|
بسم اللہ الرحمن الرحيم
ہمارے آئمہ اور سياسي جدوجہد
خدا کا شکر کہ اس عظيم اجتماع ميں ايک ديرينہ آرزو پوري ہورہي ہے۔ آئمہ
عليہم السلام کي مظلوميت ان بزرگان اسلام کي زندگيوں تک محدود نہيں رہي
، بلکہ آج سينکڑوں سال گزر جانے کے باوجود ان حضرات کي سيرت کا ايک اہم
ترين بلکہ اصلي ترين رخ لوگوں کي عدم توجہي کا شکار ہے جس نے آئمہ کي
مظلوميت کو جاري و ساري رکھا ہوا ہے۔ يقيناً گزشتہ صديوں ميںآئمہ کے
بارے ميں بڑي ہي بے مثال اور قيمتي کتابيں اور مقالے لکھے گئے ہيں
کيونکہ ان کے ذريعہ ان پاک اور بزرگ ہستيوں کي زندگيوں سے متعلق تمام
روايات مختلف مجموعوں کي شکل ميں آئندہ آنے والي نسلوں کے لئے جمع کي
جاسکي ہيں۔ ليکن آئمہ کي سياسي جدوجہد کے نقوش ، جوان بزرگوں کي
تقريباً دو سو پچاس سال کي ظاہري زندگي کے اہم ترين اور ممتاز ترين
پہلو ہيں، ان بے شمار احاديث و روايات کے انبار اور آئمہ کي حيات کے
علمي و معنوي پہلوو ں کو اجاگر کرنے والي سوانح حيات ميں تقريباً کم سے
ہو کر رہ گئے ہيں۔
آئمہ کي زندگي ميں سياسي جدوجہد کا عنصر
آئمہ عليہم السلام کي زندگي کو ہميں درس حيات اور اسوہ عمل کے طور پر
ديکھنا چاہئيے ، يہ مناسب نہيں کہ ہم صرف ايک شاندار قابل فخر يادگار
کے عنوان سے اس کا مطالعہ کريں۔ يہ چيز اسي وقت ممکن ہے جب ان عظيم
ہستيوں کي سياسي روش اور ان کے طريقہ کار پر بھي توجہ ديں۔
جہاں تک ميرا اپنا تعلق ہے مجھے آئمہ عليہم السلام کي زندگي کے اس رُخ
نے خاص طور پر متاثر کيا ہے اور ميں اس حقيقت کے اظہار ميں کوئي مضائقہ
نہيں سمجھتا کہ ميرے ذہن ميں يہ خيال ١٩٧١ کے سخت ترين امتحان و آلام
کے ايام ميں پيدا ہوا۔ اگرچہ اس سے قبل بھي اعلائے کلمہ توحيد اور
استقرار حکومت الہي کے سلسلہ ميں آئمہ کا مجاہدانہ کردار اور ان کي
قربانياں و فداکارياں ميرے پيش نظر تھيں۔ پھر بھي وہ نکتہ جو اس دور
ميں ناگہاني طور پر ميرے ذہن ميں روشن ہوا وہ يہ تھا کہيں ان بزرگواروں
کي زندگي (اس ظاہري تفاوت کے باوجود جس کو ديکھ کر بعض لوگوں نے ان کے
کردار ميں تضاد کا گمان کيا ہے)دراصل مجموعي طور پر ايک مسلسل طولاني
تحريک ہے جو ١١ھ سے شروع ہو کر دو سو پچاس سال تک مسلسل جاري رہي اور
٢٦٠ ھ ميں جو غيبت صغريٰ کے شروع ہونے کا سال ہے ختم ہوئي۔ يہ تمام
ہستياں ايک ہي زنجير کي کڑياں ہيں، ايک ہي شخصيت ہيں اور اس ميں کوئي
شک نہيں کيا جاسکتا کہ ان سب کا راستہ اور مقصد ايک ہي ہے۔ پس امام حسن
مجتبيٰ ٴامام حسين ٴ سيد الشہدائ اور امام سجاد زين العابدين ٴ کي
زندگيوں کا عليحدہ عليحدہ جائزہ لينے اور پھر لا محالہ اس خطرناک غلط
فہمي کا شکار ہوجانے کے بجائے کہ ان تينوں آئمہ کي زندگيوں کا بظاہر
باہمي فرق ان ميں ٹکراو اور تضاد کي نشاندہي کرتا ہے ہميں چاہئيے کہ ان
سب کي زندگيوں کو ملا کر ايک ايسے انسان کي زندگي فرض کريں جس نے دو سو
پچاس سال کي عمر پائي ہو اور جو ١١ ھ سے لے کر ٢٦٠ ھ تک ايک ہي منزل کي
سمت مسلسل طور پر گامزن رہا ہو۔ اس طرح اس عظيم اور معصوم زندگي کا ايک
ايک عمل قابل فہم اور لائق توجيہہ ہوجائے گا۔
ہر وہ انسان جو عقل و حکمت سے مالا مال ہوگا، چاہے وہ معصوم نہ بھي ہو،
جب وہ اتني طويل مدت طے کرے گا تو حتمي طور پر وقت اور حالات کے تحت
مناسب حکمت عملي اختيار کرے گا۔ ممکن ہے وہ کبھي تيز رفتاري کو ضروري
سمجھے اور شايد کبھي سست رفتاري ميں مصلحت جانے، حتيٰ ممکن ہے کبھي وہ
کسي حکيمانہ تقاضے کے تحت پسپائي بھي اختيار کرے۔ ظاہر ہے وہ لوگ جو اس
کے علم و حکمت اور ہدف و مقصد کے بارے ميں علم رکھتے ہيں اس کي عقب
نشيني کو بھي پيش قدمي شمار کريں گے۔ اس نکتہ نظر سے اميرالمومنين علي
ابن ابي طالب ٴ کي زندگي امام حسن مجتبيٰ ٴ کي زندگي کے ساتھ اور ان کي
زندگي سيد الشہدائ امام حسين ٴ کي زندگي کے ساتھ اور آپ ٴ کي زندگي
ديگر آٹھ آئمہ کي زندگيوں کے ساتھ ٢٦٠ ھ تک ايک مسلسل تحريک کہي جاسکتي
ہے۔
يہ وہ خيال تھا جس کي طرف ميں اس سال متوجہ ہوا اور پھر اسي نکتہ کے
ہمراہ ميں نے ان عظيم ہستيوں کي زندگيوں کا مطالعہ شروع کيا اور جيسے
جيسے ميں آگے بڑھتا رہا ميري اس فکر کو تائيد حاصل ہوتي گئي۔
البتہ اس موضوع پر تفصيلي گفتگو ايک نشست ميں ممکن نہيں ہے ليکن اس
حقيقت کے پيش نظر کہ پيغمبر اسلام
۰
کي ذريت طاہرہ يعني آئمہ معصومين کي پوري زندگي ايک خاص سياسي موقف کے
ہمراہ رہي ہے، بنابر ايں يہ اس قابل ہے کہ اس (سياسي موقف )کو جداگانہ
طور پر مستقل عنوان کي حيثيت سے زير بحث لا يا جائے۔لہذا ميں يہاں اس
سلسلہ ميں مختصر طور پر کچھ عرض کرنے کي کوشش کروں گا۔
ميں گزشتہ سال اپنے پيغام ميں آئمہ طاہرين ٴ کي زندگي ميں گرم جدوجہد
کي طرف اشارہ کرچکا ہوں، آج ذرا تفصيل سے اس کا جائزہ لينا چاہتا
ہوں۔پہلي چيز يہ عرض کرنا ہے کہ سياسي جدوجہد يا گرم سياسي جدوجہد جسے
ہم آئمہ کي جانب منسوب کررہے ہيں اس سے ہماري مراد کيا ہے؟
مراد ي يہ ہے کہ آئمہ ٴ کي مجاہدانہ کوششيں محض ايسي علمي ، اعتقادي
اور کلامي نہ تھيں جس طرح کي کلامي تحريکوں کي مثاليں اس دور کي تاريخ
اسلام ميں ملتي ہيں جيسے معتزلہ و اشاعرہ وغيرہ کي تحريکيں۔ آئمہ کي
علمي نشستيں، درسي حلقے ، بيان حديث و نقل معارف اسلامي اور احکام فقہي
کي تشريح و توضيح وغيرہ فقط اس لئے نہ تھے کہ علم فقہ يا علم کلام سے
متعلق اپنے مکتب فکر کي حقانيت ثابت کردي جائے بلکہ آئمہ کے مقاصد اس
سے کہيں بلند تھے۔
اسي طرح يہ اس قسم کا مصلحانہ قيام بھي نہ تھا جيسا کہ جناب زيد شہيد
اور ان کے بعد ان کے ورثا يا بني الحسن ٴ کے دوران نظر آتا ہے۔ حضرات
آئمہ ٴ نے اس قسم کا کوئي مبارزہ نہيں کيا۔ البتہ اسي مقام پر يہ اشارہ
کرديناضروري ہے (اگر ممکن ہوا تو بعد ميں تفصيل پيش کروں گا) کہ آئمہ
معصومين ٴ نے قيام کرنے والے ان تمام لوگوں کي بطور مطلق مخالفت بھي
نہيں کي، اگرچہ بعض کي مخالفت بھي کي ہے۔ البتہ اس مخالفت کا سبب ان کا
مصلحانہ قيام کرنا نہيں تھا بلکہ کچھ اور دوسري وجوہات تھيں۔ بعض کي
بھرپور تائيد بھي کي ہے بلکہ بعض ميں پشت پناہي اور مدد کے ذريعہ شرکت
بھي کي ہے۔ اس سلسلہ ميں امام جعفر صادق ٴ کي يہ حديث قابل توجہ ہے، آپ
ٴ فرماتے ہيں:
’’ لوددت ان الخارجي يخرج من آل محمد و علي نفقہ عيالہ۔‘‘
’’ مجھے يہ پسند ہے کہ آلِ محمد
۰
و علي ٴ ميں سے کوئي خروج کرنے والا قيام کرے اور ميں اس کے اہل و عيال
کے اخراجات کا کفيل بنوں۔‘‘
اس (کفالت و ذمہ داري) ميں مالي امداد، آبرو کي حفاظت ، مخفي جائے تحفظ
مہيا کرنا يا اسي طرح کي دوسري مدد بھي شامل ہے۔ ليکن جہاں تک ميري نظر
جاتي ہے، آئمہ نے بہ نفس نفيس خود امام وقت کي حيثيت سے مصلحانہ قيام
ميں کبھي شرکت نہيں کي۔
چنانچہ آئمہ عليہم السلام کي گرم سياسي جدوجہد سے مراد نہ تو وہ مذکورہ
پہلي علمي مبارزہ کي صورت ہے اور نہ ہي يہ دوسري نوعيت کا مصلحانہ قيام
بلکہ اس سے مراد ايک سياسي ہدف اور مقصد کے تحت جدوجہد ہے۔
وہ سياسي ہدف اور مقصد کيا ہے؟
وہ سياسي مقصد ’’ حکومت اسلامي کي تشکيل ‘‘ ہے جس کو ہم اپني زبان ميں
حکومت علوي سے تعبير کرسکتے ہيں۔
پيغمبر اسلام
۰
کي وفات کے بعد سے ٢٦٠ ھ تک ہم ديکھتے ہيں کہ مسلسل طور پر آئمہ کي يہي
کوشش رہي ہے کہ اسلامي معاشرے ميں ايک ايسي الہي حکومت قائم کريں اور
آپ حضرات کا يہي بنيادي مدعا تھا۔ البتہ ہم يہ نہيں کہہ سکتے کہ وہ خود
اپنے ہي دور ميں (يعني ہر امام اپنے اپنے دور ميں) اسلامي حکومت قائم
کردينا چاہتا تھا۔ ممکن ہے يہ جدوجہد مستقبل قريب، مستقبل بعد حتيٰ کہ
بعض حالات ميں آئندہ انتہائي نزديکي زمانے ميں حکومتِ اسلامي کے قيام
سے متعلق رہي ہو۔ مثلاً امام حسن مجتبيٰ کے دور ميں کي جانے والي
کوششيں آئندہ کم سے کم مدت ميں اسلامي حکومت کے قيام کي طرف اشارہ کرتي
ہيں۔ چنانچہ جب مسيب ابن نجبہ اور اسي قبيل کے دوسرے افراد نے امام ٴ
سے سوال کيا کہ آپ ٴ نے کيوں خاموشي اختيار کي ہوئي ہے؟تو ان کے جواب
ميں امام ٴ نے جو جملہ ارشاد فرمايا وہ اسي طرف اشارہ ہے ، امام فرماتے
ہيں:
’’ ما ندري لعلہ فتنۃ لکم و متاع الي حين۔‘‘
’’ نہيں معلوم شايد يہ تمہارا امتحان ہو اور ايک وقت تک کا سامان۔‘‘
ميري نظر ميں جناب سيد سجاد ٴ کے دور ميں يہ کوششيں، مستقبل قريب کے
لئے تھيں جس کے لئے ثبوت و شواہد موجود ہيں جو آئندہ پيش کئے جائيں گے۔
امام محمد باقر ٴ کے دور ميں اس بات کا بہت زيادہ احتمال ہے کہ نزديک
ترين مستقبل ميں اسلامي حکومت کے قيام کي کوشش کي گئي۔ البتہ امام ہشتم
(امام علي رضا ٴ)کي شہادت کے بعد کي جانے والي کوششوں کے سلسلہ ميں اس
بات کا گمان ہے کہ يہ کوششيں مستقبل بعيد کے لئے رہي ہوں۔
مختصر يہ کہ حکومت کب قائم ہو، اس اعتبار سے ہر امام ٴ کي جدوجہد کا
طريقہ کار مختلف ہوسکتا ہے ليکن يہ طے ہے کہ اسلامي حکومت کے قيام کے
لئے کوششيں ہميشہ جاري رہي ہيں۔
آئمہ عليہم السلام کي تمام سرگرمياں (سوائے ان روحي و معنوي امور کے جو
ايک بندہ اپنے خدا سے قربت اور عرفاني مراحل کي تکميل کے سلسلہ ميں
انجام ديتا ہے)يعني درس و تدريس ، حديث و علم کلام کي موشگافياں ،
مخالفين سے علمي و سياسي مناظرے ، مختلف گروہوں کي حمايت يا مخالفت
وغيرہ ، سب کچھ اسي مقصد کے لئے تھيں کہ ايک اسلامي حکومت قائم کي
جاسکے۔
يہ ہمارا دعويٰ ہے ، البتہ اس موضوع پر لوگوں کے درميان اختلاف نظر رہا
ہے اور رہے گا اور ہميں بھي اس پر اصرار نہيں ہے کہ ہر شخص ہماري فکر
اور نظريہ کو آنکھ بند کرکے قبول کرے۔ بلکہ ہم صرف اتنا چاہتے ہيں کہ
اس پہلو پر پوري توجہ اور دقت کي جائے اور آئمہ کي زندگي پر اس زاويہ
سے تجديد نظر کي جائے۔
ادھر چند برسوں ميں ميري تحقيق و جستجو اس محور پر رہي ہے کہ چاہے
مجموعي طور پر تمام آئمہ عليہم السلام کے بارے ميں اور خواہ انفرادي پر
عليحدہ عليحدہ ان حضرات کے سلسلہ ہيں اس موضوع کو قابل قبول دلائل سے
ثابت کي جائے البتہ اس سلسلہ ميں بعض دليليں کلي نوعيت کي ہيں، مثال کے
طور پر:
ہميں معلوم ہے کہ امامت سلسلہ نبوت کي ہي ايک تکميلي کڑي ہے اور نبي
۰
کا ازاول امام ہونا ثابت ہے جيسا کہ امام جعفر صادق ٴ کے اس قول سے بھي
ظاہر ہے : ’’ ان رسول اللہ کان ھو الامام ‘‘ (اور رسول اللہ
۰
ہي امام تھے)نيز رسول صلعم نے حق و عدالت پر مبني ايک الہي نظام قائم
کرنے کے لئے ہي قيام فرمايا تھا اور ايک عرصہ تک اپني انتھک جدوجہد کے
بعد اس طرح کا نظام قائم کرنے ميں کامياب ہوگئے تھے ، جس کي آپ ٴ تا
حيات حفاظت بھي کرتے رہے۔ لہذا امام جو نبي
۰
کا جانشين ہے ايک ايسے نظام سے ہرگز غفلت نہيں برت سکتا۔
اس سلسلے کے بعض دلائل خود آئمہ ٴ کے کلمات سے ماخوذ ہيں، يا ان حضرات
ٴ کے طرز حيات سے اخذ کئے جاسکتے ہيں جو اس نکتہ کي جانب توجہ اور اس
نکتہ پر زير کي کے ساتھ غور و فکر سے سمجھے جاسکتے ہيں ، اور در حقيقت
ايک خاص زمانہ کے حالات و شرائط اس دور ميں آئمہ کے موقف اور مقام کو
سمجھنے ميں مددگار ہوسکتے ہيں جيسے کہ اس زمانہ (شاہ کے دور) ميں ہمارے
لئے يہ کيفيت حاصل تھي۔ مثلاً ايک انسان تاريک قيد خانے ميں پہنچ کر ہي
’’ السلام علي المعذب في قعر السجون و ظلم المطامير ذي الساق المرضوض
بحلق القيود ‘‘ (سلام ہو ان پر جو گہرے زندانوں ميں رکھے گئے اور قيد
خانوں ميں ظلم کا شکار رہے اور تاريک زندانوں ميں ان کے پائے مبارک
زنجير کے حلقہ ميں مجروح رہے۔ اقتباس از زيارت امام موسيٰ کاظم ٴ)جيسے
جملے کا مفہوم اور علت و وجہ صحيح طور پر سمجھ سکتا ہے۔ بہر حال اسي
پہلو پر کم کس قدر بحث کا ارادہ رکھتے ہيں اور اپنے افکار و خيالات اس
عظيم الشان اجتماع کے رو برو پيش کرنا چاہتے ہيں۔
جو حضرات دوسري صدي ہجري کي سياسي تاريخ پر بھرپور نظر رکھتے ہيں اور
جنہوں نے ١٠٠ ھ سے کچھ قبل سے لے کر ١٣٢ ھ (جس ميں بني عباس کي حکومت
کا آغاز ہوا)تک بني عباس کي سرگرميوں کا مطالعہ کيا ہے وہ آئمہ عليہم
السلام کي بھرپور سياسي جدوجہد کو کسي حد تک اس وقت کي بني عباس کي
سياسي زندگي سے تشبيہہ دے سکتے ہيں (ليکن جس نے بني عباس کي زندگي، ان
کي سياسي جدوجہد اور ان کي دعوتوں کا قاعدہ سے مطالعہ نہيں کيا ہے اس
کے لئے يہ تشبيہہ ہرگز قابل فہم و رسا نہيں ہوسکتي)انہي کي طرح کے
حالات آئمہ ٴ کي زندگي ميں بھي نظر آتے ہيں البتہ اس جوہري فرق کے ساتھ
جو آئمہ ٴ کے مقصد اور بني عباس کے مقصد، آئمہ ٴ کي روش اور بني عباس
کي روش، آئمہ کے کردار اور بني عباس کے کردار کے درميان پايا جاتا ہے۔
البتہ شکل اور طريقہ کار کے اعتبار سے دونوں ايک دوسرے سے بہت نزديک
نظر آتے ہيں اور يہي وجہ ہے کہ بعض مواقع پر ہميں يہ دونوں راہيں ايک
دوسرے ميں مخلوط نظر آتي ہيں۔ خود بني عباس آل علي ٴ کے ساتھ اپنے
طريقہ کار ، تبليغات و نعرہ دعوت کي يکسانيت و قربت کي وجہ سے عراق و
حجاز سے دور علاقوں ميں ايسا ظاہر کرتے تھے کہ گويا وہ آل علي ٴ کي راہ
پر ہي کاربند ہيں۔ حتيٰ مسودہ نے جب خراسان و رے ميں بني عباس کي تحريک
کي داغ بيل ڈالتے ہوئے سياہ لباس زيب تن کئے تو اس کے بارے ميں کہا کہ:
’’ ھذا السواد ، حدا دآل محمد و شہدائ کربلا و زيد و يحيي۔‘‘
’’ يہ سياہ لباس شہدائے کربلا اور زيد يحييٰ کے سوگ کي علامت ہے ۔‘‘
اور بعض لوگ (حتيٰ ان کے کچھ سرکردہ لوگ)بھي يہي سمجھتے ہيں کہ وہ آل
علي ٴ کے لئے کام کررہے ہيں۔
کچھ ايسي ہي صورت حال آئمہ عليہم السلام کي حيات طيبہ ميں بھي نظر آتي
ہے البتہ جيسا کہ ہم عرض کرچکے ہيں ، تين بنيادي عناصر مقصد، روش اور
کردار کے فرق کے ساتھ۔
آئمہ کي سياسي تحريک کي کلي تصوير
يہاں ضروري معلوم ہوتا ہے کہ پہلے آئمہ کے سياسي جہاد اور جدوجہد کي
کلي تصوير کشي کردي جائے۔ پھر اس کے بعد ان عظيم ہستيوں کي زندگي سے ان
کي سياسي جدوجہد کے چند روشن نمونے بھي پيش کئے جائيں گے۔
اس کلي تصوير کے سلسلہ ميں ہم في الحال پہلے تين آئمہ يعني
اميرالمومنين ٴ ، حسن مجتبيٰ ٴ اور سيد الشہدائ کي زندگيوں کو زير بحث
لانا نہيں چاہتے کيونکہ ان کے بارے ميں اتنا کچھ لکھا جاچکا ہے کہ
تقريباً کسي کو بھي اس بارے ميں شبہہ نہيں کہ ان حضرات کي تحريک ميں
سياسي پہلو موجود تھا۔ چنانچہ ہم اپني بحث جناب سيد سجاد عليہ السلام
سے شروع کرتے ہيں۔ميري نظر ميں امام زين العابدين عليہ السلام کے دور
يعني ٦١ ھ سے لے کر امام حسن عسکري ٴ کي شہادت يعني ٢٦٠ ھ تک دو سو سال
کا عرصہ تين سياسي مرحلوں پر مشتمل ہے۔
پہلا مرحلہ ٦١ ئ سے ١٣٥ ھ يعني منصور دوانيقي کي خلافت کے آغاز تک
پھيلا ہوا ہے۔ اس مرحلہ ميں سياسي جدوجہد ايک نقطہ سے شروع ہوتي ہے اور
رفتہ رفتہ اس ميں ايک کيفيت پيدا ہوتي جاتي ہے، گہرائي حاصل کرتي ،
وسعت پيدا کرتي ہے اور ١٣٥ ھ تک اوج پر پہنچ جاتي ہے۔ ١٣٥ھ جو سفاح کي
موت اور منصور دوانيقي کي خلافت کا سال ہے صورتحال بدلتي ہے اور ايسي
مشکلات سامنے آتي ہيں جو بڑي حد تک اس جدوجہد کي پيش رفت تحريک کے
دوران ہم نے ايسي چيزوں کا مشاہدہ کيا ہے۔
دوسرا مرحلہ ١٣٥ھ سے ٢٠٢ ھ يا ٢٠٣ تک کا ہے جو امام رضا عليہ السلام کي
شہادت کا سال ہے۔ يہ مرحلہ پہلے مرحلہ کي بہ نسبت جدوجہد کے اعتبار سے
ايک درجہ بالاتر، عميق تر اور وسيع تر نظر آتا ہے۔ اگرچہ اس مرحلہ کا
آغاز سخت مشکلات کے ہمراہ ہوا تھا پھر بھي تحريک نے رفتہ رفتہ اوج حاصل
کرليا، پھيلي اور قدم قدم کاميابيوں سے قريب تر ہونے لگي۔ يہاں تک کہ
امام علي رضا عليہ السلام کي شہادت کے بعد اس جدوجہد ميں پھر توقف پيدا
ہوگيا۔
٢٠٤ ھ ميں مامون رشيد کے بغداد چلے جانے کے بعد اسلامي جدوجہد کا ايک
نيا دور شروع ہوتا ہے (تيسرا مرحلہ)۔ در اصل مامون کي خلافت کے ابتدائي
دن آئمہ عليہم السلام کي زندگي کے نہايت دشوار اور آزمائش و ابتلا کے
دن ہيں، اگرچہ اس دور ميں تشيع ہميشہ سے زيادہ پھيلا۔ ميري نظر ميں اس
عصر ميں آئمہ عليہم السلام کو ہر دور سے زيادہ مصائب و آلام کا سامنا
کرنا پڑا اور يہ وہي زمانہ ہے جب ميرے خيال ميں آئمہ کي جدوجہد ايک
طويل مدتي ہدف کے لئے تھي۔ يعني اب آئمہ کو غيبت صغريٰ سے قبل الہي
حکومت کے قيام کي اميد نہيں رہي تھي۔ ان کي کوششيں مستقبل بعيد کے لئے
زمين ہموار کرنے کي طرف منتقل ہوچکي تھيں۔ اور يہ سلسلہ ٢٠٤ ھ سے يوں
ہي جاري رہتا ہے يہاں تک کہ ٢٦٠ ھ ميں امام حسن عسکري ٴ کي شہادت اور
غيبتِ صغريٰ کي ابتدائ ہوجاتي ہے۔
يہ تينوں ادوار کچھ امتيازي خصوصيات کے حامل ہيں جنہيں اجمالي طور پر
بيان کروں گا۔
پہلا دور
يہ پہلا دور امام زين العابدين ٴ ، امام محمد باقر ٴ اور امام جعفر
صادق ٴ کي زندگي کے ايک حصے پر مشتمل ہے۔ اس دور کا آغاز بے پناہ
دشواريوں کے ساتھ ہوتا ہے۔ کربلا کے حادثے نے دنيائے تشيع بلکہ پورے
عالم اسلام کو ہلا کر رکھ ديا تھا۔ قتل و قيد و ظلم و ستم کوئي نئي بات
نہ تھي ليکن خاندان نبوت کي شہادت اور پھر مخدرات عصمت و طہارت کي
اسيري، ان کي شہر بہ شہر تشہير ، فرزند زہرا ٴ کے کٹے سر کا نيزے پر
بلند کيا جانا (جبکہ ابھي وہ لوگ بھي موجود تھے جنہوں نے ان لب ہائے
مبارک پر پيغمبر اسلام
۰
کو بوسے ليتے خود اپني آنکھوں سے ديکھا تھا)وہ چيزيں تھيں کہ جنہيں
ديکھ کر پورا عالم اسلام مبہوت و متحير تھا۔ کسي کے تصور ميں بھي نہ
تھا کہ حالات يہ رخ اختيار کرليں گے۔ اگر جناب زينب سلام اللہ عليہا سے
منسوب يہ شعر درست ہوکہ
’’ ماتو ھمت يا شقيق فوادي کان ھذا مقدر مکتوبا‘‘
تو دراصل يہ اسي ناقابل تصور درد و کرب کا اظہار ہے اور يہي احساسات
تمام لوگوں کے تھے۔ يکايک ذہنوں ميں يہ احساس پيدا ہوا کہ موجودہ سياست
ايک دوسري قسم کي سياست ہے۔ يہ ظلم و زيادتي اب تک ہونے والي زيادتيوں
سے کہيں زيادہ تھي۔ ناقابل تصور چيزيں تصور کي جانے لگيں اور وقع پذير
ہونے لگيں۔ چنانچہ تمام دنيائے اسلام پر ايک عجيب قسم کي دہشت اور رعب
کا عالم طاري تھا۔ صرف کوفہ ميں توابين اور پھر مختار سے فضائ کچھ
مختلف تھي۔
مکہ مکرمہ ميں بھي جہاں کچھ دنوں بعد عبداللہ بن زبير نے آواز اٹھائي
ايسي کيفيت طاري تھي کہ تاريخ اسلام ميں اس کي مثال ملنا مشکل ہے۔
عراق ميں بھي اگرچہ ٦٤ ھ ٦٥ ہجري ميں (کيونکہ بظاہر توابين کو ٦٥ ھ ميں
شہيد کيا گيا)توابين کي کوششوں سے وہاں کي مردہ اور بوجھل فضا ميں ايک
تازہ لہر پيدا ہوئي ليکن توابين کي شہادت نے اس خوف و وحشت ميں اور
اضافہ کرديا اور پھر جب اموي کارخانہ سياست کے دشمن يعني مختار اور
معصب ابن زبير آپس ميں لڑ پڑے اور عبداللہ ابن زبير کو مکہ ميں رہنے کے
باوجود بھي اہل بيت ٴ کے طرفدار جناب مختار کا وجود کوفہ ميں برداشت نہ
ہوا اور معصب ابن زبير کے ہاتھوں مختار قتل کردئيے گئے تو ايک مرتبہ
پھر اس خوف و وحشت ميں مزيد اضافہ ہوا اور اميديں ، مايوسي ميں بدلنے
لگيں اور آخرکار عبدالملک بن مروان کو تخت خلافت پر تسلط حاصل ہوا۔
اس کے بعد تھوڑے ہي عرصہ ميں پوري دنيائے اسلام پر بني
اميہ کي گرفت مضبوط ہوگئي اور اکيس سال تک پورے قدرت و اقتدار کے ساتھ
وہ مسلمانوں پر حاکم رہے۔
واقعہ حرہ
اس مقام پر خاص طور سے واقعہ حرہ کي طرف اشارہ کردينا ضروري معلوم ہوتا
ہے۔ ٦٤ھ ميں جبکہ مدينہ رسول
۰
پر مسلم بن عقبہ نے چڑھائي کي جو مزيد رعب و وحشت پيد اکرنے کا سبب
ہوئي اور جس نے اہل بيت ٴ کو مکمل طور پر غربت و مظلوميت ميں مبتلا
کرديا۔ اس حادثہ کي مختصر روئيداد يہ ہے کہ ٦٢ ھ ميں يزيد نے شامي
سرداروں ميں سے ايک ناتجربہ کار جوان کو مدينہ ميں مقرر کيا جس نے اہل
مدينہ کے خيالات يزيد کي طرف سے صاف کرنے کے لئے چند افراد کو اس بات
کي دعوت دي کہ وہ شام جا کر يزيد سے ملاقات کريں۔ چنانچہ کچھ لوگ اس پر
آمادہ ہوگئے اور انہوں نے شام جاکر يزيد سے ملاقات بھي کي۔ اگرچہ يزيد
نے ان کو بہت زيادہ انعامات (پچاس ہزار سے ايک لاکھ درہم تک)سے نوازا
ليکن يہ لوگ جو خود صحابي رسول تھے يا اولاد صحابہ ميں سے تھے يزيدي
دربار کا قريب سے مشاہدہ کرنے کے بعد اور زيادہ متنفر اور غصہ ہوگئے
اور جب مدينہ واپس ہوئے تو عبداللہ ابن حنظلہ غسيل الملائکہ نے اپني
حکومت کا اعلان کرکے يزيد کے خلاف بغاوت اور مرکزي حکومت سے عليحدگي کا
اعلان کرديا۔ يزيد نے ان کي سرکوبي کے لئے مسلم ابن عقبہ کو روانہ کيا
اور مدينہ رسول
۰
ميں ايسا عظيم الميہ برپا ہوا جس نے تاريخ ميں خون کے آنسو رلا دينے
والے، سسکيوں اور آہوں سے معمور باب کا اضافہ کرديا۔يہ واقعہ بھي لوگوں
ميں شديد رعب و وحشت ايجاد کرنے کا سبب بنا۔
فکري انحطاط
اس خوف و ہراس کے ساتھ ہي ساتھ ايک دوسرا عامل بھي موجود تھا،اور وہ
تھا پوري دنيائے اسلام پر چھايا ہوا فکري انحطاط ، جو گزشتہ بيس برسوں
ميں ديني تعليمات سے بے اعتنائي کا نتيجہ تھا۔ گويا ٤٠ ھ کے بعد
تقريباً بيس سال کے عرصہ ميں دين و ايمان کي تعليمات ، آيات الہي کي
تفسير اور پيغمبر اسلام
۰
کے حق و آگہي سے بھرپور بيانات اس حد تک محدود ہو کر رہ گئے تھے کہ
عوام الناس اعتقاد و ايمان کے لحاظ سے بالکل فرومايہ، کھوکھلے اور
ديواليہ ہو چکے تھے۔
جب ايک انسان اس دور کي عوامي زندگي کا ذرا باريک بيني کے ساتھ جائزہ
ليتا ہے اور مختلف تاريخوں اور روايات ميں ان کے حالات کھنگالنے کي
کوشش کرتا ہے تو اس پر يہ حقيقت کھل کر سامنے آجاتي ہے۔ اس کا يہ مطلب
نہيں کہ اسلامي معاشرے ميں علمائ و قارئين اور محدثين و مقدسين بالکل
ناپيد ہوچکے تھے (ان کے بارے ميں گفتگو بعد ميں آئے گي)ايسا نہ تھا،
پھر بھي عوامي زندگي بلاشبہ بے ديني اور اعتقادي ضعف اور اضمحلال کا
شکار تھي۔ حالات اتنے بگڑ چکے تھے کہ خود دربار خلافت سے تعلق رکھنے
والے بعض افراد نبوت کے بارے ميں بھي شکوک و شبہات اور ابہامات پيدا
کرنے لگے تھے۔ چنانچہ کتابوں ميں مذکور ہے کہ خالد بن عبداللہ قسري جس
کو بني اميہ کي پستي اور رذالت کا بدترين نمونہ کہا جاسکتا ہے بڑي ہي
ديدہ دليري کے ساتھ کہتا ہے : ’’ کان يفضل الخلافۃ عليٰ النبوۃ ‘‘ يعني
’’ (معاذ اللہ )خلافت نبوت سے بالاتر ہے۔‘‘ اور اس کے لئے دليل کے طور
پر کہتا تھا کہ : ’’ ايھما افضل ؟ خليفۃ الرجل في اھلہ اور رسولہ اليٰ
اصحابہ ۔ ‘‘ (اگر تم ايک شخص کو اپنے گھرانے ميں اپنا جانشين مقرر کرتے
ہو تو وہ شخص تم سے زيادہ قريب ہوگا يا وہ شخص جس کو کسي کے پاس پيغام
رساني کا ذريعہ بنايا جائے۔)
ظاہر ہے جس کو تم اپنے گھرانے ميں منتخب کرکے اپنا جانشين مقرر کرتے ہو
وہي تم سے زيادہ قريب ہوتا ہے۔ لہذا خليفہ اللہ (يہ لوگ خلفائ رسول کے
بجائے خليفہ اللہ کہنے لگے تھے)رسول اللہ سے بالاتر ہے۔
يہ تو خالد بن عبدا للہ قسري کي بات تھي يقيناً اس طرح کي باتيں دوسرے
افراد بھي کرتے رہے ہوں گے۔
جب ميں نے ديکھا کہ عبدالملک بن مروان کے زمانے سے خلفائ کے لئے خليفہ
اللہ کي تعبير اس کثرت سے استعمال کي جانے لگي کہ عوام يہ بھي بھول گئے
کہ خليفہ ، خليفہ پيغمبر بھي ہوتا ہے۔ يہ سلسلہ بني عباس کے دور ميں
بھي جاري رہا چنانچہ بشار ابن برد نے جب يعقوب بن ابن داو د اور منصور
کي ہجو ميں اشعار کہے تو اس ميں بھي يہي تعبير استعمال کي :
’’ ضاعت خلافتکم يا قوم فالتسموا خليفہ اللہ بين الزق والعود۔‘‘
’’ اے قوم تمہاري خلافت ختم ہوگئي اب خليفہ الہي کو زق اور عود کے
درميان تلاش کرو۔‘‘
سوچنے کا مقام ہے جب ايک شاعر خليفہ کے لئے ہجو کہتا ہے تو بھي خليفہ
اللہ کا لفظ استعمال کرتا ہے۔ا س زمانہ کے تمام نامور شعرائ حرير،
فرزدق، نصيب اور سينکڑوں دوسرے مشہور شعرائ جب خليفہ کي مدح سرائي کرتے
ہيں تو اس کو خليفہ اللہ سے مخاطب کرتے ہيں۔
يہ اس زمانے کے لوگوں کے اعتقاد کا صرف ايک نمونہ ہے۔ دين کي بنيادي
باتوں کے سلسلہ ميں بھي اس حد تک ايمان کمزور ہوچکا تھا۔
لوگوں کے اخلاق و عادات کي حالت تو اس سے بھي زيادہ خراب تھي۔ابو الفرج
کي کتاب اغاني کا مطالعہ کرتے وقت ايک نکتہ يہ ميرے ہاتھ آيا کہ
تقريباً اسي اور نوے ہجري سے ٥٠ ، ٦٠ سال بعد تک جتنے بڑے بڑے گانے
بجانے والے عياش اور عشرت طلب افراد تھے وہ يا تو مدينہ سے تعلق رکھتے
تھے يا مکہ سے۔ چنانچہ جب شام ميں خليفہ کا دل اکتا جاتا تھا۔ محفل رقص
و سرور گرم کرنے کے خواہش مچلنے لگتي تھي اور بہترين قسم کے گانے بجانے
والوں کو سننے کا دل چاہتا تھا تو اس کے لئے مکہ يا مدينہ سے کسي کو
لايا جاتا تھا، جو اس وقت کے مشہور و معروف گانے بجانے والے مغنيوں اور
طبلہ نوازوں کے مرکز تھے۔ بدترين فحاشي اور ہرزہ سرائي کرنے والے شعرائ
مکہ اور مدينہ ميں موجود تھے۔
مرکز وحي و الہام اور منبع ايمان و اسلام مرکز فحشائ و فساد ميں تبديل
ہوچکا تھا۔ ہميں مکہ مدينہ کے بارے ميں ان تلخ حقائق کو بھي جاننا
چاہئيے۔ افسوس ہے کہ آئمہ کے متعلق کتب و آثار ميں ان تلخ حقيقتوں کے
بيان سے چشم پوشي کي گئي ہے۔
مکہ ميں عمر ابن ابي ربيعہ نامي ايک شاعر تھا جس کا شمار بدترين عرياں
و فحش نگاروں ميں ہوتا تھا۔ البتہ شک نہيں کہ فن و شاعري ميں اس کو
پوري قدرت و کمال حاصل تھا۔ اس کي داستان اور اس قسم کے دوسرے شعرائ کا
کردار اس زمانے کي غم انگيز تاريخ کا ايک سياہ باب ہے اور خود مقامات
طواف و رمي خمرات نيز ديگر مشاہد مقدسہ ان لوگوں کي بيہودہ گوئي اور
فسق فجور کے شاہد ہيں۔ ‘‘ مغني‘‘ ميںموجود درج ذيل اشعار اسي دور کے
حالات کي عکاسي کرتے ہيں:
بدالي منھا معصم حين جمرت وکف خضيب زينت ببنان فو اللہ ماادري وان کنت
داريا بسبع رمين الجمرام بثمان
’’ جب اس نے رمي جمرہ کيا تو ميرے سامنے اس کي کلائي اور مہندي لگے
ہاتھ ظاہر ہوئے جن کي انگليوں کے پوروں کي زينت کي گئي تھي۔ بخدا انہيں
ديکھ کر ميں بھول گيا کہ ميں نے سات کنکر مارے ہيں يا آٹھ جبکہ اس سے
پہلے مجھے ياد تھا۔‘‘
ايک راوي کے الفاظ ہيں کہ جس وقت عمر ابن ابي ربيعہ مرا ہے تو پورے
مدينہ ميں صف ماتم بچھ گئي۔ مدينہ کي گليوں اور کوچوں سے لوگوں کے رونے
اور فرياد کرنے کي آوازيں بلند تھيں۔ جس طرف سے گزرئيے نوجوانوں کي
ٹولياں حلقہ بنائے عمر ابن ابي ربيعہ کي موت پر رنج و غم ميں بيٹھي نظر
آتي تھيں۔ ميں نے ايک کنيز کو ديکھا کہ کسي کام سے چلي جارہي ہے اور اس
حالت ميں بھي اس کي آنکھوں سے اشک جاري ہيں۔ گريہ و زاري کرتي ہوئي ہو
؟ کنيز نے جواب ديا : عمر ابن ابي ربيعہ جيسے شخص سے محروم ہوجانے پر۔
کسي نے جواب ديا: غم نہ کرو مکہ ميں ايک دوسرا شاعر حارث ابن خالد
مخزومي موجود ہے اور وہ بھي عمر ابن ابي ربيعہ کي طرح شعر کہتا ہے۔ يہ
کہہ کر اس نے حارث کا ايک شعر سنايا جس کو سن کر کنيز نے اپني آنکھوں
کو خشک کرتے ہوئے کہا : الحمد للہ الذي لم يخل حرمہ (خدا کا شکر کہ اس
نے اپنا حرم خالي نہيں چھوڑا!!!)
يہ تھي اہل مدينہ کي اخلاقي حالت۔ اس حالت کي بے شمار داستانيں اور
اہليان مکہ و مدينہ کي شب نشيني کے واقعات کتابوں ميں موجود ہيں۔ اور
يہ پستي صرف کسي ايک طبقہ کے افراد تک محدود نہيں تھي بلکہ ہر طبقہ کا
يہي عالم تھا۔ ايک گدائي کرنے والا فاقہ زدہ بد بخت شاعر اور جو کر شعب
جو طماع (لالچي)کے نام سے مشہور تھا ا س سے لے کر کوچہ و بازار سب ہي
ايک تھالي کے چٹے بٹے تھے۔ حتيٰ کے بعض بني ہاشم جن کا ميں يہاں نام
لينا نہيں چاہتا ان کي بھي يہي حالت تھي۔ قريش کي مشہور و معروف
شخصيتوں کي اولاديں کيا مرد اور کيا عورتيں عياشوں، فاسقوں اور فاجروں
کي صف ميں شامل تھيں۔ اسي شخص حارث بن خالد کي گورنري کے زمانہ ميں ايک
دن عائشہ بن طلحہ طواف ميں مصروف تھي۔ يہ شخص اس عورت سے خاص تعلق خاطر
رکھتا تھا۔ جب اذان کا وقت ہوا تو عائشہ نے حارث کے پاس پيغام بھجوايا
کہ کہہ دو کہ جب تک ميرا طواف ختم نہ ہوجائے اذان نہ دي جائے۔ حارث نے
حکم دے ديا کہ عصر کي اذان نہ دي جائے۔ لوگوں نے اعتراض کيا کہ تم ايک
شخص کے طواف کي خاطر اتنے سارے لوگوں کي نماز ميں تاخير کرنا چاہتے ہو
؟ اس پر حارث نے جواب ديا : بخدا اگر کل صبح تک بھي اس کا طواف طول
کھينچتا تو ميں يہي کہتا کہ اذان نہ دي جائے۔
سياسي بد عنوانياں
اس فکري اور اخلاقي انحطاط کے ساتھ ہي ساتھ ايک اور عامل يہ بھي تھا کہ
يہ دور سياسي بدعنوانيوں سے بھي دوچار تھا۔ زيادہ تر بڑي بڑي شخصيتيں
ايسي مادي خواہشات کي اسير تھيں جو حکام ہي کے ذريعہ پوري ہوسکتي تھيں۔
ايک زمانے ميں امام سجاد ٴ کي شاگردي ميں رہنے والے محمد بن شہاب زہري
جيسي بزرگ شخصيت نے بھي خود کو اس پستي ميں گراديا تھا کہ امام ٴ کو وہ
مشہور و معروف خط لکھنا پڑا جو صرف ايک خط ہي نہيں بلکہ اس حقيقت کي
بھي نقاب کشائي کرتا ہے کہ اس نے کس قسم کے لوگوں سے ربط و ضبط پيد
اکررکھا تھا۔ اور اس دور ميں محمد بن شہاب جيسے افراد کي کمي نہيں تھي۔
علامہ مجلسي رضوان اللہ عليہ نے جو بات ابن ابي الحديد سے نقل کي ہے اس
کو پڑھ کر انساني ذہن کو سخت جھٹکا لگتا ہے ۔ بحارالانوار ميں پہلے تو
علامہ مجلسي نے جناب جابر
۱
کي زباني امام سجاد ٴ کا ايک قول نقل کيا ہے کہ امام ٴ فرماتے ہيں:
’’ ما ندري کيف نصنع بالناس ، ان حدثنا ھم بما سمعنا من رسول اللہ
ضحکواوان سکتنا لم يسمعنا‘‘
’’ اور ہماري سمجھ ميں نہيں آتا کہ لوگوں کے ساتھ کيا کريں۔ اگر ہم
انہيں رسول اللہ
۰
سے سني ہوئي باتيں سناتے ہيں تو وہ ان کا مذاق اڑاتے ہيں اور اگر خاموش
رہيں تو سنتے نہيں۔‘‘
اس کے بعد علامہ ايک ماجرا نقل کرتے ہيں کہ امام سجاد ٴ لوگوں کے
درميان حديث نقل کرتے ہيں ۔ مجمع کے درميان سے ايک شخص اٹھ کر مذاق
اڑاتا ہے اور حديث قبول کرنے سے انکار کرديتا ہے۔ واقعہ نقل کرنے کے
بعد علامہ مجلسي زہري اور سعيد ابن مسيب کے بارے ميں لکھتے ہيں کہ يہ
لوگ منحرفين ميں سے تھے۔ (اگرچہ ميں ذاتي طور پر سعيد ابن مسيب کے
سلسلہ ميں يہ بات قبول کرنے کو تيار نہيں ہوں کيوں کہ دوسري دليلوں سے
ان کا اما عليہ السلام کے حواريوں ميںسے ہونا ثابت ہے۔ البتہ زہري اور
دوسرے بہت سے لوگوں کے سلسلہ ميں يہ بات صحيح ہے)اس کے بعد خود علامہ
مجلسي لکھتے ہيں کہ : ابن ابي الحديد نے ايسي بہت سي شخصيتوں اور اس
دور کے سربر آوردہ حضرات کے نام ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ يہ سب اہل
بيت ٴ سے منحرف تھے اور پھر آپ حضرت سجاد ٴ سے روايت کرتے ہيں کہ حضرت
ٴ نے فرمايا:
’’ ما بمکۃ المدينۃ عشرون رجلا يحبوننا‘‘
’’ پورے مکہ اور مدينہ ميں ہميں چاہنے والے بيس آدمي بھي نہيں ہيں‘‘
يہ تھے وہ بدترين حالات جن ميں امام زين العابدين عليہ السلام زندگي
بسر کررہے تھے اور يہي وہ دور ہے جب آپ ٴ اپنے عظيم مشن کے لئے جدوجہد
کا آغاز کرتے ہيں اور اسي زمانہ کي طرف امام جعفر صادق عليہ السلام ان
لفظوں ميں اشارہ فرماتے ہيں: ارتد الناس بعد الحسين الا ثلاثہ ‘‘ امام
حسين ٴ کے بعد تين افراد کے علاوہ سب ہي مرتد ہو گئے تھے ۔ اور ان تين
آدميوں کے نام ليتے ہيں، ابو خالد الکاہلي، يحييٰ ابن ام الطويل اور
جبير بن مطعم ابن جبير ‘‘ ( البتہ علامہ شوستري کا خيال ہے کہ جبير بن
مطعم درست نہيں اس کے بجائے حکيم ابن جبير مطعم ہونا چاہئيے اور بعض
تاريخوں ميں محمد بن جبير مطعم ہے ۔ بحار الانوار کي ايک روايت ميں چار
افراد کا ذکر ہے اور بعض روايتوں ميں پانچ اشخاص کے نام لئے گئے ہيں۔
اور يہ سب روايات ايک دوسرے کے ساتھ قابل جمع ہيں)اتنے سخت ماحول اور
ايسي سنگلاخ وادي ميں رہتے ہوئے امام ٴ اپنے ہدف کي تکميل کے لئے
جدوجہد ميں مشغول ہوتے ہيں۔
اب سيد سجاد کا طريقہ کار کيا ہوتا؟
اپنے مقصد تک رسائي کے لئے امام ٴ نے اپنے دوش پر تين ذمہ دارياں محسوس
کيں۔
١) پہلي ذمہ داري تو يہ تھي کہ امام ٴ لوگوں کو معارف اسلامي کي تعليم
ديں: اگر ہم اسلامي حکومت وجود ميں لانا چاہيں تو يہ اس وقت تک ممکن ہي
نہيں ہے جب تک کہ عوام کے اندر ديني تعليمات سے آشنائي پيدا نہ ہوجائے۔
بغير اس کے اس طرح کي حکومت کي اميد ہي فضول ہے۔ لہذا سب سے پہلا کام
يہي ہے کہ لوگوں کو ديني تعليمات سے مزين کيا جائے۔
٢) دوسري ذمہ داري يہ تھي کہ خاص طور سے مسئلہ امامت جو ايک اجنبي اور
متروک مسئلہ ہوگيا ہے۔ يا اس کو غلط معني پہنا کر پيش کيا جانے لگا ہے
اس کي حقيقت کي وضاحت کر کے لوگوں کے ذہنوں کي صفائي کي جائے، يعني
انہيں بتايا جائے کہ امامت کا کيا مفہوم ہے؟
کون امام ہوسکتا ہے ؟ امام ہونے کے لئے کيا شرائط ہيں؟ کيونکہ بہر حال
معاشرے ميں ايک قائد موجود تھا اور وہ (اس وقت)عبدالملک ابن مروان تھا
جس کو لوگ اپنا امام تصور کرتے تھے۔ اسلامي معاشرے کي قيادت اس کے ہاتھ
ميں تھي۔
بعد ميں ہم امام کي بحث ميں عرض کريں گے کہ امامت کا وہ تصور ہر چند
آخري صديوں سے ہمارے پاس موجود ہے وہ اس تصور سے قطعي مختلف ہے جو صدر
اسلام ميں رائج تھا۔ دراصل اس زمانہ ميں آئمہ عليہم السلام کے موافقين
و مخالفين سب اس کا وہي مفہوم ليتے تھے جو آج جمہوري اسلامي ايران ميں
سمجھا جارہا ہے۔ امام امت ، رہبر ملت يعني حاکم دين و دنيا۔ ادہر آخري
دو تين صديوں سے ہمارا تصور امام کے سلسلہ ميں کچھ اور ہي ہو چکا
تھا۔ہم سمجھ بيٹھے تھے کہ معاشرے ميں ايک تو ايسا شخص ہوتا ہے جو عوام
سے ٹيکس وصول کرتا ہے ، انہيں محاذ جنگ پر بھيجتا ہے، ان کو صلح کي
دعوت ديتا ہے، ان کے مسائل کا ذمہ دار و نگراں ہوتا ہے، حکومتي ادارے
بناتا ہے گويا حکومت کي تشکيل ، اس کا نظم و فسق سب کچھ اس کے ہاتھ ميں
ہے اور اس کو حاکم کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ ايک دوسرا شخص
ہوتا ہے جس کا کام يہ ہے کہ لوگوں کا دين درست کرے، ان کے عقيدے کو
سدھارے ، لوگوں کي نماز اور قرآت ٹھيک کرے اور اسي طرح کے دوسرے امور
(اپني ہمت و صلاحيت کے مطابق)انجام ديتا رہے اور اس کا نام عالم رکھ
ديا گيا۔
امام کو بھي اپنے زمانہ ميں تقريباً وہي حيثيت حاصل تھي جو بعد کي
صديوں ميں عالم کي رہي ہے۔ خليفہ اپنے کام انجام ديتا ہے، وہ بھي لوگوں
کے دين اور اخلاق درست کرتا ہے۔ ادھر چند آخري صديوں سے امام کے بارے
ميں ہمارا يہي تصور رہا ہے۔ جبکہ صدر اسلام ميں امام دنيا کا حاکم
سمجھا جاتا تھا۔ خلفائے بني اميہ اسي منصب کے مدعي تھے۔ بني عباس بھي
ايسا ہي دعويٰ کرتے تھے۔ شراب کے نشہ ميں چور دنيا بھر کے لہو و لعب
ميں ڈوبے ہونے کے باوجود اسي قسم کي امامت کے دعويدار بنے بيٹھے تھے۔
وہ خود کو امام سمجھتے تھے۔ اگر موقع ملا تو ان شائ اللہ اس بارے ميں
بھي گفتگو کريں گے۔
بہر حال اس وقت تو صرف اتنا عرض کرنا مقصود ہے کہ اسلامي معاشرے ميں
امام موجود تھا، ان کا امام عبدالمالک تھا۔ اور امام سجاد ٴ کے لئے
ضروري تھا کہ لوگوں کو امامت کے صحيح معني، جہت و مقصد اور شرائط سے
واقف کيا جائے۔ آپ ٴ کي ذمہ داري عوام کے سامنے ان چيزوں کي نشان دہي
کرنا تھي جو امامت کے لئے ناگزير ہيں، وہ چيزيں جن کے بغير کسي شخص کا
امام ہونا ممکن نہيں تھا۔ امام عليہ السلام کو ان تمام باتوں کي تشريح
و توضيح کرني تھي۔
٣) تيسري اور آخري منزل يہ تھي کہ امام ٴ لوگوں کو بتائيں کہ ميں امام
ہوں: يعني وہ شخص جسے اس مقام پر ہونا چاہئيے ، ميں ہوں۔
امام زين العابدين عليہ السلام کے سامنے يہ تين امور تھے جنہيں آپ ٴ کو
انجام دينا تھا ۔
امام ٴ کي زيادہ تر جدوجہد پہلے مسئلے پر مرکوز رہي۔ کيونکہ جيسا کہ ہم
نے عرض کيا ابھي آپ ٴ کے دور ميں نوبت يہاں تک نہ پہنچي تھي کہ لوگ
امام ٴ سے ’’ ميں امام ہوں ‘‘ سننے کے متحمل ہوتے۔ پہلے امام ٴ کو
لوگوں کے دين کي اصلاح کرني تھي ، انہيں اسلامي اخلاق سے آراستہ کرنا
تھا ، لوگوں کو فسق و فساد کے گڑھوں سے باہر نکالنا تھا، معاشرے ميں
روحانيت و معنويت (جو دين کا لب و لباب اور اصل روح ہے) دوبارہ زندہ
کرناتھا۔ يہي وجہ ہے کہ ہم ديکھتے ہيں امام ٴ کي اکثر زندگي اور کلام
زہد پر مبني ہے، تمام کا تمام زہد کي تعليم ہے۔ حتيٰ اپنے ايک سياسي
مقصد سے متعلق گفتگو کا آغاز بھي ان الفاظ ميں فرماتے ہيں:
’’ ان علامۃ الزادھين في الدنيا الراغبين عنھا في الآخرۃ ۔‘‘
’’ ان لوگوں کي نشاني جنہوں نے دنيا سے بے رغبتي اور آخرت سے رغبت کي
۔‘‘
يا اپنے ايک مختصر پيغام ميں دنيا اور بڑے بڑوں کا دل اپني طرف کھينچ
لينے والي اس کي چکا چوند پر ان الفاظ ميں تبصرہ فرماتے ہيں:
’’ ہے کوئي آزاد منش مرد جو پيٹ سے الٹي ہوئي اس غذا (دنيا )کو اسکے
اہل کے لئے چھوڑ دے۔ تمہارے وجود کي جنت کے سوا کوئي قيمت نہيں، اسے اس
کے سوا کسي قيمت پر نہ بيچنا ۔‘‘
امام ٴ کے کلمات کا بيشتر حصہ زہد پر مشتمل ہے، اس ميں سے زيادہ تر
معارف پر مبني ہے البتہ آپ ٴ نے معارف کو دعا کے لباس ميں پيش کيا ہے،
کيونکہ جيسا کہ ہم عرض کرچکے ہيں کہ اس وقت کا گھٹن زدہ ماحول اور نا
مساعد حالات اس بات کي اجازت نہيں ديتے تھے کہ امام سجاد ٴ عوام الناس
سے کھل کر صاف الفاظ ميں گفتگو کرسکيں۔ نہ صر ف يہ کہ حکومت کے ايجنٹ
اس سلسلہ ميں رکاوٹ تھے بلکہ عوام بھي اس کے لئے تيار نہ تھے۔ دراصل وہ
معاشرہ ايک نالائق ، تباہ شدہ اور ناکارہ معاشرہ تھا جس کي نئے سرے سے
تعمير و اصلاح کي ضرورت تھي۔
امام ٴ کي زندگي کے ٣٤، ٣٥ سال (٦١ ھ سے ٩٥ ھ تک)اسي کوشش ميں صرف
ہوئے۔ البتہ دھيرے دھيرے حالات سدھر رہے تھے۔ لہذا امام جعفر صاد ق
عليہ السلام نے اپني اسي حديث ميں جہاں يہ فرمايا تھا کہ : ’’ ارتد
الناس بعد الحسين۔۔۔ ‘‘ وہيں آگے بڑھ کر آپ ٴ يہ فرماتے ہيں : ثم ان
الناس لحقوا و کثروا ‘‘ (يعني پھر لوگ ( اہل بيت ٴ سے)ملحق ہوتے گئے
اور ان کي تعداد بڑھتي گئي) اور ہم ديکھتے ہيں کہ يہي حقيقت ہے۔
چنانچہ جب امام محمد باقر عليہ السلام کا زمانہ آتا ہے
(جس کي تفصيل ہم بعد ميں عرض کريں گے) تو حالات بدل چکے ہوتے ہيں اور
يہ سيد سجاد ٴ کي ٣٥ سال کي زحمتوں کا نتيجہ تھا۔
با صلاحيت افراد کي تياري پر توجہ
امام سجاد ٴ کے کلمات ميں باصلاحيت افراد کي تربيت اور اعوان و انصار
کي فراہمي پر بھي خاص توجہ نظر آتي ہے۔ تحف العقول ميں امام ٴ کے طويل
کلام کے چند فقرات نقل ہوئے ہيں۔ مجھے افسوس ہے کہ ميں اس طرح کے نمونے
دوسري کتابوں ميں تلاش کرنے کے لئے وقت نہ نکال سکا۔ ويسے ميرا گمان
يہي ہے کہ ( اس طرح کے دوسرے طويل کلام) ملنا مشکل ہے اور ہوئے بھي تو
زيادہ نہ ہوں گا۔ البتہ چھوٹے چھوٹے فقرے کافي مل جائيں گے۔
ايسي طويل اور مفصل حديثيں جو تحف العقول ميں امام سجاد ٴ سے نقل کي
گئي ہيں اور جن کي تعداد دو تين تک پہنچتي ہے ميرے خيال ميں کہيں اور
مل نہيں سکيں گي۔ ان احاديث کا لب ولہجہ اور انداز خطابت خود اس کام کي
نشاندہي کرتا ہے جو امام زين العابدين عليہ السلام انجام دے رہے تھے۔
ان تين ميں سے ايک حديث يہ ظاہر کرتي ہے کہ اس کے مخاطب عوام ہيں
چنانچہ اس کا آغاز ’’ ايھا الناس ‘‘ (اے لوگو)سے ہو اہے اور اس ميں
لوگوں کو معارف اسلامي کي ياد دہاني کرائي گئي ہے۔ اس مفصل حديث ميں
حضرت ٴ فرماتے ہيں کہ جب انسان کو قبر کے حوالے کرديا جاتا ہے تو اس سے
اس کے رب کے بارے ميں سوال ہوتاہے، اس کے پيغمبر کے بارے ميں سوال ہوتا
ہے، اس کے دين کے بارے ميں سوال ہوتا ہے، اس کے امام کے بارے ميں سوال
ہوتاہے۔امام عليہ السلام کا يہ ہلکا پھلکا طرز تخاطب دراصل اپنے حلقہ
تبليغ ميں آنے والے عوام کے لئے ہے۔ ليکن ايک دوسري حديث اس سے بالکل
مختلف الفاظ ميں شروع ہوتي ہے جو بتاتي ہے کہ وہ خواص سے مربوط ہے۔
فرماتے ہيں:
’’ کفانا اللہ واياکم کيد الظالمين و بغي الحاسدين و بطش الجبارين لا
يفتنکم الطواغيت‘‘
’’ ظالموں کے دھوکے، حاسدوں کي جفا اور جباروں کے دبدبے سے ہميں اور
تمہيں خدا بچانے والا ہے، ديکھو طواغيت تمہيں دھوکہ نہ دے جائيں۔‘‘
يقينا يہ لب و لہجہ عام لوگوں سے مربوط نہيں ہوسکتا ہے ، اس کے مخاطب
کچھ مخصوص افراد ہيں۔
ايک تيسري قسم کا کلام بھي ہے جس کے مطالب کے بعض حصوں سے معلوم ہوتا
ہے کہ يہ مخصوص ترين اور انتہائي چنيدہ اشخاص سے متعلق ہے۔ ايسا لگتا
ہے کہ اس کے مخاطب وہي افراد ہيں جو امام ٴ کے اسرار و رموز اور آپ ٴ
کي بامقصد جدوجہد سے واقفيت رکھتے تھے اور جن کا شمار سيد سجاد ٴ کے
محرمان راز ميں ہوتا تھا۔ يہاں اپنے ان ہي مخصوص دوستوں سے خطاب کرتے
ہوئے امام عليہ السلام کہتے ہيں:
’’ ان علامۃ الزاھدين في الدنيا الراغبين في الآخرۃ ترکھم کل خليط و
خليل و رفضھم کل صاحب لا يريد ما يريدون۔‘‘
’’ دنيا سے بے رغبتي اور آخرت ميں رغبت رکھنے والوں کي علامت يہ ہے کہ
وہ ہر ايسے شريک اور دوست کو ترک کرديتے ہيں اور ہر اس ساتھ چلنے والے
کو چھوڑ ديتے ہيں جو وہ نہيں چاہتا جو يہ چاہتے ہيں۔‘‘
ان تمام کلمات کي روشني ميں يہ نتيجہ نکالا جاسکتا ہے کہ امام ٴ اس
طويل مدت ميں يا تو ادوار کے اختلاف کے لحاظ سے يا جن افراد سے آپ ٴ
مخاطب ہوتے تھے ان کي صلاحيتوں کے اعتبار سے تعليمات کے دو تين مرحلے
يا انداز اپناتے تھے ، کبھي اس انداز سے گفتگو کرتے تھے کبھي اس انداز
سے، کبھي حکومت کي مشينري اور وقت کے ظاغوتوں کے بارے ميں اظہار خيال
فرماتے تھے اور کبھي دين اسلام کے کلي و بنيادي مسائل بيان کرنے پر
اکتفا کرتے تھے۔
يہ امام سجاد ٴ کي زندگي کا ايک مختصر سا خاکہ ہے۔ حضرت ٴ اپني عمر کے
آخري ٣٥ برسوں ميں ايسے تاريک و ظلمت زدہ ماحول کے مارے ہوئے افراد کو
ايک طرف تو آہستہ آہستہ حيواني شہوات کے چنگل سے نجات دلاتے ہيں دوسري
طرف ظلم و جبر کے تسلط اور دربار سے وابستہ علمائے سوئ کي کمندوں سے
انہيں آزادي عطا کرتے ہيں۔ چنانچہ مجموعي طور پر صالح اور مخلص مومنين
کي ايک ايسي جماعت آمادہ و تيار کرتے ہيں جو مستقبل کي ذمہ داريوں کو
اپنے دوش پر سنبھال سکے۔ البتہ امام سجاد ٴ کي زندگي کي جزئيات سے بحث
کے لئے عليحدہ سے کئي گھنٹے درکار ہيں اور ميں گھنٹوں اس موضوع پر
گفتگو کر بھي چکا ہوں اور اس وقت اس سے زيادہ بحث کي گنجائش نظر نہيں
آتي۔
امام محمد باقر عليہ السلام کا عہد
اب امام محمد باقر عليہ السلام کا دور آتا ہے۔ امام محمد باقر ٴ ميں
بھي ہم اسي طريقہ کار کا مشاہدہ کرتے ہيں، جس پر امام سجاد ٴ گامزن
ہيں۔ اب حالات نسبتاً کچھ بہتر ہوچکے ہيں چنانچہ امام محمد باقر ٴ بھي
معارف اسلامي اور تعليمات ديني پر زيادہ زور ديتے ہيں۔ اب لوگ خاندان
پيغمبر
۰
کي طرف سے پہلے جيسي بے اعتنائي و سرد مہري نہيں برتتے لہذا جب امام
ٴمسجد ميں داخل ہوتے ہيں تو کچھ لوگ ہميشہ ان کے ارد گرد حلقہ کرکے
بيٹھ جاتے ہيں اور آپ ٴ سے مستفيد ہوتے ہيں۔ راوي کہتا ہے کہ ميں نے
امام محمد باقر عليہ السلام کو مسجد مدينہ ميں اس عالم ميں ديکھا کہ
خراسان کے دور دراز علاقوں اور دوسرے مقامات سے تعلق رکھنے والے افراد
آپ ٴ کے چاروں طرف جمع تھے۔ اس بات سے پتہ چلتا ہے کہ تبليغات کا اثر
اب کسي موج کي مانند پوري اسلامي دنيا ميں پھيل رہا تھا اور دور دور کے
لوگ اہل بيت ٴ سے نزديک ہورہے تھے ۔ ايک دوسري روايت يوں ہے: اہل
خراسان آپ ٴ کو اپنے گھيرے ميں لئے بيٹھے تھے اور حضرت ٴ ان لوگوں سے
حلال و حرام سے متعلق گفتگو فرمارہے تھے۔
اس وقت کے بڑے بڑے علمائ آپ ٴ سے درس ليتے اور مستفيد ہوتے تھے۔ عکرمہ
جيسي مشہور و معروف شخصيت جو ابن عباس کے شاگردوں ميں سے تھے جس وقت
امام ٴ کي خدمت ميں پہنچتے ہيں تاکہ آپ ٴ سے حديث سنيں تو ان کے ہاتھ
پاو ں ميں ايک تھرتھري سے پڑي جاتي ہے اور امام ٴ کي آغوش ميں گرپڑتے
ہيں۔ بعد ميں اپني اس حالت پر تعجب کا اظہار کرتے ہوئے عکرمہ کہتے ہيں:
ميں نے ابن عباس جيسے بزرگ کي خدمت ميں حاضري دي ہے اور ان سے حديث بھي
سني ہے، مگر اے فرزند رسول
۰
!
آپ کي خدمت ميں پہنچ کر ميري جو کيفيت ہوئي اس حالت سے ميں کبھي بھي
دوچار نہيں ہو اتھا۔ ملاحظہ فرمائيں جواب ميں حضرت ٴ کيسے دو ٹوک الفاظ
ميں فرماتے ہيں:
و يحک يا عبيد اھل الشام ، انک بين يدي بيوت اذن اللہ ان ترفع و يذکر
فيھا اسمہ ۔‘‘
’’ اے اہل شام (حکومت )کے بندہ بے دام ! اس وقت تو ايک معنوي عظمت کے
رو برو کھڑا ہے يہي وجہ ہے کہ تيرے ہاتھ پاو ں تيرے قابو ميں نہيں
ہيں۔‘‘
ابو حنيفہ جيسي شخصيت جن کا اپنے دور کے صاحب نظر فقہا ميں شمار ہوتا
ہے، احکام دين اور معارف اسلامي کي تحصيل کے لئے امام ٴ کي خدمت ميں
حاضري ديتي نظر آتي ہے۔ ان کے علاوہ بھي بہت سے دوسرے بڑے بڑے علمائ کے
نام حضرت ٴ کے شاگردوں کي طويل فہرست ميں نظر آتے ہيں۔
حضرت ٴ کا علمي شہرہ اطراف و اکناف عالم تک پہنچ چکا تھا اسي وجہ سے آپ
ٴ باقر العلوم کے نام سے مشہور ہوئے۔
پس آپ نے ديکھا کہ امام محمد باقر ٴ کے زمانہ ميں معاشرے کي حالت کس
قدر بدل گئي تھي اور آئمہ کے بارے ميں لوگوں کے محبت و احترام کے جذبات
ميں کس قدر اضافہ ہوگيا تھا۔ اسي نسبت سے امام محمد باقر ٴ کي سياسي
جدوجہد ميں بھي تيزي نظر آتي ہے۔ يعني عبدالملک بن مروان کے مقابلہ ميں
امام سجاد ٴ کا کوئي سخت اور درشت کلام اور کوئي ايسا جملہ نہيں ملتا
جسے آپ ٴ کي طرف سے اس کي مخالفت کي علامت کہا جاسکے۔ اگر عبدالملک سيد
سجاد ٴ کو کسي موضوع پر خط لکھتا ہے اور حضرت ٴ اس کا جواب ديتے ہيں تو
اگرچہ فرزند نبي ٴ کا جواب ہميشہ ہر رخ سے محکم و متين اور دندان شکن
ہوتا ہے پھر بھي اس خط ميں اس کي کوئي صريح مخالفت اور اعتراض دکھا ئي
نہيں ديتا ۔ ليکن امام محمد باقر عليہ السلام کا مسئلہ دوسرے ہي انداز
کا ہے۔ آپ ٴ کا طرز عمل ايسا ہے کہ اس کے سامنے ہشام بن عبدالملک خوف و
وحشت محسوس کرتا ہے اور يہ سوچنے پر مجبور ہوجاتا ہے کہ امام ٴ پر نظر
رکھنا ضروري ہے ۔ چنانچہ وہ آپ ٴ کو شام لے جانا چاہتا ہے۔
اس ميں کوئي شک نہيں کہ سيد سجاد ٴ کو بھي آپ ٴ کي امامت کے دوران
(حادثہ کربلا اور اسيري اہل حرم کے بعد دوبارہ)قيد کرکے پابہ زنجير شام
لے جايا گيا ہے ليکن وہ دوسري نوعيت تھي اور سيد سجاد ٴ ہميشہ بڑا ہي
محتاط طرز عمل اپناتے تھے جبکہ امام محمد باقر ٴ عليہ السلام کي گفتگو
کا لہجہ سخت تر نظر آتا ہے۔ ميں نے امام محمد باقر ٴ کي اپنے اصحاب کے
ساتھ گفتگو پر مشتمل چند روايتيں ديکھي ہيں جن ميں امام ٴ حکومت اور
خلافت و امامت کے لئے انہيں آمادہ کرتے ہيں حتيٰ انہيں مستقبل قريب کے
لئے خوشخبري ديتے نظر آتے ہيں ، ان ميں سے ايک روايت بحارالانوار ميں
اس مضمون کے ساتھ نقل کي گئي ہے : حضرت ابي جعفر (امام محمد باقر ٴ)کا
در دولت لوگوں سے بھرا ہوا ہے۔ ايک بوڑھا شخص عصا ٹيکتا ہوا آتا ہے اور
سلام و اظہار محبت کے بعد حضرت کے نزديک بيٹھ جاتا ہے اور کہتا ہے :
’’ خدا کي قسم ميں آپ کو دوست رکھتا ہوں اوراس کو بھي دوست رکھتا ہوں
جو آپ کو دوست رکھتا ہے ، اور خدا کي قسم يہ دوستي دنياوي مفادات کي
لالچ کي خاطر نہيں ہے۔ اور بے شک ميں آپ کے دشمنوں سے بغض رکھتا ہوں
اور ان سے برا ت چاہتا ہوں ، اور بے شک ميں آپ کے دشمنوں ان سے ذاتي
عداوت يا بدلہ کے باعث نہيں ہے۔ خدا کي قسم ميں نے اس شئے کو حلال
سمجھا ہے جس کو آپ نے حلال قرار ديا ہے اور اس کو حرام سمجھا ہے جس کو
آپ نے حرام قرار ديا ہے، ميں آپ کے امر کا منتظر ہوں۔ پس ميں آپ پر فدا
ہوجاو ں کيا ميں اپني آنکھوں سے آپ کي کاميابي کے دن ديکھ سکوں گا؟‘‘
اس روايت ميں آخري جملہ غور طلب ہے، آنے والا امام ٴ سے سوال کرتا ہے:
کيا آپ ٴ يہ سمجھتے ہيں کہ ميں اپني آنکھوں سے آپ ٴ کي کاميابي کے دن
ديکھ سکوں گا ؟ کيونکہ ميں آپ ٴ کے امر ، يعني آپ ٴ کي حکومت ديکھنے کا
منتظر ہوں۔ اس دور ميں امر يا ھذا الامر يا امرکم کي تعبيريں حکومت کے
معني ميں استعمال ہوتي تھيں۔ اس طرح کي تعبير کيا آئمہ ٴ اور ان کے
اصحاب اور کيا ان کے مخالفين ہر ايک کے درميان ان ہي معنوں ميں مستعمل
تھيں۔ مثلاً مامون رشيد سے گفتگو کرتے ہوئے ہارون کہتا ہے: واللہ لو
تنازعت معي في ھذا الامر ۔‘‘ (بخدا اس امر ( خلافت)کے سوا ان سے ہمارا
کوئي تنازع نہيں ہے۔)
ظاہر ہے کہ يہاں ’’ ھذا الامر ‘‘ سے خلافت و امامت ہي مراد ہے۔ لہذا
مذکورہ بالا روايت ميں ’’ انتظر امرکم ‘‘ کا مطلب امام کي حکومت و
خلافت کا انتظار ہے۔ بہرحال وہ شخص سوال کرتا ہے کہ مولا! کيا آپ ٴ کو
اميد ہے کہ ميں اس وقت تک زندہ رہوں گا اور آپ ٴ کي حکومت کو اپني
آنکھوں سے ديکھ سکوں گا؟
امام ٴ نے اس کو اپنے قريب بلايا اور اپنے پہلو ميں جگہ عنايت فرمائي ،
پھر فرمايا :
’’ايھا الشيخ ان علي بن الحسين اتاہ رجل فسالہ عن مثال الذي سئلتني
عنہ‘‘
’’ اے شيخ علي بن الحسين ٴ کے پاس ايک شخص آيا تھا اوراس نے بھي ان سے
يہي سوال کيا تھا جو تو نے مجھ سے کيا ہے ۔‘‘
البتہ مجھے سيد سجاد ٴ سے مروي روايتوں ميں يہ سوال نہيں مل سکا ۔
چنانچہ اگر سيد سجاد ٴ کے سامنے اس قسم کي گفتگو مجمع عام ميں ہوئي
ہوتي تو دوسرے بھي اس سے واقف ہوتے اور بات ہم تک بھي ضرور پہنچتي لہذا
گمان غالب ہے کہ امام سجاد ٴ نے جو بات رازدارانہ طور پر فرمائي ہے
يہاں امام محمد باقر عليہ السلام نے وہي بات عليٰ الاعلان ارشاد فرمائي
ہے۔ امام ٴ فرماتے ہيں:
’’ ان تمت ترد عليٰ رسول اللہ و عليٰ علي والحسن والحسين وعليٰ علي بن
الحسين و يثلج قلبک و يبرد فوادک و تقرعينک و تستقبل الروح والريحان مع
الکرام الکاتبين وان تعيش تري ما يقر اللہ بہ عينک و تکون معنا في
السنام لاعليٰ۔‘‘
پس امام ٴ اس صحابي کو مايوس نہيں کرتے ، فرماتے ہيں :اگر موت آگئي تو
پيغمبر اسلام
۰
اور اوليائے کرام کي ملاقات سے شرفياب ہوگئے اور اگر زندہ رہے تو ہمارے
ساتھ رہو گے۔
امام محمد باقر عليہ السلام کے کلام ميں اس طرح کي تعبيريں موجود ہيں
جن سے معلوم ہوتا ہے کہ امام ٴ اپنے شيعوں کو مستقبل کے بارے ميں پر
اميد رکھنا چاہتے ہيں۔ کافي ميں نقل ہونے والي ايک روايت ميں قيام کے
لئے وقت کا تعين بھي ہوا ہے اور بظاہر يہ چيز بڑي عجيب سي لگتي ہے:
عن ابي حمزہ الثمالي بسند عال، قال سمعت ابا جعفر (ع) يقول :
يا ثابت ، ان اللہ تبارک و تعاليٰ قد وقت ھذا الامر في السبعين فلما ان
قتل الحسين (ع) اشتد غضب اللہ تعاليٰ عليٰ اھل الارض فاخرہ اليٰ اربعين
و مائۃ و حد ثناکم و اذعتم الحديث فکشفتم قناع الستر ولم يجعل اللہ لہ
بعد ذلک و قتا عندنا و يمحو االلہ و يثبت و عندہ ام الکتاب ۔‘‘
’’ خدا وند عالم نے ٧٠ ھ کو حکومت علوي کي تشکيل کے لئے مقدر فرمايا
تھا ليکن امام حسين عليہ السلام کے قتل نے خدا وند عالم کو لوگوں سے
اتنا ناراض کرديا کہ اس نے اس وقت کو ١٤٠ ھ تک ملتوي کرديا اور پھر ہم
نے تم کو اس وقت کي خبردي اور تم نے اس کو افشائ کرديا اور پردہ راز کو
اس سے اٹھاديا لہذا اب پروردگار عالم نے ہم کو اس وقت کي کوئي خبر نہيں
دي ہے اور خدا کسي بھي چيز کے بارے ميں جيسا چاہتا ہے محو يا اثبات
کرديتا ہے، دفتر تقدير اسي کے پاس ہے ۔‘‘
ابو حمزہ ثمالي کہتے ہيں:فحدثت بذلک ابا عبدا للہ (ع) فقال : قد کان
کذلک ۔‘‘
’’ ميں نے امام صادق ٴ کي خدمت ميں اس کا تذکرہ کيا ، آپ ٴ نے فرمايا :
ہاں ايسا ہي تھا ۔‘‘
١٤٠ ھ امام صادق عليہ السلام کي زندگي کے اواخر کا سال تھا ۔ اور يہ
وہي چيز ہے جو اس حديث مبارکہ کے ديکھنے سے قبل ہي آئمہ عليہم السلام
کے حالات زندگي سے ميں نے اخذ کر لي تھي۔ چنانچہ ميري نظر ميں وہ ممکنہ
حکومت جس کے لئے امام سجاد ٴ نے اس انداز سے اور امام محمد باقر ٴ نے
اس دوسرے طريقے سے جدوجہد کي اصولي طور پر امام جعفر صادق ٴکے زمانے
ميں قائم ہوجاني چاہئيے تھي کيونکہ امام صادق ٴ کي شہادت ١٤٨ ھ ميں
ہوئي ہے اورخدا کي طرف سے تاسيس حکومت کا وعدہ ١٤٠ھ کے لئے تھا اور ١٤٠
ھ کي اہميت ١٣٥ ھ کے بعد کے دنوں کي اہميت کے ذيل ميں ہمارے پيش کئے
گئے،مفروضہ برسر اقتدار نہ آتا اور بنو عباس کي حکومت نہ بنتي تو حالات
يقيناً کچھ اور ہوتے۔ گويا حالات کے تحت تقدير الہي يہي تھي کہ ١٤٠ ھ
ميں ايک الہي اسلامي حکومت قائم ہوجاني چاہئيے تھي۔
اب يہ ايک دوسري بحث ہے کہ آيا اس آئندہ کے سلسلہ ميں خود آئمہ عليہم
السلام کي بھي توقعات بندھي ہوئي تھيں اور وہ اس دن کے منتظر تھے يا يہ
کہ وہ پہلے سے جانتے تھے کہ قضائ الہي کچھ اور ہي ہے ؟ في الحال ہم اس
بحث کو چھيڑنا نہيں چاہتے ممکن ہے ايک دوسرے مستقبل باب ميں اس پر بحث
کي جائے۔ سر دست ہماري بحث امام محمد باقر عليہ السلام کے حالات کے
سلسلہ ميں ہے کہ آپ ٴ نے واضح الفاظ ميں تصريح کي تھي کہ ١٤٠ ھ حکومت
الہي کي تشکيل کے لئے معين تھا ليکن چونکہ ہم نے اس کي تم کو خبر دے دي
اور تم اس کو پردہ راز ميں نہ رکھ سکے لہذا خداوند عالم نے اس ميں
تاخير کردي۔ اس طرح کي اميد بندھانا اور وعدے کرنا امام محمد باقر ٴ کے
دور کا اہم امتياز ہے۔
امام محمد باقر عليہ السلام کي زندگي کے بارے ميں گھنٹوں بحث کي ضرورت
ہے تاکہ آپ ٴ کي زندگي کي تصوير واضح ہوسکے۔ ميں اس سلسلے ميں بھي
طولاني بحثيں کرچکا ہوں۔ مختصر يہ کہ حضرت ٴ کي زندگي ميں سياسي جدوجہد
کا عنصر بالکل واضح ہے، البتہ آپ ٴ گرم مسلح جدوجہد کے حق ميں نہ تھے ۔
چنانچہ جب آپ ٴ کے بھائي زيد ابن علي آپ ٴ سے مشورہ کرتے ہيں تو حضرت ٴ
انہيں قيام سے منع فرماتے ہيں اور جناب زيد آپ ٴ کي اطاعت کرتے ہوئے
خاموش ہوجاتے ہيں۔
يہ جو ديکھنے ميں آتا ہے کہ کچھ لوگ جناب زيد کي اہانت پر اتر آتے ہيں
کہ امام ٴ نے تو انہيں قيام سے منع کيا تھا پھر بھي جناب زيد اٹھ کھڑے
ہوئے اور امام ٴ کي اطاعت نہيں کي، يہ ايک غلط تصور ہے۔ جب امام محمد
باقر عليہ السلام نے جناب زيد کو قيام سے منع فرمايا تو انہوں نے امام
ٴ کي اطاعت کي اور قيام نہ کيا۔ پھر جب امام صادق عليہ السلام کا دور
آيا تو انہوں نے امام صادق ٴ سے مشورہ کيا اور امام ٴ نے نہ صرف قيام
سے منع نہيں فرمايا بلکہ اس سلسلے ميں ان کي حوصلہ افزائي بھي کي۔ يہي
وجہ ہے کہ جناب زيد کي شہادت کے بعد امام صادق ٴ آرزو کرتے ہيں کہ کاش
ميں بھي زيد کے ساتھيوں ميں ہوتا۔ لہذا جناب زيد کے ساتھ يہ اہانت آميز
برتاو کسي طور درست نہيں ہے۔
بہر حال ، امام محمد باقر عليہ السلام نے مسلحانہ قيام کيوں قبول نہ
کيا ليکن آپ ٴ کي زندگي ميں سياسي ٹکراو واضح طور پر نظر آتا ہے اور
اسے آپ ٴ کي سيرت ميں سے سمجھا جاسکتا ہے جبکہ سيد سجاد ٴ کي زندگي ميں
واضح سياسي ٹکراو کا احساس نہيں ہوتا۔
جب اس عظيم ہستي کا دور حيات آخري منزلوں پر پہنچنے لگتا ہے تو ہم
ديکھتے ہيں کہ حضرت اپني سياسي جدوجہد کو ميدان منيٰ ميں عزاداري کے
ذريعے جاري رکھتے ہيں۔ آپ ٴ وصيت کرتے ہيں کہ دس برس تک منيٰ ميں آپ ٴ
پر گريہ کيا جائے (تند بني النوادب بمنيٰ عشر سنين)يہ دراصل اسي سياسي
جدوجہد کو جاري رکھنے کا ايک طريق ہے۔
امام محمد باقر عليہ السلام کي زندگاني ميں عام طور پر امام حسين عليہ
السلام پر گريہ کے سلسلہ ميں حکم ملتا ہے چنانچہ اس ذيل ميں مسلمہ
روايات موجود ہيں ليکن اور کسي کے سلسلہ ميں مجھے ياد نہيں کہ اس طرح
کا حکم ديا گيا ہو سوائے اس کے کہ امام رضا عليہ السلام کے بارے ميں
اتنا ملتا ہے کہ جب آپ ٴ وطن سے رخصت ہونے لگے تو اپنے اہل خاندان کو
جمع کيا تاکہ آپ ٴ پر گريہ کريں اور يہ اقدام مکمل طور پر سياسي مقصد
کا حامل ہے۔ البتہ يہ امام ٴ کي رحلت سے قبل کا واقعہ ہے۔ (امام حسين ٴ
کے سوا )محض امام محمد باقر عليہ السلام کي شہادت کے بعد گريہ کا حکم
نظر آتا ہے اور امام ٴ وصيت کرتے ہيں اور اپنے مال ميں سے آٹھ سو درہم
ديتے ہيں کہ ان کے ذريعہ منيٰ ميں يہ عمل انجام ديا جائے۔
منيٰ عرفات و مشعر بلکہ خود مکہ سے بھي مختلف جگہ ہے۔ مکہ ميں حاجي
متفرق رہتے ہيں، ہر شخص اپنے اپنے کام ميں مشغول ہوتا ہے۔ عرفات کا
قيام زيادہ سے زيادہ صبح سے عصرتک رہتا ہے۔ صبح لوگ تھکے ماندے پہنچتے
ہيںاور عصر کے وقت واپسي کي جلدي رہتي ہے تاکہ اپنا کام انجام دے سکيں۔
مشعر ميں رات کے وقت چند گھنٹوں کا قيام رہتا ہے اس کي حيثيت منيٰ جاتے
ہوئے ايک گزرگاہ کي سي ہے۔ ليکن منيٰ ميں مسلسل تين راتيں، گزارني ہوتي
ہيں۔ ايسے بہت کم لوگ ہوتے ہيں جو اس دوران ميں مکہ چلے جاتے ہوں اور
رات کو منيٰ لوٹ آتے ہيں۔
زيادہ تر لوگ وہيں ٹھہرتے ہيں۔ خاص طور سے اس زمانے ميں
جبکہ وسائل سفر بھي آساني سے مہيا نہ ہوتے تھے۔ حقيقت تو يہ ہے کہ اس
وقت عالم اسلام کے مختلف گوشوں سے تعلق رکھنے والے ہزاروں افراد تين
شبانہ روز ايک ہي جگہ جمع رہتے تھے۔ ہر شخص با آساني درک کرسکتا ہے کہ
تبليغات کے لئے اس سے بہتر کوئي دوسري جگہ نہيں مل سکتي۔ جو پيغام بھي
پورے عالم اسلام ميں پہنچانا مقصود ہو وہ يہاں سے بخوبي نشر کيا جاسکتا
ہے۔ خصوصاً اس دور ميں جبکہ آج کي طرح ريڈيو، ٹيلي ويژن ، اخبارات يا
اسي طرح کے دوسرے ذرائع ابلاغ موجود نہ تھے۔
جب کچھ لوگ اولاد پيغمبر
۰
ميں سے ايک فرد پر گريہ و زاري کرتے نظر آتے ، تو لازماً وہاں موجود
لوگوں کے دلوں ميں سوال اٹھتا کہ ان لوگوں کي اشک ريزي کا کيا سبب ہے؟
کسي مرنے والے پر اتني مدت تک اس شدت کے ساتھ گريہ وزاري نہيں ہوتي،
کيا اس متوفي پر کوئي ظلم ہوا ہے؟ کيا اسے ظالموں نے قتل کيا ہے؟ کس نے
اس پر ظلم کيا ہے؟۔۔۔ اس طرح کے بے شمار سوالات لوگوں کے ذہنوں ميں
پيدا ہوتے۔ اور يہ ايک انتہائي گہرا ، سوچا سمجھا اور جچا تلا سياسي
اقدام ہے۔
امام محمد باقر عليہ السلام کي سياسي زندگي کا مطالعہ کرتے وقت ايک اور
نکتہ کي طرف ميري توجہ مبذول ہوئي اور وہ يہ کہ اپني خلافت کے حق ميں
استدلال کا جو طريقہ پہلي صدي ہجري کے نصف اول ميں اہل بيت عليہم
السلام کي زبان پر جاري رہا ہے امام محمد باقر عليہ السلام بھي اسي کي
تکرار کرتے نظر آتے ہيں۔ اس استدلال کا خلاصہ يہ ہے کہ پيغمبر
۰
اسلام کے عرب ہونے کي وجہ سے عرب عجم پر فخر کرتے ہيں، آنحضرت کي قربت
کي وجہ سے قريش غير قريش پر فخر کرتے ہيں۔ اگر ان لوگوں کا فخر کرنا
صحيح ہے تو ہم تو پيغمبر
۰
کے خاندان اوراولاد سے ہيں لہذا سب پر اولويت رکھتے ہيں، اس کے باوجود
ہم کو اس حق سے محروم کرکے دوسرے اپنے آپ کو پيغمبر
۰
کي حکومت کا وارث قرار دئيے بيٹھے ہيں۔ اگر پيغمبر
۰
کي قربت قريش کے غير قريش پر اور عرب کے غير عرب پر امتياز و افتخار کي
وجہ ہے تو يہ دوسروں پر ہماري برتري اور اولويت کو بھي ثابت کرتي ہے۔
يہ وہ استدلال ہے جو ابتدائي دور ميں بارہا اہل بيت عليہم السلام کي
زبان سے بيان ہوا ہے اور اب دوبارہ ٩٥ ھ سے ١١٤ ھ کے درميان امام محمد
باقر ٴ اپنے عہد امامت ميں ان کلمات کي تکرار فرماتے ہيں۔ اور اپني
خلافت کے لئے اس استدلال کو سامنے لانا بڑي معنويت رکھتا ہے۔
امام جعفر صادق عليہ السلام کا دور
امام محمد باقر عليہ السلام کا دور بھي ختم ہوا اور ١١٤ ھ سے امام جعفر
صادق ٴ کي امامت شروع ہوئي اور ١٤٨ ھ تک جاري رہي۔ امام صادق ٴ نے اس
مدت ميں دو مرحلے طے کئے۔ ايک مرحلہ ١١٤ھ تا ١٣٥ھ تک يعني بني عباس کے
غلبہ يا منصور دوانيقي کي خلافت تک۔ اس دور کو آسودگي اور سکون کا دور
کہا جاسکتا ہے اور اسي کے بارے ميں معروف ہے کہ بني اميہ اور بني عباس
کے درميان نزاع و چپقلش کي وجہ سے آئمہ عليہم السلام کو شيعي تعليمات
کي تبليغ کا موقع ميسر آيا۔ اور يہ اسي دور سے مخصوص ہے، امام محمد
باقر عليہم السلام کے دور ميں يہ صورت نہيں تھي بلکہ وہ بني اميہ کي
طاقت و قدرت کا زمانہ تھا اور ہشام بن عبدالملک کي حکومت تھي جس کے
بارے ميں لوگ کہتے ہيں کہ وکان ھشام رجلھم چنانچہ شاہان بني اميہ ميں
عبدالملک بن مروان کے بعد ہشام بن عبدالملک طاقتور شخصيت کا مالک تھا
جو امام محمد باقر ٴ کے عہد تخت حکومت پر براجمان تھا۔ لہذا امام محمد
باقر عليہ السلام کے زمانے ميں کسي کا کسي کے ساتھ کوئي ايسا اختلاف و
تنازعہ بظاہر رونما نہيں ہوا کہ اس موقع سے امام ٴ استفادہ کرسکتے۔
تمام داخلي جنگيں اور سياسي اختلافات امام جعفر صادق عليہ السلام کے
دور سے مخصوص ہيں اور وہ بھي اس ابتدائي دور سے مخصوص ہيں جب بني عباس
کي دعوت بھي پوري اسلامي دنيا ميں اوج پر نظر آتي ہے۔ في الحال يہاں ان
باتوں کي تشريح کا موقع نہيں ہے۔
جس وقت امام صادق عليہ السلام مسند امامت پر متمکن ہوتے ہيں پوري
اسلامي دنيا افريقہ ، خراسان، فارس، ماورائ النہر الغرض مختلف اسلامي
علاقوں ميں باہمي جنگوں اور محاذ آرائي کا بازار گرم تھا۔ بني اميہ کي
حکومت کو شديد مشکلات کا سامنا تھا۔ امام جعفر صادق عليہ السلام نے اس
موقع سے فائدہ اٹھايا اور اپني تبليغ کے لئے وہي تين نقطے محور و مرکز
قرار دئيے جن کي جانب ہم سيد سجاد کي زندگي کے بارے ميں گفتگو کے دوران
اشارہ کرچکے ہيں۔
يعني معارف اسلامي ، مسئلہ امامت ، نيز اس کا اہل بيت عليہم السلام سے
مخصوص ہونا۔
امام صادق ٴ کي حيات کے پہلے مرحلے ميں خاص طور پر اس مذکورہ تيسرے
عنصر کا مشاہدہ صاف طور پر کيا جاسکتا ہے۔ اس کا ايک نمونہ عمرو بن ابي
المقدوم کي يہ روايت ہے کہتے ہيں: ’’ رايت ابا عبداللہ (ع) يوم عرفۃ
بالموقف وھو ينادي باعليٰ صوتہ ‘‘ حضرت عرفات ميں لوگوں کے درميان کھڑے
ہو کر عظيم اجتماع ميں با آواز بلند خطاب فرماتے ہيں اور ايک ہي جملہ
کبھي اس طرف رخ کرکے اور کبھي اس طرف رخ کرکے ہر چہار طرف تين تين
مرتبہ تکرار فرماتے ہيں اور وہ جملہ يہ تھا :
’’ ايھا الناس ! ان رسول اللہ (ص) کان ھو الامام ، ثم کان علي ابن ابي
طالب ، ثم الحسن ، ثم الحسين ، ثم علي ابن الحسين ، ثم محمد بن علي ،
ثم ھہ فينادي۔ ثلاث مرات لمن بين يديہ ولمن خلفہ و عن يمينہ و عن يسارہ
اثنا عشرہ صورتا ۔‘‘
’’ اے لوگو! يقينا رسول اللہ
۰امام
تھے ، پھر آپ کے بعد علي ابن ابي طالب ، پھر حسن، پھر حسين ، پھر علي
ابن الحسين ، پھر محمد ابن علي اور اس کے بعد ’’ ھہ ‘‘ (يعني ميں)۔۔۔
مجموعا بارہ مرتبہ آپ نے ان جملوں کي تکرار فرمائي۔
راوي کہتا ہے : ميں نے سوال کيا اس (ھہ) سے کيا مراد ہے؟ کہتے ہيں :
بني فلاں کي لغت ميں ، يعني ميں۔ اس سے کنايہ خود حضرت ٴ کي طرف ہے
يعني محمد بن علي عليہ السلام کے بعد ميں امام ہوں۔‘‘
اس کلمہ ميں لفظ امام کا استعمال قابل توجہ ہے اور يہ اس حقيقت کي طرف
نشاندہي کرتا ہے کہ امام ٴ اس طرح عوام کے ذہن کو امامت کي حقيقت سے
روشناس کرتے ہوئے يہ بتانا چاہتے ہيں کہ آيا وہ لوگ جو بر سر اقتدار
ہيں امامت کے سزاوار ہيں يا نہيں؟
دوسرا نمونہ يہ ہے:
’’قال قدم رجل من اھل الکوفۃ الي خراسان فدعا الناس اليٰ ولايۃ جعفر بن
محمد ۔‘‘
’’ ايک شخص مدينہ سے خراسان پہنچتا ہے اور لوگوں کو جعفر ابن محمد کي
ولايت (يعني حکومت)کي طرف دعوت ديتا ہے۔‘‘
آپ ديکھئے ايران ميں اسلامي انقلاب کي تحريک کے دوران وہ وقت کب آيا جب
ہم کھل کر جمہوري اسلامي يا حکومت اسلامي کي بات کرسکيں؟ ہم لوگ اس
پوري تحريک اور جدوجہد کے دوران برسوں تک زيادہ حکومت کے سلسلہ ميں
اسلامي نظريات کي گفتگو کر پاتے تھے۔ يعني بہت ہوا تو يہ کہہ ديا کہ
حکومت کے بارے ميں اسلام نے کيا اصول و ضوابط پيش کئے ہيں اور حاکم کو
کن شرائط کا حامل ہونا چاہئيے۔ بس اس سے زيادہ ہم اور کچھ نہيں کہہ
سکتے تھے۔ حکومت اسلامي کي تشکيل کي دعوت دينے يا کسي خاص شخص کا حاکم
کے طور پر نام لينے کي نوبت نہيں آسکي تھي۔ ١٩٧٨ ئ يا زيادہ سے زيادہ
١٩٧٧ئ ميں اور وہ بھي خاص محفلوں ميں ہمارے لئے ممکن ہوسکا تھا کہ اپني
جدوجہد کو حکومت اسلامي کے لئے جدوجہد کے طور پر ظاہر کرسکيں اور وقت
بھي کسي کا اس کے حاکم کے طور پر معين اظہار نہيں کرسکے تھے۔
ان حقائق کي روشني ميں آپ ملاحظہ فرمائيں کہ اس دور ميں لوگ اٹھتے ہيں
اور مملکت اسلامي کے دور دراز علاقوں ميں جا جا کر امام صادق عليہ
السلام کي حکومت کي طرف عوام کو دعوت ديتے ہيں، اس کے کيا معني ہيں؟
کيا اس کا مطلب يہ نہيں ہے، کہ اب وہ وقت قريب پہنچا جاتا ہے جس کاوعدہ
کيا گيا تھا ؟ يہ وہي ١٤٠ھ کا سال ہے۔ يہ وہي چيز ہے جو آئمہ عليہم
السلام کي مسلسل جدوجہد کا فطري تقاضا ہے اور اس دور ميں حکومت اسلامي
کي تشکيل کي نويد ديتي ہے۔
لوگوں کو امام جعفر صادق ٴ کي ولايت و حکومت کي طرف دعوت دي جاتي ہے۔
آج ہم ولايت کا مفہوم اچھي طرح سمجھتے ہيں، گزشتہ دور ميں ولايت کے
معني محبت بتائے جاتے تھے۔ لوگوں کو امام صادق ٴ کي ولايت يعني محبت کي
طرف دعوت دينا؟ محبت کے لئے دعوت نہيں ہوتي، محبت کوئي ايسي چيز تو ہے
نہيں جس کي معاشرے کو دعوت دي جائے ۔ علاوہ ازايں اگر ولايت کا مفہوم
محبت ليا جائے تو اس حديث کے بعد کے فقرے بے معني ہوجاتے ہيں، ملاحظہ
فرمائيے۔ ’’ ففرقۃ اطاعت واجابت۔‘‘ ايک گروہ نے اطاعت کي اور قبول کيا۔
’’ و فرقۃ جحدت وانکرت‘‘ اور ايک گروہ نے انکار کيا اور قبول نہ کيا
(اسلامي دنيا ميں محبت اہل بيت ٴ سے کون لوگ انکار کرتے ہيں ؟!!!)و
فرقۃ ورعت ووفقيت ‘‘ اور ايک گروہ نے ورع اختيا رکرتے ہوئے خاموشي
اختیار کرلي۔ تورع اور توقف کا بھي کسي طرح محبت کے ساتھ کوئي ربط سمجھ
ميں نہيں آتا۔ يہ اس بات کا قرينہ ہيں کہ ولايت سے مقصود کچھ اور ہے،
ظاہر ہے وہ حکومت ہي ہوسکتي ہے۔ حديث کے آخري فقرے کچھ اس طرح ہيں:’’
فخرجت من کل فرقۃ رجل فدخلوا عليٰ ابي عبداللہ ‘‘ ہر طرف سے لوگ امام ٴ
کي خدمت ميں آتے ہيں اور گفتگو کرتے ہيں۔ حضرت ٴ ان ميں سے خاموشي
اختيار کرنے والے ايک شخص سے فرماتے ہيں: تم نے اس سلسلہ ميں جو توقف و
تورع اختيار کيا تو اس وقت يہ تورع کيوں نہ اپنايا جب فلاں نہر کے
کنارے فلاں روز فلاں مخالف اسلام عمل انجام دے رہے تھے؟! يہ ارشاد
بخوبي اس بات کي نشاندہي کرتا ہے کہ وہ شخص جس نے خراسان ميں امام ٴ کي
ولايت کي طرف دعوت کا فريضہ انجام ديا تھا اس نے امام ٴ کي رضامندي سے
يہ کام انجام ديا تھا بلکہ ممکن ہے کہ خود امام عليہ السلام نے ہي اس
کو اس بات پر مامور کيا ہو۔
يہ چيز امام صادق عليہ السلام کي زندگي کے پہلے مرحلہ سے تعلق رکھتي
تھي اور آپ ٴ کي زندگي ميں ايسي علامات ملتي ہيں کہ غالباً اس طرح کي
تمام چيزيں اسي پہلے دور سے مربوط ہيں۔ يہاں تک کہ منصور عباسي کي
خلافت کا دور شروع ہوجاتا ہے۔ منصور کے برسر اقتدار آتے ہي مشکلات کا
دور شروع ہوجاتا ہے اور امام ٴ کے لئے بھي قريب قريب وہي حالات پيدا ہو
جاتے ہيں جن سے امام محمد باقر عليہ السلام کي زندگي دوچار تھي۔ گھٹن
چھا جاتي ہے اور طرح طرح کے دباو آپ ٴ پر پڑنے لگتے ہيں۔ حضرت ٴ کو
بارہا حيرہ ، واسطہ ، رميلہ نيز دوسري جگہوں پر طلب کيا جاتا ہے يا
جلاوطن کيا جاتا ہے۔ کئي مرتبہ خليفہ آپ ٴ کو خطاب کرتا ہے اور سختي کا
نشانہ بناتا ہے۔ ايک مرتبہ تو خليفہ يہاں تک کہہ ديتا ہے کہ : قتلنہ
(خدا مجھے زندہ نہ رکھے اگر ميں آپ کو قتل نہ کردوں) ايک مرتبہ حاکم
مدينہ کو حکم ديتا ہے کہ: ان احرق عليٰ دارہ ( حضرت۰
کے سميت آپ کے گھر کو آگ لگا دو) ۔ حضرت ٴ جلتي ہوئي آگ عبور کرتے ہيں
اور بڑے ہي توکل اور اعتماد کے ساتھ قدم بڑھاتے ہوئے ايک عجيب منظر پيش
کرتے ہيں اور فرماتے ہيں: انا ابن اعراق الثريٰ انا ابن محمد المصطفيٰ
(ص) ( ہم زندہ و پائندہ امام کے فرزند ہيں، محمد مصطفي کے فرزند ہيں)۔
اس چيز نے دشمنوں کو اور بھي ذليل و خوار کيا۔۔۔۔
امام جعفر صادق عليہ السلام اور منصور کے تعلقات اکثر نہايت کشيدہ رہے۔
منصور بارہا امام کو دھمکياں ديتا تھا۔ اگرچہ اس طرح کي روايات بھي
ملتي ہيں جن ميں ہے کہ امام ٴ نے منصور کے سامنے اپني ذلت اور عاجزي کا
اظہار کيا (معاذ اللہ)۔ يقيني طور پر ان ميں سے ايک روايت بھي درست اور
قابل اعتماد نہيں ہے۔ ميں نے ان روايات کا جائزہ ليا اور تحقيق کے بعد
اس نتيجہ پر پہنچا ہوں کہ ان کي کوئي اصل اور حقيقت نہيں ہے۔ ان کا
سلسلہ زيادہ تر ’’ ربيع حاجب‘‘ تک پہنچتا ہے جس کا فاسق ہونا قطعي اور
يقيني ہے اور وہ منصور کے قريبي لوگوں ميں سے ہے۔ تعجب ہوتا ہے کہ بعض
لوگ کہتے ہيں کہ ربيع شيعہ يا دوستدار اہل بيت ٴ تھا۔ ربيع کہاں اور
شيعہ ہونا کہاں؟ ربيع ابن يونس کا مطيع و فرماں بردار اور حکم کا غلام
تھا اور ان افراد ميں سے تھا جو بچپن ہي سے بني عباس کے نوکروں ميں
شامل ہوجاتے تھے۔ يہ رفتہ رفتہ منصور کا حاجب ہوگيا تھا اور بے پناہ
خدمتوں کے عوض بالآخرہ منصب وزارت پر فائزہ ہوگيا تھا۔
جس وقت منصور مر اہے، اگر ربيع نہ ہوتا تو خلافت منصور کے خاندان سے
باہر چلي گئي ہوتي اور شايد اس کے چچاو ں کا خلافت پر قبضہ ہوجاتا۔ يہ
ربيع ہي تھا جو مرتے وقت تنہا منصور کے سرہانے موجود تھا اور اس کے نے
منصور کے بيٹے مہدي کے حق ميں جعلي وصيت نامہ تيار کيا اور مہدي کو تخت
خلافت پر بٹھاديا۔ فضل ابن ربيع جو بعد ميں ہارون اور امين کے دربار
ميں وزارت پر فائز ہوا اسي کا بيٹا تھا۔ يہ خاندان ان خاندانوں ميں سے
ہے جو بني عباس کي نمک خواري اور وفاداري ميں کافي مشہور ہيں اور ان کے
دلوں ميں اہل بيت عليہم السلام کے لئے کسي طرح کي ارادت و محبت نہيں
پائي جاتي اور ربيع نے جو کچھ امام صادق عليہ السلام کے سلسلہ ميں کہا
ہے وہ سراسر جھوٹ ہے اور جعلي ہے اور ان تمام کوششوں کے پس پشت اس کا
مقصد صرف اتنا تھا کہ اس دور کے اسلامي معاشرے کو يہ باور کرايا جائے
کہ حضرت ٴ جيسي شخصيت بھي منصور کے سامنے عاجزي اور تذليل کا اظہار
کرچکي ہے۔ تاکہ دوسرے لوگ اپني حيثيت کے بارے ميں خود ہي فيصلہ کرليں۔
بہر حال منصور اور اامام صادق عليہ السلام کے تعلقات انتہائي کشيدہ تھے
جو ١٤٨ھ ميں امام ٴ کي شہادت پر منتہي ہوتے ہيں۔
امام موسيٰ کاظم عليہ السلام کا عہد
امام موسيٰ ابن جعفر ٴ کي زندگي کا جائزہ لينے سے پتہ چلتاہے کہ آپ ٴ
کي زندگي غير معمولي واقعات و حادثات سے پر ہے اور ميري نظر ميں آئمہ
عليہم السلام کي سياسي تحريک کا لفظ عروج آپ ٴ ہي کے دور سے تعلق رکھتا
ہے۔ ليکن افسوس اس بات کا ہے کہ حضرت ٴ کي زندگي سے متعلق صحيح اور
واضح معلومات دستياب نہيں ہيں۔ کہيں کہيں حضرت ٴ کي زندگي سے متعلق پتہ
چلتا ہے کہ آپ ٴ کچھ دنوں تک عمال حکومت کي نظروں سے چھپ کر پوشيدہ
زندگي بسر کرتے ہيں اور ہارون کي پوري مشينري آپ ٴ کي تلاش ميں رہتي ہے
مگر آپ ٴ کا پتہ چلانے سے قاصر رہتي ہے۔ خليفہ بعض افراد کو پکڑتا ہے
اور انہيں اذيتيں دے کر آپ ٴ کا ٹھکانا معلوم کرنا چاہتا ہے۔ اور اس
چيز کي گزشتہ آئمہ ٴ کي زندگي ميں کوئي اور مثال نہيں ملتي ۔ ابن شہر
آشوب مناقب ميں درج ذيل روايت نقل کرتے ہيں جس سے اس قسم کا نتيجہ
برآمد ہوتا ہے: دخل موسيٰ بن جعفر بعض قري الشام مستنکراً ھاربا موسيٰ
ابن جعفر بدحالي اور فرار کي حالت ميں شام کے بعض علاقوں ميں آئے۔
اس طرح کي چيز کسي اور امام ٴ کے بارے ميں نہيں ملتي۔
اس سے امام عليہ السلام کي زندگي ميں پائے جانے والے تحرک کا اندازہ
ہوتا ہے اور اسي کو ديکھنے سے يہ بات واضح ہوتي ہے کہ آخر آپ ٴ کو کيوں
دائمي قيد کي صعوبت جھيلني پڑي ہے۔ ورنہ آپ نے سنا ہوگا کہ شروع ميں جب
ہارون تخت خلافت پر بيٹھتا ہے اور مدينہ آتا ہے تو امام موسيٰ کاظم
عليہ السلام کے ساتھ نہايت ہي لطف و نوازش کا برتاو کرتا ہے اور
انتہائي احترام سے پيش آتاہے۔ چنانچہ يہ داستان جو مامون سے نقل کي گئي
ہے بہت مشہور ہے : وہ کہتا ہے کہ حضرت ٴ ايک سواري سے اتر جائيں ليکن
ہارون نے آپ ٴ کو ايسا نہيں کرنے ديا اور قسم دي کہ آپ ٴ کو ميري جائے
نشست تک يونہي سوار ہوکر چلنا ہوگا۔ چنانچہ آپ ٴ اسي طرح سوار وہاں تک
پہنچے۔ سب نے حضرت ٴ کا احترام کيا اور آپس ميں گفتگو ہوئي۔ جب آنحضرت
۰
جانے لگے تو ہارون نے مجھ (مامون)سے اور امين سے کہا کہ ابوالحسن کي
رکاب تھام لو۔۔
ايک دلچسپ بات جو اس روايت ميں مامون بيان کرتا ہے وہ يہ ہے: ميرے باپ
ہارون نے تمام لوگوں کو پانچ پانچ ہزار اور دس دس ہزار دينار (يا
درہم)عطيہ و بخشش کے طور پر دئيے اور موسيٰ ابن جعفر ٴ کو دو سو دينار
دئيے حالانکہ جب ہارون نے حضرت ٴ سے احوال پرسي کي تھي تو حضرت ٴ نے
اپني سخت پريشاني اور مالي بدحالي کے ساتھ کثرت عيال کا تذکرہ بھي کيا
تھا (يہ باتيں امام ٴ کي زبان سے نہايت ہي دلچسپ اور پر معني معلوم
ہوتي ہيں اور خود ميں بھي اور وہ لوگ بھي جنہوں نے شاہي دور ميں سياسي
سرگرميوں کے دوران تقيہ کا تجربہ کيا ہے اچھي طرح جانتے اور سمجھتے
ہيں۔ انہيں بخوبي اندازہ ہوسکتا ہے کہ امام عليہ السلام کا ہارون جيسے
شخص کے سامنے اس طرح اپني پريشان حالي کا ذکر کرنا کيا معني رکھتا ہے۔
امام ٴ کيوں کہتے ہيں کہ ميري حالت اچھي نہيں ہے گزر بسر مشکل سے ہوتي
ہے؟ اس طرح کي باتيں ہرگز ذلت و حقارت کي نشاندہي نہيں کرتيں۔ ہم اور
آپ جانتے ہيں کہ جابر و ظالم و طاغوتي دور ميں جان بوجھ کر ہم لوگ اس
طرح کي باتيں کيا کرتے تھے۔ ہر آدمي سمجھ سکتا ہے کہ انسان اس قسم کي
سختيوں کے دور ميں دشمن کو اپني حالت اور کاموں سے غافل رکھنے کے لئے
اس طرح کي باتيں کيا کرتا ہے۔)
بہر حال اصولي طور پر امام ٴ کي اس طرح کي باتوں کے بعد ہارون کو امام
عليہ السلام کي خدمت ميں کوئي بڑي رقم مثلاً پچاس ہزار دينار (يا
درہم)پيش کرني چاہئيے تھي ليکن وہ صرف دو سو دينار ديتا ہے۔
مامون کہتا ہے : ميں نے اپنے باپ سے اس کي وجہ دريافت کي تو اس نے کہا
: جو رقم مجھے ان کو ديني چاہئيے تھي اگر دے دوں تو مجھے خدشہ ہے کہ
چند دنوں کے بعد وہ اپنے دوستوں اور شيعوں ميں سے ايک لاکھ شمشير زن
ميرے خلاف کھڑے کرديں گے۔
يہ ہارون کا تاثر اور خيا ل ہے اور ميري نظر ميں ہارون نے ٹھيک ہي
سمجھا تھا۔
بعض لوگوں کا خيال ہے کہ ہارون کا يہ تاثر امام ٴ کے متعلق چغل خوريوں
کا نتيجہ ہے ليکن حقيقي قصہ يہي ہے۔ اس زمانہ ميں کہ جب امام ٴہارون کے
خلاف جدوجہد ميں مشغول تھے اگر واقعي اس وقت امام ٴ کے پاس دولت ہوتي
تو ايسے بہت سے لوگ تھے جو آپ ٴ کي معيت ميں تلواريں سوتنے پر آمادہ
تھے اور اس کے نمونے ہميں امام زادوں کي تحاريک ميں دکھائي ديتے ہيں۔
ان کے مقابلہ ميں آئمہ عليہم السلام يقينا اپنے گرد زيادہ افراد اکھٹا
کرسکتے تھے لہذا امام محمد باقر ٴ کا زمانہ اوج کا دور کہا جاسکتا ہے
جو آپ ٴ کي قيد پر منتہي ہوتا ہے۔
امام علي رضا عليہ السلام کا دور
جب نوبت امام رضا عليہ السلام تک پہنچتي ہے تو ايک مرتبہ پھر تشيع کے
پھيلاو ، رواج اور آئمہ کے اچھے حالات کا دور آتا ہے۔ شيعوں ميں ہر طرف
اضافہ ہوتا ہے اور بہت زيادہ مواقع ميسر ہوتے ہيں جو امام ٴ کي ولي
عہدي پر منتہي ہوتے ہيں۔ اگرچہ جب تک ہارون بقيد حيات رہا امام رضا ٴ
انتہائي تقيہ کے عالم ميں رہے۔ يعني آپ ٴ کي جدوجہد اور مساعي جاري
تھي، آپ ٴکي تحريک جاري تھي، لوگوں سے ربط و ضبط رکھتے تھے البتہ مکمل
پوشيدہ طور پر۔
انسان سمجھ سکتا ہے، مثال کے طور پر دعبل خزاعي حضرت ٴ کي ولي عہدي کے
دوران شاندار الفاظ ميں آپ ٴکي مدح سرائي کرتا ہے۔ ظاہر ہے يہ چيز
يکايک زمين سے برآمد نہيں ہوگئي تھي۔ وہ معاشرہ جو دعبل خزاعي اور
ابراہيم ابن عباس اور ان جيسے دوسرے مداحان امام ٴ پروان چڑھاتا ہو اس
کي ثقافت و معاشرت ميں خاندان رسول
۰
کے ساتھ محبت و ارادت کا عنصر موجود ہونا ايک بديہي سي بات ہے۔ ايسا
نہيں ہے کہ بغير کسي سابقہ کے يکايک مدينہ ، خراسان، رہے ، نيز دوسرے
علاقوں ميں لوگ امام رضا عليہ السلام کي ولي عہدي کا جشن منانے لگے
ہوں۔ وہ واقعہ جو امام عليہ السلام کي زندگي ميں پيش آيا يعني ولي عہدي
(جو ايک بڑي اہميت کا حامل حادثہ ہے اور سال گزشتہ اپنے پيغام ميں ہم
نے اس کے اسباب و علل کي طرف اشارہ کيا تھا)اس سے پتہ چلتا ہے کہ اہل
بيت ٴ کي محبت و عقيدت کے سلسلہ ميں عوام کے جذبات امام رضا ٴ کے دور
ميں بڑي بلند سطح پر پہنچ چکے تھے۔
بہر حال بعد ميں جب امين اور مامون کے درميان شديد اختلاف کي وجہ سے
بغداد و خراسان کے درميان پانچ سال تک جنگ و جدال کا سلسلہ جاري رہتا
ہے تو يہ صورتحال امام ٴ کے اپنے کاموں کو وسعت دينے کا موجب ہوتي ہے
جو آپ ٴکي ولي عہدي پر منتج ہوتے ہيں۔ بدقسمتي سے يہاں بھي امام ٴ کي
شہادت کي وجہ سے يہ تسلسل قطع ہوجاتا ہے اور ايک نيا دور شروع ہوتا ہے
جو اہل بيت ٴ کے لئے آزمائشوں اور غم و آلام کا دور ہے۔ ميري نظر ميں
امام محمد تقي جواد عليہ السلام اور آپ ٴ کے بعد کا دور اہل بيت عليہم
السلام کے لئے ہميشہ سے زيادہ بدتر رہا ہے اور اس ميں ان حضرات ٴ کا سب
سے زيادہ آزمائشوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
يہ آئمہ عليہم السلام کي سياسي زندگي کا مجموعي خاکہ تھا جو ميں نے آپ
کے سامنے عرض کيا۔
جيسا کہ ميں پہلے عرض کرچکا ہوں کہ ميں نے اپني گفتگو کو دو حصوں ميں
تقسيم کيا ہے۔ ايک حصہ يہي مجموعي سياسي خاکہ تھا جس کا اس مرحلہ پر
اختتام ہوتا ہے۔ دوسرا حصہ جو آئمہ عليہم السلام کي اس سياسي جدوجہد کے
نمود و اثرات سے متعلق ہے، اس پر گفتگو کے لئے اب کافي وقت نہيں رہا
ہے، اور اس سے زيادہ ميں آپ عزيزوں اور دوستوں کے لئے سبب زحمت نہيں
بننا چاہتا ليکن وہ چيزيں جو ميري نظر سے گزري ہيں اور ميں نے گزشتہ دو
ايک روز ميں فرصت نکال کر چند گھنٹے ان پر کام کيا ہے اور اپني پراني
يادداشتوں سے انہيں جمع کيا ہے، يہاں ميں ان کے عناوين کا ذکر کرنا
چاہتا ہوں۔ البتہ يہ بات ذہن نشين رہے کہ اس سلسلے کے تمام قابل بحث
عناوين صرف يہي نہيں ہيں ليکن ميں صرف اس لئے چند عناوين کو پيش کررہا
ہوں تاکہ اگر دوسرے لوگ کام کرنا چاہيں تو ان کي نظروں کے سامنے يہ چند
موضوعات رہيں۔
آئمہ کي سياسي جدوجہد کے مظاہر و آثار
ان ميں سے ايک مسئلہ امامت کا دعويٰ کرنا اور اس کي طرف لوگوں کو دعوت
دينا ہے۔ يہ چيز آئمہ کي زندگي ميں جگہ جگہ نظر آتي ہے اور ان حضرات ٴ
کي سياسي جدوجہد کي غماز ہے۔ دراصل يہ ايک مبسوط فصل ہے جس کے ذيل ميں
مختلف ابواب کے تحت روايات موجودہيں۔ ان روايات ميں سے کافي کي روايات
’’ الائمۃ نور اللہ ۔۔۔ اور امامت کو پہچنوانے کے ذيل ميں امام رضا ٴ
کي روايت نيز امام جعفر صادق ٴ سے مروي مختلف روايات اور طرح طرح کے
مخالفين سے آئمہ کے اصحاب کے مجادلے، اس کے علاوہ اہل عراق کو دعوت
ديتے ہوئے امام حسين ٴ کي روايات اور اس موضوع پر موجود بکثرت روايات۔
دوسرا مسئلہ يہ ہے کہ آئمہ کي کوششوں اور دعو و ں سے خلفائے وقت کيا
سمجھتے تھے۔ آپ ٴ نے ملاحظہ فرمايا کہ عبدالملک بن مروان کے زمانہ سے
لے کر متوکل عباسي کے دور تک آئمہ کے مقاصد اور منصوبوں کے سلسلہ ميں
مسلسل ايک ہي فکر و خيال پايا جاتا ہے اور ہميشہ خلفائ اور ان کے عمال
و کارندے آئمہ عليہم السلام کو ايک ہي نظر سے ديکھتے رہے ہيں اور اس کے
لازمي نتيجے کا حامل ہے، اسے آساني سے نظر انداز کرکے آگے نہيں بڑھا
جاسکتا۔
آئمہ کے سلسلہ ميں يہ سب اسي ايک نظريہ کے قائل کيوں تھے ؟ مثال کے طور
پر امام موسيٰ ابن جعفر عليہ السلام کے سلسلے ميں يہ کہا جاتا ہے کہ
خليفتان يجبي اليھما الخراج ۔۔۔ (خراج جمع کرنے والے دو خليفہ ) يا
امام علي رضا عليہ السلام کے لئے يہ جملہ کہ ھذا علي ابنہ قد قعلوا دعي
لنفسہ ( يہ علي اس کا بيٹا ہے جو اس امر کا مدعي تھا ) يا ديگر آئمہٴ
کے بارے ميں اسي قسم کے جملے اس بات کي واضح نشاندہي کرتے ہيں کہ
خلفائے وقت اور ان کے رفقائ کار آئمہ ٴ کے طرز عمل سے کس قسم کے دعوو ں
کا استنباط کرتے تھے۔ يہ نہايت ہي قابل توجہ اور اہم ترين نکتہ ہے۔
ايک اور اہم مسئلہ خلفائے وقت کا اپني امامت پر اصرار اور شيعيان آل
محمد
۰
کا اس امر کي نزاکت کے پيش نظر مسلسل اس کي مخالفت کرنا ہے۔ مثال کے
طور پر يہ واقعہ جس کي اور بھي مثاليں موجود ہيں ملاحظہ فرمائيے : کثير
جو بني اميہ کے پہلے دور کے صف اول کے شعرائ ميں سے ہے ( يعني فرزدق ،
حرير ، اخطل ، جميل اور نصيب وغيرہ کا ہم پلہ شمار کيا جاتا ہے) شيعہ
اور امام محمد باقر عليہ السلام کے عقيدتمندوں ميں سے تھا۔ ايک دن امام
محمد باقر ٴ کي خدمت ميں حاضر ہوتا ہے، امام ٴ شکايت کے لہجہ ميں اس سے
سوال کرتے ہيں امتدحت عبدالملک ؟ ( ميں نے سنا ہے کہ تم نے عبدالملک کي
مدح سرائي کي ہے ؟) وہ ايک دم گھبرا کر امام ٴ سے عرض کرتا ہے : يا بن
رسول اللہ ! ما قلت لہ يا امام الھديٰ ( اے فرزند رسول ! ميں نے اس کو
امام ہديٰ تو نہيں کہا ہے) وانما قلت لہ اسلوالا سد کلب و يا شمس
والشمس جمادو يا بحر والبحر موات ۔۔۔ ( ہاں ميں نےئ اس کو شير ، سورج ،
سمندر ، پہاڑ اور اژدھا جيسے خطابات ضرور دئيے ہيں اور کسي کے لئے
درندہ ہونا يا جماد سے قرار ديا جانا وغيرہ کي کوئي فضيلت کي بات تو
نہيں ہے) اس طرح امام ٴ کے سامنے کثير اپنے عمل کي توجيہہ پيش کرتا ہے۔
امام ٴ کے لبوں پر مسکراہٹ آجاتي ہے اور تب شاعر آل محمد ٴ کميت اسدي
اٹھتا ہے اور وہ معروف ’’ قصيدہ ہاشميہ ‘‘ سناتا ہے جس کا مطلع يہ ہے۔
’’من لقلب متيم مستھام غير ما صبوۃ والا احلام‘‘
يہاں تک کہ وہ اس شعر پر پہنچتا ہے :
’’ ساسۃ لا کمن يريٰ رعيۃ الناس سوائ و رعيۃ الانعام ‘‘
اس مثال سے واضح ہوتا ہے کہ آئمہ عليہم السلام عبداملک جيسے کي مدح
سرائي کے سلسلہ ميں کتنے حساس تھے اور دوسري طرف کثير کے مثل آپ ٴ کے
دوستوں کي حساسيت ’’ امام الھديٰ ‘‘ پر مرکوز تھي۔جب ہي تو وہ فوراً
کہتا ہے کہ مولا ميں نے عبدالملک کو ’’ امام الھديٰ ‘‘ تو نہيں کہا ہے۔
اور يہي مثال اس بات کي بھي صاف نشاندہي کرتي ہے کہ خلفائے وقت کو اپنے
’’ امام الھديٰ ‘‘ کہے جانے کي کتني تمنا تھي۔
چنانچہ بني عباس کے زمانے ميں يہ تمنا اور اس پر اصرار کچھ زيادہ ہي
شدت اختيار کرليتا ہے۔ مروان ابن ابي حفصہ اموي جو بني اميہ اور بني
عباس دونوں ہي درباروں سے وابستہ ، ان کا ملازم اور کاسہ ليس تھا۔ (
يہي تعجب ہے کہ يہ شخص بني اميہ کے زمانہ ميں درباري شاعر تھا اور جب
بني عباس بر سر اقتدار آئے تو ان کا بھي درباري شاعر بن گيا !! چونکہ
اس کو زبان و بيان پر بڑي قدرت حاصل تھي لہذا بني عباس نے بھي اس کو
پيسوں کے ذريعہ خريد ليا ) چنانچہ جب يہ بني عباس کي مدح سرائي پر کمر
باندھتا ہے تو ان کي شجاعت و کرم جيسي صفات کے بيان پر اکتفا نہيں کرتا
بلکہ انہيں پيغمبر اسلام
۰
سے نسبت ديتا ہے اور ان کے لئے اس مقام کو ثابت کرتا ہے جس کے وہ
ديرينہ متمني تھے۔ اس کا ايک شعر يہ ہے :
’’ اني يکون و ليس ناک بکائن لبني البنات وراثۃ الاعمام ‘‘
’’ يہ کيسے ممکن ہے کہ دختر زادے چچا کي ميراث کے حقدار بن جائيں ؟
پيغمبر کے چچا عباس کي ميراث يہ دختر زادے ( اولاد فاطمہ ) نہ معلوم
کيوں ہڑپ کرلينا چاہتے ہيں۔‘‘
آپ نے ملاحظہ فرمايا سارا جھگڑا خلافت کے مسئلہ پر ہے اور حقيقتاً يہي
سياسي و ثقافتي جنگ رہي ہے۔ چنانچہ اس کے جواب ميں مشہور و معروف شيعہ
شاعر جعفر بن عفان طائي کہتا ہے :
’’لم لا يکون ؟ وان ناک لکائن لبني البنات وراثۃ الاعمام للبنت نصف
کامل من مالہ والعم متروک بغير سھام ‘‘
’’ بيٹي اپنے باپ کے نصف مال کي وراث ہوتي ہے اور بيٹي کي موجودگي ميں
چچا کا مرنے والے کے ترکہ ميں کچھ بھي حق نہيں ہوتا لہذا ميراث ميں
تمہارا حق ہي کيا ہے جو طلب کررہے ہو ۔‘‘
اس مثال سے بھي امامت کے مسئلہ ميں شيعيان آل محمد
۰
کي حساسيت کا اندازہ لگايا جاسکتا ہے۔
اس کے علاوہ ايک مسئلہ آئمہ عليہم السلام کي طرف سے خونريز تحريکوں کي
تائيد و حمايت ہے۔ جس شمار آئمہ کي زندگي سے متعلق گرما گرم بحثوں ميں
ہوتا ہے اور جو آئمہ ٴ کي سياسي جدوجہد کي پاليسي کو بيان کرتا ہے۔
مثلاً امام جعفر صادق ٴ کے تاثرات ملاحظہ فرمائيں جب معلي بن خنيس داو
د بن علي کے ہاتھوں مارے جاتے ہيں ، يا اسي طرح جناب زيد شہيد، حسين
ابن علي( شہيد فخ) نيز بعض دوسرے حضرات کے سلسلہ ميں امام صادق ٴ کے
خيالات۔ ميں نے ’’ نور الثقلين ‘‘ ميں ايک عجيب و غريب روايت ديکھي۔ يہ
روايت علي ابن عقبہ سے منقول ہے وہ کہتے ہيں:
’’ ميں اور معلي ابو عبداللہ ( امام جعفر صادق عليہ السلام ) کي خدمت
ميں حاضر ہوئے۔ حضرت ٴ نے فرمايا : تم لوگوں کو بشارت ہو کہ دو ميں سے
ايک انجام (کاميابي يا شہادت)تمہارا منتظر ہے۔ خداوند عالم نے تمہارے
سينوں کو شفا دي (يا دے گا)اور تمہارے دلوں کے غيظ و غضب کو ٹھنڈا
کرديا (يا کرے گا)اور تم کو دشمنوں پر مسلط کرديا (يا کرے گا)اور يہي
وہ وعدہ ہے جو خدا نے (مومنين سے)کيا ہے ’’ ويشف صدور قوم مومنين ‘‘قبل
اس کے کہ يہ کاميابي تمہارے قدم چومے اگر تم دنيا سے رخصت ہوجاتے (يا
رخصت ہو جاو )تو تمہاري قرباني خدا کے اس دين کے لئے ہے (يا ہوگي)جس کو
پروردگار نے اپنے نبي (محمد مصطفي صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم)اور علي
(عليہ السلام)کے لئے پسند فرمايا ہے ۔‘‘
يہ روايت اس اعتبار سے اہميت کي حامل ہے کہ اس ميں جہاد و مبارزہ ،
کاميابي و کامراني اور قتل کرنے اور قتل کردئيے جانے کي بات کي گئي ہے،
بالخصوص اس کے مخاطب معلي بن خنيس ہيں جن کے انجام سے ہم سب واقف ہيں۔
يہاں امام عليہ السلام نے بغير کسي تمہيد و مقدمہ کے بات شروع کي ہے
اور ظاہر ہے کہ امام عليہ السلام کسي خاص چيز يا حادثہ سے متعلق گفتگو
کررہے ہيں، جب کہ کسي کو حادثہ کا علم بھي نہيں ہے۔ ممکن ہے ’’ شفي
اللہ صدور کم ۔۔۔‘‘
کي عبارت امام عليہ السلام نے دعا کے طور پر ارشاد فرمائي ہو اور زيادہ
احتمال اس بات کا ہے کہ امام ٴ اس واقعہ کي خبر دے رہے ہوں جو پيش آيا
ہے۔ يہ دونوں حضرات کسي مہم سے واپس آئے ہوئے تھے جس کي حضرت ٴ کو خبر
تھي ؟ يا ہوسکتا ہے کہ خود امام ٴ نے ان کو اس مہم پر مامور کيا ہو ؟
حقيقت کچھ بھي ہو حديث کا لب و لہجہ ان ميں سے کسي بھي معني و احتمال
کي بنياد پر واضح طور پر بتاتا ہے کہ امام عليہ السلام اس تيز و تند
اور مخاصمت آميز طريقہ کار کے حامي تھے جو معلي بن خنيس کي روز مرہ
زندگي ميں بھي ديکھنے ميں آتا ہے ۔ اور يہ چيز بھي قابل توجہ ہے کہ
معلي امام صادق ٴ کے ’’ باب ‘‘ کي تعبير ان مباحث ميں خود اپني جگہ ايک
مستقل فکر و تحقيق کا موضوع ہے۔
وہ حضرات جو روايات ميں آئمہ عليہم السلام کے ’’ باب ‘‘ کے طور پر پيش
کئے گئے ہيں کون لوگ ہيں ؟ غالباً وہ سب کے سب يا تو مقتول ہيں يا وہ
جن کو قتل کي دھمکي دي گئي ہے۔ جيسے يحييٰ بن ام الطويل ، معلي بن خنيس
، جابر بن يزيد جعفي ۔۔ وغيرہ ۔
آئمہ عليہم السلام کي زندگي سے متعلق ايک اور بحث ان کا قيد خانوں ميں
رکھا جانا ، گھر سے دربدر کيا جانا ، انہيں زير نظر رکھا جانا بھي ہے
اور ميري نظر ميں يہ موضوع بہت زيادہ تحقيق و تدقيق کا طالب ہے کيونکہ
اس سلسلہ ميں بہت سے مطالب تحقيق و دقت نظر کے محتاج ہيں اور دامن وقت
ميں اتني گنجائش نہيں ہے کہ ميں اس سلسلہ ميں کوئي خاطر خواہ بحث
کرسکوں۔
ايک اور مسئلہ خلفا ميں آئمہ عليہم السلام کا بے خوف و خطر، صاف و صريح
اور بے باک رويہ ہے۔ اس بحث کے ذيل ميں قابل غور و فکر نکتہ يہ ے کہ
اگر يہ حضرات بھي معاذ اللہ دبو، مفاہمت پسند اور حالات سے سمجھوتہ
کرنے والے ہوتے تو اپنے دور کے دوسرے علما و زہاد کي طرح کسي مخالفانہ
لب و لہجہ کے بجائے نرم و شيريں انداز کلام کا انتخاب کرتے۔ يہ تو آپ
جانتے ہي ہيں کہ اس وقت بہت سے ايسے علمائ اور زہاد موجود تھے جن سے
خلفانہ صرف علاقہ ، محبت ارادت بھي رکھتے تھے۔ ہارون کہتا تھا
کلکم يمشي رويد
کلکم يطلب صيد
غي عمرو بن عبيد
’’ تم ميں سے ہر ايک ٹھہر ٹھہر کر چلتا ہے اور ہر ايک شکار کا طلبگار
ہے سوائے عمر اور ابن عبيد کے۔‘‘
يہ لوگ خلفا کو نصائح کرتے ہيں، حتيٰ ان کي ناصحانہ باتوں پر کبھي کبھي
خلفا کے آنسو بھي نکل آتے تھے البتہ وہ خلفا کو ظالم و جابر و طاغي و
غاصب يا شيطان اور اس کے ہم معني دوسرے الفاظ کہنے ميں احتياط برتتے
تھے۔ اس کے برخلاف آئمہ عليہم السلام ايسي کوئي رعايت نہيں کرتے تھے ،
حقائق کا برملا اظہار فرماديتے تھے اور ارباب حکومت کا ظاہري جاہ و حشم
اور سطوت و ہيبت ان کي زبانيں بند نہ کرسکتا تھا۔
ايک اور بحث آئمہ عليہم السلام کے ساتھ خلفائے وقت کي معاندانہ روش ہے۔
مثال کے طور پر امام صادق ٴاور منصور نيز امام موسيٰ کاظم اور ہارون کے
واقعات کي جانب ہم پہلے اشارہ کرچکے ہيں۔
امامت کي حکمت عملي
ايک اور بحث جو پورے طور پر قابل توجہ اور لائق مطالعہ ہے آئمہ عليہم
السلام کے بے باک دعوے ہيں جن سے امامت کي حکمت عملي کا صاف پتہ چلتا
ہے۔ کہيں کہيں آئمہ عليہم السلام کے ارشادات و مباحث ميں اس طرح کے
دعوے اور بيانات نظر آتے ہيں جو عام انداز سے بالکل مختلف ہيں اور ايک
خاص مقصد و راہ عمل کو بيان کرتے ہيں جو امامت کي حکمت عملي ہے۔
ايسے ہي مواقع ميں سے ايک موقع حضرت ابن جعفر عليہ السلام اور ہارون کے
درميان فدک کے بارے ميں گفتگو ہے۔
ايک روز ہارون نے امام موسيٰ کاظم ٴ سے کہا : حدفد کا حتيٰ اردھا اليک
(فدک کي حدود معين کرديجئے تاکہ ہم اسے آپ کو واپس کرديں۔)
اس کا خيال تھا کہ اس طرح فدک کے نعرے کو بے اثر بنادے جو تاريخ ميں
ہميشہ اہل بيت عليہم السلام کي مظلوميت کے عنوان سے دہرايا جاتا رہا ہے
اور ذريت رسول
۰
سے ان کا يہ ہتھيار چھين لے اور اس طرح شايد وہ يہ بھي چاہتا ہو کہ
شيعہ اس ميں اور ان لوگوں ميں فرق کے قائل ہوجائيں جنہوں نے اہل بيت ٴ
سے فدک چھينا تھا۔ حضرت ٴ پہلے تو اس کي پيشکش کو رد کرتے ہيں اور جب
اس کي طرف سے اصرار بڑھتا ہے تو امام عليہ السلام فرماتے ہيں :
’’لا آخذ ھا الا بحلودھا‘‘
’’ اگر فدک واپس ہي کرنا ہے تو اس کي واقعي حدود کے ساتھ واپس کرو ۔‘‘
ہارون اس کو قبول کرليتا ہے تو امام ٴ فدک کي حدود معين فرمانا شروع
کرتے ہيں:
’’ اما الحمد الاول فعدن ۔ اس کي پہلي حد عدن ہے ۔‘‘
يہ گفتگو مدينہ يا بغداد ميں ہورہي ہے۔ امام ٴ جزيرہ عرب کي آخري سرحد
عدن کو فدک کي ايک حد کے طور پر معين کررہے ہيں۔
’’ فتغير وجہ الرشيد وقال : ايھا !‘‘
ہارون کے چہرے کا رنگ اڑ جاتا ہے اور بے اختياري کہتا ہے : اوہ !
حضرت ٴ فرماتے ہيں :
’’ والحد الثاني سمرقند ۔ اس کي دوسري حد سمرقند ہے۔‘‘
(مشرق ميں ہارون کي سلطنت يہيں منتہي ہوتي تھي)
’’ فاربد وجھہ ۔ ہارون کے چہرے پر ہوائياں اڑنے لگتي ہيں۔‘‘
امام ٴ فرماتے ہيں :
’’ والحد الثالث افريقيہ ۔ اور اس کي تيسري حد تيونس سے ملتي ہے۔‘‘
(يہ عباسي حکومت کي مغربي سرحد ہے)
’’ فاسود وجھہ وقال : ھيہ ۔ ہارون کا چہرہ غصہ سے سياہ پڑجاتا ہے اور
کہتا ہے : عجب ؟!!!
امام ٴ اپني بات جاري رکھتے ہيں :
’’ والحد الرابع سيف البحر مما يلي الجزر وار مينيہ ۔‘‘
’’ اور اس کي چوتھي حد سمندر کے کناروں سے ملتي ہے جس کي پشت پر جزيرے
اور ارمنستان ہيں۔‘‘
(يہ ملک کا آخري شمالي حصہ ہے)
اب ہارون کا پارہ آخري نقطہ پر پہنچ چکا تھا کھسياہٹ اور غصہ کے عالم
ميں کہتا ہے ۔‘‘
’’ قال موسيٰ : فقد اعلمتک انني احددتھا لن تردھا ۔‘‘
’’ امام ٴ نے فرمايا : ميں نے پہلے ہي تجھ سے کہہ ديا تھا کہ اگر ميں
فدک کي حديں بيان کرديں تو کبھي اسے واپس نہ کرے گا۔‘‘
اس حديث کے آخري الفاظ يہ ہيں :فعند ذلک عزم عليٰ قتلہ ۔ يعني يہي وہ
منزل تھي جب ہارون امام ٴ کے قتل کا پکا ارادہ کرليتا ہے۔
اس پوري گفتگو ميں واضح ترين چيز امام عليہ السلام کا ادعا ہے، وہ بات
جسے اب ہارون نے بھي اچھي طرح سمجھ ليا اور امام موسيٰ کاظم عليہ
السلام کے قتل پر کمر بستہ ہوگيا۔ اور اسي قبيل کے اظہارات جن سے آئمہ
عليہم السلام کے دعوو ں کا صاف پتہ چلتا ہے امام محمد باقر ٴ ، امام
جعفر صادق ٴ اور امام علي رضا ٴ کي زندگيوں ميں بھي نظر آتے ہيں ، جن
کو يکجا کرنے سے امامت کا موقف واضح طور پر سامنے آجاتا ہے۔
آئمہ کے طريقہ کار کے سلسلہ ميں ان کے اصحاب کا نظريہ
آئمہ کي زندگي کا مطالعہ کرتے وقت ايک اور مسئلہ جو تحقيق اور چھان بين
کے قابل ہے وہ آئمہ کے مقاصد ، ان کے طريقہ کار اور مدعا کے سلسلہ ميں
آئمہ کے اصحاب کا نقطہ نظر ہے۔ اس بات کي وضاحت کي ضرورت نہيں کہ ہمارے
مقابلہ ميں اصحاب آئمہ ان بزرگواروں سے زيادہ نزديک بھي تھے اور ان کے
مقصد و مدعا سے زيادہ واقف و آگاہ بھي۔ سوال يہ ہے کہ اس سلسلہ ميں ان
کے کيا تاثرات تھے اور وہ اس کي کيا تفسير کرتے تھے ؟
کيا ہميں روايات ميں اس نکتہ کي وضاحت نہيں ملتي کہ خود اصحاب بھي قيام
و خروج کے منتظر تھے ؟ خراسان کے اس شخص کي داستان سے کون ناواقف ہے جو
امام صاد ق ٴ عليہ السلام کي خدمت ميں حاضر ہوکر عرض کرتا ہے کہ کئي
لاکھ مسلح افراد قيام کے لئے آپ ٴ کے اشارے کے منتظر ہيں۔ جب حضرت ٴ
مذکورہ اعداد و شمار پر تعجب فرماتے ہيں کہ اگر اس طرح کے اتنے افراد
(١٢ ، ١٥ يا ۔۔۔ افراد اختلاف روايات کے ساتھ) مجھے ميسر ہوتے تو ميں
ميدان ميں آجاتا۔
اس طرح کے بہت سے افراد امام ٴ کے پاس آکر قيام (روايات کے الفاظ ميں
خروج) کا تقاضا کرتے رہے ہيں ( البتہ بعض مواقع پر امام ٴ سے قيام کا
مطالبہ کرنے والوں ميں عباسي حکومت کے جاسوس بھي تھے جن کے جاسوس ہونے
کا اندازہ امام ٴ کي جانب سے ان کو دئيے جانے والے جوابات سے بخوبي
لگايا جاسکتا ہے)
آخر يہ افراد امام ٴ کي خدمت ميں اس قسم کا مطالبہ لے کر کيوں حاضر
ہوتے تھے ؟ کيا اس سے يہ پتہ نہيں چلتا کہ اس وقت شيعوں کے درميان حق و
انصاف پر مبني حکومت کي تاسيس کے لئے قيام و خروج ايک حتمي امر اور
آئمہ کا ايک مسلمہ مقصد سمجھا جاتا تھا۔ چنانچہ آئمہ کے اصحاب و انصار
اور شيعوں ميں يہ بات مقبول تھي کہ امام ٴ اقدام کے لئے کسي مناسب موقع
کے منتظر ہيں۔
اس سلسلہ ميں ايک قابل توجہ روايت ميري نظر سے گزر رہي ہے جس سے يہ
سمجھا جاسکتا ہے کہ زرارہ ابن اعين جيسے بلند مرتبہ صحابي ميں اس امر
کي مقبوليت کا کيا عالم تھا۔ رجال کشي ميں روايت ہے :
ايک دن زرارہ امام ٴ کے پاس آتے ہيں اور کہتے ہيں کہ ہمارے ساتھيوں ميں
سے ايک شخص اپني تلاش ميں سرگرم دشمن کے ہاتھوں سے بھاگ نکلا ہے۔ اگر
يہ ’’ امر ‘‘ (حکومت کے لئے قيام)نزديک ہو تو وہ صبر کرے تاکہ قيام
کرنے والوں کے ساتھ خروج کرے اور اگر اس ميں تاخير ہو تو وہ مصالحت
کرلے۔ حضرت ٴ فرماتے ہيں : وہ وقت آئے گا۔ زرارہ سوال کرتے ہيں: کيا
ايک سال کے اندر ايسا ہوگا ؟ امام فرماتے ہيں : ان شائ اللہ وہ وقت آئے
گا۔‘‘ زرارہ پھر پوچھتے ہيں : کيا دو سال لگ جائيں گے ؟ امام ٴ وہي
جملہ پھر دہرا ديتے ہيں : ان شائ اللہ وہ وقت آئے گا۔ اور زرارہ يہ سوچ
کر خاموش ہوجاتے ہيں کہ دو سال تک آل علي ٴ کي حکومت قائم ہوجائے گي۔‘‘
يقينا زرارہ ، سادہ لوح و بے خبر افراد ميں سے نہ تھے ، وہ امام محمد
باقر ٴ اور امام جعفر صادق ٴکے قريب ترين اصحاب ميں سے تھے لہذا وہ
کيسے مانتے تھے کہ علوي حکومت اتني کم مدت بعد قائم ہوجائے گي؟
ايک دوسري روايت ميں ہشام ابن سالم نقل کرتے ہيں کہ ايک روز زرارہ نے
مجھ سے کہا :
’’ لا تريٰ علي اعوادھا غير جعفر (ع)‘‘
’’ مسند خلافت پر امام جعفر ابن محمد کے علاوہ کسي اور نہيں ديکھو گے
۔‘‘
ہشام کہتے ہيں : جب امام جعفر صادق ٴ نے شہادت پائي تو ميں نے زرارہ سے
کہا : کيا تم کو اپني وہ بات ياد ہے ؟ مجھے دھڑکا تھا کہ وہ اس کا
انکار کريں گے۔ مگر زرارہ نے کہا : ہاں ، بخدا ميں نے وہ اپنے اندازے
کے مطابق کہي تھي ‘‘ ( مطلب يہ ہے کہ شبہ نہ کيا جائے کہ زرارہ نے وہ
بات امام عليہ السلام سے نقل کي تھي)
متعدد روايتيں جو قيام کے انتظار اور اصحاب آئمہ کي طرف سے اس کي
درخواست کے بارے ميں موجود ہيں ان سے اس بات کي واضح نشان دہي ہوتي ہے
کہ آئمہ عليہم السلام کا ہدف اور مقصد يعني حکومت علوي کي تشکيل ، اس
کے لئے جدوجہد اور اس کا متوقع ہونا شيعيان آل محمد حتيٰ آئمہ کے قريب
ترين ساتھيوں کے درميان مسلمات ميں شمار ہوتا تھا اور يہ چيز آئمہ کے
ہدف اور حکمت عملي کا ايک قطعي قرينہ ہے۔
ايک دوسري بحث يہ ہے کہ آئمہ کے ساتھ خلفائے وقت کے بغض و عناد اور
دشمني و عداوت کي وجہ کيا تھي ؟ آيا ان کے حسد کي وجہ آئمہ کي معنوي
عظمت اور عوام ميں ان کي ہر دل عزيزي تھي اور ان تمام دشمنيوں کا موجب
اور محرک يہي چيز تھي ؟ يا حقيقت امر کچھ اور ہے ؟
يقينا اس سے کوئي انکار نہيں کرسکتا کہ آئمہ عليہم السلام خلفا نيز اس
طرح کے دوسرے افراد کے حسد کا نشانہ رہے ہيں۔ جيسا کہ قرآن کي اس آيت :
ام يحسدون الناس علي ما آتاھم اللہ من فضلہ (سورہ نسائ ٤، آيت ٥٤ )کي
تفسير کے ذيل ميں آئمہ کي ايک روايت ميں اس مضمون کي موجود ہے کہ نحن
المحسودون ( يعني وہ لوگ جن سے لوگوں کا حسد کرنا اس آيت ميں ذکر ہوا
ہے ہم لوگ ہيں)
البتہ يہ ديکھنا چاہئيے کہ آئمہ کي کس چيز سے حسد کي جاتي تھي ؟ کيا ان
کے علم و تقويٰ سے لوگ حسد کرتے تھے ؟ تو يہ سب ہي جانتے ہيں کہ اس
زمانہ ميں ايسے علما و زہاد بھي موجود تھے جو ان ہي صفات کے ساتھ لوگوں
ميں پہچانے جاتے ہيں اور ان کے چاہنے والوں اور دوستوں کي بھي کمي نہيں
تھي۔ مثال کے طور پر ابو حنيفہ ، ابو يوسف ، حسن بصري، سفيان ثوري ،
محمد بن شہاب اور اسي طرح کے دسيوں مشہور و معروف لوگ اس وقت موجود تھے
جن کے مطيع و خير خواہ بڑي تعداد ميں موجود تھے اور وہ لوگوں کے درميان
مشہور اور ان کے محبوب بھي تھے۔ اس کے باوجود ہم ديکھتے ہيں کہ خلفانے
نہ فقط يہ کہ ان کے ساتھ بغض و حسد کا اظہار نہيں کيا بلکہ ان ميں سے
بغض خود ان خلفا کي محبت اور عقيدت کا مرکز بھي رہے ہيں۔
ہماري نظر ميں آئمہ کے ساتھ خلفا کي ايسي دشمني جو گرفتاري ، دربدري
اور قيد و بند کے بعد ان کي شہادت پر منتہي ہوتي تھي اس کي اصل وجہ کسي
اور ہي چيز ميں تلاش کرني چاہئيے ۔ اور وہ چيز آئمہ کا دعويٰ خلافت و
امامت ہے جبکہ دوسرے يہ دعويٰ کرتے نظر نہيں آتے۔ يہ ان ہي بحثوں ميں
سے ايک بحث ہے جس پر تحقيق و تدقيق کئے جانے کي ضرورت ہے۔
اسي طرح آئمہ عليہم السلام کے اصحاب کا حکام کے ساتھ تيز و تند مقابلہ
اور ٹکراو بھي ايک تحقيق طلب موضوع ہے۔ جس کے نمونے آئمہ کي زندگي کے
دوران بخوبي ديکھے جاسکتے ہيں۔ حضرت سجاد ٴ کے زمانے ميں جو سخت گھٹن
کا دور ہے يحييٰ بن ام طويل جو حضرت ٴ کے حوارئين ميں سے تھے مسجد
مدينہ ميں آتے تھے اور ان لوگوں سے جو يا رو دربار خلافت کے سامنے سر
تسليم خم کرچکے تھے يا خلافت کے کارگزاروں ميں سے تھے خطاب کرتے ہوئے
قرآن کي وہ آيت پڑھتے ہيں جس ميں کفار سے حضرت ابراہيم ٴ کي گفتگو کا
ذکر ہے۔ کفرنا بکم بدابيننا و بينکم العداوۃ والبغضائ ۔۔۔ اور اسي طرح
کناسہ کوفہ ميں مجمع عام ميں شيعوں کے ايک گروہ کو خطاب کرتے ہوئے با
آواز بلند ايسي تقرير کرتے ہيں جس کا لفظ لفظ حکام وقت کي سياست کے لئے
کھلا چيلنج تھا۔
معلي بن خنيس ، نماز عيد کي ادائيگي کے لئے جب لوگوں کے ہمراہ صحرا کي
جانب جاتے تھے تو نہايت ہي پريشان حال ، غير مرتب لباس ميں غمگين صورت
نظر آتے تھے۔ اور جيسے ہي خطيب منبر پر جاتا تھا تو ہاتھوں کو بلند
کرکے با آواز بلند کہتے تھے :
’’ اللھم ان ھذا مقام خلفائک واصفيائک و موضع امنائک ۔۔۔۔ ابتزو ھا‘‘
’’ پروردگار ! يہ منبر اور يہ مقام تيرے منتخب اور برگزيدہ کا ہے جو في
الحال ان سے چھين ليا گيا ہے اور دوسروں نے اس پر اپنا پنجہ مضبوط
کرليا ہے۔‘‘
مقام افسوس ہے کہ يہ بلند صحابي جس کے قاتل پر امام جعفر صادق ٴ عليہ
السلام لعن و نفرين کرتے ہيں اور مقتول کي تعريف و توصيف فرماتے ہيں
بعض افراد کي بے مہري کا نشانہ بنے ہيں اوروہ ان کي وثاقت ميں شک کرتے
ہيں۔ اور بعيد نہيں ہے کہ اس فکر کے پيچھے بني عباس کا خبيث ہاتھ کار
فرما ہو۔
ايک اور مسئلہ جو کافي وسيع اور گہري بحث کا طالب ہے تقيہ کا مسئلہ
ہے۔اس عنوان کو سمجھنے کے لئے لازم ہے کہ ان تمام روايات کي چھان بين
کي
جائے جو کتمان، پردہ داري نيز خفيہ سرگرميوں سے متعلق ہيں، تاکہ ايک
طرف تو آئمہ عليہم السلام کے اس ادعا اور ہدف کے پيش نظر جو گزشتہ
مباحث ميں ثابت کيا گيا ہے اور دوسري طرف خلفا کے اس شديد رد عمل کے
پيش نظر جو آئمہ عليہم السلام کے اس دعويٰ اور اس سلسلے ميں ان کي اور
ان کے اصحاب کي سرگرمي اور سياسي فعاليت کے خلاف ظاہر ہوتا رہا ہے،
تقيہ کا صحيح اور حقيقي مفہوم سمجھا جاسکے۔
البتہ ايک چيز جس ميں کسي طرح کے شک و شبہ کي گنجائش نہيں، وہ يہ ہے کہ
تقيہ ہاتھ پر ہاتھ دھرے بيٹھے رہنے يا تمام کام اور سعي و کوشش ترک
کردينے کا نام نہيں ہے بلکہ اپنے کام اور جدوجہد کو پوشيدہ رکھنے کو
تقيہ کہتے ہيں۔ اور يہ بات روايات پر نظر ڈالنے سے پوري طرح روشن
ہوجاتي ہے۔
يہ آئمہ عليہم السلام کي حيات طيبہ سے متعلق ضروري مباحث کا صرف ايک
حصہ ہے۔ البتہ ان بزرگان دين کي سياسي زندگي سے مربوط بہت سي دوسري
بحثيں بھي ہيں جن کي فہرست پيش کرنے کي بھي اب گنجائش نہيں ہے اگرچہ ان
سے متعلق ضروري نوٹس ميرے پاس اس وقت بھي موجود ہيں۔ حقير نے ان تمام
موضوعات پر بڑي تفصيل کے ساتھ کام کيا ہے مگر افسوس کہ آج ان تمام
چيزوں کے بيان اور ان کي جمع بندي کي فرصت نہيں رہي۔ اے کاش ! ايسے با
ہمت افراد پيدا ہوں جو اس کام کو آگے بڑھائيں اور آئمہ عليہم السلام کي
سياسي زندگي بھي يکجا صورت ميں لوگوں کے ہاتھوں ميں پہنچ جائے اور ہم
ان عظيم ہستيوں کي زندگي کے ان روشن پہلو و ں کو اپنے لئے درس اور
نمونے کے عنوان سے اختيار کريں نہ کہ صرف ايک زندہ و پائندہ يادگار کے
طور پران کا ذکر کرنے ہي اکتفا کريں۔
والسلام عليکم و رحمۃ اللہ ۔ |