فلسفہ عزاداري و قيام اما م حسين ٴ

از
ولي امر مسلمین آيت اللہ العظميٰ سيد علي خامنہٰ اي مدظلہ العالي


       آيت اللہ العظميٰ سيد علي خامنہٰ اي نے محرم ١٤١٥ ھ کي آمد کے موقع پر ٢٩ ذي الحجہ ١٤١٤ ھ کے دن علمائ و طلابِ ديني کے ايک اجتماع کے سے يہ خطاب ارشاد فرمايا۔
 

نشر ولایت پاکستان

مرکزحفظ ونشر آثار ولایت

www.wilayat.com

عزاداري کي ماہيت

 قيام حسيني ٴ کي ماہيت
 

 

 

عزاداري کي ماہيت
محرم سے مربوط مسائل ميں دو نوعيت کي باتيں ہيں، پہلي، عاشورائ کي تحريک کے بارے ميں گفتگو ہے، اگرچہ بزرگوں نے امام حسين ٴ کے قيام کے فلسلفے کے بارے ميں بہت کچھ لکھا ہے، لکھا بھي ہے اور اس مفہوم پر بہت قيمتي گفتگو بھي فرمائي ہے ليکن اس تابناک و درخشاں حقيقت کے بيان کے لئے ايک عمر درکار ہے۔
عاشورائ کے مسئلے اور قيامِ حسيني پر جتنا ہي زيادہ غورو فکر کريں ،اس کے باوجود يہ مسئلہ مختلف پہلوو ں ميں غور و فکر ، سوچ بچار اور گفتگو کي کشش اور گنجائش رکھتا ہے۔ جتنا بھي اس عظيم قيام کے بارے ميں سوچيں، ممکن ہے(ہر مرتبہ) تازہ حقائق سے دوچار ہوں۔ يہ وہ پہلا مفہوم ہے جس کے بارے ميں اگرچہ پورے سال گفتگو کي جاتي ہے اور کي بھي جاني چاہئيے ليکن محرم کو ايک خصوصيت حاصل ہے اور ايّام محرم ميں اس مفہوم پر زيادہ سے زيادہ گفتگو کي جاني چاہئيے۔ جس طرح کرتے ہيں اور ان شائ اللہ آئندہ بھي کريں گے۔
محرم کي مناسبت سے گفتگو کے لئے دوسرا مفہوم، جس کے بارے ميں کم ہي گفتگو ہوتي ہے اور ہم چاہتے ہيں کہ آج رات اس کے بارے ميں کچھ گفتگو کريں وہ حسين ابن علي ٴ کي عزاداري اور عاشورائ کا ذکر زندہ رکھنے کي برکات ہيں۔
مسلمہ طور پر دوسرے مسلمان بردران سے، شيعوں کے نماياں امتيازات ميں سے ايک يہ ہے کہ ان کے يہاں واقعہ عاشورا موجود ہے۔
وہ دن کہ جب سے حسين ابن علي ٴ کي مصيبت کے ذکر کا آغاز ہوا، اہل بيت ٴ پر اعتقاد رکھنے والوں اور ان کے محبین کے قلب و ذہن ميں فيض و معنويات کا ايک چشمہ جاري ہوا، جو آج تک اسي طرح مسلسل رواں دواں ہے اور ان شائ اللہ آئندہ بھي جاري و ساري رہے گا، اس کا سبب بھي واقعہ کربلا کي ياد مناتے رہنا ہے۔
عاشورائ کي ياد محض ايک واقعہ کا تذکرہ نہيں بلکہ ايک ايسے حادثے کا بيان ہے جس کے بے شمار پہلو ہيں۔ اس واقعے کي ياد درحقيقت خود ايک ايسا مفہوم ہے جو کثير برکات پر منتہي ہوسکتا ہے۔ لہذا آپ ملاحظہ فرماتے ہيں کہ آئمہ ٴ کے زمانے ميں امام حسين ٴ پررونے اور رلانے کا مسئلہ ايک خاص مقام رکھتا تھا۔ايسا نہ ہو، کسي ذہن ميں خيال آئے کہ فکر و منطق اور استدلال کي موجودگي ميں رونے اور قديم ابحاث کي کيا گنجائش ہے؟
نہيں جناب ! يہ غلط فہمي ہے ان ميں سے ہرچيز کا اپنا ايک مقام ہے، ان ميں سے ہر ايک کا انساني شخصيت کي تعمير ميں ايک حصہ ہے، جذبات و احساسات کا اپنا مقام ہے اور صرف منطق و استدلال کافي نہيں۔ آپ اگر جائزہ ليں تو ديکھيں گے کہ انبيائ کي تحريکوں ميں، اُس وقت جب کہ انبيائ ٴ مبعوث ہوتے تھے تو پہلے مرحلے پر ان کے گرد جمع ہونے والے لوگوں کے اکھٹا ہونے کا اصل محرک منطق و استدلال نہ تھا۔
آپ کو پيغمبر اسلام
۰ کي تاريخ ميں، جو ايک مدون اور واضح تاريخ ہے، نہيں ملے گا کہ مثلاً آنحضرت نے کفار قريش کے ايک با اہليت اور صاحب استعداد گروہ کو بٹھايا ہو اور ان پر استدلال کيا ہو اور مثلاً کہا ہو کہ اس دليل سے خدا کا وجود ثابت ہے يا اس دليل سے خدا واحد ہے ،يا اس عقلي دليل سے، بت باطل ہيں۔ پيغمبر اسلام ۰ کے استدلال بعد کے دور سے مربوط ہيں۔ عقلي دلائل اُس زمانے سے مربوط ہيں جب آپ ۰ کي تحريک آگے بڑھي ، ابتدائ ميں آپ ۰ کي تحريک جذبات و احساسات پر مبني تھي۔
پہلے مرحلے ميں پيغمبر
۰ نے نا گہاں آواز بلند کي کہ ان بتوں کي جانب نظر اٹھاو ، ديکھو کہ يہ ناتواں ہيں، اسي مرحلے ميں آپ ۰ نے ارشاد فرمايا کہ ديکھو خدا واحد ہے۔ ’’ قولوا لاالہ الا اللہ تفلحوا ‘‘ کس دليل سے ’’ لاالہ الا اللہ ‘‘ موجب فلاح ہے ؟ يہاں کون سا عقلي اور فلسفي استدلال پايا جاتا ہے؟ ليکن ہماري بحث اس بات ميں ہے کہ جب نبي اپني دعوت شروع کرنا چاہتا ہے تو فلسفي استدلال پيش نہيں کرتا، سچے احساس و جذبات کو سامنے لاتا ہے۔
البتہ وہ سچا احساس غير منطقي اور غلط نہيں ہوتا، اپنے اندر خود ايک استدلال رکھتا ہے۔ ابتدائ ميں يہ احساس معاشرہ ميں جاري ظلم و ستم ، طبقاتي اختلافات نيز اس دباو کي جانب متوجہ کرتا ہے جو جنسِ بشر و شياطينِ انس ميں سے خدا بن بيٹھنے والے لوگ لوگوں پر روا رکھتے ہيں۔ پھر جب تحريک معقول اور معمول کي روش پر چل پڑتي ہے تو منطقي کي باري آتي ہے ۔ ايسے لوگ جو عقلي طور پر پختہ اور فکري نمو کے حامل ہوتے ہيں عام استدلال سے واقف ہوجاتے ہيں، بعض انہي ابتدائي درجات ميں رہ جاتے ہيں، البتہ يہ نہيں کہہ سکتے کہ وہ لوگ جو استدلال کے اعتبار سے بلند درجے پر ہوتے ہيں وہ معنوي درجات کے لحاظ سے بھي لازماً بالاتر درجات پر ہوں، کبھي ايسا بھي ہوتا ہے کہ وہ لوگ جن کي عقلي سطح نيچے ہوتي ہے مبدائ غيبي اور پيغمبر
۰ کے ساتھ ان کا جوش وجذبات اور ارتباط و علاقہ زيادہ اور ان کي محبت زيادہ پرجوش ہوتي ہے اور يہي لوگ بالاترين درجات حاصل کرليتے ہيں۔
اصل بات يہ ہے کہ جذبات کا اپنا مقام اور اہميت ہے، نہ ہي جذبات ،استدلال کي جگہ لے سکتے ہيںاور نہ استدلال جذبات کي،عاشورا ئ کا حادثہ اپني ذات و طبيعت ميں خود ٹھاٹھيں مارتے ہوئے سچے جذبات کا ايک سمندر ہے۔بلند مرتبہ ، پاکيزہ ، منور اور بے عيب ملکوتي شخصيت رکھنے والا ايک انسان، ايک اعليٰ ہدف کے لئے قيام کرتا ہے، ظلم و جور اور جنگ و عدوان سے معاشرے کي نجات کے لئے، جس کي صحت پر تمام منصفينِ عالم متفق ہيں۔
ايھا الناس ! ان رسول اللہ قال : من رآي سلطانا جائرا ‘‘
’’ اے لوگو ! رسول اللہ
۰ نے فرمايا : جو کوئي کسي ظالم بادشاہ کو ديکھے ۔‘‘
گفتگو يہ ہے کہ امام حسين ٴ اپني تحريک کا فلسفہ و مقصد ظلم سے مقابلہ قرار ديتے ہيں۔
’’ يعمل في عباد اللہ بالجور والطغيان ‘‘ يا ’’ بالاثم والعدوان ‘ ‘ لوگوں پر ظلم و ستم کرتا ہے۔‘‘
بحث اس موضوع پر ہے۔
ايک ايسا انسان، مقدس ترين راہ ميں ، جس کو تمام انصاف پسند قبول کرتے ہيں ،دشوار ترين جنگ کو برداشت کرتا ہے، دشوار ترين جنگ، عالم تنہائي ميں لڑي جانے والي جنگ ہے۔،دوستوں کے نعروں اور عام لوگوں کي تحسين و آفرين کي صداو ں کے درميان موت کا سامنا کرنا چنداں مشکل نہيںليکن جب حق و باطل کي صف آرائي ہو اور پيغمبر
۰ اور امير المومنين ٴ (علي ٴ) کي مانند کوئي حق کے محاذ کے راس و رئيس کے طور پر کھڑا ہو اور کہے کہ ’’ کون ہے جو ميدان ميں جائے؟ تو سب ہي لپکتے ہيں، پيغمبر ۰ ميدان ميں جانے والوں کے لئے دعا کرتے ہيں،ان کے سر پر ہاتھ پھيرتے ہيں، چند قدم ان کے ساتھ چلتے ہيں، مسلمان ان کے لئے دعا مانگتے ہيں۔ اس کے بعد وہ ميدان کي طرف جاتے ہيں، جہاد کرتے ہيں اور شہادت پاتے ہيں۔
يہ قتل ہونے اور جہاد کرنے کي ايک قسم ہے ،جہاد کي ايک اور قسم وہ جہاد ہے جب انسان ميدان نبرد کي جانب قدم بڑھاتا ہے تو پورا معاشرہ يا تو اس سے منکر ہے يا غافل ، يا تو اس سے لا تعلق ہے يا اس کا مخالف، دل سے اسے قابل تحسين سمجھنے والے کم لوگ ہوں اور وہ بھي اس کي زباني تحسين کي جرآت نہ رکھتے ہوں۔ يعني عاشورائ کے حادثے ميں عبداللہ ابن عباس اور عبد اللہ ابن جعفر جيسے لوگ کہ جو خود خاندان بني ہاشم کا حصہ تھے، اس شجرہ طيبہ کا جز تھے، جرآت نہيں کرتے کہ آئيں اور آکے مکہ يا مدينہ ميں صدا بلند کريں اور امام حسين ٴ کے نام کا نعرہ لگائيں۔
يہ ہے غريبانہ جنگ، جنگوں ميں دشوار ترين يہ جنگ ہے۔ سب اس انسان کے دشمن ہيں، سب اس سے روگرداں حتيٰ اس کے دوست بھي اس سے چشم پوشي کئے ہوئے ہيں۔ يہاں تک کہ جب امام حسينٴ ايک شخص سے مدد کي درخواست کرتے ہيں تو وہ خود مدد کرنے کے بجائے اپنے گھوڑے کي پيش کش کرتا ہے کہ آئيے ميرے اس گھوڑے سے استفادہ کيجئے۔
آيا اس سے زيادہ کوئي غربت ہوسکتي ہے اور اس سے زيادہ کوئي غريبانہ جنگ ہوسکتي ہے؟
اس جنگ کے دوران ان کي نگاہوں کے سامنے ان کے عزيز ترين فرزند قربان ہوئے ہيں، ان کے بچے ، بھتيجے ، بھائي ، چچا زاد بھائي اور بني ہاشم کے پھول ان کے سامنے زمين پر بکھر رہے ہيں، حد تو يہ ہے کہ ان کا چھ مہينے کا بچہ بھي ذبح ہوجاتا ہے، ان سب کے علاوہ يہ بھي جانتے ہيں کہ جوں ہي ان کي روح جسم مطہر سے جدا ہوگي ان کے بے آسرا ہوجانے والے اہل و عيال پر يورش ہوگي۔ يہ بھوکے بھيڑئيے جوان بيٹيوں کو گھير ليں گے، ان کو خوفزدہ کريں گے، ان کے اموال کو غارت کريں گے، انہيں اسير بنائيں گے، ان کي اہانت کريں گے۔
امير المومنين ٴکي عظيم بيٹي زينب کبريٰ جو دنيائے اسلام کي ممتاز خواتين ميں سے ہيں، ان کے سامنے جسارت کريں گے۔ ابا عبداللہ الحسين ٴ يہ سب کچھ جانتے تھے۔ ملاحظہ کيا۔ يہ جنگ ، يہ مقابلہ کس قدر سخت ہے۔
اس قدر عظيم المرتبت انسان، پاک ، مطہر اور منور ہستي ،وہ انسان جس کے ديدار کے لئے آسماني فرشتے ايک دوسرے پر سبقت لے جانے کي کوشش کرتے ہيں تاکہ حسين ابن علي ٴ کا ديدار کريں اور متبرک ہوجائيں، انبيائ و اوليائ جن کے مقام کے حصول کي آرزو کرتے ہيں وہ ايسے شديد اور ابتلائ و آزمائشوں سے پر، مقابلے کے بعد جام شہادت نوش کرتاہے۔
کون ايسا انسان ہے جس کے جذبات و احساسات اس حادثے پر مجروح نہ ہوں، اور کون انسان ہے جو اس حادثے کے بارے ميں جانتا ہو، اِسے سمجھتا ہو اور پھر اس سے دلبستہ نہ ہو؟ يہ وہ پرجوش چشمہ ہے جو روز عاشور جاري ہوا، اُسي وقت جب( ايک نقل کے مطابق) زينب کبريٰ ’’ تل زينبيہ ‘‘ پر تشريف لے گئيں اور پيغمبر اکرم
۰ کو خطاب کرکے فرمايا،
’’ يا رسول اللہ صلي عليک ملائکہ السمائ ھذا حسينک مرمل بالدمائ مقطع الاعضائ مسلوب العمامہ والردائ‘‘
’’ يا رسول اللہ آپ پر آسمان کے فرشتے درود بھيجتے ہيں، اور يہ آپ
۰ کا حسينٴ ہے جو خون ميں ڈوبا ہوا ہے، جس کا بدن ٹکڑے ٹکڑے ہے اور جس کا عمامہ اور ردا چھن چکي ہے۔‘‘
زينب نے باآوازِ بلند امام حسين ٴ کا نوحہ پڑھنا اور ماجرے کو بيان کرنا شروع کيا ،وہ ماجرا جسے (ان کے دشمن)چھپانا چاہتے تھے ،وہ انہوں نے با آواز بلند نشر کرديا، کربلا ميں بيان کيا، کوفہ ميں بيان کيا ، شام ميں بيان کيا، مدينہ ميں بيان کيا اور يوں اس چشمے نے جوش مارنا شروع کرديا۔ يہاں تک کہ آج بھي جوش مار رہا ہے ، يہ واقع عاشورائ ہے۔
ايک وقت ممکن ہے کسي کے پاس کوئي نعمت نہ ہو، لہذا اس سے اس نعمت کے بارے ميں سوال نہيں کيا جائے گا۔ ليکن اگر کسي کو نعمت ميسر ہو تو پھر اس سے سوال ہوگا۔ ايک عظيم ترين نعمت حسين ابن عليٴ کي ياد ہے ،يہي مجالس عزائ کي نعمت ہے، محرم اور عاشورائ کي نعمت ہے جو ہم شيعوں کو ميسر ہے۔ افسوس کہ ہمارے غير شيعہ مسلمان بھائيوں کو يہ نعمت ميسر نہيں، وہ اس نعمت عظيم کو حاصل کرسکتے ہيں، البتہ کہيں کہيں ان ميں سے بعض لوگ امام حسين ٴ کي عزاداري مناتے ہيں۔ ليکن (عام طور پر)عزاداري ان کے يہاں رائج نہيں، جبکہ ہمارے (شيعوںکے) درميان رائج ہے۔
ان مجلسوں اور اس ياد سے کيا فائدہ اٹھانا چاہئيے؟ اس نعمت کے شکر کا طريقہ کيا ہے؟ يہ وہ بات ہے جسے ميں آپ کے سامنے سوال کي صورت ميں پيش کرنا چاہتا ہوں اور آپ اس کا جواب ديجئے؟
يہ نعمت اپني تمام تر عظمت کے ساتھ دلوں کو اسلامي ايمان کے پرُ جوش سرچشمے سے متصل کر ديتي ہے،اس نعمت نے وہ کام کيا ہے کہ تاريخ ميں ظالم حکمران عاشورائ اور امام حسينٴ کي مر قدِاطہر سے خوفزدہ رہے ہيں، يہ خوف بني اُميّہ کے خلفائ کے دور سے شروع ہوا اور آج تک جاري ہے اور آپ نے اس کا ايک نمونہ خود ہمارے انقلاب ميں ديکھا ہے۔ جب محرم آتا تھا تو فاسق ، فاسد اور کافر و رجعت پسند پہلوي نظام کے کار ندے خود کو بے دست و پا اور عاجز و ناتواں پاتے تھے، انہيں معلوم تھا کہ محرم آگيا ہے۔ اس منحوس حکومت کي بچي کچي رپورٹوں ميں صراحتاً ايسي باتيں موجود ہيں ،جن سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ محرم کي آمد پر ہوا س باختہ ہوجاتے تھے۔ اور ہمارے امام بزرگوار (رضوان اللہ عليہ) حکيم، دور انديش ، دنيا شناس اور انسان شناس ہستي خوب جانتي تھي کہ امام حسين ٴ کے مقاصد کو آگے بڑھانے کے لئے اس حادثے سے کس طرح استفادہ کيا جائے۔ آپ نے محرم کو شمشير پر خون کي فتح کا مہينہ قرار ديااور اسي تجزيہ، منطق اور محرم کي برکت نے خون کو شمشير پر فاتح کيا۔ يہ ايک ايسي مثال ہے جسے آپ نے خود اپني آنکھوں سے ديکھا ہے۔
اس نعمت سے استفادہ کرنا چا ہيے، لوگوں کو بھي اور علمائ کو بھي۔ عوام الناس اس سے اس طرح استفادہ کر سکتے ہيںکہ عزاداري کي مجالس ميں دل سے شرکت کريں اور يہ مجالس برپا کريں، لوگوں کو چا ہيے کہ ہر سطح پر مجالسِ عزائ ميں اضا فہ کريں،ان مجالس ميں خلوص کے ساتھ شريک ہوں اور ان سے استفادہ کے لئے شرکت کريں ،صرف وقت گزاري کے لئے نہيں يا آميانہ صورت ميں محض ثوابِ اُخروي کے لئے نہيں کہ يہ بھي نہيں جانتے کہ يہ اُخروي ثواب کيوں کر حاصل ہوتا ہے۔
مسلّما طور پر ان مجالس ميں حا ضري اُخروي ثواب کي حامل ہے ليکن يہ اُخروي ثواب کس بنا پر ہے؟ کس وجہ سے ہے؟ اس ثواب کي يقينا ايک وجہ ہے اور اگر يہ وجہ مفقود ہو تو ثواب بھي نہ ہوگا، بعض لوگ اس وجہ اور سبب کي جانب متوجہ نہيں ہوتے۔
لوگوں کو ان مجالس ميں شرکت کرني چا ہيے، ان کي قدروقيمت کو جاننا چاہيے اور ان سے استفادہ کرنا چاہيے، لوگوں کو چاہيے کہ وہ ان مجالس کو حسين ابنِ عليٴ، خاندانِ پيغمبر
۰ اور قرآن و اسلام کي روح سے ہر ممکن حد تک مضبو ط روحاني اور قلبي اتصال و ارتباط کا وسيلہ بنائيں۔
ليکن جو بات علمائ سے مربوط ہے وہ دشوار تر ہے، کيونکہ مجالسِ عزائ کي ماہيت يہ ہے کہ کچھ لوگ جمع ہوں اور ايک عالم اس مجلس ميں شريک ہو اور مجلسِ عزائ برپا کرے تاکہ دوسرے لوگ اس سے استفادہ کر يں۔
آپ لوگ کس طرح مجلسِ عزائ برپا کرتے ہيں؟
ميرا يہ سوال ان تمام لوگوں سے ہے جو اس مسئلہ کے بارے ميں احسا سِ ذمّہ داري رکھتے ہيں،ميري نظر ميں مجلس ميں تين چيزوں کو ہونا چاہيے۔
پہلي چيز يہ کہ مجالس محبت اہل بيت ٴ ميں اضافہ کريں، کيونکہ جذباتي تعلق ايک قيمتي تعلق ہے۔ لہذا آپ کو وہ کام کرنا چاہئيے جس کے ذريعہ ان مجالس ميں شرکت کرنے والوں کي حسين ابن علي ٴ خاندان رسول
۰ اور معرفت الہي کے چشموں سے محبت و تعلق ميں روز بروز اضافہ ہو۔
اگر خدانخواستہ آپ ان مجالس ميں ايسے حالات پيد اکرديں کہ اس مجلس کے سامعين اور شريک فرد ،جذبات و احساسات کے لحاظ سے اہل بيت ٴ سے نزديک نہ ہو اور خدانخواستہ دور ہوجائے اور بيزاري کا احساس کرے تو ايسي صورت حال ميں مجلس عزائ نہ صرف اپنا ايک بڑا فائدہ کھو بيٹھے گي بلکہ ايک لحاظ سے مضر بھي ہوگي۔
اب اس حيثيت سے کہ آپ مجلس کے باني اور خطيب ہيں، جائزہ ليجئے کہ کيا کام کيا جائے کہ ان مجالس ميں شرکت سے حسين ابن علي ٴ اور اہل بيت پيغمبر
۰
کے بارے ميں لوگوں کے جذبات ميں روز بروز اضافہ ہو۔
دوسرا نکتہ يہ ہے کہ ان مجالس ميں لوگوں کے لئے واقعہ عاشورا کے بارے ميں ايک واضح اور روشن تر معرفت وجود ميں آئے ،ايسا نہ ہو کہ ہم مجلسِ حسين ابن علي ٴ ميں آئيں، ايک تقرير کريں، مبنر پر جائيں يہاں تک کہ اگر اس مجلس ميں غور و فکر کرنے والا کوئي شخص موجود ہو (آج انقلاب اسلامي کي برکات سے ہمارے معاشرے ميں بکثرت ايسے افراد موجود ہيں) اور وہ سوچے کہ ميں کيوں يہاں آيا ہوں، مسئلہ کيا تھا ؟ امام حسين ٴ پر گريہ و زاري کرنا کيوں ضروري ہے ؟ امام حسين ٴ آخر کربلا کيوں آئے اور عاشورائ کا واقعہ کيوں پيش آيا؟
(ہماري مجلس کو ) ايسا ہونا چاہئيے کہ اگر کسي کے ذہن ميں يہ سوال پيدا ہوں تو آپ اس کے سوال کا جواب ديں، پس آپ جو تقرير کرتے ہيں، جو اشعار پڑھتے ہيں اور جو مفاہيم بيان کرتے ہيں اگر ان ميں ان معنوں کي جانب کوئي نکتہ نہ ہو حتيٰ ان کي جانب اشارہ تک نہ ہو تو ہم نے جن تين ارکان کا تذکرہ کيا ان ميں سے ايک رکن کم يا ناقص ہے اور ممکن ہے اس مجلس سے ضروري فائدہ حاصل نہ ہو اور ممکن ہے خدا نخواستہ بعض مقامات پر نقصان بھي پہنچے۔
تيسري چيز جو ان مجالس ميں ضروري ہے وہ يہ ہے کہ يہ لوگوں کي ديني معرفت اور مذہبي ايمان ميں اضافے کا موجب ہوں، آپ کو چاہئيے کہ دين ميں سے کوئي ايک ايسي چيز اس مجلس ميں بيان کيجئے جو ايمان و معرفت ميں اضافے کا سبب ہو، ايک صحيح نصيحت، ايک حديث، تاريخ کا کوئي سبق آموز موضوع، ايک آيتِ قرآن کي تفسير يا کسي عالم اور عظيم اسلامي مفکر کا کوئي نکتہ ان چيزوں ميں سے ہيں، جنہيں بيان کيا جاسکتا ہے۔ ايسا نہ ہو کہ ہم منبر پر جائيں، کچھ لفاظي کريں اور اگر کوئي بات بيان کريں بھي تو ايسي بے سر و پا جو نہ صرف يہ کہ سننے والوں کے ايمان ميں اضافہ نہ کرے بلکہ لوگوں کا ايمان کمزور کردے۔
ميں آپ کي خدمت ميں عرض کرنا چاہتا ہوں کہ بدقسمتي سے کبھي کبھي ايسے مواقع ديکھنے ميں آتے ہيں، کہ کسي مجلس کا خطيب ايسا مفہوم نقل کرتا ہے جو استدلال کے لحاظ سے بھي اور عقلي و نقلي مدرک کے اعتبار سے بھي بے سرو پا ہوتا ہے اور ايک بابصيرت اور منطق و استدلال رکھنے والے سامع کے ذہن پر بھي مضر اثرات مرتب کرتا ہے۔بعض لوگوں نے کتابوں ميں کچھ ايسي باتيں لکھي ہيں جن کے جھوٹا ہونے کي کوئي دليل ہمارے پاس موجود نہيں۔ ممکن ہيں صحيح ہوں اور ممکن ہے غلط۔ ان کے جھوٹا ہونے پر کوئي دليل نہيں، ليکن جب آپ اس کو بيان کريں اور آپ کا سامع جو ممکن ہے ايک جوان ہو، ايک طالب علم ہو، ايک جانباز ہو، يا ايک انقلابي ہو (کہ بحمدا للہ انقلاب نے ذہنوں کو کھول ديا ہے) اس چيز کو آپ سے سنے اور ممکن ہے اس کي وجہ سے دين کے بارے ميں اس کے دل ميں کوئي شک و شبہ ايجاد ہو اور اس کے ذہن ميں ايک گرہ پڑجائے۔ لہذا کوئي ايسي بات نہيں کہني چاہئيے، حتيٰ اگر اس مفہوم کي سند بھي درست ہو ليکن کيونکہ يہ بات انحراف و گمراہي کا موجب ہے اس لئے اسے نہيں کہنا چاہئيے ،چہ جائيکہ ان ميں سے اکثر چيزيں درست سند بھي نہيں رکھتيں۔
ايک شخص کسي سے کوئي بات سنتا ہے، ايک نے نقل کيا ہے کہ ميں فلاں جگہ پر تھا ، فلاں سفر ميں فلاں واقعہ رونما ہوا خطيب نے کسي سند کے ساتھ يا بغير کسي سند کے يہ بات بيان کي اور سامع نے بھي اس پر يقين کرليا اور پھر اتفاق سے اس نے اسے کسي کتاب ميں بھي نقل کرديا،
ہم کيوں ايسي بات کہيں جو ايک بڑے مجمع اور ذي فہم اور باشعور شخص کے لئے قابل قبول نہ ہو؟ کيا انسان پر ہر وہ چيز بيان کردينا لازم ہے جو کہيں تحرير ہو؟آج يہ ہمارے معاشرے کا ايک تمدني بحران ہے۔

ہم انقلاب سے پہلے کہتے تھے کہ پڑھے لکھے جوان، ليکن آج پڑھے لکھے لوگ محض جوانوں تک محدود نہيں بلکہ جوانوں کے علاوہ بھي زن و مرد، لڑکے لڑکيوں کے اذہان روشن ہوچکے ہيں،وہ مسائل کو نگاہ بصيرت سے ديکھتے ہيں، سمجھنا چاہتے ہيں، ان لوگوں کو شبہات کا سامنا ہوتا ہے، يہ ہمارے زمانے کا تمدني بحران ہے، نہ صرف ہمارے دشمن بلکہ ہماري اور آپ کي فکر کے منکرين بھي شبہات پيدا کرتے ہيں،کيا يہ کہا جاسکتا ہے جو کوئي ہماري فکر کو قبول نہيں کرتا ،گونگا ہوجائے، زبان نہ کھولے اور کوئي شبہہ پيدا نہ کرے؟ (جب کہ دوسرے) شبہات پيدا کرتے ہيں، باتيں بناتے ہيں، مفاہيم پھيلاتے ہيں، شک و ترديد ايجاد کرتے ہيں، لہذا آپ ايسي چيز بولئیے جو شبہات کو دور کرے، ايسي بات نہ کيجئے جو شبہات ميں اضافہ کرے۔
بعض لوگ اِس اہم ذمہ داري پر توجہ کئے بغير بالائے منبر ايسي گفتگو کرتے ہيں، جو نہ صرف يہ کہ سامع کے ذہن ميں موجود کسي گرہ کو نہيں کھولتي بلکہ اس کے ذہن ميں مزيد گرہيں ڈال ديتي ہے، فرض کيجئے اگر ہم بالائے منبر ايک بات کہيں، جس سے دس، پانچ يا صرف ايک ہي جوان دين کے کسي مسئلے ميں شک و شبہ کا شکار ہوجائے، وہ چلا جائے اور ہم اسے پہچانتے نہ ہو، تو کس طرح اس کا ازالہ کريں گے؟ کيا کسي صورت اس کي تلافي ممکن ہے؟ کيا خدا ہميں معاف کردے گا؟ مشکل مسئلہ ہے۔
پس خطاب کو تين محوروں پر مشتمل ہونا چاہئيے، پہلا يہ کہ حسين ابن علي ٴ اور اہل بيت پيغمبر
۰ سے جذباتي لگاو ميں اضافہ کرے اور احساس و جذبات کے بندھن کو مضبوط کرے۔ دوسرے يہ کہ عاشورائ کے بارے ميں سامع کو ايک واضح اور روشن نظريہ دے اور تيسرے يہ کہ معارف ديني کے بارے ميں معرفت بھي پيدا کرے اور ايمان بھي ايجاد کرے۔
ہم يہ نہيں کہتے کہ ہر خطاب ميں لازماً يہ تمام چيزيں موجود ہوں، آپ اگر ايک معتبر کتاب سے ايک صحيح حديث نقل کرکے حديث ميں اس قدر گل کارياں کرتے ہيں کہ اس کے اصل معني ہي ختم ہوجاتے ہيں۔ اگر آپ اسي ايک حديث کے صحيح معني کريں تو ممکن ہے جو ہم چاہتے ہيں اس کا ايک بڑا حصہ اس ميں موجود ہو، اگر آپ ايک معتبر تفسيرسے ايک آيہ قرآن کو غور و فکر ، مطالعہ اور تجزيہ کے بعد بيان کريں تو مقصود حاصل ہوجائیگا،اور مصائب کے ذکر کے لئے مرحوم محدث قمي کي نفس المہموم کھول کر پڑھ ديجئے، آپ ديکھيں گے اس سے سامع پر گريہ طاري جائے گا، جذبات ميں ہيجان بپا ہو گا۔
کياضروري ہے کہ ہم اپنے خيال ميں مجلس جمانے کے لئے ايسے کام کريں جن سے مجلس عزائ اپنے اصل فلسفے ہي سے جدا ہوجائے؟ ميں حقيقتاً اس بات سے وحشت زدہ ہوں کہ کہيں ہم خدانخواستہ اس زمانے ميں جو کہ اسلام کے ظہور و نمو اور اسلام اور فکر اہل بيت ٴ کي تجلي کا دور ہے اپنے فريضے کو انجام نہ دے سکيں۔
ايک چيز ہے، جو لوگوں کو خدا اور دين سے نزديک کرتي ہے، يہ سنتي عزاداري ہے جو لوگوں کو دين کے قريب لاتي ہے۔ امام (خميني
۲) نے فرمايا ہے کہ ’’ سنتي عزاداري بپا کيجئے۔‘‘ مجالس ميں بيٹھنا ، مصائب پڑھنا ، گريہ کرنا ، سر و سينہ پيٹنا، عزاداري کے جلوس، ماتمي انجمنيں ، يہ تمام وہ چيزيں ہيں جو اہل بيت ٴکے لئے جذبات کو ابھارتي ہيں، جو ايک بہت اچھي چيز ہے۔
اس کے برخلاف ايک اور چيز ہے جو لوگوں کو دين سے منحرف کرديتي ہے، انتہائي افسوس کے ساتھ کہتا ہوں کہ گزشتہ تين چار برسوں ميں ايسے کاموں کا آغاز ہوا ہے جنہيں ميرے خيال ميں بعض (پوشيدہ) ہاتھ ہمارے معاشرے ميں ترويج دے رہے ہيں، جنہيں جو کوئي ديکھتا ہے اس کے ذہن ميں سوال ابھرتا ہے،قديم زمانہ ميں عوام الناس کے ايک طبقے کا معمول تھا کہ عزاداري کے ايام ميں اپنے جسم کو قفل لگاتے تھے، بزرگ علمائ نے اس کي مخالفت کي اور يہ رسم ختم ہوگئي، اب پھر اسے دوبارہ شروع کيا گيا ہے اور ميں نے سنا ہے کہ مختلف مقامات پر بعض لوگ قفل لگاتے ہيں، يہ کيا کام جسے بعض لوگ انجام ديتے ہيں؟ قمہ زني بھي اسي طرح ہے، قمہ زني بھي غلط کاموں ميں سے ہے،مجھے معلوم ہے کہ بعض لوگ کہيں گے کہ حقيقت يہ ہے کہ فلاں صاحب کو قمہ کا نام نہيں لينا چاہئيے تھا، آپ کو کيا ، چھوڑئيے، انہيں لگانے ديجئے۔
نہيں جناب! ايسا نہيں ہوسکتا، جس طرح گزشتہ چار پانچ برسوں اور جنگ (ايران عراق جنگ کي جانب اشارہ ہے) کے بعد قمہ زني کي ترويج کي جارہي ہے، اگر ايسا امام
۲ (خميني) کي حيات مبارکہ ميں ہوتا تو قطعي طور پر وہ اس کي مخالف ميں کھڑے ہوجاتے (حاضرين کا نعرہ تکبير) ۔ يہ ايک غلط عمل ہے کہ بعض لوگ قمہ ہاتھ ميں لے کر اپنے سر پر ماريں اور خون بہائيں، يہ کيا عمل ہے؟ کس طرح اس کام کو عزاداري ميں سے کہا جاسکتا ہے؟ قمہ سر پر مارنا عزاداري ہے؟
اگر آپ ديکھيں تو جن لوگوں کو مصيبت پيش آتي ہے وہ اپنا سر و سينہ پيٹتے ہيں،يہ ہے عزاداري ، آپ نے کہاں ديکھا ہے کہ ايک شخص اپنے محبوب ترين عزيز کے غم ميں اپني تلوار اپنے سر پر مارتا ہو اور اپنے سر سے خون بہاتا ہو، کس اعتبار سے يہ کام عزاداري ہے؟ يہ جعلي کام ہے، يہ وہ چيزيں ہيں جو دين کا حصہ نہيں ہے، بے شک خدا ان کاموں سے راضي نہيں ہے۔
علمائ سلف(گزشتہ) کے ہاتھ بندھے ہوئے تھے اور وہ يہ باتيں نہيں کہہ سکتے تھے، ليکن آج اسلام کي حاکميت اور اسلام کي تجلي کا زمانہ ہے، ہميں ايسے کام نہيں کرنے چاہئيں کہ اعليٰ اسلامي اقدار کا حامل ہمارا معاشرہ ، يعني محبان اہل بيت ٴ کا معاشرہ ، وہ معاشرہ جس کے لئے ولي عصرٴ (ارواحنا فداہ) حسين ابن علي ٴ اور امير المومنين ٴ کے اسمائے مبارک باعث افتخار ہيں ،مسلمانان عالم اور غير مسلموں کي نظر ميں ايک خرافات پرست اور بے منطق گروہ کے طور پر پہچانا جائے۔
ميں نے جس قدر سوچا ، غور و فکر کيا، اس نتيجے پر پہنچا کہ کسي طور ممکن نہيں کہ اس قطعي بات اور بدعت سے اپنے عزيز عوام کو آگاہ نہ کروں،يہ عمل انجام نہ ديجئے ميں قطعاً اس سے راضي نہيں، اگر کوئي قمہ زني کا مظاہرہ کرے تو ميں دلي طور پر اس سے ناراض ہوں، يہ جو ميں نے (مظاہرے والي بات) عرض کيا اس لئے ہے کہ کسي زمانے ميں کسي مقام پر چند لوگ جمع ہوتے تھے اور يہ کام کرتے تھے ، ايسا ايک گوشے ميں ہوتا تھا، کوئي انہيں نہيں ديکھتا تھا،ا س طرح مظاہرہ نہيں ہوتا تھا، لہذا کسي کو ان سے کوئي غرض بھي نہ تھي، اب يہ بات خواہ اچھي تھي يا بري ليکن ايک محدود دائرے ميں انجام پاتي تھي، ليکن جب يہ طے کيا جائے کہ چند ہزار لوگ اچانک تہران، قم، آذربائيجان کے کسي شہر يا خراسان کي کسي شاہراہ پر قمہ ہاتھوں ميں لئے ظاہر ہوں گے اور انہيں اپنے سر پر ماريں گے تو يہ بات قطعاً غلط ہے ،امام حسين ٴ اس کام سے راضي نہيں۔ مجھے نہيں معلوم اس کام کا آغاز کہاں سے ہوا اور کون سي ذہنيت اسے ہمارے اسلامي اور انقلابي معاشرے ميں لارہي ہے۔
حال ہي ميں زيارت کے حوالے سے ايک عجيب و غريب اور نا مانوس بدعت ايجاد کي گئي ہے، آپ ملاحظہ فرمائيے کہ پيغمبر
۰ اور آئمہ ہديٰ ٴکي قبور مطہر کي سب زيارت کرتے ہيں، پيغمبر اسلام ۰ اور امام حسين ٴ کے مزارات کي ہمارے آئمہ ٴ امام جعفر صادق ٴ، امام موسيٰ ابن جعفر ٴ اور بقيہ آئمہ ٴ زيارت کرتے تھے۔ ايران و عراق ميں آئمہ اہل بيت ٴ کي قبور مطہر کي ہمارے علمائ و فقہا زيارت کيا کرتے تھے ،کيا آپ نے کبھي سنا کہ علمائ يا آئمہ ٴ ميں سے کوئي جب زيارت کے لئے آتا ہے تو مزار کے صحن کے دروازے سے سينے کے بل چلتے ہوئے حرم ميں داخل ہوتا ہو؟
اگر يہ کوئي مستحسن ، مستحب ، اچھا م قابل قبول عمل ہوتا تو ہمارے بزرگ اسے انجام ديتے، ليکن انہوں نے ايسا نہيں کيا حتيٰ منقول ہے کہ عالم بزرگ ، قوي اور روشن فکر مجتہد آيت اللہ العظميٰ آقاي بروجردي (رضوان اللہ تعاليٰ عليہ )چوکھٹ کا بوسہ لينے سے بھي منع فرماتے تھے ، جب کہ شايد يہ ايک مستحب عمل ہو، شايد چوکھٹ کو چومنے کے بارے ميں روايات ميں بھي آيا ہے اور دعاو ں کي کتب ميں بھي ہے اور ميرے ذہن ميں بھي ہے کہ اس بارے ميں روايات موجود ہيں، گو يہ ايک مستحب عمل ہے ،اس کے باوجود کہا کرتے تھے کہ يہ کام نہ کيجئے کہ کہيں دوسرے خيال کريں کہ ہم آئمہ ٴ کي قبور مطہر کو سجدہ کرتے ہيں اور کہيں (اس بنيادپر ) دشمن شيعوں کے خلاف شک و شبہ ايجاد نہ کريں۔
اب بعض لوگ جوں ہي امام علي بن موسيٰ الرضا ٴ کے صحن مطہر ميں داخل ہوتے ہيں اپنے آپ کو گرا ليتے ہيں اور دو سو ميٹر کا فاصلہ سينے کے بل طے کرتے ہيں۔ کيا يہ عمل درست ہے؟ نہيں يہ غلط کام ہے ، دين اور زيارت کي اہانت ہے۔
کون ان چيزوں کو لوگوں کے درميان رائج کررہا ہے؟ کہيں ايسا تو نہيں کہ يہ دشمن کي کارستاني ہو؟ آپ کو يہ باتيں لوگوں کو بتانا چاہئيں اور ذہنوں کو روشن کرنا چاہئيے۔ دين اور اسلام، منطق پر مبني ہے اور اسلام کا منطقي ترين جز وہ تفسير ہے جو شيعہ، اسلام کے بارے ميں رکھتے ہيں۔ شيعہ متکلمين ميں سے ہر ايک اپنے زمانے ميں خورشيدِ تابناک کي مانند چمکتا تھا۔ کوئي يہ نہيں کہہ سکتا تھا کہ آپ کي منطق کمزور ہے، خواہ وہ آئمہٴ کا زمانہ ہو، جس ميں ’’ مومنِ طاق ‘‘ اور ’’ ہشام بن حکم ‘‘ (جيسے اصحاب آئمہٴ تھے) اور خواہ آئمہ ٴ کے بعد نبي نوبخت اور شيخ مفيد جيسے افراد ہوں اور خواہ ان کے بعد کے زمانے ميں مرحوم علامہ حلّي اور دوسرے لوگ ہوں۔ يہ سب کے سب اہل منطق و استدلال تھے۔ ہم اہل منطق و استدلال ہيں، آپ ديکھئے کہ شيعوں سے مربوط ابحاث ميں کتنے قوي استدلال پر مبني کتب تحرير کي گئي ہيں،ہمارے زمانے ميں مرحوم عبد الحسين شرف الدين کي کتابيں اور علامہ اميني کي الغدير سر تا پا استدلال اور سيسہ پلائي ہوئي ديوار کي مانند مستحکم ہيں۔
شيعيت يہ ہے، وہ نہيں جو نہ صرف استدلال نہيں رکھتيں بلکہ ’’ اشبہ شئي بالخرافہ ‘‘ (يعني خرافات سے زيادہ مشابہ) ہيں۔ ايسي چيزيں کيوں ہمارے معاشرے ميں داخل کي جارہي ہيں؟ يہ دين اور معارف ديني کے لئے وہ عظيم خطرہ ہے جس کي جانب عقيدے کي سرحدوں کے محافظوں کو متوجہ رہنا چاہئيے۔
ميں نے عرض کيا کہ ايک گروہ تک جب يہ باتيں پہنچيں گي تو وہ دل سوزي کے ساتھ کہے گا کہ اچھا ہوتا اگر فلاں ابھي يہ باتيں نہ کرتا۔
نہيں جناب ! مجھ پر لازم ہے کہ يہ باتيں کہوں، ميري ذمہ داري دوسروں سے زيادہ ہے۔ البتہ دوسرے حضرات کو بھي يہ باتيں کہني چاہئيں۔ آپ کو بھي کہني چاہئيں،امام خميني
۲
جہاں کہيں ايک بھي انحرافي نکتہ ديکھتے تو کمال قدرت کے ساتھ اور بے پرواہ ہو کر اس کے مقابل ڈٹ جاتے تھے، اگر يہ چيزيں ان بزرگوار کے زمانے ميں بھي ہوتيں يا اس سطح پر رائج ہوتيں تو بے شک وہ بھي يہي باتيں کرتے۔
ايک اور گروہ، جسے يہ چيزيں پسند ہيں اسے ان باتوں سے تکليف پہنچے گي کہ فلاں نے ہماري پسنديدہ چيزوں کے بارے ميں ايسي باتيں کيوں کيں؟ اور اس لہجہ ميں ان کا ذکر کيوں کيا، ان لوگوں ميں سے بھي اکثر مومنِ صادق اور بے غرض لوگ ہيں ليکن غلط فہمي ميں مبتلا ہيں۔
يہ ايک عظيم ذمہ داري ہے جو ہر علاقے اور ہر حصے ميں بسنے والے آپ علمائ و مبلغين پر عائد ہوتي ہے، امام حسين ٴ کي مجلس عزائ ايسي مجلس ہے جسے معرفت اور ان تين چيزوں کا مظہر ہونا چاہئيے جنہيں ميں نے عرض کيا۔
اميد ہے کہ خدا وند متعال آپ کو قدرت ، شجاعت ، جستجو اور سنجيدگي کے ساتھ ا نھيں بيان کرنے ميں کاميابي عطا فرمائے ،جو پروردگار عالم کي رضايت کا سبب ہيں۔
والسلام عليکم ورحمۃ اللہ


قيام حسيني ٴ کي ماہيت

’’ آيت اللہ العظميٰ سيد علي خامنہٰ اي نے ١٠ محرم ١٤١٦ ھ کو تہران يونيورسٹي ميں نماز جمعہ کے اجتماع ميں شريک عزاداران امام حسين ٴ کے سامنے يہ خطاب ارشاد فرمايا ۔‘‘
قال رسول اللہ : حسين مني و انا من الحسين و عنہ عليہ وعلي آلہ سلام
قال : حسين مصباح الھديٰ و سفينۃ النجاۃ

قيام حسيني ٴ کي ماہيت
تمام نمازي بھائيوں ، بہنوں اور خود آپ اپنے کو خوف خدا ، پرہيز گاري ، گناہوں سے اجتناب اور رضائے الہي کي طلب کي نصيحت و سفارش کرتاہوں ، کہ يہي زندگي کي روح اور اس کا مقصد ہے اور يہي چيزيں ہمارے لئے اس دنيا (آخرت) جن ميں ’’ لا ينفع مال ولا بنون ‘‘ (مال اور اولاد فائدہ نہيں پہنچائيں گے) اور اسي طرح اس دينوي زندگي ميں سعادت و سرخروي کا باعث ہيں۔
آج عاشورائ کے دن کي مناسبت سے ہم نے ’’ تحرک حسيني ٴ‘‘ کے بارے ميں گفتگو کا ارادہ کيا ہے۔ (خدا کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ ) ہماري پوري زندگي امام حسين ٴ کي ياد سے لبريز ہے۔ اس عظيم شخصيت کي تحريک کے بارے ميں بھي بہت کچھ کہا گيا ہے۔ ليکن عجيب بات ہے کہ اس کے باوجود انسان اس بارے ميں جتنا بھي غور و فکر کرے، تحقيق کرے ، مطالعے اور تفکر کا ميدان اتنا ہي وسيع ہوتا چلا جاتا ہے۔ اب تک بہت سي باتيں اس عظيم اور بے مثال سانحے کے بارے ميں موجود ہيں جن کے بارے ميں ہميں سوچنا اور سب کو بتانا چاہئيے۔
اس حادثے پر اگر نظر دوڑائيں تو اس روز سے لے کر جب کہ حضرت ابي عبداللہ الحسين ٴ مدينہ سے نکلے اور اس روز تک کہ جب وہ مکہ پہنچے، يہاں تک کہ کربلا ميں جام شہادت نوش فرمايا شايد ہم کہہ سکيں کہ اس چند مہينے کے سفر سے سو سے زيادہ اہم درس حاصل کئے جاسکتے ہيں۔ ميں يہ نہيں کہنا چاہتا تھا کہ ہزار ہا درس حاصل کئے جاسکتے ہيں۔ گو يہ کہنا بھي بے جا نہ ہوگا۔ ممکن ہے آپ ٴ کا ہر اشارہ ايک درس ہو۔ ليکن يہ جو ميں نے کہا کہ سو سے زيادہ درس تو يہ اس بنا پر ہے کہ اگر ان کاموں کا بغور مشاہدہ کريں تو ان سے سو عنوان حاصل کئے جاسکتے ہيں۔ جن ميں سے ہر ايک ، ايک ملت کے لئے، ايک تاريخ کے لئے ، ايک ملک کے لئے ، اپني تربيت کے لئے ، سماج کي رہنمائي کے لئے، خداوند عالم کا قرب حاصل کرنے کے لئے ايک درس ہے۔ يہي وجہ ہے کہ حسين ابن علي ٴ (ارواحنا فداہ اسمہ و ذکرہ)تمام مقدسين عالم کے درميان سورج کي سي آب و تاب کے ساتھ چمکے۔ يعني اگر ہم انبيائ ٴ ، اوليائ ، آئمہ ٴ ، شہدائ و صالحين کو چاند اور ستارے شمار کريں تو (ان کے درميان) آپ ٴ کي حيثيت سورج کي سي ہے، يہ تمام عظمت اسي بنائ پر ہے۔
يہ سو درس اس عمل کے ايک اصلي درس کے ہمراہ ہيں۔ ميري کوشش ہے کہ اگر ہوسکے تو آج آپ کے سامنے اس مسئلے کے اسي اصلي درس کي وضاحت کروں۔ وہ تمام حاشيہ ہيں اور يہ (درس) اصل متن ہے۔
وہ اصل درس يہ ہے کہ امام حسين ٴ نے کيوں قيام کيا؟
آپ ٴ مدينے ميں محترم ہيں، مکہ ميں آپ ٴ کا اتنا احترام کيا جاتا ہے۔ يمن ميں اتنے شيعہ ہيں، آپ ٴ کسي گوشے ميں چلے جائيے جہاں يزيد سے بھي کوئي سروکار نہ رکھئيے ، يزيد بھي آپ ٴ سے کوئي سروکار نہ رکھے ؟ آپ کے اتنے ارادت مند ہيں، اس قدر شيعہ ہيں، زندگي بسر کيجئے، تبليغ کيجئے۔ آخر آپ ٴ نے کيوں قيام کيا؟ مسئلہ کيا ہے؟
يہ ہے وہ اصلي سوال اور اصل درس
ميں نہيں کہتا کہ ابھي تک کسي نے اس بارے ميں کچھ نہيں کہا ہے۔ نہيں بلکہ انصاف کے ساتھ ديکھا جائے تو لوگوں نے (اس موضوع پر) بہت محنت و عرق ريزي سے کام ليا ہے، بہت کوشش کي ہے اور اس بارے ميں بہت باتيں کي گئي ہيں۔ اس وقت ہم جو يہاں بيان کررہے ہيں وہ ہماري نظر ميں اس مسئلے کے بارے ميں ايک مکمل اور جامع نظريہ اور ايک نيا طرز نگاہ ہے۔
بعض لوگ کہتے ہيں کہ امام حسينٴ چا ہتے تھے کہ يزيد کي فاسد حکومت کو ہٹا کر خود ايک حکومت تشکيل ديں۔
ابا عبد اللہ ٴ کے قيام کا مقصد يہ تھا۔
يہ بات آدھي صحيح ہے۔
ميں نہيں کہتا کہ غلط ہے۔
اگر اس بات سے ان کي مراد يہ ہے کہ امامٴ نے تشکيلِ حکومت کے لئے اس طرح قيام کيا کہ جب انھوں نے ديکھا کہ قيام نتيجہ خيز نہيں رہا ہے تو کہا کہ ٹھيک ہے کوئي بات نہيں ہے ہم واپس پلٹ جاتے ہيں۔
جو شخص حکومت کي نيت سے قيام کرتا ہے، وہ صرف اس وقت تک آگے بڑھتا ہے جب تک اسے کاميابي ممکن نظر آرہي ہو اگر وہ ديکھے کہ يہ کام ہونے والا نہيں ، يا عقلي طور پر ممکن نہيں ہے، تو اس کي ذمہ د اري يہ ہے کہ پلٹ جائے۔۔۔۔اگر اس کي ذمہ داري حکومت کي تشکيل ہے تو قيام کرنا اسي وقت اس کے لئے جائز ہے جب اس کے لئے حکومت کي تشکيل ممکن ہو، ليکن جہاں ممکن نہ ہو وہاں اسے پلٹ جانا چا ہيے۔۔۔۔ اگر وہ شخص جو کہتا ہے کہ امام حسين ٴ کے قيام کا مقصد حقانيت پر مبني علوي حکومت کي تشکيل ہے اور اس کي مراد يہ ہے تو نہيں، يہ صحيح نہيں ہے۔ اس ليے کہ مجموعي طور پر (امام حسين ٴ کي) اس حرکت ميں يہ نظر نہيں آتا (يہ بات ہماري گفتگو سے بعد ميں واضح ہوجائے گي)
بعض لوگوں نے اس کے بالکل برعکس نکتے کو اٹھايا ہے اور کہا ہے کہ جي نہيں جناب ، حکومت کيا چيز ہے؟ امام حسين ٴ جانتے تھے کہ حکومت تشکيل نہيں دے سکتے ، بلکہ وہ تو بنيادي طور پر شہيد ہونے کے لئے آئے تھے ۔۔۔۔۔۔ يہ بات بھي ايک مدت تک بہت مشہور اور رائج تھي اور بعض زبانيں اسے خوبصورت شاعرانہ تعبيرات کے ساتھ بيان کرتي تھيں۔ بعد ميں ميں نے ديکھا کہ ہمارے بعض بڑ ے بڑے علمائ نے بھي يہ فرمايا ہے۔ يہ کوئي نئي بات نہيں تھي کہ امام ٴ نے شہيد ہونے کے لئے قيام کيا کيونکہ وہ ديکھ رہے تھے کہ زندہ رہ جانے ميں بھي کوئي فائدہ نہيں ہے۔ لہذا چلنا چاہئيے اور شہادت کے ذريعے ہي کچھ کرنا چاہئيے۔ يہ بات بھي صحيح نہيں ہے۔ ہميں شرعي اسناد اور اسلامي مدارک ميں بھي يہ بات نظر نہيں آتي کہ جاو اور خود کو ہلاکت ميں ڈال دو۔ ہمارے پاس ايسي کوئي چيز نہيں، ہم شرع مقدس کي رو سے شہادت کے بارے ميں جو کچھ جانتے ہيں اور روايات اور قرآني آيات ميں اس بارے ميں جو علامات ملتي ہيں وہ يہ ہيں کہ انسان ايک مقدس ہدف (جو يا تو واجب ہو يا رائج) کے حصول کي کوشش کرے اور اس راستے ميں مارا جائے تو يہ صحيح اسلامي شہادت ہے۔۔۔۔۔۔ ليکن يہ کہ انسان بنيادي طور پر مرنے ہي کے لئے نکل کھڑا ہو کہ بقول ايک عالم کے ايک شاعرانہ تعبير ہے کہ ’’ تاکہ اس طرح ميرا خون ظالم کے پيروں کو ڈگمگا دے اور اسے زمين پر گرا دے گا۔‘‘
جي نہيں! وہ چيز جو اس سانحے کي عظمت کا سبب يہ نہيں، ہاں يہ بھي حقيقت کا ايک حصہ ہے ليکن امام ٴ کا ہدف نہيں۔۔۔۔۔۔
پس خلاصہ يہ کہ ہم يہ نہيں کہہ سکتے کہ امام حسين ٴ نے تشکيلِ حکومت کے لئے قيام کيا اور نہ ہي يہ کہہ سکتے ہيں کہ آپ ٴ کے قيام کا مقصد شہادت تھا۔
ايک اور چيز ہے کہ ميں انشائ اللہ کوشش کروں گا کہ اسے پہلے خطبے ميں بيان کردوں اور اس مسئلہ پر دوسرے خطبے ميں زيادہ بات نہ کروں گا۔ شايد ان شائ اللہ اسے بيان کرسکيں۔
مجھے يوں نظر آتاہے کہ وہ لوگ جنہوں نے کہا ہے کہ امام ٴ کا مقصد حکومت تھا يا مقصد شہادت تھا ان لوگوں کے ذہنوں ميں ہدف اور نتيجہ آپس ميں گڈ مڈ ہوگئے ہيں۔ (جبکہ) ايسا نہ تھا امام حسين ٴ کے سامنے ايک اور مقصد تھا اور اس ہدف کا حصول ايک ايسي حرکت اور ايسے راستے کا محتاج تھا جس کے دو ممکنہ نتائج حکومت يا شہادت تھے۔

البتہ امام ٴ دونوں نتائج کے لئے تيار تھے، انہوں نے حکومت کے مقدمات کو بھي آمادہ کيا اور کررہے تھے اور اسي طرح شہادت کے مقدمات کو بھي آمادہ کيا اور کررہے تھے۔ اپنے نفس کو اس کے لئے بھي وسعت دے رہے تھے اس کے لئے بھي۔ دونوں ميں سے جو نتيجہ بھي ملتا صحيح تھا۔ ليکن ان ميں سے کوئي بھي ’’ ہدف‘‘ نہيں تھا بلکہ دونوں نتيجے تھے۔ ہدف کچھ اور تھا۔
ہدف کيا تھا؟
پہلے ميں اس ہدف کو بطور خلاصہ ايک جملے ميں بيان کرتا ہوں بعد ميں کچھ وضاحت کروں گا۔
اگر ہم امام حسين ٴ کے ہدف کو بيان کرنا چاہيں تو ہميں يوں کہنا چاہئيے کہ ’’ امام ٴ کا ہدف واجبات دين ميں سے ايک ايسے عظيم واجب کو انجام دينا تھا جسے اس سے پہلے کسي نے بھي انجام نہيں ديا تھا۔‘‘
حتيٰ نہ پيغمبر اکرم
۰ سے اس واجب کو انجام ديا تھا، نہ اميرالمومنين ٴ نے اور نہ امام حسن مجتبيٰ نے۔ يہ ايک ايسا واجب تھا جسے اسلام کے بنيادي ، فکري اور عملي نظام ميں ايک بہت اہم مقام حاصل ہے۔ باوجود اس کے کہ يہ واجب زيادہ اہم ہے، بہت ہي بنياد حيثيت رکھتا ہے ليکن امام حسين ٴ کے زمانے تک کسي نے اسے انجام نہيں ديا تھا ۔ کيوں ؟ ميں ابھي عرض کرتا ہوں کہ کيوں انجام نہيں ديا گيا تھا۔
امام ٴ کو اس واجب پر عمل کرنا تھا تاکہ پوري تاريخ کے لئے ايک درس بن جائے، جيسے پيغمبر اکرم
۰ نے حکومت تشکيل دي اور تشکيل حکومت پوري اسلامي تاريخ کے لئے ايک درس بن گئي ، وہ صرف اس کا حکم نہيں لائے۔ يا خدا کے رسول ۰ نے جہاد في سبيل اللہ کيا اور يہ پوري امت مسلمہ اور تمام بشريت کي تاريخ کے لئے بھي ہميشہ کے لئے ايک درس بن کر رہ گيا۔ يہ واجب امام حسين ٴ کے ذريعے انجام پانا تھا تاکہ مسلمانوں بلکہ پوري تاريخ کے لئے ايک درس بن جائے۔
اب سوال يہ پيش آتا ہے کہ آخر امام حسين ٴ ہي کيوں اس کام کو انجام ديں ۔۔ ۔۔؟ اس لئے کہ اس واجب کو انجام دينے کا موقع ہي ان کے زمانے ميں پيش آيا، اگر يہ موقع امام حسين ٴ کے زمانے ميں پيش آنے کے بجائے مثلاً امام علي النقي ٴ کے زمانے ميں پيش آتا، تو وہ بھي يہي کام انجام ديتے تو امام علي نقي ٴ حادثہ عظيم ، ذبح عظيم اور تاريخ اسلام ہوجاتے۔ اگر امام حسن مجتبيٰ کے دور ميں پيش آتا تو وہ بزرگوار يہي کرتے۔ اگر امام صادق ٴ کے دور ميں پيش آتا تو وہ بھي يہي کرتے۔ (يہ موقع) امام حسين ٴ سے قبل کے زمانے ميں بھي پيش نہ آيا، ان کے بعد بھي پيش نہ آيا، دوسرے آئمہ ٴ کے دور ميں اور دورانِ غيبت ميں بھي پيش نہ آيا، امام حسين ٴ کے زمانے ميں پيش آيا۔
پس (امام حسين ٴ کا) ہدف اس واجب کو انجام دينا تھا جس کي ابھي ہم وضاحت کريں گے۔ا س وقت اس واجب کي ادائيگي دو ميں سے کسي ايک نتيجے کا سبب بنتي۔ جو شخص اس واجب کو ادا کرتا وہ يا تو حکومت تک پہنچ جاتا، خوش آمديد ، امام حسين ٴ حاضر تھے۔ اگر امام حسين ٴ قدرت حاصل کرليتے تو زمام کار اپنے ہاتھ ميں لے کر پيغمبر اسلام
۰ اور امير المومنين ٴ کي مانند معاشرے کا انتظام و انصرام چلاتے۔ ليکن اگر حکومت تک نہ پہنچتے اور شہيد ہوجاتے، تو آپ ٴ اس کے لئے بھي تيار تھے۔ خداوندِ عالم نے امام حسين ٴ کو اور آئمہٴ کو اس طرح خلق کيا ہے کہ وہ شہادت کے بارِ گراں کو برداشت کرسکيں اور انہوں نے اسے برداشت بھي کيا اور اب مصائب کربلا کي داستان ايک اور عظيم باب ہے۔
يہ پوري بات کا خلاصہ تھا، اب ميں اس مسئلہ کي تھوڑي وضاحت کرتا ہوں۔
ديکھئے ميرے عزيز نمازي بھائيو اور بہنو ! پيغمبر اکرم
۰ سميت ہر پيغمبر احکام کا ايک مجموعہ اپنے ساتھ لے کر آتا ہے۔ ان ميں سے بعض احکام انفرادي ہوتے ہيں، اس لئے ہوتے ہيں کہ انسان خود اپني اصلاح کرے اور بعض احکام اجتماعي ہوتے ہيں تاکہ انسان کي زندگي اور انسان کي دنيا کا انتظام و انصرام کريں، انساني سماج کو تشکيل ديں۔ احکام کے اس مجموعے کو اسلامي نظام کہتے ہيں۔
اسلام رسول اکرم
۰ کے مقدس قلب پر نازل ہوا اور نماز ، روزہ ، زکوۃ ، انفاق ، حج ، گھريلو اور نجي روابط کے احکام لے کر آيا۔ اس کے بعد جہاد في سبيل اللہ ، اسلامي حکومت کي تشکيل ، اسلامي اقتصاد ، حاکم اور عوام کے روابط اور حکومت کے مقابلے ميں عوام کي ذمہ داريوں کو لے کر آيا۔ اس پورے مجموعے کو اسلام نے بشريت کے لئے پيش کيا اور ان سب کو رسول اللہ ۰ نے بيان فرمايا ’’ ما من شئي يقربکم الي الجبۃ و يبعدکم من النار الاوقد عبرتکم بہ‘‘
وہ تمام چيزيں جو ايک انسان کو ، ايک انساني معاشرے کو فائدہ پہنچاتي ہيں ان سب کو پيغمبر اکرم
۰ نے بيان کرديا ہے۔ نہ فقط کيا ہے بلکہ ساتھ ساتھ ان سب پر عمل بھي کرکے دکھايا ہے۔ رسول اکرم ۰ کے زمانے ميں اسلامي حکومت تشکيل پائي، اسلامي معاشرہ قائم ہوا، اسلامي اقتصاد کو عملي جامہ پہنايا گيا، اسلامي جہاد انجام ديا گيا۔ اسلامي زکوۃ لي گئي اور ايک اسلامي مملکت بن گئي، ايک اسلامي نظام وجود ميں آگيا۔ اس نظام کو تشکيل دينے والے رسول اللہ ۰ تھے يا ان کے جانشين۔ اس راستے پر اس قافلے کے رہبر رسول اللہ ۰ ہيں يا وہ جو ان کي جگہ کو سنبھاليں، راستہ روشن و معين ہے، اسلامي معاشرے اور ہر مسلمان کو اسي راستے پر چلنا چاہئيے، اب اگر وہ اسي راستے پر چلتے رہيں تو انسان کمال تک پہنچ جائيں گے، تمام انسان صالح ہوجائيں گے، لوگوں کے درميان سے ظلم و ستم کا قلع قمع ہوجائے گا۔ برائياں ختم ہوجائيں گي۔ فساد کا خاتمہ ہوگا، اختلاف و انتشار دم توڑ دے گا ، فقر و فاقہ نابود ہوجائے گا، جہالت ناپيد ہوجائے گي اور بشر بد بختي سے نجات پاجائے گا اور اس طرح وہ خدا کا کامل بندہ بن جائے گا۔
اسلام اس نظام کو رسول اللہ
۰ کے ذريعے لے کر آيا، اسے پہلے مدينہ ميں ايک چھوٹے سے معاشرے ميں نافذ کيا اور اس کے بعد آہستہ آہستہ اس کو وسعت دي اور مکہ اور دوسرے شہروں ميں پھيلا ديا۔
ايک سوال يہاں باقي رہ جاتا ہے اور وہ يہ کہ قافلہ جسے رسول اللہ
۰ نے ايک راہ پر لگايا ہے، اگر ايک حادثہ يا واقعہ رونما ہوجائے جو اسے اس کي راہ سے ہٹا دے تو اب کيا فريضہ ہے۔۔۔۔؟ اگر اسلامي معاشرہ اپنے راستے سے منحرف ہوجائے اور يہ انحراف اتنا زيادہ ہوکہ پورے اسلام و اسلامي معارف کے انحراف کا خطرہ پيدا ہوجائے (تو کيا کيا جائے)۔۔۔۔ کيونکہ انحراف دو قسم کے ہيں۔ ايک مرتبہ لوگ فاسد ہوجاتے ہيں (ايسا بہت ہوتا ہے) ليکن اسلامي احکام ميں کوئي انحراف يا تبديلي واقع نہيں ہوتي اس کے برخلاف ايک مرتبہ يہ ہوتا ہے کہ لوگ تو فاسد ہوتے ہي ساتھ ساتھ حکومتيں بھي فساد کا شکار ہوجاتي ہيں۔ علمائ بھي فاسد ہوجاتے ہيں، دين بتانے والے بھي فاسد ہوجاتے ہيں۔ فاسد افراد سے کبھي بھي صحيح دين صادر نہيں ہوسکتا۔ وہ قرآن ميں تحريف کرتے ہيں، حقائق ميں تحريف کرتے ہيں، اچھائي کو برائي بناديتے ہيں، برائي کو اچھائي بناديتے ہيں، منکر کو معروف کو منکر کرديتے ہيں، اسلام کي دکھائي ہوئي راہ کو بالکل برعکس سمت ميں موڑ ديتے ہيں۔
اگر اسلامي معاشرہ ايسے مقام پر جا پہنچے تو اس وقت کيا ذمہ داري ہے؟
البتہ رسول اللہ
۰ نے بتاديا تھا کہ کيا ذمہ داري ہے۔ قرآن نے بھي بيان کرديا ہے کہ ايسے موقع پر کيا فرض عائد ہوتا ہے۔۔۔۔؟ من يرتد منکم عن دينہ فسوف ياتي اللہ بقوم يحبھم و يحبونہ ‘‘ (سورہ مائدہ ٥۔ آيت ٥٤) اور اس کے علاوہ متعدد آيات و روايات اس بارے ميں موجود ہيں۔ خود يہ روايت بھي جسے ميں امام حسين ٴ کي زباني نقل کررہا ہوں جسے امام ٴ نے لوگوں کے سامنے پيش کيا۔
ليکن کيا خود پيغمبر اسلام
۰ اس حکم الہي پر عمل کرسکے تھے ۔۔۔ ؟ نہيں ۔ اس لئے کہ يہ حکم الہي فقط اسي وقت قابل عمل ہے جب معاشرہ منحرف ہوجائے۔۔۔ اگر معاشرہ منحرف ہوجائے تو ايک کام کرنا چاہئيے ، خداوند عالم نے اس بارے ميں ايک حکم ديا ہے۔ ان معاشروں ميں جن ميں اس حد تک انحراف واقع ہوجائے کہ پورا اسلام خطرے ميں پڑجائے تو خداوند متعال نے سب پر ايک ذمہ داري عائد کي ہے۔ کيونکہ خدا کسي بھي مسئلے ميں انسان کو بغير ذمہ داري کے نہيں چھوڑ سکتا۔ اس تکليف و ذمہ داري کو رسول اللہ ۰ نے بيان فرديا ہے، قرآن و حديث نے بھي بتاديا ہے۔ ليکن پيغمبر ۰ اس پر عمل نہيں کرسکے تھے، اس پر اسي وقت عمل ہوسکتاہے جب معاشرہ اس حد تک منحرف نہيں ہوا تھا، امام حسن ٴ کے زمانے ميں بھي کہ جب معاويہ تختِ حکومت پر براجمان تھا، اگرچہ انحراف کي بکثرت علامات ظاہر ہوچکي تھيں ليکن وہ اس حد تک نہيں پہنچا تھا کہ پورے اسلام کے ختم ہوجانے کا خوف لاحق ہوجائے۔ ممکن ہے کہا جائے کہ ايک زمانے ميں انحراف اس حد تک پہنچ گيا تھا، ليکن اس وقت موقع مناسب نہيں تھا، اس کام کے لئے حالات سازگار نہ تھے۔
يہ حکم جو احکام اسلامي کے مجموعے کا ايک جز ہے اس کي اہميت خود حکومت سے کم نہيں ہے۔ کيونکہ حکومت يعني معاشرے کا انتظام و انصرام ۔ اب اگر يہ معاشرہ تدريجاً اپنے راستے سے ہٹ جاتا ہے، فاسد ہوجاتا ہے، حکم خدا تبديل ہوجاتا ہے اور ہمارے پاس حالات کو تبديل کرنے اور تجديد حيات کا حکم نہيں ہوتا۔ يا آج انقلاب کي تعبيرکے مطابق ، ہمارے پاس انقلاب کا اور تجديد حيات کا حکم نہ ہو تو يہ حکومت جو اسلام کے نام پر وجود ميں آئي تھي اور اب فاسد ہوگئي اور اپنے راستے سے ہٹ گئي ہے کس درد کي دوا ہے؟
پس وہ حکم جو منحرف معاشرے کو اپنے اصلي راستے پر پلٹانے کے لئے آيا ہے اس کي اہميت کسي طرح بھي خود تشکيل حکومت کے حکم سے کم نہيں ہے۔ شايد يہاں تک کہا جاسکے کہ اس کي اہميت اسلامي معاشرے کو کئے جانے والے ايک عام امر بالمعروف و نہي عن المنکر سے بھي زيادہ ہے، حد يہ ہے کہ شاہد ہم يہ بھي کہہ سکيں کہ يہ عمل خدا کي بڑي بڑي عبادتوں اور حج سے بھي زيادہ اہميت کا حامل ہے۔
کيوں ۔۔۔۔ ؟ اس لئے کہ يہ حکم در حقيقت اس حال ميں اسلام کي حيات کي ضمانت ہے جب وہ اگلے ہي لمحہ مرنے والا ہو ، يا مر کر نابود ہوچکا ہو۔۔۔۔
اچھا ، اب سوال يہ پيش آتا ہے کہ اس حکم کي بجا آوري کس پر لازم ہے؟ اس فريضے کي ادائيگي کس پر ضروري ہے؟ پيغمبر
۰ کے اس جانشين پر جو اس زمانہ ميں موجود ہو جب يہ انحراف وجود ميں آيا ہے۔ ليکن اس شرط کے ساتھ کہ اسے سازگار مواقع حاصل ہوں۔ کيونکہ خداوندِ عالم اپنے بندوں پر کسي ايسي ذمہ داري کو عائد نہيں کرتا جس کا کوئي فائدہ نہ ہو۔ اگر مناسب موقع نہ ہو تو جو کام بھي کيا جائے بے سود ہوگا، غير موثر ہوگا۔ لازم ہے کہ مناسب موقع ہو۔ البتہ مناسب موقع ہونے کے ايک دوسرے معني بھي ہيں۔ اس کے معني يہ نہيں کہ کيونکہ خطرہ ہے اس لئے مناسب موقع نہيں۔۔۔ نہيں ، يہاں يہ مراد نہيں۔ مناسب موقع ہونے کے معني يہ ہيں کہ انسان کو معلوم ہو کہ جو کام وہ انجام دے رہا ہے اس کا نتيجہ برآمد ہوگا، يعني لوگوں تک اس کا پيغام پہنچے گا، لوگ جان ليں گے ، غلط فہمي کا شکار نہ رہيں گے۔ يہ وہ ذمہ داري ہے جس کي انجام دہي ايک فرد پر ضروري ہے۔
اب جب کہ امام حسين ٴ کے زمانے ميں وہ انحراف بھي وجود ميں آگيا ہے اور وہ موقع بھي پيدا ہوگيا ہے۔ پس حسين ٴ کے لئے ضروري ہے کہ وہ قيام کريں۔
انحراف پيدا ہوچکا ہے۔ يعني معاويہ کے بعد ايک ايسا شخص برسرِ حکومت آيا ہے جو حد تو يہ ہے کہ اسلام کي ظاہري باتوں کي پابندي کو بھي ملحوظ نہيں رکھتا۔ شراب پيتاہے، حرام کاموں کا مرتکب ہوتا ہے، کھلم کھلا انحراف کا شکار ہے، قرآن کي مخالفت ميں بولتا ہے، قرآن اور دين کے خلاف شعر کہتا ہے ، علانيہ اسلام کي مخالفت کرتا ہے۔ چونکہ مسلمانوں کا سربراہ ہے اس لئے اسلام سے نسبت کو ختم نہيں کرسکتا ، وگرنہ اسلام پر عمل پيرا نہيں، اسلام سے لگاو نہيں رکھتا، اسلام کے بارے ميں دلسوزي نہيں رکھتا۔ بلکہ اس کا عمل اس گندے پاني کے چشمے کي مانند ہے جس سے رسنے والا پاني پورے تالاب کو گندہ کررہا ہو۔ اس کے وجود سے خارج ہونے والا گندہ پاني پورے اسلامي معاشرے کو گندگي سے بھر دے گا۔۔۔۔۔ فاسد حاکم اسي طرح ہوتا ہے۔
حاکم پہاڑ کي چوٹي کي مانند ہے لہذا جو کچھ اس سے صادر ہوگا وہ وہيں نہيں رہے گا بلکہ پورے پہاڑ پر پھيل جائے گا۔ عام آدمي کا معاملہ اس کے برخلاف ہے وہ جو کچھ بھي ہوتا ہے اپنے ہي ميں رہتا ہے۔ البتہ جو جتنا بلند مرتبہ رکھتا ہے اور معاشرے ميں جس قدر اعليٰ مقام پر فائز ہوتا ہے اسي قدر اس کے فساد کا نقصان زيادہ ہوتا ہے۔ عام آدميوں کا فساد ميں مبتلا ہونا خود ان کے لئے ضرر رساں ہوتا ہے۔ ممکن ہے ان کے نزديکي ايک دو افراد کے فساد ميں مبتلا ہونے کا موجب ہو۔ ليکن ايسا شخص جو سربراہي کے منصب پر فائز ہو اور فاسد ہو تو اس کا فساد بڑھتا ہے اور پوري فضا کو آلودہ کرديتا ہے۔ اسي طرح اگر وہ صالح ہو تو اس کي صالحيت پھيلتي ہے اور پورے ماحول کو لبريز کرديتي ہے۔
معاويہ کے بعد ايک فاسد شخص خليفہ مسلمين ہوا ہے ۔۔۔۔۔
پھر اس انحراف سے بڑھ کر يہ کہ (قيام کے لئے) زمين بھي ہموار ہے۔
زمين ہموار ہے يعني کيا مطلب ۔۔۔ ؟ يعني کيا خطرہ موجود نہيں؟
کيوں نہيں خطرہ تو ہے۔ کيا ممکن ہے کہ جو اس قدر طاقت و قدرت کا مالک ہو وہ اپنے مخالفوں کے لئے خطرات پيدا نہ کرے۔ خوب ، پتہ چلا کہ جنگ کا امکان ہے، آپ ٴ چاہتے ہيں کہ اسے تختِ حکومت سے نيچے گھسيٹ ليں۔ تو کيا وہ بيٹھا آپ کا تماشا ديکھا کرے گا۔ ظاہر ہے وہ بھي آپ پر ضرب لگائے گا۔ پس معلوم ہوا کہ خطرہ ہے۔
يہ جو ہم نے کہا کہ موقع مناسب ہے تو اس کے معني يہ ہيں کہ اسلامي معاشرے کي فضا ايسي ہے کہ امام حسين ٴ کا پيغام اسي زمانے يا طول تاريخ ميں بکھرے ہوئے انسانوں تک پہنچ جائے گا۔
اگر امام حسين ٴ معاويہ کے دور ميں قيام کرنا چاہتے تو آپ ٴ کا پيغام دفن ہوجاتا۔ يہ اس بنائ پر ہے کہ معاويہ کے دور ميں حکومت کي نوعيت کچھ اسي قسم کي تھي۔ ميں اس وقت اس بات کي وضاحت نہيں کرنا چاہتا۔ ايسي سياست تھي کہ لوگ سچائي کو سننے کي سکت نہ رکھتے تھے۔ يہي وجہ ہے کہ امام حسين ٴ معاويہ کے دور اقتدار ميں دس سال امام رہے ليکن کچھ نہ کہا۔ کوئي اقدام نہ کيا۔ کوئي قيام نہ کيا۔ کيونکہ اس زمانے کے حالات سازگار نہ تھے۔ ان سے پہلے امام حسن ٴ تھے ليکن انہوں نے بھي قيام نہ کيا۔ کيونکہ حالات سازگار نہ تھے۔ ايسا نہ تھا کہ امام حسن ٴ (نعوذ باللہ ) اس کام کے اہل نہ تھے۔ حسن ٴ اور حسين ٴ ميں کوئي فرق نہيں۔ امام حسين ٴ اور امام سجاد ٴ ميں کوئي فرق نہيں، امام حسين ٴ ، امام علي نقي اور امام حسن عسکري عليہم السلام ميں کوئي فرق نہيں ہے۔
البتہ اب جب کہ امام حسين ٴ نے يہ مجاہدت کي تو ان کا مقام ان سے بلند ہے جنہوں نے يہ کام نہيں کيا۔ ليکن مقام امامت کے اعتبار سے سب يکساں ہيں، جس امام ٴ کو بھي يہ حالات پيش آتے وہ يہي کرتا اور اسي مقام پر پہنچتا۔
پس امام حسين ٴ اس انحراف کے زمانے ميں تھے تو ان پر لازم ہے کہ يہ فريضہ انجام ديں۔ جب کہ حالات بھي سازگار ہيں۔ پس اب کوئي عذر موجود نہيں۔ لہذا جب عبداللہ بن جعفر، محمد بن حنفيہ، عبد اللہ بن عباس ، يہ لوگ جو عام افراد معاشرہ نہ تھے، يہ سب دين شناس تھے۔ عارف ، عالم، بافہم افراد تھے ، يہ جب امام ٴ سے کہتے ہيں کہ خطرہ ہے، نہ جائيے۔ يہ کہنا چاہتے تھے کہ جب ذمہ داري کي ادائيگي کي راہ ميں خطرہ ہو تو ذمہ داري ختم ہوجاتي ہے۔ وہ نہيں جانتے تھے کہ يہ ذمہ داري وہ ذمہ داري نہيں جو خطرے کي وجہ سے ختم ہوجاتي ہے۔ خطرہ ہو تو ، اس ذمہ داري کي ادائيگي ہميشہ پر خطر ہے۔
کب ممکن ہے کہ انسان حسبِ ظاہر اس قدر طاقتور قوت کے مقابل قيام کرے اور اسے خطرہ نہ ہو۔ کيا ايسا ہوسکتا ہے۔۔۔ ؟ يہ ذمہ داري ہميشہ پر خطر ہے۔ امام خميني
۲ سے بھي لوگوں نے کہا تھا کہ جناب آپ شاہ کے مقابلے پر ہيں، يہ خطرناک بات ہے ۔ کيا امام کو معلوم نہ تھا کہ خطرہ ہے۔۔۔؟ امام واقف نہ تھے کہ شاہ کي پوليس لوگوں کو گرفتار کرليتي ہے، مار ڈالتي ہے۔ اذيتيں ديتي ہے، اس کے دوستوں کو مار ڈالتي ہے، جلا وطن کرديتي ہے ، کيا يہ باتيں امام نہ جانتے تھے؟
کيوں نہيں، اچھي طرح جانتے تھے۔ جو کام امام حسين ٴ کے زمانے ميں انجام ديا گيا، اس کا ايک چھوٹا سا نمونہ امام خميني
۲ کے زمانے ميں انجام پايا۔ وہاں اس کا نتيجہ شہادت کي صورت ميں ظاہر ہوا۔ يہاں حکومت اسلامي کي صورت ميں ۔ يہ وہي بات ہے اس ميں کوئي فرق نہيں۔ امام حسين ٴ کا ہدف اور امام خميني ۲ کا ہدف ايک ہي تھا ۔ (حاضرين کے نعرے)
ہم چاہتے ہيں کہ آپ اس بحث کو خوب اچھي طرح سنيں اور ان مفاہيم کو ذہن نشين رکھيں۔ ہم نہيں چاہتے کہ يونہي وقت گزاري کي جائے۔ مذکورہ مفاہيم معارف حسيني ٴ کي اساس ہيں اور معارف حسيني ٴ معارف شيعہ کا ايک عظيم حصہ ہيں۔ يہ بحث تمام ابحاث کي ستون ہے اور يہ خود اسلام کا ايک ستون ہے۔ البتہ اگر کسي وقت آپ نعرہ لگانا چاہتے ہيں تو ميں اس کا مخالف نہيں ليکن ميري خواہش يہ ہے کہ آپ غور سے سنيں تاکہ مفاہيم بے ربط نہ ہوجائيں۔ پس (امام حسين ٴکا) ہدف عبارت ہوا اسلام کو اس کي صحيح راہ پر پلٹانا، اسلامي معاشرے کو راہ راست پر لگانا ۔ کب ۔۔۔۔؟ جب راہ تبديل ہوگئي ہو اور کسي کي جہالت ، ظلم ، استبداد اور خيانت نے مسلمانوں کو منحرف کرديا ہو ۔ (يہ ايک بات ہے) (پھر) ميدان بھي ہموار ہے۔ شرائط بھي آمادہ ہيں۔ البتہ دوران تاريخ ميں مختلف اوقات پائے جاتے ہيں۔ کبھي حالات سازگار ہوتے ہيں اور کبھي سازگار نہيں ہوتے۔ امام حسين ٴ کے زمانے ميں حالات سازگار تھے، ہمارے زمانے ميں بھي آمادہ تھے۔ امام خميني
۲
نے وہي کام کيا ۔ جيسا کہ ہم نے عرض کيا۔ ہدف و مقصد ايک ہي تھا۔ جب انسان اس مقصد کي جستجو ميں بڑھتا ہے اور حکومت اور باطل کے مرکز کے خلاف قيام کرنا چاہتا ہے۔ اس مقصد کے لئے (جہاد کرنا چاہتا ہے) کہ اسلام ، سماج اور اسلامي نظام کو اپنے صحيح مرکز پرپلٹائے، تو کبھي وہ اپنے قيام کے نتيجے ميں حکومت تک پہنچ جاتا ہے۔ يہ اس کي ايک صورت ہے۔ بحمد للہ ہمارے زمانے ميں ايسا ہي ہوا اور اسلامي حکومت قائم ہوگئي۔ ليکن کبھي کسي موقع پر اس قيام کا نتيجہ حکومت اسلامي کے قيام کي صورت ميں نہيں نکلتا بلکہ شہادت کي صورت ميں سامنے آتا ہے۔ کيا اس صورت ميں (قيام) واجب نہيں۔۔۔؟ کيوں نہيں۔۔۔۔ اگر نتيجہ شہادت کي صورت ميں بھي نکلے تب بھي واجب ہے۔
کيا نتيجہ شہادت کي صورت ميں ظاہر ہونے پر قيام کا کوئي فائدہ نہيں؟
کيوں نہيں، (تشکيل حکومت يا شہادت ہر دو صورتوں ميں) کوئي فرق نہيں پڑتا۔
يہ قيام يہ تحريک ہر دو صورتوں ميں فائدہ مند ہے۔ خواہ نتيجہ شہادت نکلے يا حکومت۔ ہم کہہ سکتے ہيں کہ دونوں نتائج ايک طرح سے (عليحدہ عليحدہ) مفيد ہيں۔ (لہذا لازم ہے کہ فريضہ) انجام ديا جائے، حرکت کي جائے اور يہ وہ کام تھا جسے امام حسين ٴ نے انجام ديا۔

ہم کہہ سکتے ہيں کہ امام حسين ٴ نے اولين بار اس حرکت کو انجام ديا، ان سے قبل اسے انجام نہ ديا گيا تھا۔ کيوں۔۔۔۔؟ اس لئے کہ ان سے قبل يہ حالات پيدا نہ ہوئے تھے۔ پيغمبر اسلام ۰ اور اميرالمومنين ٴ کے دور ميں يہ انحراف وجود ميں نہ آيا تھا اور اگر ايسا موقع اور انحراف وجود ميں آيا بھي تھا تو(قيام کے لئے) حالات سازگار نہ تھے۔ امام حسين ٴ کے زمانے ميں دونوں چيزيں موجود تھيں۔ يہ امام حسين ٴ کي تحريک کے باب ميں بنيادي مسئلہ ہے۔
پس ہم (اپني گفتگو کا) اس طرح سے خلاصہ کرسکتے ہيں کہ امام حسين عليہ السلام نے قيام کيا تاکہ اس عظيم واجب کو ادا کريں جو اسلامي نظام اور اسلامي سماج کي تعمير نو، يا اسلامي معاشرے ميں اٹھنے والے عظيم انحراف کے خلاف قيام سے عبارت ہے۔
يہ (جدوجہد) قيام کے طريقوں ميں سے ہے، امر بالمعروف کے طريقوں ميں سے ہے بلکہ خود امر بالمعروف و نہي عن المنکر کا ايک بڑا مصداق ہے۔ البتہ يہ کام، جيسا کہ ميں نے عرض کيا کبھي اس کا نتيجہ حکومت کي صورت ميں بر آمد ہوتا ہے۔ اما م حسين ٴ اس کے لئے آمادہ تھے اور کبھي نتيجہ شہادت کي صورت ميں (نکلتا ہے) امام حسين ٴ اس کے لئے بھي تيار تھے۔ ميں اس مطلب کو جس دليل کي بنياد پر پيش کررہا ہوں، اسے ہم خود امام حسين ٴ کے کلمات سے اخذ کرتے ہيں۔ ميں نے يہاں امام حسين ٴ کے کلمات ميں سے چند ايک کو منتخب کيا ہے، البتہ اس سے کہيں زيادہ کلمات موجود ہيں جو سب کے سب يہي معني بيان کرتے ہيں۔
سب سے پہلے مدينہ ميں اس رات جب حاکم مدينہ وليد بن عتبہ نے آپ ٴ کو طلب کيا اور کہا کہ معاويہ دنيا سے کوچ کرچکا ہے اور اب آپ ٴ کو بيعت کرنا ہے۔ حضرت ٴ نے اس سے فرمايا
’’ ننظرو و تنظرون اينا احق بالخلافۃ‘‘
’’ صبح تک ديکھتے ہيں۔ جاتے ہيں، سوچتے ہيں اور ديکھتے ہيں کہ ہميں خليفہ ہونا چاہئيے يا يزيد کو۔‘‘
اگلے روز سر راہ مروان سے آپ ٴ کي ملاقات ہوئي تو اس نے آپ ٴ کو مخاطب کرکے کہا۔
’’ اے حسين ٴ ! آپ ٴ کيوں خود کو موت کے منہ ميں ديتے ہيں ، کيوں خليفہ کي بيعت نہيں کرليتے، اپنے قتل کا سامان نہ کريں، خود کو مشکل ميںمت ڈاليں۔‘‘
امام حسين ٴ نے اس کے جواب ميں يہ فقرہ ارشادہ فرمايا ۔
’’ انا للہ وانا اليہ راجعون وعلي الاسلام السلام اذقد بليت الامہ براع مثل يزيد ۔‘‘
’’ اگر مسلمانوں پر يزيد جيسا حاکم حکمراں ہو تو اسلام پر سلام بھيجنا چاہئيے‘اس کا خدا ہي حافظ ہو۔‘‘
آپ ٴ اشارہ فرمارہے تھے کہ انحراف کا يہ خطرہ انتہائي سنگين ہے، مسئلہ اسلام کي بنيادوں کے خطرے ميں مبتلا ہوجانے کا ہے۔
مکہ سے نکلتے ہوئے اس وصيت ميں ، البتہ امام حسين ٴ نے مدينہ سے نکلتے وقت اور مکہ سے بھي نکلتے وقت محمد بن حنفيہ سے گفتگو کي تھي، ميرے خيال ميں يہ وصيت اس وقت کي گئي جب آپ ٴ نے ماہ ذي الحجہ ميں مکہ سے نکلنا چاہا اور محمد بن حنفيہ بھي وہاں آئے ہوئے تھے اور وہاں بھي انہوں نے حضرت ٴ سے گفتگو کي۔ يہ اسي وقت کي بات ہے کہ حضرت ٴ نے بعنوان وصيت محمد بن حنفيہ کو کچھ باتيں لکھ کرديں۔ اس وصيت ميں خدا کي وحدانيت پر گواہي اور دوسري باتوں کے بيان کے بعد اس مقام پر پہنچے کہ
’’ واني لم اخرج اشر ا ولا بطرا ولا ظالما ولا مفسدا‘‘
يعني کوئي اس غلط فہمي ميں نہ رہے اور پروپيگنڈا کرنے والے يہ پروپيگنڈا نہ کريں کہ حسين ٴ نے بھي ان لوگوں کي مانند خروج کيا جو يہاں وہاں طاقت و قدرت ہاتھ ميں لئے خود نمائي کرنے ، عيش و عشرت کے ليے، ظلم کے لئے اور فساد پھيلانے کے لئے جنگ و جدال کے ميدان ميں داخل ہوتے ہيں۔ ہمارا معاملہ ايسا نہيں۔
’’ بل خرجت لاصلاح في امۃ جدي ‘‘
’’ ميرا مقصد اصلاح ہے، ميں چاہتا ہوں کہ امت جد کي اصلاح کروں۔‘‘
يہ وہي واجب ہے جو امام حسين ٴ سے پہلے انجام نہيں ديا گيا۔
’’ خرجت لاصلاح في امۃ جدي ‘‘ اور اس اصلاح کا طريقہ خروج ہے، خروج يعني قيام۔
امام ٴ نے اپنے وصيت نامہ ميں جس بات کا ذکر کيا وہ اسي مفہوم کي وضاحت ہے۔ يعني اول تو ہم خروج يعني قيام کرنا چاہتے ہيں اور ہمارا يہ قيام اصلاح کے لئے ہے، ہر حال ميں حکومت کے حصول کے لئے نہيں۔ اور نہ ہي اس لئے ہے کہ لازماً شہيد ہوجائيں۔ نہيں ہم اصلاح کرنا چاہتے ہيں۔
البتہ اصلاح کوئي معمولي کام نہيں۔ ايک وقت حالات ايسے ہوتے ہيں کہ انسان حکومت تک پہنچ جاتا ہے اور زمام اقتدار کو اپنے ہاتھ ميں لے ليتا ہے۔اور ايک وقت اصلاح کا عمل انجام نہيں دے پاتا اور شہيد ہوجا تا ہے۔ بہر حال ہر دو صورتوں ميں (ہمارا) قيام اصلاح کے لئے ہے۔
اس کے بعد فرماتے ہيں کہ۔
’’ اريد ان امر بالمعروف و انھي عن المنکر واسير بسيرۃ جدي ۔‘‘
اس طريقے سے اصلاح انجام ديں گے جيسا کہ ہم نے عرض کيا کہ يہ امر بالمعروف و نہي عن المنکر کي مصداق ہے اور يہ بھي ايک عليحدہ بيان ہے۔
مکہ سے حضرت ٴ نے دو خطوط لکھے ايک بصرہ کي سرکردہ شخصيات کے نام اور دوسرا کوفہ کي سربرآوردہ شخصيات کے لئے۔ عمائدين بصرہ کے نام امام ٴ کے خط ميں تحرير تھا کہ۔
’’ وقد بعثت رسولي اليکم بھذا الکتاب وانا ادعوکم الي کتاب اللہ و سنۃ نبيہ فان السنۃ قدامنيت و البداعۃ قد احييت وان تسمعوا قولي اھديکم الي سبيل الرشاد۔‘‘
’’ ميں بدعت کا خاتمہ اور سنت کا احيائ چاہتا ہوں کيونکہ انہوں نے سنت کو مارديا ہے اور بدعت کو زندہ کرديا ہے۔ اگر ميرے ساتھ آو تو راہِ راست ميرے ہي پاس ہے۔‘‘
يعني ميں اس عظيم ذمہ داري کو ادا کرنا چاہتا ہوں جو احيائ اسلام، احيائ سنت پيغمبر
۰ اور اسلامي نظام کو حيات تازہ عطا کرنا ہے۔
يہ تو تھا اہل بصرہ کے نام تحرير کيا ہوا خط۔ اس کے بعد آپ ٴ نے اہل کوفہ کے نام خط ميں تحرير فرمايا۔
’’ فلعمري ما الامام الا العامل بالکتاب والاخذ بالقسط والدائن بدين الحق والجالس نفسہ علي ذات اللہ : والسلام ‘‘
ايسا شخص امام و پيشوا اور اسلامي معاشرے کا سربراہ نہيں ہوسکتا جو فاسق، فاجر ، خائن، مفسد اور خدا سے دور ہو، بلکہ ايسا ہونا چاہئيے جو کتاب خدا پرعمل کرتا ہو، يعني معاشرے ميں اس پر عمل پيرا ہو نہ يہ کہ خود تنہا کمرے ميں بند ہوکر نماز پڑھتا ہو۔ (بلکہ) معاشرے ميں کتاب خدا پر عمل کا احيائ کرے، عدل و انصاف سے کام لے، حق کو معاشرے کا قانون قرار دے، يعني دين و آئين، سماج و قانون اور معاشرتي ضوابط کو حق کي بنياد پر قائم کرے اور باطل کو برطرف کرے۔
’’ والجالس نفسہ علي ذات اللہ ‘‘
’’ ظاہر اس جملے کے معني يہ ہيں کہ ہر حال ميں صراط مستقيم پر قائم رہے اور مادي و شيطاني ميلانات کا اسير نہ ہو۔‘‘
اور آخر ميں اہل کرفہ کو سلام تحرير کيا۔
يعني امام ٴ ہدف کا تعين کرتے ہيں۔
مکہ سے نکلنے کے بعد درميان راہ ميں مختلف منزلوں پر، ہر مقام پر اپنے طرح طرح کے سامعين کے سامنے مختلف لب و لہجے ميں امام ٴ يہي بات پيش کرتے ہيں۔
اس حال ميں جب کہ ’’ حر بن يزيد رياحي ‘‘ اور امام حسين ٴ کے لشکر ساتھ ساتھ چل رہے تھے۔ منزل ’’ بيضائ ‘‘ پر پہنچ کر ان دونوں لشکروں نے قيام کيا۔ شايد کچھ دير ستانے کے بعد يا اس سے پہلے ہي امام ٴ دشمن کے لشکر کے سامنے خطاب کي نيت سے کھڑے ہوئے اور يوں فرمايا۔
’’ ايھا الناس ان رسول اللہ (ص) قال من راي سلطانا جائرا ، مستحلا کجرم اللہ ناکثا لعھد اللہ مخالفا لسنۃ اللہ يعمل في عباد اللہ بالاثم والعدوان فلم يغير عليہ بقول او فعل کان حقا علي اللہ ان يدخلہ مدخلہ‘‘
’’ يعني اگر کوئي ديکھے کہ معاشرے پر ايک ايسا حاکم برسرکار ہے جو ظلم کرتا ہے۔ حرام خدا کو حلال شمار کرتا ہو اور حلال خدا کو حرام، حکم خدا کو نظر انداز کرتا ہے، ان پر عمل نہيں کرتا اور دوسروں کو ان پر عمل پر نہيں ابھارتا۔ لوگوں کے ساتھ گناہ ، دشمني اور ظلم کا برتاو کرتا ہے۔يعني فاسد ، ظالم اور جائر حاکم کہ يزيد جس کا کامل مصداق ہے۔ اگر کوئي اسلامي معاشرے ميں ميري امت کے درميان ايسي چيز کو ديکھے۔‘‘
پيغمبر
۰ نے فرمايا۔
’’ ولم يغير عليہ بقول ولا فعل ‘‘
’’ اور زبان اور عمل سے اس کے خلاف اقدام نہ کرے۔‘‘
’’ کان حقا علي اللہ ان يدخلہ مدخلہ ‘‘
’’ تو خداوندِ عالم اس لا تعلق اور بے عمل خاموش کو بھي روزِ قيامت اسي انجام سے دوچار کرے گا جو اس ظالم کا مقدر ہوگا، وہ اس کے ساتھ ايک ہي صف ، ايک ہي گروہ ميں شامل ہوگا۔‘‘
يہ بات پيغمبر
۰ نے فرمائي ہے۔
يہ جو ہم نے عرض کيا کہ پيغمبر
۰ نے اس بات کا زباني حکم ديا تھا تو يہ مذکورہ بات اس کا ايک نمونہ ہے۔ پس پيغمبر ۰ نے واضح کرديا تھا کہ اسلامي نظام کے راہ راست سے ہٹ جانے کي صورت ميں کيا کرنا چاہئيے ۔ امام حسين ٴ نے پيغمبر ۰ کے اسي ارشاد کو اپني بات کي سند کے طور پر پيش کيا۔
پس (امام حسين ٴ کي) ذمہ داري کيا ہوئي؟
ذمہ دار ہوئي کہ ’’ يغير عليہ بقول و فعل ‘‘
لہذا اگر ايسے حالات پيدا ہوجائيں البتہ شرط يہ ہے کہ سازگار موقع بھي ميسر ہو تو جيسا کہ ہم نے کہا انسان کو چاہئيے کہ اس (حکمران)کے خلاف قيام کرے، خواہ اس کا کوئي بھي نتيجہ برآمد ہو، مارا جائے، زندہ رہے، حسب ظاہر کامياب ہو کہ نہ ہو۔۔۔۔۔ ايسے حالات ميں ہر ايک مسلمان کو چاہئيے کہ وہ قيام و اقدار کرے۔ يہ وہ ہے جس کے متعلق پيغمبر
۰ نے فرمايا ہے۔
اس کے بعد فرمايا ۔ ’’ وانا احق من غيري ‘‘ ميں اس اقدام کو اٹھانے کے لئے تمام مسلمانوں ميں لائق تر و مناسب تر ہوں۔ کيونکہ ميں فرزند پيغمبر
۰ ہوں۔ اگر پيغمبر اسلام ۰ نے ہر مسلمان پر يہ ذمہ داري واجب قرار دي ہے تو ميں حسين ابن علي ٴ فرزند پيغمبر ۰ ، پيغمبر ۰ کے علم و حکمت کے وارث پر واجب تر ہے کہ وہ اقدام کرے۔۔۔۔
پس (امام ٴ) اپنے قيام کي وجہ کا جو دراصل تغير و انقلاب ہے اعلان فرما رہے ہيں۔ يعني (ميرا) قيام و اقدام ان حالات کے مقابلے کے لئے ہے۔
يہ ايک بات ہے۔
’’ غدير ‘‘ نامي ايک منزل پر چار افراد امام ٴ کے ساتھ شامل ہوئے۔ حضرت نے فرمايا
’’ اما واللہ اني لا رجو ان يکون خير ما اراد اللہ بنائ قتلنا ام ظفرنا‘‘
يہ بھي اسي بات کي عکاسي ہے جسے ہم نے بيان کيا کہ ’’ فرق نہيں پڑتا ‘ کاميابي تک پہنچيں يا مارے جائيں۔‘‘ ذمہ داري ، ذمہ داري ہے اسے بہر حال انجام پانا چاہئيے۔ فرمايا کہ ’’ مجھے اميد ہے کہ خدا وند عالم نے ہمارے لئے جس چيز کو نظر ميں رکھا ہے اسي ميں ہمارے لئے بہتري ہے۔ خواہ ہم مارے جائيں خواہ کاميابي ہمارے قدم چومے فرق نہيں پڑتا۔ يعني ہمارا فريضہ اپني ذمہ داري کي ادائيگي ہے۔
سر زمين کربلا آمد کے بعد اپنے پہلے ہي خطبے ميں فرمايا۔
’’ فقد نزل بنا من الامر ما قد ترون ‘‘ جسے تفصيل سے ارشاد فرمايا اور آخر ميں فرمايا۔
’’ الا ترون الي الحق لا يعمل بہ والي الباطل لا يتناہي عنہ ليرغب المومن في لقائ ربہ محقا ۔۔۔‘‘
پس امام حسين ٴ نے ايک واجب کي ادائيگي کے لئے قيام کيا اور يہ واجب ہر دور کے ايک ايک مسلمان کے ذمہ ہے اور يہ واجب اس بات سے عبارت ہے کہ جب بھي اسلامي معاشرے کا نظام ايک بنيادي فساد سے دوچار نظر آئے اور اسلامي احکام کے مکمل طور پر تبديل ہوجانے کا خوف محسوس ہو، تو ہر مسلمان کو چاہئيے کہ قيام کرے۔ البتہ مناسب اور سازگار ماحول کي موجودگي ميں۔ اس وقت جب اسے معلوم ہو کہ يہ قيام موثر رہے گا۔ زندہ بچے رہنا شرائط ميں شامل نہيں ہے۔مارے نہ جانا شامل نہيں، اذيت و آزار سے دوچار نہ ہونا شامل نہيں، مذکورہ چيزيں شرائط کا حصہ نہيں۔ لہذا مناسب اور سازگار ماحول کي موجودگي ميں۔ اس وقت جب اسے معلوم ہو کہ يہ قيام موثر رہے گا۔ زندہ بچے رہنا شرائط ميں شامل نہيں ہے۔ مارے نہ جانا شامل نہيں، اذيت و آزار سے دوچار نہ ہونا شامل نہيں، مذکورہ چيزيں شرائط کا حصہ نہيں۔ لہذا امام حسين ٴ نے قيام کيا اور عملي طور پر اس واجب کو ادا کيا تاکہ رہتي دنيا تک سب انسانوں کے لئے سبق آمور رہے۔
ممکن ہے طول تاريخ ميں جس کسي کو يہ مناسب حالات ميسر ہوں وہ اس عمل کو انجام دے۔ البتہ امام حسين ٴ کے بعد کسي اور امام ٴ کے زمانے ميں ايسے حالات پيش نہ آئے۔
خود يہ بات تجزيہ طلب ہے کہ کيونکر ايسے حالات پيش نہ آئے ۔ کيونکہ دوسرے انتہائي اہم امور تھے جنہيں انجام دينا ضروري تھا اور اسلامي معاشرے ميں حضور
۰ کے آخري زمانے اور غيبت امام ٴ کے ابتدائي دور تک پھر کبھي حالات نے يہ رخ اختيار نہ کيا۔ ليکن دورانِ تاريخ ميں اسلامي ممالک ميں متعدد مواقع پر ايسے حالات پيش آئے۔ اس وقت بھي شايد دنيا ئے اسلام ميں ايسے مقامات ہيں جہاں ميدان ميسر ہے اور مسلمانوں کو چاہئيے کہ اپنا فريضہ انجام ديں۔ اگر انہوں نے اس فريضے کو انجام ديا تو گويا انہوں نے اپني ذمہ داري ادا کي اور اسلام کے رواج اور اس کي حيات کي ضمانت کا موجب ہوئے۔ انہيں ايک دو مرتبہ شکست کا سامنا بھي ہوسکتا ہے ليکن جب يہ اصلاحي تحريک مسلسل جاري رہے گي تو يقينا فساد و انحراف کي جڑيں کٹ جائيں گي اور وہ سرے سے ختم ہوجائے گا۔
اس وقت (امام حسين ٴ کے زمانے ميں) کوئي اس عمل سے واقف نہ تھا۔ کيونکہ يہ عمل زمانہ پيغمبر ميں بھي انجام نہ ديا گيا تھا، خليفہ اول کے دور ميں بھي انجام نہ ديا گيا تھا، امير المومنين ٴ بھي گو کہ معصوم تھے، انہوں نے بھي اسے انجام نہ ديا تھا۔ لہذا اس طرح امام حسين ٴ نے عملي طور پر پوري تاريخ اسلام کو ايک درس ديا اور در حقيقت اسلام کا بيمہ کرديا۔ خود اپنے زمانے ميں بھي ايسا فساد پايا جائے وہاں امام حسين ٴ زندہ ہيں۔ وہ اپنے شيوہ و عمل سے کہہ رہے ہيں کہ تم کيا کررہے ہو؟ تمہارا فريضہ يہ ہے ۔۔۔۔۔۔۔ لہذا ياد حسين ٴ اور کربلا کي ياد کو زندہ رہنا چاہئيے ۔ کيونکہ کربلا کي ياد اس عملي درس کو نظروں کے سامنے لے آتي ہے۔
افسوس کہ دوسرے اسلامي ممالک ميں عاشورائ کے درس کو جس طرح پہچانا جانا چاہئيے اس طرح پہچانا نہيں گيا۔ اسے پہچانا جانا چاہئيے۔۔۔۔۔ ہمارے ملک ميں پہچانا گيا ہے۔ ہمارے ملک ميں لوگ امام حسين ٴ کو پہچانتے ہيں۔ امام حسين ٴ کے قيام کو جانتے ہيں۔ حسيني ٴ روح پائي جاتي تھي۔ لہذا ، جب امام خميني
۲ نے فرمايا کہ محرم وہ مہينہ ہے جس ميں خون نے تلوار پر فتح پائي، تو لوگ متعجب نہ ہوئے۔ حقيقت يہي ہے کہ لہو ، تلوار پر فتحياب ہوا۔
ہم نے کئي برس پہلے اپنے جلسوں ميں سے کسي ايک ميں اجتماع کے سامنے اس مطلب کو بيان کيا تھا۔ البتہ انقلاب سے پہلے کي بات ہے۔ ميرے ذہن ميں ايک مثال آئي، اسے ميں نے اس جلسے ميں بيان کيا۔ شايد اس وقت اس بات کو ٢٤، ٢٥ سال ہوچکے ہيں۔ يہ مثال ايک طوطے کي ہے۔
مولوي اپني مثنوي ميں ذکر کرتا ہے کہ ايک شخص کے گھر ميں ايک طوطا تھا، وہ شخص ہندوستان کے سفر کو گيا (البتہ يہ ايک مثال ہے اور يہ مثاليں حقائق کو بيان کرنے کے واسطے ہوتي ہيں) جب وہ شخص ہندوستان کے سفر پر روانہ ہونے لگا تو اس نے اپنے اہل و عيال کو خدا حافظ کہنے کے ساتھ ساتھ اس طوطے کو بھي الوداع کہا۔ اس نے طوطے سے کہا کہ ميں ہندوستان جارہا ہوں، ہندوستان تمہارا وطن ہے (طوطوں کو ہندوستان سے لے کر آيا جاتا ہے) کيا تمہيں اپنے ساتھيوں سے کوئي بات کہني ہے، طوطے نے کہا جي ہاں! تم فلاں علاقہ ميں جانا وہاں ميرے اعزہ و اقربا اور دوست مليں گے۔ تم ان سے کہنا کہ تمہارا ايک ساتھي ميرے گھر ميں رہتا ہے اور ان سے ميرا حال بيان کرنا اور انہيں بتانا کہ وہ ميرے گھر ميں پنجرے ميں بند ہے، بس صرف يہي پيغام پہنچا دينا ميں تم سے اور کچھ نہيں چاہتا۔
وہ شخص ہندوستان پہنچا اس مخصوص علاقے ميں جس کي طوطے نے نشاندہي کي تھي گيا، وہاں ديکھا کہ بہت سے طوطے درخت پر بيٹھے ہيں۔ اس نے ان کي طرف رخ کيا اور کہا کہ اے اچھے اور ميٹھي بولي بولنے والے طوطو ميرے پاس تمہارے لئے ايک پيغام ہے۔ تمہارا ايک ساتھي ميرے گھر ميں ہے، وہ بہت اچھے حالوں ميں ہے، پنجرے ميں مزے کي زندگي گزار رہا ہے۔ بہترين اور مناسب غذائيں کھاتا ہے، اس نے تمہيں سلام بھيجا ہے۔
تاجر نے ديکھا کہ اس کے يہ الفاظ سن کر يکلخت درختوں پر صحيح سلامت بيٹھے ہوئے تمام طوطے پھڑپھڑاتے ہوئے زمين پر گرنے لگے۔ اس نے آگے بڑھ کر ديکھا تو سب مرچکے تھے۔ اسے بہت افسوس ہوا، سوچنے لگا ميں نے کيوں يہ بات کي کہ يہ تمام حيوان خود اپني جان سے گذر گئے۔ وہ بہت متاسف ہوا ۔ ليکن اب کچھ نہيں ہوسکتا تھا۔ وہ واپس اپنے گھر پہنچ کر طوطے نے پوچھا انہوں نے کہا جواب ديا ۔ تاجر نے کہا کہ ميں نے جب تمہارا پيغام انہيں ديا تو وہ تمام کے تمام اپنے پر پھڑپھڑاتے ہوئے زمين پر گرے اور مرگئے۔ تاجر نے اپني بات ختم کي ہي تھي کہ ديکھا وہ طوطا بھي پھڑ پھڑاتا ہوا پنجرے کے فرش پر گرا اور مرگيا۔
تاجر کو بہت افسوس ہوااس نے پنجرے کا دروازہ کھولا کيونکہ طوطا مرچکا تھا اور اب اسے پالا نہيں جاسکتاتھا۔ اس نے طوطے کا پير پکڑا اور اٹھا کر چھت پر پھينک ديا ، پھينکنے کے بعد تاجر نے ديکھا تو کيا ديکھتا ہے کہ طوطا پر پھڑپھڑا کر اڑتا ہوا ديوار پر جابيٹھا اور کہا کہ اے تاجر دوست ميں تمہارا بہت ممنون ہوں، تم نے خود ميري آزادي کا وسيلہ فراہم کيا۔ ميں مرا نہيں تھا بلکہ خود کو مردہ ظاہر کيا تھا اور يہ وہ سبق تھا جو ان (ہندوستان کے) طوطوں نے مجھے سکھايا تھا۔ جب انہيں معلوم ہوا کہ ميں يہاں پنجرے ميں قيد ہوں، تو انہوں نے سوچا کہ کس زبان سے مجھے نجات کا راستہ بتائيں ، تو انہوں نے عملي طور پر مجھے نجات کي راہ دکھائي اور مجھے بتايا کہ يہ عمل انجام دوں تو نجات پاجاو ں گا۔ يعني مرجاو تاکہ زندہ ہوسکو۔
ميں نے ان کا پيغام تيرے ذريعہ حاصل کيا اور يہ وہ عملي درس تھا جو مکاني فاصلے کے باوجود وہاں سے ميرے پاس پہنچا اور ميں نے اس سے استفادہ کيا۔
ہم نے بيس اور کچھ سال قبل ان برداران و خواہران سے جو يہ سن رہے تھے کہا تھا کہ عزيزو ! امام حسين ٴ کس زباں سے کہيں کہ آپ کي ذمہ داري کيا ہے؟
حالات ويسے ہي حالات ہيں، زندگي ويسي ہي زندگي ہے، اسلام بھي وہي اسلام ہے۔ امام حسين ٴ نے تمام آئندہ نسلوں کو عملاً بتاديا۔ اگر امام حسين ٴ کي زبان سے جاري ہونے والا ايک حرف بھي نقل نہيں ہوتا تب بھي ہميں اپنے فريضہ کو جان لينا چاہئيے تھا۔ ايسي قوم جو قيد و بند کا شکار ہے۔ جسے اپنے سربراہوں کے فساد کا سامنا ہے۔ ايسي قوم جس پر دشمنان دين کي حکومت ہے اور جنہوں نے ان کي زندگيوں کو اپنے ہاتھ ميں لے رکھا ہے۔ ہر زمانے کے ايسے لوگوں کو جان لينا چاہئيے کہ ان کي ذمہ داري کيا ہے۔ جس طرح فرزند پيغمبر
۰، امام معصوم ٴ نے بتايا کہ ايسے حالات ميں کيا کرنا چاہئيے ۔ يہ زبان سے کہنے سے نہيں ہوسکتا تھا۔ اگر سو زبانوں سے بھي اس بات کو بيان فرماتے ليکن خود عملاً کرکے نہ دکھاتے تو ممکن نہ تھا کہ يہ پيغام آئندہ نسلوں تک پہنچتا۔ تاريخ کو محض نصيحت کرنے اور زبان سے کہنے سے عبور نہيں کيا جاسکتا۔ ہزار طرح سے بيان کريں ليکن عمل ساتھ ہونا چاہئيے اور وہ بھي ايسا عظيم عمل ، ايسا سخت عمل، ايسي با عظمت فداکاري جس کا مظاہرہ امام حسين ٴ نے کيا اور عاشورائ کے دن جو نظارہ ہماري آنکھوں کے سامنے آتا ہے اس کے متعلق يہ کہنا بجا ہے کہ وہ تمام حوادث جو ہميں تاريخ انساني ميں نظر آتے ہيں ان سب کے مقابل حادثہ کربلا اب بھي يکتا و بے نظير ہے۔ جيسا کہ پيغمبر اسلام ۰ نے فرمايا ، امير المومنين ٴ نے فرمايا ، امام حسن ٴ نے فرمايا وہ بات جو روايات ميں ہے کہ کوئي دن تمہارے جيسا ، تيرے عاشورا جيسا ، تيري کربلا جيسا، تيرے حادثے جيسا نہيں۔
آج بھي روز عاشورائ ہے۔ ميرا دل چاہتا ہے کہ مصائب کے چند جملے عرض کروں۔ کربلا مکمل طور پر مصائب سے معمور ہے۔ عاشورائ کا ہر حادثہ گريہ آور اور دردناک ہے۔ جس حصہ کو بھي ملاحظہ فرمائيں۔ جب سے امام کربلا ميں داخل ہوئے، امام حسين ٴ کي گفتگو ، ان کے الفاظ، ان کے خطبات ، ان کا شعر پڑھنا ، ان کا موت کي خبر دہرانا ، بہن سے گفتگو کرنا، بھائيوں سے عزيزوں سے باتيں کرنا يہ سب چيزيں مصيبت ہيں۔ يہاں تک کہ شب عاشور اور روز عاشورائ اور ظہر و عصر عاشورائ ۔۔۔۔۔۔ ان ميں سے ايک گوشے کا ميں ذکر کرتا ہوں۔ يہ ايام ايام گويہ و بکا ہيں اور ہم بھي جس جگہ بھي سنتے ہيں۔ ميں بھي اس عظيم حسيني دعوت ميں مختصراً شريک ہونے کے لئے يہ چند کلمات عرض کررہا ہے۔ ميرا خيال ہے کہ يہ ملت جس نے راہ خدا ميں ہزاروں جوان فدا کئے ہيں۔ شايد اس اجتماع ميں ہزاروں افراد ايسے ہوں جن کے جوان فدا ہوئے ہوں۔ سوچتا ہوں امام حسين ٴ کے جوانوں کے بارے ميں چند کلمات عرض کروں۔
ہم سب سے کہتے ہيں کہ مصائب کے متن کو پڑھيں۔ بندہ چاہتا ہے کہ ابن طاوو س کي کتاب لھوف کا متن آپ کے گوش گزار کرے تاکہ آپ ديکھيں کہ متن ميں مذکور مصائب کيسے ہوتے ہيں۔
بعض لوگ کہتے ہيں کہ کتاب ميں درج چيز کو بيان کرنا ممکن نہيں۔ بلکہ اسے بنانا سوارنا چاہئيے۔ ہاں ، بسا اوقات اس ميں بھي کوئي حرج نہيں۔ ليکن ہم اس کتاب سے چند کلمات پڑھتے ہيں۔ يہ ابن طاوو س کي کتاب لھوف ہے۔ يہ چھٹي صدي کے نامور شيعہ علمائ ميں سے ہيں، علمائ کے گھرانے سے ہيں۔ ديندار گھرانے سے ہيں اور يہ سب نہايت اعليٰ پائے کے لوگ تھے۔ خاص طور پر يہ دو بھائي يعني علي بن موسيٰ بن جعفر بن طاوو س اور احمد بن موسيٰ بن جعفر بن طاوو س ۔ يہ دونوں بھائي بزرگ علمائ و مولفين ميں سے ہيں۔ يہ کتاب سيد علي بن موسيٰ بن جعفر بن طاوو س کي ہے۔ ہمارے ذاکرين کے بقول اس کتاب کي عبارات ، روايات کي مانند پڑھي جاتي ہيں۔ ميں اس کتاب سے پڑھتا ہوں۔
کہتے ہيں جب تمام اصحاب امام حسين ٴ شہيد ہوگئے اور ان کے افراد خانہ کے سوا کوئي باقي نہ بچا تو علي اکبر ٴ خيمہ گاہ سے باہر تشريف لائے۔ علي اکبر ٴ خوبصورت ترين جوانوں ميں سے تھے۔ آپ ٴ اپنے والد گرامي کي خدمت ميں حاضر ہوئے اور عرض کي باباجان اجازت ديجئے کہ جنگ کے لئے جاو ں اور اپني جان آپ ٴ پر قربان کروں۔ امام ٴ نے بغير کسي پس و پيش کے انہيں اجازت دے دي۔ يہ (علي اکبر ٴ ) امام ٴ کے اصحاب ۔ بھتيجوں ، بھانجوں ميں سے نہ تھے جو امام ان سے کہتے کہ نہ جاو ۔ يہ خود ان کے جسم کا ٹکڑا ہے۔ ان کا پارہ جگر ہے۔ جب وہ جانا چاہتا ہے تو حسين ٴ کو چاہئيے کہ اسے جانے کي اجازت ديں۔ يہ امام حسين ٴ کا انفاق ہے۔ يہ امام حسين ٴ کا اسماعيل ہے جو ميدان کي جانب گامزن ہے۔ امام ٴ نے انہيں جانے کي اجازت دي۔
جب علي اکبر ٴ ميدان کي طرف جانے لگے تو امام ٴ نے ايک حسرت بھري نگاہ ان کے سراپے پر ڈال کر فرمايا خدايا! تو گواہ رہنا ايسے جوان کو جنگ اور موت کے منہ کي طرف بھيج رہا ہوں جو ہر لحاظ سے پيغمبر
۰ کي شبيہہ تھا۔ چہرے مہرے سے بھي گفتگو کے انداز سے بھي، اخلاق ميں بھي ، ہر ہر پہلو سے۔ کيسا جوان تھا۔۔۔۔؟ جس کا اخلاق سب سے زيادہ پيغمبر ۰ سے مشابہ تھا، جس کا قيافہ بھي سب سے زيادہ پيغمبر ۰ سے مشابہ تھا، اس کا گفتگو کرنا بھي سب سے زيادہ پيغمبر ۰ سے مشابہ تھا۔
آپ سوچئے کہ امام ٴ ايسے جوان سے کس قدر محبت کرتے ہوں گے؟ اس جوان سے صرف اسي لئے عشق نہيں کرتے کہ يہ ان کا فرزند ہے بلکہ اس لئے کہ يہ شبيہہ پيغمبر
۰ ہے۔وہ حسين ٴ جو پيغمبر ۰ کي گود ميں بڑے ہوئے تھے، اس بيٹے سے بہت محبت کرتے تھے اور ان کے لئے اس بيٹے کا ميدان ميں جانا بہت گراں ہے۔ بالآخر علي اکبر ٴ گئے۔ مرحوم ابن طاوو س نقل کرتے ہيں کہ يہ جواں ميدان جنگ ميں آيا اور خوب جنگ کي۔ اس کے بعد اپنے والد کے پاس آئے اور فرمايا ، بابا جان پياس نے مجھے نڈھال کرديا ہے۔ اگر آپ کے پاس تھوڑا سا پاني ہو تو مجھے دے ديجئے۔ حضرت نے انہيں جواب ديا اور وہ دوبارہ ميدان کي سمت واپس پلٹ گئے۔ حضرت ۰ نے جواب ميں فرمايا کہ جاو ميدان جنگ کي طرف جاو کچھ ہي دير بعد اپنے جد کے ہاتھ سے سيراب ہوجاو گے۔ علي اکبر ٴ ميدان جنگ ميں پلٹ کر آئے۔ عظيم الشان جنگ کي، انتہائي شجاعت کے ساتھ لڑے، ناگہاں اشقيائ ميں سے ايک نے انہيں اپنے نيزے کے نشانے پر ليا۔ جس کے نتيجے ميں يہ گھوڑے سے زمين پر گر پڑے اور جوان کي صدا بلند ہوئي کہ بابا جان خدا حافظ ، يہ ميرے جد پيغمبر ۰ آپ ٴ کو سلام کہتے ہيں۔ کہتے ہيں کہ ميرے فرزند حسين ٴ جلد آجاو ، ميرے پاس آئيے اس کے بعد علي اکبر ٴ نے ايک آہ کھينچي اور ان کي روح بدن سے پرواز کرگئي۔
امام حسين ٴ نے جوں ہي اپنے فرزند کي صدا سني ميدانِ جنگ کي طرف لپکے جہاں ان کا جوان زمين پر پڑا ہوا تھا۔ امام ٴ جو ان کے سرہانے تشريف لائے اور اپنا چہرہ مبارک علي اکبر ٴ کے چہرے پر رکھ ديا اور يہ کلمات بيان فرمائے۔ راوي کہتا ہے، ايسا شخص جس نے اس واقعہ کو نزديک سے اپني آنکھوں سے ديکھا ہے نقل کرتا ہے، کہتا ہے کہ ايک وقت ميں نے ديکھا کہ حضرت زينب ٴ خيمہ سے باہر آئيں۔ ان کي صدا بلند ہوئي اے عزيز من ، اے ميرے بردار زادے ، آگے بڑھيں اور خود کو علي اکبر ٴ کے بے جان پيکر پر گراليا۔
حضرت ٴآگے بڑھے ، اپني بہن کو بازو سے پکڑا، انہيں علي اکبر ٴ کے جسد اطہر سے اٹھايا اور عورتوں ميں بھيج ديا ۔ مناسب نہ تھا کہ وہ (زينب ٴ) ميدان جنگ ميں رہيں۔
اگر ان کلمات کو پڑھا جائے تو سننے والوں کا دل پاني پاني ہوجائے۔
ايک بات ميرے ذہن ميں آتي ہے۔ جب حضرت زينب ٴ آئيں۔ يہ جملہ ابن طاوو س کا ہے، اور روايات ميں سے ہے جو لازما ً صحيح اخبار کے ذريعہ نقل کي گئي ہے۔ امام حسين ٴ کے متعلق نہيں کہا کہ انہوں نے اپنے آپ کو علي اکبر ٴ کے اوپر گراليا ، امام حسين ٴ نے صرف اپنا چہرہ جوان کے چہرے پر رکھا۔ مگر وہ جس نے خود کو علي اکبر ٴ پر گرايا وہ زينب کبريٰ تھيں۔ مجھے خيال آتا ہے کہ يہ زينب بزرگوار ، يہ سادات کي پھوپھي ، جس کے اپنے دو جوان فرزند بھي کربلا ميں شہيد ہوئے تھے، اس کے اپنے دو علي اکبر ٴ شہيد ہوئے تھے۔۔۔ ميں نے کسي کتاب ميں نہيں ديکھا کہ جب زينب کے بچے شہيد ہوئے تو انہوں نے کسي رد عمل کا اظہار کيا، مثلاً نہ ہي انہوں نے کوئي آہ و فغاں کي، نہ ہي گريہ و نالہ بلند کيا اور نہ ہي خود کو ان کے اجساد مطہرہ پر گرايا، يہ ہمارے زمانے کے شہدائ کي مائيں زينب کي بتائي ہوئي راہ ہي پر عمل پيرا ہيں۔ ميں نے بہت کم ديکھا ہے کہ ايک ، دو اور تين تين شہيدوں کي مائيں عجز و ضعف کا شکار ہوئي ہوں۔ يہ مائيں يقيناً شيرنياں ہيں۔ انسان ديکھتا ہے کہ يہ زينب کبريٰ ان ماو ں کا اصل نمونہ ہيں۔ ان کے دو جوان بيٹے عون و محمد شہيد ہوئے۔ انہوں نے کوئي رد عمل ظاہر نہ کيا۔ ليکن اپنے بيٹوں کے علاوہ دو جگہ پر انہوں نے خود کو شہدائ کے لاشوں پر گرايا۔ ايک يہي جگہ ہے جہاں وہ علي اکبر ٴ کے سرہانے آئيں اور بے اختيار خود کو علي اکبر ٴ کے جسم پرگرايا، ايک عصر عاشورائ ہے جب انہوں نے خود کو اپنے بھائي حسين ٴ کے جسد اطہر پر گرايا۔ ان کي صدا بلند ہوئي اور اور کہا اے رسول اللہ
۰ ، اے پيغمبر خدا ، يہ آپ کا حسين ہے، يہ آپ ۰ کا عزيز اور پارہ تن ہے۔۔۔۔۔ کس قدر مصائب برداشت کئے۔
دوسرا خطبہ شروع کرنے سے قبل بارگاہ خدا ميں دست دعا دراز کرتا ہوں، ان اشک بار آنکھوں سے خدا کو پکارتے ہيں، جمعہ کا روز اور وقت ظہر ہے ان شائ اللہ خدا ہم پر اپني برکات و نعمات نازل فرمائے گا۔

’’ پروردگار ! تجھے حسين ٴ و زينب ٴ کي قسم ہميں ان کے چاہنے والوں اور پيروکاروں ميں قرار دے۔
پروردگار! ہماري زندگي کو حسيني ٴ زندگي قرار دے۔
پروردگار! ہماري موت کو حسيني ٴ موت قرار دے۔
پروردگار! ہمارے عزيز امام کو جنہوں نے ہماري اس راہ کي طرف ہدايت کي، شہدائے کربلا کے ساتھ محشور فرما۔
پروردگار! ہمارے عزيز شہدائ کو شہدائ کربلا کے ساتھ محشور فرما۔
پر
وردگار! وہ لوگ جنہوں نے خدا کي راہ ميں، اس انقلاب کي راہ ميں، اسلام کي راہ ميں اپني جانوں کي بازي لگائي ہے ، ہمارے عزيز جانباز ، ايثار گر، آزاد شدہ اُسرا اور وہ لوگ جو ابھي تک دشمنوں کي قيد ميں ہيں انہيں اپنے فضل و رحمت کے خزانے سے مالا مال کردے۔
پروردگار! اس امت و ملت پر اپني رحمت نازل فرما۔
پروردگار! اس ملت کي تمام مشکلات کو اپني رحمت ، تدبير اور حکمت سے برطرف فرما۔
پروردگار! اس عظيم ملت ، ملت حسيني ٴ و عاشورائي کو تمام چھوٹے بڑے دشمنوں پر فاتح قرار دے۔
پروردگار! اس کے دشمنوں کو مايوس و ناکام فرما۔
پروردگار! اسلام کو ہمارے درميان روز بروز زندہ و شاداب تر فرما۔
پروردگار! وہ لوگ جو ہماري اس ملت کے لئے ، ملک کے لئے ، اس امت کے لئے زحمتيں اٹھا رہے ہيں، ہر لحاظ سے خدمت کررہے ہيں، مخصوصاً حکومت کے وہ عہديدار جو دل سے خدمت کررہے ہيں ان کا بہترين اجرا نہيں عطا فرما۔
پروردگار! ہماري اموات کي بخشش فرما۔
پروردگار! ہمارے مريضوں کو شفائ عطا فرما۔
پروردگار! ہمارے ماں باپ اور اساتيد کو اپنے فضل و رحمت ميں شامل فرما۔
پروردگار! وہ تمام افراد جو کسي قسم کي کوئي حاجت رکھتے ہيں، جنہوں نے ہم سے دعا کي التماس کي ہے کہ ان کے مسائل تيري درگاہ ميں لے کر آئيں اے پروردگار! ان کي حاجات کو دور فرمادے۔
پروردگار! بحق محمد و آل محمد دنيا کے گوشہ و کنار ميں پھيلي ہوئي امت مسلمہ کو سربلند فرما، انہيں حسيني ٴ فريضے کي تعليم فرما اور انہيں اس کے انجام دينے کي توفيق عطا فرما۔
پروردگار! تجھے محمد و آل محمد
۰ کي قسم قلب مبارک امام زمان کو ہم سے راضي و خوشنود فرمادے۔
پروردگار! تجھے محمد و آل محمد
۰ کا صدقہ ہميں ان کے ساتھيوں ميں سے قرار دے، ہميں ان بزرگوار کي زيارت کي توفيق عطا فرما۔
پروردگار! تجھے محمد و آل محمد
۰
کا صدقہ ہميں ہر خير عنايت فرما اور ہر شر سے اپنے حفظ و امان ميں رکھ۔
 

                                                                                                                 والسلام عليکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ