
لہذا ہميں چاہئيے کہ جناب امام سجاد کي پوري زندگي کا اسي روشني ميں
جائزہ ليں ۔ اس
بنيادي مقصد اور اصلي موقف کو تلاش کريں۔ ہميں بلا کسي شک و شبہ کے يہ
بات ذہن نشين
کرلينا چاہئيے کہ امام زين العابدين بھي اسي الہي مقصد کي تکميل ميں
کوشاں تھے جس
کے لئے امام حسن اور امام حسين سعي و کوشش فرمارہے تھے۔
امام سجاد کي زندگي کا ايک مجموعي خاکہ
امام زين العابدين نے ٦١ ہجري ميں عاشور کے دن امامت کي عظيم ذمہ
دارياں اپنے
کاندھوں پر سنبھاليں اور ٩٤ ہجري ميں آپ کو زہر سے شہيد کرديا گيا۔ اس
پورے عرصے
ميں آپ اسي مقصد کي تکميل کے لئے کوشاں رہے اب آپ مذکورہ نقطہ نگاہ کي
روشني ميں
حضرت کي جزئيات زندگي کا جائزہ ليجئے کہ آپ اس ذيل ميں کن مراحل سے
گزرتے رہے کيا
طريقہ کار اپنائے اور پھر کس حد تک کاميابياں حاصل ہوئيں۔
وہ تمام ارشادات جو آپ کے دہن مبارک سے جاري ہوئے ، وہ اعمال جو آپ نے
انجام دئيے
وہ دعائيں جو لب مبارک تک آئيں وہ مناجات اور رازو نياز کي باتيں جو آج
صحيفہ کاملہ
کي شکل ميں موجود ہيں ان سب کي امام کے اسي بنيادي موقف کي روشني ميں
تفسير و تعبير
کي جاني چاہئيے چنانچہ اس پورے دور امامت ميں مختلف موقعوں پر حضرت کے
موقف اور
فيصلوں کو بھي اسي عنوان سے ديکھنا چاہئيے مثال کے طور پر:
١۔ اسيري کے دوران ، کوفہ ميں عبيد اللہ ابن زياد اور پھر شام ميں يزيد
پليد کے
مقابلہ ميں آپ کا موقف جو شجاعت فداکاري سے بھرا ہوا تھا۔
٢۔ مسرف بن عقبہ کے مقابلہ ميں ، جس کو يزيد نے اپني حکومت کے تيسرے
سال مدينہ رسول
کي تباہي اور اموال مسلمين کي غارت گري پر مامور کيا تھا ، امام کا
موقف نہايت ہي
نرم تھا۔
٣۔ عبدالملک بن مروان جس کو خلفائے بنو اميہ ميں طاقتور ترين اور چالاک
ترين خليفہ
شمار کيا جاتا ہے ۔ اس کے مقابلہ ميں امام کا موقف کبھي تو بہت ہي سخت
اور کبھي بہت
ہي نرم نظر آتا ہے۔اسي طرح
٤۔ عمر بن عبدالعزيز کے ساتھ آپ کا برتاو۔
٥۔ اپنے اصحاب اور رفقائ کے ساتھ آپ کا سلوک اور دوستانہ نصيحتيں اور
٦۔ ظالم و جابر حکومت اور اس کے عملے سے وابستہ درباري علمائ کے ساتھ
امام کا رويہ؟
ان تمام موقفوں اور اقدامات کا بڑي باريک بيني کے ساتھ مطالعہ کرنے کي
ضرورت ہے ۔
ميں تو اسي نتيجہ پر پہونچا ہوں کہ اگر اس بنيادي موقف کو پيش نظر
رکھتے ہوئے تمام
جزئيات و حوادث کا جائزہ ليا جائے تو بڑے ہي معني خيز حقائق سامنے آئيں
گے ۔ چنانچہ
اگر اس زاويہ سے امام کي حيات طيبہ کا مطالعہ کريں تو يہ عظيم ہستي ايک
ايسا انسان
نظر آئے گي جو اس روئے زمين پر خداوند وحدہ لا شريک کي حکومت قائم کرنے
اور اسلام
کو اس کي اصل شکل ميں نافذ کرنے کو ہي اپنا مقدس مقصد سمجھتے ہوئے اپني
تمام تر
کوشش و کاوش بروئے کار لاتا رہا ہے اور جس نے پختہ ترين اور کار آمد
ترين کارکردگي
سے بہرہ مند ہو کر نہ صرف يہ کہ اسلامي قافلہ کو اس پراگندگي اور
پريشان حالي سے
نجات دلائي ہے جو واقعہ عاشور کے بعد دنيائے اسلام پر مسلط ہوچکي تھي
بلکہ قابل ديد
حد تک اس کو آگے بھي بڑھايا ہے ۔ دو اہم اور بنيادي فريضے جو ہمارے
تمام آئمہ کو
سونپے گئے تھے ( ہم ابھي ان کي طرف اشارہ کريں گے) ان کو امام سجاد نے
بڑي خوش
اسلوبي سے جامہ عمل پہنايا ہے۔ آپ پوري سياسي بصيرت اور شجاعت و شہامت
کا مظاہرہ
کرتے ہوئے نہايت ہي احتياط اور باريک بيني سے اپنے فرائض انجام ديتے
رہے يہاں تک کہ
تقريباً ٣٥ سال کي انتھک جدوجہد اور الہي نمايندگي کي عظيم ذمہ داريوں
کو پورا کرنے
کے بعد آپ سر فراز و سر بلند اس دار فاني سے کوچ کرگئے اور اپنے بعد
امامت و ولايت
کا عظيم بار اپنے فرزند و جانشين امام محمد باقر کے سپرد فرمادئيے۔
چنانچہ امام محمد باقر کو منصب امامت اور حکومت اسلامي کي تشکيل کي ذمہ
داريوں کا
سونپا جانا روايت ميں بڑے ہي واضح الفاظ کے ساتھ موجود ہے۔ ايک روايت
کے مطابق امام
زين العابدين نے اپنے فرزندوں کو جمع کيا اور محمد بن علي يعني امام
محمد باقر کي
طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمايا :
يہ صندوق اور يہ اسلحہ سنبھالو اور يہ تمہارے ہاتھوں ميں امانت ہے۔‘‘
اور جب يہ صندوق کھولا گيا تواس ميں قرآن اور کتاب تھي۔
ميرے خيال ميں اسلحہ سے ، انقلابي قيادت و رہبري کي طرف اشارہ ، اور
قرآن و کتاب ،
اسلامي افکار و نظريات کي علامت ہے اور يہ چيزيں امام نے اپنے بعد آنے
والے کي
تحويل ميں دے کر نہايت ہي اطمينان و سکون کے ساتھ آگاہ و بيدار انسانوں
اور خداوند
عالم کي نظر ميں سرفراز و سرخ رو اس دنيا کو خير باد کہا ہے۔
يہ جناب امام سجاد کي
حيات طيبہ کا ايک مجموعي خاکہ ہے اب اگر ہم تمام جزئيات زندگي کا
تفصيلي جائزہ لينا
چاہيں تو صورت حال کو پہلے سے مشخص کرلينا چاہئيے۔
حضرت کي حيات مبارکہ ميں ايک مختصر سا دور وہ بھي ہے جس کو منارہ زندگي
سے تعبير
کرنا غلط نہ ہوگا۔ ميں چاہتا ہوں کہ سب سے پہلے اسي کا ذکر کروں اور
پھر امام کي
معمول کے تحت عادي زندگي ، اس زمانہ کے حالات و کوائف اور ان کے تقاضوں
کي تشريح
کروں گا۔
دراصل امام کي زندگي کا وہ مختصر اور تاريخ ساز دور، معرکہ کربلا کے
بعد آپ کي
اسيري کا زمانہ ہے جو مدت کے اعتبار سے مختصر ليکن واقعات و حالات کے
اعتبار نہايت
ہي ہيجان آور و سبق آموز ہے جہاں اسيري کے بعد بھي آپ کا موقف بہت ہي
سخت اور
مزاحمت آميز رہتا ہے۔ بيمار اور قيد ہونے کے باوجود کسي عظيم مرد مجاہد
کے مانند
اپنے قول و فعل کے ذريعہ آپ آئندہ ملاحظہ فرمائيں گے ، بالکل مختلف نظر
آتاہے۔ امام
کي زندگي کے اصلي دور ميں آپ کي حکمت عملي مستحکم بنياد پر بڑے ہي جچے
تلے انداز
ميں نرم روي کے ساتھ اپنے مقصد کي طرف آگے بڑھنا ہے حتيٰ کہ بعض وقت
عبد الملک جبکہ
اس مختصر مدت ( ايام اسيري) ميں امام کے اقدامات بالکل کسي پر جوش
انقلابي کے مانند
نظر آتے ہين جس کے لئے کوئي معمولي سي بات بھي برداشت کرلينا ممکن نہيں
ہے لوگوں کے
سامنے بلکہ بھرے مجمع ميں بھي مغرور بااقتدار دشمن کا دندان شکن جواب
دينے ميں کسي
طرح کا تامل نہيں کرتے۔
کوفہ کا درندہ صفت خونخوار حاکم ، عبيد اللہ ابن زياد جس کي تلوار سے
خون ٹپک رہا
ہے جو فرزند رسولٴ امام حسينٴ اور ان کے اعوان و انصار کا خون بہا کر
مست و مغرور
اور کاميابي کے نشہ ميں بالکل چور ہے اس کے مقابلہ ميں حضرت ايسا بے
باک اور سخت لب
و لہجہ اختيار کرتے ہيں کہ ابن زياد آپ کے قتل کا حکم جاري کرديتا ہے
چنانچہ اگر
جناب زينبٴ سلام اللہ عليہ ڈھال کے مانند آپ کے سامنے آکر يہ نہ کہتيں
کہ ميں اپنے
جيتے جي ايسا ہرگز نہ ہونے دوں گي اور ايک عورت کے قتل کا مسئلہ درپيش
نہ آتا نيز
يہ کہ قيدي کے طور پر دربار شام ميں حاضر کرنا مقصود نہ ہوتا تو عجب
نہيں ابن زياد
امام زين العابدين ٴکے خون سے بھي اپنے ہاتھ رنگين کرليتا۔
بازار کوفہ ميں آپ اپني پھوپھي جناب زينبٴ اور اپني بہن جناب سکينہ ٴ
کے ساتھ ہم
صدا ہو کر تقرير کرتے ہيں لوگوں ميں جوش و خروش پيدا کرتے ہيں اور
حقيقتوں کا
انکشاف کر ديتے ہيں۔
اسي طرح شام ميں چاہے وہ يزيد کا دربار ہو يا مسجد ميں لوگوں کا بے
پناہ ہجوم ، بڑے
ہي واضح الفاظ ميں دشمن کي سازشوں سے پردہ ہٹا کر حقائق کا برملا اظہار
کرتے رہتے
ہيں چناچہ حضرت کے ان تمام خطبوں اور تقريروں ميں اہلبيت کي حقانيت،
خلافت کے سلسلے
ميں ان کا استحقاق اور موجودہ حکومت کے جرائم اور ظلم وزيادتي کاپردہ
چاک کرتے ہوئے
نہايت ہي تلخ و درثت لب و لہجہ ميں غافل اور نا آگاہ عوام کو جھنجوڑنے
اور بيدار
کرنے کي کوشش کي گئي ہے۔
يہاں ان خطبوں کو نقل کرکے امام ٴکے فقروں کي گہرائي پيش کرنے کي
گنجائش نظر نہيں
آتي کيونکہ يہ خود ايک مستقل کام ہے اور اگر کوئي شخص ان خطبوں کي
تشريح و تفسير
کرنا چاہے تو اس کے لئے ضروري ہے کہ ان بنيادي حقائق کو پيش نظر رکھتے
ہوئے ايک ايک
لفظ کي تحقيق اور چھان پھٹک کرے۔يہ ہے امامٴ کي اسارت اور قيد وبند کي
زندگي جو
جرات و ہمت اور شجاعت ودلاوري سے معمور نظر آتي ہے۔
رہائي کے بعد:
ذہنوں ميں يہ سوال پيدا ہوتا ہے کہ آخر وہ کون سي وجوہات تھيں جن کے
پيش نظر امام
عليہ اسلام کے موقف ميں ايسي تبديلي پيدا ہو گئي کہ اب قيد سے چھوٹ کر
آپ نہايت ہي
نرم روي کا مظاہرہ کر نے لگتے ہيں تقيہ سے کام ليتے ہيںاپنے تيز وتند
انقلابي
اقدامات پر دعا اورنرم روي کا پردہ ڈال ديتے ہيں تمام امور بڑي خاموشي
کے ساتھ
انجام ديتے ہيں جبکہ قيد وبند کے عالم ميں آپ نے ايسے دليرانہ عزائم
کااظہار اور
مخا صمت آ ميز اقدام فرمايا ہے؟
تو اس کا جواب يہ ہے کہ يہ ايک استثنائي دور تھا يہاں جناب امام سجادٴ
کو فرائض
امامت کي ادائيگي اور حکومت الہٰي واسلامي کي تشکيل کے ليئے مواقع کي
فراہمي کے
ساتھ ساتھ عاشور کو بہنے والے بے گناہوں کے خون کي ترجماني بھي کرني
تھي۔ حقيقت تو
يہ ہے کہ يہاں امام سجاد ٴکے ذہن ميں ان کي اپني زبان نہ تھي بلکہ
شمشير سے خاموش
کر دينے والي حسين ٴکي زبان اس وقت کوفہ وشام کي منزلوں سے گزرنے والے
اس انقلابي
جوان کو ديعت کر دي گئي تھي۔
چنانچہ اگر اس منزل ميں امام زين العابدين عليہ اسلام خاموش رہ جاتے
اوراس جراُت و
ہمت اور جواں مردي وبيباکي کے ساتھ حقائق کي وضاحت کر کے دودھ کا دودھ
اور پاني کا
پاني نہ کر ديئے ہوتے تو آئيندہ آپ کے مقا صد کي تکميل کي تمام راہيں
مسرود ہو کر
رہ جاتيں کيونکہ يہ امام حسينٴ کا جوش مارتا ہوا خون ہي تھا جس نے نہ
صرف آپ کے لئے
ميدان ہموار کر ديا بلکہ تاريخ تشيع ميں جتني بھي انقلابي تحريکيں برپا
ہوئي ہيں ان
سب ميں خون حسينٴ کي گرمي نظر آتي ہے چناچہ امام زين العابدين عليہ
اسلام سب سے
پہلے لوگوں کو موجودہ صورتحال سے خبردار کر دينا ضروري سمجھتے تھے تاکہ
آئيندہ اپنے
اسي عمل کے پر توميں بنيادي واصولي،عميق و متين طولاني مخالفتوں کا
سلسلہ شروع کر
سکيں اور ظاہر ہے تيز و تند زبان استعمال کئے بغير لوگوں کو متنبہ اور
ہوشيار کرنا
ممکن نہ ہوتا۔
اس قيد وبند کے سفر مين جناب امام سجاد عليہ اسلام کا کردار جناب زينب
سلام اللہ
عليہا کے کردار سے بالکل ہم آہنگ ہے دونوں کا مقصد حسيني انقلاب اور
پيغامات کي
تبليغ و اشاعت ہے اگر لوگ اس بات سے واقف ہو جايئں کہ حسين عليہ اسلام
قتل کر ديئے
گئے،کيوں قتل کئے گئے؟اور کس طرح قتل کئے گئے؟ تو آئندہ اسلام اور
اہلبيت عليہم
اسلام کي دعوت ايک نيا رنگ اختيار کرئے گي ليکن اگر عوام ان حقيقتوں سے
ناواقف رہ
گئے تو اندازہ کچھ اور ہو گا۔
لہذا معاشرہ ميں ان حقائق کو عام کردينے اور صحيح طور پر حسيني انقلاب
کو پہچنوانے
کے لئے اپنا تمام سرمايا بروئے کار لا کر جہاں تک ممکن ہو سکے اس کام
کو انجام دينا
ضروري تھا چناچہ جناب امام سجاد عليہ اسلام کا وجود بھي جناب
سکينہٴ،جناب فاطمہ
صغريٰٴ ،خود جناب زينبٴ بلکہ ايک ايک قيدي کے مانند (اپني اپني صلاحيت
کے اعتبار
سے) اپنے اندر ايک پيغام لئے ہوئے ہے۔ضروري تھا کہ يہ تمام انقلابي
قوتيں مجتمع ہو
کر غربت اور بے کسي ميں بہا ديئے جانے والے حسيني خون کي سرخي کربلا سے
لے کرمدينہ
تک تمام بڑے بڑے اسلامي مراکز ميں پھيلاديں۔
جس وقت امام سجاد عليہ اسلام مدينہ ميں وارد ہوںلوگوں کي بے چيني
،سوالي
نظروں،چہروں اور زبانوں کے جواب ميں آپ ان کے سامنے حقائق بيان کريں
اوريہ امام کي
آئندہ مہم کا نقش اول ہے اسي لئے ہم نے امام زين العابدين عليہ اسلام
کے اس مختصر
دورحيات کو ايک استثنائي دورسے تعبير کيا ہے۔اس مہم کا دوسرا دور اس
وقت شروع ہوتا
ہے جب آپ مدينہ رسول ميں ايک محترم شہري کي حيثيت سے اپني زندگي کا
آغاز کر تے ہيں
اور اپنا کام پيغمبر اسلام صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم کے گھر او ر آپ۰
کے حرم(
مسجدالنبي۰)
سے آغاز کرتے ہيں جناب امام سجاد عليہ اسلام کے آئندہ موقف اور طريقہ
کار کو سمجھنے کے لئے ضروري معلام ہوتاہے کہ اس زمانے کي حلت و کيفيت
اور اس کے
تقاضوں پر بھي ايک نظر ڈال لي جائے چناچہ اس موضع پر آئندہ روشني ڈالي
جائے گي۔
آغاز تحريک:
امام زين العابدين عليہ اسلام نے اپني تحريک کس طرح شروع کي، آپ کا
مقصد اورطريقہ
کار کيا تھا ان تمام باتوں کو معلوم کرنے کے لئے ضروري ہے کہ اس وقت کي
حکمراں
مشينري سے بيزار ومتنفر مخالفين کے مجموعي حالات اور بني اميہ کے بارے
ميں ان کے
خيالات ساتھ ہي ساتھ طرفداران اہلبيت کي کلي صورتحال پر ايک نظر ڈال لي
جائے اور يہ
امام سجادٴ کي زندگي کا ايک مستقل باب ہے چناچہ اگر تفصيل کے ساتھ اس
موضوع پر
گفتگو ممکن ہوئي تو امام عليہ اسلام کي زندگي سے متعلق بہت سي مشکلات و
الجھنيں حل
ہو جائيں گي۔ اور اس کے بعد حضرت کي طرف سے کئے جانے والے اقدامات کي
خصوصيات پر
روشني ڈالي جائے گي۔(البتہ ہم نہيں کہ سکتے کس حد تک تفصيل ميں جانا
ہمارے لئے ممکن
ہوگا)
ماحول:
جب عاشور کا المناک حادثہ رونما ہوا،پوري اسلامي دنيا ميں جہاں جہاں
بھي يہ خبر
پہنچي خصوصاًعراق اورحجاز ميں مقيم ائمہ ٴ کے شيعوں اور طرفداروں ميں
ايک عجيب رعب
و دحشت کي فضا پيدا ہو گئي کيونکہ يہ محسوس کيا جانے لگا کي يزيدي
حکومت اپني
حاکميت کو مسلط کرنے کے لئے کچھ بھي کر سکتي ہے۔حتي کہ اس کو عالم
اسلام کي جاني
پہچاني عظيم،مقدس اورمعتبر ترين ہستي فرزند رسول حسينٴ ابن عليٴ کو بے
دردي کے ساتھ
قتل کرنے ميںبھي کسي طرح کا کوئي دريغ نہيں ہے۔ اور اس رعب و وحشت ميں
جس کے آثار
کوفہ و مدينہ ميں کچھ زيادہ ہي نماياں تھے، جو کچھ کمي رہ گئي تھي وہ
بھي اس وقت
پوري ہو گئي جب کچھ ہي عرصہ بعد دوسرے لرزہ خيز حوادث رونما ہوئے جن
ميں سرفہرست
حادثہ’’حرہ‘‘ ہے۔
اہلبيت طاہرين کے زير اثر علاقوں يعني (خصوصاً مدينہ) اور
عراق(خصوصاًکوفہ) ميں بڑا
ہي گھٹن کا ماحول پيدا ہو گيا تھا تعلقات وارتباطات کافي کمزور ہو چکے
تھے۔وہ لوگ
جو ائمہ طاہرينٴ کے طرفدار تھے اور بني اميہ کي خلافت و حکومت کے
زبردست مخالفين
مين سے شمار ہوتے تھے بڑي ہي کس مپرسي اور شک و شبہ کي حالت ميں زندگي
بسر کر رہے
تھے۔
امام جعفر صادق عليہ اسلام سے ايک روايت ہے منقوں ہے کہ حضرت گزشتہ
ائمہ کے دورکا
ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہيں:
(آيت)
يعني امام حسين عليہ اسلام کے بعدتين افراد کے علاوہ سارے لوگ مرنذ ہو
گئے ايک
روايت ميں پانچ افراد اور بعض دوسري روايتوں ميں سات افراد تک کا ذکر
ملتا ہے۔
ايک روايت جو خود امام سجادٴ سے منقول ہے اور جس کے راوي ابوعمر مہدي
ہيں امام عليہ
اسلام فرماتے ہيں :
(آيت)
پورے مکہ و مدينہ ميں بيس افراد بھي ايسے نہيں ہيں جو ہم سے محبت کرتے
ہوں
ہم نے يہ دونوں حديثيںاس لئے نقل کي ہيں کہ اہلبيت طاہرينٴ اور ان کے
طرفداروںکے
بارے ميں عالم اسلام کي مجموعي صورتحال کا اندازہ لگاياجاسکے۔دراصل اس
وقت ايسے خوف
و حراص کي فضا پيدا ہو گئي تھي کہ ائمہ کے طرفدار متفرق و پراگندہ
مايوس و مرعوب
زندگي گزار رہے تھے اور کسي طرح کي اجتماعي تحريک ممکن نہ تھي البتہ
جيسا کہ امام
جعفر صادق عليہ اسلام مذکورہ بالا روايت ميں ارشاد فرماتے ہيں۔
(آيت)
پھر آہستہ آہستہ لوگ اہلبيٴت سے محلق ہوتے گئے اور تعداد ميں اضافہ
ہوتا چلا گيا۔
خفيہ تنظيميں:
اگر يہي مسئلہ جس کا ابھي ہم نے ذکر کيا ہے ذرا تفصيل کے ساتھ بيان
کرنا چاہيں تو
يوں کہ سکتے ہيں کہ :کربلاکا عظيم سانحہ ہونے کے بعد اگرچہ لوگوں کي
خاصي تعداد رعب
و وحشت ميں گرفتار ہو گئي تھي پھر بھي خوف و ہراس اتنا غالب نہ تھا کہ
شيعان علي کي
پوري تنطيم يکسر درہم وبرہم ہو کر رہ گئي ہوجس کا واضع ثبوت يہ ہے کہ
ہم ديکھتے ہيں
جس وقت اسيران کربلا کا لٹا ہوا قافلہ کوفہ ميں وارد ہوتا ہے کچھ ايسے
واقعات رونما
ہوتے ہيںجو شيعہ تنظيموں کے وجود کا پتہ ويتے ہيں۔
البتہ يہاں ہم نے جو شيعوں کي خوفيہ تنظيم ،کا لفظ استعمال کيا ہے اس
سے يہ غلط
فہمي نہيں پيدا ہوني چاہيے کہ یہاں ہماري مراد موجودہ زمانہ کي طرح
سياسي تنظيموں
کي کوئي باقاعدہ منظم شکل ہے بلکہ ہمارا مقصد وہ اعتقادي روابط ہيں جو
لوگوں کو ايک
دوسرے کے قريب لاکر ايک دھاگے ميں پرو ديتے ہيں اور پھر لوگوں ميں جذبہ
فداکاري
پيدا کرکے خفيہ سرگرمي پر اگساتي ہے اور نتيجہ کے طور پر انساني ذہن
ميں ايک ہم فکر
جماعت کا تصور پيدا ہو جاتاہے۔
ان ہي دنوں جبکہ پيغمبر اسلام صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم کي ذرّیت کوفہ
ميں اسير تھي
ايک رات اسي جگہ جہاں ان کو قيد رکھا گيا تھا ايک پتھر آکر گرا، اہلبيت
اس پتھر کي
طرف متوجہ ہو ئے ديکھا توايک کاغذ کا ٹکڑا اس کے ساتھ منسلک تھا جس پر
کچھ اس طرح
کي عبارت تحرير تھي:کوفہ کے حاکم نے ايک شخص کو يزيد کے پاس(شام) روانہ
کيا ہے تاکہ
آپ کے حا لات سے اس کو باخبر کر ے اب اگر کل رات تک(مثلاً)آپ کو تکبير
کي آواز
سنائي دے تو سمجھ ليجئے کہ آپ کو ہيں قتل کردينے کافيصلہ ہوا ہے اور
اگر ايسا نہ ہو
تو سمجھئے گا کہ حالات کچھ بہتر ہيں
جس وقت ہم يہ بات سنتے ہيں تو اس بات کا بہ خوبي اندازہ ہو تا ہے کہ اس
تنظيم کے
دوستوں يا ممبروں ميں سے کوئي شخص ابن ذياد کے دربار ميںموجود رہا ہو
گا جس کو تمام
حالات کي خبر تھي اور قيد خانے تک رسائي بھي رکھتا تھا حتي کہ اس کو يہ
بھي معلوم
تھا کہ قيديوں کے سلسلے ميں کيا فيصلے اور منصوبے تيار کئے جا رہے ہيں
اور صدائے
تکبير کے ذريعہ اہلبيت کوحالات سے باخبر کر سکتا ہے چناچہ اس شدت عمل
کے ساتھ ساتھ
جو وجود ميں آچکي تھي اس طرح کي چيزيں بھي ديکھي جاسکتي تھيں۔
اس طرح کي ايک مثال عبداللہ بن عفيف ارذي کي ہے جو ايک مرد نابينا ہيں
اور اسيران
کربلا کے کوفہ ميں ورود کے موقع پر ہي شديد ردعمل کا اظہار کرتے ہيں
اور نتيجہ کے
طور پر انہيں بھي جام شہادت نوش کرنا پڑتا ہے يہي نہيں بلکہ اس قسم کے
افراد کيا
کوفہ کيا شام ہر جگہ مل جاتے ہيں جو قيديوں کي حالت ديکھ کر ان سے محبت
کااظہار
کرتے نظر آتے ہيں اور صرف آنسو بہانے پر ہي اکتفا نہيں کرتے بلکہ
ايکدوسرے کي نسبت
ملامت کے الفاظ بھي استعمال کرتے يئں (حتي کہ اس قسم کے واقعات دربار
يزيد اور ابن
ذياد کي بزم ميں بھي پيش آتے رہے ہيں)
لہذا اگرچہ حادثہ کربلا کے بعد شديدقسم کا خو ف عوام و خواص پر طاري ہو
چکا تھا پھر
بھي ابھي اس نے وہ نوعيت اختيار کي تھي کہ شيعيان آل محمد۰
کي تمام سرگرمياں بالکل
ہي مفلوج ہو گئي ہوں اور وہ ضعف و پراگندگي کا شکار ہو گئے ہوں ليکن
کچھ ہي دنوں
بعد ايک دوسرا حادثہ کچھ اس قسم کا رونما ہوا جس نے ماحول ميں کچھ اور
گھٹن کا
اضافہ کر ديا اور يہں سے امام جعفر صادق عليہٰ اسلام کي حديث :’’ارتد
الناس بعد
الحسينٴ‘‘ کا مفہوم سمجھ ميں آتا ہے امام عليہ اسلام نے غالباً اسي
حادثہ کے دوران
يا اسکے بعد کے حالات کي طرف اشارہ فرماياہے يا ممکن ہے يہ بات اس
درمياني وقفہ سے
متعلق فرمائي ہو جو ان کے مابين گزرا ہے ۔
ان چند برسوں کے دوران اس عظيم حادثہ ہونے سے پہلے شيعہ اپنے امور کو
منظم کرنے اور
اپنے درميان پہلي سي ہم آہنگي دوبارہ واپس لانے ميں لگے ہوئے تھے اس
مقام پر طبري
اپنے تاثرات کا يوںاظہار کرتا ہے: (آيت)
يعني وہ لوگ (مراد گروہ شيعہ ہے) جنگي ساز و سامان اکھٹا کرتے نيز خود
کو جنگ کے
لئے آمادہ کرنے ميں لگے ہوئے تھے چپکے چپکے شيعوں اور غير شيعوں کو
حسين ٴابن علي ٴ
کے خون کا انتقام لينے پر تيار کر رہے تھے اور لوگ گروہ در گروہ ان کي
آواز پر لبيک
کہتے ہوئے ان ميں شموليت اختيار کر رہے تھے اور يہ سلسلہ يوں ہي جاري
رہا يہاں تک
کہ يزيد ابن معاويہ دنيا سے رخصت ہو گيا۔
چناچہ ہم ديکھتے ہيں باوجود اس کے کہ ماحول ميں گھٹن اور سراسيمگي بہت
پائي جاتي
تھي پھر بھي اس طرح کي سرگرمياں اپني جگہ پر جاري تھيں(جيسا کہ طبري کي
عبارت سے
پتہ چلتا ہے) اور شايد يہي وہ وجہ تھي جس کي بنياد پر ’’جہادالشيعہ‘‘
اگر چہ شيعہ
نہيں ہے اور امام زين العابدين عليہ اسلام کے سلسلہ ميں صحيح اور مطابق
واقع نظريات
نہيں رکھتا پھر بھي وہ اس حقيقت کو درک کر ليتا ہے اور اپنے احساسات کو
ان الفاظ
ميں پيش کرتاہے کہ:’’گروہ شيعہ نے حسين ٴ کي شہادت کے بعدخود کو
باقاعدہ تنظيم کي
شکل ميں منظم کر ليا۔ان کے اعتقادات اور سياسي روابط انہيں آپس ميں
مرطوب کرتے تھے
ان کي جماعتيں اور قائد تھے اسي طرح وہ فوجي طاقت کے مالک تھے چناچہ
توابين کي
جماعت، اس تنظيم کي سب سے پہلي مظہر ہے ان حقائق کے پيش نظر ايسا محسوس
ہوتا ہے کہ
عاشور کے عظيم حادثہ کے زير اثر اگرچہ بڑي حد تک شيعہ تنظيميں ضعف و
کمزوري کا شکار
ہو گئي تھيں پھر بھي اس دوران کچھ تحريکيں اپني ناتواني کے باوجود
مصروف عمل رہيں
جس کے نتيجہ ميں پہلے کي طرح دوبارہ خود کو منظم کرنے ميں کامياب ہو
گيئں يہاں تک
کہ’’ واقعہ حرہ‘‘ پيش آيا اور ميں سمجھتا ہوں واقعہ حرہ تاريخ تشيع ميں
نہايت اہم
موڑ ہے۔ دراصل يہي وہ واقعہ ہے جس نے شيعہ تحريک پر بڑي کاري ضرب لگائي
ہے۔
واقعہ حرہ:
حرہ کا حادثہ تقريباً ٦٣ ہجري ميں پيش آيا ۔ مختصر طور پر اس حادثہ کي
تفصيلات کچھ
اس طرح ہيں کہ ٦٢ ہجري ميں بنو اميہ کا کم تجربہ نوجوان مدينہ کا حکم
مقرر ہوا اس
نے خيال کيا کہ شيعيان مدينہ کا دل جيتنے کے لئے بہتر ہوگا کہ ان ميں
سے کچھ لوگوں
کو شام جاکر يزيد سے ملاقات کرنے کي دعوت دي جائے چناچہ اس نے ايسا ہي
کيامدينہ کے
چند سربرآوردہ افراد،اصحاب نيز ديگر معززين ميں سے منتخب کئے جس ميں
اکثريت امام
زين العابدين عليہ اسلام کے عقيدت مندوں ميں شمار ہوتي تھي ان لوگوں کو
شام جانے کي
دعوت دي گئي کہ وہ جائيں اور يزيد کے لطف و کرم ديکھ کر اس سے مانوس ہو
جائيں اور
اس طرح اختلاف ميں کمي واقع ہو جائے۔ يہ لوگ شام گئے اور يزيد سے
ملاقات کي چند دن
اس کے مہمان رہے ان لوگوں کي خوب پزيرائي کي گئي اور رخصت ہوتے وقت
يزيد نے ہر ايک
کو کافي بڑي رقم (تقريباًپچاس ہزار سے ليکر ايک لاکھ درہم تک)سے نوازہ
ليکن ۔
جيسے ہي يہ لوگ مدينہ واپسي پہنچے ،کيونکہ يزيدي دربار ميں پيش آنے
والے الميے
انہوں نے اپني نظروں سے خود ديکھ لئے تھے لہذا خوب کھل کر يزيد کو مورو
تنقيد قرار
ديا اور نتيجہ بالکل ہي بر عکس ظاہر ہواان لوگوں نے يزيد کي تعريف و
توصيف کرنے کے
بجائے ہر خاص و عام کو اس کے جرائم سے آگاہ کرنا شروع کرديا لوگوں سے
کہا يزيد کو
کس بنياد پر خليفہ تسليم کيا جا سکتا ہے جبکہ شراب و کباب ميں غرق رہنا
اور کتوں سے
کھيلنا اس کا بہترين مشغلہ ہے کوئي فسق و فجور ايسا نہيں جو اس کے يہاں
نہ پايا
جاتا ہو لہذا ہم اس کو خلافت سے معزول کرتے ہيں
عبداللہ بن حنظلہ جو مد ينہ کي نماياں اور محبوب شخصيتوں ميں سے تھے
يزيد کے خلاف
آواز بلند کرنے والوں مين پيش پيش تھے اور ان لوگوں نے يزيد کو معزول
کرکے لوگوں کو
اپني طرف دعوت ديني شروع کردي۔
اس اقدام کا نتيجہ يزيد کي طرف سے براہ راست ردعمل کي صورت ميں ظاہر
ہوا اس نے اپنے
ايک تجربہ کار پير و فرتوت سردار،مسلم بن عقبہ کو چند مخصوص لشکريوں کے
ساتھ مدينہ
روانہ کيا کہ وہ اس فتنہ کو خاموش کر دے مسلم بن عقبہ آيا اور چند روز
تک اہل مدينہ
کي قوت مقابلہ کو پست کرنے کے لئے شہر کا محاصرہ کئے رہا يہاں تک کہ
ايک دن شہر ميں
داخل ہوا اور اس قدر قتل و غارت گري مچائي اور اس قدر ظلم و بربريت کا
مظاہرہ کيا
کہ تاريخ اسلام ميں وہ آپ اپني مثال ہے۔
اس نے مدينہ ميں کچھ
ايسا ہي قتل و غارت گري اور ظلم و زيادتي کابازار گرم کيا تھا کہ اس
حادثہ کے بعد
اس کا لقب ہي مسرف پڑگيا اور لوگ اس کو مسرف بن عقبہ کے نام سے پکارنے
لگے حادثہ
حرہ سے واقعات کي فہرست
کافي طويل ہے اور ميں زيادہ تشريح ميں جانا نہيں چاہتا صرف
اتنا عرض کردينا کافي ہے کہ يہ واقع تمام مسلمانوں خصوصاً اہلبيت عليہ
اسلام کے
دوستوں اور ہمنواؤں ميں بے پناہ خوف و ہراس پيدا کرنے کا سبب بنا خاص
طور پر مدينہ
تقريباً خالي ہو گيا کچھ لوگ بھاگ گئے کچھ لوگ مار ڈالے گئے اہلبيتٴ کے
کچھ مخلص و
ہمدرد مثال کے طور پر عبداللہ ا بن حنظلہ جيسے لوگ شہيد کرديئے گئے اور
ان کي جگہ
خالي ہو گئي اس حادثہ کي خبر پوري اسلامي دنيا ميں پھيل گئي اور سب
سمجھ گئے کہ اس
قسم کي ہر تحريک کا سدباب کرنے کے لئے حکومت پوري طرح آمادہ ہے اور کسي
طرح کے
اقدام کي اجازت دينے کو ہر گز تيار نہيں ہيں
اس کے بعد ايک اور حادثہ جو مزيد شيعوں کو سرکوبي اور ضعف کا سبب بنا
مختار لقفي کي
کوفہ ميں شہادت اور پورے عالم اسلام پر عبدالملک بن مروان کے تسلط کي
صورت ميں ظاہر
ہوا۔
يزيد کي موت کے بعد جو خلفائ آئے ہيں ان ميں اس کا بيٹا معاويہ ابن
يزيد ہے جو تين
ماہ سے زيادہ حکومت نہ کر سکا اس کے بعد مروان بن حکم کے ہاتھ ميں
اقتدار آيا اور
تقريباً دو سال يا اس سے کچھ کم اس نے حکومت کي اور پہر خلافت کي باگ
ڈور عبدالملک
بن مروان کے ہاتھ ميں آگئي جس کے لئے مورقين کا خيال ہے کہ وہ خلفائے
بنواميہ ميں
زيرک ترين خليفہ رہا ہے چناچہ اس کے بارہ ميں مشہور ہے کہ
کان عبدالملک اشدھم شکيبہ واقساھم عزيمہ (آيت)
عبدالملک پورے عالم اسلام کو اپني مٹھي مين جکڑ لينے ميں کا مياب ہو
گيا اور خوف و
دہشت سے معمور عامرانہ حکومت قائم کر دي۔
حکومت پرمکمل تسلط حاصل کرنے کے لئے عبدالملک کے سامنے صرف ايک راہ تھي
اور وہ يہ
کہ اپنے تمام رقيبوں کا صفايا کردے۔مختار ،جو شيعت کي علامت تھے ،مصعب
بن زبير کے
ہاتھوں پہلے ہي جام شہادت نوش فرماچکے تھے ليکن عبدالملک شيعہ تحريک کا
نام و نشان
مٹا دينا چاہتا تھا اور اس نے يہي کيا بھي اس کے دور ميں عراق خسوصاً
کوفہ جو اس
وقت شيعوں کا ايک گڑہ شمار کيا جاتا تھا مکمل جمود اور ضاموشي کي نذر
ہو گيا۔
بہر حال يہ حوادث کربلا کے عظيم سانحہ سے شروع ہوئي اور پھر يکے بعد
ديگرے ’’واقعہ
حرہ‘‘ ميں ايل مدينہ کے قتل و غارت ،عراق ميں توابين کي بيخ کي، جناب
مختار ثقفي
اور ابراہيم بن مالک اشتر نحفي نيز ديگر کا برين شيعہ کي شہادت کا
نتيجہ يہ نکلا کہ
آزادي کے حصول کي غرض سے ہر تحريک چاہے وہ مدینہ ہو يا کوفہ (کيونکہ اس
وقت يہ
دونوں شيعوں کے اہم ترين مراکز تھے ) کچل کر رکھ دي گئي۔ شيعت سے متعلق
پورے عالم
اسلام ميں ايک عجيب خوف و ہراس پيدا ہو گيا۔اس کے بعد بھي جو لوگ ائمہ
طاہرين سے
وابستہ رہ گئے تھے اپني زندگي نہايت غربت و کس مپري ميں بسر کر رہے
تھے۔
ا س دور ميں امام کا موقف:
بعض لوگ يہ خيال کرتے ہيں کہ اگر امام زين العابدين عليہ اسلام بھي بنو
اميہ کے
نظام حکومت کے خلاف آواز بلند کرنا چاہتے تو وہ بھي علم بغاب بلند کر
دیتے يا کم از
کم (مثال کے طور پر) عبداللہ بن حنظلہ يا مختارثقفي سے ملحق ہو جاتے
يايہ کہ آپٴ ان
لوگوں کي رہبري قبول کر ليتے اور کھل کر مسلحانہ مقابلہ کرتے ليکن اس
دور کے حالات
ہمارے پيش نظر ہوں جس ميںامام سجادٴ زندگي بسر کر رہے تھے تو ہمارے لئے
سمجھنا مشکل
نہ ہو گا کہ اس طرح کي فکر ائمہ عليہ اسلام کے مقصد سے (جسے ہم بعد ميں
بيان کريں
گے) قطي ميل نہيں کھاتي۔
ان حالات ميںاگر امام زين العابدين عليہ اسلام يا ايمہ عليہ اسلام ميں
سے کوئي بھي
ہوتا اور کھل کے کسي مخالف تحريک ميں شامل ہو جاتا يا تلوار لے کے
سامنے آگيا ہوتا
تو يقيني طور پر شيعت کي جڑيں ہميشہ کے لئے کٹ جائيں اور پھر آئندہ کسي
زمانہ ميں
مکتب اہلبيت کے نشوونما اور ولاديت وامامت کے قيام کي کوئي اميد باقي
نہ رہ جاتي سب
کچھ ختم اور نيست و نابود ہو کر رہ جاتا۔
بظاہر يہي وجہ نظر آتي ہے کہ امام سجادٴ مختار ثقفي کے معاملہ ميں ان
سے کھل کر کسي
طرح کي ہم آہنگي کا اعلان نہيں کرتے اگرچہ بعض روايتيں اس بات کي شاہد
ہيں کہ آپ کا
مختارثقفي سے مخفي طور پر رابطہ قائم تھا چناچہ يہ ايک کھلي ہوئي حقيقت
ہے کہ امام
ٴ نے علي الاعلان ان سے کبھي کسي طرح کا رابطہ نہ رکھا بلکہ روايتيں تو
کہتي ہيں کہ
حضرت عام نشستوں ميں ہيںمختار سے اپني ناراضگي کا اظہار بھي کرتے تھے
اور يہ چيز
بالکل فطري ہے ظاہر ہے آپ اس سلسلہ ميں تقيہ سے کام لے رہے تھے تاکہ
دشمن کو ان کے
درميان کسي خفيہ رابطے کا شک بھي نہ ہونے پائے۔
اگر مختار کو کاميابي نصيب ہو جاتي تو حکومت اہلبيتٴ کے سپرد کر ديتے
ليکن شکست کي
صورت ميں، جيسا کہ ہوا ۔ امام زين العابدين عليہ اسلام اور مختار کے
درميان رابطہ
کا علم ہو جانے کے بعد خود امام عليہ اسلام اور آپ کے دوستوں اور
ہمنواؤں کو بھي اس
کي سخت قيمت چکاني پڑتي اور شايد شيعت کا قلع قمع ہو گيا ہوتا لہذا
جناب امام سجادٴ
ان سے کھل کر کسي طرح کا رابطہ برقرار کرنا کسي طرح اپنے موقف کے لئے
مفيد نہيں
سمجھتے۔
روایت ميں ہے کہ جس وقت حادثہ حرہ کے موقع پر مسلم ابن عقبہ مدينہ
منورہ پہنچ رہا
تھا تو کسي کو شک نہ تھا کہ سب سے پہلي شخصيت جو اس کے ظلم وجود کا
نشانہ بنے گي وہ
امام زين العابدين عليہ الصلوٰۃ واسلام کي ذات مبارک ہے ليکن حضرت نے
اپني تدبير و
فراست سے کام ليتے ہو ئے ايسي حکيمانہ روش اختيار کي کہ يہ بلاآپ سے
دور ہوگئي
چناچہ امام ٴ کا وجود باقي ر ہا اور اس طرح شيعہ کا اصل محور اپنے مقام
پر محفوظ
رہا۔
البتہ وہ روايتيں جو بعض کتب منجملہ ان کے خود بحار الانوار ميں بھي
نقل کي گئي ہيں
کہ امام عليہ اسلام نے مسلم ابن عقبہ کے سامنے اپني حقارت اور عاجزي کا
اظہار
فرمايا ، اس کو بھي ميں کسي صورت قبول کرنے کو تيار نہيں ہوں بلکہ ميري
نظر ميں يہ
قطعي امام پرجھوٹ اور افترا باندھا گيا ہے کيونکہ:۔
اولاً۔ان ميں سے کوئي روایت صحيح اسناد پر منتہي نہيں ہوتي۔
ثانياً۔ يہ کہ ان کے بالمقابل دوسري روایتيں موجود ہيں جو مضمون کے
اعتبار سے ،ان
کا جھوٹا ہونا ثابت کرتي ہيں۔
امام زين العابدين عليہ اسلام اور مسلم ابن عقبہ کي ملاقات کے ذيل ميں
متعد روايتيں
ملتي ہيں اور ان ميں سے کوئي ايک دوسرے سے ميل نہيں کھاتي کيونکہ ان
ميں سے بعض
روايات ائمہ عليہماسلام کي شخصيت اور ان کے کردار سے زيادہ قريب ہيں
لہذا ہم ان کو
قبول کرتے ہيںاور طبيعي طور پر قبول کرتے ہيں اور پھران کے بالمقابل
بہت سي دوسري
روايتيں خود بخود غلط قرار پائي جاتي ہيں اور ميرے نزديک ان کے غلط
ہونے ميںکوئي شک
و شبہ باقي نہيں رہتا۔
بہر حال وہ اعمال جو بعض روايتيوں ميں بيان کئے گئے ہيں امام عليہ
اسلام سے بيعد
ہيں اگر کوئي ايساطریقہ کارآپ اپناتے تو قتل کرديئے جاتے اور يہ چيزيں
امام حسين
عليہ اسلام کي اس تحريک کے حق ميں ايک ناقابل تلافي نقصان ہو سکتا تھا
جس کو زندہ
رکھنا امام سجاد ٴ کے سامنے سب سے بڑا مسلئہ تھا لہذا ضروري تھا کہ
امام سجادٴ زندہ
رہيں اور اسي طرح جيسا کہ امام جعفر صادق عليہ اسلام سے منقول روایت
ميں کيا گيا ہے
رفتہ رفتہ لوگ آپ سے محلق ہوتے رہيں اور ان کي تعداد بڑہتي رہے دراصل
امام زين
العابدينٴ عليہ اسلام کا کام ايسے سخت اور نامساعدحالات ميں شروع ہوتا
ہے جس کا
جاري رکھنا عام افراد کے لئے تقريباً ناممکن تھا۔
عبدالملک ک دور جس ميں حضرت کي امامت کا بيشتر حصہ تقريباً ٣٠۔٣٢ سال
بڑا ہي دشوار
دور تھا عبدالملک کي پوري مشينري مکمل طور پر آپ کي نگراني پر لگي ہوئي
تھي اس نے
ايسے جاسوس مقرر کر رکھے تھے جو امام عليہ اسلام کي زندگي کے ايک ايک
پل حتي کہ
خانگي اور خصوصي مسائل کي بھي خبر بھي اس تک پہنچاتے رہتے تھے۔
امام زين العابدين عليہ اسلام کے پاس ايک کنيز تھي جس کو آپ نے آزاد
کرنے کے بعد آپ
نے اس سے شادي کر لي۔يہ خبر عبدالملک کو معلوم ہوئي تو اس نے حضرت کے
نام ايک خط
روانہ کيا اور اس نے اس موضوع پر طنز و سرزانش کي وہ اس طرح باور کرانے
کي کوشش کر
رہا تھا کہ ہم کو آپ کے تمام امور کي خبر ملتي رہتي ہے اور تمام
معاملات زندگي کي
خبر رکھتے ہيں اور ضمني طور پرہم خون اور ہم قبيلہ ہونے کي بنياد پر
بحث و مناظرہ
بھي کرنا چاہتا ہے وہ خط ميں لکھتا ہے کہ آپ کا يہ کام قريش کي روش کے
خلاف ہے اور
چونکہ آپ قريش کے ہي ايک فرد ہيں لہذا آپ کو ايسا نہيں کرنا چاہئے تھا
۔چناچہ حضرتٴ
بھي اس کا جواب بہت تند و سخت لب و لہجہ ميں ديتے ہيں جو قابل توجہ ہے
آپ نے اپنے
خط سے عبدالمالک پر يہ واضع کر ديا کہ تيرا نيم دوستي اور نيم دشمني پر
محمول يہ خط
کسي طرح بھي ميرے لئے قابل قبول نہيں ہے۔
يہ واقع اس دور کا ہے جب حضرت کسي حد تک اپني جدوجہد کا آغاز کر چکے
تھے۔
امام عليہ السلام کے مقاصد :
امام سجاد نے جن حالات ميں کام کيا يہ بات واضح ہو گئي، تو امام عليہ
اسلام ايسے
حالات ميں اپني تحريک کاآغاز کرنا چاہتے تھیاس منزل ميں ائمہ عليہم
اسلام کے مقصد
اور طريقہ کا ر کے سلسلہ ميں مختصر طور پر اشارہ کر دينا ضروري سمجھتا
ہوں اسکے بعد
روش اور طريقہ کار کي روشني ميں امام عليہ اسلام کي جزئيات زندگي پر
روشني ڈالنے کي
کوشش کرونگا۔
اس ميں تو کوئي شک نہيں کہ امام سجاد کا آخري مقصد ، اسلامي حکومت قائم
کرنا ہے
چناچہ صادق آل محمد۰
کي اس روايت کے مطابق، جس کا ہم گزشتہ مقالہ ميں ذکر کر چکے
ہيں، خداوندعالم کي طرف سے ٧٠ ہجري، اسلامي حکومت کي تاسيس کا سال قرار
ديا گيا تھا
مگر ٦١ ہجري ميں ہي امام حسينٴ کي شہادت واقع ہوگئي جس کے نتيجہ ميں يہ
کا م سن
١٤٧۔١٤٨ تک کے لئے موقف کر ديا گيا۔
يہ چيز کامل طور پر اس بات کي نشان دہي کرتي ہے کہ جناب امام سجادٴ و
نيز ديگر تمام
ائمہ عليہم اسلام کا آخري مقصد اسلامي حکومت قائم کرنا ہي رہاہے ۔
ليکن سوال يہ
پيدا ہوتا ہے آخر ان حالات ميں حکومت اسلامي قائم کس طرح ہو سکتي ہے۔
اس کے لئے چند چيزيں بہت ضروري ہيں۔
١۔ صحيح اسلامي طرز فکر، جو واقعي طور پر ائمہ عليہم اسلام کے پاس
تھي۔مدون و مرتب
ہو اور درس و تبليغ کے ذريعہ عام کي جائے کيونکہ يہي طرز فکر ہے جس کو
اسلامي حکومت
کي بنياد و اساس قرار ديا جا سکتا ہے۔
اس حقيقت کے پيش نظر کہ مسلسل طور پر ايک لمبے عرصہ تک اسلامي معاشرہ
صحيح اسلامي
طرز فکر سے دوري اختيار کئے رہا بھلا کس طرح ممکن ہو سکتا تھا کہ لوگوں
کے ذہنوں پر
اسلامي افکار کا نقش قائم کئے بغير اسلامي نظريات پر مبني ايک حکومت کر
دي جائے
جبکہ ابھي حکومت کے حقيقي احکام کي تدوين و ترتیب بھي باقاعدہ عمل ميں
نہ آسکي ہو۔
امام زين العابدين عليہ اسلا م کا عظيم ترين کام يہي ہے کہ آپ نے اسلام
کے بنيادي
افکار و نظريات توحيد،نبوت،انسان کي معنوي حيثيت، خدا اور بندے کے
درميان رابطہ نيز
و ديگر اہم موضوعات کومدون ومرتب کرديا ہے چناچہ زيور آل محمد يعني
صحيفہٴ سجاديہ
کي اہم ترين کارنامہ يہي ہے۔اگر آپ صحيفہ سجّاديہ کا مطالعہ کريں اور
اس کے بعد اس
زمانے کے عام اسلامي فکر کا جائزہ ليں تو آپ ديکھيں گے دونوں کے درميان
کتنا عميق
فاصلہ نظر آتا ہے ۔جس وقت پورا عالم اسلام ، ماديت ميں گرفتار اپني
مادي ضروريات و
خواہشات کي تکميل ميں سرگردان و منہمک ہے،خليفہ وقت (عبدالملک بن
مروان) سے لے کر
اس کے ارد گرد بيٹھنے والے علمائ تک ( مثال کے طور پر محمد بن شہاب
زہري جيسے
درباري علمائ جس کا ذکر عنقريب آئے گا) سب کے سب مفاد پرستي و دنياطلبي
ميں غرق نظر
آتے ہيں۔ امام سجادٴ لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے ان کي اسلامي حميت کو
للکارتے ہيں:۔
(آيت)
آيا (تم ميں) کوئي ايسا آزاد مرد نہيں ہے جو اس دريدہ دہن حريص کتے کا
بچا کچھا اس
کے اہل کے لئے چھوڑ دے۔
يہاں اسلامي طرز فکرسے مراد ۔معنويات کو اصل ہدف قرار ديکر صحيح اسلامي
و معنوي
بلنديوں تک پہنچنے کي جدوجہد کرنا اورانسان کا اپنے معبود نيز اس کي
طرف سے عائدشدہ
ذمہ داريوں کے تئيں متوجہ رہنا ہے ۔ جبکہ اس کے بالمقابل وہ مقدي طرز
فکر ہے جس نے
اس دور کے مسلمانوں کو اپنا شکار بنارکھا تھا۔
بہاحال صرف نمونہ کے طور پر ہم نے يہاں ايک بات ذکر کر دي ورنہ امام
سجادٴ نے اس
طرح کے بے انتہا امور انجام ديئے ہيں جس کے نتيجہ ميں صحيح طرز فکر
اپنے خدوخال کے
ساتھ اسلامي معاشرہ ميں باقي رہ جائے اور اس کو امام زين العابدين عليہ
اسلام کا
اولين کارنامہ قرارديا جا سکتا ہے۔
٢۔اسلامي حکومت کي تشکيل کے لئے حقدار افراد کي طرف عوام کي رہنمائي
کرنا۔ ان حالات
ميں جبکہ دسيوں سال سے پيغمبر اسلام۰
کي ذريت طاہرہ کے خلاف پروپگنڈا کا بازار گرم
کر رکھا ہو اور تقريباً پورا عالم اسلام اس شور وغوغا سے لبريز ہو۔
پيغمبر اسلام کي
طرف منسوب کرکے ايسي حديثوں کا انبار لگاديا ہو۔جو اہل بيت کي تحريک کے
سو فيصد
خلاف ہوں حتي کہ بعض حديثوں ميں اہلبيت کو مورو سب و لعن تک قرار دے
ديا گيا ہو،
اور يہ حديثيں عوام کے درميان نشر بھي ہو چکي ہوں لوگوں کو اہلبيتٴ کي
صحيح معرفت
اور ان کي معنوي حيثيت اور مقام کا علم ہي نہ ہو۔ تو بھلابتايئے
اہلبيتٴ کے ہاتھوں
حکومت کي تشکيل کيسے ممکن ہو سکتي ہے؟
اسي لئے امام زين العابدين عليہ اسلام کا ايک اہم ترين مقصد يہ بھي تھا
کہ لوگوں کے
درميان اہلبيتٴ کي حقانيت کو واضح و آشکار کريں انہيں بتائيں کہ ولايت
و امامت اور
خلافت وحکومت ان کا حق ہے يہي حضرات پيغمبر حتمي مرتب کے حقيقي جانشين
ہيں۔ ساتھ ہي
ساتھ لوگوں کو اس مسئلہ کي اہميت سے آگاہ کيا جائے چناچہ اگرچہ يہ
مسئلہ اسلامي
نظريات اور آئيڈيولوجي سے تعلق رکھتا ہے پھر بھي اس کا سياست سے بڑا
گہرا ربط ہے
دوسرے لفظوں ميںموجودہ سياسي نظام کے خلاف ايک سياسي تحريک ہے۔
٣۔امام سجادٴ کي تيسري اہم ذ مہ داري يہ تھي کہ ايک ايسي تشکيل دي جائے
جو آئندہ کے
لئے ہر طرح سياسي و اسلامي تحريک کا اصل محور قرار پا سکے ليکن ايک
ايسے معاشر ہ
ميں جہاں لوگ گھٹن، فقر،مالي و معنوي فشار کے زير اثر افراتفري اور
پراگندگي کي
زندگي گزارنے کے عادي ہو چکے ہوں حتي کہ خود شعيہ حضرات ايسے سخت دباؤ
اور فشار ميں
مبتلا کر ديئے گئے ہوں کہ ان کي تنظيميں درہم وبرہم ہو کر رہ گئي ہوں
۔بھلا امام
زين العابدين عليہ اسلام کے لئے کس طرح ممکن تھا کہ تن تنہا يا اپنے
چند گنے چنے
نامنظم مخلصين کے ساتھ اپنا کام شروع کر سکيں؟
چناچہ کسي تحريک کے آغاز سے پہلے امامٴ کے لئے ضروري تھا کہ وہ کسي
شيعوں کو منظم
کريں اور باقاعدہ ان کي تنظيميں تشکيل ديں۔ اور يہ چيز جہاں تک ميري
نظرہے،
اميرالمومنين عليہ اسلام کے دور ميں موجود تھي البتہ بعد ميں کربلا کے
المناک
سانحہ، مدينہ ميں حرہ کے حادثہ اور کوفہ ميں مختار کے و اقعہ نے
تقريباً ان کي
بنياديں متزلزل کرکے رکھدي تھيں اب ضرورت اس بات تھي کہ ان کو دوبارہ
منظم کر کے ان
ميں ايک نئي روح پھونک دي جائے۔
مختصر يہ کہ جناب امام سجادٴ کو اپني تحريک آگے بڑھانے کے لئے بنيادي
نوعيت کے تين
اہم کام انجام دينے تھے۔
اوّل: منزل من اللہ، صحيح اسلامي افکار و نظريات کي تدوين و ترتيب، جو
ايک مدت سے
تحريف يا فراموشي کي نذر کر ديئے گئے تھے۔
دوم: اہلبيت عليہم اسلام کي حقانيت اور خلافت و امامت و ولايت پر ان کے
استحقاق کا
اثبات۔
سوم: شيعان آل محمد کو ايک نقطہ پر جمع کرکے ان کي ايک باقاعدہ تنظيم
کي تشکيل۔
يہي وہ تين بنيادي کام ہيں جن کا ہميں تفصيل سے جائزہ لينا ہے اور يہ
ديکھنا ہے کہ
ان ميں سے کون سا کام امام سجاد ٴ کے زمانہ ميں انجام پايا۔اگرچہ ان
تين امور کے
علاوہ اور بھي بہت سے کام انجام پانے تھے مگر ان کو ضمني و ثانوي حيثيت
حاصل ہے۔
منجملہ اس کے کبھي کبھي خود امام عليہ اسلام يا آپ کے ساتھيوں کے ذريعہ
ايسے
اقدامات عمل ميں اآيئں يا ايسے افکار و خيالات پيش کئے جايئں جو اس
گھٹن کے ماحول
ميں کسي حد تک تبديلي لا سکيں ۔
چناچہ ايسے متعدد واقعات ملتے ہيں جہاں مجمع عام ميں امامٴ کے ہمنوا يا
خود امام
عليہ اسلام کچھ ايسے حالات کااظہار فرماتے نظرآتے ہيںجس کا مقصد محض اس
گھٹن کي فضا
کو توڑ کر اس منجمد ماحول ميں ہوا کا ايک تازہ جھونکا پيدا کرنا تھا(
البتہ اس طرح
کے واقعات بھي اس دور کے ہيں جب تحريک ميں کچھ ااستحکام پيدا ہو چلا
تھا)ہے۔
بہرحال يہ وہ ضمني اقدامات ہيں جس کے چند نمونے ياددہاني کے طور پر آگے
چل کر ہم
پيش کر يں گے اسي طرح کا ايک اور ضمني کام براہ راست موجودہ مشينري يا
اس کے
لواحقين کے ساتھ معمولي طور پر پنجے نرم کرنا بھي ہے چناچہ اس طرح کے
قفيے امام
عليہٰ اسلام اور عبدالملک بن مروان کے درميان باربار پيش آتے رہے ہيں
۔اس کے علاوہ
اسي ضمن ميں حضرت اور عبدالملک سے وابستہ(محمد بن شہاب زہري جيسے)منحرف
علمائ کے
درميان پيش آنے والے معاملات بھي شامل ہيں۔ اسي طرح امام عليہ اسلام کے
دوستوں اور
خلفائے وقت کے مابين ہونے والے بعض معرکہ آرائياں بھي اسي فہرست ميں
آتي ہيںاور ان
سب کا ہدف و مقصد کسي حد تک اس حبس اور گھٹن کے ماحول سے لوگوں کو نجات
دلانا تھا۔
انشااللہ آئندہ مقالوں ميںان جزئيات پر بحث کي جائے گي۔
اگر کوئي شخص صرف اسي حد تک ميرے تمام معروضات کو اچھي طرح درک کرلے تو
ساري کي
ساري اخلاقي روايات مو غظانہ گفتگو اور پيغامات، عارفانہ اور ادودعائيں
نيزديگربیش
بہااقوال وارشادات ايک معني پيدا کر ليں گے يعني وہ شخص اس بات کو
محسوس کرنے پر
مجبور ہو جائے گا کہ امام عليہ اسلام کے تمام اقدامات و اشارات ان ہي
تين خطوط کے
ارد گرد گھومتے نظر آيئں گے جن کي طرف ميں نے ابھي اشارہ کيا ہے اور
مجموعي طور پر
ان تمام امور کا ايک ہي مقصد و ہدف يعني ايک اسلامي حکومت کي تشکيل ہے۔
البتہ يہاں يہ بات ملحوظ خاطر رہے کہ امام سجاد ٴ کو ہر گز اس بات کي
فکر اور جلدي
نہيں تھي کہ مطلوبہ اسلامي حکومت خود آپ کے زمانے ميں ہي تشکيل پاجائے
بلکہ آپ
جانتے تھے کہ يہ کام مستقبل قريب آپ کے فرزند امام جعفر صادق عليہ
اسلام کے ہاتھوں
انجام پانا مقرر ہو چکا ہے(جو آئندہ پيش آنے والے حادثات کي بنا پر
دوبارہ معرض
التوا ميں پڑ گيا)
حکومت اسلامي کي تشکيل :
گزشتہ مقالہ ميں ہماري بحث اس منزل تک پہنچي تھي کہ اسکامي حکو مت کي
تشکيل ہمارے
تمام ائمہٴ منجمد ان کے امام زين العابدين عليہ اسلام کا بنيادي مقصد
وہدف تھا
چناچہ اس سلسلہ ميں امام کو تين اہم ترين امور انجام دينے تھے کيونکہ
ان کا مقدماتي
منزلوں کو طے کئے بغير اسلامي حکومت کي تشکيل ممکن ہي نہيں تھي۔
پہلاکام :
لوگوں ميں صحيح اسلامي طرز فکر پيدا تھي جو گزشتہ حاکمان جور کے ہاتھوں
ايک مدت سے
خود فراموشي ياتحريف کي نذر ہو چکا تھا چناچہ اس کو اپني اصلي وابتدائي
شکل و صورت
ميں واپس لانے کے لئے پورے اسلامي معاشرے ميں ہر خاص و عام کو جس حد تک
بھي ممکن ہو
سکے اور جہاں جہاں تک بھي امام کي تبليغ و تعليم کي آواز پہنچ سکے
اسلامي اصول و
حقائق سے آشنا کرنا بے حد ضروري تھا۔
دوسرا کام:
مسئلہ امامت کي حقيقت سے لوگوں کو واقف بنانا تھا يعني عوام کے درميان
اسلامي حکومت
اسلامي حاکميت اوراسلامي حاکميت کو قائم کرنے کے لئے مستحق و موزوں
افراد کي نشان
دہي کرني تھي۔ان کو يہ بتاناتھا کہ اس وقت جو لوگ حلافت و حکومت پر
براجمان ہيں
حاکمان کفرد استبداد اور مريبان فسق ونفاق ہيں ۔اور آج اسلامي معاشرہ
ميں عبداللہ
بن مروان جيسوں کي حکومت وہ حاکميت نہيں ہے جو اسلام اپنے معاشرہ کے
لئے چاہتا ہے
کيونکہ جب تک عوام ان سے آگاہ وہوشيار نہ ہوں گے اور اپنے آپ مين نہ
آئيں گے۔رفتار
زمانہ کے ہاتھوں ان پر جو بے حسي طاري ہو گئي ہے اس کے گرد و غبار جب
تک ذہنوں سے
صاف نہ ہو جائيں گے امام عليہ اسلام کي نگاہ ميں حاکميت کا تصور ہے ان
کے لئے کبھي
قابل قبول نہ ہو گا۔
تيسرا کام :
ايک ايسي جماعت اور تنظيم دينا ميں جس سے وابستہ افراد دست امامت کے
تربيت يافتہ
مرکزي ارکان ہوں۔
ان تينوں بنيادي کاموں کے انجام پا جانے کا مطلب يہ ہے کہ اب اسلامي
حکومت يا علوي
نظام کے لئے زمين ہموار ہو چکي ہے۔البتہ ہم پہلے بھي عرض کر چکے ہيں
اور يہاں پھر
يہ بات واضح کردينا چاہتے ہيں کہ امام جعفر صادق عليہ اسلام کي برخلاف
امام زين
العابدين عليہ اسلام کے پيش نظر يہ بات ہر گز نہيں تھي کہ خود ان کے
زمانہ ميں يہ
حاکميت تبديل ہو کر حکومت اسلامي قائم ہو جائے کيونکہ معلوم تھا کہ
امام زين
العابدين عليہ اسلام کے زمانہ ميں اس کے لئے زمين ہموار نہيں ہو سکے
گي۔ظلم و
زيادتي،حبس و گھٹن کا ماحول کچھ اتنا زيادہ تھا کہ محض تيس(٣٠) سال کي
مدت ميں اس
کا برطرف ہوجانا ممکن نہ تھا چناچہ امام سجادٴ مسقبل کے لئے زمين ہموار
کر رہے تھے
حتيٰ کہ ايسے بھي متعدد قرآئن ملتے ہيں جس کے مطابق امام محمد باقر
عليہ اسلام کا
بھي اپني زندگي کے دوران ايسا کوئي ارادہ نہيں تھا کہ خود اپنے دور ميں
ہي اسلامي
حکومت تشکيل دیديںيعني ٦١ ہجري سے ٩٥ تک جبکہ امام سجاد ٴکي شہادت واقع
ہوئي اور
پھر ٩٥ ھ سے ١١٤ ہجري تک جو امام محمد باقر عليہ اسلام کا دور امامت ہے
ان ميں سے
کوئي بھي خود اپنے زمانے ميں ہي حکومت اسلامي تشکيل دے دينے کي فکر ميں
نہيں تھا
لہذا ان کي نظريں ايک مدت دراز کے بعد ظاہر ہونے والے نتائج پر تھيں
چناچہ جيسا کہ
ميں نے ارشاد تاً عرض کيا امام سجادٴ کا طريقہ کار طويل المدت کے لئے
تھا۔
اب ہم امام زين العابدين عليہ اسلام کے ارشادات عاليہ کاجائزہ ليتے
ہوئے اپنے
معروضات کاثبوت، خود امام عليہ اسلام کے اقوال ميں تلاش کرنے کي کوشش
کرتے ہيں
کيونکہ امام سجادٴ کي زندگي کے بارہ ميں کوئي تحقيقي جائزہ پيش کرتے
وقت ہمارے
بنيادي مصادر و ماخذ خود امام عليہ اسلام کے کلمات مبارکہ ہي ہونے
چاہيں ۔ اور يہي
طريقہ وروش ديگر ائمہ عليہم اسلام کے سلسلہ ميں بھي ہم نے اختيار کيا
ہے کيونکہ
ہماري نظر ميں کسي بھي امام کي زندگي سے متعلق صحيح معرفت و آشنائي کے
لئے خود
امامٴ کي زبان مبارک سے جاري ہو نے والے بيانات يا روايتيں بہترين منبع
و مدرک ہیں۔
ليکن ہم اس سے قبل بھي ايک مقالہ ميں يہ اشارہ کر چکے ہيں کہ امامٴ کے
بيانات کو اس
وقت صحيح طور پر سمجھ سکتے ہيں جب موقف و مقصد ،راہ عمل اور تلاش و
جستجو سے آشنا
ہوں ورنہ ہم جو بھي تفسير کريں گے وہ غلط ہو گي اور خود يہ آشنائي بھي
ان کے کلمات
کي برکت سے ہي حاصل ہوئي ہے توآپ ديکھيں گے کہ ائمہ عليہم اسلام کے
کلمات سے کتنے
صحيح نتائج اس سلسلسہ ميں ہم کوحاصل ہوں گے۔
قبل اس کے کہ ہم اس بحث ميں وارد ہوں ايک اہم نکتہ کي طرف بطور اختصار
اشارہ کر
دينا ضروري ہے اور وہ يہ کہ امام عليہ اسلام چونکہ انتہائي گھٹن کے
ماحول ميں زندگي
بسر کر رہے تھے اور آپ کے لئے ممکن نہيں تھا۔ کہ کھل کر صريحي طور سے
اپنے موقف اور
نظريات بيان کر سکيں لہذا آپ نے دعا اور موعظہ کا تعلق ان روايات سے ہے
جو حضرتٴ سے
نقل ہوئيں۔امام عليہ اسلام کے زيادہ تر ارشادات يا شايد يہ کہنا غلط نہ
ہو کہ تمام
کے تمام بيانات موعظہ کے لب و لہجہ ميں ہيں ۔چناچہ اسي موعظ اور نصيحت
کے ضمن ميں
،وہ باتيں جن کي طرف ہم نے اشارہ کيا ہے، امام نے بيان فرمادي ہيں جس
وقت آپ ان
بيانات کا نگاہ غائر سے مطالہ کريں گے تو ديکھيں گے کہ امام نے کتنا
حکيمانہ اور
مدبرانہ طريقہ کار منتخب کيا ہے۔بظاہر تو ايسا لگتا ہے کہ امام عليہ
اسلام لوگوں کو
وعظ و نصيحت کر رہے ہيں ليکن اسي ضمن ميںجو باتيں لوگوں کے ذہن ميں
بٹھانا چاہتے
ہيں ،غير محسوس طور پرلوگوں تک پہنچا ديتے ہيں اور يہ افکار ونظريات کے
ابلاغ کا
بہترين طريقہ ہے۔
يہاں ہم امام ٴعليہ اسلام کے ان کلمات کي تحقيق کرنا چاہتے ہيں جو کتاب
’’تحفہ
العقول‘‘ ميں حضرت سے نقل کئے گئے ہيں ۔اسي ميں وہ مطالب جو امام سجادٴ
سے نقل ہوئے
ہيں ہميں چند نوعيت کو حامل نظر آتے ہيں جو ان ہي مذکورہ جہات کي طرف
اشارہ کرتے
ہيں
ان ميں بعض بيانات وہ ہيں جن ميں عام لوگوں سے خطاب ہے جيسا کہ خود
بيان سے ظاہر
ہوتا ہے اس کے سننے اور پڑھنے والے امام عليہ اسلام کے خاص الخاص افراد
نہيں ہيں
۔چناچہ عام لوگوں سے خطاب کرتے وقت ہميشہ قرآني آيات سند کے طور پر پيش
کي گئي ہيں
کيونکہ عوام الناس امام کو امام کي حيثيت سے نہيں پہچانتے وہ توہر بات
کے لئے دليل
و استدلال چايتے ہيں يہي وجہ ہے کہ امام يا تو براہ راست آيات سے
استدلال پيش کرتے
ہيں يا آيات سے مدد ليتے ہيں اس روايت ميں تقريباًپچاس يا اس سے بھي
زائد موارد ميں
قرآني آيات کا براہ ر است يا استعارہ کے طور استعمال نظر آتا ہے۔
ليکن بعدکے بيان ميں جہاں مومنين سے خطاب ہے، ايسا نہيں ہے کيونکہ وہ
امام کي معرفت
رکھتے ہيں اور ان سے امام اپني گفتگو کے دوران چونکہ وہ امام کي بات کو
قبول کرتے
ہيں ، قآن سے استدلال پيش کرنے کي ضرورت محسوس نہيں کرتے ۔چنانچہ اگر
شروع سے آخر
تک جائزہ ليں تو قرآني آيات بہت کم نظر آتي ہيں
امام ٴ سے ايک مفصل روايت کرتے ہوئے ’’صاحب تحف العقول‘‘ فرماتے ہيں :۔
(آيت)
يعني يہ موعظ اس لئے تھا کہ حضرت کے شيعہ اورحضرت کے دوست ہر جمعہ کے
دن اپنوں کے
مجمع ميں ياتنہا انفرادي طور پر اسے پڑھا کريں يہاں مخاطبين کا دائرہ
کافي وسيع ہے
اور يہ نکتہ خود اس تفصيلي روايت ميں پائے جانے والے قرآئین سے استنباط
کيا جاسکتا
ہے کيونکہ اس روايت ميں خطاب (آيت) يا اسي کے مثل کسي اور عنوان سے
نہيں ہے بلکہ
ايھا الناس، سے خطاب ہے جو عموميت پر دلالت کرتا ہے جبکہ بعض دوسري
روايتوں ميں خود
خطاب کا اندازہ مومنين سے خطاب ہونے کي نشاندہي کرتا ہے۔ لہذا
يہاںعمومي خطاب ہونا
ثابت ہے۔
اس کے علاوہ اس روايت ميں موجود ہ نظام کو صاف اور صريحي انداز سے
موردمواخذہ و
عتاب قرار دئيے جانے کي کوئي علامت نہيں پائي جاتي ۔ صرف عقائد يا وہ
باتيں بيان کي
گئي ہيں جن کا جاننا انسان کے لئے ضروري ہے دوسرے لفظوں ميں محض
اعتقادات و معارف
اسلامي کي ياددہاني کرائي گئي ہے۔جيسا کہ ہم نے عرض کيا پورا خطاب
موعظہ کے لب
ولہجہ ميں ہے جس کي ابتدا ان الفاظ ميں ہوتي ہے:۔
’’
ايھا الناس اتقوااللہ واعلموانکم اليہ روجعون‘‘
گفتگو ہي موعظ سے شروع ہوتي ہے کہ اے لوگو! تقوائے الھيٰ اختيار کر و
اور يادرکھو
کہ آخر خدا کو منہ دکھانا ہے۔
اس کے بعد عقائد اسلامي کي طرف لوگوں کو متوجہ کرتے ہوئے فرماتے ہيں کہ
تمہارا فرض
ہے کہ اسلام کو صحيح طور پر سمجھنے کي کوشش کرو جس کا مطلب و مفہوم يہ
ہے کہ تم
اسلام کو صحيح طور پر نہيں سمجھ سکے ہو گويا اس بيان کے ذيل ميں لوگوں
نے اسلام کي
صحيح شناخت کا جذبہ بيدار کر رہے ہيں ۔
اسي طرح ذرا ديکھئے کہ کتنے حسين انداز ميں امام سجادٴ فرماتے ہيں:۔
’’
الاوان اول مايسا لا نک عن ربک الذي کنت تعبدہ‘‘
اسي موعظانہ تقريرميں ذيل ميں آگے بڑھ کر فرماتے ہيں :اس وقت سے ڈرو جب
تم کو لوگ
تن و تنہا قبر کے حوالے کر ديں گے اور منکر و نکير تمھارے پاس آئيں گے
اور پہلي چيز
جس کے بارہ ميں تم سے سوال کريں گے ،تمھارے خدا سے متعلق ہو گي جس کي
تم پرستش اور
عبادت کرتے ہو، يعني سننے والوں کے ذہن ميں توحيد کا مفہوم اتار کر
معرفت خدا کي
لہر پيدا کر رہے ہيں۔
’’
وعن نبيک الذي ارصل اليک‘‘
اور تم سے اس نبي کے بارے ميں سوال کريں گے جو تمھاري طرف بھيجا گیا
تھا۔
گويا مسئلہ نبوت اور حقيقت محمدي۰
کے عرفان کا جذبہ زندہ کر رہے ہيں۔
’’وعن
دينک الذي کنت تدين بہ‘‘
اور اس دين کے بارے ميں پوچھيں گے جس کي تم نے پيروي کي ہے۔
’’وعن
کتابک الذي کنت تتلوہ‘‘
اور تمہاري اس کتاب کے سلسلے ميں خبر ليں گے جس کي تم تلاوت کيا کرتے
تھے
اور پھر مذہب اسلام کے ان ہي بنيادي واساسي مسائل و عقائد يعني توحيد،
نبوت،قرآن
اور دين کے ساتھ ہي ساتھ اپنے مد نظر اصلي نکتہ کي طرف بھي لوگوں کو
متوجہ کر ديتے
ہيں:۔
’’وعن
امامک الذي کنت تتولاہ‘‘
اور اس امام کے بارے ميں بھي سوال ہو گا جسکي ولايت کا تم دم بھر تے
رہے ہو۔
يہاں امام عليہ اسلام مسئلہ حکومت سے الگ نہيں ہے ائمہ کے مسئلہ ولايت
اور مسئلہ
امامت ميں کوئي فرق نہيں پايا جاتا۔ اگرچہ ممکن ہے ’’ولي ‘‘اور’’
امام‘‘ کے معني
آپس ميں کچھ تفقوت رکھتے ہوں ليکن يہ دونوںمسئلہ۔مسئلہ ولايت ومسئلہ
امامت ۔ائمہ کي
زبان ميں ايک ہيں اور ان سے ايک ہي معني مراد ہيں ۔اس جگہ حضرتٴ اسي
امام کے بارے
ميں سوال کي بات کر رہے ہيںجو ديني طور پر لوگوں کي ہدايت آ ُگاہي کا
بھي متکفل و
ذمہ دار بناياگيا ہے اوردينوي اعتبار سے ان کے امور زندگي کا بھي نگراں
اور ذمہ
دارقرار ديا گيا ہے يعني پيغمبر۰
اسلام کا جانشين۔
يہ ہماري خوش قسمتي ہے کہ ہم جس دور ميں زندگي گذار رہے ہيں (موجودہ
ايران ميں )
لوگ امام کا مطلب اچھي طرح سمجھنے لگے ہيں ۔گذشتہ زمانے ميں عوام اس کا
صحيح مفہوم
درک کرنے سے قاصر تھے۔ آج ہم جانتے ہيں امام يعني معاشرہ کا رہبر و قا
ئد۔ امام
يعني وہ جس سے ہم دين بھي حاصل کرتے ہيں اور دنيا بھي اس کے ہاتھ ميں
ہے جس کي
اطاعت پر ہم ديني امور ميں واجب ہے اور دينوي معاملات ميں بھي فرض ہے
خوش قسمتي سے ،لفظ امام نے ہمارے ذہنوں ميں اپنا صحيح مقام حاصل کر ليا
ہے ورنہ آپ
ملا خط فرمائيں صديوں سے دنيائے تشيع ميں يہ مسئلہ کتني غلط فہمي کا
شکار رہا ہے
لوگ خيال کرنے لگے تھے کہ ايک شخص وہ ہے جو معاشرہ پر حکومت کررہا ہے
نظم زندگي سے
متعلق امور اس کے ياتھ ميں ہيں۔بندش و آزادي سے ليکر جنگ و صلح تک سب
کچھ اسي کے
اختيار ميں ہے وہي ماليات (ٹيکس) مقرر کرتا ہے اور وہي ہمارے اچھے و
برے کا مالک و
ذمہ دار ہے اور اسي کے بالمقابل ايک شخص اور بھي ہے جس کا کام لوگوں کا
دين درست
کرنا ہے پہلے کو حاکم کہتے ہيں دوسرے کو غيبت کے زمانے ميں عالم ،اور
قبل از غيبت
امام کہتے ہيں ۔يعني ائمہ عليہم اسلام کے زمانے ميں ايک امام کي منزل
ہم وہي
تصورکرنے لگے تھے جو غيبت امام ٴکے زمانے ميں ايک عالم دين کي ہوتي ہے
ظاہر ہے يہ
تصور قطعاً غلط ہے ۔
ہم صادق آل محمد۰
کے حالات زندگي کے ذيل ميں ارشاد کر چکے ہيں کي جس وقت امام منيٰ
يا عرفات ميں پہنچتے ہيں ايک مرتبہ آواز بلند ارشاد فرماتے ہيں ۔
’’يا
ايھاالناس ان رسول اللہ وھو الامام‘‘
يعني پيغمبراسلام ٴامام تھے امام اس کو کہتے ہيں جو لوگوں کے دين اور
دنيا دونوں کا
ذمہ دار ہوتا ہے، چناچہ امام سجادٴ کے دور ميں بھي جس وقت اسلامي
معاشرہ کي حکومت و
فرمانروائي عبدالملک بن مروان کے ہاتھ ميں تھي، لوگ امام کا مفہوم غلط
سمجھ بيٹھے
تھے۔ معاشرہ کي امامت کا مطلب ہي لوگوں کے مسائل حيات نيز تمام بندش و
آزادي کے
نظام کي نگراني و تحفظ کرنا تھے اور يہ ’’امامت‘‘ کا ايک بڑا ہي اہم
شعبہ ہے۔يہ
منصب اہل سے ليکر نااہلوں کے سپرد کر ديا گيا تھا۔ اور وہ نا اہل خود
کو امام
،سمجھتا بھي تھا وہي نہيں بلکہ عرصہ تک عوام بھي اس کو امام ہي سمجھا
کرتے
تھے۔چناچہ لوگ عبداللہ سے پہلے مروان بن حکم اور اس سے پہلے يزيد اور
اس کے پيش روں
کو اسي طرح عبدالملک کے بعد اس کي جگہ آنے والے دوسرے لوگوں کو اپنا
امام تصور کرتے
رہے ان کو معاشرہ کا رہبر،نيز لوگوں کے اجتماعي مسائل پر حاکم کے عنوان
سے قبول
کرتے تھے۔ اور يہ بات لوگوں کے ذہنوں ميں بيٹھ چکي تھي۔
جس وقت امام زين العابدين عليہ اسلام فرماتے ہيں : قبر ميں تم سے امامت
کے بارے ميں
سوال کيا جائے گا تو اس کا مطلب يہ ہے کہ امام ٴ متوجہ کرنا چاہتے
ہيںکہ فيصلہ کرلو
کہ نکيرين سوال کريں گے کہ آيا تم نے جس کو اپنا امام منتخب کيا تھا وہ
واقعي امام
تھا؟ وہ شخص جو تم پر حکومت کر رہا تھا ،معاشرہ کي رہبري جس کے ہاتھ
ميں تم نے دے
رکھي تھي کيا وہ حقيقتاً امام ہونے کا مستحق تھا؟کيا وہ وہي شخص تھا جس
کي امامت پر
خدا راضي تھا؟ اس کا کيا جواب دو گے؟! يعني اسطرح حضرتٴ لوگوں کو اس
مسئلہ کي نذاکت
کا احساس دلا کر انہيں بيدار کر رہے تھے۔ گويا بالکل غير محسوس طور پر
مسئلہ امامت
جس کے سلسلہ ميں بنواميہ کي پوري مشينري کسي طرح کي کوئي بات سننے پر
قطعي تيار نہ
تھي امام عليہ اسلام اس کو موعظہ ميں ڈھال کر ايک عمومي خطاب کے ضمن
ميں پيش کر کے
لوگوں کے ذہن و احساس کو زندہ و بيدار کر رہے تھے۔يہاں امام عليہ اسلام
کي روش اور
طريقہ کار ميں ٹھہراو پايا جاتا ہے کسي طرح کي عجلت نظر نہيں آتي۔آگے
چل کر جہاں
امامٴ ميں سختي اور تيزي سے کام ليا ہے ہم اس کا بھي ذکر کريں گے۔
مختصر يہ کہ ،عوام الناس سے مربوط اپنے عمومي خطاب ميں ،امام عليہ
اسلام موعظہ کي
زبان ميں اسلامي معارف منجملہ وہ حقائق جن پر حضرت کي خاص توجہ
تھي،لوگوں کے ذہنوں
ميں زندہ کر رہے ہيں آپ کي کوشش ہے کہ عوام ان چيزوں کو ياد رکھیں ۔ اس
قسم کے
خطابات ميں دو نکتے خاص طور پر توجہ کے مستحق ہيں ۔
اولاً يہ کہ عوام الناس سے کئے جانے والے يہ خطاب تعليمي نقطہ، نظر سے
نہيں پيش کئے
گئے ہيں بلکہ ان کي نوعيت تذکرہ و ياد دہاني کي ہے يعني امام عليہ
اسلام بيٹھ کر
عوام کے سامنے مسئلہ توحيد کے دريچے کھولنے يا مسئلہ نبوت کي گتھياں
سلجھانے کي
کوشش نہيں کرتے بلکہ محض تذکرہ و ياد دہاني مقصود ہے۔
مثلاً نبوت کو لے ليجئے ظاہر ہے امامسجادٴ جس معاشرہ اور جس زمانہ ميں
زندگي بسر کر
رہے تھے ابھي پيغمبر اسلام کو گزرے ہوئے اتني زيادہ مدت نہيں ہو گئي
تھي کہ مکمل
طور پر اعتقادات اسلامي، انحراف ياتحريف کا شکار ہو چکے ہوں اس زمانہ
ميں بہت سے
ايسے لوگ موجود تھے جنہوں نے پيغمبر اسلام کو اپني آنکھوں سے ديکھا تھا
، اور ائمہ
اطہارميں سے۔ امير المومنين ٴ اما م حسن امام حسين عليہم اسلام کو
ديکھنے والے بھي
موجود تھے اور اجتماعي نظام کے اعتبار سے ابھي وہ نوبت نہيں پہنچي تھي
کہ لوگ مسئلہ
توحيد و نبوت کے سلسلہ ميں يا مسئلہ معان و قرآن کے بارے ميں کسي
بنيادي و اصولي شک
و شبہ اور تحريف سے دوچار ہوں ۔ہاں يہ ضرور کيا جا سکتا ہے کي اکثريت
ان کو بھلا
بيٹھي تھي۔ مادي زندگي اس بات کي موجب ہوئي کہ الگ اسلام ،اسلامي
اعتقادات اور ان
کي عظمت واہميت کے بارے ميں فکر کرنے کي ضرورت ہي محسوس نہيں کرتے تھے۔
معاشرہ ميں دينوي ومادي طمع نے اس شدت کے ساتھ لوگوں کو اپنا اسير
بناليا تھا کہ
اصلاً يہ فکر کہ انساني زندگي ميں معنويات و خيرات کے سلسلہ ميں تقابل
اور موازنہ
کا بھي کوئي ميدان موجود ہیلوگوں کے ذہنوں سے بالکل نکل چکاتھا اور کسي
کو اس ميدان
ميں آگے بڑھنے کي فکر نہ تھي اور اگر اس طرف کوئي قدم بڑھاتا بھي تو اس
ميں ظاہر
داري و سطيحت کا عمل دخل ہوتا۔توحيد کے وہ آثار و فوائد جو پيغمبر اکرم۰
کے دور ميں
يا اس سے متصل قريبي زمانہ ميں لوگوں پر مرتب ہوتے تھے۔ اور اس سلسلہ
ميں وہ احساس
و ادراک اور ذمہ داري اب مفقود ہو چکي تھي لہذا فقط ياددہاني کي ضرورت
تھي تاکہ
لوگوں ميں ادراک پيدا ہو جائے ورنہ دين ميں ابھي کوئي ايسي تحريف نہيں
ہوئي تھي جس
کي تصحيح ضروري ہو۔ اس کے بر خلاف بعد کے زمانے ميں ،مثال کے طور پر
امام جعفر عليہ
اسلام کے دور کو لے ليجئے، يہ بات اپني حد سے آگے بڑھ چکي تھي اس وقت
خود مسلمان کے
درميان بہت سے متکمين يا دوسرے لفظوں ميں بہت سے فلسفي اور منتقي پيدا
ہو گئے تھے
جو طرح طرح کے ناموں سے بڑي بڑي مسجدوں ۔ مسجدمدينہ،مسجد شام حتيٰ کہ
خود مسجد
الحرام ميں آکر بيٹھ جاتے تھے اور غلط افکار و عقائد کي باقائدہ تعليم
و تدريس
فرماتے تھے!!
وہاں ابن ابي العوجا جيسے افراد موجود تھے جو دہريت يعني وجود خدا سے
انکار کا درس
ديا کرتے تھے اور اس پر استدلال بھي پيش کرتے تھے۔ يہي وجہ ہے کہ جب
امام جعفر صادق
عليہ اسلام کے بيانات کا ہم جائزہ ليتے ہيں تو ديکھتے ہيں کہ حضرت
۰
توحيد و نبوت
يا اسي کے مثل دوسرے مسائل باقاعدہ استدلال کے ساتھ بيان فرماتے ہيں
:ظاہر ہے، دشمن
کے استدلال کے خلاف استدلال کي ہي ضرورت ہوتي ہے۔جبکہ امام زين
العابدين عليہ اسلام
کے بيانات ميں يہ چيز نہيں ملتي۔ حضرت اسلامي مطالب پيش کرتے وقت منطقي
استدلال
عوام کے سامنے پيش کرتے ۔بلکہ صرف تذکرہ ياددہاني کے طور پر اشارہ
کرديتے ہيں
۔’’ديکھو‘‘ قبر ميں تم سے توحيد و نبوت کے سلسلہ ميں سوالات کئے جائیں
گے آپ نے
ملاخط فرمايا يہ صرف ذہن کو ايک دھوکا دينے کے لئے ہے کہ انسان ان
مسائل پر سوچنے
کے لئے مجبور ہو جائے اور وہ چيز جو غفلت و فراموشي کي نذر ہو چکي ہے
ذہن دوبارہ
اسکي طرف متوجہ ہو جائے۔
خلاصہ بحث يہ ہے کہ امام سجاد عليہ الصلوٰۃ واسلام کے دور ميں کوئي
ايسي چيز نہيں
ملتي جو اس بات پر دلالت کرئے کہ لوگ حتيٰ کہ ارباب حکومت و سلطنت بھي،
اسلامي فکر
و نظر سے کھل کر بغاوت و بر گشتگي پر آمادہ ہوں ہاں صرف ايک موقع مجھے
نظر آيا اور
اس کا اظہار يزيد کے اس شعر سے ہوتا ہے جو اس نے غرور و مستي ميں ڈوب
کر اس وقت
پڑھا تھا جب خانوادہ رسول۰
کو اسيرکرکے اس کے دربار ميں پيش کيا گيا ۔وہ کہتا ہے:
لعبت ھاشم بالملک فلا خبر جائ ولا وحي نزل
(معاذاللہ)نبي
ہاشم نے حکومت و سلطنت کے لئے ايک کھيل کھيلا تھا نہ کوئي خبر آئي
اور نہ کوئي وحي نازل ہوئي يعني اس کو دين و وحي سے کوئي مطلب نہ تھا ۔
چناچہ اس مسئلہ ميں يہ کہا جاسکتا ہے کہ
يزيد کي يہ ہرزہ سرائي ممکن ہے نشہ و مستي کے غلبہ کے سبب رہي ہو۔ورنہ
حتيٰ کہ
عبدلملک اور حجاج بن يوسف جيسوں ميں بھي عقيدہ توحيد يا عقيدہ نبوت سے
کھل کر
مخالفت کرنے کي جرات نہ تھي ۔عبدالملک بن مروان وہ شخص ہے جو اس کثرت
سے قرآن کي
تلاوت کيا کرتا تھا کہ اس کو لوگ قرائ قرآن ميں شمار کرتے تھے۔چناچہ
کہتے ہيں جس
وقت اس کو خبر دي گئي کہ تم خليفہ ہو گئے اور حکومت پر فائز ہوئے تو اس
نے قرآن کو
بوسہ ديا اور کہا : ھٰذا فراق بيني و بينک يعني اب ہماري اور تمہاري
ملاقات قيامت
ميں ہوگي۔ حقيقت بھي يہي تھي پھر اس کے بعد اس نے کبھي قرآن اٹھا کر نہ
ديکھا۔
حجاج بن يوسف کيسا ظالم تھا آپ نے سنا ہي ہوگا ليکن جتنا آپ نے سنا ہو
گا وہ اس کے
مظالم سے کہيں کم ہے۔اس کے جيسا شخص بھي جب منبر سے خطبہ ديتا ہے تو
لوگوں کو
تقوائے الھيٰ کي تلقين کرتا نظر آتا ہے۔چناچہ جناب امام سجاد ٴ کي
زندگي ميں جو کچھ
ملتا ہے اس کا حصل عوام کو اسلامي افکار و نظريات کي طرف متوجہ
اورخبردار کرنا ہے
تاکہ لوگوں کے فکري بہاو کو ماديت کے بجائے خدا،اس کے دين اور قرآن کي
طرف موڑ ديا
جائے۔
دوسرا قابل توجہ نکتہ وہي ہے جس کي طرف ہم پہلے بھي اشارہ کر چکے ہيں
کہ امام عليہ
اسلام ان عموي خطابات ميں يکايک بالکل غير محسوس طور پر روئے سخن مسئلہ
امامت کي
طرف موڑ ديتے ہيں يعني ديگر مسائل اسلامي کے درميان اس کے ويسے ہي ذکر
کر ديتے ہيں
جيسے کہ انقلاب ايران سے قبل گزشتہ شاھي دور ميں کوئي عوام سے خطاب
کرتے ہوئے کہديا
کرتا تھا کہ لوگو! خدا کو ياد کرو ،مسئلہ توحيد کو سمجھنے کي کوشش کرو،
مسئلہ نبوت
پر غور و فکر سے کام لو، مسئلہ حکومت پر توجہ دو۔۔۔۔ آپ ديکھئے قيادت و
رہبري کا جو
انداز ہم کو يہاں نظر آتا ہے۔ اسي کي روشني ميں امام سجادٴ کا بيان
سمجھ سکتے ہيں
جس طرح ہم ديکھتے ہيں کہ شاہي دور ميں يہي لفظ حکومت زبان پر جاري کرنا
کتنا خطرناک
تھا اگر کوئي عوام سے مسئلہ حکومت پر توجہ صرف کرنے کي بات کرتا تو
حکومت آساني سے
اس کو نظر انداز نہيں کر سکتي تھي ليکن جب يہي بات موعظہ کے لب لہجہ
ميں کسي عابد و
زاہد کي زبان سے کہي جاتي تو ارباب حکومت کے لئے کسي حد تک قابل قبول
ہو جاتي تھي۔
يعني يہ چيزاتني زيادہ حساسيت انگيز نہيں ہے۔
ہم فکر جماعت کي تشکيل:
بہرحال، يہ امام عليہ اسلام کے بيانات کي ايک قسم تھي۔ دوسري قسم کے
بيانات وہ ہيں
جن ميںامام زين العابدين عليہ اسلام کے مخاطب کچھ مخصوص افراد ہيں کہ
يہ کن لوگوں
سے خطاب ہے ليکن يہ کاملاً طے ہے کہ آپ کا خطاب ايک ايسے گروہ سے ہے جو
موجودہ
حکومت سے بيزار اور اس کا مخالف ہے چاہے وہ جو لوگ بھي ہوں ۔ اور شايد
يہ کہنا بھي
غلط ہي ہو کہ يہ وہي گروہ ہے جو امامٴ کي اطاعت اور حکومت اہلبيت پر
يقين و اعتقاد
رکھتا ہے۔
کتاب ’’تحفہ ا لعقول‘‘ ميں خوش قسمتي سے امام عليہ اسلام کے اس قسم کے
بيانات کا
ايک نمونہ موجود ہے (ايک نمو نہ اس لئے کہ جب ہم اس طرح کي دوسري
کتابوں کي چھان
بين کرتے ہيں تو ان ميں بھي ايسے چند نمونوں کے سوا امام زين العابدين
عليہ اسلام
سے منقول کوئي اور چيز نہيں ملتي) پھر بھي انسان يہ محسوس کر سکتا ہے
کہ امام سجادٴ
کي زندگي ميں اس طرح کے بے انتہا نمونے پيش آئے ہوں گے مگر موجودہ
حالات اور آپ کي
حيات کے دوران پيش آنے والے طرح طرح کے حوادث ، گھٹن کي زندگي ،دشمنوں
کے
حملے،اذيتيں ،اصحاب ائمہ کا قتل اور شہادت يہ سب اس بات کا باعث بنے کہ
وہ گراں بہا
آثار باقي نہ رہ سکے چناچہ بہت ہي کم مقدار ميں چيزيں ہمارے ہاتھ لگ
سکي ہے ۔
بہرحال امام عليہ اسلام کا يہ بيان کچھ اس طرھ شروع ہوتا ہے:۔
’’کفانااللہ
واياکم کيد الظالمين وبغي الحاسدين و بطش الجبارين‘‘
خدا وندعالم ہم کو اور تم کو ظالموں کے کيدوفريب حاسدوں کي بغاوت و
سرکشي اور
جابروں کي جبر وزيادتي سے محفوظ ومامون رکھے۔
خود خطاب کا انداز بتاتا ہے کہ امام عليہ اسلام اور آپ کا مخاطب گروہ
دونوں اس جہت
ميں شريک ہيں يعني موجودہ حکومت و نظام کي طرف سے وہ سب کے سب خطرے ميں
ہيں اور
ظاہر ہے کہ يہ بات ايک مخصوص فرد سے تعلق رکھتي ہے اور اس جماعت کو
مومنين يا
اہلبيت کے ممبين و مقربين سے تعبير کيا جا سکتا ہے ۔چناچہ اس انداز کے
خطابات ’’ياايھاالمومنون‘‘
سے شروع ہوتے ہيں جبکہ پہلي نوعيت کے بيانات ميں ايھاالناس ،يا
بعض موارد ميں ’’يا آدم‘‘ سے خطاب کيا گيا ہے اور يہاں ايھاالمومنون ہے
۔يعني امام
عليہ اسلام کے خطاب ميں اپنے مخاطبين کے صاحب ايمان ہونے کا اعتراف
موجود ہے اور يہ
وہ مومنين ہيں جو اہبيت عليہم اسلام اور ان کے افکار و نظريات پر واقعي
ايمان رکھتے
تھے۔
اس منزل ميں جب امام عليہ اسلام اپنے اصل مطلب پہ آتے ہيںتو آپ کي
گفتگو بھي اس چيز
کي واضح نشان دہي کرتي ہے کہ آپ کے مخاطب مومنين ۔ يعني اہلبيت عليہم
اسلام سے قربت
رکھنے والے افراد ہيں :۔
’’لايفتننکم
الطواغيت واتبا عھم من اھل الرغيۃ في الدنيا المائلون اليھا،المفتنون
بھا،المقبلون عليھا‘‘
’’يہ
طاغوتي افراد اور ان کے مطيع و فرمابردار ۔ جو دنيا کے حريص، اس کے
شيدائي،اس
پر فريفتہ وقربان اوراس کي طرف دوڑنے والے لوگوں ميں سے ہيں تم کو فريب
ميں مبتلا
نہ کر ديں‘‘
يہاں ۔ مومنين سے خطاب کرتے وقت اصل لب و لہجہ ميں ان کو شر سے محفوظ
رہنے اور
آئندہ ہم فکري کے ساتھ کام کرنے کے لئے آمادہ کيا جا رہا ہے۔ظاہر ہے
موجودہ طاغوتي
نظام کے طرفداروں اور ائمہ کے ہمنواؤں کے درميان اندر ہي اندر جو شديد
مخالفت اور
مقابلہ آرائي جاري تھي اس کي وجہ سے ائمہ عليہم اسلام کے چاہنے والوں
کو بڑي سخت
محروميت اور رنج و مصيبت جھيلني پڑ رہي تھي۔ بالکل وہي صورت حال جن سے
انقلابي
جدوجہد کے دوران ہم خود دوچار رہے ہيں ۔ وہ لوگ جو اس انقلاب کي
کاميابي سے پہلے
انقلابي سرگرميوں ميں شريک تھے ان کو فطري طور پر وہ آسائشيں ميسر نہيں
تھيں جو اس
جدوجہد سے کنارہ کش رہنے والوں کو حاصل تھ¡
|